Skip to content
Qr








اکائی 6

یوگ


Screenshot 2025-12-02 at 09-23-48 gukl106.pdf

یوگ ایک ایسا قدیمی عمل ہے جسے ذہن اور جسم کے درمیان مطابقت قائم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔یہ اکائی یوگ کے ذریعے ہمہ جہت نشوو نما اور یوگ کے آٹھ اعضاکے عملی اطلاق پر زور دیتے ہوئے جسمانی صحت اور ذہنی تندرستی کو حاصل کرنے میں ہماری رہنمائی کرے گی۔ ہم یہ دریافت کریں گےکہ مسلسل یوگ کی مشق کے ذریعے خود آگاہی، نظم و ضبط اور اخلاقی طرزِ عمل کو رفتار دے سکتے ہیں جو طلبا کو انفرادی طور پر مزید با اختیار، ذمہ دار اور ہمدرد بنا سکتے ہیں۔

یوگ کے بارے میں

گریڈ6 میں ہم نے جانا کہ لفظ‘یوگ’ سنسکرت لفظ ‘یُج’سے مشتق ہے جس کے معنی‘جڑنا’ ، ‘متحد ہونا’ یا ’انضمام‘کے ہیں۔ یہ جسم، ذہن اور باطن کا امتزاج ہے۔ یوگ ہمارے آس پاس کی دنیا اور ہم میں اعتدال، ہم آہنگی اور یک سوئی کا احساس پیدا کرتا ہے۔

یوگ مختلف طور پر ہماری جسمانی، ذہنی، جذباتی اور سماجی نشو ونما میں معاون ہوتا ہے۔ متواتر یوگ کی مشق کے ذریعے جسم مضبوط، ذہن مزید پُر سکون اور جذبات مزید معتدل ہوتے ہیں۔ یہ باطنی ہم آہنگی ہمیں ایک بہتر طالبِ علم، ایماندار دوست، خاندان کا ایک ذمہ دار فرد اور ایک معزز شہری ہونے میں معاون ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ زندگی کی مختلف آزمائشوں کا توجہ اور اعتدال کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے یوگ کی متواتر مشق کو برقرار رکھا جائے۔

اس یونٹ کا ہر حصہ آپ کی سمجھ اور یوگ کی مشق میں اضافہ کرے گا۔ ہمہ جہت نشوونما کے لیے یوگ کی تعریف سے اس کی شروعات کریں گے اس کے بعد روزمرہ کی زندگی میں یَمنِیم اور اس کے اطلاقات کے بارے میں سیکھیں گے۔

سوکشم ویایام (جوڑوں کی حرکات) شیتھلی کرن ویایام (متحرک ورزش) سوریہ نمسکار ، آسن (وضع)، آرام، مدرائیں، کریائیں، پرانایام (سانس کا ضابطہ) پرتیاہار (ہواس پر قابو پانا) دھارنا (یکسوئی) دھیان (مراقبہ) اور کریڑا یوگ (یوگ کے کھیل)۔

یوگ نشستوں کی ساخت

(Yoga Session Structure)

اپنے یوگ نشست کی شروعات اگلے صفحے پر دی ہوئی دعا سے کیجیے۔اس دعا کے ذریعے ہم طلبا اور اساتذہ کے درمیان رشتے کا احترام کریں گے۔ایک ساتھ مل کر وہ خدا سے رہنمائی، تحفظ اور دانش مندی کی درخواست کریں گے۔ وہ ہر جگہ اور ہر کسی کے لیے امن و امان کی دعا بھی کریں گے۔

یوگ کی نشست کو شروع اور ختم کرنے کے لیے عام ہدایتیں

  • ریڑھ کی ہڈی، گلے اور سر کو سیدھا رکھتے ہوئے سکھاسن کے انداز میں بیٹھیں۔
  • اپنی آنکھوں کو بند کریں۔ چہرے کو پر سکون رکھیں اور اپنی توجہ اپنی سانسوں پر مرکوز کریں۔

اپنے ہاتھوں کو چن مدرا میں رکھیں۔ تھوڑے وقفے کے لیے اپنی سانسوں کا جائزہ لیں اور پھر ایک گہری اور دھیمی سانس لیں۔ ’اوم‘ بولتے ہوئے آہستہ سے سانس چھوڑیں۔

  • آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھوں کو نمسکار مدرا میں رکھتے ہوئے اگلے صفحے پر دی ہوئی دعا کو ترنم
    سے پڑھیں۔

اس بات پر غور کریں کہ’اوم‘ کی ادائیگی کے بعد آپ نے کیسا محسوس کیا۔

  • اپنی ہتھیلیوں کو نرمی سے آپس میں رگڑیں اورانھیں اپنی بند آنکھوں کے اوپر رکھیں۔ اس کے بعد اپنے ہاتھوں کی
    گرمی کو محسوس کرتے ہوئے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں۔

    (ابتدائی دعا)

    ॐ सह नाववतु ।

    सह नौ भुनक्तु ।

    सह वीर्यं करवाव है ।

    तेजस्वि नावधीतमस्तु मा विद्विषाव है ।

    ॐ शान्तिः शान्तिः शान्तिः ॥

    او م سہہ ناو وتو ۔
    سہہ نو بھُنکتو ۔

    سہہ ویریم کروا واہے۔

    تیجسوی ناودھیت مستو ما ودوشاوہے۔

    اوم شانتی شانتی شانتی۔

    دعا کا مفہوم

    ہم دونوں (استاد اور شاگرد) محفوظ رہیں۔ ہم دونوں کی بہتر پرورش ہو۔ ہم پوری طاقت اور توانائی سے مشق کریں۔ ہمارا مطالعہ بارآور اورسبق آمیز ہو۔ ہم ایک دوسرے سے نفرت نہ کریں۔

ابتدائی دعا کے بعد یوگ کی مختلف سرگرمیوں کی نشستوں کے منصوبے پر عمل کریں۔ ان سرگرمیوں میں یم اورنیم، خرد اور
پر سکون ورزش (سوکشم ویایام اور شیتھلی کرن ویایام)آسن– پرا نایام، پرتیا ہار، سکونی،دھارنا، دھیان اور کریڑا یوگ وغیرہ شامل ہیں۔

یوگ کی ہر نشست کا اختتام مندرجہ ذیل اختتامی دعا سے ہوگا۔ یہ دعا، طلبا کے حصولِ علم اور دن بھر کی آموزش کو مثبت اور
پر لطف بنانے میں مدد گار ہوتی ہے۔

(اختتامی دعا)

ॐ सर्वे भवन्तु सुखिनः

सर्वे सन्तु निरामयाः ।

सर्वे भद्राणि पश्यन्तु

मा कश्चित् दुःख भाग्भवेत् ।

ॐ शान्तिः शान्तिः शान्तिः॥

او م سروے بھونتو سُکھِنہ۔

سروسنتوُ نرامایاہ۔

سروے بھدرانی پشینتو۔

ما کشچد دکھ بھاگ بھویت۔

اوم شانتی شانتی شانتی۔

دعا کا مفہوم

سبھی خوش رہیں، سبھی بیماریوں سے محفوظ رہیں، سبھی بہتر اور مبارک واقعات کے شاہد بنیں اور کسی کو بھی رنج و غم کا شریک نہ ہونا پڑے۔

باب1

روزمرہ کی زندگی میں یوگ (Yoga for Daily Life)

اس باب میں ہم روزمرّہ کے معمولات میں یوگ کے مختلف طریقوں کی شمولیت کے متعلق معلومات حاصل کریں گے۔ اپنے روزمرہ کے معمول میں یوگ کو شامل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یوگ کی عملی طور پر ( کرم یوگ) مشق کی جائے جس کی تلقین کرشن جی نے بھگوت گیتا میں کی ہے۔ بھگوت گیتا میں یوگ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔
یوگہ کرماسوکوشلم (05.2) یعنی‘ یوگ عمل میں استعداد ہے’۔جس کا مفہوم ہے کہ اپنے کام کو پر سکون اور انہماک کے ساتھ کرنے سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

کھوکھو کے ایک کھلاڑی کے بارے میں سوچیے۔ وہ صرف تیز رفتار سے دوڑتے ہی نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر وہ پرسکون اور منہمک ہوتے ہیں حتیٰ کہ کھیل اپنی انتہائی حالت ہی میں کیوں نہ ہو۔ یہ ہم سبھی کے لیے ایک سبق ہے۔ چاہے ہم مطالعہ کررہے ہوں، ایک کھیل کھیل رہے ہوں یا کوئی نئی مہارت حاصل کر رہے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ اس کے لیے سخت محنت کی جائے اور تناؤ محسوس کیا جائے بلکہ اس کے لیے پُر سکون ہونا، توجہ مرکوز کرنا اور حقیقی طور پر اس عمل سے پر لطف ہونا ہے۔

شری اروبندو کے مطابق یوگ مجموعی طور پر کسی فرد کی جسمانی، ذہنی، عقلی، جذباتی اور روحانی سطح پر شخصیت کی
ہمہ جہت ارتقا کا نام ہے۔ عموماً یہ زندگی کے تمام شعبوں کے فروغ سے متعلق ہے۔

ایک بڑے درخت کا تصور کیجیے۔ اسے تناور اور مضبوط ہونے کے لیے اس کے تمام اعضا- جڑ، شاخیں اور پتّیوں کا ایک ساتھ نشوونما پانا ضروری ہے۔ اسی طرح توانائی اور توازن حاصل کرنے کے لیے زندگی کی تمام حقائق کو بھی فروغ حاصل ہونا چاہیے۔

مختلف پہلوؤں میں ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں اور کیسے ہمہ جہت نشوو نما حاصل کر سکتے ہیں؟

یوگ ہمارے جسم، ذہن اور باطن کے باہمی رشتے کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اسی طرح تیتیریہ اپنشد میں
پنج کوش کی وضاحت کی گئی ہے جس میں ہمارے وجود کی پانچ تہوں کا ذکر کیاگیا ہے۔ بالکل پیاز کے چھلکوں کی طرح۔ یہ تہیں جسم، توانائی، ذہن، دانائی اور مسرت ہیں۔ یوگ کی متعددتکنیکیں ان تمام تہوں کی تربیت میں معاون ہوتی ہیں اور ہمہ جہت تندرستی میں اضافہ کرتی ہیں۔

اب ہمہ جہت ترقی میں ہر کوش اور اس کے کردار کے متعلق سمجھیں گے۔ پنچ کوش کا خاکہ ہمیں اپنے آپ کو بہتر طور پر سمجھنے میں معاون ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ظاہری اور باطنی دنیا کو سمجھنے کی بصیرت دیتا ہے اور ہمیں اس کے لیے مزید بامقصد، خود آگا ہی اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-24-21 gukl106.pdf

1. انّ مےکوش (جسمانی غلاف) ( Physical Sheath)

یہ ہمارے جسم کی سب سے باہری سطح ہوتی ہے جس کےجسمانی اعضا کو ہم دیکھ سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ غذا سے بنتا ہے جسے ہم کھاتے ہیں۔ کھیلنا، دوڑنا، بہترین غذا کا استعمال، حسبِ ضرورت بھوکا رہنا، قدرتی اشیا کے ساتھ رہنا اور بھرپور نیند وغیرہ ہمیں صحت مند بنائے رکھنے کے مختلف طریقے ہیں۔ یوگ کی حالتیں اور مدرائیں ہمارے جسم کو طاقت ور اور متوازن بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک پودھے کی نشوونما میں پانی اور سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے اُسی طرح صحت مند رہنے کے لیے ہمارے جسم کو کھانا، ورزش اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

2. پران مےکوش (توانائی غلاف) ( Energy Sheath)

ہمارے جسم میں کئی تہیں ہوتی ہیں اور جلد کے بالکل نیچے کی تہہ کو پران مے کوش کہا جاتا ہے۔ اِس تہہ کی ’پران‘ جو ہماری زندگی کی توانائی ہے، جسے ہم تنفس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، سے تقویت ملتی ہے۔ ’جان‘ ہمارے اندر نہ دکھنے والے دریا کے مانند ہے جو ہمارے پھیپھڑوں، دل اور ہر چیز کو ایک ساتھ کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ تنفّس ہمیں ہوا اور زمین سے جوڑتا ہے اور ہمیں توانائی بخشتا ہے۔ ہم اپنی جان کو مخصوص مشقوں کے ذریعے مضبوط بنا سکتے ہیں جیسے
پرانا یام۔ مُدرااورکریا وغیرہ جو ہمیں طاقت ور اور صحت مند ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔

3. منومےکوش (ذہنی غلاف) (Mind Sheath)

یہ تہہ ہمارے خیالات، احساسات اور ادراک کے متعلق ہے۔ جہاں سے ہمارے جذبات اور خواہشات برآمد ہوتے ہیں۔ اِس میں ہم کیا سوچتے ہیں؟ ہم کیا محسوس کرتے ہیں اور کیسے ہم اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ مراقبہ، منتروں کا جپنا ، موسیقی سے لطف اندوز ہونا، گانا، مصوری اور تراٹک (کسی نکتے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا) وغیرہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو اِس تہہ کی تشکیل میں معاون ہوتی ہیں۔ ایک پر سکون ذہن آپ کو مسائل حل کرنے، ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنے اور حالات کو آسانی سے قابو کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب آپ خوشی یا غم محسوس کرتے ہو تب یہ منو مئے کوش ہی ہے جو ان جذبات کو محسوس کرتا ہے۔

4. وگیان مےکوش (حکمت و دانائی کا غلاف) (Wisdom Sheath)

یہ تہہ صحیح-غلط اور اچھے-برے میں تمیز کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ یہ علم، فہم، ادراک اور فیصلہ لینے کے لیے
ذمہ دار ہوتا ہے۔ حکمت و دانائی کی یہ تہہ ہمیں صحیح انتخاب کرنے، بہتر طالب علم، احباب، خاندان کے اراکین، ملک کا
ذمہ دار اور معزز شہری بنانے میں مدد کرتی ہے۔ اِس سے ہمیں اپنی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے اور زندگی کے مقاصد کی تلاش میں بھی مدد ملتی ہے۔ جب ہم اسکول میں کچھ نیا سیکھتے ہیں یا صحیح-غلط کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس وقت ہمارا وگیان مے کوش کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کو ایک نقشے کے طور پر دیکھیے جو ہمیں زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔

5 آنند مےکوش (مسرّت کا غلاف) (Bliss Sheath)

یہ سب سے اندر کی تہہ ہے اور خالص خوشی اور مسرّت کا ذریعہ ہے۔ غور کیجیے کہ آپ کتنا پرسکون اور خوشی محسوس کرتے ہو جب اپنے پالتو جانور کے ساتھ کھیلتے ہو۔ قدرت کی پناہ میں خاموشی سے بیٹھے ہو، اپنی دل چسپیوں میں مصروف ہوں۔ گانا گا رہے ہوں یا سن رہے ہوں، دوسروں کی مدد کر رہے ہوں یا سماج کے لیے کچھ کر رہے ہوں۔ قناعت اور خوشی کا یہ شدید احساس آنند مے کوش سے حاصل ہوتا ہے۔

ان پانچوں کوشوں کی تفہیم سے واضح ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ یوگ قدرت کا ایک ایسا آلہ ہے جو ان تمام کوشوں کو معتدل کرتا ہے۔ یوگ کی روزانہ مشق سے ہم اسکول میں اپنی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ کھیلوں میں سبقت لے سکتے ہیں۔ اپنی دل چسپیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور موسیقی اور فن کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ اس لیے ہم جو کچھ بھی کریں ممکنہ طور پر اسے نقطۂ عروج تک پہنچائیں۔

ہمہ جہت ترقی حاصل کرنے کے لیے مشق کا ایک منظم لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مہاشری پتنجلی نے مشق کے اس لائحہ عمل کی ایجاد کی ہے۔ جیسےاشٹانگ یوگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-25-04 gukl106.pdf

سرگرمی


پنچ کوش کو مستحکم کرنے کے لیے میرا یومیہ یوگ کا منصوبہ

آپ اپنے یومیہ یوگ کے منصوبے کو ترتیب دیجیے:

1. انّ مے کوش : یوگ کی ایک مُدرا (حالت) کے متعلق لکھیے جس کی آپ روزانہ مشق کریں گے۔

.........................................................................

2. پران مے کوش : ایک پرانا یام منتخب کیجیے جسے آپ روزانہ کریں گے۔

.........................................................................

3. منومےکوش : جب منتروں کی قرأت اور تراٹک جیسی ایک سادی ذہنی سرگرمی کو ترتیب دیجیے۔ جس کی مشق پر سکون اور مرکوز ہونے کے لیے کرنا پسند کریں گے۔

4. وگیا مے کوش

(الف) اپنے بارے میں تصور کیجیے کہ مستقبل میں آپ کس طرح کا انسان ہونا پسند کریں گے اور ایسا ہونے میں کون سا ہنر، اقدار اور خوبیاں مدد گار ثابت ہوں گی۔

(ب) اس طرح کا انسان ہونے کے لیے آج آپ کن معمولی اشیا سے شروعات کریں گے۔

5. آنند مے کوش : کون سی چیز آپ کو خوشیوں کا ایک لمحہ فراہم کرتی ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، دوست احباب کے ساتھ وقت گزارنا، اپنوں کی مدد کرنا، پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلنا، ساجھا کرنا وغیرہ۔ اپنی سرگرمیوں کی ایک کولاژ تیار کیجیے جو آپ کے لیے فرحت و مسرت کا باعث ہو۔


استاد کے لیے ہدایت

  • طلبا کے سامنے واضح کیجیے کہ یوگ کس طرح آسن، پرانا یام اور مراقبے کے ذریعے پنچ کوش کی پرورش کرتا ہے اور اُسے معتدل بناتا ہے۔

یم اور نیم

ایک بھرپور اور معتدل زندگی کے لیے یم اور نیم دو سنہرے اصول ہیں۔ جس طرح ہم اسکول کے اصول اور نظم و ضبط کو قبول کرتے ہیں اسی طرح یہ ہدایتیں انفرادی ترقی اور ہم آہنگی کے رشتے کی آبیاری کرتی ہیں۔یم سے مراد اخلاقی اصول ہیں جو دوسروں کے ساتھ ہمارے رویے کی رہنمائی کرتے ہیں، جو ہمیں زیادہ رحم دل، ایمان داراور ذمہ دار انسان بناتے ہیں۔

پانچ یم

1. اہنسا : سبھی جاندار چیزوں سے محبت اور ہمدردی رکھنا۔

2. ستیہ : ہمیشہ حق گوئی کرنا اور ایماندار رہنا۔

3. اَستیہ : چوری نہ کرنا یا دوسروں کی چیزوں کو نہ لینا۔

4. برہم چریہ : خود پر قابو رکھنا۔

5. اپری گرہ : لالچ نہ کرنا۔

نِیَم

نیم (اصول) وہ ذاتی عادتیں ہیں جو ہمیں اپنی دیکھ بھال کرنے اور ایک بہتر فرد بننے میں معاون ہوتے ہیں۔ان نیم (اصولوں) کے ذریعے سے ہم اپنی حد بندیوں پر قابو پا سکتے ہیں۔

پانچ نیم

1. سوچھ: صفائی

2. سنتوش (قناعت) : ہمارے پاس جو بھی ہے اسی میں قناعت اور خوش رہنا۔

3. تپس : خود نظم و ضبط اور حاصل کرنے کا عزم

4. سوادھیائے : خود مطالعہ۔

5. ایشور پرنی دھان : ذاتِ باری کو پہچاننا۔

اس گریڈ میں ہم ایشور پرنی دھان کے متعلق سیکھیں گے۔ ان اصولوں میں ایک اصول اپنے اندر ذاتِ باری کو پہچاننے اور خود کو اس کے حوالے کرنے کے ہیں۔

ایشور پرنی دھان (ذاتِ باری )کو پہچاننا عموماً اپنے جسم کو مندرکی صورت میں دیکھنا اور ہر چیز کو راہِ خدائی میں پیش کر دینا ہے۔ ہمارے حواس، اعمال، سانسیں اور یہاں تک کہ ہماری خوشیاں۔ یہ تمام اس پیش کش کے اجزا ہیں۔ یہ اپنے آس پاس اور باطن کی پاکیزگی کی پہچان اور اس کا شکر گزار ہونے کے متعلق ہے۔

سب میں الوہیت

ہم عموماً یہ سوچتے ہیں کہ عبادت خانہ یا پوجا کا کمرہ دونوں پاک مقامات ہیں لیکن یوگ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر جگہ اور ہر
چیز پاک ہے۔ پرنی دھان کا مطلب ہر چیز مثلاً: قدرت، دوست احباب، خاندان اور یہاں تک کہ روزمرہ کے کاموں میں ذاتِ باری کے پرتَوکو دیکھنا ہے۔ نیچے دی گئی کہانی ہمیں ہر جگہ اور ہرکسی میں ذاتِ باری کے موجود ہونے کا پیغام دیتاہے۔

وحدانیت کا سفر

گرونانک ایک عظیم روحانی استاد تھے جو یقین کرتے تھے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ ایک دن وہ ایک مقدس شہر میں زیارت کے لیے گئے۔ سفر کی تھکاوٹ سے وہ آرام کرنے کے لیے زمین پر لیٹ گئے۔ ایک عقیدت مند نے گرو نانک کو دیکھا اور کہا۔’’آپ کے پیر ہماری مقدس
عبادت گاہ کی طرف ہیں اور یہ اس کی بے حرمتی کی علامت ہے‘‘۔ گرو نانک نے عقیدت مند سے شائستگی سے کہا۔ ان کے پیروں کو ادھر کر دو جس طرف کوئی مقدس مقام نہیں ہے۔

عقیدت مند نے جس طرف بھی گرو نانک کے پیروں کو گھمایا۔ اس نے دیکھا کہ اب بھی عبادت خانہ ان کے پیروں کی طرف ہی ہے۔ تب عقیدت مند کو گرو نانک کی روحانیت کا احساس ہوا اور اس نے ان سے معافی مانگی۔

اس کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرو نانک کے لیے ہر مقام مقدس تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا ہر سمت، ہر مقام اور ہر مخلوق میں موجود ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-25-41 gukl106.pdf

سرگرمی


مختلف معاشرے میں مختلف عقائد اور روایتیں ہوتی ہیں۔ چند مثالیں پیش کیجیے کہ لوگ رسومات کی ادائیگی کیسے کرتے ہیں اور ان وجوہات کو واضح کیجیے جن کے لیے یہ رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر فصلوں کا تہوار زمین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہمیں کھانے کے لیے اناج فراہم کرتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ زمین زندہ ہے اور ہمارے احترام کا حق دار ہے۔


استاد کے لیے نوٹ

طلبا کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ قدرتی مناظر کا ایک چکّر لگائیں۔ اب ان کو محسوس ہونے دیجیے کہ ان کے ارد گِرد کتنی خوبصورت چیزیں واقع ہیں اور سمجھنے دیجیے کہ وہ کیسے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پرندوں کے ساتھ ایک درخت اور اس پر چند چھوٹے جانور۔

طلبا، شکریے کی ایک ڈائری اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ پھر انھیں پانچ یا پانچ سے زائد اشیا کی ایک فہرست تیار کرنے دیجیے جن کے وہ ہر روز شکر گزار ہوتے ہیں۔

باب 2

یوگ کی ریاضت (Yoga Sadhana)

آداب نوجوان یوگیوں!

اب ہم یوگ کی دل کش دنیا کی مزید گہرائی میں غوطہ لگائیں !

گذشتہ باب میں ہم نے یَم اور نیَم کے بارے میں جانا۔ اب ہم آسن (وضع)، پرانا یا م(تنفس کا ضابطہ) پر تیاہار (حواس پر مہارت)، دھارنا (ارتکاز) اور دھیان (مراقبہ) کے متعلق سیکھیں گے اور اس کی مشق کریں گے۔ ہم سانسوں کی مشق
سُوکشم ویایام، شیتھلی کرن ویایام، سوریہ نمسکار اورکریڑا یوگ کے بارے میں سیکھیں گے اور اس کی مشق کریں گے۔

یہ بھی اہم ہے کہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ان مشقوں کو اسکول کی سطح پر استاد کی رہنمائی میں اور گھرپر روزانہ خود ان مشقوں کو کیا جائے ۔ ان کی باقاعدہ مشق (ریاضت) ہمیں زیادہ مضبوط، مرکوزِ نگاہ، لچک دار اور پرسکون بناتا ہے۔ ان کی ریاضت کے ذریعے ہم اپنے مطالعے ،کھیل اور اہم مصروفیات کے دوران اپنی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں اور پرسکون رہ سکتے ہیں۔ اس لیے خود کو سیدھا رکھیں اور ایک گہری سانس لیں۔ اب ہم یوگ کی حیرت انگیز دنیا کا سفر شروع کرتے ہیں۔

یوگ بہتر محسوس کرنے کے متعلق ہے! جب بھی مشق کر رہے ہوں۔ ہمیشہ اپنے جسم کی سنیں اور یوگ مشق کے لیے عام ہدایتوں پر عمل کریں۔

یوگ کی مشق کے لیے عام ہدایتیں

1. فطری طور پر سانس لیں : گہری سانس لینے یا سانس روکنے کے لیے زور نہ دیں۔ فطری طور پر ناک سے
سانس لیں۔

2. محتاط رہیں : مشق کے دوران اپنی سانسوں، عضلات کے کھنچاؤ اور آرام پر توجہ دیں۔

3. توجہ مرکوز رکھیں : اپنے استاد کو دیکھیے اور ان کی ہدایتوں پر عمل کیجیے۔ اپنی وضع پر بھی توجہ دیں۔

4. اگر اچھا محسوس نہ ہو تو آرام کریں : اگر آپ اچھا محسوس نہیں کر رہے ہوں (سردی، سر درد اور پیٹ درد وغیرہ سے) تو آرام کریں اور اپنے استاد سے رہنمائی حاصل کریں۔

آسن کے لیے ہدایتیں :

1. پہلے وارم اپ : وارم اپ کی مشق مثلاً سوکشم ویایام اور شیتھلی کرن ویایام سے شروعات کیجیے اور چوٹ کے خطرے کو کم کرنے کےلیے اپنے جسم کو تیار کیجیے۔

2. خالی پیٹ مشق کریں : مشق کے لیے خالی پیٹ اور صبح کا وقت سب سے اچھا ہوتا ہے۔ اگر اس کے بعد کر رہے ہوں تو کھانے کے دو تین گھنٹے بعد کریں۔

3. فطری طور پر سانس لیں : اپنی ناک کے ذریعے فطری طور پر دھیمی اور گہری سانس لیں۔

4. آرام دہ لباس پہنیں : مشق کے لیے ڈھیلے اور آرام دہ لباس کا انتخاب کریں اور بغیر جوتے موزے پہنے
مشق کریں۔

5. تناؤ اور زیادہ کھنچاؤ سے گریز کریں : اپنے جسم کی سنیے۔ اگر کسی وضع (مدرا) میں تکلیف محسوس کرتے ہوں تو آہستہ سے اس سے باہر آجائیے۔ اپنے آپ کو زیادہ مت کھینچیے۔

6. جسم کی درستگی پر توجہ دیں : زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنی حالت پر توجہ دیں۔

7. پر سکون اورمتوجہ رہیں : مشق کے دوران بات چیت کو نظر انداز کریں۔ اپنی مدرا پر مرکوز رہیں اور آپ کا جسم کیا محسوس کر رہا ہے ،اس پر توجہ دیں۔

8. آرام کے ساتھ سُستانا : آسن کے اختتام پر شو آسن یا دیگر آسن کی مدرا میں آرام کریں۔

9. استقلال لائیں: کبھی کبھار کی مشق سے باقاعدہ اور متواتر مشق زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ ہر روز تھوڑی مشق کرنے کی کوشش ضرور کریں۔

پرانایام کے لیے ہدایتیں

1. فطری طور پر سانس لیں : ہمیشہ اپنی ناک سے سانس لیں۔ پرانا یام آسان اور فطری ہونا چاہیے۔ اگر آپ چکّر محسوس کریں تو اِسے روک دیں اور اپنے استاد کو مطلع کریں۔

2. آرام سے بیٹھیں: پیٹھ کو سیدھا اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنے پر رکھتے ہوئے بیٹھیں۔

3. آہستہ شروع کریں : چند منٹوں کے لیے شروع کریں اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔

4. استاد سے مشورہ کریں : اگر آپ کو سانسوں کی کوئی شکایت مثلاً دما ہو یا آپ بہتر نہ محسوس کرتے ہوں تو پرانا یام کی مشق سے پہلے استاد سے مشورہ کریں۔

یاد رکھیے یوگ بتدریج ترقی سے متعلق ہے۔ مشق کرتے رہیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے آپ میں تبدیلی لاتا ہے۔

سوکشم ویایام (Sūkshma Vyāyāma)

سوکشم ویایام ہلکی ورزشوں کا ایک تسلسل ہے جو تناؤ کو دور کرنے، لچک اور طاقت میں اضافہ کرنے اور جوڑوں کو ڈھیلا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ سوکشم ویایام کا لفظ سنسکرت سے ماخوذ ہے جہاں سوکشم کے معنی ٹھیک ٹھیک یا خرد اور ویایام کا مطلب کسرت یا حرکت سے ہے۔ ان سادہ ورزشوں کی رسائی محدود دائرے میں ہر کسی کو اور نئے یوگ شروع کرنے والوں تک ہے۔ وہ بیٹھے یا کھڑے رہتے بھی ان ورزشوں کو کر سکتے ہیں۔

ہر حرکت کو سانس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ پورے جسم میں پران (اہم توانائی) کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے۔ اس سے جوڑوں میں توانائی کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہم آہنگی ، خود آگاہی اور تندرستی کا احساس ہوتا ہے۔ مشقوں کا یہ مجموعہ گہرے آرام کو فروغ دیتا ہے اور جسم اور دماغ کو یوگا سن کی مشق کے لیے تیار کرتا ہے۔

اس گریڈ میں آئیے، انگلیوں، کلائیوں، کہنیوں ،کندھوں اور گردن کے لیے سوکشم ویایام سیکھیں۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-26-23 gukl106.pdf

مشق 1 – انگلیوں کو مضبوط کرنے کے لیے سوکشم ویایام(انگلی شکتی وکاسک)

مشق2 – کلائیوں کو مضبوط کرنے کے لیے (منی بندھ شکتی وکاسک)

مشق3 – کلائیوں کوگھڑی کی سمت میں اور مخالف سمت میں گھمانا(منی بندھ چکر)

مشق 4 – کہنیوں کو مضبوط کرنے کے لیے(کہنی شکتی وکاسک)

مشق 5 – دونوں کندھوں (شانوں) کے جوڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے (اسکندھ چکر)

مندرجہ بالا مشقوں کو مرحلہ وار منعقد کرنے کے لیے عام ہدایتیں

نیچے جو ہدایتیں دی گئی ہیں وہ سوکشم ویایام کی مرحلہ وار مشقوں کا ایک خاکہ ہے۔ یہ سبھی مراحل دیگر تمام مشقوں پر بھی اسی طرح لاگو ہونے چاہیے۔

1. انگلیوں کو مضبوط بنانے کے لیے سوکشم ویایام: (انگلی شکتی وکاسک)

Screenshot 2025-12-02 at 09-26-50 gukl106.pdf

استھتی: وجراسن یا سکھاسن

مرحلہ1: اپنے دونوں ہاتھوں کو سامنے کی طرف کندھوں تک اٹھائیں۔

مرحلہ 2: سانس لیتے ہوئے اپنی انگلیوں کو پھیلائیں۔

مرحلہ 3: سانس چھوڑتے ہوئے اپنی انگلیوں کو دبائیں اور انگوٹھے کو اندر رکھتے ہوئے مٹھّی بنائیں۔ اس سے ایک دور مکمل ہوا۔ (اس مشق کو دس مرتبہ دہرائیں)۔

مرحلہ 4: مشق کو مکمل کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں
کو رانوں پر رکھیے اور وجراسن کی مدرا میں آرام کیجیے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-26-58 gukl106.pdf

استاد کے لیے نوٹ

سانس لینے کے صحیح طریقے اور بیداری کے ساتھ اِن مشقوں کو کرنے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں

ایک بار ان مشقوں پر مہارت حاصل کرنے کے بعد طلبا کو دوسرے تغیرات(تنوع ) سے بھی متعارف کرائیں ۔

سوکشم ویایام کی مزید مشقوں کے لیے درجہ 4 اور درجہ 6 کی درسی کتاب کا حوالہ دیجیے۔

شیتھلی کرن ویایام (Śithalīkarana Vyāyāma)

شیتھلی کرن ویایام کا مفہوم عضلات کو تناؤ سے آزاد اور ڈھیلا کرنا ہے۔ جو یوگ کی مشق کے لیے لچک، قوتِ برداشت اور صلاحیتوں میں اضافہ کر کے جسم کو تیار کرتے ہیں۔ یہ مشقیں جسم میں حرارت پیدا کرنے اور جسم کے مختلف عضلات کو بار بار کھینچ کر اور آرام دے کر اور ریڑھ کی ہڈی کے لچیلے پن کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ ورزشیں جوڑوں کی رفتار اور گردش میں اضافہ کرتی ہیں۔ شیتھلی کرن ویایام کی مشق عموماً یوگ کے اجلاس کے شروع میں کیا جاتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ریڑھ کی ہڈی اور دیگر عضلات آسنوں کےلیے تیار ہیں یا نہیں؟

اس گریڈ میں ڈھیلا کرنےکے مندرجہ ذیل مشقوں کو سیکھیں گے:

1. آگے، پیچھے اور بغل کی طرف جھکنا: ریڑھ کی ہڈی کے حصے کی نقل و حرکت اور لچک کو بہتر بنانا ہے۔

2. ریڑھ کی ہڈی کو موڑنا: ریڑھ کی ہڈی کو کھینچنے اور آرام کرنے کے لیے نرم موڑ۔


مشق 1

آگے –پیچھے کی طرف جھکنا

Screenshot 2025-12-02 at 09-27-49 gukl106.pdf

مشق 2

بغل کی طرف جھکنا

Screenshot 2025-12-02 at 09-28-39 gukl106.pdf

مشق 3

جھکنا اور گھمانا

Screenshot 2025-12-02 at 09-28-47 gukl106.pdf

مشق 4

گھمانا

Screenshot 2025-12-02 at 09-29-21 gukl106.pdf

شیتھلی کرن ویایام کے انعقاد کے لیے مرحلہ وار عام ہدایتیں

مندرجہ ذیل ہدایتوں میں شیتھلی کرن ویایام کے مراحل کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دیگر تمام مشقوں کے لیے بھی انھیں مراحل پر عمل کرنا چاہیے۔


مشق 4

آگے –پیچھےجھکنا

Screenshot 2025-12-02 at 09-29-34 gukl106.pdf

استھتی میں آئیے:

مرحلہ 1: اپنے پیروں کو تھوڑا فاصلہ دیتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوں۔سانس لیتے ہوئے پیچھے کی طرف جھکیں۔

مرحلہ2: سانس چھوڑتے ہوئے آگے کی طرف جھکیں اور ہاتھوں کو گھمائیں۔ اس مشق کو دس مرتبہ دہرائیں۔

دھیان رکھیں کہ اس دوران آپ کے گھٹنے مڑے نہیں۔

وشرانتی مدرا میں آرام کریں۔


استاد کےلیے ہدایت

صحیح طریقے سے سانس لینے اور بیداری کے ساتھ ان مشقوں کو کرنے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں۔

جب طلبا ان مشقوں پر مہارت حاصل کر لیں تب انھیں دیگر اقسام(تنوعات ) سے بھی متعارف کرانا چاہیے۔

سوریہ نمسکار

اس گریڈ میں ہم سیکھیں گے کہ کس طرح سوریہ نمسکار کی مشق کے ذریعے ہمارے جسم اور ذہن کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔

زمین پر زندگی کے لیے سورج کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہ ہمیں روشنی اور حرارت عطا کرتا ہے جو پیڑ پودوں کی نشوو نما اور ہمارے زندہ رہنے کےلیے ضروری ہے۔ یہ وٹامن ڈی کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے جو ہمارے جسم کو مضبوط اور صحت مند بنائے رکھنے میں معاون ہے۔ بہت سی تہذیبوں میں سورج کو طاقت اور علم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سورج کی طاقت اور توانائی کےلیے ہم اس کا احترام کرتے ہیں اور اس کے شکر گزار بھی ہیں۔

سوریہ نمسکار ایک ترتیب میں کیے جانے والے یوگ وضع کا ایک تسلسل ہے۔ اس کی مشق سورج کا استقبال کرنے اور مثبت فکر کے ساتھ دن کی شروعات کرنے کا ایک شاندار طریقہ ہے۔ سوریہ نمسکار آسن، پرانایام اور منتروں کو باہمی طور پر جوڑتا ہے۔ یہ جسم اور ذہن دونوں کے لیے ایک مکمل ورزش ہے۔یہ اعلیٰ درجہ کی مشقوں کے لیے ایک بہترین وارم اپ کے طور پر یا مجموعی صحت اور تندرستی کے لیے منفرد اور معمول کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

سوریہ نمسکار کے فوائد

1. عضلات کو مضبوط کرتا ہے، لچیلے پن میں اضافہ کرتا ہے اور دل کی صحت کو مزید بہتر کرتا ہے۔

2. ہاضمہ اور میٹاولیزم کو درست کرتا ہے۔

3. مختلف عضلاتی مجموعوں کو فعال بناتا ہے اور ہاتھ، پیر، جسم کے بنیادی حصے اور پیٹھ کو مضبوط بناتا ہے۔

4. قوتِ برداشت اور طاقت کو بڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی کھلاڑیوں اور مجموعی طور پر تندرستی کے لیے مفید ہے۔

5. ہارمونس کو متاثر کرتے ہوئے بچپن سے سنِ بلوغ میں داخل ہونے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔

6. سانسوں پر احتیاط کے ساتھ تناؤ اور فکر میں کمی ہوتی ہے اور ذہنی وضاحت اور یکسوئی میں اضافہ ہوتا ہے۔

7. ذہنی کیفیت بہتر ہوتی ہے اور افسردگی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

8. غصے پر قابو پانے میں معاون ہوتا ہے، خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور حصولِ علم کی پیروی کرتا ہے۔

حدود :

سنگین یا دائمی جسمانی حالت یا قلبی مسائل یا تھکاوٹ سے متاثر طلبا کو اس کی مشق سے گریز کرنا چاہیے۔

مرحلہ 1: پرناماسن (Pranamāsana)

مشق کے لیے دعا شروع کرنا

نمسکار کی مدرا بناتے ہوئے دعا کریں۔


हिरण्मयेन पात्रेण सत्यस्यापिहितं मुखम्।

तत्त्वं पूषन्नपावृणु सत्यधर्माय दृष्टये॥

ہرن میَن پاترین ستیہ ستھاپی ہنتم مُکھم

تت توم پوسنّ پاوِرنو ستیہ دھرمائے درِسٹے

Screenshot 2025-12-02 at 09-30-06 gukl106.pdf

دعا کا مفہوم:

او پالن ہار! اپنی چمکیلی اور سنہری طشتری کو جو کہ حقیقت کو پوشیدہ کر رہی ہے، اسے ہٹا دیجیے تاکہ میں تم کو اور اُس حقیقت کو دیکھ سکوں۔ یہ دعا ایشا اُپ نشد سے ماخوذ ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-30-12 gukl106.pdf

مرحلہ 2: ہست اُتتھاناسن (Hasta Utthanāsana)

  • سانس لیتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر اٹھائیں اور کمر کو جہاں تک ممکن ہو پیچھے کی طرف جھکائیں۔
  • دو شاخی عضلہ کو کانوں سے لگائیں۔
  • ناف سے سر تک کھنچاؤ محسوس کریں ساتھ ہی پیٹھ پر بھی کھنچاؤ محسوس کریں۔
Screenshot 2025-12-02 at 09-30-18 gukl106.pdf

مرحلہ 3: پدا ہستاسن (Padahastāsana)

  • سانس کو چھوڑتے ہوئے دھیرے دھیرے آگے کی طرف جھکیں اور پیروں کو ساتھ رکھیں۔
  • اب پیٹ کو رانوں سے لگاتے ہوئے اپنی پیشانی کو گھٹنے سے لگائیں۔
  • شروع میں آگے کی طرف جھکنا اور پیشانی کا گھٹنے سے لگانا مشکل ہو سکتا ہے لیکن مسلسل مشق سے یہ آسان ہو جاتا ہے۔
Screenshot 2025-12-02 at 09-30-26 gukl106.pdf

مرحلہ4 : اَشوسنچالناسن (Ashwa Sanchālanāsana)

  • سانس لیتے ہوئے اور گھٹنوں کو تھوڑا موڑتے ہوئے دائیں پیر کو پیچھے کی طرف لے جائیں۔
  • اپنے دائیں گھٹنے اور پنجے کو زمین پر رکھیے۔
  • دائیں ران کو سینے سے لگانے کی کوشش کریں۔
  • بائیں پیر کو اس طرح کھڑا کریں کہ پیر سے گھٹنے تک کا دائرہ زمین سے عمودی طور پر (90°) رہے۔
  • ریڑھ کی ہڈی کو نیچے کی طرف دباتے ہوئے سینے اور چھاتی کے وسطی حصےکو
    ابھاریں اور اوپر دیکھیں۔
  • بایاں پیر اور ہتھیلیاں ایک سیدھی لائن میں ہونا چاہیے۔
7-5

مرحلہ 5 : دنڈاسن (Dandāsana)

  • سانس کو چھوڑتے ہوئے دائیں پیر کو پیچھے کی طرف لے جائیں اور پورے جسم کو ایک سیدھی لائن میں لائیں اور اپنے ہاتھوں کو زمین کے عمودی زوایے پر رکھیں۔
  • دنڈاسن کی آخری حالت میں جسم ایک سلائڈ کی طرح دکھتا ہے۔
7-6

مرحلہ 6 : اشٹانگ نمسکار (Ashtāṅga Namaskara)

  • سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے پیشانی، سینہ، ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پیر کے پنجوں کو زمین پر اِس طرح رکھیں کہ جسم کے آٹھ اعضا (پیشانی، سینہ، دو ہتھیلیاں، دو گھٹنے اور دونوں پیروں کی انگلیاں) زمین کو چھو جائیں۔
  • پیٹ کو زمین سے لگنا نہیں چاہیے۔
  • کولھوں کو تھوڑا اوپر کی طرف اٹھائیں۔
  • سانس کو روک کر رکھیں اور آسانی اور آرام کے ساتھ جہاں تک ممکن ہو اسی حالت میں رہیں۔
  • شروع میں یہ آسن تھوڑا مشکل معلوم ہو سکتا ہے لیکن مسلسل مشق کے ذریعے یہ آسان ہوتا جائے گا۔
7-7

مرحلہ 7: بھُجنگ آسن (Bhujangāsana)

  • سانس لیتے ہوئے دھیرے دھیرے جسم کو اوپر کی طرف اٹھائیں اور سر کو چھت کی طرف رکھیں۔
  • ریڑھ کی ہڈی کو ابھاریں۔
  • ہاتھوں کا سہارا لیتے ہوئے رانوں اور کولھوں کو زمین پر رکھیں گے۔
7-8

مرحلہ 8 : پروتاسن (Parvatāsana)

  • سانس چھوڑتے ہوئے کمر کو اوپر اٹھائیں ۔
  • ہتھیلیوں اور دونوں پیروں کو زمین پر رکھیں اور سر کو فرش کی طرف رکھیں۔
  • پورے جسم کا وزن ہتھیلیوں اور پیروں پر یکساں طور پر ہونا چاہیے۔
  • اس کی متواتر مشق سے آپ سر سے زمین کو چھونے میں کامیاب
    ہو جائیں گے۔
7-41

مرحلہ 9 : اشوسنچالناسن (Ashwasanchālanāsana)

  • سانس لیتے ہوئے دائیں پیر کو ہتھیلیوں کے درمیان رکھیں ۔
  • اپنے بائیں پیر کے گھٹنوں اور پنجوں کو زمین پر رکھیں ۔
  • اب سینے سے دائیں ران کو چھونے کی کوشش کریں۔
  • بائیں پیر کو اس طرح رکھیں کہ پیر سے گھٹنے تک کا دائرہ زمین سےعمودی طور پر (90°) رہے۔
  • ریڑھ کی ہڈی کو نیچے جھکائیں، سینے اور چھاتی کے حصے کو اوپر ابھاریں اور اوپر دیکھیں۔
  • بائیں ٹانگ اور ہتھیلیاں سیدھی لائن میں ہونی چاہیے۔
7-3

مرحلہ 10: پداہستاسن (Padahastāsana)

  • سانس چھوڑتے وقت آہستہ آہستہ آگے کی طرف جھکیں اور ہاتھوں کو پاؤں کے ساتھ رکھیں۔
  • پیشانی کو گھٹنوں اور پیٹ کو رانوں سے ملائیں۔
  • شروع میں آگے جھکنا اور گھٹنوں کو ماتھے سے چھونا مشکل لگتا ہے لیکن مسلسل مشق سے یہ آسان ہو جاتا ہے۔
7-2

مرحلہ 11: ہست اتّاناسن (Hasta Utthanāsanā)

  • سانس لیتے وقت دونوں ہاتھ سر کے اوپر اٹھائیں اور دھڑ کو جتنا ممکن ہو پیچھے کی
    طرف جھکائیے۔
  • دو شاخی عضلات کو کانوں کو چھونے دیجیے۔
  • ناف سے سر تک کھنچاؤ محسوس کریں، اسی طرح پیٹھ پر سکڑاؤ محسوس کیجیے ۔
  • چہرے کو مسکراتا رکھیےاور آنکھیں نرمی سے بند کیجیے۔
7-12

مرحلہ 12: پرناماسن (Pranamāsana)

آہستہ آہستہ مرحلہ 1 پر آئیے۔


استاد کے لیے نوٹ

اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلباء اس مشق کو آسانی کے ساتھ اور بغیر کسی جھٹکے کے انجام دیں۔

باب 3

آسن (Āsana)

آسن اشٹانگ یوگ کا تیسرا جزو ہے۔ لفظ آسن کے معنی ہیں، آرام دہ وضع؍حالت ۔ یوگ میں آسن وہ جسمانی مدرائیں (حالتیں) ہیں جو طاقت، لچیلے پن اور توازن کو بہتر بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ آسن صرف ورزش یا کسر ت نہیں ہے بلکہ یہ ایک طرزِ حیات ہے۔ یوگ کی باقاعدہ مشق سے جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثر ہوتا ہے۔

یوگ اِس بات پر یقین کرتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی جاندار ہیں انھیں کی مناسبت سے یوگ کے بے شمار آسنوں کو ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ آسن اکثر سانپ، پرندے اور مچھلی جیسے جانوروں یا درخت اور کمل جیسے پیڑ پودوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

ہٹھ یوگ-یوگ کی ایک مشہورقسم ہے جو جسمانی وضع (مدراؤں) پر مرکوز ہے۔ اس میں 23 مخصوص آسنوں کا ذکر ملتا ہے جو ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے توازن کی نشوو نما ہوتی ہے۔ جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے اور آپ کو صحت مند رکھتے ہیں۔

اس گریڈ میں ہم مندرجہ ذیل آسنوں کو سیکھیں گے۔

  • کھڑے ہو کر کیا جانے والا آسن – اُتکٹاسن
  • بیٹھ کر کیا جانے والا آسن – گومُکھاسن
  • پیٹ کے بل لیٹ کر کیا جانے والا آسن – سَرل دھنُراسن
  • پیٹھ کے بل لیٹ کر کیا جانے والا آسن – سروانگاسن، متسیہ آسن

ہر آسن کو استاد کی رہنمائی اور بتائے گئے مراحل کے مطابق انجام دیں۔

اتکٹاسن : کرسی کی وضع

کیا آپ خیالی کرسی پر بیٹھنا چاہیں گے؟ تو آیئے ہم اتکٹاسن کے بارے میں جانتے ہیں۔

اتکٹاسن پیروں کو اضافی طاقت عطا کرنے والا آسن ہے۔ یہ آسن، توازن کے گروپ سے منسلک ہے اور جسم کے نچلے حصّے کو مضبوط بناتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-36-30 gukl106.pdf

استھتی میں آیئے

مرحلہ1: سانس لیتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھائیں جس سے دو شاخی عضلہ دونوں کانوں کو چھوئیں۔ دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے متوازی رکھیں۔

مرحلہ2: سانس چھوڑتے ہوئے گھٹنوں کو موڑیں اور کولھوں کو نیچے کی طرف لے آئیں جب تک جسم کرسی کی طرح نہ ہو جائے۔ دس تک گنتی کرتے ہوئے اسی وضع میں رہیں اور فطری طور پر سانس لیں۔

مرحلہ 3: سانس لیتے ہوئے گھٹنوں کو سیدھا کریں اور کھڑے ہونے کی حالت میں واپس آجائیں۔

مرحلہ 4: سانس چھوڑتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو نیچے لائیں۔

وشرانتی میں آرام کریں۔


فوائد:

  • اتکٹاسن، ٹخنوں، رانوں، پنڈلیوں کے عضلات اور ریڑھ کو مضبوط اور مستحکم کرتا ہے۔
  • اس کی مشق سے کندھوں اور سینے میں بھی کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے سانس لینے کے عمل میں سہولت ہوتی ہے۔
  • اس آسن سے مرکوزیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

حدود : گھٹنوں میں درد، ٹخنوں میں موچ یا ہڈیوں کو جوڑنے والی رگوں کے زخمی ہونے کی حالت میں طلبا کو ان آسنوں سے گریز کرنا چاہیے۔


استاد کے لیے نوٹ

اتکٹاسن کے دیگر اقسام کی مشق کےلیے طلبا کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔

گومکھاسن : (Gomukhasana) گائے کے چہرے والی شبیہ

اس آسن کی شبیہ گائے کے چہرے کے مانند ہوتی ہے ۔

اب ہم مرحلہ وار اس آسن کو کرنا سیکھیں گے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-36-53 gukl106.pdf

استھتی میں آئیے

مرحلہ 1: سانس لے کر دائیں پیر کو گھٹنے سے موڑتے ہوئے، دائیں پیر کی ایڑی کو بائیں کولھوں کے پیچھے رکھیں گے۔ دوبارہ سانس لیتے ہوئے بائیں پیر کو گھٹنے سے موڑتےہوئے بائیں پیر کی ایڑی کو دائیں کولھوں کے پیچھے رکھیں ۔ بایاں گھٹنہ اوپر رہے گا اور دونوں گھٹنے ایک سیدھ میں رہیں گے۔


مرحلہ2: دونوں ہاتھو ں کو ایک طرف لے جائیں اور بائیں ہاتھ کو سر کے اوپر لے جاکر کہنی موڑیں۔ اسی طرح دائیں ہاتھ کو پیٹھ کے پیچھے لے جائیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پکڑ لیں گے۔ ریڑھ کو سیدھا اور سر کو تھوڑا پیچھے رکھیں اور آنکھیں بند رکھیں۔ دس تک گنتی کرتے ہوئے اس آسن کی حالت میں بنے رہیں اور فطری طور پر سانس لیتے رہیں۔

مرحلہ3: سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھوں کو چھوڑیں۔

مرحلہ4: سانس کو چھوڑتے ہوئے بائیں پیر کو سامنے کی طرف پھیلائیں۔ اس کے بعد دائیں پیر کو بھی سامنے کی طرف پھیلا کر آرام کی حالت میں آجائیں۔

وشرانتی

اس آسن کو دائیں طرف سے کرنے کے بعد بائیں طرف سے بھی دوہرائیں۔


Box_design_4

فوائد:

  • گومکھاسن جسمانی حالت کو بہتر بناتا ہے۔ ساتھ ہی گردن اور پیروں کی اکڑن کو بھی دور کرتا ہے۔
  • یہ آسن ٹخنوں، کولھوں، رانوں، کندھوں، پیٹھ اور سینے کے عضلات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
  • یہ سانس لینے کے عمل کو بھی بہتر بناتاہے۔
  • یہ آسن تناؤ، تھکان اور افسردگی کو بھی کم کرتا ہے۔

حدود: جوگھٹنے اور ٹخنے کے مرض میں مبتلا ہیں وہ شروع میں اس مثق سے گریز کریں۔


استاد کے لیے نوٹ

اس آسن کو کرنے سے پہلے یقینی بنایئے کہ طلبا لچیلے پن کی نشو ونما کے لیے جوڑوں اور کندھوں سے متعلق سوکشم ویایام کی مشق کر یں۔

اگر طلبا کمر کے پیچھے ہاتھوں کی انگلیوں کو پکڑنے میں دشواری محسوس کریں تو وہ تولیے یا رومال کا استعمال کر سکتے ہیں۔

دھنُراسن (Dhanurasana) کمانی وضع

کیا آپ جانتے ہیں کہدھنرکا مطلب کمان ہوتا ہے؟ اس آسن میں جسم کی شبیہ کمان جیسی ہوتی ہے۔جس میں کمر کا موڑنا کمان سے مشابہ ہے۔ اس لیے اسے کمانی وضع کہا جاتا ہے۔ اس وضع کو کیسے کیا جاتا ہے، اسے مرحلہ وار سیکھیں گے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-38-25 gukl106.pdf

استھتی : الٹا لیٹیں

مرحلہ1 : سانس لیتے ہوئے دونوں پیروں کو گھٹنوں سے موڑیں اور دونوں ہاتھوں سے ٹخنوں کو مضبوطی سے پکڑیں، ہاتھوں کو سیدھا رکھیں اور ایڑیوں کو کولھوں کے پاس لے آئیں۔

مرحلہ2: سانس لیتے ہوئے سر اور سینے کو جتنا ممکن ہو او پر اٹھائیں۔ سر کو تھوڑا پیچھے کی طرف لے جائیں گے تاکہ جسم کی شبیہ کمان جیسی ہو جائے۔ آنکھوں کو بند رکھیں اور آرام کی حالت میں رہیں۔

دس تک گنتی کرتے ہوئے اس آسن کی حالت میں رہیں اور فطری طور پر سانس لیں۔

مرحلہ3 : سانس چھوڑتے ہوئے آہستہ آہستہ زانو اور سر کو زمین پر لائیں۔

مرحلہ4 : ہاتھوں اور پیروں کو چھوڑتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو سر کے اوپر لے جاکرسیدھا رکھیں۔ ہتھیلیوں کو نیچے کی طرف اور پیشانی کو زمین پر رکھیں۔

وشرانتی


Box_design_4

فوائد:

  • دھنر اسن ریڑھ کی ہڈی کو لچک داربناتا ہے۔ کندھوں اور سینے کے عضلات کو مضبوط بناتا ہے۔
  • تنفس کے عمل کو آسان بناتا ہے۔
  • ہاضمے کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

حدود : اگر ریڑھ کی ہڈی، ٹخنوں اور کلائی میں چوٹ ہو تو اس وضع نظر انداز کرنا چاہیے۔


استاد کے لیے نوٹ

اس آسن کو کرنے کے بعد آگے کی طرف جھکنے والے آسن کرنےچاہیے۔ مثلاً: پروَتاسن۔

سرواَنگاسن: (Sarvangasana) کندھے کے بل کھڑے ہونے کی وضع

سروکا مطلب ہے سب /تمام/مکمل۔ انگ کے معنی ہیں جسم کے اجزا اور آسن کے معنی ہیں وضع یا شبیہ۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سروانگاسن، جسم کے تمام اجزا کو متاثر کرتا ہے۔ اسی لیے اسے آسنوں کی ملکہ کہا جاتا ہے ۔

اب ہم قدم بہ قدم یہ سیکھیں گے کہ اس آسن کو کیسے کیا جاتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-39-03 gukl106.pdfScreenshot 2025-12-02 at 09-39-12 gukl106.pdf

اِستھتی میں آیئے:

مرحلہ1 : سانس لیتے ہوئے، گھٹنوں کو موڑے بغیر دونوں پیروں کو°54 کے زاویے پر لائیں۔

مرحلہ2 : سانس لیتے رہیں اور دونوں پیروں کو°09کے زاویہ پر اٹھائیں۔

مرحلہ3 : سانس چھوڑتے ہوئے دونوں پیروں کو پیچھے کی طرف لے جائیں جب تک کہ وہ زمین کے متوازی نہ ہو جائیں۔ ہاتھوں کو آگے کی طرف لاکر زمین پر رکھیں۔

مرحلہ4 : سانس لیتے ہوئے دھیرے دھیرے جسم کو اوپر کی طرف اٹھائیں اور یقینی بنائیں کہ ٹھڈی سینے کو چھو رہی ہو۔ آخری صورت انگریزی حرف’L ‘سے مشابہ ہونا چاہیے۔ دس تک گنتی کرتے ہوئے اسی حالت میں رہیے اور فطری طور پر سانس لیتے رہیں۔

مرحلہ5 : سانس چھوڑتے ہوئے دونوں پیروں کو آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف لائیں جب تک کہ وہ زمین کے متوازی نہ ہو جائیں۔

مرحلہ6 : سانس لیتے ہوئے دونوں پیروں کو°09کے زاویے پر واپس لائیں۔

مرحلہ7 : سانس چھوڑتے ہوئے دونوں پیروں کو°54 کے زاویے پر نیچے لائیں۔

مرحلہ8 : سانس چھوڑتے رہیں اور آہستہ سے دونوں پیروں کو زمین پر رکھیں۔

وشرانتی : شواسن


Box_design_4

فوائد:

  • سروانگاسن گردن کو لچکدار بناتا ہے اور دماغ، آنکھوں، کانوں اور ناک تک خون کی گردش کو تیز کرتا ہے۔
  • یہ پیروں، ہاتھوں اور کندھوں کو مضبوط بناتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کو لچیلا رکھتا ہے۔
  • یہ تھائرایڈ اور پیرا تھائرایڈغدود کو متحرک کرتا ہے۔
  • یہ گردن کی لچک کو بہتر بناتا ہےاور دماغ، آنکھوں ، کانوں اور ٹانسلز میں خون کی گردش کو بڑھاتا ہے۔
  • یہ انہماک، توجہ اور خیالات میں صفائی کا اضافہ کرتا ہے اور مزاج کو روشن کرتا ہے۔

حدود : اگر سانس لینے میں دشواری ہو، گلے یا ریڑھ کی ہڈی میں زخم ہو یا کوتاہ بینی یعنی قریبی بصارت یا بعیدی بصارت جیسا مرض ہو تو اس آسن سے گریز کرنا چاہے۔مثلاً قریب کی نگاہ زیادہ کمزور ہو۔


استاد کے لیے ہدایت

اپنی گردن کو تکلیف نہ دینے اور جھٹکے والے عمل سے بچنے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں۔

اگر طلبا کو سانس لینے میں دشواری ہو یا چکّر آ رہے ہوں تو اس آسن کو نہ کریں۔

متسیہ آسن: (Matsyasana) مچھلی کی وضع

یہ نام سنسکرت لفظمتسیہسے ماخوذ ہے جس کے معنی مچھلی کے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آسن کا نام متسیہ آسن کیسے پڑا؟

اس آسن میں مڑے ہوئے پیروں کی شبیہ مچھلی کی پونچھ جیسی دکھائی دیتی ہے۔

اب ہم سیکھیں گے کہ اس وضع کومرحلہ وارکیسے کریں۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-39-57 gukl106.pdf

استھتی

مرحلہ1 : سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے دائیں پیر کو موڑیں اور اسے بائیں ران پر رکھیں۔

مرحلہ2 : سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے بائیں پیر کو موڑیں اور دائیں ران پر رکھیں۔

مرحلہ3 : سانس کو اندر لیتے ہوئے دونوں ہتھیلیوں کو گردن کے پیچھے رکھیں۔ ہتھیلیوں کو زمین پر رکھیں اور انگلیاں پیروں کی طرف رہیں گی۔

مرحلہ4 : سانس اندر لیتے ہوئے دھیرے دھیرے سر کو اوپر اٹھائیں اور اوپری حصے کو زمین پر رکھیں۔ ہاتھوں سے پیروں کے پنجوں کو پکڑیں اور جسم کو پل کی شبیہ میں بنائیں۔ فطری طور پر سانس لیں اور ایک سے دس تک گنتے ہوئے اسی آسن میں رہیں۔ آنکھیں بند رکھیں اور چہرے کو آرام دہ حالت میں رکھیں۔

مرحلہ5 : سانس لیتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو گردن کے پیچھے رکھیں۔

مرحلہ6 : سانس چھوڑتے ہوئے آہستہ آہستہ سر کو اوپر اٹھائیں اور سیدھا کرکے زمین پر رکھیں۔

مرحلہ7 : سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے دائیں پیر کو سیدھا سامنے پھیلائیں۔

مرحلہ8 : سانس لیتے اور چھوڑتے ہوئے بائیں پیر کو سیدھا سامنے پھیلا ئیں۔

وشرانتی


Box_design_4

فوائد:

  • متسیہ آسن تھائرایڈ غدود کو متحرک کرتا ہے اور اس کے افعال کومعمول پر لاتا ہے۔
  • یہ ریڑھ کو لچیلا اور صحت مند رکھنے میں معاون ہوتاہے۔
  • یہ گردن اور کندھوں کے حصے کی تناؤ کو دور کرتا ہے۔
  • یہ گھٹنوں، رانوں اور پنڈلیوں کے عضلات کو مضبوط کرتا ہے۔
  • یہ پھیپھڑوں کی کار کردگی میں اضافہ کرتا ہے اور دما اور پھیپھڑوں کی بیماری کے لیے بہت مفید ہے۔

حدود: اگر پیٹ یا سینے سے متعلق کوئی سرجری ہوئی ہو یا گردن میں کوئی چوٹ یا ہارنیہ اور پیپٹک السر و غیرہ مرض ہو تو یہ آسن بالکل نہیں کرنا چاہیے۔


استاد کے لیے ہدایت

اس آسن کو احتیاط سے کرنا چاہیے کہ اس سے ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اگر طلبا پدماسن کو دشوار طلب محسوس کرتے ہیں تو وہ پیروں کو باہر کھینچنے والے آسن کر سکتے ہیں۔

آرام

Screenshot 2025-12-02 at 09-40-29 gukl106.pdf

مشق کے اجلاس کے بعد جسم اور دماغ کو تروتازہ کرنے کے لیے آرام بہت ضروری ہے۔ آرام کی یہ تکنیک عضلات کی جکڑن کو دور کرتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈیوں کو آرام ملتا ہے اور دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے۔

اس مشق کو کرنے کے لیے شو اسن میں (پیٹھ کے بل) لیٹ جائیں۔ پیروں کے درمیان فاصلہ رکھیں اور ہتھیلیوں کو اوپر کی طرف رکھیں۔ اب پورے جسم کو آرام کی حالت میں لے آئیں۔

آرام کے طریقے کو مرحلہ وار سمجھنے کے لیے گریڈ چھ کی درسی کتابکھیل یا ترادیکھیں۔


استاد کے لیے ہدایت

اس تکنیک کا بیشتر فائدہ متحرک سرگرمی کے بعد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً : سوریہ نمسکار، شیتھلی کرن ویایام یا آسنوں کی مشق۔

آرام کے بعد پرانایام کی مشق کرنا چاہیے۔

سانس لینے کی مشق

کیا آپ اپنے جسم کو بلی کی طرح کھینچنا چاہتے ہیں؟

پرانایام کی مشق سے پہلے سانس لینے کے طریقے کو فطری بنانا ضروری ہے۔ سانس کو متواتر، خوش آہنگ اور یکساں بنائے رکھنے کے لیے پھیپھڑوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال ضروری ہے۔ یوگ کی مشق کرتے وقت سانس لینے کی مشق، سانس لینے کے عمل میں بیداری پیدا کرتا ہے۔

اس گریڈ میں ہممارجری آسناوروگراسنکو سانس لینے کی تکنیک کے ساتھ سیکھیں گے۔ ان آسنوں کو ایسا اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان میں بلیوں اور باگھوں کے ذریعہ کی جانے والی ریڑھ کی ہڈی کو پھیلانے کے عمل کی نقل کرتے ہیں۔

آیئے سیکھیں کہ جسم کو کیسےکھینچیں...

مارجری آسن سانس لیتے ہوئے آسن (بلی کی طرح کھنچاؤ کی وضع)

Screenshot 2025-12-02 at 09-40-53 gukl106.pdf

اِستھتی: دنڈاسن

مرحلہ1 : دائیں اور بائیں پیر کو موڑ کر وجراسن میں بیٹھیں۔

مرحلہ2 : وجراسن میں گھٹنوں کی مدد سے کھڑے ہوتے ہوئے ہاتھوں کو سامنے فرش پر رکھیں اور انگلیاں سامنے کی طرف رہیں گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں ہاتھ، ران اور ایڑیاں کندھوں کی چوڑائی کے متوازی رہیں۔ آپ کے دونوں ہاتھ اور ران فرش پر کھڑے (قائم) رہیں۔

مرحلہ 3: سانس لیتے ہوئے اپنا سر اوپر اٹھائیں اور چھت کی طرف دیکھیں، ساتھ ہی اپنی ریڑھ کی ہڈی کو اس طرح دبائیں کہ پیٹھ کمان نما ہو جائے۔

مرحلہ4 : سانس چھوڑتے ہوئے اپنی پیٹھ کو اوپر کی طرف اٹھائیں اور اپنے سر کو نیچے کی طرف جھکاتے ہوئے اپنی ٹھڈی کو سینے کی طرف لائیں۔ یہ سانس لینے کا ایک دور ہے۔ اسے پانچ بارتک دہرائیں۔

مرحلہ5 : اس مشق کو پورا کرنے کے بعد اپنی پہلی حالت میں واپس آئیں۔

مرحلہ6 : آہستہ آہستہ وجراسن میں آئیں اور پیروں کو سامنے کی طرف سیدھا پھیلا دیں ۔

شیتھل دنڈاسن میں آرام کریں۔


Box_design_4

فوائد:

  • سانس لیتے ہوئے مارجری آسن کرنے سے گردن، کندھوں اور ریڑھ کی ہڈی کا لچیلاپن بڑھتا ہے۔

حدود : گھٹنے میں چوٹ یا درد ہو تو اس وضع کی مشق نہ کریں۔

اب ہم باگھ کی طرح اسٹریچ کریں گے–

سانس لیتے ہوئے وگراسن (باگھ کی طرح کھنچاؤ کی وضع)

Screenshot 2025-12-02 at 09-41-26 gukl106.pdf

استھتی میں آئیے دنڈاسن

مرحلہ1 : دائیں اور بائیں پیر کو موڑتے ہوئے وجراسن میں بیٹھیں گے۔

مرحلہ2 : آگے کی طرف جھکتے ہوئے ہاتھوں کو کندھوں کی سیدھ میں فرش پر رکھیں۔ انگلیاں آگے کی طرف ہوں گی اور سامنے کی طرف دیکھیں گے۔ ہاتھوں،رانوں اور ایڑیوں کے درمیان کندھوں کی چوڑائی کے متوازی فاصلہ ہونا چاہیے۔ آپ کے دونوں ہاتھ اور ران فرش پر کھڑے (قائم) رہیں۔

مرحلہ3 : سانس لیتے ہوئے سر کو اوپر اٹھائیں۔ ساتھ ہی داہنے پیر کو اوپر کی طرف کھینچتے ہوئے دائیں گھٹنے کو تھوڑا موڑیں گے۔

مرحلہ4 : سانس کو چھوڑتے ہوئے گھٹنوں کو موڑیں اور پیر کوکولھے کے نیچے لے جائیں۔ ساتھ ہی پیٹھ کو موڑتے ہوئے سر کو نیچے جھکائیں اور گھٹنے کو ناک کے پاس لائیں۔ یہ سانسوں کے ساتھ ایک دور مکمل کرنے کا عمل ہے۔ یہ عمل تین سے پانچ بار دہرائیں۔ اس مشق کو اسی طرز پر بائیں طرف سے بھی کریں گے۔

مرحلہ5 : مشق کے اختتام پر اپنی شروعاتی حالت میں واپس آئیں۔

مرحلہ6 : آہستہ آہستہ وجراسن میں آئیں۔ اپنے پیر کو سامنے کی طرف سیدھا کرتے ہوئے شیتھل دنڈاسن کی حالت میں آرام کریں۔


فوائد:

  • وگراسن میں سانسوں کے عمل سے پیروں اور کولھوں کے جوڑوں کی جکڑن دور ہوتی ہے۔
  • یہ پیٹ کی عضلات کو کھینچتا ہے۔ ہاضمے کو بڑھاتا ہے اور خون کی گردش کو متحرک کرتاہے۔۔
  • یہ رانوں اور کولھوں کو مضبوط بناتا ہے۔

حدود : گھٹنے میں چوٹ یا درد کی حالت میں اس آسن کی مشق سے گریز کریں۔


استاد کے لیے ہدایت

• مشق شروع کرنے سے پہلے یہ طے کر لیں کہ طلبا دونوں ہتھیلیوں اور گھٹنوں پر آرام سے کھڑے ہیں۔

• مشق مکمل کرنے کے بعد طلبا کچھ وقت کےلیے ششانکاسن یاچائلڈ پوز میں آرام کر سکتے ہیں۔

باب 4

پرانایام (Pranayama)

آیئے اس گریڈ میں ہم اشٹانگ یوگ کے چوتھے پہلو،پرانایام کے ذریعہ سانس لینے کے متعلق سیکھیں گے۔

پرانایام ہماری سانسوں کو قابو میں رکھنے کا مشق ہے۔ یوگ میں سانس لینے کے عمل کو ایک طاقتور آلہ تصور کیا جاتا ہے۔ پرانایام میں سانس لینے کی ایسی تکنیکیں ہیں جن سے ہماری قوتِ حیات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پرانایام دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔‘پران’ کا مطلب ہے نہایت اہم اور ’یم‘ کا مطلب ہے قابو میں کرنا یا توسیع کرنا۔ اس لیے پرانایام وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم شعوری طور پر سانسوں کو قابو میں رکھتے ہیں اورصحیح سمت دیتے ہیں تاکہ خود کو خوش حال اور صحت مند
رکھ سکیں۔

طلبا کے لیے پرانایام کیوں ضروری ہے؟

جس طرح جسمانی طور پر چست درست رہنے کے لیے بہتر غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جسم کو توانا اور ذہن کو پر سکون بنانے کے لیے پرانایام کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور سے طلبا کے لیے یہ بہت اہم ہوتاہے کیوں کہ یہ مطالعے کے دوران ذہن کو مرکوز کرنے، امتحان کے دوران پر سکون رہنے اور یہاں تک کہ کھیل یا روزانہ کی سرگرمیوں کے دوران زیادہ توانا محسوس کرانے میں معاون ہوتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-41-52 gukl106.pdf

ہرصبح کچھ منٹ کے لیے پرانایام کی مشق کریں۔ اس سے آپ زیادہ توانا اور کم تناؤ محسوس کریں گے۔

اس گریڈ میں ہم محض وہی مشقیں کریں گے جو گذشتہ گریڈ میں سیکھا تھا۔

1. توقفی تنفس

توقفی تنفس پرانایام کے لیے ابتدائی مشق ہے۔ یہ سانس لینے کے غلط طریقوں کو درست کرتا ہے اور پھیپھڑوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔

2. ناڑی شدھی پرانایام

ناڑی شدھی پرانایام ایک آسان اور موثر تکنیک ہے، جو قوتِ حیات کے بہاؤ کو معتدل کرتی ہے اور توانائی کے راستوں کو صاف کرتی ہے۔

3. بھرامری پرانایام

بھرامری پرانایام ایک پر سکون تکنیک ہے جس کا ہمارے ذہن اور اعصابی نظام پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

(مندرجہ بالا مشقوں کے لیے گریڈ چھ کی نصابی کتاب کھیل یاترا دیکھیں)

آیئے شن مکھی مدرا کے ذریعے بھرامری پرانایام کرنا سیکھیں؟

شن مکھی کا مطلب ہے ”چھ دروازے“ یا چہرے ۔ شن مکھی مدرا ظاہری محسوسات کے چھ دروازے یعنی دونوں آنکھیں، دونوں کان، ناک اور منہ بند کرکے مراقبے کو باطنی بیداری کی طرف راغب کرنا ہے۔ یہ مشق پرتیاہار کی حالت کو فروغ دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دونوں ہاتھوں اور ان کی انگلیوں کے ذریعے یہ ادراک کے سبھی چھ دروازوں کو سر میں بند کر دیتا ہے۔

Screenshot 2025-12-02 at 09-42-38 gukl106.pdf
  • سکھاسن میں بیٹھیں کمر کو سیدھا رکھیں اور چہرےپر مسکراہٹ ہو۔آنکھیں آہستہ سے بند رکھیں۔
  • اب دونوں ہاتھوں کو کندھوں کی سطح تک اوپر اٹھائیں۔ کہنیوں کو موڑیں اور انگوٹھوں سے کانوں کو بند کریں۔
  • پہلی انگلی کو پلکوں پر اور درمیانی انگلی کو ناک کے دونوں سراخوں پر ، انگوٹھی اور چھوٹی انگلی کو لبوں کے اوپر اور نیچے ہلکے سے رکھیں جیساکہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔
  • دھیرے دھیرے گہری سانس لیں اور پھیپھڑوں کو پوری طرح بھریں۔
  • سانس چھوڑتے ہوئے شہد کی مکھی کی گنگناہٹ جیسی آواز پیدا کریں۔ (اومکار کی جاپ سے مکر کی
    آواز نکالیں)
  • اس آواز کی اِرتعا ش کو اپنے جسم اور ذہن میں محسوس کریں۔اس مشق کو پانچ مرتبہ دہرائیں۔

شن مکھی مدرا کے فوائد

  • شن مکھی مدرا ذہن اور اعصابی نظام کو پر سکون بناتا ہے۔
  • یہ ظاہری اور باطنی بیداری کو معتدل کرتاہے۔
  • یہ توجہ مرکوز کرنے اور اضطراب کو قابو رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔

استاد کے لیے نوٹ

• طلبا سے معلوم کریں کہ کیا وہ مشق کے دوران گونج محسوس کرتے ہیں۔

• مشق کے بعد طلبا کی ذہنی کیفیت کے بارے میں پوچھیں ۔

اس گریڈ میں ہم اب بھستریکا پرانایام کے بارے میں سیکھیں گے۔

بھستریکاپرانایام

بھستریکا ایک مخصوص سانس لینے کی مشق ہے جس کا نامدھونکنی سے مشا بہت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اس میں سانس کو دھونکنی کی طرح اندر باہر لیا جاتا ہے۔ اسے آپ اپنی سہولت کے مطابق تیزیا کم رفتار سے کر سکتے ہیں۔

بھستریکا کے دوران آپ پوری اور گہری سانس لیں تاکہ آپ کے جسم کو بھرپور آکسیجن مل سکے۔ آپ اپنے سینے کو دھونکنی کی طرح استعمال کرتے ہوئے زور سے اندر باہر کی سانس لیں۔

بھستریکا کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ سانس کی صفائی سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ دھیما اور پر سکون ہے۔ اس لیے بھستریکاکو بعض اوقات سانسوں کی صفائی اور سانسوں کو پر سکون کرنے کے درمیان پُل بھی کہا جاتا ہے۔

بھستریکاپرانایام کی مرحلہ وار مشق


8

مرحلہ1: سکھ آسن یا وجرآسن کی آرام دہ مدرا میں بیٹھیں۔ کمر اور گردن کو سیدھا رکھیں
آنکھیں بند کریں اور پورے جسم کو آرام کی حالت میں رکھیں۔

مرحلہ2: دونو ں نتھنوں سے گہری سانس لیں اور پھیپھڑوں کو ہوا سے بھریں۔

مرحلہ3: پوری سانس اندر لینے کے بعد تیزی سے
پانچ مرتبہ باہر سانس چھوڑیں۔ اس طرح
بھستریکا کا ایک دور مکمل ہوتا ہے ۔

مرحلہ4: اس مشق کوتین دور(راؤنڈ) تک جاری رکھیں۔


Box_design_4

فوائد:

  • بھستریکا پرانایام پھیپھڑوں کو مضبوط بناتا ہے اور جسم میں خون کی گردش کو متحرک کرتا ہے۔
  • یہ جسم اور ذہن کو آرام دیتا ہے اور مرکوزیت میں معاون ہوتا ہے۔

حدود: جسمانی طور پر کمزور طلبا کو اس مشق سے گریز کرنا چاہیے۔


استاد کے لیے نوٹ

• اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلبا اس مشق(پرانایام) کو آہستگی سے بغیر کسی جھٹکے کے فطری طور پر کریں۔

مُدرائیں

دستی مدراؤں کا تعارف

آیئے دستی مدراؤں کے بارے میں جانیں۔ کیا آپ نے کبھی سنتوں اور دیوتاؤں کی ایسی تصویریں دیکھی ہیں جن میں ان کے ہاتھوں کی مخصوص کیفیت ہوتی ہے؟انھیں ہی دستی مدرائیں کہتے ہیں۔

مدرائیں ہاتھ کے وہ اشارے ہیں جو ہمارے جسم، ذہن اور توانائی کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ سنسکرت میں مُدرا کے معنی اشارہ یا مہرکے ہوتا ہے۔ یہ ہاتھ کے وہ مخصوص اشارے ہوتے ہیں جو توانائی کے زور کو تقویت پہنچانے میں معاون ہوتے ہیں۔

ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر محسوس کرنے کے لیے لوگ اِن مدراؤں کا استعمال ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔

اِس گریڈ میں ہم گیان مدرا کے بارے میں جانیں گے۔

گیان مدرا ایک آسان اور اہم مدرا ہے جو ذہن کو سکون دیتی ہے۔

گیان مدرا کی مرحلہ وار مشق

  1. کمر اور گردن سیدھا رکھتے ہوئے سکھاسن یا وجراسن کی مدرا میں یا کرسی پر بیٹھیں۔
  2. ہاتھوں کو ران پر رکھیں اور ہتھیلیاں اوپر کی طرف رہیں۔
  3. اب انگوٹھے کے سر ے کو پہلی انگلی سے آہستہ سے چھوڑیں۔ زیادہ دباؤ نہ دیں۔
  4. دوسری انگلیوں کو سیدھا رکھیں اور ہتھیلیاں اوپر کی طرف رہیں۔
  5. اپنی سانسوں پر توجہ مرکوز کریں۔
  6. روزانہ دس منٹ تک اس کی مشق کریں۔

فوائد

  • گیان مدرا ذہنی تناؤ، غصہ اور دباؤ کو کم کرتا ہے۔
  • یہ قوتِ حافظہ کو بڑھاتا ہے۔
  • یہ دماغ اور عضلات کو توانائی عطا کرتاہے۔

ہم نے پچھلے باب میں شن مکھی مدرا کو بھرامری پرانایام کے ساتھ سیکھا۔


استاد کے لیے نوٹ

• اس مشق کو روزانہ مطالعہ سے پہلے کرنے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں۔

پرتیاہار

سنو طلبا،

کیا آپ نے پرتیاہار کے بارے میں سنا ہے ؟

پرتیاہار ایک مخصوص آلہ ہے جو مرکوز یت میں معاون ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ارتکاز کو بڑھانے اور پرسکون رہنے کا ایک عمدہ طریقہ ہے۔

پرتیاہار، اشٹانگ یوگ کا پانچواں مرحلہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ مرکوزیت کو کیسے شدید کریں۔

اس گریڈ میں ہم سیکھیں گے کہ مندرجہ ذیل سرگرمیوں کے ذریعے انتشار کو کیسے کم کریں ۔

گھنٹی کی آواز پر کان دھرتے ہوئے توجہ مرکوز کرنے والی سرگرمی کوفروغ دینا

مندر کی گھنٹی کی آواز سنیے۔ جب یہ شروع ہوتی ہے تو ’ٹن-ٹن‘ کی تیز آواز آتی ہے اور یہ بجتی رہتی ہے۔ اس آواز کی تبدیلی پر غور کیجیے۔ یہ شروع میں تیز ہوتی ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے کم ہوتی جاتی ہے اور آخر میں بند ہو جاتی ہے۔ اپنے اندر اس آواز کے ارتعاش کو محسوس کیجیے۔

دھارنا، دھیان اور سمادھی

Screenshot 2025-12-02 at 09-44-53 gukl106.pdf

دھارنا کا مطلب ہے ایک نقطہ کی ارتکاز اور اس میں ذہن کا مطالعہ اور توجہ مرکوز رکھنا شامل ہے۔

دھارنا اپنے دماغ کے لیےتوجہ استعمال کرنا سیکھنے جیسا ہے۔ یہ آپ کے دماغ کو صرف ایک چیز پر توجہ دینے کی تربیت دینے کے بارے میں ہے، جیسے میگنفائنگ گلاس کے ساتھ سورج کی روشنی پر توجہ دینا۔

جب آپ کا دماغ مرکوز ہوتا ہے، تو یہ آپ کو بہتر مطالعہ کرنے، کاموں پر توجہ مرکوز کرنے اورآپ کے خیالات کو بہترکرنے میں مدد کرتا ہے۔ آپ توجہ مرکوز کرنے کے لیے کسی چیز کا انتخاب کر کے، جیسے اپنی سانس یا کوئی لفظ اور اپنے دماغ کو بھٹکنے سے روکنے کی کوشش کر کے دھارنا کی مشق کر سکتے ہیں۔ یہ مہارت، دھیان کے ساتھ، آپ کو اندرونی سکون تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے اور یوگا کا ایک اہم حصہ ہے۔

پچھلےگریڈ میں، ہم نے جاترو تراٹک کے بارے میں سیکھا، جو ہماری توجہ کو بہتر بناتا ہے۔ آئیے اس گریڈ میں مشق
جاری رکھیں۔

آئیے ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دھارنا کی مشق کریں۔ جاترو تراٹک یوگک نگاہیں ہیں جو ایک طرف توجہ یا توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ ایک مشق ہے جہاں نظریں کسی چیز یا ہدف پر جمی ہوئی ہوتی ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے ٹھنڈے پانی سے اپنی آنکھوں کو صاف کرنا اچھا خیال ہے۔


ہتھیلیوں کے استعمال سے آنکھوں کی صفائی:

اپنے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔ اپنی دائیں ہتھیلی کا ایک کپ بنائیں اور اسے صاف پانی سے بھریں۔ اب اس پانی میں اپنی دائیں آنکھ کی پتلی ڈبو دیں۔ چند چکروں کے لیے آنکھیں جھپکائیں،اسی مشق کو بائیں آنکھ سے دہرائیں۔

جاترو تراٹک

Screenshot 2025-12-02 at 09-45-14 gukl106.pdf

مرحلہ1 : وجراسن یا سکھاسن میں آرام سے بیٹھیں۔ آنکھیں کھلی ہوئی اور ہاتھوں کورانو ں پر رکھیں۔

مرحلہ2 : دونوں ہاتھوں کو سامنے کی طرف پھلائیں۔ ان کی مٹھی بنائیں اور انگوٹھے کو اوپر کی طرف اٹھے ہوں۔

مرحلہ3 : دونوں ہاتھوں کو دونوں کندھوں کی طرف زمین کے متوازی لے جائیں اور انگوٹھے کے سِرے پر نظر جمائے رکھیں۔ جہاں تک ممکن ہو ہاتھوں کو دونوں طرف پھیلائیں جہاں تک نظر کی پہنچ ہو۔

مرحلہ4 : دونوں ہاتھوں کو سِرے سے پکڑے ہوئے اس صورتِ حال کو تھوڑی دیر کے لیے برقرار رکھیں۔ انگوٹھے کے اوپری سرے کو دیکھتے ہوئے،ہاتھوں کو دھیرے سے گھماتے ہوئے اپنی اصل حالت میں واپس آئیں۔ سر کو نہ گھمائیں۔بلکہ آنکھ کی پتلی کو دونوں طرف گھمائیں۔

اس مشق کو تین سے پانچ مرتبہ دہرائیں۔

مرحلہ5 : اس مشق کو کرنے کے بعد وجراسن یا سکھاسن میں آرام کریں۔

ہتھیلیوں سے آنکھوں کو آرام دینے کاآسان طریقہ

  • دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑیں جب تک کہ وہ گرم نہ ہو جائیں۔
  • ہتھیلیوں کو پیالی کی شکل میں بنائیں اور آہستہ سے اپنی آنکھوں پر رکھیں۔ (پتلیوں پر دباؤ نہ ڈالیں)
  • اپنی آنکھوں کو بند رکھیں۔
  • اپنی ہتھیلیوں کو دس پندرہ سیکنڈ کے لیے اپنی آنکھوں پر رکھیں۔پھر آہستہ سے ہٹائیں۔
Screenshot 2025-12-02 at 09-45-33 gukl106.pdf
Box_design_4

فوائد:

  • جاترو تراٹک کی مشق سے آنکھوں کے ارد گرد کے عضلات کو راحت ملتی ہے۔
  • یہ بھینگے پن کو درست کرتا ہے اور روکتا ہے۔
  • یہ آنکھوں کی روشنی، بصارت اور مرکوزیت میں اضافہ کرتا ہے۔

حدود : جن طلبا کو سر درد ہوتا ہے وہ اس مشق سے گریز کریں۔


استاد کےلیے نوٹ

• استاد اس بات کو یقینی بنائیں کہ مشق کے دوران طلبا اپنے چشمیں اور گھڑیاں اتار دیں۔

• مشق کے دوران طلبا اپنی گردن، سر اور ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھیں۔

• ہمیشہ کچھ دیر پلکیں جھپکانے کے بعد آنکھیں کھولیں۔

• اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر مشق کے بعد پامنگ کی جاتی ہے۔

جاترو تراٹک میں اوپر نیچے اور بائیں دائیں گھومنے کے لیے گریڈ چھ کی کتاب کھیل یاترا دیکھیں۔

دھیان

دھیان کے معنی ہیں مراقبہ۔ جب ہم کسی چیز پر پوری توجہ مرکوز کرتے ہیں (جسے دھارنا کہا جاتا ہے) تو ہماراذہن پرسکون محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ سکون اور اطمینان دھیان کہلاتا ہے۔

دھیان ہمیں اندر سے پر سکون ہونے کا احساس دلاتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمارے اطراف ہنگامہ اور افرا تفری مچی ہو۔ اپنے ذہن کو لیزر بیم کی طرح تربیت دینے کا تصور کریں۔ یہی دھارناہے۔

دھارنا اوردھیان دونوں آپ کو اسکول میں بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کرنے، امتحانات کے دوران پر امن رہنے اور
روز مرہ کی زندگی میں زیادہ پر امن رہنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

سرگرمی

آسان مراقبے کی مشق

آیئےآسان مراقبے کی کچھ مشقیں مرحلہ وار طریقے سے سیکھتے ہیں۔

  • آرام دہ حالت (مُدرا) سکھاسن یا وجراسن میں بیٹھیں۔ پیٹھ سیدھی رکھیں اور آنکھیں بند رکھیں۔
  • اب آہستہ آہستہ اپنی سانسوں پر توجہ مرکوز کریں۔سانس اندرلیتے اور باہر چھوڑتے ہوئے کچھ لمحوں کے لیے اپنی سانسوں پر غور کریں۔
  • اگر آپ کے ذہن میں کچھ خیالات آرہے ہیں تودھیان نہ دیں۔ بس اپنی توجہ دوبارہ سانسوں پر مرکوز کریں۔
  • چند منٹوں کے لیے یہ مشق کریں۔ یہ دھیانہے، جہاں آپ اپنی سانسوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اپنے ذہن کو پر سکون کرتے ہیں۔

پنچ کوش مراقبہ

جس طرح گھر میں رہنے کے کمرے، باورچی خانہ اور سونے کے کمرے جیسے مختلف کمرے ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ہمارے جسم کی بھی مختلف پرتیں ہوتی ہیں۔

ہم نے سبق 1 میں اِن پرتوں کے بارے میں جانا۔

آئیے اس گریڈ میں ان پرتوں کو مراقبے کے ذریعے سمجھنے کے سفر پر چلتے ہیں۔

اپنے اندر کا یہ سفر ہمیں خود کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے،زیادہ پر سکون اور خوش رکھنے میں مدد کرےگا۔

پنچ کوش مراقبے کی مرحلہ وار مشق

1. سُکھا سن کی آرام دہ حالت میں اپنے سَر، گردن اور پیٹھ کو سیدھا رکھ کر بیٹھ جائیں۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔

2. اَب اہستہ آہستہ اپنی آنکھیں بند کریں۔ اپنے اطراف اور آوازوں سے با خبرر ہیں۔ آہستہ آہستہ اپنے جسم کا جائزہ لینا شروع کریں، اپنے سَر، کندھوں، سینے، کمر، پیٹھ، پیٹ، بازو اور پیروں پر غور کریں اور ان پر کسی طرح کی حس کو محسوس کریں۔ کھنچاؤ کے حصوں کو محسوس کریں۔ ان احساسات کو بنا کوئی رائے قائم کیے قبول کریں۔یہ آپ کا طبعی جسم ’اَنّ مے کوش‘ ہے۔ چند لمحوں کے لیے اس کا جائزہ لیں اور طبعی جسم کو
پر سکون کریں۔

3. اب اپنی توجہ سانسوں پر منتقل کریں۔ اپنے ناک کے نتھنوں پر غور کریں اور اِن نتھنوں کے ذریعے ناک سے اندر آ رہی اور باہر جا رہی ہوا پر توجہ مرکوز کریں۔ غور کریں کہ آپ کی سانسیں دھیمی ہو رہی ہیں اور زیادہ ترتیب وار اور ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔ پھیپھڑوں کے پھیلنے اور سُکڑنے کے دوران اپنی سانسوں پر توجہ دیں۔ یہ آپ کا
پران مے کوش“ ہے۔ کچھ لمحوں کے لیے اس پر غور کریں اور اپنے جسم کے ہلکے ہونے کے احساس سے لطف اندوز ہوں۔

4. اَب اپنےذہن میں آ رہے خیالات پر غور کریں۔ غور کریں کہ وہ کس طرح آسمان کے بادلوں کی طرح آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں۔ انھیں قبول کریں اور دھیرے دھیرے اپنی توجہ سانسوں پر مرکوز کریں۔ اب اپنا دھیان ہٹائیں اور اپنے جسم کے احساس پر مرکوز کریں۔ اگر آپ کو ایک ہی حالت میں زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے سے بے چینی ہو رہی ہے اور آپ اپنے پیر ہلانا چاہتے ہیں یا ناک اور جلد پر کھجلی ہو رہی ہے تو یہ محض آپ کے ذہن سے آنے والا ردّ عمل ہے۔ یہ آپ کامنومے کوش ہے۔

5. اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کریں تاہم سانس پر توجہ برقرار رکھیں۔ اپنی اندرونی بصارت سے ربط قائم کرتے ہوئے خود سے پوچھیں کہ ”کیا کرنے سے مجھے خوشی ملتی ہے۔‘‘ اپنے باطن سے آنے والی رہنمائی کی آواز کو سنیں۔یہ آپ کاوگیان مے کوش ہے۔

6. اب اپنی بیداری کو گہرائی تک لے جائیں۔ اب اپنی بیداری کو اپنے دل پر مرکوز کریں، گہرائی تک سکون کا احساس کریں، سانسوں کو دھیما اور متوازن بنائے رکھیں۔ خود کو مکمل سکوت کا احساس دلائیں۔ اپنے اندر بے انتہا خوشی اور تشکر کا جذبہ محسوس کریں۔یہ ایک مکمل ٹھہراؤ، خاموشی اور مسرت کا لمحہ ہے۔ یہاں کوئی خوف یا خواہش نہیں ہے۔ یہ آپ کا آنندمے کوش ہے۔ اب خودآگہی حاصل کیجیے۔

7. اپنی توجہ دوبارہ سانسوں پر منتقل کریں، اپنے اطراف سے باخبر ہو جائیں۔ غور کریں کہ آپ کی سانس آہستہ اور مسلسل ہے۔ ایک لمحے کے لیے پر سکون ہو جائیں اور اُٹھنے سے پہلے اس تجربے کو کشید کیجیے۔

8. اب آہستہ سے اپنی ہتھیلیوں کو ایک دوسرے پر رگڑیں، انھیں اپنی آنکھوں پر رکھیں اور ہتھیلیوں کے درمیان میں آنکھیں کھولیے۔


Box_design_4

فوائد:

  • پنچ کوشمراقبہ ذہن کو پر سکون کرتا ہے اور تناؤ کو کم کرتا ہے۔
  • یہ توجہ اور خود آگاہی کو بہتر بناتا ہے۔
  • یہ سکون اور خوشی کا احساس دلاتاہے۔

استاد کے لیے نوٹ

• مراقبے سے متعلق تجربات بیان کرنے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کریں۔

• طلبا کو سانسوں پر توجہ مرکوز رکھنے دیں اوراس مشق کے دوران ان کے جذبات و احساسات کا مشاہدہ کریں۔

سمادھی

سمادھی، شعور کی آخری منزل ہے۔ یہ ایک ماورائے دنیا فلسفہ ہے۔آپ صرف اپنے تئیں بیدار ہوتے ہیں اور اپنے اصل مزاج ، خوشی اور طاقت سے منسلک ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ اصل مقصد ہے جسے ہم زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کریڑا یوگ

یوگ، شخصیت کی ہمہ جہت ترقی کا عمل ہے۔ اس عمل میں کریڑا یوگ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کریڑا یوگ کا مطلب ہے کھیل کے ذریعے یوگ۔ یہ پر لطف اور سرگرم طریقے سے یوگ کرنے کا ایک طریقہ ہے، جس میں مختلف کھیل کود کی سرگرمیاں شامل ہیں۔کریڑا یوگ ، لچک طاقت اور ارتکاز پیدا کرنے کے لیے یوگ آسنوں کو کھیلوں سے جوڑتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے ذریعے ہم اپنی جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ لطف بھی اُٹھاسکتے ہیں۔

یہ کھیل سیکھنے اور کھیلنے میں آسان ہیں اور مکمل شرکت کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ کھیل نہ صرف ہمیں ہماری بیداری کی حالت کے بارے میں بصیرت فراہم کرتے ہیں بلکہ اس کی نشو ونما میں ہماری مدد کرتے ہیں۔

یہاں کچھ کھیل ہیں جو آپ اپنی جماعت میں اپنے دوستوں کے ساتھ یا اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

تدبّر کے لیے یوگ

تدبّر کے لیے یوگ ایک غیر میدانی کھیل ہے جو عام طور پر گروپوں میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ کھیل مخالف کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کی نقل کر کے ارتکاز اور حاضر دماغی کو جِلا بخشتا ہے۔ یہ کھیل توجہ، جسمانی بیداری اور تال میل کو بہتر بناتا ہے۔

کیسے کھیلیں؟

  1. جماعت کو دو گروپوں میں تقسیم کر یں۔
  2. طلبا کو جوڑیاں بنانے اور ایک دوسرے کا سامنا کرنے دیں۔
  3. ایک طالب علم آگے بڑھ کر یوگ کی وضع یا آسن کا مظاہرہ کرے گا، جب کہ دوسرے طلبا ٹھیک اُسی طرح ان کی نقل کریں گے۔
  4. ہر طالب علم 1 منٹ تک اُسی پوزیشن میں رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا طالبِ علم اُس وضع کی 1 منٹ کے لیے نقل کرے گا۔
Screenshot 2025-12-02 at 09-46-39 gukl106.pdf

استادکے لیے نوٹ

• یہ کھیل زیادہ سے زیادہ 5 منٹ تک کھیلا جائے۔

• کھیل کو دل چسپ بنانے کے لیے مختلف اقسام یا تبدیلیاں اپنانے کی ترغیب دی جائے۔

• اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سبھی طلبا کھیل میں شامل ہوں۔

• برائے مہر بانی طلبا کو مندرجہ ذیل نکات کی وضاحت کریں۔


کھیل کا ماحصل

  • سرگرم شمولیت اور توجہ کو فروغ۔
  • جسمانی اور ذہنی استحکام کا فروغ۔
  • جسمانی بیداری کی حوصلہ افزائی۔
  • ترسیلی مہارت کی بہتری۔
  • اعتماد اور باہمی تعاون کی مضبوطی۔
  • صبر اور تحمل کو فروغ۔

یوگ اکائی کاجائزہ

  1. روزمرہ کی زندگی کے لیے یوگ :

صحیح جوڑ ملائیں

  1. اَنّ مے کوش (a) ذہنی غلاف
  2. پران مے کوش (b) حکمت و دانائی کا غلاف
  3. منومے کوش (c) جسمانی غلاف
  4. وگیان مے کوش (d) مسرت کا غلاف
  5. آنند مے کوش (e) توانائی کا غلاف

درج ذیل کے جواب لکھیے

شمار نمبر

پہلیاں

ہر کوش کے بعد کی جا نے والی مشقوں کی فہرست

.1

اَنّ مے کوش

.2

پران مے کوش

.3

منو مے کوش

.4

وگیان مے کوش

.5

آنند مے کوش

استادکی جانچ

معیار

بہترین

(4 پوائنٹس)

بہتر
(3 پوائنٹس)

ٹھیک
(2 پوائنٹس)

محنت کی ضرورت ہے
(1 پوائنٹ)

حاصل کردہ پوائنٹس

استاد کے تبصرے

کوش اور ان کے طریقہ کار کو سمجھنا۔

گہری سمجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور صحیح اور تفصیلی جواب دیتے ہیں۔

اچھی سمجھ کا اظہار کرتے ہیں اور مثالوں کے
ساتھ صحیح جواب دیتے ہیں۔

کچھ خامیوں یا کم تفصیل کے ساتھ بنیادی سمجھ کا اظہار کرتے ہیں۔

تصور کو سمجھنے میں جدو جہد کرتے ہیں۔

وضع اور ذاتی بصیرت کے درمیان تعلق قائم کرنا۔

وضع اور کوش کے درمیان واضح تعلق قائم کرتے ہیں۔

کچھ ہی وضع اور کوش کے درمیان تعلق قائم کر پاتے ہیں۔

کچھ تعلق جوڑ پاتے ہیں۔

وضع کے ساتھ تعلق جوڑنے میں جد و جہد کرتے ہیں۔

2. یوگ کی ریاضت

یوگ سے متعلق پہیلیاں

نمبر شمار

پہیلیاں

جواب

.1

اس وضع میں آپ اپنی رانوں پر زور ڈالتے ہوئے بیٹھنے جیسی پوزیشن اختیار کرتے ہیں۔ میرا نام کُرسی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وہ کُرسی جو نظر نہیں آتی۔ بتایئے میں کونسی وضع ہوں؟

.2

میں اپنے بازوؤں کو اونچا کر کے اونچے درخت کی طرح کھڑا ہوں۔ میرے پیر مضبوط ہیں اور قدم مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ میں ایک وضع ہوں۔ بتایئے میں کون ہوں؟

.3

میں وہ وضع ہوں جو آپ کو سارا دن کسی بہادر جنگجو کی طرح طاقت ور بنائے رکھتی ہے۔ اس میں جھک کر اپنے پیروں کو پھیلاتے ہیں۔ میرا نام فخر سے لیا جاتا ہے۔

.4

میرے دو سر ہیں لیکن ایک ہی چہرہ ہے۔ میں آپ کے کندھوں کو مضبوطی اور خوب صورتی بخشتا ہوں۔ میر انام گائے کے سَر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے۔ میں آپ کو سستانے اور ترو تازہ محسوس کرنے میں مدد کرتا ہوں۔

.5

میں آپ کی پیٹھ کو کمان کی طرح جھکاتا ہوں۔ آپ بنا کسی تکلیف کے جھک سکتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ آپ کے پیروں کو مضبوط گرفت کے ساتھ پکڑ لیتے ہیں۔ میں کیا ہوں؟ خبردار، آپ پھسل بھی سکتے ہیں۔

.6

میں اپنے سر کو زمین پر رکھ کر اپنے کندھوں کے بل کھڑا ہوتا ہوں۔ یہ ایک طاقت اور توازن قائم کرنے والی وضع ہے۔ سنسکرت میں میرے نام کا مطلب ہےہر حصہ۔ میں کون ہوں میرے ننھے دوست؟ دل سے بتاؤ۔

.7

میں وہ وضع ہوں جو آپ کو پُر سکون اور مطمئن بناتی ہے۔ جیسے کہپانی میں موجود مچھلییہ اشارہ ہے۔ میرا نام سنسکرت زبان میں مچھلی کو دیے گئے نام سے شروع ہوتا ہے۔ بوجھو میں کونسی
وضع ہوں؟

1.اُتکٹاسن 2.گئو مکھاسن 3.سَرلَ دَھنُر اسن 4.سَروانگاسن 5.متسیہ آسن 6. تاڑاسن 7. ویراسن

آسن کی جانچ

معیار

بہترین

(4 پوائنٹس)

بہتر
(3 پوائنٹس)

ٹھیک
(2 پوائنٹس)

محنت کی ضرورت ہے
(1 پوائنٹ)

حاصل کردہ پوائنٹس

استاد کے
تبصرے

آسنوں کی صحیح پہچان

سبھی آسنوں کو
صحیح طریقے سے
پہچانتا ہے۔

5-6 آسنوں کو صحیح پہچانتا ہے۔

3-4 آسنوں کی ہی صحیح پہچان کر
پاتا ہے۔

2 یا اُس سے کم آسنوں کی ہی پہچان کر پاتا ہے۔

آسنوں کی تفصیلات کی سمجھ

سبھی پہیلیوں کی سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے اور انھیں صحیح آسنوں سے جوڑتا ہے۔

زیادہ تر پہیلیوں کی سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے اور انھیں صحیح آسنوں سے جوڑتا ہے۔

بنیادی سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن کچھ پہیلیوں میں اُلجھ جاتا ہے۔

پہیلیوں کے اشاروں کے تئیں محدود سمجھ کا اظہار
کرتا ہے۔

شمولیت اور مصروفیت

پہیلیوں کو سلجھانے میں جوش و خروش دکھاتا ہے۔

قدرے بہتر دل چسپی دکھاتا ہے اور سرگرم طریقےسے شامل ہوتاہے۔

درمیانی درجے کی دل چسپی کا مظاہرہ کرتا ہے اورسرگرم طریقے سے شامل نہیں ہوتا۔

محدود دل چسپی کا مظاہرہ کرتاہے اور نہایت کم سے کم شرکت دکھاتاہے۔

پرانایام سے متعلق پہیلیاں

نمبر شمار

پہیلیاں

جواب

.1

میں ذہن کو پُر سکون کرنے والی سانس لینے کی مشق ہوں۔

میں ہوا کے راستے کو کھولتا ہوں اور فکرکو دور کرتا ہوں۔

میں آنے اور جانے والی ہر سانس کے ساتھ توانائیوں میں توازن بناتا ہوں۔

.2

میں سانس لینے کی مشق ہوں جو اپنی آواز کے لیے جانی جاتی ہے۔

میں ذہن کو پُر سکون بنانے میں مدد کرتاہوں۔

میرا نام مکھی کے نام سے بنا ہے۔

میں کون ہوں،کیا آپ بتا سکتے ہیں،اور اپنے دماغ کو آزاد رکھو ؟

1. ناڑی شدھی پرانایام 2. بھرامری پرانایام

پرانایام کی جانچ

معیار

بہترین

(4 پوائنٹس)

بہتر
(3 پوائنٹس)

ٹھیک
(2 پوائنٹس)

محنت کی ضرورت ہے
(1 پوائنٹ)

حاصل کردہ پوائنٹس

استاد کے تبصرے

پرانایام کی
صحیح پہچان

دونوں پرانایام
کی صحیح پہچان
کرتا ہے۔

ایک پرانایام کی صحیح پہچان کرتا ہے۔

جواب دینے کی کوشش کرتاہے لیکن دونوں جواب غلط ہوتے ہیں۔

جواب دینے کی کوشش نہیں کرتا۔

پرانایام کی
باریکیوں کی سمجھ

سبھی پہیلیوں کے تئیں واضح سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے اور انھیں عملی مشق سے جوڑتا ہے۔

زیادہ تر پہیلیوں کے تئیں اچھی
سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے اور صحیح تعلق جوڑتا ہے۔

بنیادی سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن کچھ اشاروں میں اُلجھ جاتاہے۔

پہیلیوں کے اشاروں کے تئیں محدود سمجھ کا مظاہرہ کرتا ہے۔

شمولیت اور مصروفیت

پہیلیوں کو سلجھانے میں جوش و خروش دکھاتا ہے اور سرگرمی کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔

قدرے بہتر شمولیت اور سرگرمی کا مظاہرہ کرتاہے۔

درمیانی درجے
کی شمولیت دکھاتا ہے اور دل چسپی کے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔

محدود شمولیت اور نہایت کم دل چسپی کا مظاہرہ کرتاہے۔