13
جھلکاری بائی
کردار : رانی لکشمی بائی ، نانا صاحب، سامنت ، جھا کاری بائی، جنرل روز ، ایلچی، سپاہی اور دامودر راؤ ( خاموش کردار )
زمانه :سنه 1857
پہلا منظر
(رانی لکشمی بائی اپنے محل میں جنگی لباس میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے سامنے نانا صاحب اور کچھ سردار بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاس ہی ایک پلنگ پر رانی کا گود لیا بیاد امو در راؤ بیٹھا ہے۔ لکشمی بائی تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے۔)
کشمی بائی : جھانسی کے بہادر رو! انگریزوں کی ایک بڑی فوج نے جھانسی کو چاروں جانب سے گھیر لیا ہے۔ ہمارے کئی بہادر سپاہی شہید ہو چکے ہیں۔ ہمارے کچھ سردار انگریزوں سے جاملے ہیں۔ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ہم قلعے کا پھاٹک کھول دیں اور انگریزوں کی فوج سے جنگ لڑیں۔ اب جھانسی کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کا وقت آگیا ہے۔
سامنت : رانی صاحبہ ! جھانسی پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہم ہمیشہ تیار ہیں۔ ہم دامودر راؤ کی حفاظت کا انتظام بھی کر لیں گے۔ لیکن دانستہ طور پر انگریزوں کی فوج کے سامنے جاکر جان دینا عقل مندی نہیں ہے۔ اچھا تو یہ ہو گا کہ کسی طرح قلعے سے محفوظ نکل کر فوج کو از سر نو متحد کریں۔
لکشمی بائی : میں آپ کے منصوبے سے اتفاق کرتی ہوں لیکن اب انگریزوں کی فوج کا گھیرا توڑ کر باہر نکل پانا آسان نہیں ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ انگریزوں کے مخبر محل کے اندر بھی ہیں۔ یہ غدار ہماری چھوٹی چھوٹی باتیں انگریزوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں چوہے کی طرح بل میں چھپے رہنے سے تو اچھا ہے شیر کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔
نانا صاحب : رانی صاحبہ ! ہم آپ جیسی بہادر شخصیت کو انگریزوں کی فوج کے سامنے مرنے کے لیے نہیں جانے دیں گے۔ میں سامنت کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ آپ کا یہ فیصلہ جذباتی ضرور ہے لیکن حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہمیں کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ آپ کی شکست صرف رانی لکشمی بائی کی شکست نہیں ہو گی، پوری جھانسی کی شکست ہو گی۔ اگر جھانسی کی اتنی آسانی سے ہار ہو گئی تو پورے ہندوستان میں جاری جنگ آزادی کی تحریک خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس وقت سب کی نگاہیں آپ پر ٹکی ہوئی ہیں۔
(ایک ایلچی آتا ہے)
اینچی : رانی صاحبہ کی جے !
لکشمی بائی : کہو، کیا خبر لائے ہو ؟
اینچی : رانی صاحبہ اخبر اچھی نہیں ہے۔ انگریزوں کی فوج کا گھیرا جھانسی کے چاروں طرف سخت ہو گیا ہے۔ انھوں نے آپ کو زندہ پکڑنے کی ٹھان رکھی ہے۔
لکشمی بائی : وہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ خیر تم جاؤ ! حالات پر نظر رکھو !
(اپیلچی تیز قدموں سے چلا جاتا ہے)
لکشمی بائی : نانا صاحب ! میں کسی بھی حال میں انگریزوں کی قیدی نہیں بننا چاہتی ہوں۔ میں جھانسی کی حفاظت کرتے ہوئے موت کو گلے لگا لینا پسند کروں گی۔ آپ لوگ اپنے حوصلے کو یکجا کر کے تہیہ کریں کہ انگریزوں کی فوج کو شکست دینا ہے۔
(اسی دوران خواتین فوج کی سپہ سالار جھا کاری بائی داخل ہوتی ہے۔ وہ لکشمی بائی کی ہم شکل نظر آتی ہے۔)
جھا کاری بائی : رانی صاحبہ کی ہے !
لکشمی بائی : آؤ آؤ جھا کاری بائی! تم صحیح وقت پر آئی ہو۔ کہو، تمھاری فوج کی کیا تیاری ہے؟
جھا کاری بائی : رانی صاحبہ ! خواتین فوج، اگلی صفوں میں لڑنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ بس ... آپ کے حکم کا انتظار ہے لیکن ...
لکشمی بائی : لیکن کیا؟ بلا جھجک کہو۔
جھا کاری بائی : گستاخی معاف ہورانی صاحبہ ! مجھے اس فیصلہ کن جنگ کے لیے آپ کا فوجی لباس، پگڑی اور کلغی چاہیے۔
کشمی بائی : (مسکرا کر ) ٹھیک ہے جھا کاری بائی! تمھاری یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔
(لکشمی بائی کمرے میں جاتی ہے اور واپس آکر ایک تھال جھا کاری بائی کو دیتی ہے۔)
نانا صاحب : جهال کاری بائی! تمھارا منصوبہ کیا ہے؟ یہ تو بتاؤ۔
جھاکاری بائی : میرا منصوبہ یہ ہے کہ میں اپنی فوج کو لے کر انگریزوں کو قلعے کے مرکزی دروازے پر الجھا کر رکھوں گی۔ اس سے ان کی پوری توجہ مجھ پر رہے گی۔ وہ رانی سمجھ کر مجھے گھیرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ اتنے میں رانی صاحبہ دامودر کے ساتھ اپنی بہاد رفوج لے کر محل سے دور نکل جائیں گی۔
لکشمی بائی : لیکن جھا کاری ! میں تمھیں جان بوجھ کرموت کے منھ میں کیسے جانے دوں؟
جھا کاری بائی : رانی صاحبہ ! آپ ہی نے ہمیں سکھایا ہے کہ بہادر عورتیں موت سے نہیں ڈرتیں۔ ہم جان کی بازی لگا کر بھی جھانسی کی حفاظت کریں گے۔
نانا صاحب : جھلکاری بائی صحیح کہتی ہے رانی صاحبہ! اب آپ دیر مت کیجیے۔ (مہارانی کی جے! جھانسی امر رہے! “ کا نعرہ لگاتے ہوئے جھا کاری بائی باہر نکل جاتی ہے۔ اس کے پیچھے چند سپاہی بھی نکلتے ہیں۔ جھا کاری انھیں جھک کر سلام بجالاتی ہے اور چلی جاتی ہے۔)
(فیڈ آؤٹ)
دوسرا منظر
(سبھی درباری اور فوج کے سر براہ پریشان ہیں۔ لکشمی بائی پریشانی کی حالت میں بیٹھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ فوجی سر براہ اور دربار کے لوگ سنجیدگی سے کچھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نانا صاحب لکشمی بائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ )
نانا صاحب : رانی صاحبہ! ہمیں محل کا پھاٹک کھول کر انگریزوں پر حملہ کرنے کے بجائے اپنی فوج کو کسی اور طریقے سے حملہ کے لیے تیار کرنا چاہیے۔
سامنت : نانا صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں رانی صاحبہ! ہمارے بہت سے فوجی شہید ہو چکے ہیں۔ انگریزوں کے پاس جدید ہتھیار بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں جذبات کے بجائے حکمت عملی سے کام لینا چاہیے۔
لکشمی بائی : اس وقت حکمت عملی کے بجائے ہمت اور شجاعت کی ضرورت ہے۔ زیادہ سوچنے کا وقت نہیں ہے اب ...
(اس دوران جھا کاری بائی رانی لکشمی بائی کے فوجی لباس میں داخل ہوتی ہے۔ اور رانی لکشمی بائی کے بالکل قریب
آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ رانی لکشمی بائی سے اس قدر مشابہت رکھتی ہے کہ ان دونوں میں فرق کرنا دشوار ہوتا ہے کہ اصل کون ہے۔ سب لوگ اسے حیرت سے دیکھتے ہیں۔ جھا کاری بائی لکشمی بائی کے انداز میں ہی ان کے جملے کو مکمل کرتے ہوئے کہتی ہے۔)
جھلکاری بائی : میدان میں داخل ہونے کا وقت آگیا ہے۔
نانا صاحب : ارے جھا کاری بائی تم ! تم تو ہو بہ ہورانی صاحبہ لگ رہی ہو۔
جھا کاری بائی : آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میرا رانی صاحبہ کا ہم شکل ہو نا شاید آج زیادہ بامعنی ہو سکتا ہے۔
تیسرا منظر
( لکشمی بائی کے بھیس میں جھا کاری بائی انگریزوں کی فوج پر ٹوٹ پڑتی ہے۔ فوج کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ خواتین فوج بھی دشمنوں کے ساتھ جنگ کر رہی ہے۔ اسی دوران جھلکاری بائی کے جسم پر کئی زخم لگتے ہیں۔ وہ نڈھال ہو جاتی ہے۔ یہ دیکھ کر جنرل اپنی فوج کو حکم دیتا ہے۔ )
جنرل روز: سپاہیو! جھانسی کی رانی کو زندہ پکڑنا ہے۔ چاروں طرف سے گھیر لوا سے۔
(انگریزی فوج آگے بڑھتی ہے اور نڈھال جھا کاری بائی پر تلوار سے وار کرتی ہے۔ جھلکاری بائی زمین پر گر جاتی ہے۔ انگریزی فوج اسے قیدی بنالیتی ہے۔)
جنرل روز : جھانسی کی رانی ! تم بہت بہادر ہو۔ ہم تمھاری بہادری کو سلام کرتے ہیں لیکن اب تم ہماری قید میں ہو۔
جھا کاری بائی : ( کراہتے ہوئے جنرل ! جھانسی کی رانی کو زندہ پکڑنا تمھاری بساط سے باہر ہے۔ وہ زندہ رہنے تک آزاد ہی رہے گی۔ رانی جھانسی کی جے ! اتنا کہہ کر جھا کاری بے ہوش ہو جاتی ہے۔ جنرل اسے غور سے دیکھتا ہے۔)
جنرل روز : کیا؟ یہاں کوئی ہے جو اسے پہچانتا ہو ؟
(ایک سپاہی وہاں آتا ہے۔ فوجی خاتون کو غور سے دیکھتا ہے۔ اس کی گردن کو دوسری طرف کرتا ہے اور اسے پہچان لیتا ہے۔)
سپاہی : جنرل آپ کا شک صحیح ہے۔ یاکشمی بائی نہیں، اس کی ہم شکل جھا کاری بائی ہے۔
جنرل روز : جھا کاری بائی! اس عورت نے تو کمال کر دیا۔
(جھلکاری بائی کا مردہ جسم زمین پر پڑا ہے۔ جنرل روز حیرت زدہ کھڑا ہے۔ پر دہ دھیرے دھیرے گرتا ہے۔)
- (ہندی سے ترجمہ )
لفظ و معنی
غور کیجیے
- جھلکاری بائی رانی لکشمی بائی کی ہم شکل تھی۔ اس نے رانی لکشمی بائی کی جگہ انگریزوں سے لوہالیا اور وطن کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ وہ بہت بہادر خاتون تھی اور بہت ہی کم عمر میں گھڑ سواری اور ہتھیار چلانے کے فن میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ وہ رانی لکشمی بائی کی قابل اعتماد سپاہیوں اور مشیروں میں سے ایک تھی۔ اس کی بہادری کی وجہ سے اسے رانی لکشمی بائی کی فوج در گا دل میں اہم عہدہ حاصل تھا۔
سوچیے اور بتائیے
- رانی لکشمی بائی سامنت کا مشورہ کیوں قبول نہیں کرنا چاہتی تھی؟
- جھا کاری بائی نے کیا منصوبہ پیش کیا؟
- جھانسی کی رانی کو زندہ پکڑنا تمھاری بساط سے باہر ہے۔“ جھا کاری بائی نے کیوں کہا؟
- ڈرامے کا کون سا کردار آپ کو پسند ہے اور کیوں؟
● خالی جگہوں کو صحیح لفظ سے تر کیجے :
- دانستہ طور پر انگریزوں کی فوج کے سامنے جا کر جان دینا ___ نہیں ہے۔( عقل مندی ابہادری)
- رانی صاحبہ! ___ اگلی صفوں میں لڑنے کو تیار کھڑی ہے۔ (خواتین فوج / لکشمی بائی کی فوج)
- ارے جھا کاری بائی تم ! تم تو ہو بہ ہو___ لگ رہی ہو۔( نانا صاحب / رانی صاحبہ )
- جھانسی کی رانی کو زندہ پکڑنا تمھاری ___سے باہر ہے۔(بساط قدرت)
● کالم الف اور کالم 'ب' کے صحیح جو ڑ ملائیے:
| کالم (الف) | کالم (ب) |
| i. رانی لکشمی بائی | انگریزی فوج کا بڑا افسر |
| ii. نانا صاحب | رانی لکشمی بائی کا گو دلیا ہوا بیٹا |
| iii. جھال کاری بائی | ہندوستان کی خاتون مجاہد آزادی جنھوں نے جھانسی کی رہنمائی کی |
| iv. ایلچی | جھانسی کی فوج کے سردار |
| v. جنرل روز | خواتین فوج کی سپہ سالار |
| vi. دامودر راؤ | پیغام لانے والا |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- آپ کو معلوم ہے کہ جس لفظ سے کسی اسم کی خوبی، خامی یا خصوصیت ظاہر ہو، اُسے صفت کہتے ہیں اور وہ اسم جس کی خصوصیت ظاہر کی جائے، اُسے موصوف کہتے ہیں مثال کے طور پر چھوٹے بچے۔ یہاں چھوٹے صفت اور بچے موصوف ہے۔ نیچے دیے گئے جملوں میں سے صفت اور موصوف کو الگ کر کے لکھیے:
- انگریزوں کی ایک بڑی فوج نے جھانسی کو چاروں جانب سے گھیر لیا ہے۔
- ہمارے کئی بہادر سپاہی شہید ہو چکے ہیں۔
- رانی صاحبہ ! آپ ہی نے ہمیں سکھایا ہے کہ بہادر عورتیں موت سے نہیں ڈرتیں۔
- انگریزی فوج نڈھال جھال کاری بائی پر تلوار سے وار کرتی ہے۔
- انگریزوں کے پاس جدید ہتھیار بھی ہیں۔
| صفت | موصوف |
| |
● نیچے دیے گئے الفاظ کی جمع اور جمع الجمع بنائیے :
| لفظ | جمع | جمع الجمع |
| فتح | ||
| امر | ||
| شاہد | ||
| رکن | ||
| دوا |
● نیچے دیے گئے محاوروں کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
- بساط سے باہر ہونا ____________
- دشمن پر ٹوٹ پڑنا ____________
- اینٹ سے اینٹ بجانا ____________
- دانت کھٹے کرنا ____________
- پاؤں اکھڑنا ____________
تخلیقی اظهار
- دولوگوں کے درمیان گفتگو یا بات چیت کو ”مکالمہ“ کہا جاتا ہے۔ مکالمے ڈرامے کا اہم جز ہوتے ہیں۔ اپنے ہم جماعت ساتھی کے ساتھ مل کر کسی موضوع پر مکالمے لکھیے اور انھیں جماعت میں سنائیے۔
- آپ کو معلوم ہے کہ ملک کی آزادی کی لڑائی میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آپ کسی خاتون مجاہد آزادی کے بارے میں پڑھیے اور اپنے تاثرات کا تحریری اظہار کیجیے۔
عملی کام
- مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کی فہرست تیار کیجیے۔
- نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے جھا کاری بائی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
2. https://amritmahotsav.nic.in/
unsung-heroes-detail.htm23473
3. https://ncert.nic.in/pdf/module/
Nari_Shakti/NSF2E.pdf