1
سائنس کی تفتیشی دنیا کی سیر
(Exploring the Investigative World of Science)
جانچیں اور غور کریں
پیارے نوعمرسائنس دانو!
آپ کا ایک بار پھر خیر مقدم ہے! ہر باب کے آغاز میں ،پہلے صفحے پر آپ کو چند سوالات ملیں گے۔ یہ سوالا ت کسی امتحان کے لیے نہیں ہیں، بلکہ آپ کے اندر تجسس کو جگانے اور سائنس کی دنیا کی کھوج کی جانب راغب کرنے کے لیے ہیں!
پوریاں ایک طرف سے پتلی اور دوسری طرف سے موٹی کیوں ہوتی ہیں؟
کیا دنیا کے تمام ساحلوں اور ریگستانوں میں ریت کے ذرات زیادہ ہیں یا ہماری کہکشاں میں ستاروں کی تعداد؟
ہم نے چھٹی جماعت سے ہی اپنے ارد گرد موجود پودوں اور جانوروں کی حیرت انگیز اقسام کا مشاہدہ کیا ہے؛ پتوں کی مختلف شکلوں سے لے کر کیڑوں کی بے شمار اقسام تک—آخر قدرت نے اتنا تنوع کیوں پیدا کیا ہے؟
کیا آپ کے ذہن میں بھی ایسا کوئی سوال ہے جو آپ کو دنیا کے بارے میں متجسس بناتا ہے؟
یہاں لکھیں!_________________
سائنس کی دنیا میں ہمارا تجسس بھرا سفرگریڈ 8 میں بھی جاری رہے گا۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کھوج ، جستجواور دریافت کے اس جذبے کو برقرار رکھیں گے جو اب تک آپ کی رہنمائی کرتا رہاہے۔ چھٹی جماعت میں ہم نے دریافت کیا کہ سائنس کا آغاز حیرت سے ہوتا ہے۔ یہ حیرت ہمارے اردگرد کی دنیا سے متعلق “کیوں؟” اور “کیسے؟” جیسے سوالات سے جنم لیتی ہے۔
گریڈ7 میں ہم نے یہ سیکھا کہ سائنس مسلسل ارتقا پذیر ہے،یعنی ہر جواب نئے سوالات کو جنم دیتا ہے اور جیسے جیسے ہم گہرائی سے چھان بین کرتے ہیں ہمارے خیالات اور تفہیم میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ اب ، گریڈ8 میں ہم اگلا قدم رکھ رہے ہیں۔ہم سائنس کی تفتیشی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں حیرت اور ارتقا مل کر ہمیں بتاتے ہیں کہ سائنس دراصل کیسے کام کرتی ہے۔
ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ آپ صرف نئے حقائق یاد کریں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ نئے حقائق خود سےدریافت کرنا سیکھیں۔سائنس میں تفتیش کا مقصدمحض دیکھنا یا سادہ سوالات کرنا نہیں ہوتا ۔ اب آپ زیادہ مرکوز سوالات پوچھ سکتے ہیں، جوابات تلاش کرنے کے لیے تجربات کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور اپنے مشاہدات کی روشنی میں اپنی تفہیم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ہم مرحلہ وار یہ سیکھیں گے کہ کس طرح سوالات کو نقطۂ آغاز بنا کر گہرےمشاہدے کیےجائیں، غور و فکر کرکے تجربات کیے جائیں اور جو کچھ ہم دیکھیں اسے واضح انداز میں بیان کر سکیں۔ایسا کرتے ہوئے، آپ سبھی محض سیکھنے والے نہیں رہیں گے، بلکہ آپ محقق اور نوعمر سائنس داں بن جائیں گے جو حقیقی دنیا کے معمّوں کی جستجو میں مصروف ہوں گے۔یہ معمے روزمرہ کی زندگی سے متعلق بھی ہو سکتے ہیں جیسے آٹا کیوں پھولتا ہے؟ یا زمین اور اس سے باہر کی بڑی گتھیوں سے متعلق، جیسےکیا دنیا واقعی گرم ہو رہی ہے؟
جب آپ اس کتاب کے صفحات پلٹیں گےتو ہمیں امید ہے کہ آپ صفحہ نمبروں کے دل چسپ ڈیزائن پر بھی غور کریں گے۔دائیں جانب کے صفحات کے نچلے حصے میں آپ کو ایک جڑ کی تصویر نظر آئے گی جو علم کی اس مضبوط اور گہری بنیاد کی علامت ہے جو ہمیں اپنے ماحول، روایات اور ثقافتی و قدرتی ورثے سے جوڑتی ہے۔
بائیں جانب کے صفحات کے اوپری کونے میں، آپ کو آسمان میں اُڑتی ہوئی پتنگ نظر آئے گی، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نامعلوم کو دریافت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنےتجسس کو پرواز دینا ہوگی۔ جڑ اور پتنگ کی یہ دونوں علامات آپ کو دعوت دیتی ہیں کہ آپ مشاہدے کی ٹھوس بنیاد پر قائم رہیں اور ساتھ ہی اپنی سوچ کو نئی سمتوں میں اُڑان بھرنے دیں۔ یاد رکھیں سائنسی تفتیش اُس وقت سب سے بہتر طریقے سے کام کرتی ہے جب ہم محتاط مشاہدے کی مضبوط بنیاد کو تخلیقی سوچ کی آزادی کے ساتھ متوازن رکھتے ہیں۔
آپ کوصفحے کے نیچے دی گئی لکیروں میں کچھ نمونے یا پیٹرن بھی نظر آئیں گے۔ان میں بھی کچھ سائنسی خیالات پوشیدہ ہیں مگر فکر نہ کریں، ان کا مقصد صرف صفحات کو مزید دل چسپ بنانا ہے۔چلیے اب اس سال کے دوران ہماری سیر کے مختلف پڑاؤ پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارا تجسس جو مضبوط جڑوں سے جڑا ہوا ہے اور بلند خیالات سے پرواز کر رہا ہے ،ہمیں کہاں لے جاتا ہے!
اس سال ہماری تفتیشی مہم ہمیں نظر نہ آنے والےبہت چھوٹےعضو یوں سے لے کر زمین کے اُن بڑے چیلنجوں تک لے جائے گی جنھیں ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔
ہم اپنے سفر کا آغاز پانی کے ایک قطرےسے بھی زیادہ چھوٹی چیز کےمعائنے
سے کریں گے اور ان چھوٹے عضویوں کی پوشیدہ دنیا کو دریافت کریں گےجو ہمیں نظر تونہیں آتے، لیکن ہمارے ساتھ ان کاگہرا تعلق ہے۔ان میں سے کچھ ہمارے غیر مرئی مددگار ہیں جو کھانے کوہضم کرنے، دوائیاں بنانے اور جسمانی صحت برقرار رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، جبکہ دیگر نقصان دہ بھی ہو تےہیں جو تعدیوں(Infections) کاسبب بنتے ہیں۔
ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے میں کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہم ان تعدیوں سے کیسے مقابلہ کرتے ہیں ؟ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ صحت بخش غذا ، باقاعدہ ورزش، ادویات اور ویکسین ہمیں صحت مند رکھنے اور تعدیوں سے لڑنے میں کس طرح مدد کرتی ہیں۔البتہ یہ تو محض ابتدا ہے۔ موجودہ دور میں سائنس ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے میں اہم کرداراداکررہی ہے۔
مثال کے طور پرہم اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کئی طریقوں سے بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔ بجلی کا حرارتی اثر ہمیں سردی سے بچاتا ہے، جب کہ اس کا مقناطیسی اثر موٹروں اور مشینوں کو چلانے میں مدد دیتا ہے۔
یہ تمام مظاہر کچھ بنیادی قوتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ چنانچہ برقی رو کو کام کرتے ہوئے دیکھنے کے بعد ہم اُن قوتوں کا مطالعہ شروع کریں گے جو چیزوں کو حرکت میں لاتی ہیں، ان کی رفتار کو کم یا زیادہ کرتی ہیں یا ان کی سمت تبدیل کرتی ہیں۔
قوتوں کو سمجھنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ گیند ہوا میں اچھالنے پر زمین پر واپس کیوں آتی ہے یا گاڑی کے بریک لگانے سے وہ رک کیوں جاتی ہے۔
یہ ہمیں دباؤ کے تصور کی طرف بھی لے جاتا ہے یعنی یہ بتاتا ہےکہ کسی سطح پر قوت کس طرح تقسیم ہوتی ہے۔ قوت اور دباؤ کےیہی تصورات یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ہوا کیسے چلتی ہے۔دباؤ میں معمولی فرق کے نتیجے میں ہلکی ہوا چلتی ہے، جب کہ دباؤ میں زیادہ فرق تیز ہواؤں اور بعض اوقات طوفانوں (Cyclones) کا سبب بھی بن جاتاہے۔

لہٰذا،یہ قوتیں طاقتور موسمی واقعات جیسے طوفان اور سائیکلون سے جڑی ہوئی ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی، زراعت اور یہاں تک کہ ہماری حفاظت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ہواکس طرح دباؤ ڈالتی ہے یا پانی مخصوص درجۂ حرارت پر ہی کیوں ابلتا ہے، اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے ہمیں ان مادوں کی گہرائی میں جا کر دیکھنا ہوگا کہ وہ کس قسم کے ذرات سے بنے ہیں اور وہ کیسے حرکت کرتے ہیں۔
ہمارے ارد گرد کی تمام چیزیں ننھےننھے ذرات سے بنی ہیں۔ ٹھوس مادوں میں یہ ذرات زیادہ حرکت نہیں کر سکتے، جب کہ گیسوں میں وہ آزادانہ طور پر گھوم پھر سکتے ہیں۔
ہمارے اردگرد موجود چیزوں کی درجہ بندی کرنا سائنس کی اہم خصوصیت ہے۔ ہم اپنے آس پاس کے مواد کو عناصر (خالص اشیا)، مرکبات (دو یا زیادہ عناصر کے کیمیائی تعامل سے بننے والی اشیا) اور آمیزوں (جنھیں طبیعی طریقوں سے الگ کیا جا سکتا ہے) میں بھی درجہ بندکر سکتے ہیں۔
جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ ذرات کس طرح ملتے یا گھلتےہیں تو ہم محلول کو سمجھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پرچائے کو میٹھا بنانے کے لیے چینی اس میں کیسے گھلتی ہے۔
ذرات اور آمیزوں کی دنیا سے ہم روشنی کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔ ہم مطالعہ کریں گے کہ روشنی کی شعاعیں ہموار اور خمیدہ آئینوں(Curved Mirros) سے کیسے منعکس ہوتی ہیں اور جب عدسوں (لینسوں )سے گزرتی ہیں تو کس طرح مڑ تی ہیں، یہ عمل ہمیں ہمارے ارد گرد کی بہت سی چیزوں کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ روشنی کا مڑنا یہ واضح کرتا ہے کہ کسی چمک دار دھاتی چمچ میں جب ہم عکس دیکھتے ہیں تو کیا ہوتا ہے یا کس طرح نظر کےچشمے ہم میں سے بہت سے لوگوں کو صاف دیکھنے میں مددکرتے ہیں۔
صرف پالش شدہ آئینے ہی نہیں، بلکہ کھردری سطحیں اور چاند بھی روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔زمین، چاند اور سورج کے نسبتی مقامات کی وجہ سے ، ہر رات چاند کا تھوڑا سا مختلف حصہ روشن ہوتا ہے، جس سے چاند کی وہ خوبصورت شکلیں بنتی ہیں جو ہم آسمان میں دیکھتے ہیں۔
چاند کی شکلوں کی باقاعدہ دوری گردشوں کا مشاہدہ کرکے انسانوں نے ابتدائی کیلنڈر بنائے۔ سورج کے طلوع و غروب ہونے اور چاند کی دوری گردشوں کے محتاط مشاہدات کو ملا کرمختلف کیلنڈر وجود میں آئے۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ ہمارے روزمرہ معمولات کو ترتیب دینے والے یہ کیلنڈر ان فلکی اجسام کی حرکات سے جڑے ہیں جو زمین سے کافی دور ہیں؟
لیکن بات صرف کیلنڈریا سورج اور چاند کی حرکتوں کے تعلق تک محدود نہیں ہے۔زمین پر موجودجانداروں اور ان کے ماحول کے درمیان حیرت انگیز اور پیچیدہ تعلقات کے نمونے موجود ہیں۔ ہر جاندار، چھوٹے کیڑوں سے لے کر سب سے بڑی وہیل تک، گھاس کے تنکوں سے لے کراونچےاونچےقدآوردرختوں تک؛ ہوا، پانی، سورج کی روشنی اور اپنے اردگردموجود دیگر جانداروں پر انحصار کرتاہےاور ان کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔یہ تمام تعلقات مل کر زمین پر زندگی کو سہارا دینے والے ماحولیاتی نظام بناتے ہیں۔
اس کتاب کے آخری باب میں ہم اب تک حاصل کی گئی تمام معلومات کو یکجا کریں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زمین کو زندگی کے لیے ’بالکل موزوں‘ کیا بناتا ہے اور ان سنگین چیلنجوں کو پہچانیں گے جن کا آج ہمارا سیارہ سامنا کر رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ زمین سورج سے ایک ایسے مناسب فاصلے پر واقع ہے جہاں پانی مائع حالت میں رہتا ہے، اور اس کاکرّۂ فضائی (Atmosphere)نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتا ہے بلکہ نقصان دہ
بالابنفشی شعاعوں(Ultraviolate Rays) سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن، انسانی سرگرمیاں زمین کے درجۂ حرارت میں معمولی تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہیں، جو موسمی نظام کو بگاڑ کر خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔
مسئلے کا مرکز بھی ہم خود ہیں اور ممکنہ حل بھی ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ ہم وہ ہیں جو زمین کے ماحول پر اثر ڈال رہے ہیں لیکن ہم ہی وہ لوگ بھی ہیں جو سائنسی علم کی مدد سے ان تبدیلیوں کو سمجھ سکتے ہیں اور درست اقدامات کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
وہی سائنسی اصول جیسےمشاہدہ کرنا، پیمائش کرنا، تجربہ کرنا، جنھوں نے ہمارے سیکھنے کے سفر کےدرمیانی مراحل میں رہنمائی کی ہے، مستقبل میں بھی ہمارے لیے اہم ثابت ہوں گے تاکہ ہم زندگی کے نازک توازن کو برقرار رکھ سکیں۔ یقینی طور پر مستقبل کے چیلنج آسان نہیں ہوں گےلیکن ہمیں امید ہے کہ آپ میں سے بعض طلبا تجسس کو اپنا رہنما بنا کر ان مشکل مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ کی مدد کے لیے تاکہ آپ ایک سائنس داں کی طرح سوچ سکیں، آئیے واپس چلتے ہیں اسی سوال پر جو ہم نے پہلے صفحہ پر پوچھا تھا: پوری ایک طرف سے پتلی اور دوسری طرف سے موٹی کیوں ہوتی ہے ؟
سب سے پہلے، یاد رکھیں کہ سائنس سبھی جگہ ہے! تجربے کرنے کے لیے آپ کو کسی خاص تجربہ گاہ کی ضرورت نہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر کا کچن بھی ایک شان دار جگہ ہے جہاں آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں اور سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ آپ کو بس تجسس سے آغازکرنا ہے، محتاط مشاہدہ کرنا ہے اور سوال پوچھنا ہے کہ اگر ایساہوا تو کیا ہوگا۔۔۔۔؟کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پوری یا بھٹورےکوگرم تیل میں ڈالنے پروہ پھولنے کیوں لگتے ہیں؟ یا پھُلکا جب آگ پر رکھا جاتا ہے تو وہ کیوں پھولتا ہے؟ وہ غبارےکی طرح کیوں پھولتا ہے؟ اور وہ ایک طرف سے پتلا اوردوسری طرف سے موٹا کیوں ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ایک سائنس داں پوچھ سکتا ہے اور آپ بھی پوچھ سکتے ہیں! آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اس روزمرہ کے عام مظہر کو ایک سائنس داں کی طرح کیسے تفتیش کر سکتے ہیں۔
پہلے، ہم ایک سائنسی سوال پوچھنے کی کوشش کریں گے۔ جب پوری کو تیل میں تلیں تو وہ کون سی مختلف چیزیں ہیں جو اس کے پھولنے کے انداز کو تبدیل کر سکتی ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں کچھ سادہ تجربات کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے، ہم دو اہم چیزوں کومعلوم کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب ہم تجر بہ کریں توہم کون سی چیزیں تبدیل کر سکتے ہیں یا قابو (کنٹرول) میں رکھ سکتے ہیں اور ہم کیا مشاہدہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا ان تبدیلیوں نےکوئی فرق ڈالا ہے یا نہیں۔
اس صورت میں شایدہم آٹے کی موٹائی اور جسامت کو بدلنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ہم مختلف اقسام کے آٹے (گیہوں کا آٹا، میدہ وغیرہ) بھی استعمال میں لا سکتے ہیں۔ پوری تلتے وقت، ہم تیل کے
درجۂ حرارت کو بھی بدل سکتے ہیں یا آٹے کےپیڑےکو تیل میں مختلف طریقوں سے ڈال سکتے ہیں (کھڑا ڈالیں؟ زاویے پر پھسلائیں؟ آہستہ سے پھسلائیں؟)۔ غورکریں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جنھیں ہم کنٹرول کر سکتے ہیں۔
تاہم تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیےہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم کیا مشاہدہ یا پیمائش کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے جوابات صرف ہاں/نہیں میں ہو سکتے ہیں اور کچھ صورتوں میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی عدد ہو جس کی ہم پیمائش کر سکیں۔ شاید ہم یہ جانچ اس بات سے شروع کر سکتے ہیں کہ کیا پوری پھولتی ہے (ہاں/نہیں)، یا ہم یہ پیمائش کر سکتے ہیں کہ اسے پھولنے میں کتنا وقت (سیکنڈ)لگتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیا بہت موٹے آٹے کی پرت بھی پوری کی ایک طرف کو پتلا رکھتی ہے۔ مزید برآں ایسے تجربات کرتے ہوئے بہتر یہ ہے کہ ہم صرف ایک وقت میں ایک چیز بدلیں اور باقی حالات کو ویسے ہی رکھیں۔مثال کے طور پر، اگر ہم ا بلتے ہوئے تیزگرم اورنیم گرم تیل کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم ایک ہی موٹائی کے آٹے کے حلقے استعمال کریں گے اور انھیں ایک ہی طریقے سے ڈالیں گے۔ یہ خیال بھی اچھا ہے کہ آپ تجرے کے دوران جو کچھ دیکھیں اور محسوس کریں اسے نوٹ کرلیں۔ کیا تیل چھٹک رہا تھا، اس میں سے خوشبو آ رہی تھی یا دھواں نکل رہا تھا؟ تجربہ کا ایک مرحلہ ہونے کے بعدآپ کے ذہن میں مزید سوالات آ سکتے ہیں۔ کیا تازہ آٹے سے بنی پوری زیادہ اچھی طرح پھولتی ہے یا ذخیرہ شدہ آٹے سے؟ اگر ہم پوری میں تلنے سے پہلے ایک سوراخ کر دیں تو کیا ہوگا؟
یہی وہ طریقہ ہے جس سے تمام سائنسی تجربات، چاہے وہ آسان ہوں یا پیچیدہ، انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی منظم تفتیش کا تصور ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں یہاں تک کہ روزمرہ کا عام مشاہدہ یعنی پوری کے پھولنے کا عمل بھی آج تک سائنس دانوں کو مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آیا ہے!
لہٰذا، چاہے پوری کا پھولنا ہو یا پُورنیما کے بعد چاند کے روشن حصے کا سکڑنا، اپنے محتاط مشاہدات کو سائنس کی تفتیشی دنیا میں اپنی کھوج کی رہنمائی کرنے دیں۔
چھان بین اور جستجو کا یہ سفر مبارک ہو!