2
غیر مرئی جان داروں کی دنیا :
ہماری آنکھوں کی پہنچ سےپرے
(The Invisible Living World: Beyond Our Naked Eye)
جانچیں اور غور کریں
� کیا آپ نے کبھی غورکیاہےکہ اگر آپ کے اردگردکی غیر مرئی دنیا مرئی ہوجائے تو آپ کو کیا کیا نظر آئے گا؟
� آپ کے خیال میں اس پوشیدہ دنیا کی جسامت، پیچیدگی اور یہاں تک کہ ’عضویے‘ کہلانے والی اشیا کے بارے میں آپ کی سوچ کو کیسے بدل سکتی ہے؟
� کیا آپ نے سوچا کہ یہ ننھے منے عضویے ایک دوسرے سے کیسے تعامل کرتے ہیں؟
� اپنے سوالات کا اشتراک کریں
؟
انسانی آنکھ ایک مخصوص جسامت سے بڑی اشیا ہی دیکھ سکتی ہے۔ ایک طویل عرصے تک ہمارے آس پاس کی بہت سی اشیا نامعلوم رہیں۔ بہت زمانہ پہلے لوگوں نے دریافت کیا کہ شیشے کے گھماؤ دار ٹکڑے سے چھوٹی چیزیں بڑی دکھائی دیتی ہیں۔ شیشے کا یہ ٹکڑا دال کے بیج (Lentil) کی شکل کا تھا، اس لیے عدسہ ( Lens) کہلایا۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ عدسوں میں بہتری آئی اور انھیں زیادہ طاقت ور بنالیا گیا۔ سادہ تکبیری شیشوں (Magnifying Glass) سے لے کر خورد بینوں تک، ہر نئے آلے نے وہ اشیا دیکھنے میں انسانوں کی مدد کی جنھیں وہ ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ خوردبین کی ایجاد نے ننھی مخلوقات سے بھری حیرت انگیز پوشیدہ دنیا کے دروازے کھول دیے۔ اس باب میں ہم زندگی کی ایسی ہی چند شکلوں کے بارے میں چھان بین کریں گے۔
آپ پہلے سے عضویوں کے شاندار تنوع کے بارے میں جانتے ہیں۔ اپنے آس پاس نظر دوڑائیں، کتنے سارے خوب صورت پودے اور جانور موجود ہیں! وہ ہر شکل، جسامت اور رنگ کے ہیں۔ کچھ عضویے بہت چھوٹے ہیں جب کہ دیگر بہت بڑے بڑے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی ساخت میں مختلف ہیں بلکہ بہت سی دوسری خصوصیات میں بھی الگ ہیں۔ ان سب عضویوں کو، چاہے وہ پودے ہوں یا جانور، نامیے (Organisms) کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے اپنے اردگرد اس سب سے چھوٹے نامیے پر غور کیا جسے ننگی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے؟ غور کریں کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی شے کون سی ہے جسے آپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے؟
آپ نے بعض لوگوں کو پڑھنے والا چشمہ پہنے دیکھا ہوگا۔ اس سے انھیں بہتر طور سے دیکھنے میں کس طرح مدد ملتی ہے؟ یا جب ہم تکبیری شیشے کا استعمال کرکے کسی چیز کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
سرگرمی 1.2: آیئے مشاہدہ کریں
� ایک گول پیندے والی شیشے کی فلاسک لیں، جیسا کہ شکل 2.1 میں دکھایا گیا ہے۔
� کارک سے فلاسک کا منھ بند کریں۔
� اب فلاسک کو کھلی کتاب پر رکھیں اور اس کے اندر سے حروف کو دیکھیں۔
شکل2.1: گول پیندے والی فلاسک
کیا آپ کو کچھ دل چسپ نظر آیا؟ فلاسک کے اندر سے دیکھنے پر حروف بڑے بڑے نظر آتے ہیں! ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ پانی سے بھری فلاسک تکبیری شیشے کی طرح کام کرتی ہے۔ اب ایک اصلی تکبیری شیشہ استعمال کرکے کسی چھوٹے عضویےجیسے چیونٹی کا مشاہدہ کریں۔ کیا آپ کو اس کے جسم کی تفصیلات زیادہ واضح طور پر نظر آتی ہیں؟
ایک طویل عرصے تک لوگ اپنے آس پاس کے چھوٹے چھوٹے نامیوں کی چھان بین کے بارے میں متجسس تھے لیکن وہ انھیں اپنی ننگی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ تو آخر ہم نے اس غیر مرئی دنیا کو دریافت کیسے کیا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کون سی سائنسی دریافت تھی جس کی مدد سے پہلی بار ہم یہ ننھی دنیا دیکھ پائے؟
کیا کبھی سنا ہے...
MICROGRAPHIA:
OR SOME
Physiological Descriptions
OF
MINUTE BODIES
MADE BY
MAGNIFYING GLASSES.
WITH
OBSERVATIONS and INQUIRIES thereupon.
By R. HOOKE, Fellow of the ROYAL SOCIETY
Non poifis oculo quantum contendere Lincent, Non tamen idcirco contemnas Lippus inungi. Horat. Ep. lib. 1.
LONDON, Printed by 7o. Martyn, and 7a. Alleftry, Printers to the ROYAL SOCIETY, and are to be fold at their Shop at the Bell in S. Paul’s Church-yard. M DC LX V.
سنہ 1655 میں رابرٹ ہُک نامی ایک سائنس داں نے مائیکروگرافیا کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ وہ ایک محتاط مشاہدہ کرنے والا اور ماہر آرٹسٹ تھا۔ اس کتاب میں اس نے ان ننھی ننھی اشیا کی تفصیلی ڈرائنگ پیش کیں جنھیں لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ چیزیں اس نے اس آلے کی مدد سے دیکھی تھیں جسے ہم اب خوردبین (Microscope) کہتے ہیں۔
اس کی خورد بین سے چیزوں کو ننگی آنکھ کے مشاہدے کے مقابلے میں 200 سے 300 تک بڑا کرکے دکھایا جاسکتا تھا۔ ایک دن اس نے کارک کے پتلے سے سلائس کا مشاہدہ کیا اور پایا کہ یہ بہت سارے خالی خانوں سے مل کر بنا ہے۔ ان خانوں پر شہد کی مکھیوں کے چھتے کا گمان ہوتا تھا۔ اس نے جو دیکھا اس کی ڈرائنگ بنائی اور ہر خالی خانے کو خلیہ (Cell) کا نام دیا۔ یہ پہلی بار تھا جب سائنس میں لفظ خلیہ کا استعمال حیات کی بنیادی اکائی کے طور پر کیا گیا۔
اسی زمانے کے آس پاس 1660 میں اینٹی فان لیون ہاک (Antonie van Leeuwenhoek) نے، جو ایک ڈچ سائنس داں تھا، بہتر عدسے بنائے جن سے اس نے مزید مددگار خوردبینیں تیار کیں۔ وہ پہلا شخص تھا جو ننھی جاندار چیزیں مثلاً بیکٹیریا اور خون کے خلیات دیکھ سکا اور انھیں واضح طور پر بیان کرسکا۔ اسی بنا پر اسے بابائے خوردحیاتیات (Father of Microbiology) کہا جاتا ہے۔
شکل 2.2: (a) مائیکروگرافیا کتاب؛ (b) رابرٹ ہُک کی خوردبین؛
(c) مائیکروگرافیا میں شائع شدہ کارک کے خلیوں کا خاکہ
2.1 خلیہ کیا ہے؟
تمام عضویے خلیوں سے بنے ہوتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خلیے کیسے نظر آتے ہیں۔ آئیے خوردبین کی مدد سے خلیے کی بنیادی ساخت کا قریب سے مشاہدہ کریں۔
سرگرمی 2.2: آئیے خلیے کا مطالعہ کریں (ٹیچر کے ذریعے مظاہراتی سرگرمی)
� اپنے باورچی خانے یا باغیچےسے ایک پیاز لیں اور اسے پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔
شکل2.3: (a) پیاز سے جھلی علیحدہ کرنا
� پیاز کو عمودی طور پر ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔
� پیاز کا ایک ٹکڑا لیں اور اس کی اندرونی سطح سے چمٹی کی مدد سے پتلی، شفاف پرت اتار لیں۔ اس پرت کو پیاز کی جھلی (Onion Peel)کہتے ہیں۔
� ایک جھلی کو پیٹری ڈش (Petri Dish)پر 30 سیکنڈ کے لیے رکھیں جس میں چند قطرے زردی مائل سرخ رنگ (Safranin) (سرخ رنگ کا رنگ) ہو۔ اس سے خلیوں کا رنگ گلابی ہوجائے گا جس سے انھیں صاف دیکھنے میں آسانی ہوگی۔
� پتلے برش کی مدد سے پیاز کی جھلی کو دوسری پیٹری ڈش پر منتقل کرلیں جس میں پانی ہو، تاکہ جھلی کو کھنگال سکیں اور فاضل اسٹین ہٹ جائے۔
� اب پیاز کی دھبے دار جھلی کو باریک برش کا استعمال کرتے ہوئے شیشے کی سلائڈ (Glass Slide)پر احتیاط سے رکھیں اور یقینی بنائیں کہ وہ نہ ٹوٹے اور نہ مڑے۔
� سلائڈ پر گلسرین کا ایک قطرہ پیاز کی جھلی پر ڈالیں۔ گلسرین خلیوں کو خشک ہونے سے بچائے گی اور خلیےکو صاف نظر آنے میں مدد دے گی۔
� ایک سلائی کی مدد سے آہستگی سے جھلی پر کور سلپ(Coverslip) اس طرح لگائیں کہ کوئی ہوا کا بلبلہ اندر نہ رہے۔
� بلاٹنگ پیپرکی مدد سے کور سلپ کے کناروں سے فاضل گلسرین کو صاف کریں۔
� خوردبین یا فولڈ اسکیپ کے نیچے اس سلائڈکا مشاہدہ کریں۔ شکل 2.3c کے ساتھ اس کا موازنہ کریں۔
� شکل 2.3c اور شکل 2.3d میں آپ کو کیا کیا مماثلتیں نظر آتی ہیں؟
شکل2.3: (b) گلیسرین میں پیاز کی جھلی کو سوئی کی مدد سے خوردبین پر چڑھانا؛
(c) خوردبین کے نیچے پیاز کی جھلی کی ساخت؛ (d) اینٹوں سے بنی ایک دیوار
آپ کو خوردبین کے نیچے قریب قریب چوکور ساختیں نظر آئیں گی۔ یہ پیاز کی جھلیوں کے خلیے ہیں جو ان کے مابین کسی خلا کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب سے لگے ہوئے ہیں۔ اپنے ارد گرد مختلف پودوں کے پتوں کے چھلکوں کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ تمام پودے خلیوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کسی جانور کا جسم کس چیز سے تشکیل پاتا ہے؟
سرگرمی 2.3: آئیے تحقیقات کریں
� اپنے منھ کو صاف پانی سے دھوئیں۔
� صاف ٹوتھ پک کے کھردرے سرے کا استعمال کریں اور آہستہ سے اپنے گال کے اندرونی حصے کو کھرچیں۔
� کھرچے گئے مواد کو شیشے کی صاف سلائڈ پر پانی کے قطرے میں رکھیں اور اسے یکساں طور پر پھیلائیں۔
� سلائڈ پر موجود مواد پر میتھیلین بلوکا ایک قطرہ (نیلے رنگ کا رنگ) شامل کریں۔ مذکورہ رنگ شامل کرنے سے خورد بین کے نیچے مواد کو دیکھنے میں مدد ملتی ہے کیوں کہ یہ فرق کو ظاہر کرنے میں اضافہ کرتا ہے۔
� ایک منٹ کے بعد، خلیوں کو خشک ہونے سے روکنے کے لیے سلائڈ پر موجود مواد پر گلیسرین کا ایک قطرہ شامل کریں۔
� اب احتیاط سے مواد پر ایک صاف کور سلپ رکھیں اور بلاٹنگ پیپر کا استعمال کرتے ہوئے کور سلپ کے کناروں سے اضافی گلیسرین کو صاف کر دیں۔
� خورد بین کے نیچے سلائڈ کا مشاہدہ کریں اورجو کچھ آپ دیکھتے ہیں اسے اپنی نوٹ بک میں درج کریں۔
آپ نے کیا مشاہدہ کیا؟ جیسا کہ شکل 2.4 میں دکھایا گیا ہے، آپ ایک
کثیر الاضلاع شکل کی ساخت کا مشاہدہ کریں گے۔ یہ گال کے خلیات ہیں جو آپ کے منھ کی اندرونی تہہ کی تشکیل کرتے ہیں۔
آپ نے سرگرمی 2.2 میں پیاز کی جھلی کے خلیات اور سرگرمی 2.3 میں انسانی گال کے خلیات کے درمیان کیا مماثلت اور فرق دیکھا؟
آپ نے مشاہدہ کیا کہ خلیوں کے تین اہم حصے ہوتے ہیں - پتلا بیرونی استر، مرکزی علاقہ اور اس کے اندر ایک چھوٹا سا گول ڈھانچہ۔ بیرونی پرت کو خلوی جھلی (Cell Membrane) کہا جاتا ہے۔ درمیان میں گول ساخت مرکزہ (Nucleus)ہے، یہ بھی ایک پتلی سی جھلی میں ملفوف ہے۔ خلوی جھلی اور مرکزےکے درمیان کی جگہ سائٹوپلازم سے بھری ہوئی ہے۔
شکل2.4: انسانی گال کے خلیوں کا مشاہدہ
یہ تینوں —خلوی جھلی، سائٹوپلازم، اور مرکزہ خلیے کے بنیادی حصے ہیں۔ کچھ خلیات، جیسے پیاز کی جھلی کے خلیات، ایک اضافی بیرونی پرت رکھتے ہیں جسے خلوی دیوار کہا جاتا ہے۔ خلیے میں ان ڈھانچوں کی کیا اہمیت ہے؟ وہ کون سے افعال انجام دیتے ہیں؟ کیا یہ افعال زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں؟
خلوی جھلی سائٹوپلازم اور مرکزے کو ملفوف کرتی ہے۔ خلوی جھلی ایک خلیےکو دوسرے خلیے سے الگ کرتی ہے۔ یہ مسام دار ہوتی ہے اور زندگی کے عمل کے لیے ضروری مواد کے اندر جانے اور فضلہ مواد کو باہر نکلنے کی اجازت دیتی ہے۔
سائٹوپلازم میں خلیے اور مرکبات کے دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں، جیسے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین چربی، اور معدنی نمکیات۔ زندگی کے زیادہ تر عمل سائٹوپلازم کے اندر واقع ہوتے ہیں۔
مرکزہ خلیے کے اندر ہونے والی تمام سرگرمیوں کو منضبط کرتا ہے۔ یہ نشوونما کو بھی منضبط کرتا ہے۔
پودوں کے خلیے میں خلیے کی دیوار پودوں کو سختی اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام خلیات ایک دوسرے کے ساتھ گتھے ہوئے انداز میں مرتب ہوتے ہیں اور ساخت میں مضبوط نظر آتے ہیں۔
ایک قدم آگے
پودے کے تمام حصوں میں خلیات میں چھوٹے چھوٹے چھڑی کی شکل کے ڈھانچے ہوتے ہیں جنھیں پلاسٹیڈ (Plastids) کہا جاتا ہے۔ کچھ پلاسٹیڈ جیسے کلوروپلاسٹ(Chloroplasts)، کلوروفل (Chlorophyll) پر مشتمل ہوتے ہیں، جو انھیں سبز بناتا ہے اور ضیائی تالیف (Photosynthesis) میں مدد کرتا ہے۔ غیر سبز حصوں میں وہ مادوں کے ذخیرےمیں مدد کرتے ہیں۔ پودوں کے خلیوں میں ایک بڑی، خالی نظر آنے والی جگہ بھی ہوتی ہے جسے خالیہ (Vacuole) کہا جاتا ہے۔ یہ پودے خلیے کو اہم مادوں کو ذخیرہ کرنے، فضلے سے چھٹکارا پانے اور خلیے کی شکل کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے پودے کو طاقت اور سہارا ملتا ہے۔ جانوروں کے خلیوں میں خالیے عام طور پرموجود نہیں ہوتے ہیں۔ اگر موجود ہوں بھی تو وہ عام طور پر چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے خالیے پانی میں تحلیل ہونے والے کچھ مادوں کو ذخیرہ کرتے ہیں۔لہذا ایک خلیہ محض سیال کی ایک سادہ سی تھیلی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک پیچیدہ ڈھانچہ ہوتا ہے جو بہت سے مختلف حصوں پر مشتمل ہے، ہر ایک کا اپنا خاص کام ہے جس کی مدد سے خلیہ اور اس کے نتیجے میں پورا عضویہ کام کرتاہے۔
شکل 2.5: تصوری خاکہ (a) جانوروں کاخلیہ اور (b) پودوں کاخلیہ ۔
(رنگ خلیے کے مختلف حصوں کو ظاہر کرنے کے لیے ہیں)
اب ہم خلیے کی بنیادی ساخت کو سمجھ چکے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پودوں اور جانوروں کے خلیات شکل اور ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔
کیا جانوروں کے مختلف خلیات بھی ان کی شکل اور ساخت میں مختلف ہوتے ہیں؟
2.1.1 خلیوں کی شکل اور ساخت میں تغیر
انسان کے عضلاتی خلیہ اور اعصابی خلیہ کو شکل 2.6 (a) اور (b) میں دکھایا گیا ہے۔ آپ ان میں کیا مماثلت اور فرق دیکھتے ہیں؟
شکل2.6: انسانوں میں مختلف خلیے
عضلات کا خلیہ (شکل 2.6a) تکلی کی شکل کا ہوتا ہے، جبکہ اعصابی خلیہ (شکل 2.6b) بہت لمبا ہوتا ہے اور اس کی شاخیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ خلیات شکل میں گول ہوتے ہیں، جب کہ دیگر لمبے اور پتلے ہوتے ہیں۔ خلیوں کی تعداد بھی مختلف عضویوں میں مختلف ہوتی ہے۔ خلیات ایک دوسرے سے اتنے مختلف کیوں نظر آتے ہیں؟ کیا خلیے کی شکل اور ساخت کا اس کے تفاعل سے کوئی رشتہ ہے؟
خلیوں کی منفرد شکل، جسامت اور ساخت انھیں اپنے مخصوص افعال انجام دینے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن یہ خلیات جسم میں مختلف افعال انجام دینے میں کس طرح مدد کرتے ہیں؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔
آپ نے سرگرمی 2.3 میں مشاہدہ کیا کہ اندرونی گال کے خلیات پتلے اور چپٹے ہوتے ہیں۔ وہ گال کی اندرونی سطح پر ایک حفاظتی تہہ بناتے ہیں۔ اعصابی خلیات، جنھیں نیورون (Neurons) بھی کہا جاتا ہے، ہمارے جسم میں پیغامات لے جاتے ہیں۔ لمبی شکل اور شاخوں کی ساخت انھیں جسم کے مختلف حصوں تک پہنچنے اور پیغامات کو تیزی سے منتقل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح پودوں کے خلیات میں بھی فرق ہوتا ہے۔ پودوں میں بھی خلیات مستطیل، لمبے، بیضوی، یا نلی جیسے بھی ہوسکتے ہیں۔ پودوں کے کچھ خلیات لمبی نلیاں تشکیل دیتے ہیں جو پورے پودے میں پانی لے جانے میں مدد کرتی ہیں۔
آپ پہلے ہی گریڈ 7 میں نظام ہاضمہ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ نظام ہاضمہ کے مختلف حصے مختلف قسم کے خلیات پرمشتمل ہوتے ہیں۔ عضلات کے خلیے کا ایک گروہ غذائی نلی میں موجود ہوتاہے۔ یہ خلیات ایک لہر کی طرح سکڑتے اور ڈھیلے ہوتے ہیں، جس سے کھانا پیٹ کے اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ حرکت اس لیے ممکن ہوتی ہے کیوں کہ عضلات کے خلیے پتلے، لچک دار اور تکلی کی شکل کے ہوتے ہیں۔ معدے میں مختلف افعال کی انجام دہی کے لیے مختلف قسم کے خلیات بھی ہوتے ہیں۔ معدے کی دیوار میں عضلات کے خلیے خوراک تیار کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ معدے کی اندرونی تہہ میں موجود دیگر خلیات ہاضمے کا رس اور تیزاب پیدا کرتے ہیں جو کھانے کو ٹکڑوں میں توڑنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ تمام خلیات ہاضمے کو ممکن بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔

کسی زندہ عضویے کا جسم ایک پیچیدہ طریقے سے منظم کیا جاتا ہے۔ خلیہ (شکل2.7a) زندگی کی بنیادی اکائی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اینٹ دیوار کی بنیادی اکائی ہے (شکل 2.3d)۔ اسی طرح کے خلیوں کا ایک گروہ ایک قسم کی بافت کو تشکیل دیتا ہے (شکل 2.7b)۔ مختلف بافتوں کو ایک عضو بنانے کے لیے منظم کیا جاتا ہے (شکل 2.7c)۔ بہت سے اعضا مل کر ایک اعضائی نظام تشکیل دیتے ہیں جو جسم کا ایک اہم کام انجام دیتا ہے (شکل 2.7d)۔ تمام اعضائی نظام مل کر ایک مکمل عضویہ بناتے ہیں (شکل 2.7e) - جیسے پودے یا جانور۔ لہذاتنظیم کی سطحیں یہ ہیں:
خلیہ
ٹشو
عضو
اعضائی نظام
عضویہ
تنظیم کی یہ سطحیں ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتی ہیں کہ خلیات جیسے سادہ تشکیلی بلاک کس طرح ایک پیچیدہ عضویے کی تشکیل کے لیے یکجا ہوتے ہیں۔
پیچیدہ عضویوں کی زندگی ایک ہی خلیے بیضے سے شروع ہوتی ہے۔ کسی بھی عضویے کے بیضے میں بار بار تقسیم ہونے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے تاکہ بہت سے خلیوں پر مشتمل ایک مکمل زندگی تشکیل ہوسکے۔ ایسے عضویوں کوکثیر خلوی عضویے کہا جاتا ہے۔ جانور، بشمول انسان اور پودے تمام کثیر خلوی عضویوں کی مثالیں ہیں۔

2.3 خوردعضویے کیا ہیں؟
کچھ عضویے صرف ایک یا بہت کم خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ وہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انھیں ننگی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کو خوردعضویے (Microorganisms)کہا جاتا ہے۔ کچھ خوردعضویے، جیسے بیکٹیریا اور امیبا، صرف ایک خلیے (یک خلوی) سے بنے ہوتے ہیں۔ دوسرے، جیسے کچھ پھپھوندی اور ایلگی میں بہت سے خلیات (کثیر خلوی ) ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے ارد گرد — پانی، مٹی، ہوا اور یہاں تک کہ ہمارے جسم کے اندر بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان کے خلیات کس طرح کے نظر آتے ہیں؟ کیا وہ پودوں اور جانوروں کے خلیات کی طرح ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے ابھی پڑھا ہے یا وہ مختلف ہوتے ہیں؟ خوردعضویے کے خلیات کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک بار پھر ہمیں خورد بین کا استعمال کرنا پڑے گا جو ان کی جسامت کو بڑا کرکے دکھاتی ہے اور انھیں ہماری آنکھوں کے لیے قابلِ مشاہدہ بناتی ہے۔ سائنس دانوں نے کم قیمت اور موڑے جانے والی کاغذی خوردبین (Foldable Paper Microscope) یا فولڈ اسکوپ (Foldscope) بھی تیار کیے ہیں۔ فولڈاسکوپ بہت طاقت ور تجربہ گاہوں کی خوردبینوں جیسی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے ، تاہم یہ خورد بینی دنیا کو بہت سے لوگوں کے لیے قابل رسائی بناتے ہیں۔
آئیے اب خورد عضویوں کی دل چسپ دنیا پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
سرگرمی 2.4: آئیے ہم تالاب کے پانی / ٹھہرے ہوئے پانی کا مشاہدہ کریں
� ایک برتن لیں اور اس میں تالاب یا ٹھہرے ہوئے پانی کو اپنے ٹیچر یا کسی بزرگ کی مدد سے حاصل کریں۔
� ڈراپر کا استعمال کریں اور تالاب یا ٹھہرے ہوئے پانی کے ایک قطرے کو خورد بین یا فولڈ اسکوپ کی سلائڈ پر رکھیں۔ کور سلپ چڑھائیں اور خورد بین یا فولڈ اسکوپ کے نیچے اس کا مشاہدہ کریں۔
� تالاب یا ٹھہرے ہوئے پانی میں پائے جانے والے خورد عضویوں کا مشاہدہ کریں۔

� ایک بیکر(Beaker) لیں اور اس میں قریبی کھیت یا باغ سے کچھ نم مٹی جمع کریں۔ ننگے ہاتھوں سے مٹی کو نہ چھوئیں ، بلکہ چمچ یا دستانے کا استعمال کریں۔
� بیکر میں تھوڑا سا پانی ڈالیں اور اسے شیشے کی چھڑ سے ہلائیں۔ سیال، جو گدلا دکھائی دے سکتا ہے، اس میں مٹی کے بہت باریک ذرات ہوتے ہیں اور انھیں مٹی کے معلق ذرات کہا جاتا ہے۔ اسے کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں اور مرکب کو ٹھنڈا ہونے دیں۔
شکل2.8: خوردبین کے نیچے مٹی کے معلق ذرات کا مشاہدہ
� ڈراپر کا استعمال کرتے ہوئے اوپری پرت سے پانی کا ایک قطرہ لیں۔ اس قطرے کو خوردبین کی سلائڈ پر رکھیں۔
� اسے آہستہ سے ایک کور سلپ سے ڈھانپیں اور خورد بین کے نیچے اس کا مشاہدہ کریں (شکل2.8)۔
آپ سرگرمی 2.4 میں دیکھے گئے چھوٹے متحرک عضویوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں تک کہ مٹی کےمعلق ذرات میں بھی مختلف قسم کی چھوٹی چھوٹی مخلوقات شامل ہیں جنھیں بغیر مدد والی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ چھوٹی مخلوقات جنھیں ننگی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا انھیں خوردعضویے (خورد بمعنی بہت چھوٹا؛ عضویہ بمعنی زندہ مخلوق)یاجرثومے( Microbes) کہا جاتا ہے۔
سرگرمی 2.6: آئیے مطالعہ کریں
گریڈ 8 میں پڑھنے والے طلبا کے ایک گروہ نے سرگرمی 2.4 اور 2.5 انجام دیں۔ انھوں نے لائبریری اور انٹرنیٹ سے بھی معلومات جمع کیں۔ انھوں نے جدول 2.1 میں تالاب کے پانی کا مشاہدہ کرنے کے بعد حاصل کردہ معلومات اور جدول 2.2 میں مٹی کے معلق ذرات کا مشاہدہ کرنے کے بعد حاصل کردہ معلومات کو درج کیا۔ انھوں نے خوردعضویے کی شناخت پروٹوزوا،ایلگی، پھپھوندی اور بیکٹیریا کے طور پر کی۔ اگر آپ کو عضویوں کی ان اقسام میں سے کوئی بھی ملتا ہے تو آپ اسے درج کرسکتے ہیں۔
جدول 2.1: تالاب کے پانی میں موجود عضویے
|
نمبر شمار |
خاکہ |
تبصرہ |
|
.1 |
امیبا (پروٹوزوا)
|
یک خلوی، متحرک ، بے قاعدہ شکل |
|
.2 |
پیرامیشیم (پروٹوزوا)
|
یک خلوی، ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتا ہے، حرکت مخصوص ڈھانچوں کی مدد سے ہوتی ہے |
|
.3 |
ایلگی
|
یک خلوی، سبز پگمنٹ کی موجودگی کی وجہ سے ہرے رنگ کا نظر آتا ہے، حرکت مخصوص ڈھانچوں کی مدد سے ہوتی ہے |
جدول 2.2: مٹی کے معلق ذرات میں موجود عضویے
|
نمبر شمار |
خاکہ |
تبصرہ |
|
.1 |
روٹی کی پھپھوندی (فنگی)
|
بغیر کلوروفل کے شاخ دار فلامنٹ جس کی ساخت تھیلی جیسی ہوتی ہے |
|
.2 |
پھپھوندی (فنگی)
|
بغیر کلوروفل کے شاخ دار فلامنٹ جس کی ساخت برش جیسی ہوتی ہے |
|
.3 |
ایلگی
|
کرّوی شکل، سبز پگمنٹ یعنی کلوروفل کی موجودگی |
|
.4 |
بیکٹیریا
|
کرّوی شکل، کوما کی شکل، مرغولے دار یا چھڑ کی شکل، ایک لمبے بال جیسی ساخت اور خلیے کے ارد گرد بہت سے چھوٹے بال باہر کو نکلے ہوئے |
کیا آپ نے بھی ان میں سے کسی خوردعضویے یا کسی اور چیز کا مشاہدہ کیا ہے؟ اپنی کاپی میں درج کریں اور اپنےکلاس میں تبادلۂ خیال کریں۔ جدول 2.1 اور 2.2 میں آپ نے مختلف قسم کے خوردعضویوں کی نشان دہی کی ہے۔ وہ ہر جگہ موجود ہیں اور ہم انھیں صرف خوردبین کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں – ایک ایسا آلہ جو انھیں 100 سے 400 گنا بڑا کرکے دکھاتاہے۔ اگرچہ خوردعضویے جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن وہ ہماری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


کیا ہم دوسری جگہوں پر بھی خوردعضویے تلاش کر سکتے ہیں؟ آئیے تبادلۂ خیال کرتے ہیں:
کیا آپ نے کبھی لیموں، ٹماٹر، نارنجی یا کسی اور کھانے پینے کی چیز کو کچھ دیر باہر رہنے کے بعد سڑتے دیکھا ہے؟ اگر ہاں، تو آپ نے ان پر پاؤڈر یا کپاس جیسی نشوونما دیکھی ہوگی۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ وہ خوردعضویوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ خوردعضویے کہاں سے آئے؟ وہ کھانے کے ساتھ کس طرح رابطے میں آئے؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ خوردعضویے ہر جگہ پائے جاسکتے ہیں، چاہے وہ پانی ہو، مٹی ہو، ہوا ہو، یا کھانے کی بعض اشیا ہوں۔
شکل2.9: پھل جس پر خورد عضویے نشوونما پا رہے ہیں۔
لیکن خوردعضویے اچار اور مربوں کو متاثر کیوں نہیں کرتے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اس میں نمک یا چینی کے ساتھ بہت سے مسالے شامل کرتے ہیں جو تحفظ کار مادوں (Preservatives) کا کام کرتے ہیں۔ نمک یا چینی کی زیادہ مقدار ان عضویوں کو ان کھانوں پر نشوونما نہیں پانے دیتی۔
آپ پتوں، تنوں، جڑوں یا کسی دوسرے حصے کی سطحوں کو دیکھنے کے لیے فولڈ اسکوپ یا خورد بین کا استعمال کرسکتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں کی طرح خوردعضویوں میں بھی بہت تنوع ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ انتہائی آب و ہوا کے حالات میں بھی پائے جاسکتے ہیں، جیسے گرم پانی کے چشموں اور برفانی ٹھنڈے علاقوں کے ساتھ ساتھ معتدل درجۂ حرارت پر بھی۔ آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ عضویے ہمارے جسم کے اندر رہتے ہیں، خاص طور پر ہماری آنتوں میں! آپ نے تجسس، گریڈ 7 میں ’جانوروں کے حیاتیاتی عمل‘کے باب میں مطالعہ کیا ہے کہ ہماری آنت میں بہت سے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو ہاضمے میں مدد کرتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں کی طرح خوردعضویے شکل، جسامت اور ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ جدول 2.1 اور 2.2 میں، آپ نے مختلف شکلوں کے خوردعضویوں کا مشاہدہ کیا ہوگا — کرّوی، چھڑی کی شکل کے، یا بے قاعدہ شکل کے۔
خوردعضویوں کا تنوع ہماری روزمرہ زندگی میں کس طرح کردار ادا کرتا ہے؟ وہ ماحول کو صاف کرنے میں کس طرح مدد کرتے ہیں؟
2.4.1 ماحول کی صفائی میں کلیدی عامل
آئیے ہم ایک سرگرمی کرکے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
سرگرمی2.7: آئیے کریں
� ایک خالی برتن لیں اور اسے باغ کی مٹی سے آدھا بھر دیں۔
� برتن میں کچھ پھل اور سبزیوں کے چھلکے شامل کریں۔ اس کے بعد اس پر مٹی کی ایک پرت ڈال کر ایک طرف چھوڑ دیں۔
� 2-3 ہفتوں کے بعدہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں۔
� کیا آپ برتن کے مواد میں کوئی فرق دیکھتے ہیں؟
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے گہرے رنگ کے مواد میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ یہ کھاد ہے، جو غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے اور مٹی کی زرخیزی بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے کھاد میں کیسے بدل گئے؟
سرگرمی 2.6 میں، آپ نے دیکھا کہ مٹی میں مختلف قسم کے خوردعضویے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خوردعضویے، جیسےفنگی اور بیکٹیریا، پودوں کے فضلے پر کام کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ اسے سادہ، غذائیت سے بھرپور کھاد میں توڑ دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے اسکول میں یا اپنے گھر کے قریب کسی کھیت میں باغبانوں کو خشک پتوں اور پودوں کا کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہوئے اور انھیں گڑھوں میں ڈالتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ کیا اب آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ایسا وہ قدرتی کھاد بنانے کے لیے کرتے ہیں۔
شکل 2.10: کھاد سے بنانے کے ذریعے مغذیات کی ری سائیکلنگ
ہمارا سائنسی ورثہ
قدیم ہندوستانی متون، خاص طور پر ویدوں میں لفظ ’کریمی ‘’(Krimi) کا حوالہ ملتا ہے، جس کا مطلب ہے ’درشیہ‘’
(نظر آنے والے) اور’ادرشیہ‘’ (نظر نہ آنے والے) سمیت مختلف چھوٹی چھوٹی چیزیں۔ مختلف ویدک متون میں ان کے فائدہ مند اور نقصان دہ اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اتھرووید میں بھی’ کریمی ‘’کا ذکر آیاہے۔
اگر آپ اپنے ارد گرد غور سے دیکھیں تو آپ کو سڑتے ہوئے پودے اور گرے ہوئے پتے کسی کنٹینر میں جمع یا باغ میں پڑے نظر آئیں گے، جو آس پاس کے ماحول سے کچھ دیر بعد غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوردعضویے انھیں چھوٹے ٹکڑوں میں توڑ دیتے ہیں اور غذائی اجزا سے بھرپور مفرداجزا میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا مٹی میں واپس جاتے ہیں اور پودوں کو بہتر نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ خوردعضویے مردہ جانوروں کی لاشوں کو بھی سڑاتے ہیں۔ اس طرح خوردعضویے فضلے کو ری سائیکل کرنے اور اہم غذائی اجزا کو فطرت کو واپس کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کھاد کی تشکیل زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت اور مناسب نمی کی سطح پر ہوتی ہے۔
کیا یہ بات دل چسپ نہیں ہے؟ اب تک، آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ بیکٹیریا اور کچھ پھپھوند (Fungi)خوردعضویوں کی اقسام ہیں جو ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اورپھر اندازہ لگائیں کہ یہ مددگار بیکٹیریا جانوروں کےگوبر جیسے فضلے کو بھی سڑ ا سکتے ہیں!
سرگرمی 2.7 سے ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خوردعضویے نہ صرف پودوں کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں بلکہ فضلے کو توڑ کر ہمارے ماحول کو بھی صاف کرتے ہیں۔
اب ذرا سوچیے کہ اگر زمین پر خوردعضویے موجود نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟
ایک قدم آگے
خوردعضویے بائیو گیس کے وسیلے کے طور پر
بیکٹیریا اور فنجائی جیسے بہت سے خوردعضویے آکسیجن سے عاری ماحول میں رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بیکٹیریا ماحول یا گھریلو گندے پانی میں موجود پودوں اور جانوروں کے فضلے کو سڑانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس عمل کے دوران، وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ایک اور گیس، میتھین کے اعلی تناسب پر مشتمل گیسوں کا مرکب چھوڑتے ہیں۔ اس گیس کو کھانا پکانے، گرم کرنے، بجلی پیدا کرنے اور یہاں تک کہ گاڑیوں کو چلانے کے لیے ایندھن کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔
سائنس داں کے بارے میں
ڈاکٹر آنند موہن چکرورتی (1938-2020) ایک سائنس داں تھے جنھوں نے بیکٹیریا کا مطالعہ کیا۔ 1971 میں انھوں نے ایک خاص بیکٹیریا تیار کیا جو تیل کے اخراج کو توڑکر (Decompose)ماحول کو صاف کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ ان کی دریافت کو 1980 میں پیٹنٹ ملا۔ پیٹنٹ (Patent) ایک ایسا کاپی رائٹ ہوتا ہے جو کسی شخص کو دیا جاتا ہے تاکہ کوئی اور اجازت کے بغیر اس کی ایجاد کو نقل، استعمال یا فروخت نہ کرسکے۔ ان کی تحقیق نے دکھایا کہ آلودگی جیسے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کس طرح خوردعضویوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انھیں سائنس میں ان کی خدمات اور ماحولیات کی حفاظت کے لیے خوردعضویوں کے استعمال کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اور کون سے مسائل ہیں جو آپ کے خیال میں خوردعضویوں کی مدد سے حل کیے جاسکتے ہیں؟
خوردعضویوں کا تنوع ہمارے باورچی خانے میں کس طرح مدد کرتا ہے؟
2.4.2 خوردعضویے اور خوراک
آئیے باورچی خانے میں سرگرمیاں انجام دے کر سمجھنے کی کوشش کریں۔
شکل 2.11: خمیر، چینی اور گرم پانی ملانے کے بعد آٹے کی مقدار میں تغیر

� دو پیالے A اور B لیں۔
� ہر ایک میں 200 گرام آٹا (گیہوں کا آٹا یا میدہ) لیں اور اس میں چٹکی بھر چینی شامل کریں۔
� اب، پیالہ A میں، خمیر پاؤڈر ( Yeast Powder) کی تھوڑی سی مقدار شامل کریں اور اسے آٹے کے ساتھ اچھی طرح ملائیں۔
� پیالہ B میں، کوئی خمیر شامل نہ کریں، تاکہ ہم دونوں پیالوں کے نتائج کا موازنہ کرسکیں۔
� نرم بنانے کے لیے دونوں پیالوں کے آٹے کو گرم پانی سے گوندھیں(شکل 2.11)۔
� آٹے کو گیلے کپڑے سے ڈھانپ کر گرم جگہ پر رکھ دیں۔
� 4-5 گھنٹے کے بعد دونوں پیالوں کا مشاہدہ کریں۔
کیا آپ کو آٹے کے حجم، خوشبو یا ساخت میں کوئی تبدیلی نظر آئی؟ اگر نہیں، تو آٹے کو کچھ اور وقت کے لیے چھوڑ دیں۔ کچھ عرصے کے بعد، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پیالہ A میں آٹا، جس میں خمیر (Yeast)شامل کیا گیا تھا، تھوڑا سا بڑھ گیا ہے، وہ پھول گیا ہے اور خمیر کے بغیر گوندھے گئے آٹے کے مقابلے میں اس کی بو بھی مختلف ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟خمیر کا کیا کردار ہے؟ ہم نے آٹے میں چینی اور گرم پانی کیوں شامل کیا؟
خمیر ایک قسم کا خوردعضویہ ہے۔ اس کا تعلق خوردعضویوں کے ایک گروہ سے ہے جسے پھپھوندی
کہا جاتا ہے۔خمیر گرم حالات میں اچھی طرح سے پنپتاہے۔ آپ کو گریڈ 7 میں ’جانوروں کے حیاتیاتی عمل‘باب سے یاد ہوگا کہ، دوسرے عضویوں کی طرح، خمیربھی اپنی نشوونما کے لیے کھانے سے توانائی حاصل کرنے اور حیاتیاتی عمل کو انجام دینے کے لیے تنفس سے کام لیتا ہے اور کھانے کو توڑتا ہے۔ اس عمل کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جس سے بلبلے بنتے ہیں جو آٹے کو نرم کرتے ہیں اور اسے پھلا دیتے ہیں۔ خمیر اس عمل کے دوران تھوڑی سی مقدار میں الکحل بھی پیدا کرتا ہے، جس سے آٹے کو قدرے مختلف بو ملتی ہے۔ خمیرکی یہی خصوصیت روٹی، کیک اوردیگر بہت سارے پکوان بنانے کے عمل میں استعمال کی جاتی ہے! خمیر کے علاوہ، کچھ بیکٹیریا، جیسے لیکٹوبیسیلس (Lactobacillus)، اڈلی اور ڈوسا بنانے اور بھٹورا بنانے کے لیے آٹے کی تخمیر (Fermentation) میں مدد کرتے ہیں۔

� شیشے کے دو چھوٹے پیالے لیں — ان پر ‘A’ اور ‘B’ کا لیبل لگائیں۔
� پیالہ A میں نیم گرم دودھ اور پیالہ B میں ٹھنڈا دودھ ڈالیں۔
� اب، ہر پیالے میں ایک چھوٹا چمچ دہی شامل کریں اور چمچ کا استعمال کرکے اچھی طرح ملائیں۔
� دونوں پیالوں کو ڈھانپ دیں۔پیالہ A کو گرم جگہ پر رکھیں اور پیالہ B کو ٹھنڈی جگہ
(جیسے ریفریجریٹر) میں کچھ گھنٹوں یا رات بھر کے لیے رکھیں۔
� شیشے کے پیالوں میں تبدیلیوں کا مشاہدہ کریں۔ جدول 2.4 میں اپنی پیش گوئیاں اور مشاہدات لکھیں۔
جدول 2.4: مختلف حالات میں دودھ کا استعمال کرتے ہوئے دہی بننے کی جانچ
|
دودھ کی ظاہری شکل میں تبدیلی |
دودھ کے رنگ میں تبدیلی |
ممکنہ وجہ |
|||
|
پیالہ A |
پیالہ B |
پیالہ A |
پیالہ B |
||
|
پیشین گوئی |
|||||
|
مشاہدہ |
|||||
آپ دیکھیں گے کہ پیالہ A میں دودھ چند گھنٹوں کے بعد دہی میں بدل گیا ہے اور تھوڑا سا کھٹا ہو گیا ہے۔ جبکہ پیالہ B میں دودھ دہی میں نہیں بدلاہے، لیکن یہ تھوڑا سا کھٹا ہوسکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دہی میں کئی قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک لیکٹوبیسیلس ہے۔ یہ بیکٹیریا دودھ میں موجود چینی (لیکٹوز) کھاتا ہے، دودھ کو کئی گنا بڑھاتا ہے اور دہی بنانے کے لیے تخمیر کرتا ہے۔ الکحل پیدا کرنے کے بجائے (خمیرکی طرح)، یہ بیکٹیریا لیکٹک ایسڈ پیدا کرتے ہیں، جو دہی کو کھٹا بنادیتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا گرم حالات میں اچھی طرح سے پنپتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہی پیالہ A میں بنتا ہے لیکن پیالہ B میں نہیں۔
ہم خوردعضویوں کو مختلف زمروں میں درجہ بند کرسکتے ہیں، جیسے پروٹوزوا، فنگس، بیکٹیریا، بعض ایلگی اور بھی بہت کچھ۔ بعض بیکٹیریا، جیسے رائزوبیم(Rhizobium)گانٹھ (Nodules) یعنی پھولے ہوئے حصے بناتے ہیں اور اسی میں رہتے ہیں جیسا کہ شکل 2.12 میں دکھایا گیا ہے۔ کچھ پھلی دار پودوں (Legumes)کی جڑیں، جیسے پھلیاں، مٹر اور دالوں کی جڑ میں گانٹھیں ہوتی ہیں جن میں رائزوبیم بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا ہوا سے نائٹروجن کو کھینچ کر اسے پودوں کے لیے مفید بناتے ہیں۔ اس سے پودوں کو کیمیائی کھادوں کے بغیر بہتر نشوونما میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسان دوسری فصلوں کے ساتھ باری باری پھلیاں اگاتے ہیں۔ اس سے قدرتی طور پر مٹی میں نائٹروجن میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے اگلی فصل کے لیے صحت مند رکھتا ہے۔
شکل 2.12: مٹر کے پودے کی جڑیں گاٹھیں جن میں رائزوبیم ہے
2.4.3 حیرت انگیز مائکرو ایلگی: پانی میں ننھے مددگار
مائکروایلگی خوردبینی پودوں کی طرح کے عضویے ہیں جو پانی، مٹی، ہوا اور یہاں تک کہ درختوں پر بھی رہتے ہیں۔ وہ سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہوئے اپنا کھانا خود بناتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ آکسیجن بھی چھوڑتے ہیں اور زمین کی آکسیجن کی فراہمی کا نصف سے زیادہ پیدا کرتے ہیں۔ وہ غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں اور بہت سے آبی جانوروں کے لیے خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔ بعض مائیکروایلگی، جیسے اسپایئرولینا (Spirolina)، کلوریلا (Chlorella) اور ڈائی ایٹم (Diatoms)، انسانوں کے ذریعہ صحت کے سپلیمنٹ اور ادویات کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مائکروایلگی پانی کی صفائی میں بھی مدد کرتا ہے اور بائیو فیول بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تاہم، آلودگی، آب و ہوا کی تبدیلی اور رہائش گاہ کی تباہی مائکروایلگی کے تنوع اور کثرت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ماحول کی حفاظت اور زمین پر آکسیجن کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ان چھوٹے عضویوں کا تحفظ ضروری ہے۔
کبھی سنا ہے
- براہ راست سورج کی روشنی سے دور ایک روشن جگہ پر ایک صاف شیشے کا ٹینک رکھیں۔
- ٹینک کو سایہ دار جال سے ڈھانپ دیں، یا ٹینک کو معتدل درجۂ حرارت والی جگہ پر رکھیں۔
- تالاب کے پانی سے ٹینک کو بھریں۔
- تالاب سے جمع کردہ زندہ اسپایئرولینا شامل کریں۔
- ہفتے میں دو بار بڑھتی ہوئی اسپایئرولینا کو ہلائیں۔
- 3-6 ہفتوں کے بعد، اسپایئرولینا کو باریک کپڑے کے ذریعہ فلٹر کرکے ٹینک سے نکالا جاسکتا ہے۔
غذائی تحفظ اور ذریعۂ معاش کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مائکروایلگی کا تحفظ ایک اچھا عمل ہے۔
2.5 خلیے کو زندگی کی بنیادی اکائی کیوں مانا جاتا ہے؟
تمام جاندار عضویوں کا جسم چھوٹے چھوٹے تشکیلی بلاکوں پر مشتمل ہوتا ہے جنھیں خلیات کہا جاتا ہے۔ ایک واحد خلیے میں مختلف اجزا ہوتے ہیں جو عضویوں کو مختلف افعال انجام دینے میں مدد کرتے ہیں۔ تمام پودوں اور جانوروں کے جسم بہت سے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ لہٰذا انھیں کثیر خلوی (بہت سے خلیوں والے) عضویے کہا جاتا ہے۔
کثیر خلوی عضویوں میں، خلیات انفرادی طور پر خصوصی افعال انجام دیتے ہیں لیکن بقا کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔
کچھ خوردعضویے، جیسے بیکٹیریا اور پروٹوزوا، صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کو یک خلوی (ایک خلیے والے) عضویے کہا جاتا ہے۔ وہ ایک ہی خلیے میں اپنی بقا کے لیے ضروری تمام افعال انجام دیتے ہیں۔ دیگر خوردعضویے، جیسے ایلگی اور پھپھوندی، ایک یا زیادہ خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، خمیر ایک یک خلوی فنگس ہے جبکہ پھپھوند (Mould)ایک کثیر خلوی فنگس ہے۔
شکل2.13: ایک بیکٹیریائی خلیہ جس میں مرکزہ نما (Nucleoid) حصہ دکھائی دے رہا ہے
جانوروں اور پودوں کے خلیوں کی طرح، خوردعضویوں کے خلیات بھی ایک خلوی جھلی سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں۔پھپھوندی کے خلیوں میں ایک خلوی دیوار بھی ہوتی ہے، لیکن ان میں کلوروپلاسٹ نہیں ہوتے،لہٰذا وہ ضیائی تالیف (Photosynthesis)کرکے اپنی خوراک نہیں بنا سکتے ۔ بیکٹیریا میں ایک واضح مرکزہ (Nucleus)اور جوہری جھلی نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے، وہ مرکزہ نما (Nucleoid) رکھتے ہیں۔ یہ خصوصیت انھیں خمیر، پروٹوزوا،ایلگی، پھپھوندی، پودوں اور جانوروں کے خلیوں سے ممتاز کرتی ہے۔
ہم نے یہاں صرف چند ایک بنیادی خلوی ڈھانچوں کو دیکھا ہے۔ خلیے میں دیگر اجزا بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں آپ اگلی کلاسوں میں پڑھیں گے۔ ذیلی خلوی اجزا (Subcellular Components) کا مشاہدہ کرنے کے لیے، ہمیں اعلی صلاحیت والی خوردبین (High Magnification Microscopes) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک الیکٹرون خوردبین خلیے کو تقریباً 10,00,000 گنا بڑا کرکے دکھاتی ہے، جس سے ہم خلیے میں موجود مزید ڈھانچوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اب تک آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ تمام جاندار عضویے ، بشمول خوردعضویے، ایک یا ایک سے زیادہ خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کے خلیات جسامت، شکل اور ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں کے خلیات میں بھی کچھ فرق ہوتا ہے۔ ان اختلافات کو سمجھنے سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ یہ عضویے کس طرح مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں۔
اس باب میں، ہم نے مفید خوردعضویوں کے بارے میں سیکھا ہے۔ تاہم، کچھ خوردعضویے ایسے ہوتے ہیں جو انسانوں سمیت پودوں اور جانوروں میں بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ہم اگلے باب میں خورد عضویوں کی وجہ سے ہونے والی کچھ بیماریوں کے بارے میں پڑھیں گے۔
خلاصہ
- خوردعضویے بہت چھوٹی جسامت والے عضویے ہوتے ہیں جنھیں ننگی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔
- وہ ہر قسم کے ماحول میں رہ سکتے ہیں، اور پودوں اور جانوروں کے جسم میں بھی رہ سکتے ہیں۔
- وہ یک خلوی یا کثیر خلوی ہوتے ہیں۔ بیکٹیریا اور پروٹوزوا یک خلوی ہوتے ہیں۔ پھپھوندی یک خلوی یا کثیر خلوی ہوسکتی ہے، جبکہ پودے اور جانور کثیر خلوی ہوتے ہیں۔
- خلیہ زندگی کی ایک بنیادی اکائی ہے۔
- تمام جان دار عضویوں کا جسم خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ خلیے میں مختلف اجزا ہوتے ہیں جو عضویوں کو اپنے افعال انجام دینے اور زندہ رہنے میں مدد کرتے ہیں۔
- ایک عام خلیہ ایک خلوی جھلی سے گھرا ہوا ہوتا ہے، جو سائٹوپلازم سے بھرا ہوتا ہے اور اس میں ایک مرکزہ (Nucleus) ہوتا ہے۔ پودوں، فنجائی اور بیکٹیریا کے خلیات میں خلیوں کی جھلی کے ارد گرد ایک اضافی احاطہ ہوتا ہے، جسے خلوی دیوار کہا جاتا ہے۔ بیکٹیریا میں کوئی واضح مرکزہ نہیں ہوتا۔
- خلیات شکل اور جسامت میں مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی شکل ان کے ذریعہ انجام دیےجانے والے فعل کے مطابق ہوتی ہے۔
- بیکٹیریا، فنگائی اور پروٹوزوا مختلف قسم کے خوردعضویے ہیں۔
- وائرس بھی جسامت میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن وہ دوسرے خوردعضویوں سے مختلف ہوتے ہیں کیوں کہ وہ صرف میزبان عضویے کے اندر ہی تولید کرتے ہیں۔
- خوردعضویے ہمارے لیے فائدےمند یا نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
- کچھ خوردعضویے پودوں اور جانوروں کے فضلے کو سادہ مادوں میں تبدیل کرتے ہیں اور ماحول کو صاف کرتے ہیں۔
- کچھ خوردعضویے پھلیوں کی گانٹھوں کی جڑوں میں رہتے ہیں، جیسے مٹر، پھلیاں اور دالیں۔ وہ ہوا سے نائٹروجن لے کر مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔
- ایسٹ (Yeast)فنگس ہیں جو بریڈ، کیک، پیسٹریاں، اڈلی، ڈوسا اور بھٹورا بنانے کے عمل میں استعمال ہوتے ہیں۔
- لیکٹوبیسیلس (Lactobaillus) گھر پر دہی کی تشکیل اور کھانے کی صنعت میں تخمیر کے عمل میں استعمال ہوتا ہے۔
تجسس کو برقرار رکھیں
- خلیے کے مختلف حصوں کو ذیل میں دیا گیا ہے۔ انھیں مندرجہ ذیل ڈائی گرام میں مناسب جگہوں پر لکھیں۔
مرکزہ سائٹوپلازم
کلوروپلاسٹ خلوی دیوار
خلوی جھلی مرکزہ نما
- آنندی نے دو جانچ نلیاں لیں اور ان پر A اور B لیبل لگایا۔ اس نے دونوں جانچ نلیوں میں دو دو چمچ چینی کا محلول ڈالا۔ جانچ نلی B میں، اس نے ایک چمچ خمیر شامل کیا۔ پھر اس نے دونوں جانچ نلیوں کے منھ پر دو پوری طرح پھولے ہوئے غبارے منسلک کیے۔ اس نے اسے سورج کی روشنی سے دور ایک گرم جگہ پر رکھا۔
- تین سے چار دن کے بعد کیا ہوگا، اس کے بارے میں آپ کی پیشین گوئی کیاہے؟ اس نے مشاہدہ کیا کہ جانچ نلی B سے منسلک غبارہ پھولا ہوا تھا۔ اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے؟
- جانچ نلی B میں پانی بخارات میں تبدیل ہو گیا اور غبارہ پانی کے بخارات سے بھر گیا۔
- گرم ماحول میں جانچ نلی B کے اندر ہوا پھیل گئی، جس سے غبارہ پھول گیا۔
- خمیرسے جانچ نلی B کے اندر گیس پیدا ہوگئی جس نے غبارے کو پھلا دیا۔
- چینی نے گرم ہوا کے ساتھ تعامل کیا، جس سے گیس پیدا ہوئی، اسی وجہ سے غبارہ پھول گیا۔
- اس نے ایک اور جانچ نلی لی، جو ایک چوتھائی چونے کے پانی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے جانچ نلی Bسے غبارے کو اس طرح ہٹایا کہ غبارے کے اندر موجود گیس باہر نہ نکل سکے۔ اس نے چونے کے پانی کے ساتھ غبارے کو جانچ نلی سے منسلک کیا اور اسے اچھی طرح ہلایا۔ آپ کے خیال میں وہ کیا جاننا چاہتی ہے؟
- تین سے چار دن کے بعد کیا ہوگا، اس کے بارے میں آپ کی پیشین گوئی کیاہے؟ اس نے مشاہدہ کیا کہ جانچ نلی B سے منسلک غبارہ پھولا ہوا تھا۔ اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے؟
- ایک کسان اپنے کھیت میں گندم کی فصل لگا رہا تھا۔ اس نے فصلوں کی اچھی پیداوار کے لیے مٹی میں نائٹروجن سے بھرپور کھاد شامل کی۔ پڑوس کے کھیت میں ایک اور کسان سیم کی فصلیں اگا رہا تھا، لیکن اس نے صحت مند فصلیں حاصل کرنے کے لیے نائٹروجن کھاد شامل نہ کرنے کو ترجیح دی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
- سنیہل نے اپنے باغ میں دو گڑھے، AاورBکھودے۔ گڑھا A میں اس نے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے ڈالے اور انھیں خشک پتوں کے ساتھ ملا دیا۔ گڑھا B میں اس نے اسی قسم کے کوڑے کرکٹ کو خشک پتوں کے ساتھ ملائے بغیر ڈال دیا۔ اس نے دونوں گڑھوں کو مٹی سے ڈھانپ دیا اور 3 ہفتوں کے بعد مشاہدہ کیا۔ وہ کیا جانچنے کی کوشش کر رہی ہے؟
- مندرجہ ذیل خوردعضویوں کی شناخت کریں:
- میں ہر طرح کے ماحول میں رہتا ہوں اور آپ کے معدے کے اندر بھی ہوں۔
- میں روٹی اور کیک کو نرم اور پھولا ہوا بناتا ہوں۔
- میں دال کی فصلوں کی جڑوں میں رہتا ہوں اور ان کی نشوونما کے لیے غذائی اجزا فراہم کرتا ہوں۔
- یہ جانچنے کے لیے ایک تجربہ تجویز کریں کہ خوردعضویے کو ان کی نشوونما کے لیے موزوں درجۂ حرارت، ہوا اور نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- بریڈکے 2 ٹکڑے لیں۔ سنک (Sink)کے قریب ایک پلیٹ میں ایک ٹکڑا رکھیں۔ دوسرا ٹکڑا ریفریجریٹر میں رکھیں۔ تین دن کے بعد موازنہ کریں۔ اپنے مشاہدات نوٹ کریں۔ اپنے مشاہدات کی وجوہات بیان کریں۔
- ایک طالب علم نے مشاہدہ کیا کہ جب دہی کو ایک دن کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ زیادہ کھٹا ہو جاتا ہے۔ اس مشاہدے کی دو ممکنہ وجوہ کیا ہو سکتی ہیں؟
- دیےگئے سیٹ اپ کا مشاہدہ کریں اور مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دیں۔
- فلاسک A میں چینی کے محلول کا کیا ہوتا ہے؟
- آپ چار گھنٹے کے بعد جانچ نلی B میں کیا دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوا؟
- اگر فلاسک A میں خمیر شامل نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟
شکل 2.15: تجرباتی سیٹ اپ
دریافت، ڈیزائن اور بحث
� ہندوستان میں بائیو گیس کی پیداوار کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہمارے قدیم ترین بائیو گیس پلانٹ میں سے ایک 1850 کی دہائی کے آخر میں قائم کیا گیا تھا۔ حکومت ہند کی نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے ذریعہ شروع کردہ بائیو گیس پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
� ہندوستان کے کچھ حصوں میں خمیر شدہ سویابین اور خمیر شدہ بانس کے ٹکڑوں جیسے خمیر ی پکوان روایتی کھانوں کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ اپنے والدین اور اساتذہ کی مدد سے، اپنے علاقے کی کچھ روایتی کھانوں کی اشیا کی فہرست بنائیں جن میں تخمیرکے عمل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان خمیر شدہ پکوانوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا، انھیں تیار کرنے کا طریقہ، کھانے کی تخمیرکے لیے ذمہ دار خوردعضویوں اور خمیر شدہ کھانے کی ثقافتی اور غذائی اہمیت پرتحقیق کریں۔
� تکبیری شیشہ اور خورد بین / فولڈاسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے میکرو فنگس مشروم کے مختلف حصوں کا مطالعہ کریں۔ بڑی جماعتوں کے طلبا کی مدد لیں اور اپنے اسکول کی لیبارٹری میں خورد بین / فولڈاسکوپ کے تحت مشروم کے مختلف حصوں کی اندرونی ساخت کا پتہ لگائیں۔
� کسی کاروباری شخص کے ساتھ بات چیت کریں اور مشروم کی کاشت کے اقدامات سیکھیں۔
اپنے دوستوں کے تیار کردہ سوالات پر غور کریں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کریں...
......................................................
......................................................
......................................................
......................................................
......................................................



