9
ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن
ہمارے ملک میں اساتذہ کی حیثیت ایک نعمت کی رہی ہے جن سے استفادہ کا سلسلہ صدیوں سے آج تک جاری ہے۔ ان کے دیے ہوئے سبق کی روشنی صرف کلاس کے کمروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیلتی رہی ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن ہیں جو فلسفے میں غیر معمولی حیثیت رکھنے والے استاد تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دماغوں کو روشن کرنے والے اپنے لیکچر اور علمی کتابوں کے ذریعے ہندوستانی فلسفے کو مغربی ملکوں کے سامنے پیش کیا تھا۔
رادھا کرشنن 15 ستمبر 1888 کو تیر وتانی کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سرو پلی ویر سومیا اور ماں کا نام سیتا تا تھا۔ سرو پلی آندھرا پردیش کا ایک گاؤں ہے جہاں سے رادھا کرشنن کے بزرگ ہجرت کر کے تامل ناڈو میں آباد ہو گئے تھے۔ ویر سومیا ایک زمینداری میں بہت معمولی ملازم تھے۔
رادھا کرشنن کی اسکولی تعلیم پہلے تیر وتانی اور بعد میں تروپتی کے لو تھیرن مشن اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے ویلور کے وور ہیں (Voorhees) کالج میں تعلیم حاصل کی۔
ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے بچپن میں نامساعد حالات، مالی مشکلات اور دوسرے خانگی مسائل کے باوجود اپنی ہمت اور حوصلے سے بلند ترین مقامات حاصل کیے۔ وظیفوں کی مدد سے انھوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ ان کی صلاحیت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کے اساتذہ کا مشورہ تھا کہ انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی جاکر تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔ خود ان کی بھی خواہش تھی لیکن ممکن نہ ہو سکا۔ اپنے خاندان کی قلیل آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے انھیں دوران طالب علمی میں ہی کام کرنا پڑا۔ انھیں اپنے وہ سونے کے تمغے بھی فروخت کرنے پڑے
جو انھیں کئی امتحانوں میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے پر ملے تھے۔ اپنے ملک میں رہ کر ہی انھوں نے اپنی ذہانت، محنت اور لگن سے اعلی ترین تعلیمی سفر ، شاندار کامیابی کے ساتھ طے کیا اور ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
ایم ۔اے کے بعد رادھا کرشن 1909 میں مدراس پریسیڈنسی کالج میں اسسٹنٹ لیکچر رہو گئے۔ یہ ان کی تدریسی زندگی کا آغاز تھا۔
انھوں نے ہندوستانی کلاسیکی فلسفے کو سمجھنے کے لیے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا جن میں آپ نشد ، بھگوت گیتا اور بدھ مت کی بنیادی تحریر میں خاص ہیں۔ انھوں نے چینی اور مغربی ملکوں کے فلسفے کا بھی مطالعہ کیا۔ مغربی فلسفے نے ڈاکٹر رادھا کرشنن کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ رفتہ رفتہ پتلاد بلا سا جسم، بڑا ساسر ، چشمہ لگائے، کھلی روشن پیشانی، پیلی عقابی ناک، ایک لمبا پیلا ساکوٹ، سفید پگڑی رفت رفته بتلاد بلا اسم، ، اور بے داغ سفید دھوتی میں ملبوس شیخی علمی دنیا کے لیے ایک جانی پہچانی شخصیت بنتا چلا گیا۔
مدراس کے پریسیڈنسی کالج کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ ان کا لیکچر موضوع کی وضاحت اور صفائی میں بے مثال ہوتا تھا۔ اس نوجوان استاد کا ان کے طالب علم دل سے احترام کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی کلاس میں ایک لفظ سخت نہیں کہا مگر ان کی کلاس کا نظم وضبط سب سے بہتر تھا۔
ایک مثالی اور ممتاز استاد کی حیثیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ رادھا کرشنن نے کئی علمی مضامین لکھے جو دنیا کے اہم جریدوں میں شائع ہوئے، جن سے لوگ بے حد متاثر ہوئے۔ ان کی علمیت، قابلیت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 1918 میں رادھا کرشنن کو میسور یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔
ڈاکٹر رادھا کرشنن کی پہلی کتاب دی فلاسفی آف را بندرناتھ ٹیگور (The Philosophy of Rabindranath Tagore) عنوان سے شائع ہوئی۔ دو سال بعد 1920 میں اُن کی دوسری کتاب دی رین آف ریلیجن ان کا نٹمپریری فلاسفی The Reign of Religion in Contemporary) منظر عام پر آئی۔ )Philosophy
ان دو کتابوں اور ان کے علمی مضامین جو بین الاقوامی شہرت یافتہ رسالوں میں شائع ہوئے تھے ، ان کو ہندوستان کے علمی طبقے نے
بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ڈاکٹر رادھا کرشنن کو کلکتہ یونیورسٹی میں جارج پنجم پروفیسر آف فلاسفی کی قابل قدر جگہ پر مقرر کیا گیا۔
میسور کے اپنے تین برس کے قیام کے دوران طالب علموں سے اپنے خصوصی رشتے اور تعلق کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز ہو گئے تھے۔ وہ اپنے ہر طالب علم کو پہچانتے اور یاد رکھتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا انھوں نے ایک الگ نام بھی رکھ لیا تھا۔ جب کوئی طالب علم برسوں بعد بھی ان سے کہیں ملتا تو رادھا کرشنن اس کا وہی نام لے کر مسکراتے ہوئے اس کی پیٹھ تھپتھپاتے تھے۔
اسی پیار اور قربت کا سچے دل سے اعتراف کرتے ہوئے میسور کے طالب علموں نے ان کو بالکل نئے انداز سے رخصت کیا۔ طالب علموں نے اپنے استاد رادھا کرشنن کو ایک گاڑی میں بٹھایا اور اپنی پوری جسمانی قوت سے اس گاڑی کو کھینچتے ہوئے اسٹیشن تک لے گئے۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کوئی نہیں چاہتا تھا کہ وہ ان سے جدا ہوں، لیکن اگلی کامیابیاں ڈاکٹر صاحب کا انتظار کر رہی تھیں۔ 1923 میں کلکتہ سے انھوں نے وہ کتاب شائع کی جو ان کی زندگی کا شاہکار ہے۔ اس کتاب کا نام ہے انڈین فلاسفی (Indian Philosophy۔ یہ رادھا کرشنن کی کتاب کا ہی فیض تھا کہ فلسفے کے مطالعات میں ہندوستانی فلسفہ کو ایک اہم اور خصوصی شاخ کے طور پر شامل کیا گیا۔
ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کی علمی لیاقت کو دیکھتے ہوئے برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے انھیں دعوت دی کہ وہ 'ہندو نظریہ حیات کے موضوع پر وہاں لیکچر دیں۔ بعد میں یہ عام لیکچر کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے۔ ان لیکچروں کے بعد رادھا کرشنن کو آکسفورڈیونیورسٹی کے شعبہ برائے مذاہب کا تقابلی مطالعہ (Department of Comparative Religions) میں صدر کی جگہ کے لیے منتخب کیا گیا۔
1931 میں انھیں آندھر ایونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا گیا۔ اس نئی ذمے داری میں انھوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا زبردست مظاہرہ کیا۔ وہ بنارس ہندو یو نیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہے۔
اپنی تمام علمی، تعلیمی اور انتظامی مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر رادھا کرشنن انگریزی راج کے خلاف ہندوستان کے مطالبوں کو بہترین اور مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے اور 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ان سے درخواست کی کہ وہ یونیورسٹی ایجو کیشن کمیشن کی صدارت سنبھال لیں۔ اس کمیشن میں ہندوستان اور بین الاقوامی سطح کے تعلیم کے ماہرین شامل تھے اور انھیں تعلیمی نظام کا ایک ایسا خاکہ تیار کرنا تھا جس میں ہندوستانیت پائی جاتی ہو اور یہ نظام نو آبادیاتی طرز فکر اور تصورات سے آزاد ہو۔
اپنے ملک کے تعلیمی اور معاشرتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ان کی کوششیں سب پر عیاں تھیں۔ اس لیے 1952 ے 1962 تک نائب صدر جمہوریہ کی حیثیت سے دو مدتیں پوری کرنے کے بعد ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن 1962 میں ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنائے گئے ۔ 1954 میں رادھا کرشنن کو ہندوستان کے سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا یوم پیدائش، یوم اساتذہ کے طور پر منایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 5 ستمبر کو ملک بھر میں یوم اساتذہ کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
1967 میں صدر جمہوریہ کے عہدہ سے سبک دوش ہوئے۔ 17 اپریل 1975 کو لاکھوں ہندوستانیوں کو غمگین اور اداس چھوڑ کر عظیم شخصیت اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ ڈاکٹر سر و پلی رادھا کرشنن آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے افکار و نظریات ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا ”تم فلسفی ضرور ہو جاؤ لیکن اپنی شہرت کے اعلیٰ مقام پر بھی آدمی ہی رہو۔ “
- ما خود
لفظ و معنی
غور کیجیے
- ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن ایک ممتاز معلم ، فلسفی اور مصنف تھے ۔ ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے۔ دی فلاسفی آف را بندرناتھ ٹیگور (The Philosophy of Rabindranath Tagore) ان کی پہلی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ریلیجن سائنس اور کلچر (Religion Science and Culture)، 'مائی سرچ فار ٹروتھ ان کی قابل ذکر کتا بیں ہیں۔ )Indian Philosophy( اور انڈین فلاسفی )My search for truth(
- ڈاکٹر سر و پلی رادھا کرشنن 1952 میں ہندوستان کے پہلے نائب صدر جمہوریہ اور 1962 میں ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
- وہ ہمارے ملک کے پہلے رہنما تھے جنھیں برطانیہ کا اعلیٰ ترین اعزاز آرڈر آف میرٹ (Order of Merit) سے نوازا گیا۔
سوچیے اور بتائیے
- رادھا کرشنن اپنے طالب علموں میں کیوں مقبول تھے ؟
- آپ کو ان کی شخصیت کا کون سا پہلو پسند ہے اور کیوں؟
- وہ کون سے اوصاف ہیں جو کسی استاد کو ہر دل عزیز بناتے ہیں؟
- یونیورسٹی ایجو کیشن کمیشن میں رادھا کرشنن اور دوسرے ماہرین کی ذمہ داری کیا تھی؟
●سبق میں آئے درج ذیل واقعات کو زمانی ترتیب سے لکھیے اور سنہ و تاریخ بھی درج کیجیے:
- مدراس پریسیڈنسی کالج میں اسٹنٹ لیکچر رہونا
- کلکتہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہونا
- میسور یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر منتخب ہونا
- آندھر ایونیورسٹی کا وائس چانسلر مقر رہونا
- صدر جمہور یہ منتخب ہونا
- بھارت رتن سے نوازا جانا
●نیچے دیے گئے الفاظ کی ضد لکھیے:
اعلیٰ _____________
فروخت _____________
مضبوط _____________
بلندی _____________
قدیم _____________
●نیچے دیے گئے الفاظ کے واحد لکھیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے:
| جمع | واحد | جملوں میں استعمال |
| مضامین | ||
| مذاہب | ||
| اقوام | ||
| اعزا | ||
| أمور | ||
| حقوق |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- آپ پڑھ چکے ہیں کہ رموز اوقاف وہ نشانات ہیں جو ایک جملے کو دوسرے جملے یا جملے کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے الگ کرتے ہیں مثلاً ختمہ (-) ، سکتہ (،)، رابطہ (:) اور واوین ( ) وغیرہ ۔ رموز اوقاف کا استعمال کرتے ہوئے درج ذیل عبارت کو درست کیجیے:
بچوڈاکٹر رادھا کرشنن اپنی غیر معمولی علمی صلاحیت اور اعلیٰ فکر و فلسفے کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہیں ان کی مختلف تصانیف میں انڈین فلاسفی (Indian philosophy) مشہور ہے تدریس و تعلیم سے ان کی غیر معمولی رغبت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ 5 ستمبر جو اُن کی پیدائش کا دن ہے اسے یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کیا آپ کو ان کی اور کتابوں کا علم ہے؟
انتظامی امور ، مرکب لفظ ہے۔ دونوں الفاظ میں دوسر الفظ، پہلے لفظ کی کیفیت و خصوصیت بیان کر رہا ہے۔ لہذا دوسرا لفظ صفت ہے اور جس لفظ کی صفت بیان کی جا رہی ہے اس کو موصوف کہتے ہیں، اس طرح کے الفاظ کو مرکب توصیفی کہا جاتا ہے۔ ذیل میں دیے گئے مرکب توصیفی الفاظ میں سے موصوف اور صفت کو الگ الگ لکھیے اور ان کو جملوں میں استعمال کیجیے :
| مرکب الفاظ | موصوف | صفت | جمله |
| اعلیٰ فکر | ____ | ____ | ____ |
| طرز خطابت | ____ | ____ | ____ |
| علمی لیاقت | ____ | ____ | ____ |
| امتیازی مرتبه | ____ | ____ | ____ |
| روشن دماغ | ____ | ____ | ____ |
| الوداعی تقریب | ____ | ____ | ____ |
●درج ذیل معمے میں ہندوستان کے مختلف سابق صدور جمہوریہ کے نام تلاش کیجیے اور نیچے لکھیے :
- _________مکھرجی
- _________حسین
- پر تھا_________
- __________الكلام
- __________سنگھ
- ___________رمن
- وی___________
- ____________پرساد
تخلیقی اظہار
نیچے لکھی عبارت کو غور سے پڑھیے۔
رفتہ رفتہ پتلاد بلا سا جسم، بڑا سا سر ، چشمہ لگائے، کھلی روشن پیشانی، پیلی عقابی ناک، ایک لمبا پیلا ساکوٹ، سفید پگڑی اور بے داغ سفید دھوتی میں ملبوس شیخص علمی دنیا کے لیے ایک جانی پہچانی شخصیت بنتا چلا گیا۔
مذکورہ عبارت رادھا کرشنن کی شخصیت کو پیش کرتی ہے جس میں خاکے کی خصوصیات موجود ہیں۔ خاکہ اردو ادب کی ایک صنف ہے۔ اس میں کسی شخصیت کی قلمی تصویر کشی کی جاتی ہے اور اس کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں۔ آپ بھی اپنی پسندیدہ شخصیت کا خاکہ لکھیے۔
عملی کام
- رادھا کرشنن کا یوم پیدائش 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آپ کے اسکول میں ٹیوم اساتذہ کے موقع پر کون سے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان کی تفصیل رپورٹ کی شکل میں لکھیے۔
- نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے اور اسے اپنی زبان میں لکھیے: https://centralvista.gov.in/
- آپ کو معلوم ہے کہ پارلیمنٹ ہندوستان کا اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے۔ یہ صدر اور دو ایوانوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا پر مشتمل ہے۔ حال ہی میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ اس عمارت کا افتتاح 28 مئی 2023 کو ہوا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ اس میں تین داخلی دروازے گیان دوار، شکتی دوار اور کر ما دوار ہیں۔ دیے گئے ویب لنگ کی مدد سے اس عمارت کی تفصیلات معلوم کیجیے اور انھیں کاپی میں لکھیے:
know-central-vista-plan.php
former-president/dr-sarvepalli-radhakrishnan