Skip to content

نوٹس بورڈ

NOTICE_BOARD1_EPS_FINAl_Final Qr






3
صحت : ایک انمول خزانہ (Health: The Ultimate Treasure)


3

جانچیں اور غور کریں

  • آپ کا جسم عام نزلہ زکام جیسے انفیکشن پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے؟
  • ہم ان دنوں چیچک یا پولیو کے کیس شاذ و نادر ہی دیکھتے ہیں، لیکن ذیابیطس اور دل کے مسائل جیسی بیماریاں زیادہ عام ہیں۔ کیوں؟
  • کیا آب و ہوا کی تبدیلی نئی قسم کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے؟
  • تناؤ یا پریشانی جیسے جذبات ہمیں کس طرح متاثر کرتے ہیں اور ہمیں بیمار بناتے ہیں؟
  • بیماری پھیلنے کے دوران لوگوں کے کچھ گروہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کیوں ہو جاتے ہیں؟
  • اپنے سوالات کا اشتراک کریں _________________ _________________؟

3.1 صحت: کیا یہ بیمار نہ ہونے سے بڑھ کر ہے؟

نوٹس بورڈ پر چسپاں خبروں کے تراشوں سے آپ کو ہمارے ملک میں لوگوں کی صحت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟ کیا صحت مند رہنے کا مطلب صرف بیماریاں نہ ہونا ہے؟ صحت میں جسمانی طور پر اچھا محسوس کرنا، مثبت رہنا اور مضبوط تعلقات رکھنا بھی شامل ہے۔ ایک صحت مندشخص اپنے جسم کا خیال رکھتا ہے، مثبت ذہنیت کو برقرار رکھتا ہے، اور سماجی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ آئیے اب چھان بین کرتے ہیں کہ صحت مند رہنے کا حقیقی مطلب کیا ہے۔

سرگرمی 3.1: آئیے پڑھیں

آٹھویں جماعت کا ایک طالب علم دوسرے شہر کے ایک نئے اسکول میں منتقل ہو گیا۔ اپنے نئے ماحول میں کوئی دوست نہ ہونے اور مصروف والدین کی وجہ سے وہ اکیلا محسوس کرتا تھا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنے فون اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے لگا لیکن اس سے اسے اور بھی خراب محسوس ہوا۔ اس نے دوست بنانے کی کوشش چھوڑ دی، سر میں درد رہنے لگا، وزن کم ہو گیا اور وہ اچھی طرح سے سو بھی نہیں پاتا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اسکرین پر کم وقت گزارے اور کسی کونسلر سے ملے۔ اسکول کے کونسلر نے دوست بنانے اور اس کی صحت کو بہتر بنانےکے لیے مدد کا انتظام کیا۔

سوچیں اور غور و فکر کریں: لڑکے کی صحت کے مسائل کی کیا وجہ تھی؟ اس کی عادات اور ماحول نے اس کی بہبود کو کس طرح متاثر کیا؟

عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کی رو سے صحت کی تعریف مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود کی حالت ہے، نہ کہ صرف بیماری کی غیر موجودگی۔ ایک صحت مند شخص مختلف کاموں کو زیادہ انجام دے سکتا ہے اور مختلف اور مشکل حالات کا اچھی طرح مقابلہ کرسکتا ہے۔ ایک صحت مند شخص ساتھیوں کے گروپوں اور سماج کے دیگر ارکان کے ساتھ اچھی طرح سےگھل مل سکتا ہے۔ آئیے ہم صحت کے بارے میں مزید سمجھیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 09-43-10 Chapter 3.pdf

شکل3.1: صحت کے پہلو

ہمارا سائنسی ورثہ

آیوروید ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی صحت جسم، دماغ اور اپنے ارد گرد کا توازن ہے۔
دن چریہ (روزانہ کا معمول) اور رتوچریہ (موسمی معمول) کی پیروی کرنے سے اس توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ کسی کے جسم کی تشکیل کے مطابق تازہ اور صحت بخش غذا کھانا ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش، صفائی، پرسکون نیند اور پرسکون دماغ مجموعی بہبود میں مددگار ہوتے ہیں۔ اسے یوگ، مراقبہ اور ذہن کو حاضر رکھنےجیسی مشقوں کے ذریعے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

LOGO

3.2 ہم صحت مند کیسے رہ سکتے ہیں؟

صحت مند رہنے کا مطلب غذائیت سے بھرپور کھانا کھانا، حفظان صحت کو برقرار رکھنا، صاف ستھری جگہ پر رہنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا، مناسب نیند لینا، اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اور مثبت رویہ اپنانا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو صحت مند رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟

سرگرمی 3.2: آئیے فہرست بنائیں

  • کچھ ایسی اچھی عادات کی فہرست بنائیں جنھیں آپ کے والدین، اساتذہ یا بزرگ اکثر آپ کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان میں سے کتنی پہلے ہی آپ کے روزمرہ کے معمول کا حصہ ہیں؟ آپ کون سی عادت شروع کرنا چاہیں گے؟ درج ذیل فہرست میں شامل کریں:
  • اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا اور ذاتی حفظان صحت کو برقرار رکھنا۔
  • صحت مند اور متوازن غذا کھانا۔
  • باقاعدگی سے ورزش کرنا۔
  • ہر روز آرام کرنے یا مراقبہ کرنے کے لیے وقت نکالنا۔
  • اب ان عادات کے بارے میں سوچیں جو آپ کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہیں۔ نیچے دی گئی فہرست میں مزید شامل کریں:
  • موبائل فون یا دیگر ڈیجیٹل اسکرینوں پر بہت زیادہ وقت گزارنا۔
  • روزانہ فاسٹ فوڈ اور دیگر جنک فوڈ کھانا۔
  • بہت دیر میں سونا یا مناسب نیند نہ لینا۔
  • کھانا چھوڑنا، خاص طور پر ناشتہ۔

ہمیں اپنے جسم اور دماغ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ صحت مند عادات صحت مند جسم کے ساتھ ساتھ صحت مند دماغ کے لیے مفید ہیں۔ اپنے دوستوں اور استاد کے ساتھ اپنے نتائج پر تبادلۂ خیال کریں۔ جس سرگرمی میں آپ نے حصہ لیا اور تبادلۂ خیال سےآپ کو احساس ہوا ہوگا کہ ہماری صحت بہت سے عوامل پر منحصر ہے۔ ان عوامل میں ہمارا طرزِ زندگی (ہم کیسے رہتے ہیں) اور ہمارا ماحول (ہمارا گرد و پیش) شامل ہیں۔

3.2.1 صحت مند طرز زندگی برقرار رکھیں

Screenshot 2026-03-18 at 09-52-53 Chapter 3.pdf

شکل 3.2: صحت مند کیسے رہیں

  • پھلوں، سبزیوں اور اناج کی وافر مقدار کے ساتھ متوازن غذا کھائیں۔
  • پروسیسڈ، مرغن یا میٹھے کھانے اور مشروبات سے پرہیز کریں۔
  • باہر کھیل کر، چہل قدمی کر کے، دوڑ کر، سائیکل چلا کریا ورزش کرکے جسمانی طور پر فعال رہیں۔
  • اسکرین کے وقت کو محدود کریں اور فطرت میں زیادہ وقت گزاریں۔
  • اپنے جسم اور دماغ کو آرام کرنے اور اسے بحال ہونے میں مدد کرنے کے لیے مناثب نیند لیں۔
  • باقاعدگی سے یوگ یا سانس لینے کی سادہ مشق جیسے پرانایام کی مشق کریں۔
  • نقصان دہ اشیا اور منشیات سے پرہیز کریں۔

3.2.2 ماحول کو صاف رکھیں

سرگرمی 3.3: آئیے موازنہ کریں

  • شکل 3.3a اور شکل 3.3b پر نظر ڈالیں۔ آپ کس کھیل کے میدان میں کھیلنا پسند کریں گے، اور کیوں؟
  • ہم میں سے زیادہ تر شکل 3.3a میں دکھائے گئے کھیل کے میدان میں کھیلنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ صاف ستھرا، اچھی طرح رکھ رکھاؤ والااور خوب صورت نظر آتا ہے۔ شکل 3.3b میں کھیل کا میدان آلودہ، گندا، مضر صحت اور مکھیوں اور مچھروں سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر بیمار پڑ سکتے ہیں۔
  • اچھی عادات پیدا کرنے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کے علاوہ ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔
  • کیا آپ کو کبھی ایسی جگہ پر سانس لینے میں دشواری محسوس ہوئی ہے جہاں بہت زیادہ دھواں یا دھول ہو؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاف ہوا اور پانی ہماری صحت کے لیے ضروری ہیں۔ شہروں میں گاڑیوں اور فیکٹریوں سے ہونے والی فضائی آلودگی کھانسی یا دمہ جیسے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ہوا کے معیار کا اشاریہ یا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) ہمیں یہ جاننے میں مدد کرتا ہے کہ ہوا کتنی صاف ستھری ہے۔ صاف ستھرا ماحول ہمیں صحت مند رہنے اور بہتر محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے۔
  • لیکن صحت صرف جسم کے بارے میں نہیں ہے۔ ہمارے جذبات اور تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم اچھا کھاتے بھی ہوں اور صاف ستھری جگہ پر رہتے بھی ہوں، تب بھی اگر ہم تنہا یا پریشان ہوں تو ہمیں اچھا محسوس نہیں ہوسکتا۔ دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا، باتیں کرنا، ہنسنا اور تفریح کرنا ہمارے دماغ کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
Screenshot 2026-03-18 at 09-55-04 Chapter 3.pdf

شکل 3.3: دو الگ الگ کھیل کے میدان

3.3 ہم کیسے جانتے ہیں کہ ہم بیمار ہیں؟

ہمارا جسم عام طور پر ہمیں صحت مند رکھنے کے لیے ایک خاص طریقے سے کام کرتا ہے۔ جب ہم خود کوبیمار محسوس کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر کچھ اس طرح سے کام نہیں کر رہا ہے جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔ اس کی علامات (Symptoms) ظاہر ہوسکتی ہیں، جیسے درد، تھکاوٹ، یا چکر آنا اور بخار، دانے، ہائی بلڈ پریشر، یا سوجن جیسے اثرات(Signs) جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ہم بیمار ہیں۔ علامات وہ ہوتی ہیں جنھیں ہم محسوس کرتے ہیں (جیسے درد)، جب کہ اثرات وہ ہوتے ہیں جنھیں دیکھا یا ناپا جاسکتا ہے (جیسے بخار ہونے پر جسم کا زیادہ درجۂ حرارت)۔ علامات و اثرات سے ڈاکٹروں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہم کس وجہ سے بیمار ہیں۔

بیماری اس حالت کو کہتے ہیں ہے جو جسم یا دماغ کے معمول کے کام کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہوسکتی ہے جب ایک یا ایک سے زیادہ اعضا یا اعضا کا نظام مناسب طریقے سے کام کرنا بند کردے۔ کچھ بیماریاں خوردعضویوں جیسے بیکٹیریا، وائرس، پھپھوندی، کیڑے، یا یہاں تک کہ پروٹوزوا (یک خلوی عضویے) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں کا سبب بننے والے جانداروں کو پیتھوجن (Pathogens) کہا جاتا ہے۔ دیگر بیماریاں ناقص غذائیت یا غیر صحت مند طرز زندگی کے نتیجے میں ہوسکتی ہیں۔ کچھ بیماریاں مختصر وقت تک رہتی ہیں، جب کہ دیگر طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں اور انھیں باقاعدگی سے علاج یا دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماریوں کو ان کے اسباب اور ان کے پھیلنے کی بنیاد پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

Screenshot 2026-03-18 at 09-57-32 Chapter 3.pdf

شکل 3.4: بیماریوں کے منتقل ہونے کے عام طریقے

  • غیر متعدی بیماریاں:کچھ بیماریاں جیسے کینسر، ذیا بیطس، یا دمّہ، پیتھوجن کی وجہ سے نہیں ہوتیں اور ایک شخص سے دوسرے میں نہیں پھیلتی ہیں۔ وہ عام طور پر طرزِ زندگی یا ماحول سے منسلک ہوتی ہیں۔
  • متعدی بیماریاں: پیتھوجن کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کو متعدی بیماریاں کہا جاتا ہے۔ وہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیل سکتی ہیں۔ متعدی بیماریوں کی کچھ مثالیں ٹا ئیفائیڈ، ڈینگی، فلو، خسرہ اور کووڈ 19-ہیں۔

حالیہ برسوں میں، غیر متعدی بیماریاں (NCD) جیسے ذیابیطس، دل کی بیماری، اور کینسر ہندوستان میں زیادہ عام ہو گئی ہیں۔ ایسا لوگوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے - جیسے زیادہ پروسیسڈ غذا کھانا، کم ورزش کرنا اور ضعیف العمری۔ آج ہندوستان میں زیادہ تر اموات غیرمتعدی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ان دونوں اقسام کے درمیان فرق کو سمجھنے سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں اور ان کی روک تھام کیسے کی جاتی ہے۔

3.4.1 متعدی بیماریاں کیسے ہوتی اور پھیلتی ہیں؟

تمام متعدی بیماریاں پیتھوجن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ پیتھوجن ہمارے جسم میں اس ہوا کے ذریعے داخل ہوسکتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں یا آلودہ غذا، پانی وغیرہ کے استعمال سے داخل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ پیتھوجن ایک شخص سے دوسرے شخص میں کیسے پھیلتے ہیں؟ ایک عام طریقہ ہوا کے ذریعے ہے، جب کوئی متاثر شخص کھانستا یا چھینکتا ہے، یا براہ راست رابطے کے ذریعے جیسے ہاتھ ملانا، یا بالواسطہ طور پر کسی متاثرہ شخص کی ذاتی اشیا ساجھا کرنا۔ کچھ متعدی بیماریاں پینے کے آلودہ پانی یا آلودہ کھانے سے پھیلتی ہیں۔ کچھ پیتھوجن مچھروں اور گھریلو مکھیوں جیسے کیڑوں سے بھی پھیلتے ہیں۔ ان کیڑوں کو ویکٹر کہا جاتا ہے(شکل 3.4)۔

یہ سمجھ کر کہ بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں، ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو بچانے کے لیے آسان اقدامات کر سکتے ہیں۔ آئیے معلوم کریں کہ یہ متعدی بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں اور ہم ان کی روک تھام کیسے کرسکتے ہیں۔

  • گریڈ 8 کے طلبا نے سماج مہم اور لائبریری سروے کے دوران جدول 3.1 میں کچھ عام متعدی بیماریوں کو درج کیا۔
  • کتابوں، قابل اعتماد ویب سائٹوں، یا اپنے سائنس ٹیچر سے پوچھ کر درج کردہ معلومات کی جانچ پڑتال کریں۔ اگر کوئی تفصیل موجود نہ ہو تو اسے شامل کریں۔
  • جدول کا مطالعہ کریں اور غور کریں کہ کون سے آسان اقدامات ہر بیماری کو روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

جدول 3.1: انسانوں کو متاثر کرنے والی کچھ عام متعدی بیماریاں

امراض

سببی عامل

انفیکشن کی جگہ

علامات

احتیاطی تدابیر

ہوا کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں

عام نزلہ زکام اور انفلوئنزا

وائرس

سانس کی نالی

ناک بند ہونا اور بہنا، گلے میں خراش، بخار، کھانسی، جسم میں درد

بار بار ہاتھ دھونا، ذاتی اشیا ساجھا نہ کرنا، منھ اور ناک کو ڈھانپنا

چیچک

وائرس

سانس کی نالی، جلد

ہلکا بخار،جلد میں خارش، دانے، چھالے

مریض کی مکمل تنہائی، منھ اور ناک کو ڈھانپنا،ٹیکہ کاری

خسرہ

وائرس

جلد، سانس کی نالی

بخار، گلے میں خراش اور گردن، کان اور جلد کے دیگر حصوں پر سرخ دھبے

مریض کو الگ تھلگ رکھنا، منھ اور ناک کو ڈھانپنا، اچھی حفظان صحت کو برقرار رکھنا، ٹیکہ کاری

تپ دق (TB)

بیکٹیریا

پھیپھڑے

کھانسی، بخار، تھکاوٹ، بھوک نہ لگنا، رات کو پسینہ آنا

تپ دق سے متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز، منھ اور ناک کو ڈھانپنا، اچھی حفظان صحت کو برقرار رکھنا، ٹیکہ لگوانا

آلودہ پانی اور کھانے کےذریعے پھیلنے والی بیماریاں

ہیپاٹائٹس A

وائرس

جگر

تھکاوٹ، بخار، بھوک میں کمی، متلی، قے، یرقان، دائیں پیٹ کے اوپری حصے میں درد

ابلا ہوا پانی پینا، ٹیکہ کاری

ہیضہ

بیکٹیریا

آنت

اسہال اور پانی کی کمی

ذاتی حفظان صحت اور اچھی حفظان صحت کی عادات کو برقرار رکھیں، مناسب طریقے سے پکا ہوا کھانا اور ابلے ہوئے پینے کے پانی کا استعمال، ٹیکہ کاری

ٹا ئیفائیڈ

بیکٹیریا

آنت

سر درد، پیٹ کی تکلیف، بخار اور اسہال

ذاتی حفظان صحت اور اچھی حفظان صحت کی عادات کو برقرار رکھنا، مناسب طریقے سے پکا ہوا کھانا اور ابلے ہوئے پینے کے پانی کا استعمال، ٹیکہ کاری

اسکاریاسس

(گول کیڑے)

کیڑے

آنت

پاخانہ میں کیڑے، بھوک کی کمی، خراب نشوونما، اسہال، وزن میں کمی، خون کی کمی

ذاتی حفظان صحت اور اچھی حفظان صحت کی عادات کو برقرار رکھنا، مناسب طریقے سے پکا ہوا کھانا اور ابلے ہوئے پینے کے پانی کا استعمال کرنا

کیڑے مکوڑوں کے ذریعے پھیلنےوالی بیماریاں

ملیریا

پروٹوزوا

جلد، خون

تیز بخار، بہت زیادہ پسینہ، وقفے وقفے سے سردی لگنا

مچھر دانیوں اور پیتھوجن کش ادویات کا استعمال، لمبی آستین والے کپڑے پہننا، اپنے گھر میں اور آس پاس مچھروں کی افزائش پر قابو پانا

ڈینگی بخار

(ہڈی توڑ بخار)

وائرس

جلد، خون

بخار، سر درد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، متلی

مچھر دانیوں اور پیتھوجن کش ادویات کا استعمال، لمبی آستین والے کپڑے پہننا، اپنے گھر میں اور اس کے آس پاس مچھروں کی افزائش پر قابو پانا، ٹھہرے ہوئے پانی والے علاقوں سے بچنا

جدول 3.1 کا مطالعہ کرکے، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ متعدی بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں اور ان کی روک تھام کیسے کی جاسکتی ہے۔ ذیل میں کچھ سادہ لیکن اہم احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں:

  • اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھنا۔
  • ہر روز بنیادی حفظان صحت کو اپنانا۔
  • پیتھوجن دور کرنے کے لیے صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا۔
  • کھانستے یا چھینکتے وقت منھ اور ناک کو ڈھانپنا۔
  • بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر ماسک پہننا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    کیا بیماریاں ہمیشہ انفیکشن کی

    وجہ سے ہوتی ہیں؟

  • Screenshot 2026-03-18 at 10-07-59 Chapter 3.pdf
  • تولیہ اور رومال جیسی ذاتی اشیا کو بانٹنے سے گریز کرنا۔
  • اپنے گھر، کھانے اور پانی کو صاف ستھرا رکھنا۔
  • جب ہم بیمار ہوں تو گھر پر رہنا اور آرام کرنا جسم کو صحت یاب کرنے میں مدد کرتا ہے اور دوسروں میں بیماری کو پھیلنے کو کم سے کم کرتا ہے۔

کچھ متعدی بیماریاں ان کیڑوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جو ہمارے جسم کے اندر رہتے ہیں، خاص طور پر نظام ہاضمہ میں۔ وہ غذائی اجزا کو کھاتے ہیں اور طفیلی (Parasite) بن کر رہتے ہیں، یہ وہ عضویے ہوتے ہیں جو کسی دوسرے جاندار کے اندر یا اس پر رہتے ہیں۔ یہ کیڑے عام طور پر آلودہ خوراک، پانی، مٹی، یا متاثرہ افراد یا جانوروں کے رابطے کے ذریعے پھیلتے ہیں۔

3.4.2 غیر متعدی بیماریاں کیسے پیدا ہوتی ہیں؟

آپ نے اوپر پڑھا کہ کینسر، ذیا بیطس اور دمّہ جیسی غیر متعدی بیماریاں طرزِ زندگی، غذا اور ماحول سے منسلک ہیں۔ یہ بیماریاں ہندوستان میں موت کی سب سے عام وجہ ہیں۔ گریڈ 6 میں، آپ نے اسکروی، انیمیا اور گوئٹر جیسی بیماریوں کے بارے میں بھی پڑھا تھا، جو غذا میں مخصوص غذائی اجزا کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کمی کو قلت یا نقص کے عارضے (Deficiency Diseases) کہا جاتا ہے اور یہ بھی غیر متعدی ہوتے ہیں۔

کینسر، ذیابیطس، اور دمہ جیسی بیماریاں اکثر طویل عرصے تک (3 ماہ سے زیادہ) تک برقرار رہ سکتی ہیں اور انھیں دائمی بیماریاں (Chronic Diseases) کہا جاتا ہے۔

Screenshot 2026-03-18 100828

ذیابیطس ایک عام بیماری ہے جو بالغوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی زیادہ عام ہوتی جارہی ہے۔ درحقیقت، ہندوستان اب دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں ذیا بیطس کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ اکثر ہارمونوں کے عدم توازن، کھانے کی غیر صحت مندانہ عادات، جسمانی سرگرمی کی کمی، زیادہ وزن یا موٹاپے اور دیگر اسباب کے امتزاج کی بنا پر ہوتا ہے۔

آئیے ہم غیر متعدی بیماریوں کے اسباب اور ان کی روک تھام کے بارے میں مزید جانیں۔

سرگرمی 3.5: آئیے سروے کریں

  • اپنے پڑوس میں طرزِ زندگی سے متعلق تین سب سے عام بیماریوں کا پتہ لگائیں۔
  • کسی ڈاکٹر، نرس، صحت کارکن، یا خاندان کے کسی رکن سے بات کریں جو صحت کے بارے میں جانتا ہو اور طرزِ زندگی میں کس طرح کی تبدیلیاں ان بیماریوں کو روکنے یا ان سے نپٹنے میں مدد کرسکتی ہیں۔
  • آپ صحت کی قابلِ اعتماد ویب سائٹوں، کتابوں، اساتذہ اور ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔
  • جدول 3.2 کو پُرکریں اور طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کے بارے میں مزید جانیں۔
28

سائنس داں کے بارے میں

ڈاکٹر کمل رندِوے (1917-2001) ایک معروف بائیومیڈیکل محقق تھیں۔ انھوں نے مطالعہ کیا کہ ہارمون اور بعض وائرس کا کینسر سے کس طرح تعلق ہے۔ ان کی اس تحقیق سے کینسر کے علاج اور اس کی روک تھام کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ ان کے کام نے یہ بھی دکھایا کہ کس طرح تمباکو، غذا اور آلودگی سے کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس طرح انھوں نے صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

2a

3.5 بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول کیسے کریں؟

آپ نے شاید یہ جملہ سنا ہوگا کہ ’پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‘ متعدی اور غیر متعدی دونوں بیماریوں سے خود کو بچانا ضروری ہے۔

سرگرمی 3.6: آئیے پڑھیں

اوڈیشہ – سماج کی قیادت میں صفائی مہم

اوڈیشہ کے بھدرک ضلع میں، سماج صفائی مہم سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بیت الخلا بنانے اور استعمال کرنے میں مدد ملی۔ اس سے کھلے میں رفع حاجت میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور بچوں کی صحت میں بہتری آئی، اسہال اور انفیکشن کے واقعات کم ہوئے۔

آپ اس کیس اسٹڈی سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ اچھی صفائی ستھرائی جیسے آسان اقدامات متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بہت کم کرسکتے ہیں۔ اپنے مقام پر منعقد ہونے والی ایسی سماج مہموں کے بارے میں جانیں۔ اپنی کلاس میں اسے بتائیں اور اس طرح کے اقدامات کے اثرات کے بارے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

بیماریوں سے لڑنے کے لیے جسم کی صلاحیت

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مرتبہ بیمار ہوجاتے ہیں، حالاں کہ وہ اسی طرح کے ماحول میں رہتے ہیں جس میں باقی لوگ رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بیماریوں سے لڑنے کی ہمارے جسم کی قدرتی صلاحیت کو قوتِ مدافعت (Immunity) کہا جاتا ہے۔ ہمارے جسم میں مدافعتی نظام (Immune System) کے نام سے ایک خاص نظام ہوتا ہے جو بیماریوں سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے بچپن میں خود کو پولیو، خسرہ، ٹیٹنس اور ہیپاٹائٹس جیسی کچھ بیماریوں سے بچانے کے لیے کچھ قطرے (Drops) یا انجکشن لیے ہوں۔ یہ ایسے ویکسین ہیں جو وائرس اور بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سنگین انفیکشن کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔

ویکسین ہمارے جسم کو نقصان دہ پیتھوجن کو پہچاننے اور ان پر حملہ کرنے کی تربیت دے کر بعض بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، جسے حاصل شدہ قوتِ مدافعت (Acquired Immunity) کہا جاتا ہے، یعنی وہ تحفظ جو کسی پیتھوجن یا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ویکسین مختلف طریقوں سے بنائے جا سکتے ہیں، کم زور یا مردہ پیتھوجن (جیسے وائرس یا بیکٹیریا) سے، یا پیتھوجن کے غیر فعال یا بے ضرر حصوں سے۔ کچھ نئے ویکسین ہمارے اپنے جسم کے خلیات کو پیتھوجن کا بے ضرر حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہیں، جس سے ہمارا مدافعتی نظام اُن پیتھوجن سے لڑنا سیکھ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، ٹیٹنس کا ٹیکہ، جو اکثر چوٹ لگنے کے بعد لگایا جاتا ہے، ٹیٹنس کا سبب بننے والے بیکٹیریا کے انفیکشن سے بچاتا ہے۔ اس میں ایک غیر فعال بیکٹیریائی ٹاکسن (Bacterial Toxin) ہوتا ہے جو بیماری کا سبب بنے بغیر مدافعتی نظام کو تحفظ پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پہلی ویکسین کب دریافت ہوئی تھی؟

ایڈورڈ جینر اور چیچک کی ویکسین

چیچک ایک مہلک بیماری تھی جس کی وجہ سے چھالے پڑ جاتے تھے اور لاکھوں افراد ہلاک ہو جاتے تھے۔ گائے میں پائی جانے والی گاؤ چیچک (cowpox) نامی ایک ہلکی بیماری سے بھی انسان متاثر ہوسکتے ہیں۔ 1700 کی دہائی کے اواخر میں، ایک انگریز ڈاکٹر ایڈورڈ جینر نے دریافت کیا کہ جن لوگوں کو کبھی گاؤ چیچک ہوا تھا وہ دوبارہ چیچک کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ اس کے نتیجے میں پہلی ویکسین ایجاد ہوئی اور لوگوں کو چیچک سے بچانے میں مدد ملی۔

ہمارا سائنسی ورثہ

جدید ویکسین سے بہت پہلے، ہندوستان میں چیچک سے بچانے کے لیے ایک روایتی طریقہ تھا جسے ویریولیشن (Variolation) کہا جاتا تھا۔ اس میں چیچک کے چھالے سے کھرچی ہوئی جلد لے کر ہلکا انفیکشن پیدا کیا جاتا تھا جس سے جسم میں چیچک کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہوجاتی تھی۔ جو لوگ اس عمل کو انجام دیتے تھے انھیں ’ٹیکیدار‘ کہا جاتا تھا۔

شیر خوار بچے ہوں یا بزرگ، ویکسین ہر عمر کے لوگوں کو بہت سی سنگین بیماریوں سے بچانے کے لیے سب سے مؤثر طریقوں میں سے ایک ہیں۔ وہ بیماریوں کو روکنے، انفیکشن کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور ہر سال لاکھوں زندگیاں بچانے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ویکسین احتیاطی تدبیر ہیں، علاج نہیں، یعنی وہ سنگین بیماری کو ہونے سے پہلے کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں، لیکن ایک بار جب کوئی پہلے سے ہی بیمار ہوجائے تو ان کا علاج نہیں کرتے۔ کچھ لوگ ویکسین سے خوف زدہ یا شک میں مبتلا ہو سکتے ہیں، لیکن سائنس داں اور ڈاکٹر حفاظت کے لیے احتیاط سے ان کی جانچ کرتے ہیں۔ ویکسین لگوانے سے نہ صرف آپ بلکہ آپ کے آس پاس کے لوگوں کی بھی حفاظت ہوتی ہے۔

کیاکبھی سنا ہے...

ویکسین کی تیاری میں ہندوستان کا کردار

Make_in_India_Vaccines

ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے ویکسین بنانے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر ویکسین تیار کرتا ہے اور انھیں بہت سے ممالک کو فراہم کرتا ہے۔ ہندوستانی ویکسین کمپنیوں نے کووڈ 19 وبائی مرض کے دوران کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اب بھی عالمی سطح پر صحت کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سائنس داں کے بارے میں

ڈاکٹر مہاراج کشن بھان ایک مشہور ہندوستانی ڈاکٹر اور سائنس داں تھے۔ محکمہ بائیو ٹیکنالوجی کے سکریٹری کی حیثیت سے انھوں نے ہندوستان میں سائنس اور جدت طرازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے روٹا وائرس ویکسین تیار کرنے میں کلیدی کرداربھی ادا کیا، جو بچوں کو اسہال سے بچاتا ہے۔ وہ سستے ہیلتھ کیئر کی تشکیل کے لیے تحقیق کا استعمال کرنے پر یقین رکھتے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے صحت اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑا اثر ڈالا۔

3.5.1 بیماریوں کا علاج

اگر ہمارا مدافعتی نظام ہمیں متعدی بیماری سے بچانے میں ناکام ہوجاتا ہے تو ہم بیمار پڑ جاتے ہیں اور ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر ہمیں اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics) نامی دوائیں دے سکتے ہیں، جو ان بیکٹیریا کو مار دیتے ہیں جو اس بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس صرف بیکٹیریا کے انفیکشن کے خلاف کام کرتے ہیں کیوں کہ وہ بیکٹیریا کے خلیوں کے حصوں کو نشانہ بناتے ہیں جو انسانی یا دیگر جانوروں کے خلیات سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ پروٹوزوا کی وجہ سے ہونے والے وائرس یا بیماریوں کے خلاف کام نہیں کرتے۔

ایک سائنس داں کی طرح سوچیں

پہلی اینٹی بائیوٹک، پینسلین کی دریافت

پینسلین کو 1928 میں لندن سے تعلق رکھنے والے بیکٹیریا کے ماہر الیگزینڈر فلیمنگ نے دریافت کیا تھا۔ نقصان دہ بیکٹیریا کا مطالعہ کرتے ہوئے انھوں نے دیکھا کہ ایک مسترد پیٹری ڈش پر ایک پھپھوندی (Mould) نے بیکٹیریا کو بڑھنے سے روک دیا۔ فلیمنگ کو لگا کہ پھپھوندی نے ضرور کوئی مادہ چھوڑا ہوگا جس سے بیکٹیریا مر گئے۔ اس اتفاقی انکشاف کے نتیجے میں پینسلین کی دریافت ہوئی، جو بیکٹیریا کے انفیکشن کے علاج میں استعمال ہونے والی پہلی اینٹی بائیوٹک دوا ہے۔

اگرچہ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کے انفیکشن سے ہماری حفاظت میں مؤثر ہیں اور ان کی دریافت کے بعد سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئی ہیں، لیکن ان کے اندھا دھند استعمال سے ان کی تاثیر میں کمی واقع ہوئی ہے
(شکل 3.5a) ۔آج کل اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے بارے میں خبروں کی شہ سرخیاں عام ہیں۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے جس میں بیکٹیریا جو پہلے کسی اینٹی بائیوٹک سے ہلاک ہو جاتے تھے، اس اینٹی بائیوٹک کے ساتھ علاج
کیے جانے کے باوجود زندہ رہتے اور پنپتے ہیں۔ اس سے عام انفیکشن کا علاج کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور پیچیدگیوں، طویل بیماری اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Screenshot 2026-03-18 at 10-19-47 Chapter 3.pdf

سرگرمی 3.7: آئیے اندازہ لگائیں

  • شکل 3.5b میں دیے گئے انفوگرافک کا مطالعہ کریں۔ آپ کے خیال میں بیکٹیریائی پیتھوجن میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کیسے پیدا ہوئی ہے؟ ا ینٹی بائیوٹک مزاحمت کو کم کرنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں؟
  • اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے مسئلے سے نپٹنے کے لیے ہمیں ا ینٹی بائیوٹکس کو دانش مندانہ طور پر
    استعمال کرنا چاہیے، یعنی صرف اسی وقت جب ڈاکٹر اسے تجویز کرے، صحیح خوراک اور صحیح مدت کے لیے۔ غیر ضروری استعمال سے بچنے سے مزاحمتی بیکٹیریا کے پنپنے کو روکنے میں مدد ملتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے اینٹی بائیوٹکس کو مؤثر رکھا جاسکتا ہے۔

آیوروید، سِدّھا اور یونانی جیسے روایتی ادویات کے نظام ہندوستان میں صحت کے عام مسائل سے نپٹنے کے لیے عرصۂ دراز سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ نظام بیماریوں کے علاج اور بحالی (Rehabilitation)کو فروغ دینے کے لیے جڑی بوٹیوں، تیل اور معدنیات جیسے قدرتی مادوں کا استعمال کرتے ہیں، اور صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 10-21-17 Chapter 3.pdf

اگرچہ یہ نظام کچھ حالات میں مدد کرسکتے ہیں اور روزمرہ کی بہبود کے لیے مفید ہیں، لیکن وہ تمام بیماریوں اور تمام مراحل کے لیے مؤثر نہیں ہوسکتے ہیں۔

خلاصہ

  • صحت کا مطلب مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود ہے – نہ کہ محض بیماری کی غیر موجودگی۔
  • خوش رہنے سے ہمیں فعال اور صحت مند رہنے میں مدد ملتی ہےاور اچھی صحت ہمارے مزاج کو بھی بہتر بناتی ہے۔ صحت اور خوشی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
  • بیماری جسم یا دماغ کے معمول کے کام کو متاثر کرتی ہے۔
  • علامات (Symptoms) وہ ہیں جنھیں ہم محسوس کرتے ہیں (جیسے درد یا تھکاوٹ)؛ اثرات (Signs) وہ ہیں جنھیں دیکھا یا پیمائش کیا جا سکتا ہے (جیسے بخار یا دانے)۔
  • ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسی غیر متعدی بیماریاں طرزِ زندگی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتی ہیں، پیتھوجنکی وجہ سے نہیں۔ انھیں اکثر صحت مند عادات، طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور باقاعدگی سے ورزش سے روکا جاسکتا ہے۔
  • متعدی بیماریاں بیکٹیریا، وائرس، یا کیڑے جیسے پیتھوجن کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
  • ہمارا مدافعتی نظام ہمیں نقصان دہ پیتھوجن سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔
  • ویکسین بیماری کی روک تھام کے لیے پیتھوجن کے مردہ، کم زور یا بے ضرر حصوں کا استعمال کرتے ہوئے مدافعتی نظام کو تربیت دیتا ہے۔
  • بیماریوں سے نپٹنے اور ان سے شفایاب ہونے کے لیے تشخیص اور علاج ضروری ہیں۔

غیر متعدی بیماریوں کے علاج ادویات، طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور بحالی کے ذریعے علامات سے نپٹنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ابتدائی تشخیص اور مسلسل دیکھ بھال بیماری کی افزائش پر قابو پانے اور پیچیدگیوں کی روک تھام کی کلید ہے۔

تجسس کوبرقرار رکھیں

  1. تصاویر میں دکھائی جانے والی بیماریوں کی متعدی یا غیر متعدی کے طور پر درجہ بندی کریں۔
  2. Screenshot 2026-03-18 at 10-51-59 Chapter 3.pdf
  3. بیماریوں کو موٹے طور پر متعدی اور غیر متعدی بیماریوں میں درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں دیے گئے متبادلات سے، غیر متعدی بیماریوں کی شناخت کریں۔

(i)ٹائیفائیڈ (ii) دمہ (iii) ذیابیطس (iv) خسرہ

(i) (a) اور(ii) (b) (ii) اور (i) (c) (iii) اور (ii)(d) (iv) اور (iv)

  1. آپ کے اسکول میں فلو کی وبا ہے۔ کئی ہم جماعت غیر حاضر ہیں، جب کہ کچھ اب بھی کھانستے اور چھینکتے ہوئے اسکول آ رہے ہیں۔
    1. مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسکول کو فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہیے؟
    2. اگر آپ کےکسی ہم جماعت میں، جو آپ کے ساتھ بنچ پر بیٹھتا ہے، فلو کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں، تو آپ روکھے یا ترش ہوئے بغیر کس طرح سوچ سمجھ کر ردعمل دے سکتے ہیں؟
    3. آپ اس صورتِ حال میں اپنے آپ کو اور دوسروں کو انفیکشن سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

4. آپ کا خاندان کسی ایسے شہر کےسفر کا منصوبہ بنا رہا ہے جہاں ملیریا عام ہے۔

  1. سفر سے پہلے، دوران اور بعد میں آپ کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے؟
  2. آپ اپنے بھائی بہن کو مچھر دانی یا مچھروں کو دور رکھنے کی دوا (رپیلنٹ) کی اہمیت کی وضاحت کیسے کر سکتے ہیں؟
  3. اگر مسافر ایسے علاقوں میں صحت سے متعلق ہدایات کو نظر انداز کر دیں تو کیا ہو سکتا ہے؟

5. آپ کے چچا نے صرف اپنے دوستوں کی خاطر تمباکو نوشی شروع کردی ہے، حالاں کہ سب جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور حتّی کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

  1. آپ ان سے سخت کلامی کیے بغیر کیا کہیں گے کہ وہ تمباکو نوشی چھوڑ دیں؟
  2. اگر آپ کا دوست آپ کو کسی پارٹی میں سگریٹ کی پیش کش کرتا ہے تو آپ کیا کریں گے؟
  3. اسکولی طلبا کو اس طرح کی نقصان دہ عادات میں ملوث ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

6. ثا نیہ اپنی دوست ونیتا سے دعوی کرتی ہے کہ ’’اینٹی بائیوٹکس سے کسی بھی انفیکشن کا علاج کیا جاسکتا ہے، لہذا ہمیں بیماریوں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ونیتا اس سے کیا سوال پوچھ سکتی ہے کہ وہ ثانیہ کو یہ سمجھانے میں مدد کرے کہ اس کا دعویٰ غلط ہے؟

7. مندرجہ ذیل جدول میں ایک سال کی مدت کے دوران ہسپتال میں رپورٹ ہونے والے ڈینگی کے معاملات کی تعداد کے بارے میں معلومات شامل ہیں:

نمبر شمار

1

2

3

4

5

6

مہینہ

جنوری

فروری

مارچ

اپریل

مئی

جون

ڈینگی کے معاملات

10

12

15

18

22

40


نمبر شمار

7

8

9

10

11

12

مہینہ

جولائی

اگست

ستمبر

اکتوبر

نومبر

دسمبر

ڈینگی کے معاملات

65

65

65

30

30

20

Y محور پر کیسوں کی تعداد اور X محور پر مہینے کا بار گراف بنائیں۔ تنقیدی طور پر اپنے نتائج کا تجزیہ کریں اور مندرجہ ذیل کا جواب دیں:

  1. ڈینگی کے سب سے زیادہ معاملے کن تین مہینوں میں سامنے آئے؟
  2. کن مہینوں میں کیس سب سے کم رہے؟
  3. کون سے قدرتی یا ماحولیاتی عوامل ڈینگی کے واقعات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں؟
  4. ڈینگی کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کچھ احتیاطی اقدامات تجویز کریں جو کہ سماج یاحکومت ڈینگی کے عروج سے پہلے کر سکتی ہے۔

8. تصور کریں کہ آپ اسکول کی صحت مہم کےنگراں ہیں۔ متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کو کم کرنے کے لیے آپ کون سے کلیدی پیغامات استعمال کریں گے؟

9. یہ سفارش کی جاتی ہے کہ ہمیں زکام ، کھانسی یا فلو جیسے وائرل انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹک نہیں لینا چاہیے۔ کیا آپ اس سفارش کی ممکنہ وجہ بتا سکتے ہیں؟

10. اگر پینے کا پانی متاثرہ شخص کے فضلے سے آلودہ ہوجائے تو مندرجہ ذیل میں سے کون سی بیماری پھیل سکتی ہے؟

Screenshot 2026-03-18 at 10-55-01 Chapter 3.pdf

ہیپاٹائٹس A ، تپ دق، پولیو میلائٹس، ہیضہ، چیچک۔

11. جب ہمارا جسم پہلی بار کسی پیتھوجن کا سامنا کرتا ہے تو مدافعتی ردعمل عام طور پر کم ہوتا ہے لیکن دوبارہ اسی پیتھوجن کے سامنے آنے پر جسم کی طرف سے مدافعتی ردعمل پہلی بار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

دریافت، ڈیزائن اور بحث

  • طلبا کم از کم ایک ماہ تک صحت کی ڈائری لکھیں جس میں غذا، حفظان صحت، ورزش، نیند، اسکرین ٹائم اور جذباتی حالت کو ٹریک کیا جاسکے۔
  • سنیتی سولومن، اسیما چٹرجی، ڈاکٹر یلاپرگدا سبا راؤ، ڈاکٹر میری پونن لوکوز جیسے ہندوستانی
    سائنس دانوں کے بارے میں پڑھیں جنھوں نے صحت اور بیماریوں کے شعبے میں اہم خدمات انجام دیں۔
  • مہلک بیماری چیچک کو ٹیکہ کاری کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ دریافت کریں کہ یہ کیسے کیا گیا تھا اور یہ کام یاب کیوں رہا۔ اس پر تبادلۂ خیال کریں کہ کیا دوسروں کی حفاظت کے لیے ہر شخص کو ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے۔
  • موجودہ رہ نما خطوط کی رو سے،کسی بالغ شخص کی اچانک سانس کے رکنے کی صورت میں ان پرکارڈیوپلمونری ری سسی ٹیشن(Cardiopulmonary Resuscitation-CPR) کرنے کے اقدامات کی صحیح ترتیب سیکھیں۔ اسکول کسی ڈاکٹر یا پیشہ ور کو فرضی مشق کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدعو کرسکتا ہے۔
  • کسی ڈاکٹر کو اسکول میں مدعو کریں۔ طلبا کو ناقص غذائیت،کم غذائیت اور زود غذائیت کے مسائل پر ڈاکٹر کے ساتھ بات چیت کرنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
  • اگر آپ کو صحت کارڈ بنانے کا موقع دیا جائے، تو آپ اس میں کیا کیا شامل کرنا چاہیں گے؟ اپنا صحت کارڈ بنائیں اور اس کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔
  • ‘‘کیا ایک ساتھ رہنے والےجانوروں پر فاسٹ فوڈ کے مضر اثرات پڑتے ہیں؟’’اس موضوع پر مباحثہ کریں۔
Screenshot 2026-03-18 at 10-57-28 Chapter 3.pdf