3
پہلی اڑان
چڑیا کے گھونسلے سے ایک بچے کی آواز آرہی تھی۔ وہ جب دانوں پر چونچ مارتی، تو ایک دو دانوں سے زیادہ نہ لیتی اور فوراً گھونسلے کا رخ کرتی۔ وہاں اس کے پہنچتے ہی بچے کا شور شروع ہو جاتا۔ ایک دو سیکنڈ کے بعد چڑیا پھر آتی اور دانہ لے کر اڑ جاتی۔ ایک مرتبہ میں نے گنا تو ایک منٹ کے اندرسات مرتبہ آئی گئی۔
جن علمائے علم الحیوان نے اس جنس کے پرندوں کے خصائص کا مطالعہ کیا ہے اُن کا بیان ہے کہ ایک چڑیا دن بھر میں ڈھائی سو سے تین سو مرتبہ تک بچے کو غذا دیتی ہے اور اگر دن بھر کی مجموعی مقدار غذا بچے کے جسم کے مقابلہ میں رکھی جائے تو اس کا حجم (Mass) کسی طرح بھی بچے کے جسمانی حجم سے کم نہ ہو گا۔ مگر بچوں کی قوت ہاضمہ اس تیزی سے کام کرتی رہتی ہے کہ ادھر دانہ ان کے اندر گیا، اُدھر تحلیل ہو نا شروع ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پرندوں کے بچوں کی نشو نما کا اوسط چوپایوں کے بچوں کی اوسط سے زیادہ ہوتا ہے اور بہت تھوڑی مدت کے اندر وہ بلوغ تک پہنچ جاتے ہیں۔ چڑیا کی رفتار عمل سے مجھے اس بیان کی پوری تصدیق مل گئی۔ پھر جوں جوں بچوں کے پر بڑھنے لگتے ہیں ، وجدان کا فرشتہ آتا ہے اور ماں کے کان میں سر گوشیاں شروع کر دیتا ہے کہ اب انھیں اُڑنے کا سبق سکھانا چاہیے معلوم ہوتا ہے، چڑیا کے کانوں میں یہ سر گوشی شروع ہو گئی تھی۔

ایک دن صبح کیا دیکھتا ہوں۔ چڑیا گھونسلے سے اڑتی ہوئی اُتری ، تو اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ادھوری پرواز کے پروبال کے ساتھ نیچے گر گیا۔ چڑیا بار بار اس کے پاس جاتی اور اُڑنے کا اشارہ کر کے اوپر کی طرف اُڑنے لگتی لیکن بچے میں اثر پذیری کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی ، وہ پر پھیلائے ، آنکھیں بند کیسے بے حس و حرکت پڑا تھا۔ میں نے اُسے اُٹھا کے دیکھا تو معلوم ہوا، ابھی پر پوری طرح بڑھے نہیں ہیں۔ گرنے کی چوٹ کا اثر بھی تازہ ہے اور اس نے بے حال کر دیا ہے۔ بہر حال اُسے اٹھا کے دری پر رکھ دیا۔
چڑیا چاول کے ٹکڑے چن چن کر منہ میں لیتی اور اُسے کھلادیتی۔ وہ منہ کھولتے ہوئے چوں چوں کی ایک مدھم اور اکھڑی سی آواز نکال دیتا اور پھر دم بخود ، آنکھیں بند کیسے پڑا رہتا، پورا دن اسی حالت میں نکل گیا۔ دوسرے دن بھی اس کی حالت ویسی ہی رہی۔ ماں صبح سے لے کر شام تک برابر اُڑنے کی تلقین کرتی رہی۔ مگر اس پر کچھ ایسی مردنی سی چھا گئی تھی کہ کوئی جواب نہیں ملتا۔ میرا خیال تھا کہ یہ اب بچے گا نہیں۔ لیکن تیسرے دن صبح کو ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ دھوپ کی ایک لکیر کمرے کے اندر دور تک چلی گئی تھی۔ یہ اس میں جاکر کھڑا ہو گیا تھا، پر گرے ہوئے ، پاؤں مڑے ہوئے ، آنکھیں حسب معمول بند تھیں۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ یکا یک آنکھیں کھول کر ایک جھر جھری سی لے رہا ہے۔ پھر گردن آگے کر کے فضا کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر گرے ہوئے پروں کو سکیڑ کر ایک دو مرتبہ کھولا، بند کیا اور پھر جو ایک مرتبہ جست لگا کر اُڑا تو بہ یک دفعہ تیر کی طرحمیدان میں جا پہنچا اور پھر ہوائی کی طرح فضا میں اُڑ کر نظروں سے غائب ہو گیا۔
بینظر اس درجہ عجیب اور غیر متوقع تھا کہ پہلے تو مجھے اپنی نگاہوں پر شبہ ہونے لگا۔ کہیں کسی دوسری چڑیا کو اُڑتے دیکھ کر دھو کے میں نہ پڑ گیا ہو۔ لیکن ایک واقعہ جو ظہور میں آچکا تھا ، اب اس میں شبہ کی گنجائش کہاں باقی رہی تھی؟ کہاں تو بے حالی اور درماندگی کی یہ حالت کہ دو دن تک ماں سرکھپاتی رہی مگر زمین سے بالشت بھر بھی اونچا نہ ہو سکا اور کہاں آسمان پیمائیوں کا یہ انقلاب انگیز جوش کہ پہلی ہی اڑان میں عالم حدود و قیود کے سارے بندھن توڑ ڈالے اور فضائے لامتناہی کی نا پیدا کنار وسعتوں میں گم ہوگیا! کیا کہوں اس منظر نے کیسی خود کر کچھ نہ درفتگی کی حالت طاری کر دی تھی۔ دراصل یہ کچھ نہ تھا۔ زندگی کی کرشمہ سازیوں کا ایک معمولی سا تماشا تھا جو ہمیشہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا رہتا ہے مگر ہم اسے سمجھنا نہیں چاہتے۔
اس چڑیا کے بچے میں اُڑنے کی استعداد ابھر چکی تھی۔ وہ اپنے کنج نشیمن سے نکل کر فضائے آسمانی کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا۔ مگر ابھی تک اس کی خود شناسی کا احساس بیدار نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی حقیقت سے بے خبر تھا۔ ماں بار بار اشارے کرتی تھی، ہوا کی لہریں بار بار پروں کو چھوتی ہوئی گزر جاتی تھیں، زندگی اور حرکت کا ہنگامہ ہر طرف سے آ آ کر بڑھاوے دیتا تھا، لیکن اس کے اندر کا چولھا کچھ اس طرح ٹھنڈا ہو رہا تھا کہ باہر کی کوئی گرم جوشی بھی اسے گرم نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن جوں ہی اس ن جوں ہی اس کی سوئی ہوئی خود شناسی جاگ اٹھی، اور اسے اس حقیقت کا عرفان حاصل ہو گیا کہ ”میں اڑنے والا پرندہ ہوں۔“ اچانک قالب بے جان کی ہر چیز از سر نو جان دار بن گئی۔ وہی جسم زار جو بے طاقتی سے کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، اب سر و قد کھڑا تھا۔ وہی کا نپتے ہوئے گھٹنے جو جسم کا بوجھ بھی سہار نہیں سکتے تھے، اب تن کر سیدھے ہو گئے تھے۔ وہی گرے ہوئے پر جن میں زندگی کی کوئی تڑپ دکھائی نہیں دیتی تھی، اب سمٹ سمٹ کر اپنے آپ کو تولنے لگے تھے۔ چشم زدن کے اندر جوش پرواز کی ایک برق وار تڑپ نے اس کا پورا جسم ہلا کر اچھال دیا۔ اور پھر جو دیکھا، تو درماندگی اور بے حالی کے سارے بندھن ٹوٹ چکے تھے، گویا بے طاقتی سے توانائی، غفلت سے بیداری، بے پروبالی سے بلند پروازی، اور موت سے زندگی کا پورا انقلاب چشم زدن کے اندر ہو گیا۔ غور کیجیے تو یہی ایک چشم زدن کا وقفہ زندگی کے پورے افسانہ کا خلاصہ ہے۔
اُڑنے کے سر و سامان میں سے کون سی چیز تھی جو اس نو گرفتار قفس حیات کے حصے میں نہیں آئی تھی ؟ فطرت نے سارا سرو سامان مہیا کر کے اسے بھیجا تھا، اور ماں کے اشارے دم بدم گرم پروازی کے لیے اُبھار رہے تھے۔ لیکن جب تک اس کے اندر کی خود شناسی بیدار نہیں ہوئی اور اس حقیقت کا عرفان نہیں ہوا کہ وہ طائر بلند پرواز ہے، اس کے بال و پر کا سارا سر و سامان بے کا رہا۔ ٹھیک اسی طرح انسان کے اندر کی خود شناسی بھی جب تک سوئی رہتی ہے، باہر کا کوئی ہنگامہ سعی اسے بیدار نہیں کر سکتا۔ لیکن جوں ہی اس کے اندر کا عرفان جاگ اٹھا اور اسے معلوم ہو گیا کہ اس کی چھپی ہوئی حقیقت کیا ہے، تو پھر چشم زدن کے اندر سارا انقلاب حال انجام پا جاتا ہے، اور ایک ہی جست میں حضیض خاک سے اڑ کر رفعت افلاک تک پہنچ جاتا ہے۔
- ابوالکلام آزاد
لفظ و معنی
غور کیجیے
- غبار خاطر ، مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے قلعہ احمد نگر کی جیل میں قید کے دوران اپنے دوست مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کو لکھے تھے۔ زیر نظر سبق ان میں شامل ایک خط کا حصہ ہے مولانا ابوالکلام آزاد عظیم مجاہد آزادی تھے۔ آزادی کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مقرر ہوئے۔
- مضمون میں چڑیا کے بچے کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ جب کسی جاندار کو اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کا احساس ہو جاتا ہے تو وہ مشکل کام بھی آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔
- مضمون میں کئی لفظوں پر اضافت لگی ہوئی ہے مثال کے طور پر قوت ہاضمہ ، رفتار عمل اور حسب معمول یعنی ہاضمے کی قوت، عمل کی رفتار اور معمول کے مطابق۔ اضافت اس زیر کو کہتے ہیں جو دو لفظوں کے درمیان پہلے لفظ کے آخر میں لگایا جاتا ہے۔
سوچیے اور بتائیے
- چڑیا جب دانوں پر چونچ مارتی تو ایک دو دانے ہی کیوں لیتی تھی ؟
- چڑیا اپنے بچے کو اڑنا کیسے سکھا رہی تھی؟
- چڑیا کے بچے کے دو دن کس حالت میں گذرے؟
- سورج کی کرن کا چڑیا کے بچے پر کیا اثر پڑا؟
نیچے لکھے سوالوں کے جوابات میں سے آپ کون سا جواب منتخب کریں گے اور کیوں؟
(الف) چڑیا کا بچہ اڑ نہیں پارہا تھا کیوں کہ _________
- اس کے پر پوری طرح بڑھے نہیں تھے۔
- گرنے کی وجہ سے چوٹ لگ گئی تھی۔
- اس میں اڑنے کی طاقت نہیں تھی۔
●(ب) چڑیا کا بچہ ایک ہی جست میں اڑ کر فضا میں گم ہو گیا کیوں کہ
- پرواز کی تڑپ نے اس کا پورا جسم ہلا کر اچھال دیا۔
- اس کو علم ہو گیا کہ وہ ایک اڑنے والا پرندہ ہے۔
- ماں بار بار اسے اڑنے کی تلقین کر رہی تھی۔
دیے گئے جملوں کو غور سے پڑھیے اور بتائیے کہ ایسا کیوں کہا گیا ہے؟
- پرندوں کے بچوں کی نشوو نما کا اوسط چوپایوں کے بچوں کی اوسط سے زیادہ ہوتا ہے۔
- وہ منھ کھولتے ہوئے چوں چوں کی ایک مدھم او راکھڑی کی آواز نکال دیتا اور پھر دم بخود ، آنکھیں بند کیے پڑا رہتا۔
- اس کے اندر کا چولھا کچھ اس طرح ٹھنڈاہور ہا تھا کہ باہر کی کوئی گرم جوشی بھی اسے گرم نہیں کرسکتی تھی۔
- انسان کے اندر کی خود شناسی بھی جب تک سوئی رہتی ہے ، باہر کا کوئی ہنگامہ بھی اسے بیدار نہیں کر سکتا۔
خط کشیدہ لفظ کی جگہ مترادف لفظ استعمال کرتے ہوئے صحیح جملے لکھیے
- پورا دن اسی حالت میں گزر گیا۔ __
- پھر گردن آگے کر کے فضا کی طرف دیکھنے لگا۔ __
- اُسے معلوم ہو گیا کہ اس کی چھپی ہوئی حقیقت کیا ہے۔ __
- چڑیا کے بچے میں اڑنے کی استعداد اُبھر چکی تھی۔ __
- و ہی جسم زار جو بے طاقتی سے کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ __
خالی جگہوں میں صحیح لفظ لکھ کر عبارت کو مکمل کیجیے
اثر پذیری معلوم آنکھیں بے حال بڑھے چڑیا بچہ بہر حال اشارہ چڑیا چوٹ
ایک دن صبح کیا دیکھتا ہوں __ گھونسلے سے اُڑتی ہوئی اُتری ، تو اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا __ بھی ادھوری پرواز کے پروبال کے ساتھ نیچے گر گیا ___ بار بار اس کے پاس جاتی اور اُڑنے کا ___ کر کے اوپر کی طرف اُڑ نے لگتی لیکن بچے میں ___ کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی، وہ پر پھیلائے، ___ بند کیے بے حس و حرکت پڑا تھا۔ میں نے اُسے اٹھا کے دیکھا تو ___ ہوا، ابھی پر پوری طرح نہیں ہیں۔ گرنے کی ___ کا اثر بھی تازہ ہے اور اس نے ___ کر دیا ___ ہے اُسے اٹھا کے دری پر رکھ دیا۔
●لفظوں کے متضاد لکھیے :
- غائب __________
- حقیقی __________
- شروع ____________
- غفلت _______________
- انجام _____________
●نیچے بعض پرندوں کے نام دیے گئے ہیں، دی گئی مثال کے مطابق پرندوں کے نام جدول میں لکھیے:
گوریا مینا بطخ سارس عقاب گدھ ہر ہر کوئل نہیں بگلا مور چیل طوطا کو مرغابی کونج قاز لال سرطخیں فاختہ
| پانی میں تیرنے والے پرندے | گھروں کے آس پاس پائے جانے والے پرندے | پہاڑوں اور جنگلوں میں بسیرا کرنے والے پرندے |
| مثال: سارس | کبوتر | باز |
●معمے میں پرندوں کے نام تلاش کیجیے اور نیچے لکھیے:
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●دی گئی عبارت کو غور سے پڑھیے:
چڑیا جب دانوں پر چونچ مارتی تو ایک دو دانوں سے زیادہ نہ لیتی اور فوراً گھونسلے کا رخ کرتی۔ وہاں اس کے پہنچتے ہی بچے کا شور شروع ہو جاتا۔ ایک دو سیکنڈ کے بعد پھر آتی اور دانہ لے کر اڑ جاتی ۔ ایک مرتبہ میں نے گنا تو ایک منٹ کے اندرسات مرتبہ آئی گئی۔“
اس عبارت میں ایک دانہ، دو سیکنڈ ، ایک منٹ اور سات بار جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے اسم کی تعداد ظاہر ہو رہی ہے۔ وہ لفظ جس سے کسی اسم کی تعداد ظاہر ہو، اُسے صفت عددی کہتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کیجیے اور صفت عددی کا استعمال کرتے ہوئے جملے لکھیے:
تلاش کیجیے
- ایک جست میں تیر کی طرح میدان میں جا پہنچا ہوائی کی طرح نظروں سے غائب ہو گیا۔“ دونوں جملوں میں رفتار کو ظاہر کیا گیا ہے۔ جب کسی شے میں تیز حرکت ہوتی ہے تو اسے رفتار کی اکائی سے ناپتے ہیں۔ معلوم کیجیے کہ روشنی اور آواز کی رفتار کیا ہے؟ اور انھیں ناپنے کا پیمانہ کیا ہے ؟
- پہلے زمانے میں لوگ کم دوری یا رقبے کو انگل، بالشت ، ہاتھ اور قدم سے ناپ لیتے تھے۔ اپنی جماعت میں موجود اشیا جیسے کتاب، کاپی، میز ، تختہ سیاہ، کمرے کا فرش وغیرہ کو دیکھیے اور بتائیے کہ کون سی چیز آپ کس طرح ناپ سکتے ہیں؟
تخلیقی اظہار
- جب چڑیا کے بچے کو علم ہو گیا کہ وہ اڑنے والا پرندہ ہے، وہ ایک ہی جست میں فضا میں اُڑنے لگا۔ آپ اپنی ایسی صلاحیت کے بارے میں لکھیے جس کے ذریعے آپ کسی کام کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں:
- اگر آپ کو سڑک یا کسی اور جگہ پر کوئی پرندہ یا جانور زخمی حالت میں دکھائی دے تو آپ اس کی دیکھ بھال کس طرحکریں گے؟ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور اس کے بارے میں چند جملے لکھیے۔
عملی کام
- آپ کو کون کون سے پرندے پسند ہیں۔ ایک چارٹ پر اُن کی تصویریں بنائیے اور ان کے رہنے کی جگہ ، غذا اور عادات و اطوار کے بارے میں لکھیے۔
- 20 مارچ کو گور یا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 9 نومبر کو مہاجر پرندوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لائبریری سے ان کے متعلق معلومات حاصل کیجیے۔
- ہارن بل ایک پرندے کا نام ہے۔ ناگالینڈ میں یکم دسمبر سے 10 دسمبر تک ہارن بل فیسٹیول منایا جاتا ہے۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ہارن بل فیسٹیول کے بارے میں معلوم کیجیے اور اپنی زبان میں لکھیے:
events/hornbill-festival/