14
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی
ڈیجیٹل لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ' انگلی اور انگلی ہی صدیوں سے گنتی کرنے میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ ہم آج بھی اپنی انگلیوں اور انگلیوں کے پوروں پر گنتی کرتے ہیں۔ اسی سے لفظ ڈیجٹ بنا جس کو ہم اُردو میں ہندسہ کہتے ہیں۔ ہند سے اگر چہ لامحدود ہیں لیکن اُن کی مدد سے چیزوں کو گننے اور اُن کا حساب رکھنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اسی لیے وقت کو بچانے کے لیے گنتی کرنے والی مشینیں ایجاد ہوئیں۔ لیکن ان کی بھی رفتار ہلکی تھی اور وہ صرف گنتی کر سکتی تھیں، کسی زبان کے حروف کو جمع کر کے مجملے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس مسئلے کا حل ایسے نکلا کہ صرف دو اعداد یعنی صفر اور ایک (0) کے ایسے کو ڈ بنائے گئے جن سے زبان کے حروف بھی لکھے جاسکتے تھے۔ جیسے انگریزی کے 'A' کا کوڈ 0110001 ہے۔ ان کوڑوں میں چوں کہ صرف دو عدد استعمال ہوتے تھے اس لیے ان کو بائنری کوڈ ، یعنی دو اعداد پرمشتمل کوڈ کہا گیا۔ اس کوڈ کے بننے کے بعد ہی کمپیوٹر بننے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1970 کے آس پاس ہماری میزوں پر کمپیوٹر آپہنچا اور ایک نئے انقلاب کی شروعات ہو گئی۔
آہستہ آہستہ ٹائپ رائٹر کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی۔ اب خط و کتابت اور ہر طرح کی لکھائی کمپیوٹر پر کی جانے لگی۔ اس کے اسکرین پہ لکھا ہوا دکھائی بھی دیتا تھا اور پرنٹ کر کے ایک صفحے کی کئی کا پیاں بھی بنائی جا سکتی تھیں۔
پھر ورلڈ وائڈ ویب (World Wide Web) جسے ہم انٹرنیٹ بھی کہتے ہیں، کی شروعات ہوئی۔ ہماری تحریریں، کمپیوٹر کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ ماؤس کی ایک کلک پر بھیجی جانے لگیں۔ اسی طرح تصویر اور آواز کو بھی اسی بائنری کوڈ میں تبدیل کر کے بھیجا جانے لگا۔ اس کو ڈیا ڈیجیٹل طریقے کو استعمال کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں نہ تو تحریر خراب ہوتی ہے اور نہ ہی آواز ۔
بٹ، کمپیوٹر میں استعمال کیا جانے والا اور جمع ہونے والا سب سے چھوٹا بائنری ڈیجٹ ہوتا ہے۔ بہت سارے بٹ جمع ہو کر بائٹ بناتے ہیں جس طرح کسی مالا میں موتی پرو دیے جاتے ہیں اسی طرح بائٹ میں بٹ کی ایک ایسی قطار ہوتی ہے جس کو کمپیوٹر پیغام کا ایک حصہ سمجھ کر اُس پر کام کرتا ہے۔ جس طرح کسی مالا میں 100 یا ہزار دانے ہوتے ہیں اسی طرح1 کلوبائٹ (KB) میں ایک ہزار چو بیس بائٹ اور ایک میگا بائٹ (MB) میں دس لاکھ اور ایک گیگا بائٹ (GB) میں تقریباً 1 ارب بائٹ ہوتی ہیں۔ بعد میں یہ کام مائیکرو چپ یا کمپیوٹر چپ کے ذریعے ہونے لگا۔ ڈاٹا کارڈ میں صرف معلومات جمع کی جاتی تھیں جب کہ چپ کے ذریعے اور بھی بہت سے کام کیے جاسکتے ہیں۔
کمپیوٹر ، جسے آپ نے اپنے اسکول یا دفتر میں دیکھا ہو گا یا لیپ ٹاپ کی شکل میں ایک کتاب جیسا دیکھا ہو گا، یہ تو کمپیوٹر کی پرانی اور عام شکل ہے۔ آج کمپیوٹر ہماری زیادہ تر مشینوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے کپڑے دھونے کی مشینیں، مائیکرو ویو، ریفریجریٹرس ، کاریں، ہوائی جہاز ، پانی کے جہاز اور ریل گاڑیاں غرض ہر ایک میں کمپیوٹر پروگرام چلتے ہیں۔ ان سب میں ان کے کاموں کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹر لگے ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اب ان کو ہم دور بیٹھے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ہماری سٹرک کی لائٹیں اب شام کو اندھیرا ہوتے ہی خود جلنے لگتی ہیں۔ آپ نے بہت سی جگہوں پر خود کار (آٹو میٹک) دروازے دیکھے ہوں گے جو آپ کے وہاں پہنچتے ہی خود کھل جاتے ہیں اور آپ کے اندر جانے پر بند ہو جاتے ہیں۔
کچھ دروازوں پر ڈیجیٹل تالے ہوتے ہیں جو مخصوص کوڈ سے کھلتے ہیں۔ بہت اہم جگہوں پر ایسے دروازے لگائے جاتے ہیں جن کو کھولنا کسی دوسرے کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔
انٹرنیٹ کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ سائبر سکیورٹی بھی ایک چیلنج ہے جس میں ڈیجیٹل حملوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ سائبر سکیورٹی کا کام کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون وغیرہ کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا ہے تا کہ اس کے استعمال سے ہم کسی دھو کہ دھڑی کا شکار نہ ہوں۔
اب آپ کو پیسے نکالنے کے لیے ہمیشہ بینک نہیں جانا پڑتا بلکہ جگہ جگہ لگی ہوئی اے ٹی ایم سے آپ پیسے نکال سکتے ہیں۔ یہ بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے چلتی ہیں اور اُسی کی مدد سے محفوظ رہتی ہیں۔ جب آپ سڑک پر جارہے ہوں تو سگنل اپنے آپ لال یا ہرا ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ بھی اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے خود کار طریقے سے کام کرتا ہے۔
کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سونے پہ سہاگہ کی مثال ہیں۔ اب آپ کمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر کسی بھی طرح کی معلومات پلک جھپکتے ہی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسمارٹ فون بھی ایک چھوٹا سا کمپیوٹر ہی ہے۔ اس سے آپ تصویر کھینچ سکتے ہیں اور انٹرنیٹ کی مدد سے اسے کہیں بھی بھیج سکتے ہیں موسیقی سن سکتے ہیں اور دوسروں سے شیئر کر سکتے ہیں۔ای۔ میل (E-mail) کے ذریعے آپ کہیں بھی خط بھیج سکتے ہیں، درخواست جمع کر سکتے ہیں اور اپنے کاغذات کی کاپی روانہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح بینک سے لین دین بھی کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے لائبریری کے میدان میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب آپ دور دراز کی کسی بھی لائبریری میں کون کون سی کتابیں ہیں ، گھر بیٹھے اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر تلاش کر سکتے ہیں۔ جو کتابیں الیکٹرانک شکل میں ہوتی ہیں اُن کو ای بک کہتے ہیں۔ ان کو آپ انٹرنیٹ کے
ذریعے اپنے موبائل، ٹیب یا کمپیوٹر پر پڑھ سکتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں ہماری روز مرہ کی سرگرمیاں جیسے ترسیل و ابلاغ، سماجی نیٹ ورکنگ، بینکنگ، خرید و فروخت، تعلیم اور نقل و حمل وغیرہ آن لائن لین دین سے انجام پاتے ہیں۔ اسی طرح اسمارٹ فون میں موجود ایپ کی مدد سے ہم کسی بھی کام کو کہیں سے بھی کر سکتے ہیں مثال کے طور پر ٹیلی فون اور بجلی کے بل کی ادائیگی ، ہوائی جہاز ، ریلوں اور بسوں کے ٹکٹ خرید ناوغیرہ۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے جہاں بے شمار فائدے ہیں وہیں کچھ خطرات بھی ہیں۔ کوئی شخص خاموشی سے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ اپنے کمپیوٹر پر ایسے وائرس ، پروگرام بناتا ہے کہ وہ آپ کے سسٹم میں آکر اُس پر قبضہ کر لیتا ہے اور اُس کی معلومات پھر الیتا ہے۔ اس کو ہیکنگ کہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل کو احتیاط سے استعمال کریں تو نہ نقصان سے بچ سکتے ہیں۔
موجودہ ڈیجیٹل عہد میں ہم مختلف قسم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں جیسے گوگل، ایکس ( سابقہ ٹوئٹر )، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب وغیرہ۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں فوری پیغامات کی ترسیل کے لیے ای میل اور سیل فون پر گفتگو تو کافی دنوں سے جاری ہے مگر آج زمانہ ویڈیو کانفر نسنگ تک پہنچ چکا ہے۔ آج ہم ویڈیو کالنگ کے ذریعے ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگوں سے تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ہماری روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔
- محمد اسلم پرویز
لفظ و معنی
غور کیجیے
- ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ہماری روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر گھروں میں ڈیجیٹل آلات کا استعمال معمول بن چکا ہے۔ لوگ ڈیجیٹل آلات کا استعمال خاندان کے لوگوں اور دوستوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے، آن لائن خرید و فروخت کرنے اور بل ادا کرنے وغیرہ جیسے کاموں کو انجام دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
- ڈیجیٹل آلات پر ضروری حفاظتی فیچرس کو فعال کرناضروری ہے۔ جیسے وائی فائی کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانا۔ آپریٹنگ سسٹم اور استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کو محفوظ رکھنے کے لیے اپ ڈیٹ شدہ اینٹی وائرس (Updated Antivirus) اور میل و ئیر (Malware) سے محفوظ رکھنے والے سافٹ وئیر کا انسٹالیشن وغیرہ۔ اس کے علاوہ آن لائن لین دین کے لیے ہمیشہ اپ ڈیٹ براؤزر کا استعمال کرنا چاہیے۔
سوچیے اور بتائیے
- بائنری کوڈ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
- کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے کیا کیا کام انجام دیے جاسکتے ہیں؟
- ای بک کسے کہتے ہیں؟
- اپنے کمپیوٹر اور موبائل کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا کیوں ضروری ہے؟
خالی جگہوں کو پر کیجیے:
___ مالا میں ایک سو یا ہزار دانے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک کلو بائٹ (KB) ___میں بائٹ اور ایک میگا بائٹ (MB)میں ___ اور ایک گیگا بائٹ (GB) میں تقریباً ___ بائٹ ہوتی ہیں۔
درج ذیل درست بیان پر صحیح (✔) اور غلط بیان پر غلط ( x ) کا نشان لگائیے:
- ویجیٹل کو اردو میں ہندسہ کہتے ہیں۔()
- کمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر انٹر نیٹ کی مدد سے کسی بھی نوعیت کی معلومات پلک جھپکتے حاصل ہو جاتی ہیں۔()
- اے ٹی ایم کمپیوٹر کے بغیر کام کرتے ہیں۔()
- بٹ کمپیوٹر میں استعمال ہونے والا سب سے چھوٹا بائنری ڈیجٹ ہے۔()
● صحیح جو ڑ ملائیے:
| i. ای بک | i. ایسی چپ جس میں بہت ساراڈ اٹاڈیجیٹلی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ |
| ii. ای میل | ii. ایک ایسا آن لائن ٹول جو انٹر نیٹ پر موجود معلومات کو تلاش کرنے اور دکھانے میں مدد کرتا ہے جیسے گوگل یا بنگ وغیرہ۔ |
| iii. میموری کارڈ | iii. کتابوں کا ڈیجیٹل نسخہ جسے آپ موبائل ، کمپیوٹر اور ٹیبلیٹ وغیرہ میں پڑھ سکتے ہیں۔ |
| iv. سرچ انجن | iv. پیغام پہنچانے کا ایک ڈیجیٹل وسیلہ جسے انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل یا کمپیوٹر سے کسی کو بھیجا جاتا ہے۔ |
درج ذیل جملوں کو صحیح ترتیب دیجیے:
- ڈیجیٹل کمپیوٹر / ایک ہے مشین۔ ________
- معلومات کو میں ٹیکنالوجی / ڈیجیٹل / بائنری کو ڈا تبدیل کرتی ہے۔ ________
- ہم کے ذریعے کر سکتے ہیں / انٹرنیٹ / معلومات حاصل۔ ________
- چھوٹا سا اسمارٹ فون / ایک ہی ہے / کمپیوٹر ۔ ________
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- کمپیوٹر اور انٹر نیٹ سونے پہ سہاگہ کی مثال ہے۔“ اس جملے میں سونے پہ سہا گہ ایک کہاوت ہے۔ سہا گہ ایک کیمیکل ہے۔ اس کو سونے کے ساتھ ملا کر گرم کرنے پر سونے کی چمک اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کہاوت کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب ایک خوبی کے ساتھ دوسری خوبی موجود ہو ۔ کہاوت کے پیچھے کوئی واقعہ یا کہانی ہوتی ہے۔ نیچے دی گئی کہاوتوں کے مفہوم بتائیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
- ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ________
- چراغ تلے اندھیرا ________
- دور کے ڈھول سہانے ________
- دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ________
عبارت کو پڑھیے اور اس کا عنوان تجویز کیجیے۔ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں رکھا ؟
موجودہ دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ روز مرہ کے تقریباً تمام کاموں میں کمپیوٹر کسی نہ کسی طور پر ہمارے کام آتا ہے ۔ جدید ڈیجیٹل کمپیوٹر سائنسی تحقیق، انجینئر نگ کے علاوہ اسپتال ، ہوائی جہاز، پیٹرول پمپ اور کارخانوں وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ بڑی سطح پر سائنسی ایجادات اور ان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جانے والے کمپیوٹر کو ہائی بریڈ کمپیوٹر کہا جاتا ہے جو جدید کمپیوٹر کی ایک عمدہ قسم ہے۔ یہ ڈیجیٹل اور اینالاگ کمپیوٹر کا انضمام ہے۔ اینالاگ کمپیوٹر ریاضی کے مسائل حل کرتا ہے۔ اسی طرحسپر کمپیوٹر بھی تجزیہ کاری میں اپنے رفتار کے اعتبار سے عام کمپیوٹر پر فوقیت رکھتا ہے۔
تلاش کیجیے
کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی مدد سے پوری دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس سے پوری دنیا ایک گلوبل ولیج ہوگئی ہے کسی ایک ملک میں بولی جانے والی زبان، وہاں کی ثقافت اور تہذیب پر ایک مضمون لکھیے اور کلاس روم میں اسے پیش کیجیے۔
آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی پہلی ریل گاڑی 1853 میں شروع ہوئی تھی۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے بھاپ سے چلنے والی ریل گاڑی سے لے کر وندے بھارت ٹرین تک کے تاریخی سفر کے بارے میں معلومات جمع کیجیے اور ایک مضمون لکھیے۔
https://vandebharatexpress.co.in
- آن لائن شاپنگ بہت سے کفایتی متبادل مہیا کراتی ہے، لیکن اس میں کئی خطرات کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔ ان ممکنہ خطرات کے بارے میں اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ان سے بچنے کی تدابیر معلوم کر کے لکھیے۔
تخلیقی اظہار
- بڑے شہروں میں ٹریفک لائٹ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ یہ خود کار لائٹیں اپنے مقررہ وقت کے مطابق جلتی بجھتی رہتی ہیں۔ اگر کبھی اس کے نظام میں خرابی آجائے تو سڑکوں پر افراتفری کا عالم ہو جاتا ہے۔ ہر طرف سے آنے والے بے قابو ٹریفک سے راستے رک کر رہ جاتے ہیں۔ خیال کیجیے کہ اگر آپ ایسی کسی حالت سے دو چار ہوں تو آپ کس طرح حالات کا سامنا کریں گے ؟ اپنے تجربات چار پانچ جملوں میں لکھیے۔
عملی کام
- ڈیجیٹل انڈیا حکومت ہند کا ایک اہم پروگرام ہے جسے جولائی 2015 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ہندوستان کو ڈیجیٹل طور پر با اختیار معاشرے اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ نیچے دیے گئے ویب لنک کے ذریعے اس پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ https://www.digitalindia.gov.in
- نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے سائبر تحفظ اور سیکورٹی کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور اپنی کاپی بک میں لکھیے۔
ایک لڑکی کا گیت
جہاں چڑیاں گھنیری جھاڑیوں میں چہچہاتی ہوں
جہاں شاخوں پہ کلیاں نت نئی خوشبو لٹاتی ہوں
اور ان پر کوئلیں کو سکو کے میٹھے گیت گاتی ہوں
وہاں میں ہوں، مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو
جہاں برسات کے موسم میں سبزہ لہلہاتا ہو
ہوا کی چھیڑ سے ایک ایک پتہ تھر تھراتا ہو
جہاں چشموں کا پانی نرم کے میں گنگناتا ہو
وہاں میں ہوں، مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو
جہاں نہروں میں بہتا پانی موتی سا چھلکتا ہو
جہاں چاروں طرف گلزار میں سبزہ لہکتا ہو
جہاں پھولوں کی خوشبوؤں سے بن کا بن مہکتا ہو
وہاں میں ہوں، مری ہم جولیاں ہوں اور جھولا ہو
- اختر شیرانی
(پڑھنے کے لیے)