Skip to content
Screenshot 2026-03-20 101516 Qr






4
بجلی : مقناطیسی اورحرارتی اثرات
(Electricity: Magnetic and Heating Effects)


4

جانچیں اور غور کریں

  • اگر برقی سیل کی مدد سے برقی سرکٹ بناتے وقت ہمارے پاس برقی لیمپ نہ ہو تو کیا کوئی دوسرا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم یہ معلوم کر سکیں کہ کیاسرکٹ میں بجلی بہہ رہی ہے یا نہیں؟
  • کیا عارضی مقناطیس بنانا ممکن ہے؟ انھیں کیسے بنایا جاتا ہے؟
  • ہم رکازی ایندھن اور لکڑی کو جلا کر حرارت پیدا کرسکتے ہیں؛ لیکن مختلف قسم کے برقی آلات میں حرارت کیسے پیدا ہوتی ہے؟
  • ہمیں یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سیل یا بیٹری ناکارہ ہو چکی ہے؟ کیا تمام سیلوں اور بیٹریوں کو دوبارہ چارج کیا جا سکتا ہے؟
  • اپنے سوالات کا اشتراک کریں

؟

Screenshot 2026-03-18 120300

سائنس کی نمائش کا دن تھا اور اسکول میں خوب چہل پہل تھی۔موہنی اور آکرش نے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ایک کرکے تمام نمائشی ماڈلوں کو دیکھا۔ وہ تجسس آمیز انداز میں مختلف ماڈلوں کا مشاہدہ کر رہے تھے، سوالات پوچھ رہے تھے اور نوٹ تیار کررہے تھے۔ ایک سادہ سے ماڈل نے انھیں اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہ چیزیں اٹھانے والےبرقی مقناطیس کا ورکنگ ماڈل تھا جس کی نمائش ان کی سینئرسمانا کررہی تھی۔ اس ماڈل میں عام کرین کی طرح ہک کے بجائے ایک تار سے لپٹی ہوئی لوہے کی کیل تھی جو بیٹری سے جڑی ہوئی تھی۔ جب سُمانا نے سرکٹ مکمل کیاتو کیل نے مقناطیس کی طرح پیپر کلپ کو اوپر اٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے سرکٹ توڑا، پیپر کلپ نیچے گرنےلگیں۔ موہنی اور آکرش حیرت میں پڑ گئے۔ انھیں یاد آیا کہ انھوں نے پہلے (’مقناطیسوں کی چھان بین‘ تجسس، گریڈ 6) پڑھا تھا کہ مقناطیسی اشیا مقناطیس کے تئیں کشش کا اظہار کرتی ہیں اور لوہا ایک مقناطیسی شے ہے لیکن سُمانا کے ماڈل میں کوئی مقناطیس نہیں تھا، صرف ایک برقی سرکٹ تھا۔ وہ اتنے پُرجوش تھے کہ وہ اسے خود آزمانا چاہتے تھے۔

4.1 کیا برقی رو میں مقناطیسی اثر ہوتا ہے؟

سرگرمی 1.4: آئیے تفتیش کریں

  • ایک مقناطیسی کمپاس(قطب نما)، ایک برقی سیل، ایک سیل ہولڈر، دو ڈرائنگ پن، ایک
    سیفٹی پن، دو کیلیں، وصلی تار کے دو ٹکڑے (ایک لمبا اور ایک چھوٹا) اور گتے کے دو چھوٹے ٹکڑے جمع کیجیے۔
  • دو ڈرائنگ پن، ایک سیفٹی پن، اور ایک گتے کے ٹکڑے کی مدد سے ایک سوئچ بنائیے (جیسا کہ آپ نے گریڈ 7کے لیے سائنس کی درسی کتاب‘تجسس’کے باب بجلی: سرکٹ اور ان کے اجزا میں پہلے بنایا تھا)۔
  • برقی سیل کو سیل ہولڈر میں لگائیے۔
  • گتے کے ایک ٹکڑے پر دو کیلیں لگائیے جیسا کہ شکل 4.1a میں دکھایا گیا ہے۔ لمبے تار کے درمیانی حصے کوکیلوں کے درمیان تنی ہوئی حالت میں اس طرح لگائیے کہ یہ گتے کی سطح سے تھوڑا سا اوپر ہو۔ اس تار کے ایک سرے کو سیل ہولڈر سے اور دوسرے سرے کو سوئچ سے منسلک کیجیے۔
  • دوسرے تار کو سیل ہولڈر اور سوئچ کے درمیان منسلک کیجیے ۔
  • مقناطیسی کمپاس(قطب نما)کو دونوں کیلوں کے درمیان تار کے نیچے رکھیے(شکل 4.1a)۔
Screenshot 2026-03-18 at 12-06-21 Chapter 4.pdf

شکل4.1: برقی سرکٹ اور مقناطیسی کمپاس

کمپاس کی سوئی کو دیکھتے ہوئے، سوئچ کو ’آن‘کیجیے تاکہ تار میں برقی رو بہنے لگے (شکل b1.4)۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

اب ایک مرتبہ پھر کمپاس کی سوئی کو دیکھتے ہوئے سوئچ کو ’آف‘کیجیے۔ اس وقت آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

سوئچ کومزید کچھ مرتبہ ‘آن’ اور ’آف‘ کیجیے۔ احتیاط کے ساتھ مشاہدہ کیجیے کہ کمپاس کی سوئی ہر مرتبہ کس طرح کا طرز عمل ظاہر کرتی ہے۔

آپ نے غور کیا ہوگا کہ جب برقی رو بہتی ہے تو کمپاس کی سوئی اپنی اصل سمت سے منحرف ہو جاتی ہے۔ جب کرنٹ بہنا بند ہو جاتا ہے تو سوئی اپنی اصل سمت میں واپس آ جاتی ہے۔

جیسا کہ ہم پہلے ہی(گریڈ 6کے لیے سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب’ مقناطیسوں کی چھان بین‘) پڑھ چکے ہیں کہ کمپاس کی سوئی ایک چھوٹا سا مقناطیس ہے ۔ جب اس کے قریب کسی مقناطیس کو لاتے ہیں تو یہ منحرف ہوجاتی ہےاور یہ مقناطیسی اثر درمیان میں رکھے ہوئے کسی بھی غیر مقناطیسی مواد کے ذریعے کام کرسکتا ہے۔ لیکن جب تار میں برقی رو بہتی ہے تو کمپاس کی سوئی منحرف کیوں ہو جاتی ہے؟ انحراف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برقی رو کے حامل تار کا کمپاس کی سوئی پر مقناطیسی اثر ہوتا ہے۔ جب برقی رو کا بہاؤ رک جاتا ہے تو یہ مقناطیسی اثر غائب ہوجاتا ہے اور کمپاس کی سوئی اپنی اصل سمت میں واپس آ جاتی ہے۔ کسی مقناطیس یا برقی رو کے حامل تار کے
ارد گرد کا وہ علاقہ جہاں اس کے مقناطیسی اثرکو محسوس کیا جاسکتا ہے( مثلاً کمپاس کی سوئی میں انحراف کے ذریعے) مقناطیسی میدان(Magnetic Field) کہلاتا ہے۔

جب برقی رو کسی موصل (جیسے تار) سے گزرتی ہے تو یہ اس کے ارد گرد مقناطیسی میدان پیدا کردیتی ہے۔ اس مظہر کو برقی روکا مقناطیسی اثر کہتے ہیں۔ جب برقی رو کا بہنا بند ہوجاتا ہے تو مقناطیسی میدان غائب ہوجاتا ہے ۔

ہم نے پچھلے گریڈ میں مقناطیس اور برقی رو کے بارے میں پڑھا ہے۔ مجھے پہلے ایسا لگتا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اب ہم نے پایا کہ بجلی اور مقناطیسی اثر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں!

سائنس داں کے بارے میں

آپ نے ابھی وہی چیزدریافت کی ہے جو سائنس داں ہینس کرسچن اورسٹیڈ (Hans Christian Oersted) (1777-1851) نے 1820 میں کی تھی، یعنی یہ دریافت کہ بجلی اور مقناطیسیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ ڈنمارک کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ مظاہرہ کرتے وقت انھوں نے دیکھا کہ جب بھی کسی برقی سرکٹ کوبند یا کھولا جاتا ہے تو قریب میں رکھے ہوئے مقناطیسی کمپاس کی سوئی منحرف ہوجاتی ہے۔ انھوں نے اس کی تحقیق کی اور جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ واقعی برقی رو کی وجہ سے مقناطیسی میدان پیدا ہوا ہےتو انھوں نے اپنے نتائج شائع کیے۔ اس کے نتیجے میں دوسرے سائنس دانوں نے ان کے تجربے کو دہرایا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا انھیں بھی وہی نتائج حاصل ہوئے ہیں اورانھوں نے بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان تعلق کی مزید چھان بین کی۔

برقی رو کے مقناطیسی اثر کے بہت سے عملی اطلاقات ہیں، مثلاً برقی مقناطیس(Electromagnets)، برقی گھنٹیاں،موٹر، پنکھے، لاؤڈ اسپیکروغیرہ جیسے آلات میں۔

4.1.1 برقی مقناطیس

  • تقریباً 50 سینٹی میٹر لمبا ایک لچک دار محجوز (Insulated)تار ، ایک لوہے کی کیل، ایک برقی سیل، اور کچھ لوہے کے پیپر کلپ لیجیے۔
  • تار کو کیل کے چاروں طرف کوائل کی شکل میں کس کر لپیٹیں، جیسا کہ شکل 4.2 میں دکھایا گیا ہےاور اسے چپکنے والی ٹیپ کی مدد سے مضبوط کردیجیے۔
  • تار کے سروں کو سیل سے جوڑیے۔ اس بات کا خیال رہے کہ تاروں کو سیل کے ساتھ چند سیکنڈ سے زیادہ مدت تک نہ جوڑا جائے۔ بصورت دیگرسیل تیزی سے کمزور ہوسکتا ہے۔
  • کیل کو لوہے کے پیپر کلپ کے قریب لائیے اور اوپر اٹھائیے۔ کیا کچھ کلپ کیل کے سرے پر لٹکے ہوئے ہیں؟
  • تار میں برقی رو کے بہاؤ کو روکنے کے لیے تار کو سیل سے الگ کردیجیے۔ کیا کلپ نیچے گرجاتے ہیں؟
Screenshot 2026-03-18 121709

جب کسی کوائل میں برقی رو گزرتی ہے تو کلپ اس سے چپک جاتے ہیں۔ لیکن جب برقی روکے بہاؤ کوروک دیا جاتا ہے، تو کلپ اس سے چپکنا بند ہوجاتے ہیں۔ آئیے اب سرگرمی 4.3 کے ذریعے تفصیل کے ساتھ ان مشاہدات کی چھان بین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • تقریباً 100سینٹی میٹر لمبا لچک دار محجوز تار، چارٹ پیپر کا ایک ٹکڑا، ایک لوہے کی کیل، ایک برقی سیل، دو مقناطیسی کمپاس اور کچھ لوہے یا اسٹیل کے پیپر کلپ لیجیے۔

چارٹ پیپر کے ایک ٹکڑے کو رول کرکے تقریباً ایک پنسل کی چوڑائی کے برابر قطر کا استوانہ (Cylinder) بنائیے۔ اسے چپکنے والی ٹیپ کی مدد سے محفوظ کیجیے۔

محجوز تار کے تقریباً 50 پھیرے سلنڈر پر کس کر لپیٹیےتاکہ ایک استوانی کوائل بن جائے جیسا کہ شکل 4.3a میں دکھایا گیا ہے۔تار کو چپکنے والی ٹیپ کی مدد سے محفوظ کیجیے۔

شکل4.3: (a) محجوز تار کی کوائل

Screenshot 2026-03-18 122124

شکل4.3: (b) کوائل اور مقاناطیسی کمپاس؛ (c) سیل سے منسلک کوائل؛ (d) کوائل جس میں لوہے کی کیل داخل کی گئی ہے؛ (e) لوہے کی کیل اور کلپ کے ساتھ کوائل

  • کمپاس کو استوانی کوائل کے دو نوں سروں کے قریب رکھیے (شکل4.3b)۔
  • کوائل کے دونوں سروں کو شکل4.3c کے مطابق سیل کے ٹرمنلوں کے ساتھ جوڑیے اور مقناطیسی کمپاس کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا آپ کو کمپاس کی سوئیوں میں کوئی انحراف نظر آتا ہے؟
  • تار کو سیل سے الگ کر دیجیے۔ کیا کمپاس کی سوئیاں اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہیں؟
  • کاغذ کے استوانے میں لوہے کی کیل داخل کیجیے (شکل4.3d) اور اقدامات کو دہرائیے۔ کیا کمپاس کی سوئیوں کے انحراف میں کوئی فرق ہے؟
  • کیل کے دونوں سروں کے قریب لوہے کے پیپر کلپ رکھیے۔ کیا کلپ کیل کے سروں کی طرف کشش کا اظہار کرتے ہیں؟

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب استوانی کوائل سے برقی روگزرتی ہے تو کوائل مقناطیس کی طرح برتاؤ کرتی ہے اور مقناطیسی کمپاس کی سوئی کو منحرف کر دیتی ہے۔ جب کوائل کے مرکزی حصے میں لوہے کی کیل داخل کی جاتی ہے تو کوائل ایک قوی مقناطیس بن جاتی ہے اور مقناطیسی کمپاس کی سوئی بہت زیادہ منحرف ہونے لگتی ہے۔ یہ لوہے کے کلپ کو بھی اپنی طرف کھینچتی ہے (شکل e3.4)۔ جب برقی رو کے بہاؤ کو روک دیا جاتا ہے تو استوانی کوائل اپنا مقناطیسی اثر کھو دیتی ہے۔

برقی رو کی حامل کوائل جو مقناطیس کی طرح کام کرتی ہے، برقی مقناطیس (Electromagnet)کہلاتی ہے۔ عملی اطلاقات کے لیے، زیادہ تر برقی مقناطیس میں لوہے کی کور ہوتی ہے جس سے ان کی مقاطیسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کیا چھڑ مقناطیس (Electromagnet Bars)کی طرح برقی مقناطیس میں بھی دو قطب ہوتے ہیں؟

سرگرمی 4.4: آئیے تفتیش کریں

  • سرگرمی 4.3 میں بنایا گیا برقی مقناطیس اور ایک مقناطیسی کمپاس لیجیے۔ کوائل کے دونوں سروں کی نشان دہی Aا ورB کے طور پر کیجیے۔
  • مقناطیسی کمپاس کو کوائل کے Aسر ے کے نزدیک رکھیے جیسا کہ شکل 4.4a میں دکھایا گیا ہے۔
  • کوائل کو سیل کے ساتھ جوڑیے اور کمپاس کا مشاہدہ کیجیے۔ غور کیجیے کہ مقناطیسی کمپاس کا کون سا قطب Aسرےکی طرف کشش کا اظہارکرتا ہے۔
Screenshot 2026-03-18 at 12-36-09 Chapter 4.pdf

شکل4.4: کمپاس کی سوئی (a) برقی مقناطیس کے Aکے قریب؛ (b) برقی مقناطیس کے Bسرے کے قریب

جیسا کہ ہم پہلے سیکھ چکے ہیں، جب دو مقناطیسوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاتا ہےتو ان کے غیر یکساں قطب (شمال-جنوب) ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں۔ لہٰذا، اگر مقناطیسی کمپاس کا شمالی قطب برقی مقناطیس کے Aسر ے کی طرف کشش کا اظہار کرتا ہے تو سر ا Aجنوبی قطب ہے۔

  • سرا B کی قطبیت معلوم کرنے کے لیے بھی اس طریقے کو دہرائیے (شکل4.4b)۔ کیا آپ کو معلوم ہوا کہ سرا Bکی قطبیت سر ا A کی قطبیت کے برعکس ہے؟

ہم نے گریڈ 6 میں پڑھا تھا کہ مقناطیس کے دو قطب ہوتے ہیں۔ مقناطیس کی طرح، برقی مقناطیس کے بھی دو قطب ہوتے ہیں: شمالی قطب اور جنوبی قطب۔

ایک سائنس داں کی طرح سوچیں

سرگرمی 3.4کو (i) ایک ہی کوائل کو 2 اور4سیلوں کے ساتھ جوڑ کر (ii) مختلف پھیروں والی کوائلوں کو 2سیلوں کے ساتھ جوڑ کر دہرائیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

ایک سیل چوں کہ بہت معمولی مقدار میں برقی رو فراہم کرتا ہے،لہٰذا کمزورمقناطیسی میدان پیدا ہوتاہے۔ نتیجتاً کمپاس کی سوئی میں انحراف کم ہوتا ہےاور کوائل چند کلپ ہی اپنی طرف راغب کرپاتی ہے۔ زیادہ سیل والی بیٹری ایک سیل والی بیٹری کے مقابلے زیادہ برقی رو فراہم کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قوی مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے، چنانچہ کمپاس کی سوئی میں انحراف زیادہ ہوتا ہے اور کوائل زیادہ کلپس کو اپنی طرف راغب کرسکتی ہے۔ کوائل میں پھیروں کی تعداد بڑھانے سے بھی کوائل ایک قوی مقناطیس بن جاتی ہے!

برقی رو کی سمت کو تبدیل کرکے سرگرمی 4.4 کو دہرائیے۔ لہٰذا، کوائل میں بہنے والی برقی رو کی مقدار یا کوائل کےپھیروں کی تعداد، یا دونوں کو تبدیل کرکے برقی مقناطیس کی طاقت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، برقی رو کی سمت کو تبدیل کرکے اس کے قطبین کوبھی پلٹا جاسکتا ہے۔

ایک قدم آگے

کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے اس سے پہلے (گریڈ 6کے لیے سائنس کی درسی کتاب تجسس کے باب ’مقناطیسوں کی چھان بین‘)پڑھا تھا کہ آزادانہ طور پر لٹکا ہوا مقناطیس ہمیشہ شمال-جنوب کی سمت میں ہی ٹھہرتا ہے کیوں کہ خود ہماری زمین ایک بہت بڑے مقناطیس کی طرح کام کرتی ہے؟ لیکن زمین مقناطیس کی طرح کیوں کام کرتی ہے؟ زمین کے اندر قلب(Core)میں مائع لوہے کی حرکت کی وجہ سے برقی دھارے (Electric Currents)پیدا ہوتے ہیں جن سے مقناطیسی میدان کی تشکیل ہوتی ہے۔ بہت سے مہاجر پرندے، مچھلیاں اور جانور براعظموں اور سمندروں میں سفر کے لیے اس مقناطیسی میدان کا استعمال کرتے ہیں۔ زمین کا مقناطیسی میدان خلا سے سے آنے والے نقصان دہ ذرات کو روکنے کے لیے ڈھال کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور زمین پرموجود زندگی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

4.1.2 رافع برقی مقناطیس (Lifting electromagnets)

کیا برقی مقناطیس حقیقی زندگی میں بھی اشیا کو اٹھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟

رافع برقی مقناطیس وہ طاقت ور برقی مقناطیس ہیں جنھیں کرینوں کے ساتھ لٹکایا جاسکتا ہے۔ کرین آپریٹر برقی رو کو آن اور آف کرکے مقناطیس کو کنٹرول کرسکتا ہے۔ جب برقی رو کو بہنے دیا جاتا ہے توبرقی مقناطیس لوہے یا اسٹیل کی اشیا کو اوپراٹھالیتا ہے۔ جب کرنٹ کے بہاؤ کو روک دیا جاتا ہے تو مقناطیسی میدان غائب ہوجاتا ہے اور اشیا کرین سے الگ ہوجاتی ہیں۔ کارخانوں اورکباڑ خانوں (Scrap Yard) میں بھاری دھات کی اشیا کو کارگر طریقے سے منتقل کرنے، اٹھانے اور چھانٹنے کے لیے رافع برقی مقناطیس کا بڑے پیمانے پر استعمال کیاجاتا ہے۔

ایک قدم آگے

ہم نے سیکھا ہے کہ جب برقی رو کسی موصل (مثلاً تار) سے گزرتی ہے تو یہ اس کے اطراف ایک مقناطیسی میدان پیدا کردیتی ہے۔ اعلی گریڈ میں، آپ بجلی اور مقناطیسیت کے مابین اس حیرت انگیز تعلق کے بارے میں مزید سیکھیں گے، جس میں یہ دل چسپ خیال بھی شامل ہے کہ جس طرح بجلی مقناطیسیت پیدا کرسکتی ہے، اسی طرح ایک متحرک مقناطیس بھی برقی رو پیدا کر سکتا ہے۔ بجلی اور مقناطیسیت کے درمیان یہ گہرا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی کے لیے اہم ہے، کیوں کہ یہ برقی موٹر سے لے کر پاور جنریٹر تک بہت سے آلات کی اساس ہے۔

4.2 کیا بجلی کا حامل تار گرم ہو جاتا ہے؟

سرگرمی4.5: آئیے مشاہدہ کریں

برقی مقناطیس کے لیے سرگرمی کرتے وقت، کیا آپ نے یہ بھی غور کیا کہ تار کے سرے گرم ہو گئے ہیں؟ ایسا کیوں ہوا؟

اس سرگرمی میں، ہم ایک خاص قسم کے تارکا استعمال کریں گے جسے نائکروم تار(Nichrome Wire) کہا جاتا ہے۔

  • تقریباً 10 سینٹی میٹر لمبااور 10سینٹی میٹر چوڑا گتے کا ٹکڑا، دو کیلیں، تقریباً 0.3 ملی میٹر (26تا28 گیج) موٹا اور 10سینٹی میٹر لمبا ایک نائکروم تار، ایک برقی سیل، ایک سیل ہولڈر، ایک سوئچ، اور وصلی لیجیے۔
  • گتے پر کیلوں کو تقریباً 5 سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگائیے۔
  • ان کیلوں کے درمیان نائکروم تار باندھیے اور سوئچ کوبند(OFF)حالت میں رکھتے ہوئے شکل 4.5 کے مطابق کنکشن کیجیے ۔
  • نائکروم تار کو چھوئیں۔ آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

سوئچ کو تقریباً 30 سیکنڈ کے لیے ’آن‘ پوزیشن میں رکھیے اور پھر ‘آف’ کر دیجیے۔ نائکروم تار کو ایک لمحہ کے لیے چھوئیں (نائکروم تار کوہاتھ میں پکڑنے سے گریز کیجیے)۔ آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

  • مشاہدے کی تصدیق کے لیے آخری دو مراحل کو دہرائیے۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب نائکروم تار سے برقی رو گزرتی ہے تو یہ گرم محسوس ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب کسی موصل سے برقی رو گزرتی ہے تو اسے اپنے بہاؤ میں کچھ مخالفت یا مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف موصلوں میں برقی رو کے بہاؤ کے خلاف مختلف درجے کی مزاحمت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک نائکروم تاراسی سائز اور لمبائی کے تانبے کے تار کے مقابلے زیادہ مزاحمت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس مزاحمت کی وجہ سے برقی توانائی کا کچھ حصہ حرارتی توانائی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب کسی موصل سے برقی رو گزرتی ہے تو وہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس حرارت کو برقی رو کا حرارتی اثر (Heating Effect of Electric Current)کہتے ہیں۔

حفاظت پہلے

کسی بھی چوٹ سے بچنے کے لیے تار کو طویل مدت تک نہ چھوئیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 12-46-21 Chapter 4.pdf

شکل 54.5: تار میں حرارتی اثر

ایک سائنس داں کی طرح سوچیں

اس سرگرمی کو استاد کی نگرانی میں انجام دیا جائے۔

سرگرمی5.4 کو دو سیل والی بیٹری کے ساتھ دہرائیے۔ آپ نے کیا دیکھا؟ ایک ہی مدت کے لیے، کیا تار ایک سیل والی بیٹری کے ساتھ زیادہ گرم ہوتا ہے یا دو سیل والی بیٹری کے ساتھ؟

دو سیل والے تجربے میں پیدا ہونے والی حرارت کی مقدار زیادہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ پیدا ہونے والی حرارت کا انحصار برقی رو کی مقدار پر ہوتا ہے۔ کسی تار میں پیدا ہونے والی حرارت کا انحصار تار کے مواد ، موٹائی اور لمبائی اور برقی رو گزرنے کی مدت پر ہوتا ہے ۔

گریڈ 7 میں ہم نے سیکھا ہے کہ ایک تاباں لیمپ(Incandescent Lamp)اس لیے روشن ہوتا ہے کیوں کہ اس کا فلامنٹ برقی رو گزرنے کی وجہ سے گرم ہوجاتا ہے۔گھر میں استعمال ہونے والے بہت سے آلات، جیسے الیکٹرک روم ہیٹر، اسٹوو، استری، ایمرشن راڈ، واٹر ہیٹر، کیتلی اور ہیئر ڈرائر (شکل 4.6) برقی رو کے حرارتی اثر کے اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔ ان سبھی آلات میں ایک چھڑ یا تار کی کوائل ہوتی ہے، جسے ہیٹنگ ایلیمنٹ(Heating Element) کہا جاتا ہے۔ کچھ آلات میں جہاں یہ ایلیمنٹ باہر کی طرف لگا ہوتا ہے، چمکتے ہوئے سرخ رنگ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اوہ، اب مجھے سمجھ میں آیا کہ جب ہم برقی سیل کی مدد سے تاباں لیمپ کو روشن کرنے کی سرگرمی کیا کرتے تھے تو یہ بعض اوقات گرم کیوں ہوجاتا تھا۔

Screenshot 2026-03-18 at 12-48-56 Chapter 4.pdf

شکل4.6: گھروں میں استعمال ہونے والے سادہ برقی حرارتی آلات (a) روم ہیٹر؛
(b) برقی اسٹوو؛ (c) برقی کیتلی؛ (d) برقی استری؛ (e) پانی گرم کرنے والی ایمرشن راڈ؛ اور (f) ہیئر ڈرائر

برقی رو کا حرارتی اثر روزمرہ کے بہت سے آلات میں نہایت مفید ہے۔لیکن بعض اوقات یہ مسائل پیدا کرسکتا ہے،مثلاً بجلی کی ترسیل(Transmission) کے دوران تاروں میں توانائی نقصان۔ آلات کے حد سےزیادہ گرم ہوجانے کی صورت میں پلگ اور ساکٹ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے پلاسٹک کے حصے پگھل سکتے ہیں، حتیٰ کہ آگ بھی لگ سکتی ہے۔ اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے گھریلو سرکٹ میں حفاظتی آلات لگائے جاتے ہیں۔

ایک قدم آگے

گھریلو سوئچ بورڈ میں غیر ضروری حرارت کی تخلیق کو روکنے کے لیے، ایسے تار، پلگ اور ساکٹ کا استعمال کیا جائےجن کی ریٹنگ کنکشن میں بہنے والی مخصوص برقی رو کے مطابق ہو۔

کیاکبھی سنا ہے ...

گھریلو استعمال کے علاوہ، برقی رو کے حرارتی اثر کے متعدد صنعتی اطلاقات ہیں۔اس کی ایک قابل ذکر مثال اسٹیل مینوفیکچرنگ صنعت ہے، جہاں خاص طور پر ڈیزائن کی گئی اونچے درجۂ حرارت والی بھٹی (حرارت پیدا کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ایک بند جگہ) میں حرارت پیدا کرنے کے لیے برقی رو کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال اسکر یپ اسٹیل کو پگھلا نے اور ری سائیکل کرنےکے بعد اسے قابل استعمال اسٹیل میں تبدیل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔


بجلی کےنقل پذیر(Portable) ذرائع، جیسے سیل اور بیٹریاں، بہت دل چسپ ہیں۔ ان کی مدد سے ہم ایک چھوٹا سا لیمپ روشن کرسکتے ہیں مقناطیس بنا سکتے ہیں، اور تار کو گرم کرسکتے ہیں۔


جی ہاں، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان سیلوں اور بیٹریوں کے اندرایسا کیا ہےجس سے بجلی پیدا ہوتی ہے؟

4.3 بیٹری سے بجلی کیسے پیدا ہوتی ہے؟

آئیے ،اب تک بنائے گئے برقی سیلوں کی ابتدائی اقسام میں سے کسی ایک سے شروع کرتے ہیں۔

4.3.1 وولٹائک سیل (Voltaic cell)

وولٹائک سیل، جسے گیلوینک سیل (Galvanic Cell) بھی کہا جاتا ہے، شکل 7.4 میں دکھایا گیا ہے۔ اس میں مختلف مواد سے بنی دو دھاتی پلیٹیں اور ایک مائع ہوتا ہے جسے الیکٹرولائٹ (Electrolyte) کہتے ہیں، الیکٹرولائٹ کو شیشے یا پلاسٹک کے برتن میں رکھا جاتا ہے۔ پلیٹیں، جنھیں الیکٹروڈ کہتے ہیں، جزوی طور پر الیکٹرولائٹ میں ڈوبی ہوتی ہیں، جو عام طور پر ایک کمزور ایسڈ یا نمک کامحلول ہوتا ہے۔ پلیٹوں اور الیکٹرولائٹ کے درمیان کیمیائی تعامل کے نتیجے میں بجلی پیدا ہوتی ہے۔ جب سرکٹ مربوط ہوتا ہے تو برقی رو مثبت ٹرمنل سے سرکٹ کے ذریعے منفی ٹرمنل تک بہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کیمیائی اشیا استعمال ہو جاتی ہیں اور سیل کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ اب اسے ’ناکارہ‘ کہا جاتا ہے اور یہ مزید بجلی فراہم نہیں کر سکتا۔

Screenshot 2026-03-18 at 13-58-02 Chapter 4.pdf

کیاکبھی سنا ہے ...

وولٹائک یا گیلوینک سیلوں کے نام دو اطالوی سائنس دانوں، الیسینڈرو وولٹا (Alessandro Volta)اور لوئیجی گلوانی (Luigi Galvani)کے نام پررکھے گئے ہیں۔ 1700 کی دہائی کے آخرمیں، گلوانی نے دیکھا کہ جب ایک مردہ مینڈک کی ٹانگ کو دو مختلف دھاتوں – تانبے اور لوہے سے مس کیا گیا تو وہ ہلنے لگی۔ اس وقت تک یہ بات پہلے ہی معلوم ہو چکی تھی کہ بجلی عضلات کی حرکت میں ہیجان پیدا کر سکتی ہےاور گلوانی کا خیال تھا کہ یہ بجلی مینڈک سے آئی تھی۔ لیکن وولٹا کا خیال مختلف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ بجلی مینڈک سے نہیں بلکہ دھاتوں سے آئی تھی ۔ اس کی جانچ کرنے کے لیے انھوں نے مینڈک کی ٹانگ کے بجائے کھارے پانی سے بھیگے ہوئے کاغذ کا استعمال کیا اور اس صورت میں بھی بجلی پیدا ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دھاتوں اور مائع کا امتزاج تھا جس سے برقی رو پیدا ہوئی۔اسی تجربے نے پہلی بیٹری کی ایجاد کی سمت میں رہنمائی کی!

سرگرمی 4.6: آئیے تشکیل کریں

  • پانچ یا چھےرس دار لیموں، تانبے کے تار یا پٹیاں (1سے2 ملی میٹر موٹی) اور لوہے کی کیلیں لیجیے۔ اس کے علاوہ ایک ایل ای ڈی اور کچھ وصلی تار بھی لیجیے۔
  • تانبے کی تار اور لوہے کی کیل کو کسی ایک لیمو میں داخل کیجیے اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھیے جیسا کہ شکل4.8a میں دکھایا گیا ہے۔
  • باقی بچے ہوئے ہر لیموں کے ساتھ مندرجہ بالا مرحلہ کو دہرائیے۔
  • تانبے کے تاراور کیلوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیجیے جیسا کہ شکل 4.8b میں دکھایا گیا ہے۔
  • وصلی تار کی مدد سے پہلے لیموں میں لگے تانبے کے تار اور آخری لیموں میں لگی لوہے کی کیل کے درمیان ایل ای ڈی کو جوڑیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا ایل ای ڈی روشن ہوجاتی ہے؟
  • کیا آسانی سے دستیاب مواد کی مدد سے ہم بھی اپنا وولٹائک سیل بنا سکتے ہیں؟

  • اگر ایل ای ڈی روشن نہیں ہوتی ہے تواس کے کنکشن کو الٹ دیجیے۔ کیا اب ایل ای ڈی روشن ہوجاتی ہے ؟ [یاد رہے کہ ہم پہلے بھی سیکھ چکے ہیں کہ ایل ای ڈی سے برقی رو صرف اس وقت گزر سکتی ہے جب ایل ای ڈی کا مثبت ٹرمنل (لمبی تار) بیٹری کے مثبت ٹرمنل سے منسلک ہو اور ایل ای ڈی کا منفی ٹرمنل (چھوٹی تار) بیٹری کے منفی ٹرمنل سے منسلک ہو]۔
  • Screenshot 2026-03-18 140021

    شکل4.8: (a) لیموں کا استعمال کرکے تشکیل کیا گیا برقی سیل ؛ (b) لیموں کے سیل میں کنکشن

ایک روشن ایل ای ڈی یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا سیل کام کر رہا ہے۔ اس سیل میں تانبے کے تار اور لوہے کی کیلیں دھاتی الیکٹروڈ ہیں۔ لیموں کا رس الیکٹرولائٹ ہےجو بجلی کے ایصال میں مدد کرتا ہے۔ آپ لیموں کے رس کے بجائے نمک کا محلول بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

ایک قدم آگے

وولٹائک سیلوں کے لیے کچھ عام دھاتی جفت زنک اورتانبا، زنک اور چاندی، ایلومینیم اور تانبا، لوہا اورتانبا، میگنیشیم اور تانبا اور سیسہ اور تانبا ہیں۔تانبا جیسی کچھ دھاتیں مثبت الیکٹروڈ کے طور پر کام کرتی ہیں جب کہ زنک جیسی کچھ دھاتیں منفی الیکٹروڈ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ایسا ان کی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے ہے۔ ہم اس کے بارے میں مزید مطالعہ اگلے گریڈ میں کریں گے۔

4.3.2 خشک سیل (Dry Cell)

وولٹائک سیل کی دریافت ایک اہم دریافت تھی لیکن یہ سیل روزمرہ استعمال کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ آج ان کی جگہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے برقی سیل خشک سیل ہیں۔ انھیں ’خشک‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا الیکٹرولائٹ رقیق حالت میں نہیں بلکہ گاڑھے اور مرطوب پیسٹ کی شکل میں ہوتا ہے۔ خشک سیل کی ساخت شکل 4.9 میں دکھائی گئی ہے۔ اس میں زنک سے بنا ایک برتن ہے جو منفی ٹرمنل کے طور پر کام کرتا ہے ۔ برتن کے مرکز میں دھاتی ٹوپی سے ڈھکی ہوئی کاربن کی چھڑ ہوتی ہے جو مثبت ٹرمِنل کے طور پر کام کرتی ہے۔ کاربن کی چھڑکے چاروں طرف پیسٹ جیسا الیکٹرولائٹ بھرا ہوتا ہے۔

خشک سیل ایک مرتبہ استعمال ہونے والا سیل ہے، یعنی کہ ایک مرتبہ استعمال ہوجانے کے بعد ناکارہ ہوجاتا ہے اور اسے تلف کر دیا جاتا ہے ۔ آج بہت سے کاموں میں دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریاں کثرت سے استعمال ہو رہی ہیں۔

Screenshot 2026-03-18 140233

شکل4.9: (a)خشک سیل؛ (b) اس کی اندرونی ساخت

4.3.3 دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریاں (Rechargeable Batteries)

دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریوں کو متعدد مرتبہ دوبارہ چارج اور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے فضلہ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور وقت کے ساتھ پیسے کی بھی بچت ہوتی ہے۔ دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں جن کا استعمال گھڑیوں اور فون میں استعمال ہونے والی چھوٹی بیٹریوں سے لے کر لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ میں استعمال ہونے والی بیٹریوں نیز انورٹر کے ساتھ یا برقی گاڑیاں چلانے والی بڑی بیٹریوں تک (شکل4.10) الگ الگ کاموں میں کیا جاتا ہے۔ تاہم، دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریاں بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہیں۔ کئی مرتبہ چارج اور استعمال کرنے کے بعد یہ آہستہ آہستہ خراب ہوجاتی ہیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 14-02-58 Chapter 4.pdf

شکل 4.10: چارج ہونے والی بیٹریاں جو دوبارہ استعمال ہوتی ہیں؛ (a) لیپ ٹاپ میں؛ (b)موبائل فون میں ؛ (c) کیمر میں؛ (d) انورٹر میں (e) گاڑیوں میں ؛ (f) موبائل فون کو چارج کرنے کے لیے

اوہ، تو یہی وجہ ہے کہ ایک یا دو سال کے بعد، فون کی بیٹری کو زیادہ مرتبہ چارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے!

ایک قدم آگے

آج، لیتھیم آین (Li-ion)بیٹری دوبارہ چارج ہونے والی بیٹری کی سب سے عام قسم ہے۔ یہ تقریباً ان تمام آلات میں پائی جاتی ہیں جو بیٹری کی مدد سے کام کرتے ہیں۔ یہ بیٹریاں لیتھیم اور کوبالٹ جیسی خاص دھاتوں پر انحصار کرتی ہیں، جن کی کان کنی اور پروسیسنگ دنیا کے کچھ حصوں تک ہی محدود ہے۔ اس کی وجہ سےممالک اب فراہمی کو یقینی بنانے، پرانی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ کرنے اور نئی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔

سائنس داں بھی اگلی بڑی چھلانگ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں یعنی سالڈ اسٹیٹ بیٹریاں جن میں رقیق یا پیسٹ جیسے الیکٹرولائٹ کی جگہ ٹھوس مواد استعمال کے جاسکیں گے۔ مستقبل کی یہ بیٹریاں زیادہ محفوظ ہوں گی، تیزی سے چارج ہوں گی اور زیادہ دیر تک کام کریں گی۔ دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریوں کو بہتر بنانا بہت اہم ہے کیوں کہ دنیا بجلی کے ماحول موافق ذرائع کو فروغ دینے کی سمت گام زن ہے۔

خلاصہ

  • جب برقی رو کسی موصل (جیسے تار) سے گزرتی ہے تو یہ اس کے اطراف مقناطیسی میدان پیدا کردیتی ہے۔ اس مظہر کو برقی روکا مقناطیسی اثر کہتے ہیں۔
  • برقی رو کی حامل کوائل جو مقناطیس کی طرح کام کرتی ہے ، برقی مقناطیس (Electromagnet) کہلاتی ہے۔عملی اطلاقات کے لیے زیادہ تر برقی مقناطیس میں لوہے کی کور استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی مقاطیسی قوت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
  • برقی رو کے بہاؤ کی وجہ سے کسی موصل میں حرارت کا پیدا ہونا برقی رو کا حرارتی اثر کہلاتا ہے۔
  • سیل یا بیٹری ایک ایسا آلہ ہے جو اپنے اندرواقع ہونے والے کیمیائی تعامل کی وجہ سے برقی رو پیدا کرتا ہے۔
  • دوبارہ چارج ہونے والی بیٹریوں کو متعدد مرتبہ دوبارہ چارج اور استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  1. خالی جگہوں کو پُرکیجیے:

(i) وولٹائک سیل میں استعمال ہونے والے محلول کو ...............کہا جاتا ہے۔

(ii) برقی رو کی حامل کوائل ایک................. کی طرح کام کرتی ہے۔

  1. صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:

(i) وولٹائک سیل کے مقابلے خشک سیل کم منتقل پذیر(Portable) ہوتے ہیں۔ (صحیح یا غلط)

(ii) ایک کوائل صرف اس وقت برقی مقناطیس کے طور پر کام کرتی ہے جب اس میں برقی رو گزرتی ہے۔ (صحیح یا غلط)

(iii) ایک سیل کو استعمال کرنے والا برقی مقناطیس ، دو سیل کی بیٹری والے یکساں برقی مقناطیس کے مقابلے زیادہ پیپر کلپ کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ (صحیح یاغلط)

  1. ایک نائکروم تار میں مختصر وقفے کے لیے برقی رو گزرتی ہے۔

(i) تار گرم ہو جاتا ہے۔

(ii) تار کے نیچے رکھےہوئے مقناطیسی کمپاس کی سوئی منحرف ہوجاتی ہے۔

صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:

(a) صرف (i) صحیح ہے

(b) صرف (ii) صحیح ہے

(c) (i) اور (ii) دونوں صحیح ہیں

(d) (i) اور (ii) دونوں صحیح نہیں ہیں

  1. کالم Aکو کالم Bسے ملائیے۔

کالم A

کالم B

(i)

وولٹائک سیل

(a)

برقی ہیٹر کے لیے موزوں ترین

(ii)

برقی استری

(b)

برقی رو کے مقناطیسی اثر پر کام کرتا ہے

(iii)

نائکروم کا تار

(c)

برقی رو کے حرارتی اثرات پر کام کرتا ہے

(iv)

برقی مقناطیس

(d)

کیمیائی تعامل کی مدد سے بجلی پیدا کرتا ہے

  1. برقی حرارتی آلات میں عام طور سے نیکروم کا تار استعمال ہوتا ہے کیوں کہ یہ

(i) بجلی کا اچھا موصل ہے۔

(ii) دی ہوئی برقی رو کے لیے زیادہ حرارت پیدا کرتا ہے۔

(iii) تانبے سے سستا ہے۔

(vi) بجلی کا حاجز ہے۔

  1. برقی حرارتی آلات (جیسے برقی ہیٹر یا اسٹوو)کو اکثر حرارت پیدا کرنے کے روایتی طریقوں (جیسے لکڑی یا چار کول جلانا)کے مقابلے زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بیان کی حمایت میں جواز پیش کیجیے۔
  2. شکل 4.4a دیکھیے۔ اگر کوائل کے قریب رکھا ہواکمپاس منحرف ہو جاتا ہے تو:(i) برقی روکا راستہ دکھانے کے لیے ڈائیگرام پر تیر کا نشان بنائیے۔(ii) وضاحت کیجیے کہ جب برقی رو بہتی ہے تو کمپاس سوئی میں حرکت کیوں ہوتی ہے۔(iii) پیشین گوئی کیجیے کہ اگر آپ بیٹری کے ٹرمنلوں کو الٹ دیتے ہیں تو انحراف کا کیا ہوگا؟
  3. Screenshot 2026-03-18 at 14-24-53 Chapter 4.pdf
  4. فرض کیجیے کہ سمانا اپنے رافع برقی مقناطیس ماڈل کے سوئچ کو آف پوزیشن کی طرف منتقل کرنا بھول جاتی ہے (تعارفی کہانی میں)۔ کچھ عرصے کے بعد ،لوہے کی کیلیں اب لوہے کے پیپر کلپ کو اٹھانا بند کردیتی ہیں، لیکن لوہے کی کیل کے گرد لپٹا ہوا تار اب بھی گرم ہے۔ رافع برقی مقناطیس نے کلپ کو اٹھانا کیوں بند کر دیا؟ ممکنہ وجوہات بتائیے۔
  5. شکل 4.11 میں،کس معاملے میں سوئچ بند ہونے پر ایل ای ڈی روشن ہوگا؟
Screenshot 2026-03-18 at 14-25-25 Chapter 4.pdf
  1. نیہا کوائل کو بالکل اسی طرح رکھتی ہے جیسا کہ سرگرمی 4.4 میں رکھا گیاہے لیکن لوہے کی کیل کو باہر نکال دیتی ہے، جس سے صرف کوائل والی تار رہ جاتی ہے۔ کیا کوائل اب بھی کمپاس میں انحراف پیدا کرے گی؟ اگر ہاں، تو کیا یہ انحراف پہلے سے زیادہ ہوگا یا کم ؟
  2. ہمارے پاس یکساں شکل اور سائز کی چار کوائل ہیں، جو لوہے، تانبے، ایلومینیم اور نائکروم سے بنی ہیں جیسا کہ شکل 4.12 میں دکھایا گیا ہے۔
Screenshot 2026-03-18 at 14-26-01 Chapter 4.pdf Screenshot 2026-03-18 at 14-26-15 Chapter 4.pdf

جب برقی رو کوائل سے گزرتی ہے، تو کوائل کے قریب رکھی ہوئی کمپاس کی سوئی انحراف ظاہر کرے گی۔

(i) صرف سرکٹ(a) میں

(ii) صرف سرکٹ (a) اور (b) میں

(iii) صرف سرکٹ (a)، (b) اور (c) میں

(vi) چاروں سرکٹ میں

دریافت، ڈیزائن اور بحث

  • 25، 50، 75 اور 100 پھیروں والی کوائل بنائیے۔ انھیں یکے بعد دیگرے ایک ہی سیل سے جوڑیے۔ سبھی معاملوں میں ایک جیسی حالت میں رکھے ہوئے مقناطیسی کمپاس میں انحراف کو نوٹ کیجیے۔ اپنے مشاہدات کی رپورٹ تیارکیجیے۔ برقی مقناطیس کی طاقت پر کوائل کے پھیروں کی تعداد کے اثرات کے بارے میں نتائج اخذ کیجیے۔
  • مساوی لمبائی اور مختلف موٹائی کے دو پتلے نائکروم تار لیجیے (ان میں سے ایک تار کی موٹائی دوسرے سے تقریباً دگنی ہونی چاہیے، مثلاً 0.3 ملی میٹر اور 0.6 ملی میٹر)۔ انھیں یکے بعد دیگرےایک سیل اور سوئچ پر مشتمل سرکٹ میں جوڑیے اور ہر معاملے میں 30 سیکنڈ تک برقی رو بہنے دیجیے۔ ایک لمحے کے لیے ان تاروں کو چھوئیں۔ کون سا تار زیادہ گرم ہے؟ اب اسی سرگرمی کو یکساں قطر لیکن مختلف لمبائی کے دو نائکروم تاروں کے ساتھ دہرائیے۔ اپنی سرگرمی کی ایک مختصر رپورٹ تیار کیجیے۔
  • مختلف پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرکے برقی سیل بنانے کی کوشش کیجیے۔ مختلف دھاتوں کے الیکٹروڈ کے ساتھ بھی کوشش کیجیے۔ ایک مختصر رپورٹ تیار کیجیے۔
Screenshot 2026-03-18 at 14-29-51 Chapter 4.pdf

ایک قدم آگے

جب کوئی بیٹری کام کرنا بند کر دیتی ہے تو وہ مکمل طور پر ’ناکارہ‘نہیں ہوتی۔ ممکن ہے اس میں اب بھی تیزاب جیسی اشیا اور سیسہ، کیڈمیم، نکل یا لیتھیم جیسی دھاتیں موجود ہوں جو آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہیں یا اگر بیٹری کو عام کچرے میں پھینک دیا جائے تو ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان بیٹریوں میں استعمال ہونے والے بہت سے مواد کارآمد ہوتے ہیں اور ان کی ری سائیکلنگ کرکےدوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔آج کل بہت سی جگہوں پر’ الیکٹرانک کچرے‘ (E-waste) کی ری سائیکلنگ کے لیے خصوصی سہولیات موجود ہیں، جہاں استعمال شدہ بیٹریوں کو تلف کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو معلوم نہیں ہے تو ٹیچر سے دریافت کیجیے۔ بیٹریوں کی
ری سائیکلنگ کرۂ ارض اور لوگوں کے لیے اچھا ہے۔