8
کسری اعداد کے ساتھ کام کرنا
(WORKING WITH FRACTIONS)
8.1 کسری اعداد کی ضرب
آرون (Aaron) ایک گھنٹے میں 3 کلومیٹر چلتا ہے۔ وہ 5 گھنٹوں میں کتنا فاصلہ طے کرے گا؟
یہ ایک آسان سوال ہے، ہم جانتے ہیں کہ فاصلہ معلوم کرنے کے لیئے میں 5 اور 3 کا حاصل ضرب معلوم کرنے کی ضرورت ہے، یعنی ہم 5 اور 3 کو ضرب دیتے ہیں۔
ایک گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 3 کلو میٹر اس لیے، 5 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ
= 3 × 5 کلو میٹر
3 + 3 + 3 + 3 + 3 کلومیٹر =
= 15 کلومیٹر
آرون کا پالتو کچھوا بہت آہستہ چلتا ہے۔ یہ ایک گھنٹے میں صرف 1 کلومیٹر چل سکتا ہے۔ یہ 3 گھنٹے میں کتنا فاصلہ طے کرے گا؟ 4
یہاں پر ایک گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ ایک کسر ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کل طے کیا گیا فاصلہ اسی طرحضرب سے معلوم کیا جاتا ہے۔
1 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 1 کلومیٹر ۔
اس لیے 3 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 1 × 3 کلو میٹر
کلومیٹر 1/4 + 1/4 + 1/4 =
کلومیٹر 3/4 =
کچھوا 3 گھنٹے میں 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ 4
آئیے ایک ایسی مثال پر غور کرتے ہیں جہاں چلنے میں لگنے والا وقت ایک گھنٹے کا کسر ہو ۔
ہم نے دیکھا کہ آرون 1 گھٹے میں 3 کلومیٹر چل سکتا ہے۔ وہ گھنے میں کتنا فاصلہ طے کرے گا؟ 5
ہم ضرب کے ذریعے ہی طے کیا گیا فاصلہ معلوم کریں گے۔
1/5 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 3 × 1/5 کلومیٹر
(Finding the Product) حاصل ضرب معلوم کرنا
1 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 3 کلومیٹر ۔
گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ ، اتناہی ہے جتنا 3 کلومیٹر کو 5 برابر حصوں میں تقسیم کرنے سے حاصل ہوتا ہے ، یعنی 3 کلومیٹر۔
اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ 1/5 * 3 = 3/5
گھنٹے میں آرون کتنا فاصلہ طے کر سکتا ہے ؟ 5
پھر سے ہمارے پاس۔
طے کیا گیا فاصلہ = 3 × 2 کلو میٹر 5
حاصل ضرب معلوم کرنا :
1 پہلے ہم گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ معلوم کر سکتے ہیں۔ 115
2 چوں کہ مدت کے دو گنا ہے کا، ہم کل طے کیا گیا فاصلہ معلوم کرنے کے لیے اس فاصلے کو 2 سے ضرب دیتے ہیں۔
حساب کا طریقہ درج ذیل ہے۔
حساب کا طریقہ درج ذیل ہے۔
1 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 3 کلو میٹر
1 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ 5 1.
لمبائی جو کہ ہم 3 کلومیٹر کو 5 برابر حصوں میں تقسیم کرنے پر حاصل کرتے ہیں۔ فاصله
= 3 کلومیٹر ۔
2 اس فاصلے کو 2 سے ضرب کرنے پر ہمیں ملتا ہے :
کلومیٹر 2 * 3/5 = 6/5
یہاں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ
2/5 * 3 = 6/5
تبادلۂ خیال
ہم نے اس ضرب کو درج ذیل طریقے سے کیا:
ی حاصل کرنے کے لیے ، پہلے ہم مضروب (Multiplicand) یعنی 3 کو ضارب 5
یعنی 5 ستے تقسیم کرتے ہیں۔ )Denominator( کے نسب نما )Multiplier(
پھر ہم حاصل کرنے کے لیے حاصل شدہ نتیجے کو ضارب کے شمار کنندہ یعنی 2 سے ضرب دیتے ہیں۔
اس طرح ، جب بھی ہمیں ایک کسر ایک مکمل عدد کو ضرب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم مندرجہ بالا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔
مثال 1: ایک کسان کے 5 پوتے ہیں۔ اس نے اپنی زمین میں سے ہر پوتے کو کچھ ایکڑ زمین دی۔ اس نے اپنے پوتوں کو کل کتنی زمین دی ؟ 3
5 * 2/3 = 2/3 + 2/3 + 2/3 + 2/3 + 2/3 = 10/3
مثال 2: انٹر نیٹ کو ایک گھنٹہ استعمال کرنے کا خرچ 28 ہے تو انٹر نیٹ کو 11 گھنٹے استعمال کرنے کا خرچ کتنا ہو گا ؟
1 گھنٹے 5 گھنٹے ہوتے ہیں ( مخلوط کسر کو سادہ کسر میں تبدیل کرتے ہوئے )۔ 4 4 1-4 11
4 انٹرنیٹ کو 5 گھنٹے استعمال کرنے کا خرچ = 8 × 5 4
انٹرنیٹ کو 5 گھنٹے استعمال کرنے کا خرچ = 8 × 5 4 4
5 * 8/4 =
5 * 2 =
10 =
انٹرنیٹ کو 11 گھنٹے استعمال کرنے کا خرچ 10 ہے۔
معلوم کیجیے
1 1. تینزن روزانه گلاس دودھ پیتا ہے۔ وہ ایک ہفتے میں کتنے گلاس دودھ پیتا ہے؟ جنوری کے مہینے میں اُس نے کتنے گلاس دودھ پیا؟
2 مزدوروں کی ایک ٹیم 8 دن میں 1 کلومیٹر پانی کی نہر بنا سکتی ہے۔ اس طرح سے ایک دن میں ٹیم ____ کلو میٹر نہر بنا سکتی ہے؟ اگر وہ ہفتے میں 5 دن کام کریں، تو وہ ایک ہفتے میں____کلو میٹر نہر بنائیں گے۔
3 منجو اور اس کے دو ہمسائے ہر ہفتے 5 لیٹر تیل خریدتے ہیں اور اسے 3 خاندانوں میں برابر تقسیم کرتے ہیں۔ ہر خاندان کو ایک ہفتے میں کتنا تیل ملتا ہے ؟ 4 ہفتوں میں ایک خاندان کو کتنا تیل ملے گا؟
4 صفیہ نے پیر کے دن رات 10 بجے چاند کو غروب ہوتے ہوئے دیکھا۔ اُس کی ماں، جو کہ ایک سائنس داں ہے، 5 نے اُسے بتایا کہ ہر دن چاند پچھلے دن کے مقابلے میں گھنٹہ بعد غروب ہوتا ہے۔ تو جمعرات کو چاند 10 بجے کے کتنے گھنٹے بعد غروب ہو گا؟
5 ضرب کیجیے اور پھر اس کو مخلوط کسر میں تبدیل کیجیے :
(a) 7 * 3/5
(b) 4 * 1/3
(c) 9/7 * 6
(p) 13/11 * 6
ابھی تک ہم نے مکمل اعداد کو کسر کے ساتھ اور کسر کو مکمل عدد کے ساتھ ضرب کرنا سیکھا ہے۔ کیا ہوتا ہے جب ضرب میں دونوں اعداد کسرمیں ہوں؟
دوکسروں کی ضرب
ہم جانتے ہیں کہ آرون کا پالتو کچھوا ایک گھنٹے میں 7 کلومیٹر چل سکتا ہے۔ سے آدھے گھنٹے چل کر کتنا فاصلہ طے کرے گا؟
اس طرح کے سوالات کو ضرب کا استعمال کرتے ہوئے حل کرنے کے لیے ہمارے پاس مندرجہ ذیل طریقہ ہے، 2 2 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ 1/2 * 1/4 = کلو میٹر
حاصل ضرب معلوم کرنا:
1 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ = 1 کلو میٹر
لہذا، 3 گھنٹے میں طے کیا گیا فاصلہ وہ لمبائی ہے جو ہمیں 1 کو 2 برابر حصوں میں تقسیم کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
اسے مجھنے کے لیے یہ مفید ہوتا ہے کہ ہم کسرات کو ایک اکالی مربع (Unit Square) کی مدد سے ظاہر کریں، جو ایک مکمل مقدار (Whole) کی نمائندگی کرتا ہے۔
اب ہم 1 کو 2 برابر حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملتا ہے؟ 4
مکمل شکل کے کون سے رنگین کسری حصہ کو لکیروں سے بھرا گیا ہے؟
رنگین بن چوں کہ اس میں مکمل شکل کو 8 برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک حصے کو لکیروں سے بھرا گیا ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مکمل شکل کا لکیروں سے بھرا 8 گیا ہے۔ اس لیے، کچھوے نے آدھے گھنٹے میں کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔
1/2 * 1/4 = 1 8 sqrt i ^ pi i omega
کچھوا تیز چلتا ہے اور یہ ایک گھنٹے میں تھے کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے تو وہ ایک گھنٹے کے لے حصے میں چل کر کتنا فاصلہ 4
طے کرے گا؟
طے کیا گیا فاصلہ = 2 × 3 4 5
حاصل ضرب معلوم کرنا:
پہلے ایک گھنٹے کے 1 میں طے کیا گیا فاصلہ معلوم کیجیے۔ (1) 4
ایک گھنٹے کے 3 میں طے کیا گیا فاصلہ معلوم کرنے کے لیے نتیجہ کو 3 سے ضرب کیجیے۔ (ii) 4
1) ایک گھنٹے کے میں طے کیا گیا فاصلہ کلو میٹر میں = وہ مقدار جو ہمیں کیے کو 4 برابر حصوں میں تقسیم کرنے سے 5 (
حاصل ہوتی ہے۔
اکائی مربع کو مکمل تصور کرتے ہوئے (شکل 8.1) میں لکیروں سے بھر اہو ا حصہ وہ خطہ ہے جو ہمیں اس وقت حاصل
ہوتا ہے جب ہم کو 4 برابر حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
یکمل کا کتنا ہے ؟
مکمل کو 5 قطار اور 4 کالم میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ 20 = 4×5 برابر
حصے بنائے جاسکیں۔
لکیروں سے بھرے ہوئے حصوں کی تعداد = 2 لہذا، ایک گھنٹے کے حصے میں طے کیا گیا فاصلہ = 2 20
اب ہمیں کو 3 سے ضرب کرنا ہے۔ - (ii) 20
= 2 × 3 20 ایک گھنٹے کے پی حصے میں طے کیا گیا فاصلہ 4
6/20 =
3/4 * 2/5 = 6/20 = 3/10 * epsilon * J/pi * omega ^ (ri)
تبادلۂ خیال
اس مرحلے میں جب ایک کسر کو دوسری کسر سے ضرب دی جاتی ہے، تو ہم وہی طریقہ اپناتے ہیں جو ہم نے اس وقت اپنا یا تھا جب ہم نے ایک کسر کو عدد کامل سے ضرب دیا تھا۔ ہم نے مندرجہ ذیل طریقے سے ضرب دیا تھا:
ضرب کے طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں پہلے کسر 4 برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا (شکل 8.2 ) میں دکھائے گئے طریقے سے کیا جا سکتا 3/2 ہے، جہاں پیلے رنگ کا لکیروں سے بھرا ہوا حصہ اس کسر کو ظاہر کرتا ہے جو 4 برابر حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد حاصل ہوا ہے۔ اس کی قدر کیا ہے ؟ 3/2
ہم دیکھتے ہیں کہ مکمل کو 2 قطاروں (Rows) اور 4 کالموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جس سے کل 8 = 4×2 برابر حصے بنے ہیں۔
اس میں لکیروں سے بھرے ہوئے حصوں کی تعداد = 3 لہذا پہلے رنگ والا لکیروں سے بھرا ہوا حصہ 3/8 =
اب اگلا مرحلہ اس حاصل شدہ نتیجہ کو 5 سے ضرب دینا ہے۔ یہ میں تو اور کا حاصل ضرب دیتا ہے۔
5/4 * 3/2 = 5 * 3/8 = 15/8
مستطیل (Rectangle) کے رقبے اور کسری ضرب کے درمیان تعلق
شکل 8.3 میں لکیروں سے بھرے ہوئے مستطیل کی لمبائی اور چوڑائی کیا ہے ؟ چوں کہ ہم نے ایک اکائی مربع ( جس کی ہر سمت کی لمبائی 11 کائی ہو ) سے شروعات کی تھی اس لیے مستطیل کی لمبائی 17 کائی اور چوڑائی 17 کائی ہے۔ 4 2
تو اس مستطیل کا رقبہ کتنا ہو گا ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ 8 ایسی مستطیلیں اس مربع میں آجاتی ہیں جن کا کل رقبہ 1 مربع اکائی ہوتا ہے۔ لہذا، ہر ستطیل کا رقبہ مربع اکائی ہو گا۔
کیا آپ رقبے اور لمبائی و چوڑائی کے حاصل ضرب کے درمیان کوئی تعلق دیکھتے ہیں؟
کسی کسری اضلاع والے مستطیل کار قبہ اس کے اضلاع کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے۔
عام طور پر ، اگر ہم دو کسروں کا حاصل ضرب معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان دونوں کسروں کو مستطیل کے اضلاع کے طور پر لے کر اس مستطیل کا رقبہ معلوم کر سکتے ہیں۔
معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل کسروں کا حاصل ضرب معلوم کیجیے۔ کسروں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک اکائی مربع کا استعمال مکمل کی طرح کیجیے:
(a) 1/3 * 1/5
(b) 1/4 * 1/3
(c) 1/5 * 1/2
(d) 1/6 * 1/5
اکائی مربع کو استعمال کرتے ہوئے کسروں کو ظاہر کرنا ایک مشکل اور دقت طلب طریقہ ہے۔ آئیے پچھلی مثالوں میں استعمال کیے گئے طریقوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے حاصل ضرب معلوم کرتے ہیں۔
ہر مثال میں مکمل کو قطاروں اور کالموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
قطاروں کی تعداد ضرب ہونے والی کسر کے نسب نما کے برابر ہے، جو کہ اس مثال میں 18 ہے۔
کالموں کی تعداد ضرب دینے والی کسر کے نسب نما کے برابر ہے، جو کہ اس مثال میں 12 ہے۔
لہذا، مکمل کو 2 1 × 18 برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس لیے؛
1/18 * 1/12 = 1/(18 * 12) = 1/216
لہذا جب دو کسری اکائیاں آپس میں ضرب دی جاتی ہیں تو ان کا حاصل ضرب ہوتا ہے۔
1 نسب نماؤں کا حاصل ضرب
ہم اس کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
1/b * 1/d = 1/(bd)
درج ذیل کسروں کا حاصل ضرب معلوم کیجیے۔ کسروں کو اکائی مربع کے ذریعے ظاہر کیجیے اور ریاضی عمل کو انجام دیجیے۔ 2
(a) 2/3 * 4/5
(b) 1/4 * 2/3
(c) 3/5 * 1/2
(d) 4/6 * 3/5
)Multiplying Numerators and Denominators( شمار کنندہ اور نسب نما کی ضرب
5 X 7 اب معلوم کیجیے 12 18
پچھلی مثال کی طرح ، آئیے ہم حاصل ضرب مرحلہ وار طریقے
سے ضرب کر کے معلوم کرتے ہیں۔ پہلے مکمل کو 18 قطاروں اور 12
کالموں میں تقسیم کرتے ہیں، جس سے 18 × 12 برابر حصے بنتے ہیں۔
ہم sqrt(7/18) 12 برابر حصوں میں تقسیم کر کے جو قدر حاصل کرتے ہیں وہ
- subsetneq 7/(12 * 18)
پھر اس نتیجہ کو 5 سے ضرب دیتے ہیں تاکہ حاصل ضرب معلوم ہو جائے ۔ یہ 57 (12×18)
5/12 * 7/8 = (5 * 7)/(12 * 18) = 35 216 * underline j omega^ prime prime
عمومی طور پر ، اسے ہم درج ذیل طریقے سے لکھ سکتے ہیں۔
ax Caxc bdbxd
اس فارمولے کو سب سے پہلے برہم گپت (Brahmagupta) نے 628 عیسوی میں اپنی تصنیف بر ہما شفٹ سدهانت(Brahmasphutasiddhanta) میں عمومی شکل میں بیان کیا تھا۔
یہ فارمولا اس وقت بھی کار آمد ہوتا ہے جب ضرب دینے والا یا ضرب ہونے والا عدد کوئی عدد کامل ہو تو ہم آسانی سے عدد کامل کو 1 نسب نما کے ساتھ کسر کے طور پر لکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 3 × 3 کو 3 × 3 بھی لکھا جا سکتا ہے۔ 4 4 1
= (3 * 3)/(1 * 4) = 9/4
اور 4 × 2 کو 4 × 3 بھی لکھا جا سکتا ہے۔ 515
= (3 * 4)/(5 * 1) = 12/5
کسروں کی ضرب کم ترین شکل (Lowest Form) میں لکھنا
مندرجہ ذیل کسروں کو ضرب کیجیے اور حاصل ضرب کو کم ترین شکل میں ظاہر کیجیے
12/7 * 5/24
شمار کننده (12) اور (5) اور نسب نما (7) اور (24) کو پہلے ضرب دے کر اس کو آسان شکل میں تبدیل کرنے کے بجائے ، ہم یہ بھی کر سکتے ہیں:
12/7 * 5/24 = (12*5)/( 7*(24)
ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں دائروں میں رکھے گئے اعداد میں مشترک جز وضر بی 12 ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جب شمار کنندہ اور نسب نما کو ایک ہی مشتر کہ عدد سے تقسیم کیا جاتا ہے تو کسر وہی رہتا ہے۔ اس صورت میں ہم انھیں 12 تے تقسیم کر سکتے ہیں۔
آئے اب ہم اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ایک اور ضرب کرتے ہیں۔
(14/15) * (25/42)
جب کسروں کو ضرب دیتے ہیں تو ہم شمار کنندہ اور نسب نما کو ان کے مشترک جز وضربی (Common Factors) تقسیم کر سکتے ہیں۔ پھر شمار کنندہ اور نسب نما کو ضرب دیتے ہیں۔ اسے مشتر کہ جزو ضربی کو منسوخ کرنا کہتے ہیں۔
تاریخ کی ایک جھلک (A Pinch Of History) ہندوستان میں کسر کو اس کی کم ترین ارکان (Lowest Terms) میں تبدیل کرنے کے طریقہ کو اپورتن (Apavartana) کہا جاتا ہے، جسے اس قدر شہرت حاصل تھی کہ اس کا ذکر غیر ریاضیاتی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔ ایک جین عالم اما سوتی (Umasvati) (تقریباً 150 عیسوی) نے اسے ایک فلسفیانہ تحریر میں بطور تمثیل ( تشبیہ ) استعمال کیا تھا۔
معلوم کیجیے
1. ایک پانی کی ٹنکی نل سے بھری جاتی ہے۔ اگر نل ایک گھنٹے کے لیے کھلا ر ہے تو ٹنگی کا حصہ بھر جاتا ہے۔ تو درج ذیل اوقات کے دوران ٹنکی کا کتنا حصہ بھر جائے گا؟ 7 10
2 حکومت نے ایک سڑک بنانے کے لیے سومو کی زمین کا لیے حصہ لیا۔ اب سومو کے پاس کتنی زمین بیچی ؟ وہ اس بچی 1 3 ہوئی زمین کا آدھا حصہ اپنی بیٹی کرشنا کو اور حصہ اپنے بیٹے بورا کو دیتی ہے۔ ان دونوں کو حصہ دینے کے بعد باقی زمین وہ اپنے پاس رکھتی ہے۔
(a) کرشنا کو اصل زمین کا کتنا حصہ ملا ؟
(a) کرشنا کو اصل زمین کا کتنا حصہ ملا ؟
سومو نے اپنے پاس اصل زمین کا کتنا حصہ رکھا؟ (C)
ایک مستطیل جس کی لمبائی 33 فٹ اور چوڑائی 3 9 فٹ ہے۔ اس کا رقبہ معلوم کیجیے۔ 3
4 4 سیوانگ اپنے باغیچے میں ایک قطار میں چار پودے لگاتا ہے ۔ دو پودوں کے درمیان کا فاصلہ 3 میٹر ہے۔ پہلے اور آخری پودے کے درمیان کا فاصلہ معلوم کیجیے۔ (اشارہ: چار پودوں کا خاکہ بنائیے جس میں دو پودوں کے درمیان کا فاصلہ 3 میٹر ہو۔) 4
حصہ یا 4 کلو گرام کانی حصہ ؟ 5 کون زیادہ وزنی ہے : 500 گرام کا 15
کیا حاصل ضرب ہمیشہ ضرب دیے گئے اعداد سے بڑا ہوتا ہے؟
چونکہ ، ہم جانتے ہیں کہ جب کسی عدد کو 1 سے ضرب دیا جائے تو وہ عدد ویسا ہی رہتا ہے، اس لیے ہم ایسے اعداد کے جوڑوں کو ضرب دیں گے جن میں سے کوئی بھی 1 نہ ہو۔
جب ہم دو گنتی کے اعداد ، جو 1 سے بڑے ہوں مثلاً 3 اور 5 کو ضرب دیتے ہیں، تو حاصل ضرب دونوں ضرب
دیے جانے والے اعداد سے بڑا ہوتا ہے۔
3 * 5 = 15
حاصل ضرب یعنی 15 دونوں اعداد 3 اور 5 سے بڑا ہے۔
لیکن جب ہم اور 8 کو ضرب دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
1/4 * 8 = 2
درج بالا ضرب میں حاصل ضرب یعنی 2، 1 سے تو بڑا ہے، لیکن 8 سے چھوٹا ہے 4
اب دیکھیے کہ جب ہم اور کو ضرب دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
3/4 * 2/5 = 6/20
2 15 آئیے اس حاصل ضرب یعنی کا موازنہ ان دونوں اعداد اور تجھ سے کرتے ہیں۔ اس کے لیے ہم کو 1 اور 2 کو کی صورت میں لکھتے ہیں۔ 20 5 20 4
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حاصل ضرب دونوں اعداد سے کم ہے۔
آپ کے خیال میں کن صورتوں میں حاصل ضرب دونوں اعداد سے زیادہ ہوتا ہے؟ کب یہ دونوں اعداد کے درمیان ہوتا ہے اور کب دونوں اعداد سے کم ہوتا ہے؟
اشارہ: تعلق اس بات پر منحصر ہے کہ حاصل ضرب اور ضرب دیے گئے اعداد 0 اور 1 کے درمیان ہیں یا 1 سے بڑے ہیں مختلف اعداد کے جوڑے لیجیے اور ان کے حاصل ضرب پر غور کیجیے۔ ہر ضرب کے لیے مندرجہ ذیل سوالات پر غور کیجیے۔)
| صورت حال | ضرب | تعلق |
|---|---|---|
| صورت حال 1 | دونوں اعداد 1 سے بڑے ہیں ( 4/3 * 4 : | حاصل ضرب 16 دونوں اعداد سے 3 بڑا ہے۔ |
| صورت حال 2 | دونوں اعداد 0 اور 1 کے درمیان ہیں : ( 3/4 * 2/5 | حاصل ضرب 3 دونوں اعداد سے چھوٹا ہے۔ |
| صورت حال 3 | ایک عدد 0 اور 1 کے درمیان ہے اور دوسر ا عدد 1 سے بڑا ہے :مثلاً( ( 3/4 * 5 | حاصل ضرب 15 اس عدد سے کم ہے 4 جو 1 سے بڑا ہے اور اس عدد سے بڑا ہے جو 10 اور 1 کے درمیان ہے۔ |
ہر صورت حال کے لیے اس طرح کی مزید مثالیں بنائیے اور حاصل ضرب اور ضرب دیے گئے اعداد کے درمیان تعلق کا مشاہدہ کیجیے۔
آپ حاصل ضرب اور ضرب دیے گئے اعداد کے درمیان کے تعلق کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ خالی جگہوں کو بھریے :
جب ضرب دیے گئے اعداد میں سے کوئی ایک عدد 0 اور 1 کے درمیان ہو تو وہ حاصل ضرب دوسرے عدد سے (بڑا یا چھوٹا) ہوتا ہے۔
جب ضرب دیے گئے اعداد میں سے کوئی ایک عدد 1 سے بڑا ہو تو حاصل ضرب دوسرے عدد سے ( بڑا یا چھوٹا) ہوتا ہے۔
ضرب کی ترتیب
1/2 * 1/4 = 1/8 * sqrt(w) plus/minus 68
یا د رکھیے کہ عام طور پر ایک مستطیل کار قبہ لمبائی اور چوڑائی کا تبادلہ کرنے سے نہیں بدلتا۔
یعنی ضرب کی ترتیب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ لہذا،
a/b * c/d = c/d * a/b
اس کو برہم گپت کے کسروں کو ضرب دینے والے فارمولے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
8.2 کسروں کی تقسیم
12 ÷ 4 کتنا ہے ؟ یہ آپ پہلے سے جانتے ہیں۔ لیکن کیا یہ سوال دوبارہ سے ضرب کے سوال کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے ؟
124 کتنا ہے؟ یہ آپ پہلے سے جانتے ہیں ۔ لیکن کیا یہ سوال دوبارہ سے ضرب کے سوال کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے؟
12 حاصل کرنے کے لیے کسی عدد کو 4 کے ساتھ ضرب دیا جانا چاہیے ؟ جو ہے،
4 *?=12
ہم تقسیم کو ضرب کے مسئلے میں تبدیل کرنے کی اس تکنیک کو کسروں کی تقسیم کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
1 کتنا ہے؟ 3
آئیے اب ہم اسے ضرب کے مسئلے کے طور پر لکھتے ہیں۔
x? = 1
حاصل ضرب 1 حاصل کرنے کے لیے لے کے ساتھ کسے ضرب دینا چاہیے ؟
اگر ہم کسی طرح سے 2 اور 3 کو کاٹ دیتے ہیں تو ہمارے پاس 1 بچتا ہے۔
1 / (2/3) = 3/2
آئیے ہم ایک اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
3 / (2/3)
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ
کیا آپ اس کا جواب تلاش کر سکتے ہیں؟
ہم جانتے ہیں کہ 1 حاصل کرنے کے لیے بچے کے ساتھ کسے ضرب دیا جانا چاہیے۔ ہمیں 3 حاصل کرنے کے لیے
اس کو ی سے ضرب دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے،
3 / (2/3) = 3/2 * 3 = 9/2 ہداء
+ کیا ہے؟ 52
اسے ضرب کے مسئلے کے طور پر اس طرح لکھتے ہیں، ہمارے پاس؟
1 x ? = 1 5 2
اس کو ہم کس طرح سے حل کرتے ہیں؟
1/5 / (1/2) = 2 * 1/5 = 2/5
35 --ن بيرة + ع
تبادلۂ خیال
او پر دیے گئے تقسیم کے ہر مسئلے پر غور کیجیے کہ ہم نے جواب کیسے تلاش کیا۔ کیا ہم ایسا کوئی اصول بنا سکتے ہیں جو ہمیں دو
کسروں کو تقسیم کرنے کا طریقہ بتائے ؟ آئیے پچھلے مسئلے پر غور کرتے ہیں۔قا ہر تقسیم کے مسئلے میں ہمارے پاس قاسم (Divisor)، مقسوم علیہ (Dividend) اور حاصل تقسیم (Quotient) ہوتا ہے۔ حاصل تقسیم کے لیے جو تکنیک ہم استعمال کر رہے ہیں، وہ یہ ہے :
1. سب سے پہلے، وہ عدد تلاش کیجیے جس سے قاسم کو ضرب دینے پر 1 حاصل ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عدد ایک ایسی کسر ہے جس کا شمار کنندہ قاسم کے نسب نما اور نسب نما قاسم کے شمار کنندہ کے برابر ہوتا ہے۔
جب ہم ایک کسر کو اس کے معکوس سے ضرب دیتے ہیں تو ہمیں 1 حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ہماری تکنیک کا پہلا قدم قاسم کا مقلوب معلوم کرنا ہے مثلاً قاسم 3 ہے تو یہ کسر ہے۔ ہم کو 3 کا مقلوب (Reciprocal) کہتے ہیں۔ 5
2 اس کے بعد خارج قسمت حاصل کرنے کے لیے ہم مقسوم کو اس مقلوب سے ضرب دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ دو کسروں کو تقسیم کرنے کے لیے :
قاسم کا مقلوب تلاش کیجیے
اسے مقسوم سے ضرب دیجیے تا کہ حاصل تقسیم مل جائے۔
جیسا کہ آپ نے کسروں کی جمع، تفریق اور ضرب کے طریقے اور فارمولے پہلے سیکھے تھے، اسی طرح کسروں کی تقسیم کا یہ طریقہ اور فارمولا بھی سب سے پہلے برہم گیت نے اپنی برہما شفٹ سدھانت (628 عیسوی) میں واضح طور پر بیان کیا تھا۔
لہذا، مثال ÷ 3 کے طور پر ت کو برہم گیت کے فارمولے کے مطابق حل کرنے کے لیے ہم لیے ہم لکھتے ہیں:
2/3 / (3/5) = 2/3 * 5/3 = (2 * 5)/(3 * 3) = 10/9
)Dividend, Divisor and the Quotient( مقسوم، قاسم اور حاصل تقسیم
جب ہم دو مکمل اعداد کو تقسیم کرتے ہیں، مثلاً 3+ 6 ، تو حاصل تقسیم 2 آتا ہے۔ یہاں پر حاصل تقسیم مقسوم سے کم ہے۔
لیکن جب ہم 6 کو 1 سے تقسیم کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے ؟
6 / (1/4) = 24
یہاں حاصل تقسیم مقسوم سے زیادہ ہے!
جب ہم کو سے تقسیم کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے ؟
1/8 / (1/4) = 1/2
یہاں پر بھی حاصل تقسیم مقسوم سے زیادہ ہے۔
آپ کے خیال میں کب حاصل تقسیم مقسوم سے کم ہوتا ہے اور کب یہ مقسوم سے زیادہ ہوتا ہے؟
کیا قاسم اور حاصل تقسیم کے درمیان بھی ایسا ہی کوئی تعلق ہے؟
ان تعلقات کو سمجھتے ہوئے ، ضرب کے اصولوں کی مدد سے اوپر دیے گئے سوالوں کے جوابات دیجیے۔
8.3 کسروں پر مشتمل کچھ سوالات
؟ مثال :3: لینا نے 5 کپ چائے بنائی۔ اس نے اس کے لیے لیٹر دودھ استعمال کیا۔ چائے کے ہر کپ میں کتناد ودھ ہے ؟
لینا نے 5 کپ چائے بنانے کے لیے لیٹر دودھ کا استعمال کیا۔ اس لیے 1 کپ چائے میں دودھ کا :ہوگا )Volume( حجم
1/4 / 5
اس کو بطور ضرب لکھنے پر ، ہمارے پاس
4 5 × ( ہر کپ میں دودھ کی مقدار ) = 1 1-
ہم اس تقسیم کو برہم گپت کے طریقے کے مطابق اس طرح کرتے ہیں: (قاسم) 5 کا مقلوب ہے۔
اس مقلوب کو مقسوم (1) سے ضرب دینے پر ہمیں ملتا ہے 4
1/5 * 1/4 = 1/20
اس لیے چائے کے ہر ایک کپ میں دودھ کی مقدار 2 لیٹر ہے۔
مثال 4: غیر ا کائی والی کسروں کے ساتھ کام کرنے کی قدیم ترین مثالیں انسانیت کی قدیم ترین جیومیٹری کی کتابوں، شلب سوتر (Shulbasutra) (تقریباً 800 ق م) میں ملتی ہیں۔ یہاں پر ایک مثال بودهاین (Baudhāyana ) کے شلب سوتر ( تقریباً 800 ق م) سے دی گئی ہے۔
7 مربع اکائیوں کے رقبے کو ایسے مربع شکل کی اینٹوں سے ڈھانپیں جن کے ہر ایک ضلع کی لمبائی کے اکائی ہے۔ 2
ایسی کتنی مربع اینٹوں کی ضرورت ہو گی؟
ہر مربع اینٹ کا رقبہ مربع اکائیاں ہیں۔ 1/5 * 1/5 = 1/25
کل ڈھکا جانے والا رقبہ 7 مربع اکائی = 1 مربع اکائی ہے۔
جیسا کہ (اینٹوں کی تعداد ) x ( ایک اینٹ کا رقبہ ) = کل رقبہ
15/2 / (1/25) = mapsto.
قاسم کا مقلوب 25 ہے۔
مقلوب کو مقسوم سے ضرب دینے پر ، حاصل ہوتا ہے
25 * 15/2 = (25 * 15)/2 = 375/2
مثال 5 : یہ مسئلہ چتروید پر تھودک سوامی (Prithūdakasvami) (تقریباً 860 عیسوی) نے برہم گیت کی کتاب بر بما شفت سدھانت (Brahmasphutasiddhanta) کی شرح میں پیش کیا تھا۔
چار فوارے ایک حوض کو بھرتے ہیں۔ پہلا فوارہ حوض کو ایک دن میں بھر سکتا ہے۔ دوسرا آدھے دن میں۔ تیسرا ایک چوتھائی دن میں اور چوتھا ایک دن کے پانچویں حصے میں حوض بھر سکتا ہے۔ اگر یہ سب فوارے ایک ساتھ چلیں ، تو وہ کتنے وقت میں حوض کو بھریں گے؟
آئیے اس مسئلے کو مرحلہ وار حل کرتے ہیں۔
ایک دن میں ، ہر فوارہ جتنی بار حوض بھرے گا۔
پہلا فوارہ ایک دن میں حوض کو بھرے گا: : 1 = 1/1
-i:\ = 1 / (1/2) . دوسرا فوارہ حوض کو بھرے گا:
-i!\ = 1 / (1/4) تیسر ا فوارہ حوض کو بھرے گا:
-i!\ = 1 / (1/5) چوتھا فوارہ حوض کو بھرے گا:
لہذا، چاروں فوارے مل کر ایک دن میں حوض کو بھریں گے : 12 بار = _____+_+_________ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاروں فوارے مل کر حوض کو بھرنے میں 12 دن لیں گے۔
کسری رشتے
یہاں پر ایک مربع ہے جس کے اندر کچھ خطوط کھینچے گئے ہیں
پورے مربع کے رقبے کا کون سا حصہ پورا بھرا ہوا ہے؟
اس مسئلے کو حل کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے:
مان لیتے ہیں کہ پورے مربع کارقبہ 1 مربع اکائی ہے۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ او پر دائیں جانب والا مربع ( شکل 8.5 میں ) پورے مربع کے رقبے کا 1 4
گھیرے ہوئے ہے۔
آیئے ہم لال رنگ کے مربع کو دیکھتے ہیں۔ اس کے اندر دیے ہوئے مثلث ( پہلے رنگ) کار قبہ لال رنگ والے مربع کے رقبہ کا آدھا ہے۔ اس لیے پیلے رنگ کے مثلث کا رقبہ مربع اکائی۔ = 1/2 * 1/4 = 1/8
پیلے رنگ کے مثلث کا کتنا حصہ لکیروں سے بھرا ہوا ہے ؟
لکیروں سے بھرا ہوا حصہ پیلے رنگ کے مثلث کے کل رقبے کے حصے پر مشتمل ہے، کیا آپ دیکھ سکتے ہیں ایسا کیوں ہے؟
لکیروں سے بھرے ہوئے حصے کا رقبہ 3 = 1 × 3 = مربع اکائی۔ 4 8 32
اس طرح لکیروں سے بھرا ہوا حصہ مکمل مربع کے رقبے کا م ہے۔ 3 32
درج ذیل دی ہوئی ہر شکل میں بڑے مربع کا وہ حصہ معلوم کیجیے جو کہ لکیروں سے بھرے ہوئے حصے پر مشتمل ۔ ہے۔
ہم اگلے باب میں اس طرح کی مزید دل چسپ مثالیں حل کریں گے۔
)A Dramma-tic Donation( ایک درمی خیرات
درج ذیل مسئلہ بھاسکر آچاریہ دوم (Bhaskara II) کی کتاب لیلاوتی (جو 1150 عیسوی میں لکھی گئی ہے) سے ترجمہ کیا گیا ہے۔
اے عقل مند ! ایک کنجوس نے ایک فقیر کو ایک درم کار کا کا کا کالم کا واں حصہ دیا۔ اے بچے! اگر مجھے ریاضی میں کسر کا علم ہے تو بتا، اس کنجوس نے فقیر کو کتنے کوڑیوں کے برابر خیرات دی؟“
درم “ اُس وقت استعمال ہونے والا ایک چاندی کا سکہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 1 درم 1280 کوڑیوں کے برابر ہوتا تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ کنجوس آدمی نے درم کا کتنا حصہ فقیر کو دیا:
1 1 X X X 4 4 X 12 X ایک درم کا × × × × × واں حصہ
مختصر کرنے پر ہمیں 7680 حاصل ہوتا ہے۔
اس کو کم ترین شکل میں لانے کے بعد ہمیں حاصل ہوتا ہے :
6 1 = 7680 1280
یعنی، فقیر کو صرف ایک کوڑی کا سکہ دیا گیا۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بھاسکر آچاریہ کے اس جواب میں مزاح کا پہلو بھی شامل ہے! کنجوس نے فقیر کو صرف سب سے کم قدر کا ایک سکہ دیا ( یعنی ایک کوڑی)
بارہویں صدی کے آس پاس ، ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کئی اقسام کے سکے رائج تھے۔ ان میں سونے کے سکے ( جنھیں دینار، گرین اور ہن وغیرہ کہا جاتا تھا ، چاندی کے سکے ( جنھیں درم یا ٹنکا کہا جاتا تھا ) ، تانبے کے سکے (جنھیں کاسو، پین یا یانا اور ماشک کہا جاتا تھا) اور کوڑی کے سکے جسے (Cowrie shells) کہا جاتا تھا، سب سے زیادہ استعمال ہوتے تھے۔
ان سکوں کے درمیان تبادلہ کی شیر میں علاقہ ، دور، معاشی حالات، وزن اور دھات کے خالص پن کے مطابق مختلف ہو سکتی تھیں۔
سونے کے سکے بہت قیمتی سمجھے جاتے تھے اور بڑے لین دین یا دولت کے ذخیرے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ چاندی کے سکے عام طور پر روزمرہ کے لین دین میں استعمال ہوتے تھے۔ تانبے کے سکے نسبتا کم قیمت کے ہوتے تھے اور چھوٹے لین دین میں استعمال کیے جاتے تھے۔ کوڑی کے سکے سب سے کم مالیت کی کرنسی سمجھے جاتے تھے اور بہت معمولی لین دین یا بقایا رقم کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
اگر ہم فرض کریں 1 سونے کا دینار = 12 چاندی کے درم، 1 چاندی کا درم = 4 تانبے کے پن ، 1 تانبے کا پن = 6 ماشک اور 1 بن = 30 کوڑیاں، تو پھر،
1 کوڑی = تانبے کے پن
= 6i * sqrt(1) سونے کا دینار
تاریخ کی ایک جھلک
جیسا کہ آپ نے دیکھا ، کسر اعداد کی ایک اہم قسم ہیں ، جو روز مرہ زندگی کے مختلف مسائل جیسے مقداروں کو برابر برابر تقسیم کرنے اور بانٹنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ غیر اکائی والی کسروں (Non-unit Fractions) کا عمومی تصور جس کو ہم آج استعمال کرتے ہیں اور جس میں جمع، تفریق، ضرب، تقسیم جیسے حسابی عمل (Arithmetic operations) آتے ہیں، زیادہ تر ہندوستان میں ترقی پائے ہیں ۔ قدیم ہندوستانی هندسی متون (Geometry texts) کو شُلب سوتر (Shulbasutra) کہا جاتا ہے، جو کہ تقریباً 800 ق م پرانی ہیں۔ ان متون میں مذہبی رسومات کے لیے یگیہ (یعنی آتش کدے) کی تعمیر سے متعلق ہندسی مسئلے حل کیے جاتے تھے اور ان میں غیر اکائی والے کسروں کا استعمال عام تھا، جیسا کہ ہم نے مثال 3 میں دیکھا۔
یہاں تک کہ 150 قبل مسیح تک آتے آتے ہندوستان کی مقبول عام ثقافت میں کسریں عوامی سطح پر رائج ہو چکی تھیں۔
اس بات کی شہادت ہمیں مشہور جین عالم اما سوتی (Umasvati) کے فلسفیانہ کام میں کسروں کو کم ترین ارکان میں لانے بات کے واضح ذکر سے ملتی ہے۔
ہندوستانی ریاضی داں برہم گیت نے 628 عیسوی میں اپنی تصنیف برہما شفٹ سدھانت میں کسروں پر حسابی عمل ( یعنی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم) کے عمومی اصول وضع کیے جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ہم نے کسروں کو جمع
اور تفریق کرنے کے طریقے پہلے ہی سیکھ لیے ہیں۔ عام کسروں کو ضرب دینے کے لیے برہم گیت نے لکھا ہے :
دو یا دو سے زیادہ کسروں کے حاصل ضرب معلوم کرنے کے لیے ہم شمار کنندہ کے حاصل ضرب کو نسب نما کے حاصل ضرب سے تقسیم کرتے ہیں۔“ (بر ہما شفٹ سدھانت، اشلوک : 12.1.3)
Pxq P ax c = X یعنی
اسی طرح برہم گیت نے عام کسروں کی تقسیم کے لیے لکھا ہے :
دو کسروں کی تقسیم کے لیے قاسم کے شمار کنندہ اور نسب نما کو آپس میں تبدیل کیا جاتا ہے ، پھر مقسوم کے شمار کنندہ کو نئے شمار کنندہ سے ضرب کیا جاتا ہے اور نسب نما کو نئے نسب نما سے ضرب کیا جاتا ہے۔“
بھا سکر دوم نے 1150 ء میں اپنی کتاب لیلاوتی میں برہم گپت کے مذکورہ بیان کو مقلوب شکل میں کچھ اس طرحواضح کیا ہے :
ایک کسر کو دوسری کسر ے تقسیم کرنا، پہلی کسر کو دوسری کسر کے مقلوب سے ضرب دینے کے مترادف ہوتا ہے۔“ 23.40 لیلاوتی اشلوک
ان دونوں بیانات سے مراد یہ ہے کہ کسر کی تقسیم کا عمومی فارمولا درج ذیل ہے :
= = axd bxc
بھاسکر اول نے 629ء میں 499ء کے آریہ بھٹ کے کام پر اپنی شرح آریہ بھٹ بھاشیہ میں کسروں کے ضرب کی جیومیٹریائی توضیح بیان کی ہے۔ (جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا) یعنی مربع کو اس کی لمبائی اور چوڑائی میں برابر تقسیم کر کے مستطیل بنانا۔
ہندوستان کے دوسرے بہت سے ریاضی داں جیسے شری دھر آچاریہ (750ء)، مہاویر آچاریہ (850ء) چتروید پر تھودک سوامی (860ء) بھاسکر دوم (1150ء) نے کسروں کے حساب کے استعمال کو مزید فروغ دیا۔ ہندوستانی کسروں کے اصول اور ان پر حسابی عمل کے طریقے عرب اور
افریقی ریاضی دانوں تک منتقل ہوئے اور ان کے ذریعے وہاں مزید ترقی ہوئی مثلاً مراکش (Morocco) کے معروف ریاضی دال ابو بکر الحصار (1192ء) نے ان خیالات کو مزید فروغ دیا۔ یہ نظریہ عربوں کے ذریعے یورپ پہنچا، اور اگلی چند صدیوںمیں وہاں ترقی پاتا رہا۔ یورپ میں یہ نظریہ تقریباً 17 ویں صدی میں عام استعمال میں آیا اور اس کے بعد یہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ یہ نظریہ آج جدید ریاضی میں لازمی حیثیت رکھتا ہے۔
؟ معلوم کیجیے
1 مندرجہ ذیل کی قدر معلوم کیجیے :
| 14/6 ÷ 7/3 | 2/3 ÷ 2/3 | 14/4 ÷ 2 | 3 ÷ 7/9 |
| 8/2 ÷ 4/15 | 7/4 ÷ 1/7 | 4/3 ÷ 3/4 | |
| 3*2/3 ÷ 1*3/8 | 1/6 ÷ 11/12 | 1/5 ÷ 1/9 |
2 نیچے دیے گئے ہر سوال کے لیے اس عبارت کا انتخاب کیجیے جو اس کے حل کو بیان کرتی ہو ۔ پھر اس کو کم ترین شکل میں لکھیے۔
(2) ماریہ نے اسکول کے لیے بنائے گئے تھیلوں کو سجانے کے لیے 8 میٹر فیتہ خریدا۔ اس نے ہر تھیلے پر 1 میٹر فیتہ استعمال کیا اور سارا فیتہ ختم ہو گیا۔ اس نے کتنے تھیلے سجائے؟
(b) لا (Badges) بنانے میں 1/2 میٹر فیتہ استعمال ہوتا ہے ۔ تو ہر بلے کے لیے استعمال کیے گئے فیتہ کی لمبائی کیا ہے ؟
C) ایک نان بائی کو ایک روٹی بنانے کے لیے کلو گرام آٹا چاہیے۔ اس کے پاس 5 کلوگرام آتا ہے۔ وہ کتنی روٹیاں بنا سکتا ہے؟ (
3. اگر 12 روٹیاں بنانے میں 7 کلو گرام آٹا استعمال ہوتا ہے ، تو 6 روٹیاں بنانے میں کتنا آٹا استعمال ہو گا؟ 3
4. پتگنت (Patiganita)، کتاب جوشری دھر آچاریہ نے 9 ویں صدی عیسوی میں لکھی، اس میں یہ مسئلہ مذکور ہے : ” دوست ! غور کرنے کے بعد بتاؤ کہ وہ مجموعہ کیا ہو گا جو درج ذیل اعداد کو آپس میں جمع کرنے پر حاصل ہو گا؟ .4 ؟دیناچاہیے جواب کیا کو دوست 1 / (1/2) اور 1 / (1/6) 1 / (1/10) 1 / (1/13) 1 / (1/9)
5. میرا ایک ناول پڑھ رہی ہے جس میں 400 صفحات ہیں۔ اس نے ان صفحات کا حصہ کل پڑھا اور آج اس نے 3 صفحات پڑھ لیے۔ اسے ناول مکمل کرنے کے لیے اب مزید کتنے صفحات پڑھنے ہوں گے؟ 10
6. ایک کار 1 لیٹر پیٹرول میں 16 کلومیٹر چلتی ہے۔ 23 لیٹر پیٹرول میں وہ کتنی دور جائے گی ؟
7. امرت پال نے چھٹیوں کے لیے ایک منزل منتخب کی۔ اگر وہ ٹرین سے جائے تو اسے وہاں پہنچنے میں 5 گھنٹے لگیں گے۔ اگر وہ ہوائی جہاز سے جائے تو صرف گھنٹہ لگے گا۔ تو ہوائی جہاز سے کتنے گھنٹے کی بچت ہو رہی ہے ؟
8. مریم کی دادی نے ایک کیک بنایا۔ مریم اور اس کے بھائیوں نے حصہ کیک کھا لیا۔ باقی کیک کو مریم کی تین سہیلیوں میں برابر تقسیم کر دیا گیا۔ ہر سہیلی کو کیک کا کتنا حصہ ملا ؟
9. درج ذیل اختیارات میں سے وہ متبادل منتخب کیجیے جو ضرب کو بیان کرتے ہیں: r angle (565/465 * 707/676)
10 مکمل مربع کا کتنا حصہ لکیروں سے بھرا ہوا ہے؟
11. چیونٹیوں کا ایک جھنڈ خوراک کی تلاش میں نکلا۔ تلاش کے دوران، وہ جھنڈ ہر مقام پر برابر برابر تقسیم ہوتا گیا (جیسا کہ شکل 8.7 میں دکھایا گیا ہے ) پاس اور اور خوراک کے دو ذرائع تک پہنچا۔ ایک آم کے درخت کے با دوسرے گنے کے کھیت کے پاس تو اصل جھنڈ کا کتنا کسری حصہ خوراک کے ہر ذریعے تک پہنچا؟
12. 1-1/2 کی قدر کیا ہوگی ؟
خلاصه
برہم گیت کے مطابق کسروں کے ضرب کا- فارمولا :
- a/b * c/d = (ac)/(bd)
- جب ہم کسروں کو ضرب دیتے ہیں تو اگر شمار کنندہ اور نسب نما میں کوئی مشتر کہ جزو ضر بی ہوں، تو ہم شمار کنندہ اور نسب نما -کی ضرب سے پہلے انھیں مختصر (Cancel) کر دیتے ہیں پھر ضرب دیتے ہیں ۔
- - جب دونوں اعداد 10 اور 1 کے درمیان ہوں ، تو حاصل ضرب 1 سے کم ہو گا۔ اگر دونوں میں -ضرب کے عمل میں سے کوئی ایک عدد 1 سے بڑا ہو ، تو حاصل ضرب زیادہ ہو گا۔
- کسر مقلوب ہوتا ہے۔ جب ہم کسی کسر کو اس کے مقلوب سے ضرب دیتے ہیں تو حاصل ضرب 1 آتا ہے۔ b/a a/b
- برہم گیت کے مطابق کسروں کی تقسیم کا فارمولا :
- a/b / (c/d) = a/b * d/c = (ad)/(bc)
- تقسیم کے عمل میں ۔ جب قاسم 10 اور 1 کے درمیان ہو ، تو خارج قسمت مقسوم سے بڑا ہو گا۔ اور جب قاسم 1 سے بڑا ہو تو مقلوب مقسوم سے چھوٹا ہو گا۔
IT'S PUZZLE TIME! شطرنج کی پہیلیاں - حملہ نہ کرنے والی ملکائیں (Queens)
شطرنج ایک مشہور دو کھلاڑیوں کی حکمت عملی پر مبنی کھیل ہے۔ اس کھیل کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی تھی۔ یہ 8 × 8 خانوں والے چوکور بورڈ پر کھیلا جاتا ہے۔ اس میں دوسیٹ کے مہرے ہوتے ہیں۔ کالے اور سفید - ہر کھلاڑی کے لیے ایک سیٹ ۔ ہر مہرہ کس طرح حرکت کرے گا اور کھیل کے اصول کیا ہیں، یہ سب طے شدہ ہوتا ہے۔
یہاں ایک مشہور شطرنج پر مبنی پہیلی پیش ہے۔ اپنی موجودہ جگہ سے ملکہ افقی (Horizontal)، عمودی (Vertical) اور ترچھی (Diagonal) سمت میں حرکت کر سکتی ہے۔ 4 ملکہ اس طرح رکھیں کہ کوئی 2 ملکہ ایک دوسرے پر حملہ نہ کر سکیں مثلاً ذیل میں دکھایا گیا بندو بست درست نہیں ہے کیوں کہ دونوں ملکہ ایک ہی لکیر میں ہیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر سکتی ہیں۔