4
پانی
میرا نام پانی ہے، میں قدرت کا ایک انمول تحفہ ہوں۔ ہوا کے بعد میں ہی وہ شے ہوں جو ہر جاندار کے لیے نہایت ضروری ہے۔ غذا کے بغیر تو مہینوں زندہ رہا جا سکتا ہے مگر میرے بغیر زیادہ دن زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہے۔ میں زمین کے تین چوتھائی حصوں پر پھیلا ہوا ہوں اور دنیا میں کئی شکلوں میں پایا جاتا ہوں۔ کبھی برف کی حالت میں ٹھوس تو کبھی شبنم کی شکل میں موتی کے دانوں کی طرح بکھرا ہوتا ہوں ۔ کبھی ندیوں، نالوں اور دریاؤں کی صورت میں بہتا ہوں۔ یہی نہیں، میں بھاپ کی صورت میں بھی آپ کو نظر آتا ہوں۔ میری اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرے بغیر زندگی کا تصور محال ہے۔ میں انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لیے نہایت ضروری ہوں۔ اناج کی پیداوار میں مدد کرتا ہوں، فصلوں کو سیراب کرتا ہوں اور ایک صحت مند ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہوں۔

میرے بغیر زمین کا کوئی وجود نہیں۔ بارش کی صورت میں آتا ہوں ، سمندروں میں موجود ہوں اور زیر زمین پایا جاتا ہوں۔ میرا استعمال روز مرہ کے معمولات کے علاوہ کھیتی باڑی ، بجلی پیدا کرنے، جہاز رانی اور کشتی چلانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے کارخانوں میں مختلف مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں کے علاوہ پیڑ پودوں کی زندگی کے لیے میرا وجود لازمی ہے۔ علاوہ ازیں کسی جگہ کی آب و ہوا اور موسم کی تبدیلی میں بھی میرا دخل ہے۔ انسانی جسم میں میری اہمیت وہی ہے جو کسی گاڑی یا کار میں پٹرول یا ڈیزل کی ہوتی ہے جس طرح پٹرول یا ڈیزل کے بغیر گاڑی کا چلنانا ممکن ہے۔ ٹھیک اسی طرح میرے بغیر بھی انسانی زندگی کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انسانی جسم کا 75 فیصد حصہ مجھ پرمشتمل ہے۔
انسانی آبادی میں ہونے والے بے تحاشہ اضافی، صنعتی ترقی، کاشتکاری کا پھیلاؤ اور زندگی گزارنے کے معیار میں ہونے والی تبدیلی نے میرے استعمال کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی چیز کو اسی وقت اہمیت دیتا ہے جب اس کی کمی یا قلت واقع ہوتی ہے۔ آج جن علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر مناسب مقدار میں موجود ہیں وہاں میری اتنی اہمیت نہیں مگر جن جگہوں پر دریا، تالاب اور کنویں وغیرہ سوکھ رہے ہیں، وہاں میری اہمیت کا احساس حد سے سوا ہو رہا ہے۔
دنیا والوں کو سائنس کی ترقی نے جہاں ایک طرف بے شمار آرام و آسائش کے سامان مہیا کیے ہیں وہیں دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی کی مصیبت میں بھی گرفتار کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی آلودگی اور میرے بے دریغ استعمال نے مجھے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کھیتوں میں استعمال ہونے والے زہریلے کیمیائی مادے اور جراثیم کش دوائیں بارش کے پانی میں مل کر میرے ذخیروں میں گھل مل جاتی ہیں۔ اس سے بھی میری آلودگی بڑھ رہی ہے۔ آلودہ پانی بے شمار امراض
کی جڑ ہے۔ لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی نہیں ملتا، اسی لیے بیماریاں مثلاً ٹائی فائڈ ، ڈائریا، ہیپیٹائٹس، گیسٹرو ایٹائٹس سمیت پیٹ اور گلے کی بہت سی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گویا کہ جانے انجانے میں انسان آلودگی کے اسباب میں اضافہ کر رہا ہے۔ جو نہ صرف خود اس کے لیے بلکہ پیڑ پودوں اور تمام جانوروں کی صحت پر برا اثر ڈال رہا ہے۔ لہذا میں جو قدرت کا ایک انمول تحفہ ہوں میری انفرادی اور اجتماعی طریقے سے حفاظت نہایت ضروری ہے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ایسی تدابیر اختیار کی جائیں جن کی مدد سے میں بے کار اور برباد ہونے سے بچ سکوں۔ مثلاً بارش کے پانی کو سڑکوں اور ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہونے کے بجائے کہیں جمع کرنے کا نظام قائم کیا جائے جس میں رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater harvesting) بھی شامل ہے ۔ اس مقصد کے لیے خاص طور پر نئی بننے والی کالونیوں میں یہ انتظام آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی اپنے گھروں میں بھی مجھے ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ جیسے آراو (RO) یا اے سی (AC) وغیرہ سے نکلے پانی کا استعمال پیڑ پودوں کی پیاس بجھانے، کپڑوں کی دھلائی اور گھر کی صفائی وغیرہ میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں جانیں اور میری اہمیت کو سمجھیں کیوں کہ میری قدر و قیمت کو سمجھنا اور حفاظت کرنا آپ سب کی بھی ذمے داری ہے۔ گھروں میں مجھے استعمال کرتے وقت شاید آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ آپ مجھے کس طرحضائع کر رہے ہیں۔ عام طور پر نہانے اور دانتوں پر برش کرتے وقت نل کو غیر ضروری طور پر کھلا رکھ کر آپ مجھے بہاتے ہیں۔ میرے بارے میں سنجیدگی سے غور کیجیے تا کہ آنے والے وقتوں میں پانی کی کمی سے ہونے والی دشواریوں سے بچا جا سکے۔
- اداره
لفظ و معنی
غور کیجیے
- اپنی زندگی کے حالات اور واقعات کو خود اپنی زبانی بیان کرنے کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ اس سبق میں پانی کی آپ بیتی بیان کی گئی ہے۔
- پانی ، ہمیں دریاؤں ، تالابوں، جھیلوں ، چشموں، جھرنوں وغیرہ جیسے قدرتی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ قدیم طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں جیسے کنویں اور باؤلی وغیرہ۔
- بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی سے پانی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے کہ پانی کی حفاظت کے لیے مناسب طریقے اختیار کیے جائیں۔
سوچیے اور بتائیے
- پانی ہماری کن کن ضرورتوں کو پورا کرتا ہے؟
- آلودہ پانی کس طرح نقصان دہ ہے؟
- پانی کو ضائع ہونے سے کس طرح بچایا جا سکتا ہے؟
- ندیوں کو صاف رکھنا کیوں ضروری ہے؟
نیچے لکھے سوالوں کے جوابات میں سے آپ کون سا جواب منتخب کریں گے اور کیوں؟
(الف) پانی کو کس نے خطرے میں ڈال دیا ہے؟
- بڑھتی ہوئی آبادی
- صنعتی آلودگی
- پانی کا بے دریغ استعمال
(ب) پانی کی کمی میں سلسل اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ :
- زیر زمین پانی کی سطح نیچے ہو رہی ہے۔
- دریا، تالاب اور کنویں وغیرہ سوکھ رہے ہیں۔
- پانی میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔
●نیچے دیے گئے الفاظ کی جمع لکھیے :
- مرض ______________
- مقصد ____________
- ضرورت _________
- ترقی __________
- تصور __________
●دی گئی جدول کو مکمل کیجیے:
| اردو | ہندی | انگریزی | علاقائی زبان |
| برآمده | |||
| लेखनी | |||
| Nest | |||
| دریچه | |||
| Rainwater Harvesting | |||
| जल |
●پانی ہمیں کہاں کہاں سے ملتا ہے، نیچے دیے گئے معمے میں انھیں تلاش کیجیے اور لکھیے:
تالاب چشمہ نہر کنواں نل ساحل سمندر بحر دریا آبشار جزیره ندی حوض
مثال: تالاب
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
میں قدرت کا انمول تحفہ ہوں۔“ اس جملے میں میں لفظ پانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اسم کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ ضمیر کہلاتا ہے، جیسے میں، ہم، تم ، تو وہ ، اُس ، ان وغیرہ ضمیر کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔ متکلم، حاضر اور غائب۔انھیں ضمیر شخصی کہتے ہیں ضمیر شخصی فاعلی حالت میں ہوتے ہیں یا مفعولی حالت میں۔ جیسے میں، میرا اور مجھے۔ یہاں میں ، ضمیر شخصی ہے اور میرا فاعلی حالت اور ”مجھے ، مفعولی حالت ہے۔
نیچے دیے گئے ضمیر کے الفاظ کی فاعلی اور مفعولی حالت معلوم کر کے لکھیے:
| ضمیر | فاعلی حالت | مفعولی حالت |
| میں | میرا | مجھے |
| ہم | ......... | ......... |
| تو | ......... | ......... |
| تم | ......... | ......... |
| وہ | ......... | ......... |
پانی پانی ہونا ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہیں شرمسار ہونا۔ پانی سے متعلق پانچ محاورے تلاش کر کے لکھیے :
تلاش کیجیے
- زمانہ قدیم میں پانی کے تحفظ کے لیے کیا طریقے استعمال کیے جاتے تھے ؟ اپنے والدین یا بڑوں سے گفتگو کر کے معلوم کیجیے کہ ان طریقوں اور آج کے طریقوں میں کیا فرق ہے؟
تخلیقی اظہار
- سبق میں پانی کے متعلق باتیں پانی کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ آپ کسی شے کو کردار بنا کر اس کے متعلق معلومات اُسی کی زبانی لکھیے۔ جیسے میں کتاب ہوں، میں درخت ہوں، میں سڑک ہوں وغیرہ۔
عملی کام
- رین واٹر ہارویسٹنگ کے بارے میں دیے گئے ویب لنک سے معلومات حاصل کیجیے اور جماعت میں ساتھیوں سے گفتگو کیجیے: https://nwm.gov.in
- پانی کا ہر قطرہ قیمتی ہے “ اس موضوع پر اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر چارٹ بنائیے اور اسے اپنے اسکول کے بورڈ پر لگائیے۔
- پانی کے تحفظ کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر کئی پروگرام چلائے جارہے ہیں ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور لکھیے۔
گلزار وطن
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے پودے اس میں نئے لگائیں
ایک ایک گل میں پھونکیں روح شمیم وحدت
اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں
مرغان باغ بن کر اُڑتے پھریں چمن میں
نغمے ہوں روح افزا اور دل ربا صدائیں
چھائی ہوئی گھٹا ہو موسم طرب فزا ہو
جھونکے چلیں ہوا کے اشجار کہا ہائیں
اس کنج دل نشیں میں قبضہ نہ ہو خزاں کا
جو ہو گلوں کا تختہ تختہ ہو اک جناں کا
بلبل کو ہو چمن میں صیاد کا نہ کھٹکا
خوش خوش ہو شاخ گل پر، غم ہو نہ آشیاں کا
موسم ہو جوشِ گل کا اور دن بہار کے ہوں
عالم عجیب دل کش ہو اپنے گلستاں کا
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے، گیت اس چمن کے گائیں
- سرور جهان آبادی
(پڑھنے کے لیے)