Skip to content
Sitaar Urdu







6 بوڑھی اماں کی بات


گو ماموری ایک کسان تھا۔ اس کے پاس گزر بسر کے لیے کھیتی کے علاوہ ایک گائے، ایک جوڑی بیل اور ہمیں بکریاں تھیں۔ اس کا ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کے سامنے جانور باندھنے کا باڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے بارش بہت کم ہوئی تھی، اس لیے نہ فصلیں ہوئیں، نہ چارا پیدا ہوا۔ اس سال اساڑھ بھی سوکھا رہ گیا۔ بارش کی کوئی امید نہ رہی۔ ” کھیت جوت کر کیا کروں گا؟“ گومانے ایک لمبی سانس چھوڑتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا اور بیلوں کو ہانکتے ہوئے واپس گھر کی طرف چل دیا۔

اگلے دن صبح گو ما جلدی سو کر اٹھا۔ گائے، بیل اور بکریوں کو باڑے سے نکالا۔ اس کی بیوی گائے اور بکریوں کو لے کر انھیں چرانے چلی گئی۔ اس نے پھر ہمت کی اور ہل کو کندھے پر رکھ کر بیلوں کے ساتھ کھیتوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے کئی کسانوں نے ٹوک کر کہا کہ ” گوما! کھیت جو تنے سے کیا ہو گا؟ بارش کے تو آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ “ گومانے ان سب کی بات سنی۔ کئی بار اس کا دل ڈانواں ڈول بھی ہوا، پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری اور کھیت پر پہنچ گیا۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا سورج آگ اگل رہا تھا۔ زمین کو بھی غور سے دیکھا، کھیتوں میں گہری اور چوڑی دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ وہ بیلوں کی حالت دیکھ کر بھی فکرمند تھا۔ بھوک پیاس برداشت کرتے کرتے وہ کمزور ہو گئے تھے، اسے کچھ نا امیدی بھی ہونے لگی اور بیلوں کی حالت پر رحم آنے لگا۔

1

اس نے پھر ایک لمبی سانس لی اور ایک درخت کے نیچے کھیت کی مینڈ پر بیٹھ کر سوچنے لگا اب کیا کرے، وہ کھیت جوتے یا اسے یوں ہی پڑا رہنے دے۔ وہ غور و فکر میں ڈوبا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد اٹھا اور بھاری دل سے بیلوں کو ہانکتے ہوئے اس نے گھر کی راہ لی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اُس وقت تک کھیت نہیں جوتے گا جب تک کہ بارش نہیں ہو جاتی۔

دوسرے دن وہ اور بھی مایوس ہو گیا کیوں کہ دھوپ بہت تیز تھی۔ اس کے پاؤں آگے بڑھتے نہ پیچھے ہوتے۔ راستے میں ایک درخت کے سائے میں اس نے بیلوں کو روکا اور وہیں نیچے زمین پر بیٹھ گیا۔

اسی وقت وہاں پر ایک بوڑھی اماں آگئیں۔ وہ بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھ گئیں۔ گومانے پوچھا، ” ارے بوڑھی اتاں کہاں سے آرہی ہو، اتنی تیز دھوپ میں؟ تمھیں کہاں جانا ہے؟ بوڑھی اتاں نے کہا، “میں تو اپنی نواسی سے ملنے پاس کے گاؤں جارہی ہوں۔ لیکن تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟ یہ وقت تو کھیت میں ہل جو تنے کا ہے، کہ یا کیا تم بیمار ہو یا تمھارے بیل، کہیں تمھاراہل تو نہیں ٹوٹ گیا؟“

گو ما بولا۔ ” نہیں اتال! نا تو میں بیمار ہوں، نہ میرے بیل بیمار ہیں اور نہ ہی میر اہل ٹوٹا ہے۔ ٹوٹی ہے تو میری ہمت ! اماں تم تو واقف ہو ، تین سال ہو گئے، بارش ٹھیک سے نہیں ہوئی ہے۔ اس سال بھی یہی حال ہے۔ پھر میں کھیت جوت کر کیا کروں گا؟ بوڑھی اماں بولی، ” دیکھو بیٹا! بارش تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ تو قدرت پر منحصر ہے۔ جب بادل آئیں گے تو بارش ضرور ہوگی۔ تمھارا کام ہے کھیت جوت کر تیار کرنا تم تو اپنا کام وقت پر کرو۔ قدرت اپنا کام کرے گی۔ بارش ضرور ہو گی۔“

گو ما پھر بوڑھی اماں سے بولا ” کھیت خالی پڑے ہیں۔ میرے بیل دبلے ہو گئے ہیں، انھیں پیٹ بھر چارا تک نہیں مل رہا ہے۔ پینے کے لیے پانی کی قلت ہے۔ چارا پانی ہی کیا یہاں تو درختوں

2

کی پتیاں تک خشک ہو گئی ہیں۔ بیچارے بیل کیسے بل کھینچیں! بارش کی امید ہو تو ہمت بھی کریں۔“ گومانے مایوس ہوتے ہوئے کہا۔

بوڑھی اماں بولی۔ ”بیٹا! تم مایوسی کی بات مت کرو۔ درختوں کی بات بھی تم نے خوب کہی، یہاں تو انھیں کا ٹا جا رہا ہے۔ دیکھو وہ اب بچے ہی کہاں ہیں! جب درخت ہی نہیں ہوں گے تو بارش کیسے ہو گی! ہریالی کہاں ہوگی ! ہر یالی نہیں تو بارش بھی نہیں لیکن جو ہوا سو ہوا۔ اب تو تم لوگ درختوں پر توجہ دو۔ کھیتوں میں ہل چلاؤ۔ انھیں جوت کر بونے کے لیے تیار کرو۔ کبھی نہ کبھی تو بارش ہوگی ہی۔ بوڑھی اماں نے گو ما کی ہمت بندھاتے ہوئے کہا اور چھڑی کے سہارے اٹھتے ہوئے اپنی راہ چل دی۔

ویسے تو گو ما مایوس تھا مگر بوڑھی اتاں کی باتوں سے اس کی ڈھارس بندھی۔ اگلے دن سے اس نے پورے جوش کے ساتھ اپنا کھیت جو تنا شروع کر دیا۔ لگا تار چار دن تک ہل چلایا۔ کھیت خوب اچھی طرح تیار ہو گئے ۔ گو ما اپنا کام پورا کر کے بہت خوش تھا۔ اب وہ بیلوں کو ہانکتے ہوئے گھر کی طرف گا تا گنگناتا چل دیا۔ چار دن کی سخت محنت کی وجہ سے وہ نڈھال ہو چکا تھا۔ گھر پہنچتے ہی سو گیا۔ اس رات اُسے خوب اچھی نیند آئی۔

صبح جب وہ سو کر اٹھا تو گائے را نبھ رہی تھی۔ بکریاں ممیار ہی تھیں۔ اپنے جانوروں کی یہ آوازیں سننے کے لیے اس کے کان ترس گئے تھے۔ تبھی اس کی بیوی نے اسے باہر سے آواز دی، ”اجی سنتے ہو ! باہر تو آؤ ۔ بارش ہونے والی ہے۔“ گو ما فوراً باہر آیا۔ اس نے دیکھا، موسم بہت سہانا ہو گیا تھا۔ آسمان میں بادل چھا گئے تھے۔ وہ بادلوں کو دیر تک دیکھتارہا۔ اسے لگا جیسے بادلوں کی اوٹ سے بوڑھی اماں کی مسکراتی ہوئی شکل ابھر آئی ہو۔ اسے بوڑھی اماں کی بات رہ رہ کر یاد آرہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں کہ تم تو اپنا کام وقت پر کرو، قدرت اپنا کام کرے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی۔

- (لوک کہانی)

3

لفظ و معنی

باڑا : احاطہ ، جانوروں کو باندھنے کی جگہ
اساڑھ : شک سموت کا چوتھا مہینہ
جوتنا : ہل چلا کر مٹی ابھارنا
آثار : نشانات
مینڈ : پشتہ، کھیت کی منڈیر
منحصر : دوسروں پر انحصار کرنے والا، مدد کا منتظر
نڈھال : تھکا ہوا
4

غور کیجیے

  • کہانی میں وقت پر کام کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ تلقین بھی کی گئی ہے کہ مشکل حالات کا مقابلہ معقل مندی اور ہمت سے کرنا چاہیے۔
  • کسان کو در پیش مسائل میں وقت پر بارش کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ تیزی سے جنگلات کو کاٹا جانا اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال بارش کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ لہذا ما حولیاتی توازن برقرار رکھنا بھی بہت ضروری ہو جاتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. بارش نہ ہونے سے کھیت کی کیا حالت ہو گئی تھی ؟
  2. اگر گو ماموری وقت پر کام نہ کرتا تو کیا ہوتا ؟
  3. بوڑھی اماں نے کیوں کہا کہ تم تو اپنا کام وقت پر کرو، قدرت اپنا کام کرے گی۔“
  4. جھونپڑی سے باہر آ کر گو ماموری کو آسمان میں کیا تبدیلی نظر آئی؟
  5. کہانی میں آپ کو کون سا کردار سب سے زیادہ پسند آیا اور کیوں؟
5

یہ جملے کس نے کہے ہیں؟

کھیت جو تنے سے کیا ہو گا؟“ ________

باہر تو آؤ۔ بارش ہونے والی ہے۔“ _________

میں تو اپنی نواسی سے ملنے پاس کے گاؤں جارہی ہوں۔“ _____

بارش کی امید ہو تو ہمت بھی کریں۔“ _______

●اس لفظ پر دائرہ بنائیے جو مفہوم کے اعتبار سے بقیہ تین الفاظ سے الگ ہے:

مثال گھر مکان باڑا حویلی

  1. آثار آباد باقیات علامت
  2. ہمت طاقت حوصله بزدلی
  3. وطن میدان کھیت کھلیان
  4. پہاڑ کوہ وادی کوہ سار
  5. ابر بحر بادل گھٹا

●کون سا جملہ کس کے بارے میں کہا گیا ہے، لکھیے:

  1. حالت پر رحم آنے لگا ________
  2. آگ اگل رہا تھا ________
  3. گھر پہنچتے ہی سو گیا ________
  4. وہ اب بچے ہی کہاں ہیں ________

دی گئی عبارت کو پڑھیے اور سوالوں کے جواب لکھیے:

سبز انقلاب (ER - Green Revolution) ایک زراعتی تحریک تھی جو بیسویں صدی کے وسط میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصد زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کرنا تھا۔ اس انقلاب کو ہندوستان لانے میں ڈاکٹر ایم ۔ ایس سوامی ناتھن نے اہم کردار ادا کیا۔ اس انقلاب کے ذریعے گیہوں کی پیداوار میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ لیکن وقت کی ضرورت کے مطابق اب دوبارہ کیمیائی کھادوں، کیڑے مارنے والی دواؤں اور دیگر مصنوعی مواد کے بجائے قدرتی ذرائع اور ماحول دوست طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جسے نامیاتی زراعت (Organic Farming) کہتے ہیں۔ اس کا مقصد زمین کی زرخیزی کو محفوظ رکھنا، قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا اور صحت مند غذائی پیداوار فراہم کرنا ہے۔

  1. سبز انقلاب کا آغاز کب ہوا
  2. ہندوستان میں سبز انقلاب کا معمار کسے کہا جاتا ہے؟
  3. سبز انقلاب کے اثرات لکھیے۔
  4. سبز انقلاب سے کسی فصل کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا؟
  5. نامیاتی زراعت کے فائدے لکھیے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●دیے گئے جملوں کو غور سے پڑھیے:

  • ارے بوڑھی اماں! کہاں سے آرہی ہو، اتنی تیز دھوپ میں؟

دیکھو بیٹا! بارش تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔

او پر دیے گئے جملوں میں الفاظ اُرے اور بیٹا کے بعد علامت ؟ استعمال کی گئی ہے۔ یہ علامت ان الفاظ کے بعد لگائی جاتی ہے جہاں دکھ، خوشی یا حیرت کے جذبے یا کسی کو مخاطب کیا گیا ہو ۔ یہ خطابیہ اور فجائیہ کی علامت کہلاتی ہے۔ دیے گئے جملوں میں اس علامت کو صحیح جگہ پر لگائیے :

  1. افسوس تم نے وقت کی قدر نہیں کی۔
  2. ارے واہ تم نے تو کمال کر دیا۔
  3. ہائے میری کتاب گم ہو گئی۔
  4. شاباش تم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔
  5. افوہ بارش نے سارا پروگرام خراب کر دیا۔
  6. اف یہ گرمی برداشت سے باہر ہے۔
  7. ارے تم یہاں کیسے آگئے۔
6

سبق میں آئے اس جملے پر غور کیجیے "دیکھتے دیکھتے بارش تیز اور تیز تر ہوتی چلی گئی، یہاں بارش کی شدت اور تیزی کو ظاہر کرنے کے لیے تیز اور تیز تر الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ تیز تر میں تر ، لاحقہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ با معنی لفظ کے بعد آنے والے حروف کو لاحقہ کہتے ہیں۔ آپ تر ، لاحقہ لگا کر پانچ الفاظ لکھیے :

7

●مثال کے مطابق لفظوں کی ضد لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے :

مثال: قدرتی   مصنوعی   بلب مصنوعی روشنی کا ذریعہ ہے۔

  1. بیمار ____________
  2. واقف _____________
  3. فکرمند ____________
  4. خشک ________________
  5. چست _________________

●کہانی میں ہوا سو ہوا، کبھی نہ کبھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو نثر کو دل چسپ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح کے پانچ الفاظ تلاش کر کے لکھیے :

  1. _________________
  2. _________________
  3. _________________
  4. _________________
  5. _________________
8

●آب پاشی کے ذرائع کو انگریزی اور مقامی زبان میں لکھیے :

اردو   انگریزی   مقامی زبان

  1. تالاب ________________
  2. نہر _____________
  3. کنواں _____________
  4. سپه _____________
  5. ندی _____________

●دیے گئے معمے میں میوے اور اناج کے نام تلاش کر کے نیچے لکھیے :

9
  1. _________________
  2. _________________
  3. _________________
  4. _________________
  5. _________________
  6. _________________
  7. _________________
  8. _________________
10

تخلیقی اظهار

  • کھیت جوت کر کیا کروں گا“ گومانے ایک لمبی سانس چھوڑتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا اور بیلوں کو ہانکتے ہوئے واپس گھر آگیا۔ آپ کو ایسا کوئی واقعہ یا کام یاد ہے جب آپ نے کسی کام کو کرنے کے لیے دل ہی دل میں سوچا ہو لیکن کر نہ سکے ہوں۔ اس واقعے کی تفصیل لکھیے اور دوستوں کو سنائیے۔
  • بارش اور درختوں کے کٹنے کا ماحولیاتی توازن پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک مختصر مضمون لکھیے۔
  • کس مہینے میں کون سی فصل ہوئی اور کائی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں دوستوں سے گفتگو کیجیے۔ آج کھیتی کے طریقوں میں کون کون سی تبدیلیاں آگئی ہیں؟ اپنی زبان میں لکھیے۔

عملی کام

  • جس طرح جنوری ، فروری ، مارچ وغیرہ عیسوی سنہ کے بارہ مہینوں کے نام ہیں ۔ اسی طرح ہندی شک سموت اور و کرم سموت میں چیتر ، بیساکھ ، جیشٹھ اور ہجری سنہ میں محرم، صفر ، ربیع الاول وغیرہ مہینے ہوتے ہیں۔ اپنے بڑوں کی مدد سے عیسوی سنہ، شک سموت اور ہجری سنہ کے مہینوں کے نام معلوم کیجیے اور الگ الگ خانوں میں لکھیے :
  • عیسوی ہجری شک سموت
  • آپ کو معلوم ہے کہ سورج کی گرم کر نہیں جب سمندر کے پانی پر پڑتی ہے تو پانی بخارات بن کر بادل کی شکل میں اوپر کو اٹھتا ہے۔ پھر یہ بادل ہواؤں کے دوش پر سفر کر کے زمین پر برس پڑتے ہیں۔ اس پورے عمل کی تصاویر بنائیے اور کلاس روم میں پیش کیجیے۔
  • زراعت اور کسانوں کی بہبود کے لیے حکومت کی جانب سے پر دھان منتری کسان مان دھن یوجنا ، فصل بیمہ یوجنا اور کریڈٹ گارنٹی وغیرہ کئی پروگرام چلائے جارہے ہیں۔ نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ان پروگراموں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور ایک مضمون لکھیے:
https://agriwelfare.gov.in/en/major
11