Skip to content
Sitaar Urdu







12 ہمارے کھیل


تندرستی ہزار نعمت ہے۔ تندرست رہنے کے لیے اچھی غذا کے ساتھ ساتھ ورزش بھی ضروری ہے۔ ورزش کرنے سے انسان نہ صرف چاق و چوبند رہتا ہے بلکہ اس کا دماغ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے ” ایک صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ رہتا ہے۔ “ ورزش کے یوں تو بہت سے طریقے ہیں، جن میں سے ایک کھیل کو دبھی ہے۔ اس میں حصہ لینے سے ایک تو جسمانی قوت حاصل ہوتی ہے اور دوسرے لطف بھی آتا ہے۔

ہمارے ملک میں کئی ایسے کھیل ہیں جو کسی علاقے یا خطے سے مخصوص ہیں۔ کھیل یکجہتی کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ اس سے اتحاد کو بھی تقویت ملتی ہے۔ کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جنھیں عام طور پر بچے بے حد پسند کرتے ہیں۔ ان کھیلوں کے لیے زیادہ ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہوتی اور لطف بھی پورا ملتا ہے۔ جیسے پھو (ستولیا)، پکڑم پکڑائی، آنکھ مچولی، بتا کود، گڈا مار اور لٹو وغیرہ۔ کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جن میں بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوان بھی دل چسپی لیتے ہیں اور بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ مثال کے طور پر کشتی، کبڈی، گلی ڈنڈا، کھو کھو، ساکشی ، بھالا پچھینک، تیرا کی اور پتنگ بازی وغیرہ۔ ان کھیلوں میں سے کئی اولمپک کھیلوں میں بھی شامل ہو چکے ہیں اور دنیا بھر کے کھلاڑی ہندوستان کے ان علاقائی کھیلوں کو بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔

گشتی، بھالا پھینک اور تیرا کی ایسے کھیل ہیں جو قدیم زمانے سے ہمارے ملک میں کھیلے جاتے رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں کشتی کو دل یدھ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مل ، یعنی پہلوان اور مقابلے کو یدھ کہا جاتا ہے۔ عہد قدیم میں لکھی جانے والی مہا بھارت اور رامائن جیسی مذہبی کتابوں میں بھی ان کا ذکر موجود ہے۔ آج بھی

1

دنیا کے مختلف خطوں میں کشتی لڑی جاتی ہے۔ لوگوں نے اپنی صحت اور حفاظت کے لیے یہ کھیل ایجاد کیا تھا۔ لوگ اپنے خاندان کے افراد یا پڑوسیوں کے ساتھ کشتی لڑنے کی مشق کیا کرتے تھے۔ دھیرے دھیرے اس نے ایک فن کی شکل اختیار کر لی۔ پرانے زمانے میں کشتی کے مقابلے میلوں اور مذہبی تہواروں میں ہوا کرتے تھے ۔ اس فن کو بادشاہوں کی سر پرستی بھی حاصل رہی ہے۔ آمنے سامنے موجود دونوں کھلاڑی اپنی جسمانی قوت اور ہنرمندی ایک دوسرے پر آزماتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسا داؤ لگایا جائے کہ مقابل کھلاڑی چت ہو جائے۔ کشتی کے داؤ پیچ بہت مشہور ہیں۔ اس سے ذہنی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔ کشتی کو دنگل اور پہلوانی جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ کشتی کے شوقین لوگ اپنے گھروں کے آس پاس اکھاڑے بناتے ہیں۔ یہ اکھاڑے کچی مٹی کے ایک میدان کی شکل میں ہوتے ہیں۔

2

بھالا پھینک بھی ایک کھیل ہے۔ ایک مخصوص دوری سے کھلاڑی ہاتھ میں بھالا لے کر بھاگتا ہوا آتا ہے اور ایک خاص زاویے سے اسے زیادہ سے زیادہ دور پھینکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے کھلاڑی کے بازوؤں کی طاقت کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی اس بات کا فیصلہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے کتنی مہارت سے بھلا پھینکا ہے۔ یہ کھیل اولمپک کھیلوں میں بھی شامل ہے۔ دنیا بھر کے ملک اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہمارے ملک نے بھی اس کھیل میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتے ہیں۔

3

تیرا کی ہمارے ملک کا ایک مشہور کھیل ہے۔ لوگ پہلے دریاؤں اور نہروں کو تیر کر پار کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ چلو آپس میں مقابلہ کر کے دیکھتے ہیں کہ کون پہلے اُس پار پہنچتا ہے۔ اس طرح تیرا کی کا مقابلہ شروع ہوا۔ تیراکی میں ہاتھ اور پیروں کو ایک خاص انداز سے گھماتے رہنا ہوتا ہے۔ سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آنا ہوتا ہے۔ یہ بہت دل چسپ کھیل ہے لیکن اسے پہلے کسی ماہر تیراک یا کوچ کی مدد سے سیکھنا چاہیے، پھر تیرا کی شروع کرنی چاہیے۔

بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں بھی جو کھیل مقبول ہیں ان میں کبڈی، سر فہرست ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کا مقبول اور پسندیدہ کھیل ہے۔ 2010 کے عالمی کپ کے بعد کبڈی کو بین الاقوامی کھیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس میں سبھی کھلاڑیوں کو ہر وقت مخالف ٹیم کی طرف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اپنے بچاؤ

4

کے طریقوں کو ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ کبڑی کے لیے کسی سازو سامان یا اہتمام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبڈی کی ایک ٹیم سات کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ درمیان میں ایک لائن کھینچی جاتی ہے۔ ایک طرف کا کھلاڑی لائن عبور کر کے دوسری طرف کی ٹیم کے کھلاڑیوں کے جتھے میں آکر کسی ایک کھلاڑی کو یا ایک سے زیادہ کو چھو کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ اس طرح اس ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے۔ اگر مخالف ٹیم اس کھلاڑی کو چھو کر واپس جانے میں ناکام بنا دے تو پوائنٹ مخالف ٹیم کے کھاتے میں جمع ہو جاتا ہے۔ آنے والے کھلاڑی کو کبڈی کبڈی کبڈی کی مسلسل گردان کرنی ہوتی ہے اور اس میں سانس لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جہاں سانس ٹوٹتی ہے وہاں پوائنٹ نہیں ملتا۔

ہمارے ملک کا ایک اور مشہور کھیل گلی ڈنڈا ہے۔ اس میں ایک گلی اور ایک ڈنڈا ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو ایک چھوٹے سے لکڑی کے ٹکڑے کو ڈنڈے کی مدد سے زیادہ سے زیادہ دور پھینکنا ہوتا ہے۔ یہ گلی یعنی لکڑی کا چھوٹا ٹکڑا چار سے آٹھ انچ لمبا اور قطر میں ایک سے دو انچ تک موٹا ہوتا ہے۔ اس کے دونوں سروں کو تراش کر مخروطی شکل دی جاتی ہے۔ اس مخروطی ساخت کی لکڑی یعنی گلی کے کنارے پر جب ڈنڈا مارا جاتا ہے تو یہ گلی ہوا میں اچھلتی ہے۔ پھر اسی ڈنڈے سے اسے دوبارہ مارا جاتا ہے اور یہ دور جاکر گرتی ہے۔ اس کے بعد ڈنڈے کو زمین پر رکھ دیا جاتا ہے اور مخالف ٹیم کا کھلاڑی وہاں سے گلی کو اُٹھ کر دور سے ہی واپس ڈنڈے کی طرف مارتا ہے۔ اگر گلی ڈنڈے کو لگ جائے تو پوائنٹ نہیں ملتاور نہ کھیلنے والے کے کھاتے میں ایک پوائنٹ لکھ دیا جاتا ہے۔

5

رساکشی بھی ایک ایسا کھیل ہے جس میں بچے اور بڑے دونوں دل چسپی لیتے ہیں۔ یہ کھیل ایک کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے۔ اس میں دو ٹیمیں ہوتی ہیں جن میں شامل کھلاڑیوں کے وزن تقریباً برابر ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں 30 سے 40 فٹ لمبی، موٹی اور مضبوط رسی کے بیچ میں تین الگ الگ رنگ کے نشان لگائے جاتے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اپنی پوری طاقت سے ایک ساتھ رسی کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ درمیانی نشان کو اپنی جانب کھینچ لینے والی ٹیم مقابلہ جیت جاتی ہے۔

6

کھیلوں کی دنیا کا ایک اور اہم کھیل کھو کھو ہے۔ کھو کھو بھی ہمارے ملک کا ایک مقبول کھیل ہے۔ آپ نے اسے اپنے اسکول میں ساتھیوں کے ساتھ یا گھر میں خاندان کے لوگوں کے ساتھ کھیلا ہو گا۔ اس میں بھی دو ٹیمیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں۔ ہر ٹیم میں بارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ ایک ٹیم کے نو کھلاڑی زمین پر کچھ اس طرح اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کے برابر میں بیٹھے کھلاڑی کا رخ مخالف سمت ہوتا ہے۔ دوسری ٹیم کا ایک کھلاڑی دوڑتا ہوا آتا ہے اور بیٹھے ہوئے کھلاڑیوں کے گرد چکر لگاتا ہے۔ پھر بیٹھے ہوئے کھلاڑی کو اٹھ کر اس کے پیٹھ پر دھتا مار نا ہوتا ہے اور اسے کھو ، کہتے ہیں جس کھلاڑی کو کھو ملتی ہے وہ فورا مقابل کھلاڑی کے پیچھے دوڑ کر اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ بیٹھے ہوئے کھلاڑی پیچ میں سے نکل کر نہیں بھاگ سکتے لیکن اپنے ساتھی کھلاڑی کی پیٹھ پر ہاتھ مار کر اسے کھو دے سکتے ہیں۔ یہ کھیل بڑا دل چسپ ہے اور اسے کم یازیادہ کھلاڑیوں کے ساتھ بھی کھیلا جاسکتا ہے۔ 2025 میں پہلی بار ہمارے ملک میں کھو کھو عالمی کپ کا انعقاد ہوا جس میں خواتین اور مردوں دونوں ٹیموں نے پہلا مقام حاصل کیا۔

پتنگ بازی بھی ایک دل چسپ کھیل ہے۔ یہ دنیا کے کئی ملکوں میں کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل میں ایک دھاگے کی مدد سے آسمان میں پتنگ اڑائی جاتی ہے۔ اوپری سطح پر ہوا کے کم دباؤ اور نچلی سطح پر زیادہ دباؤ کی وجہ سے پتنگ او پر اڑتی ہے۔ آسمان میں اڑتی ہوئی رنگ برنگی پینگیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔ ایسی قندیل نما پینگیں بھی اڑائی جاتی ہیں جن میں ایک چھوٹا ساد یا رکھ دیا جاتا ہے جو دور سے بڑی خوشنما معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں بسنت پنجھی ، مکر نگر انتی اور یوم آزادی کے موقع پر پتنگ بازی کی جاتی ہے۔

7

بچوں کے کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جنھیں کھیلنے کے لیے کھلی جگہ درکار ہوتی ہے۔ ان کھیلوں میں پھو، پکڑم پکڑائی اور آنکھ مچولی وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری طرف کچھ کھیل چھوٹی سی جگہ پر بھی کھیلے جاسکتے ہیں جیسے دبتا کود اور لقو وغیرہ۔ بتا کود میں پانچ مستطیل خانے زمین پر بنائے جاتے ہیں جن میں تیسرا اور پانچواں خانہ درمیان میں لکیر کھینچ کر دو خانوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا پتھر لے کر خانوں میں پھینکا جاتا ہے اور اس کو اٹھانے کے دوران اگر لائن پر پاؤں آگیا تو باری ختم ہو جاتی ہے۔

لٹو کو بچے بڑے شوق سے کھیلتے ہیں۔ لٹو لکڑی کا گول تراشا ہوا دو سے تین انچ کا ہوتا ہے لٹو کے اوپر کا حصہ چوڑا اور نیچے کا حصہ پتلا ہوتا چلا جاتا ہے اور اس پہلے حصے کے سرے میں لوہے کی کیل یا نوک دار چیز لگی ہوتی ہے جس پر لٹو گھومتا ہے۔ اوپر سے نیچے تک لٹو کے درمیانی حصے میں انتہائی فنکارانہ انداز میں ڈوری لپیٹنے کی جگہ تراشی گئی ہوتی ہے۔ اس حصے پر ڈوری لپیٹ کر کھینچی جاتی ہے اور لٹو بڑی تیز رفتار سے گھومتا ہے۔ دو کھلاڑی اپنے اپنے لٹو اس طرح گھماتے ہیں کہ ان کے گھمائے ہوئے لٹو سے دوسرے کا گھومتا ہو اللو ٹکرا کر گر جائے۔

کھیل ہماری دل چیپسی کا سامان ہوتے ہیں اور یہ ضروری بھی ہیں۔ کھیلوں سے بچوں میں محبت اور حوصلہ مندی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذ بہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ کھیل ہر سطح پر کھیلے جاتے ہیں۔ کسی گاؤں سے لے کر بین الاقوامی سطحتک مقابلے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے کھیلو انڈیا اور فٹ انڈیا مہم چلائی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے بھی کھیل کے مواقع اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ پیرا سائکلنگ، پیرا روٹنگ، بلائنڈ جو ڈو، پیرانشانے بازی اور پیرا ٹیبل ٹینس وغیرہ کے لیے عالمی سطح پر پیرالمپکس کے نام سے کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔

2024 میں منعقد ہونے والے پیرس پیرالمپکس میں ہمارے ملک کے کھلاڑیوں نے اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 29 تمغے جیتے جو ہندوستانی کھلاڑیوں کی پیرالمپکس مقابلے میں اب تک کی سب سے بہترین کار کردگی ہے۔

- اداره

8

لفظ و معنی

چاق و چوبند : پھر تیلا
مقوله : کسی دانا کا قول
خط : علاقه
حساس : زیادہ محسوس کرنے والا
تقویت : مضبوطی، قوت
دفاع : حفاظت، بچاؤ
زاویه : دو خطوط کے ملنے کی جگہ ، وہ کوناجود و خط مستقیم کے ایک نقطے پر ملنے سے بنتا ہے
9

غور کیجیے

  • کھیل تفریح کا اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر صحت مند رہنے میں بھی مدد گار ہوتے ہیں۔ کھیلوں سے ہمارے اندر جوش پیدا ہوتا ہے اور مشق کی عادت پڑتی ہے۔ کھیل بیکجہتی کے جذبے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
  • ہمارے ملک میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا مضبوط ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے کھیلو انڈیا اور فٹ انڈیا مہم چلائی گئی ہے۔ یہ مہمات ہمارے علاقائی کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. تندرستی ہزار نعمت ہے “ سے کیا مراد ہے؟
  2. کھیل کسی جذبے کو فروغ دیتے ہیں اور کیسے ؟
  3. خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کے لیے کھیلوں کے کون کون سے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں؟
  4. کھیلوں سے کس طرح اتحاد، حوصلہ مندی اور آپسی تعاون کا جذ بہ فروغ پاتا ہے؟

● خالی جگہوں کو صحیح لفظ سے پر کیجیے:

  1. ورزش کرنے سے انسان ___ رہتا ہے۔(ست/ چست)
  2. کھیل کود میں حصہ لینے سے جسمانی ______ حاصل ہوتی ہے۔( قوت / طاقت)
  3. کھیل کجہتی کے جذبے کو ___ دیتے ہیں۔(ترقی /فروغ)
  4. گلی ڈنڈا پورے ہندوستان میں______ہے۔(معروف / مقبول)
  5. رساکشی کے کھیل میں ایک مضبوط ___ کے بیچ میں الگ الگ رنگ کے نشان لگائے جاتے ہیں (رسی ارشا)
10

●مثال کے مطابق نیچے لکھے لفظوں کی جمع اور جمع الجمع لکھیے :

جوہر جواہر جواہرات
رسم ____ ____
عجیب ____ ____
رقم ____ ____
خبر ____ ____
وجہ ____ ____

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●ان جملوں پر غور کیجیے:

دروازہ کھلا ہے، کھڑ کی کھلی ہے، مکان بڑا ہے، دیوار اونچی ہے۔ ان جملوں میں دروازہ، مکان مذکر کے طور پر اور کھٹر کی، دیوار مؤنث کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں سے مذکر اور مؤنث الگ الگ کر کے لکھیے :

کاغذ کتاب لباس مصیبت راسته خوف جلسه تعلیم موقع ہوا مٹی محنت

مز کر مؤنث
 
 
 
 
 
 

●نیچے دیے گئے کھیلوں کے مشہور کھلاڑیوں کے نام معلوم کر کے لکھیے۔

  • کرکٹ _____________
  • بیڈ منٹن _____________
  • ٹینس _____________
  • کیڑی _____________
  • فٹ بال _____________
  • بھالا پھینک _____________
11

●دی گئی عبارت کو غور سے پڑھیے۔ اس کا عنوان تجویز کیجیے اور یہ بھی بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں رکھا؟

ہمارے ملک کی مشہور کھلاڑی ارونما سنہا والی بال کی قومی کھلاڑی اور خصوصی ضروریات کی حامل کوہ پیما ہیں۔ ایک حادثے میں انھیں اپنے پیر سے محروم ہونا پڑا تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی، حالات کا سامنا کیا اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اردو نما سنہا نے ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی ایورسٹ محض 26 سال کی عمر میں فتح کی۔ ایسا کرنے والی وہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں۔ کھیلوں میں اعلیٰ کار کردگی پر حکومت ہند نے انھیں پدم شری اعزاز سے نوازا۔

12

●نیچے دیے گئے الفاظ کو پڑھیے:

زمین و آسمان شمس و قمر

ان الفاظ میں زمین اور آسمان ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی طرح شمس اور قمر بھی ایک دوسرے کی ضد ہیں جن کے معنی ہیں سورج اور چاند۔ ہم اپنی بات کو پُر اثر اور دل چسپ بنانے کے لیے متضاد الفاظ کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ ایسے الفاظ معلوم کر کے نیچے لکھیے:

13

تلاش کیجیے

  • ہمارے ملک کے کئی علاقوں میں تہوار کے موقع پر کشتی رانی کے مقابلے ہوتے ہیں۔ اس مقابلے کی تفص تفصیل معلوم کیجیے اور اپنی کاپی میں لکھیے۔
  • ه خصوصی ضروریات کے حامل کھلاڑیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر پیرالمپکس کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس زمرے میں ہمارے ملک کے جن کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور میڈل جیتے ، ان کے اور ان سے جڑے کھیلوں کے نام معلوم کیجیے اور باکس میں لکھیے:
14

●درج ذیل معنے میں دس مختلف کھیلوں کے نام چھپے ہوئے ہیں۔ انھیں تلاش کیجیے اور نیچے لکھیے:

15
  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________
  5. _______________
  6. _______________
  7. _______________
  8. _______________
  9. _______________
  10. _______________

تخلیقی اظہار

  • کھیلوں کے بارے میں بہت سی نظمیں اور گیت لکھے گئے ہیں۔ انھیں پڑھیے اور کسی ایک کھیل کو موضوع بنا کر نظم یا گیت لکھنے کی کوشش کیجیے۔

عملی کام

  • کیا آپ نے اپنے اسکول یا آس پاس کے علاقے میں ان بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہے جو اچھی طرح چل نہیں سکتے یا دوڑ نہیں سکتے یا سن اور دیکھ نہیں سکتے ؟ اگر آپ کو ان میں سے کسی ایک بچے سے گفتگو کرنے کا موقع ملے تو آپ کون کون سی باتیں معلوم کرنا چاہیں گے؟
  • اپنے علاقے میں کھیلے جانے والے کھیلوں کی فہرست تیار کیجیے اور یہ معلوم کیجیے کہ وہ دوسری جگہوں پر کھیلے جانے والے کھیلوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
  • اسکول کے اسپورٹس ڈے میں آپ نے جن کھیلوں میں حصہ لیا اس کی تفصیل اپنی کاپی میں لکھیے۔
  • دیے گئے ویب لنگ کی مدد سے کھیلوں کی تفصیل معلوم کیجیے:
  • https://yas.gov.in
16