Skip to content
Sitaar Urdu







5 جگنو


جگنو کی روشنی ہے کاشانہ چمن میں!

آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ

یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا

تحکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا

حسن قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی

چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی، روشنی بھی


یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں

یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں

غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں

ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں

لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں

نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن میں!


پروانه اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا

وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا

1

ہر چیز کو جہاں میں قدرت نے دلبری دی

رنگیں نوا بنایا مرغانِ بے زباں کو

نظارہ شفق کی خوبی زوال میں تھی

رنگیں کیا سحر کو، بانکی دلہن کی صورت

سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو


پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی

گل کو زبان دے کر تعلیم خامشی دی

چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی

پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی

پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی


یہ امتیاز لیکن اک بات ہے ہماری

جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری

- محمد اقبال

2

لفظ و معنی

کاشانه : گھر
مهتاب : چاند
سفیر : پیغام لے جانے والا، غیر ملک میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والا
غربت : وطن سے دوری، پردیس
تکمه : گھنڈی ، بیٹن
قبا : ڈھیلا المبالباس جو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے
پیرہن : لباس، پوشاک
خلوت : تنہائی
ظلمت : اندھیرا، تاریکی
گین : گرہن، سایه
دلبری : دل لبھانے والا
رنگیں نوا : خوش آواز ، اچھی آواز
آرسی : وہ انگوٹھی جس میں آئینہ جڑا ہوتا ہے، آئینہ

غور کیجیے

  • اس نظم میں جگنو کی مثال سے قدرت کی بنائی ہر شے کی قدر و قیمت واضح کی گئی ہے۔ جگنو کو خود کار روشنی اور کشش کی علامت بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔
  • جگنورات میں چمکنے والا ایک کیڑا ہے۔ اس کے جسم کے نچلے حصے میں دو کیمیائی ماڈے لوسیفرین (Luciferin) اور لوسیفریز (Luciferase) ہوتے ہیں۔ لو سیفرین ہوا سے آکسیجن ملتے ہی چمک اٹھتا ہے۔ جگنو جب سانس لیتا ہے تو سانس کی نالی کے ذریعے ہوا اس کیمیائی ماڈے کو چھوتی ہے اور یہ مادہ جل اٹھتا ہے اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہی نظر بڑا دل کش ہوتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. شب کی سلطنت میں دن کا سفیر ، کس کو کہا گیا ہے اور کیوں ؟
  2. روشنی کا طالب اور روشنی کا سراپا کون ہے؟
  3. یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
    اس مصرع کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔
  4. جگنو کو چھوٹا سا چاند کیوں کہا گیا ہے ؟
3

●خالی جگہوں کو صحیح لفظ سے پر کیجیے اور مصرعے مکمل کیجیے:

  1. تکلمہ کوئی گرا ہے ___ کی قبا کا ( مهتاب / آفتاب)
  2. لے آئی جس کو ___ خلوت سے انجمن میں (فطرت/ قدرت)
  3. پروانه اک پتنگا___بھی اک پتنگا ( جگنو/ مکھی)
  4. یا شب کی ___ میں دن کا سفیر آیا ( حکومت/ سلطنت)

●کالم الف میں عبارت اور کالم 'ب میں اشعار دیے گئے ہیں۔ کالم ”الف“ کی عبارت کو اس سے متعلق کالم 'ب' کے شعر سے جو ڑ ملائیے:

(الف) (ب)
i. انسان اور جگنو میں فرق یہی ہے کہ ہماری جو رات ہے وہ اس کا دن ہے۔ 1 آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
ii. آسمان سے اُڑ کر کوئی ستارہ آیا ہے یا مہتاب کی کرن میں جان پڑ گئی ہے۔ 2 حسن قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں
iii. پروانہ دور کی کوئی چھٹی حسین چیز تھی جسے فطرت تنہائی سےمحفل میں لے آئی۔ 4 یہ امتیاز لیکن اک بات ہے ہماری جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●مصرعوں کو غور سے پڑھیے:

  1. غربت میں آکے چمکا، گمنام تھا وطن میں
  2. لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں

دونوں مصرعوں میں غربت اور وطن ، خلوت اور 'انجمن' الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ نظم سے ایسے دیگر الفاظ ڈھونڈ کر لکھیے اور ان کے متضاد بھی معلوم کیجیے :

لفظ

متضاد

Screenshot 2025-09-30 at 13-59-03 guky105.pdf

●نیچے لکھے الفاظ پر غور کیجیے:

حسن قدیم   تعلیم خامشی   کا شانه چمن   نظاره شفق

ان لفظوں میں علامت اضافت کا استعمال کیا گیا ہے جس میں کا، کی اور کے کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ دیے گئے الفاظ کو اضافت کے ساتھ لکھیے:

مثال: جان کا دشمن   دشمن جاں

دولت کی خواہش _______________

صبح کا نغمہ _________________

حکمت کی کتاب ________________

سر کا درد ________________

سمندر کی سطح ________________

5

●نیچے دیے گئے شعر کو غور سے پڑھیے:

سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی

اس شعر میں سایہ کو شجر ، ہوا کو پرواز ، پانی کو روانی اور موجوں کو بے کلی سے منسوب کیا گیا ہے۔ نیچے لکھے الفاظ کو ان الفاظ سے ملائیے جو اُن سے مناسبت رکھتے ہیں:

i. پہاڑوں سے گہرائی
ii. آسمان سے روانی
iii. سمندر سے چمک
iv. تاروں سے بلندی
v. دریا سے وسعت

تلاش کیجیے

  • دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور معلوم کیجیے کہ جگنوؤں کی کتنی قسمیں پائی جاتی ہیں اور کن ممالک میں جگنو زیادہ پائے جاتے ہیں؟ بڑی جسامت کے جگنو کہاں ہوتے ہیں اور وہاں لوگ انھیں کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ آپ اساتذہ اور والدین سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔
  • پہیلیوں کے بارے میں آپ جانتے ہیں۔ نیچے دی گئی پہیلیوں کو پڑھیے۔ دونوں کا جواب 'جگنو ہے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایسی پہیلیاں تلاش کر کے لکھے جن کا حل کسی پرندے یا جانور کا نام ہو۔

1. پنا بجلی کے جلتا بجھتا ہے خود ہی

سر شام رہ پر نکلتا ہے خود ہی

کسی قسم کا سیل لگتا نہیں ہے

خدا کی ہے قدرت چمکتا ہے خود ہی


2. ایک سے ایک پنچھی آوے

ٹک دیکھے اور چھپ چھپ جاوے

سمجھ کے کہنا قسم ہے تم پر

آگ بنا اجيالا دم پر

تخلیقی اظهار

  • نظم میں جگنو کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں انھیں اپنے الفاظ میں لکھیے۔

عملی کام

  • نظم میں لفظ ” گہن استعمال ہوا ہے۔ گہن چاند اور سورج دونوں میں لگتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سورج گہن کیوں لگتا ہے؟ جب بھی چاند گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، یعنی تینوں ایک سیدھ میں آجاتے ہیں۔ اُس وقت سورج کی کرنیں کچھ وقت تک زمین پر نہیں پہنچ پاتی ہیں اور اس طرح اچانک دن میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جیسے چاند ہوتا ہے، ہمیں سورج نظر آنے لگتا ہے۔ آپ چاند گہن کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے اس کے بارے میں گفتگو کیجیے۔
  • جگنو کو انگریزی میں فائر فلائی کہتے ہیں۔ ملیالم زبان میں منا منی ، کنڑ میں منچوہلو کہتے ہیں مختلف زبانوں میں اس کے نام معلوم کر کے چارٹ بنائیے۔
  • اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ گفتگو کیجیے اور معلوم کیجیے کہ کیوں جگنوؤں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔