Skip to content
Sitaar Urdu







11 دو بیلوں کی کہانی


جھوری کا چھی کے پاس دو بیل تھے۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے۔ بہت دنوں سے ایک ساتھ رہتے تھے۔ دونوں میں محبت ہو گئی تھی جس وقت یہ دونوں بیل ہل یا بیل گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہلا ہلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے۔ ایک ساتھ ناند میں منہ ڈالتے۔ ایک ساتھ ہی بیٹھتے۔ ایک منہ ہٹالیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا۔

اتفاق کی بات ، جھوری نے ایک بار دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنی سسرال بھیج دیے۔ بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جارہے ہیں۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا۔ اگر ان بے زبانوں کی زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے ، ” تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا ؟ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی تم نے جو کچھ کھلایا، سر جھکا کر کھالیا، پھر تم نے ہمیں کیوں بیچ دیا۔“

1

شام کے وقت دونوں بیل گیا کے گاؤں جاپہنچے۔ دن بھر کے بھوکے تھے، دونوں کا دل بھاری ہو رہا تھا جسے انھوں نے اپنا گھر سمجھا تھا، وہ اُن سے چھوٹ گیا تھا۔ جب گاؤں میں سوتا پڑ گیا، تو دونوں نے زور مار کر چکے تڑا لیے اور گھر کی طرف چے چلے۔ جھوری نے صبح اٹھ کر دیکھا تو دونوں بیل چرنی میں کھڑے تھے۔ گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے اور دونوں کی آنکھوں میں محبت کی ناراضگی جھلک رہی تھی۔ جھوری اُن کو دیکھ کر محبت سے باؤلا ہو گیا اور دوڑ کر اُن کے گلے سے لپٹ گیا۔ گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہو گئے اور تالیاں بجا بجا کر ان کا خیر مقدم کرنے لگے۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا، کوئی گڑ اور کوئی بھوسی۔ جھوری کی بیوی نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا تو جل اٹھی ، بولی ” کیسے نمک حرام بیل ہیں۔ ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا، بھاگ کھڑے ہوئے۔“

جھوری اپنے بیلوں پر یہ الزام برداشت نہ کر سکا، بولا، "نمک حرام کیوں ہیں؟ چارہ نہ دیا ہو گا، تو کیا کرتے۔“ عورت نے تنک کر کہا ، ”بس تمھیں بیلوں کو کھلانا جانتے ہو ، اور تو سبھی پانی پلا پلا کر رکھتے ہیں۔“ دوسرے دن جھوری کا سالا جس کا نام گیا تھا، جھوری کے گھر آیا اور بیلوں کو دوبارہ لے گیا۔ اب کے اس نے گاڑی میں جو تا۔ شام کو گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسیوں سے باندھا اور پھر وہی خشک بھو سا ڈال دیا۔ ہیرا اور موتی اس برتاؤ کے عادی نہ تھے۔ جھوری انھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھا۔ یہاں مار پڑی، اس پر خشک بھوسا، ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھائی۔ دوسرے دن گیانے بیلوں کو ہل میں جو تا، مگر انھوں نے پاؤں نہ

2

اٹھایا۔ ایک مرتبہ جب اس ظالم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا، تو موتی غصے کے مارے آپے سے باہر ہو گیا۔

ہل لے کے بھاگا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیاں نہ ہوتیں تو وہ دونوں نکل گئے ہوتے۔

موتی تو بس اینٹھ کر رہ گیا۔ گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا۔

آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھو سالایا گیا۔ دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ اس وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منھ میں ایک ایک روٹی دے کر چلی گئی۔ لڑکی گیا کی تھی۔ اس کی ماں مر چکی تھی سوتیلی ماں اسے مارتی رہتی تھی۔ ان بیلوں سے اُسے ہمدردی ہو گئی۔ ونوں دن بھر جوتے جاتے۔ اُلٹے ڈنڈے کھاتے، شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی لڑکی اُنھیں ایک ایک روٹی دے جاتی۔

ایک بار رات کو جب لڑکی روٹی دے کر چلی گئی تو دونوں رسیاں چبانے لگے لیکن موٹی رسی منھ میں نہ آتی تھی۔ بے چارے زور لگا کر رہ جاتے۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھلا اور وہی لڑکی نکلی۔ دونوں سر جھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے۔ اس نے ان کی پیشانی سہلائی اور بولی، ” کھول دیتی ہوں، بھاگ جاؤ ، نہیں تو یہ لوگ تمھیں مار ڈالیں گے۔ آج گھر میں مشورہ ہو رہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائے۔ “ اس نے رستے کھول دیے اور پھر خود ہی چلائی اور ادا! او دادا! دونوں پھوپھا والے بیل بھاگے جارہے ہیں۔ دوڑو دوڑو !

گیا گھبرا کر باہر نکلا، اُس نے بیلوں کا پیچھا کیا وہ اور بھی تیز ہو گئے۔ گیا نے جب اُن کو ہاتھ سے نکتے دیکھا تو گاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لینے کے لیے لوٹا۔ پھر کیا تھا دونوں بیلوں کو بھاگنے کا موقع مل گیا۔

سیدھے دوڑے چلے گئے۔ راستے کا خیال بھی نہ رہا، بہت دور نکل گئے، جب دونوں ایک کھیت کے کنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے ؟ دونوں بھوک سے بے حال ہو رہے تھے۔ کھیت میں مڑ کھڑی تھی، چرنے لگے۔ جب پیٹ بھر گیا تو دونوں اچھلنے کودنے لگے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک موٹا تازہ سانڈ جھومتا چلا آرہا ہے۔ دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر

3

لے کر آگے بڑھے۔ جوں ہی ہیرا پر جھپٹا، موتی نے پیچھے سے ہلہ بول دیا۔ سانڈ اس کی طرف مڑا تو ہیرا نے دھکیلنا شروع کر دیا۔ سانڈ غصے سے پیچھے مڑا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ رکھ دیے۔ بے چارہ زخمی ہو کر بھاگا۔ دونوں نے دور تک تعاقب کیا۔ جب سانڈ بے دم ہو کر گر پڑا ، تب جاکر دونوں نے اُس کا پیچھا چھوڑا۔

دونوں بیل فتح کے نشے میں جھومتے چلے جارہے تھے۔ پھر مٹر کے کھیت میں گھس گئے۔ ابھی دو چار ہی منھ مارے تھے کہ دو آدمی لاٹھی لے کر آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا۔ دوسرے دن دونوں دوست کا نجی ہاؤس میں بند تھے۔

ان کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کھانے کو تنکا بھی نہ ملا۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں، کئی بکریاں ، گھوڑے اور گدھے تھے مگر چارہ کسی کے سامنے نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے۔ رات کو جب کھانا نہ ملا تو ہیر ابولا، ” مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے۔“ موتی نے کہا ، ” تم اتنی جلدی ہمت نہ ہارو، بھائی یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچو۔“ باڑے کی دیوار کچی تھی۔ ہیرا نے اپنے نکیلے سینگ دیوار میں گاڑ کر سوراخ کیا اور پھر دوڑ دوڑ کر دیوار سے ٹکریں ماریں۔ ٹکروں کی آواز سن کر کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر نکلا۔ اُس نے جو یہ رنگ دیکھا تو دونوں کو کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی رسی سے باندھ دیا۔ ہیرا اور موتی نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ پھر اسی طرح دیوار میں ۔ سینگ لگا کر زور کرنے لگے۔ آخر دیوار کا کچھ حصہ گر گیا۔ دیوار کا گرنا تھا کہ جانور اُٹھ کھڑے ہوئے۔ گھوڑے، بھیڑ ، بکریاں، بھینسیں سب بھاگ نکلے ۔ ہیرا، موتی رہ گئے۔ صبح ہوتے ہوتے منشیوں، چوکیداروں اور دوسرے ملازمین میں کھلبلی مچ گئی۔ اُس کے بعد اُن کی خوب مرمت ہوئی۔ اب اور موٹی رسی سے باندھ دیا گیا۔

ایک ہفتے تک دونوں بیل وہاں بندھے پڑے رہے۔ خدا جانے کا نجی ہاؤس کے آدمی کتنے بے درد تھے، کسی نے بے چاروں کو ایک تنکا بھی نہ دیا۔ ایک مرتبہ پانی دکھا دیتے تھے۔ یہ اُن کی خوراک تھی۔ دونوں کمزور ہو گئے۔ ہڈیاں نکل آئیں۔

ایک دن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی اور دو پہر ہوتے ہوتے چالیس پچاس آدمی جمع ہو گئے۔ تب دونوں بیل نکالے گئے۔ لوگ آکر ان کی صورت دیکھتے اور

4

چلے جاتے۔ ان کمزور بیلوں کو کون خرید تا اتنے میں ایک آدمی آیا، جس کی آنکھیں سرخ تھیں ، وہ منشی جی سے باتیں کرنے لگا۔ اس کی شکل دیکھ کر دونوں بیل کانپ اٹھے۔ نیلام ہو جانے کے بعد دونوں بیل اُس آدمی کے ساتھ چلے۔ اچانک انھیں ایسا معلوم ہوا کہ یہ رستہ دیکھا ہوا ہے۔ ہاں ! ادھر ہی سے تو گیا ان کو اپنے گاؤں لے گیا تھا، وہی کھیت، وہی باغ ، وہی گاؤں ، اب ان کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تکان ، ساری کمزوری، ساری مایوسی رفع ہو گئی۔ ارے یہ تو اپنا کھیت آگیا۔ یہ اپنا کنواں ہے، جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے۔

دونوں مست ہو کر کلیلیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اور اپنے تھان پر جا کر کھڑے ہو گئے۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑا آیا۔ جھوری دروازے پر بیٹھا دھوپ کھا رہا تھا، بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس آدمی نے آکر بیلوں کی رسیاں پکڑ لیں۔ جھوری نے کہا کہ ” یہ بیل میرے ہیں۔“، ”تمھارے کیسے ہیں۔ میں نے انھیں نیلام میں لیا ہے۔ “ وہ آدمی زبر دستی بیلوں کو لے جانے کے لیے آگے بڑھا۔ اس وقت موتی نے سینگ چلایا، وہ آدمی پیچھے ہٹا ہوتی نے تعاقب کیا اور اسے کھدیڑتا ہوا گاؤں کے باہر تک لے گیا۔ گاؤں والے یہ تماشاد لکھتے تھے اور ہنستے تھے۔ جب وہ آدمی بار کر چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔

ذراسی دیر میں ناند میں کھلی، بھوسا، چوکر ، دانا سب بھر دیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے۔

جھوری کھڑا اُن کی طرف دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا۔ بیسیوں لڑ کے تما شاد یکھ رہے تھے۔ سارا گاؤں مسکراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

اُسی وقت مالکن نے آکر اپنے دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے۔

- منشی پریم چند

5

لفظ و معنی

ناند : مویشیوں کے چارا کھانے کا برتن ( ہودا)
چرنی : وہ جگہ جہاں مویشی کھڑے ہو کر چارا کھاتے ہیں
تنگ کر : چڑھ کر
تھان : بیل باندھنے کی جگہ
تعاقب : پیچھا کرنا
کا نجی ہاؤس : وہ سرکاری جگہ جہاں لاوارث جانور رکھے جاتے ہیں
باڑا : جانوروں کے باندھنے کی جگہ
رفع کرنا : دور کرنا
کلیلیں : اچھل کو دکرنا

غور کیجیے

  • منشی پریم چند کی اس کہانی میں دو بیلوں ہیرا اور موتی کے ذریعے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔ دونوں بیل ہر مصیبت کا سامنامل جل کر کرتے ہیں اور آخر میں انھیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
  • جانوروں کے ساتھ محبت کا سلوک کیا جائے تو وہ وفاداری کی اچھی مثال ثابت ہوتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. بل اور گاڑی میں جوتے جانے کے بعد بیلوں کی کیا کوشش تھی ؟
  2. کانجی ہاؤس میں جانوروں کی کیا حالت تھی؟
  3. دونوں بیل بھاگ کر گھر واپس کیوں آگئے؟
  4. بیلوں کی ساری تکان، کمزوری اور مایوسی کب اور کیوں دور ہو گئی ؟

●نیچے دیے گئے جانوروں اور ان کے کاموں کا جوڑ ملائیے:

گائے بوجھ اٹھانا
بھیڑ سواری
بیل دودھ
کتا اون
گھوڑا کھیت جو تنا
خچر رکھوالی
6

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●آپ اسم خاص اور اسم عام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ اسم عام کی ایک قسم اسم ظرف ہے۔ مثال کے طور پر کانجی ہاؤس ، چرنی ، کھیت ، شام اور رات وغیرہ ۔ وہ لفظ جو کسی جگہ یا وقت کو ظاہر کرے، اسے اسم ظرف کہتے ہیں۔ اسم ظرف سے متعلق پانچ الفاظ لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

  1. ______________
  2. ______________
  3. ______________
  4. ______________
  5. ______________

●سبق میں ہل کا ذکر آیا ہے۔ یہ کھیت کو جو تنے کا ایک اوزار ہے۔ وہ لفظ جو کسی ہتھیار ، اوزار یا آلے کا نام ظاہر کرے اسے اسم آلہ کہتے ہیں۔ جیسے قلم، ہتھوڑا، چینی، کنگھا اور ہل وغیرہ۔ ایسے دس الفاظ تلاش کر کے لکھیے جو اسم آلہ کی مثال ہیں:

  1. ______________
  2. ______________
  3. ______________
  4. ______________
  5. ______________
  6. ______________
  7. ______________
  8. ______________
  9. ______________
  10. ______________

●نیچے دیے گئے محاوروں کے معنی تلاش کر کے انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

معنی   جملے

  1. جل اٹھنا ____________
  2. دل بھاری ہونا ____________
  3. پھول کی چھڑی سے نہ مارنا ____________
  4. ہلہ بولنا ____________
  5. جان میں جان آنا ____________

تلاش کیجیے

●آپ پڑھ چکے ہیں کہ بعض موقعوں پر کئی لفظوں میں کہی جانے والی بات کو ایک لفظ میں پیش کیا جاتا ہے۔ دی گئی مثال کے مطابق نیچے دیے گئے لفظوں کے لیے ایک لفظ لکھیے:

مثال: جس میں کوئی احساس نہ ہو   بے حس

  1. جہاں چار راستے ملتے ہیں ______
  2. وطن سے نکالا ہوا ___________
  3. بیمار کی دیکھ بھال کرنے والا ___________
  4. جس سے جان پہچان نہ ہو ___________
  5. خفیہ باتوں کا پتہ لگانے والا ___________

●کہانی میں جانوروں کے نیلام کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ چیزوں کی نیلامی پہلے کس طرح کی جاتی تھی اور آج کے زمانے میں اس عمل میں کون سی تبدیلیاں نظر آتی ہیں؟ اپنے بڑوں سے معلوم کیجیے اور لکھیے۔

تخلیقی اظهار

●نیچے دیے گئے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کھیت جو تنے سے لے کر روٹی پکانے تک کے عمل کو اپنی زبان میں لکھیے :

  • ہل چلانا
  • گیہوں کی صفائی
  • بیچ ہونا
  • کھیتوں کی سینچائی
  • گیہوں پینا
  • فصل کاٹنا
  • آٹا گوندھنا
  • روٹی ایکانا

عملی کام

  • پہلے زمانے میں ضروری اعلان کرنے کے لیے ڈھول یاڈ گڈگی بجا کر لوگوں کو جمع کیا جاتا اور تب اعلان کیا جاتا تھا۔ آج ہم اعلان کرنے یا پیغام دینے کے لیے کون کون سے طریقے استعمال کرتے ہیں؟
  • اگر آپ کے گھر یا پڑوس میں کوئی پالتو جانور ہے تو اس کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کیجیے اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اس کے متعلق گفتگو کیجیے۔
  • آپ جانتے ہیں کہ پیڑ پودے بھی جاندار ہوتے ہیں۔ وہ بھی پیدا ہوتے، بڑھتے ، سانس لیتے اور حرکت کرتے ہیں۔ انھیں بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے استاد سے دریافت کر کے لکھیے کہ پودوں میں یہ تمام کام کس طرح انجام پاتے ہیں؟
  • آج ہمارے ملک میں خوش حالی ہے، غلہ کثرت سے پیدا ہوتا ہے بلکہ دنیا میں درآمد بھی کیا جاتا ہے، اس کا سبب زراعت میں ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال ہے۔ معلوم کر کے لکھیے کہ کھیتی باڑی میں آج کس طرح نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے ؟
7

دو ہے

رحیمن دھاگا پریم کا، مت توڑو چٹکائے
ٹوٹے سے پھر نا ملے، ملے گانٹھ پڑ جائے

رحیمن پانی راکھیے بن پانی سب سٹون
پانی گئے نہ اوبرے، موتی، مانش، چون

ترور پھل نہیں کھات ہیں سرور پیہیں نا پان
کہی رحیم پر کاج بہت، سمیت سنجیں سجان

رحیمن دیکھ بڑین کو، لگھو نہ دیجیے ڈار
جہاں کام آوے سوئی، کہا کرے تلوار

8

جو رحیم اتم پر کرت کا کر سکت کسنگ
چندن وش و یا پت نہیں، لیٹے رہت بھجنگ

بگڑی بات بنے نہیں، لاکھ کروکین کوئے
رحیمن پھاٹے دودھ کو ، متھے نا ماکھن ہوئے

بڑے بڑائی نا کریں، بڑے نا بولیں بول
رحیمن ہیرا کب کہے، لاکھ ٹکا میرو مول

- عبد الرحیم خان خاناں
(پڑھنے کے لیے)

عبد الرحیم خان خانان مغل شہنشاہ اکبر کے دربار کے نورتنوں میں شامل تھے۔ ان کی کار کردگی، بہادری اور علمی صلاحیت کے سبب انھیں خان خاناں کا لقب ملا۔ وہ فارسی، ترکی کے علاوہ منسکرت اور برج بھاشا کے بھی عالم تھے۔ برج بھاشا میں ان کے دو ہے اپنی لسانی وفنی خوبیوں کے سبب بے مثال ہیں۔ ان کے دوہوں میں اخلاقی اقدار ، زندگی کا فلسفہ اور بلند انسانی تصورات موجود ہیں۔

9