7
برگیڈیر محمد عثمان
ہمارے وطن کی سلامتی اور حفاظت کے لیے بے شمار محب وطن جاں بازوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان میں ایک نام بر گیڈیر محمد عثمان کا ہے۔ اُن کی پیدائش 15 جولائی 1912 کو بی بی پور گاؤں ، ضلع مئو، اتر پردیش میں ہوئی۔ ان کی والدہ کا نام جمیلن بی بی اور والد کا نام قاضی محمد فاروق تھا جو بنارس میں شہر کو توال تھے۔ برطانوی حکومت نے اُن کی خدمات کے اعتراف میں انھیں خان بہادر کا خطاب دیا تھا۔
محمد عثمان کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ ان کے مزاج میں شروع سے ہی جاں بازی اور جاں نثاری کا جذبہ موجود تھا۔ اُن کی بہادری اور جرات کا پہلا مظاہر ہ 12 سال کی عمر میں اُس وقت ہوا جب انھوں نے کنویں میں ڈوبتے ہوئے ایک بچے کی جان بچائی تھی۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ ہندوستانی فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خدمت کریں۔ لہذا فوج کی ملازمت کے لیے وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
فوج میں اُن دنوں ہندوستانیوں کے لیے مواقع محدود تھے۔ اس کے باوجود محمد عثمان اپنی ذہانت اور لگن سے رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ (Sandhurst) جیسے مشہور ادارے میں داخلہ پانے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں اُسی کالج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ ان کا تقرر ہوا۔ ان کو دس دیگر ہندوستانی افسران کے ساتھ ہندوستانی فوج میں ملازمت کے لیے منتخب کیا گیا۔ ایک سال بعد ان کا تقرر ہندوستانی فوج کی دسویں بلوچ ریجمینٹ میں کر دیا گیا۔ 1936 میں ترقی پا کر وہ لیفٹینٹ ہو گئے۔
ملک کی آزادی اور تقسیم کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔ اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان ہرصورت میں جموں وکشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ ہندوستانی فوج نے دلیری اور جرات کی مثال قائم کی اور کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اس جنگ کی کامیابی کا سہرا بر گیڈ پیرمحمد عثمان اور ان کے فوجی ساتھیوں کے سر جاتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے انھیں اپنی فوج کا جنرل بنانے کی پیش کش کی تھی جسے انھوں نے ٹھکرادیا اور خود کو ہندوستان کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا۔
اس دوران قبائلیوں کے حملے کی وجہ سے جموں و کشمیر کے علاقے میں صورت حال بہت خراب ہو گئی تھی۔ ان قبائلیوں کی حمایت پاکستانی فوج کر رہی تھی جس کی وجہ سے ملک کی سالمیت کے لیے بڑا خطرہ لاحق تھا۔ جموں و کشمیر کے کئی علاقوں نوشہر ہ ، جھنگڑ اور کوٹ وغیرہ پر قبائلیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ جنھیں دوبارہ حاصل کرنے کی ذمہ داری بر گیڈیر محمد عثمان کو سونپتے وقت ہندوستانی فوج کے سر براہ جنرل کے۔ ایم۔ کری آپا نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ کوٹ کا علاقہ برگیڈیر محمد عثمان سے تحفے میں چاہتے ہیں۔
یہ علاقہ نوشہرہ سے نو کلو میٹر شمال مشرق میں واقع تھا یہ مقام جنگی لحاظ سے فوج کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ جنرل کری اپنا کی خواہش کی تکمیل کے لیے برگیڈیر محمد عثمان نے آپریشن کپر شروع کیا۔ کپر ، جنرل کری اپنا کا مختصر نام بھی تھا اور وہ اپنے ساتھیوں میں اسی نام سے جانے جاتے تھے۔ جنگ کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی کہ دشمن کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فوجی کار روائی میں بڑی تعداد میں دشمن کے سپاہی ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے۔ اس کے بعد جھنگڑ پر فتح حاصل کرنے کے لیے برگیڈیر محمد عثمان نے آپریشن وجے ، شروع کیا۔ جھنگڑ کا علاقہ میر پور اور کوٹلی سے آنے والی سڑکوں کے سنگم پر واقع تھا اور فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے بڑا اہم تھا۔ کہا جاتا ہے برگیڈیر محمد عثمان نے یہ عہد کیا تھا کہ جب تک جھنگڑ پر فتح حاصل نہیں کر لیتے تب تک وہ چار پائی پر نہیں سوئیں گے۔ اس لیے شدید سردی اور برف باری کے موسم میں بھی وہ زمین پر سوتے رہے۔ آپریشن وجے کے دوران برگیڈیر محمد عثمان نے نو شہرہ اور جھنگڑ پر دشمن کے حملوں کو نا کام کر دیا اور اس طرح ان علاقوں پر ہندوستان کا قبضہ پھر سے بحال ہو گیا۔ آپریشن وجے کی تکمیل کے بعد ہی وہ چار پائی پر سوئے۔ اس جنگ کی فتح یابی کے بعد بر گیڈیر محمد عثمان کو نوشہرہ کے شیر کا لقب دیا گیا۔
کوٹلی، نوشہرہ اور جھنگڑ کی فتح کے بعد برگیڈیر محمد عثمان کی قیادت میں ان کے ساتھیوں کا حوصلہ بلند ہوا اور یہ جنگ ان کی متحرک قائدانہ صلاحیت کی علامت بن گئی۔
3 جولائی 1948 کو ضابطے کے مطابق جب وہ شام کو میٹنگ کر رہے تھے، اسی وقت قریب سے ہندوستانی کیمپ پر گولہ باری شروع ہوگئی جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ بر گیڈیر محمد عثمان جو اُس وقت میجر بھگوان سنگھ کے ساتھ تھے، انھوں نے فوجیوں کو جوابی کارروائی کا حکم دیا جس کے نتیجے میں حملہ پسپا ہو گیا لیکن کچھ ہی دیر بعد اچانک دشمن کی جانب سے دوبارہ گولہ باری شروع ہو گئی جو رات بھر جاری رہی۔ ایک گولے کی زد میں آکر خود برگیڈیر محمد عثمان شدید طور پر زخمی ہوئے اور بالآخر شہید ہو گئے۔ برگیڈیر محمد عثمان ہندوستان کے پہلے اعلیٰ رینک افسر تھے جو میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
جب فوج آخری بار بر گیڈیر محمد عثمان کو سلامی دینے کے لیے جمع ہوئی تو ان میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جس کی آنکھیں نم نہ ہوں کیوں کہ انھوں نے اپنی شجاعت، اپنے عمل انھیں اور اخلاق سے سب کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ بعد از مرگ ملک کے دوسرے سب سے بڑے اعزاز مہاویر چکر سے نوازا گیا۔ نو شہرہ اور جھنگڑ میں ان کی یاد میں میموریل قائم کیے گئے۔
بر گیڈیر محمد عثمان کی شجاعت اور بہادری کے قصے آج بھی سنے جاتے ہیں ۔ وہ ہندوستانی فوج کے ایک قابل تقلید ہیرو کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔
لفظ و معنی
غور کیجیے
- برگیڈیر محمد عثمان کا تقرر بطور سیکنڈ لیفٹینٹ ہوا اور ترقی پاکر وہ برگیڈیر کے عہدے تک پہنچے۔ وہ میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے پہلے اعلیٰ رینک (اعلیٰ منصب پر فائز ) افسر تھے۔
- برگیڈیر محمد عثمان کو بہادری کے لیے مہاویر چکر سے نوازا گیا۔ بہادری کے لیے فوج میں اور بھی اعزازات دیے جاتے ہیں جیسے ویر چکر ، پرم ویر چکر ، شور یہ چکر ، اشوک چکر اور سینا میڈل وغیرہ۔
- سبق میں خطاب اور لقب الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ ”خطاب سے مراد ایسا نام یا ٹائٹل جو حکومت یا کسی خاص ادارے کی جانب سے مختلف شعبوں میں اہم خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت عام طور پر لوگوں کو ان کی وفاداری اور خدمات کے اعتراف میں خان بہادر ، شمس العلماء اور سر وغیرہ کے خطابات سے نوازا کرتی تھی۔ بر گیڈیر محمد عثمان کے والد کو بھی برطانوی حکومت نے خان بہادر کا خطاب دیا تھا۔ لقب سے مراد وہ نام ہے جو عوام میں کسی شخص کے اہم کارنامے یا غیر معمولی خدمات کے باعث مشہور ہو جائے۔ کئی اہم شخصیات اپنے سماجی، مذہبی ، ادبی اور سیاسی شعبوں میں مختلف لقب سے مشہور ہوئیں۔ برگیڈیر محمد عثمان کو بھی ان کی بہادری کی بنا پر نوشہرہ کے شیر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
سوچیے اور بتائیے
- برگیڈیر محمد عثمان کی وہ کون سی خصوصیات تھیں جن سے ان کی بہادری کا اندازہ ہوتا ہے؟
- برطانوی راج میں ہندوستانیوں کے لیے فوج میں اعلیٰ عہدے کے مواقع کیوں کم تھے؟
- برگیڈیر محمد عثمان نے بیرونی ملک کی پیش کش کیوں ٹھکرادی؟
- برطانوی دور حکومت میں خطابات کیوں دیے جاتے تھے ؟ کیا اب بھی خطابات دینے کا رواج ہے ۔
- برگیڈیر محمد عثمان کو نوشہرہ کے شیر کا لقب کیوں دیا گیا ؟
نیچے دیے گئے سوالوں کے ساتھ جوابات میں سے آپ کون سا جواب منتخب کریں گے اور کیوں؟
(الف) برگیڈیر محمد عثمان کی مقبولیت کی کیا وجہ تھی ؟
- ان میں متحرک قیادت کا ہنر موجود تھا۔
- وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔
- ان کے مزاج میں جاں بازی و جاں نثاری کا جذبہ تھا۔
(ب) جھنگڑ کا علاقہ فتح کرنا کیوں ضروری تھا؟
- فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا۔
- میر پور اور کوٹلی سے آنے والی سڑکوں کے سنگم پر واقع تھا۔
- انھوں نے عہد کیا تھا کہ جب تک وہ جھنگڑ فتح نہیں کر لیں گے تب تک چار پائی پر نہیں سوئیں گے۔
●خالی جگہوں کو صحیح لفظ سے پر کیجیے:
- برطانوی حکومت نے برگیڈ یرمحمد عثمان کے والد کی خدمات کے اعتراف میں انھیں خان بہادر کا ___ دیا تھا۔(لقب /خطاب)
- ان کا تقرر ہندوستانی فوج کی دسویں ___ ریجیمنٹ میں کر دیا گیا۔(سکھ/ بلوچ)
- کری اپنانے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ ___ کا علاقہ برگیڈیر محمد عثمان سے تحفے میں چاہتے ہیں۔(نوشہرہ/ کوٹ)
- انھوں نے اپنی ___ عمل اور اخلاق سے سب کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔(بہادری / شجاعت )
●دیے گئے مخففات کا جوڑان کی مکمل شکل سے ملائیے:
| این ایس جی (NSG) | سینٹرل ریزرو پولیس فورس |
| سی آر پی ایف (CRPF) | بارڈر سکیورٹی فورس |
| بی ایس ایف (BSF) | سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس |
| آئی ٹی بی پی (ITBP) | نیشنل سکیورٹی گارڈ |
| سی آئی ایس ایف (CISF) | انڈو تبت بارڈر پولیس |
●نیچے دیے گئے الفاظ کے واحد لکھیے:
| جمع | واحد |
| مواقع | _____ |
| افسران | _____ |
| افواج | _____ |
| ذرائع | _____ |
| خدمات | _____ |
●دیے گئے الفاظ کو انگریزی، ہندی اور مقامی زبان میں لکھیے:
| الفاظ | انگریزی | ہندی | مقامی |
| خدمت | ____ | ____ | ____ |
| مسلسل | ____ | ____ | ____ |
| تحقیق | ____ | ____ | ____ |
| تقرر | ____ | ____ | ____ |
| تنخواه | ____ | ____ | ____ |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
ان جملوں کو غور سے پڑھیے:
- بر گیڈیر محمد عثمان کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔
- برگیڈیر محمد عثمان کی شجاعت اور بہادری کے قصے آج بھی مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔
- وہ ہندوستانی فوج کے ایک قابل تقلید ہیرو کی حیثیت سے ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔
آپ کو معلوم ہے کہ زمانے کے لحاظ سے فعل کی تین قسمیں ہیں۔ فعل ماضی ، فعل حال اور فعل مستقبل۔ اوپر کے جملوں میں پہلے جملے کا فعل گزرے ہوئے وقت کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ فعل ماضی کی مثال ہے۔ دوسرے جملے کا فعل موجودہ وقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ فعل حال کی مثال ہے۔ تیسرے جملے کا فعل آنے والے وقت کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ فیصل مستقبل کی مثال ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کے دو دو جملے بنائیے :
- ___________________
- ___________________
- ___________________
- ___________________
- ___________________
- ___________________
- گفتگو کرتے وقت ہم کہیں ٹھہرتے ہیں اور کہیں نہیں ٹھہرتے۔ کہیں کم ٹھہرتے ہیں اور کہیں زیادہ عبارت میں یہ کام بعد بعض علامتوں کے استعمال سے لیا جاتا ہے۔ یہ وہ خاص علامتیں ہیں جو عبارت کو صحیح طور پر پڑھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، انھیں رموز اوقاف کہتے ہیں۔ درج ذیل عبارت میں رموز اوقاف کا استعمال کرتے ہوئے نیچے عبارت کو دوبارہ لکھیے:
بیگم حضرت محل کا اصلی نام محمدی بیگم تھا وہ واجد علی شاہ کی ملکہ تھیں انگریزوں نے بادشاہ کو نا اہل قرار دیتے ہوئے معزول کر دیا واجد علی شاہ کے بیٹے برجیس قدر جو کم سن تھے ان کی 5 جولائی 1857 کو تخت نشینی کر دی گئی حضرت محل نے سپاہیوں کو حکم دیا وہ بہادری اور جوش کے ساتھ لڑیں حضرت محل نے کہا وہ اپنے ملک کے لیے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کو تیار ہیں حضرت محل کو مدافعت سے روکنے کی خاطر انگریز سپہ سالار جنرل او ٹرم کی پہلی پیش کش تھی کہ شجاع الدولہ کے زمانے کا اودھ واپس کیا جائے گا بشرط یہ کہ جنگ موقوف کی جائے جناب عالیہ نے اوٹرم کی پیش کش کو جواب کے قابل بھی نہ سمجھا او رم کا دوسرا صلح نامہ جس میں واجد علی شاہ کی سلطنت واپس کرنے کا وعدہ تھا بشرط یہ کہ کسی اور مقام کا رُخ نہ کریں ان کو وہیں گھر بیٹھے پچیس ہزار روپے ماہوار وظیفہ ملے گا حضرت محل نے اس کی بھی پرواہ نہ کی
تخلیقی اظہار
- وطن سے محبت کرنے والے جاں باز تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اور ہمیشہ ان کی قدر کی جاتی ہے۔ “ اس موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- ہمارے ملک کے امن، نظم وضبط اور استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر دفاعی نظام قائم ہے۔ افواج کی مختلف اقسام اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں معلوم کیجیے اور انھیں اپنی زبان میں لکھیے۔
- کسی نامور شخصیت کو اس کی صفات کے مطابق لقب دیا جاتا ہے جیسے برگیڈیر محمد عثمان کو نوشہرہ کا شیر “ کا لقب دیا گیا ہے۔ ایسی چند شخصیات کے نام اور ان کے القاب معلوم کر کے لکھیے۔
- مہاویر چکر ہندوستانی فوج کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے جاں بازوں کو حکومت کی جانب سے پرم ویر چکر ، اشوک چکر ، ویر چکر بھی دیے جاتے ہیں۔ دیے گئے لنک کی مدد سے ان اعزازات کی تفصیلات معلوم کیجیے اور اعزاز یافتہ جاں باز سپاہیوں کی فہرست تیار کیجیے:
ہماری تہذیب
ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ یہاں کے باشندوں کے مذہب، ان کی زبانیں، رنگ روپ، لباس، کھانا پینا اور رسم و رواج گرچہ بیشتر ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر سب آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ ہماراملک ایک ایسے چمن کی مانند ہے، جس میں رنگ برنگ کے پھول اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ایسا باغ کتنا خوب صورت ہوتا ہے۔ ہندوستان بھی ایسا ہی دل نشیں باغ ہے۔ اس کی رنگ برنگی خوبصورت تہذیب ساری دنیا میں مشہور ہے۔
ہندوستان کے رہنے والوں میں میل جول اور پیار محبت کا جذبہ پیدا کرنے کی سب سے زیادہ کوشش صوفی سنتوں نے کی ہے۔ صوفیوں کی خانقاہیں اور سنتوں کی کٹیاں انسان دوستی اور بھائی چارے کے بڑے مراکز رہی ہیں۔ آج بھی اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہیں ہندو مسلم اتحاد اور میل ملاپ کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح سنت کبیر داس اور گرو نانک کی تعلیمات سے ہندوستان کی ملی جلی تہذیب پروان چڑھی ہے۔
ہمارے ملک میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی آپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ یہاں کے تہوار ہولی، دیوالی، عید ، بیساکھی اور کرسمس سب لوگ مل جل کر مناتے اور ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں برابر شریک رہتے ہیں۔
ہندوستان کے دور دراز علاقوں کا سفر کیجیے تو ایسا لگتا ہے کہ اس ایک ملک میں کئی ملک آباد ہیں۔ اس کی ندیاں، پہاڑ، کھیت، میدان اور ریگستان، اس میں رہنے والوں کے رنگ روپ، رہن سہن، ان کی بولی ٹھولی اور طور طریقے ہمیں ایک ساتھ کئی ملکوں کی سیر کرا دیتے ہیں۔ کثرت میں وحدت یا انیکتا میں ایکتا کی ایسی انوکھی مثال ہمارے ہی ملک میں دیکھنے کو ملتی ہے کہیں اور نہیں۔ ہماری مشتر کہ تہذیب کا یہ پہلو بہت روشن اور خوب صورت ہے۔ اس ملی جلی تہذیب کی ایک اچھی علامت اور عمدہ نمونہ اردو زبان ہے۔ یہ زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی ہے۔ اس کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے اور اس کی تشکیل میں ہندوستان کی مختلف بولیوں اور زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ اردو بولنے، پڑھنے اور سمجھنے والے ہر مذہب کے لوگ ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ان سب نے مل کر اس زبان کے شعر و ادب کو مالا مال کیا ہے ہمیں ہر قیمت پر اپنی رنگارنگ تہذیب اور خوبصورت زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
-اداره
( پڑھنے کے لیے)