Skip to content
1a Qr






5
قوتوں کا مطالعہ (Exploring Forces)


5

جانچیں اور غور کریں

  • چپٹی زمین کے مقابلے اوپر کی طرف جاتے ہوئے سائیکل چلانا زیادہ مشکل کیوں لگتا ہے؟
  • گیلی سطح پر پھسلنا آسان کیوں ہے؟
  • جب ہمارا جھولا اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ کر نیچے کی طرف آنے لگتا ہے تو ہم خود کو ہلکا یا تیرتا ہوا’کیوں محسوس کرتے ہیں؟
  • اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے

؟

آج تیز ہوا چل رہی تھی۔ سونالی اور راگنی سائیکل چلانے کے لیے پُر جوش تھیں۔ ان کی گرمیوں کی چھٹیاں ابھی ابھی شروع ہوئی تھیں اور وہ اپنے گاؤں کے آس پاس کے خوبصورت مناظر کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ اپنی سائیکل کے ٹائروں میں ہوا بھرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئیں۔ جب وہ گاؤں سے گزر رہی تھیں تو ہواکا ایک
تیز جھونکاآیا۔ راگنی نے کہا ’’ارے ارے! ہوا مجھے زور سے دھکیل رہی ہے!‘‘سونالی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’ہم لوگ ہوا کی مخالف سمت میں چل رہے ہیں۔ تیز چلنے کے لیے ہمیں اپنے پیڈل کو زور سے دھکیلنا ہوگا۔‘‘

اپنی سواری پر وہ ایک لمبے راستے سے ہوتے ہوئے پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ گئیں۔ سڑک کے کچھ حصے اوبڑ کھابڑ تھے جہاں ان کے لیے پیڈل چلانا مشکل ہورہاتھا، جب کہ دیگر حصے ہموار تھے۔ جب وہ چوٹی پر پہنچیں اور نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھیں تو انھیں بادلوں کی گرج سنائی دی اور کچھ فاصلے پر بجلی چمکتی ہوئی نظر آئی۔ اگرچہ یہ نظارہ خوب صورت تھا پھر بھی انھوں نے فوراً واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ واپس لوٹتے وقت ، بھیڑوں کے ریوڑ کے پاس سے گزرتے ہوئے، انھوں نے اپنی سائیکل کی گھنٹیاں بجائیں اور سمت بدلنے کے لیے ہینڈل گھمائے۔

جب وہ پہاڑی ڈھلان سے نیچے اتر رہی تھیں تو انھیں احساس ہوا کہ ان کی سائیکلیں تیز رفتارسے نیچےآرہی ہیں جب کہ وہ پیڈل نہیں چلارہی تھیں! سونالی چلائی، ’’واہ کیا بات ہے! ایسا لگتا ہے کوئی چیز ہمیں نیچے کی طرف کھینچ رہی ہے، یہ کیا ہو سکتا ہے؟ ‘‘

آئیے دھکا لگانے (Push)اورکھینچنے کا تجربہ کرنے کی کوشش کریں۔

سرگرمی 5.1: آئیے چھان بین کریں

  • ایک بڑے سائز کا گتے کا با کس لیجیے۔
  • باکس کو ان تمام مختلف طریقوں سے ہلانے کی کوشش کیجیے جن کے بارے میں آپ سوچ سکتے ہیں ۔
    Screenshot 2026-03-18 at 15-34-59 Chapter 5.pdf

    شکل5.1: با کس کو مختلف طریقوں سےہلانا؛ (a) دھکا لگانا؛ (b) کھینچنا؛ (c) اٹھانا (کھینچنا) اورلے جانا

کیا آپ نے باکس کو شکل 5.1 میں دکھائے گئے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے ہلایا ؟ آپ نے باکس کو ہلانے میں جتنے بھی طریقے استعمال کیے ہوں گے ان میں آپ نے باکس پر دھکا لگایا ہوگا یا اسے کھینچنا پڑا ہوگا۔ عام طورسےکسی چیز پر لگنے والا دھکا یا کھچاؤ سائنس میں قوت (Force) کہلاتا ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ہر وقت،اکثر بغیر کسی احساس کے دھکے یاکھنچاؤ کا تجربہ کرتے ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ تجربات کو یادکریں اور ان کا تجزیہ کریں۔

  • ان حالات کے بارے میں سوچیے جہاں قوت (دھکا یا کھچاؤ) لگائی جاتی ہے اور انھیں جدول 5.1 میں درج کیجیے۔
  • ہر صورت حال کا تجزیہ کیجیے اور قوت کے اثرکو جدول 5.1 میں لکھیے۔ بعض حالات اور ان کے اثرات آپ کے لیے پہلے ہی سے درج ہیں۔

جدول5.1: مختلف عمل اور ان کے اثرات

نمبر شمار

عمل

دھکا لگانا / کھینچنا

اثر

.1

آپ کا دوست آپ کی چلتی ہوئی سائیکل کو روکنے کے لیے اسے پیچھے سے پکڑ لیتا ہے۔

کھینچنا

سائیکل کا رُکنا یا اس کی رفتار کا کم ہونا

.2

حرکت کرتی ہوئی گیند کو بلے سے مارنا

دھکا لگانا

حرکت کرتی ہوئی گیند کی سمت کو تبدیل کرنا

.3

ہوا بھرے ہوئے غبارے کو دبانا

دھکا لگانا

غبارے کی شکل میں تبدیلی

………………

………………

………………

ان مثالوں سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ کیا کوئی قوت کسی حرکت پذیرشے کو روک سکتی ہے؟ کیا یہ کسی شے کی چال، حرکت کی سمت، یا شکل کو بدل سکتی ہے؟

Screenshot 2026-03-18 at 15-44-09 Chapter 5.pdf

شکل5.2: اشیا پر قوت لگانا

روزمرّہ زندگی میں، ہم بہت سے ایسے حالات سے گزرتے ہیں جہاں قوت لگائی جاتی ہے، مثال کے طور پر، دراز کھولنا، ربڑ بینڈ کھینچنا، فیلڈرکا گیند کو روکنا، فٹ بال کو کک مارنا، چلتی سائیکل میں بریک لگانا، چپاتی بیلنا، یا آٹورکشہ کا اسٹیئرنگ ہینڈل گھمانا۔ قوت لگانے کا اشیاپر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

  • اسے سکون کی حالت سے حرکت کی حالت میں لاسکتی ہے ۔
  • اگر یہ حرکت کر رہی ہے تو اس کی رفتار کو تبدیل کرسکتی ہے ۔
  • شے کی حرکت کی سمت کو تبدیل کرسکتی ہے۔
  • شے کی شکل میں تبدیلی لا سکتی ہے۔
  • ان میں سے کچھ یا سبھی اثرات کو پیدا کرسکتی ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی کسی شے کی چال یا سمت یا شکل میں تبدیلی آتی ہے تو اس پر کوئی قوت لگ رہی ہوتی ہے؟


ہاں ،ان میں سے کچھ بھی قوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

ایک قدم آگے

فرض کیجیے کہ کوئی شے حالتِ سکون میں ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شے پر کوئی قوت نہیں لگ رہی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ شے پر لگنے والی قوتیں ایک دوسرے کو متوازن کر رہی ہیں۔ آپ متوازن قوتوں کے بارے میں اگلے گریڈ میں سیکھیں گے۔

جب آپ کسی میز کو دھکیلتے ہیں، تو آپ کا ہاتھ ایک شے ہے جو دوسری شے یعنی میز پر قوت لگا رہی ہے۔ یہاں ہم کہہ رہے ہیں کہ آپ کا ہاتھ اور میز دو اشیا ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کر رہی ہیں۔

جدول 5.1 میں درج کیے گئے تمام عملوں پر غورکیجیے۔ ہر عمل میں کتنی اشیا شامل ہیں؟ کیا آپ نے غور کیا کہ قوتیں صرف اسی وقت پیدا ہوتی ہیں جب دو اشیاکسی نہ کسی شکل میں باہمی عمل کرتی ہیں؟ ان مثالوں سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ قوت لگانے کے لیے کم از کم دو اشیا کے درمیان باہمی عمل ضروری ہے۔

قوت کسی شے پر لگنے والا وہ دھکا یا کھنچاؤ ہے جو اس شے کی کسی دوسری شے کے ساتھ باہمی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ قوت کی ایس آئی اکائی ( SI Unit) نیوٹن (Newton) ہے (اسے انگریزی میں چھوٹے حرف ‘n سے لکھا جاتا ہے) اور اس کی علامت N ہے۔

ایک قدم آگے

جب آپ نے میز کو اپنے ہاتھ سےدھکیلا تو کیا آپ کو بھی اپنے ہاتھوں پرکوئی قوت محسوس ہوئی ؟ جیسے ہی آپ نے دھکیلنا بند کیا ، آپ کے ہاتھ پر لگنے والی قوت بھی غائب ہوگئی۔ جب دو اشیا کے درمیان باہمی عمل ہوتا ہے تو ہر شے دوسری شے کے ذریعے لگنے والی قوت کو محسوس کرتی ہے۔ جیسے ہی باہمی عمل ختم ہوجاتا ہے، دونوں اشیا پر کوئی قوت اثر اندازنہیں ہوتی۔

5.4 قوتوں کی مختلف اقسام کیا ہیں؟

5.4.1 اتصالی قوتیں(Contact Forces)

کئی معاملوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی شے پر قوت لگانے کے لیے ہمارے جسم اور شے کے درمیان طبیعی رابطہ ضروری ہے۔ یہ رابطہ براہِ راست جیسے اپنے ہاتھ یا جسم کے دوسرے حصوں کو استعمال کرنا یا بالواسطہ ہو سکتا ہے مثلاًکسی چھڑی یا رسی کو استعمال کرنا۔ اس قسم کی قوتیں جو اشیا کے درمیان صرف طبیعی رابطے کی صورت میں ہی اثر انداز ہوتی ہیں ، اتصالی قوتیں(Contact Forces) کہلاتی ہیں۔

عضلاتی قوت (Muscular Force)

اتصالی قوت کی ایک مثال عضلاتی قوت ہے۔ جب ہم کوئی جسمانی سرگرمی کرتے ہیں مثلاً چلنا، دوڑنا، اٹھانا، دھکا دینا، چھلانگ لگانا یا کھینچناتو ہمارے جسم میں عضلات کے عمل کی وجہ سے قوت پیدا ہوتی ہے۔ عضلات کے عمل کے نتیجے میں لگنے والی قوت عضلاتی قوت (Muscular Force)کہلاتی ہے۔ عضلاتی قوت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی سرگرمی کرتے وقت عضلات سکڑ تے اور پھیلتے ہیں ۔

جانور، پرندے، مچھلیاں اور حشرات نقل وحرکت اور بقا کے لیے عضلاتی قوتوں کا استعمال کرتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 15-55-34 Chapter 5.pdf

انسانوں نے بہت سے کاموں کو انجام دینے کے لیے حیوانات کی عضلاتی قوت کو طویل عرصے تک استعمال کیا۔

Screenshot 2026-03-18 at 15-58-36 Chapter 5.pdf

کیاکبھی سنا ہے...

ہمارے جسم کے اندر بھی بہت سے کاموں میں عضلاتی قوت اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ قوت عمل ہضم کے دوران غذا کو چبانے اور اسے انہضامی نالی (Alimentary Canal) میں دھکیلنے میں مدد کرتی ہے۔ قلبی عضلات کا پھیلنا اور سکڑنا ہمارے جسم میں خون کے دوران کوممکن بناتا ہے۔ یہ عمل ہماری بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

رگڑ (Friction)

مُسطّح(چپٹی) زمین پر لڑھکتی ہوئی گیند کچھ دیر بعد اپنے آپ رک جاتی ہے۔ اگر ہم کسی مُسطّح سڑک پر سائیکل چلاتے وقت پیڈل کو گھمانا بند کر دیتے ہیں تو اس کی چال بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور بالآخر رک جاتی ہے۔اگر سڑک ناہموار ہے، تو یہ ہموار سڑک کے مقابلے میں جلد رک جاتی ہے۔ آپ کو ایسے بہت سے تجربات ہوئے ہوں گے۔ ان معاملوں میں اشیاکی چال میں تبدیلی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ ہم پہلے ہی سیکھ چکے ہیں کہ کسی شے کی چال کو تبدیل کرنے کے لیے قوت ضروری ہے۔ تاہم ان سبھی حالتوں میں اشیا پر کسی قسم کی قوت لگتی ہوئی نظر نہیں آتی، پھر بھی ان کی چال بتدریج کم ہوتی جاتی ہے اور کچھ دیر کے بعدیہ رک جاتی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ان پرحقیقت میں کوئی قوت اثر انداز ہو رہی ہو؟ یہ کون سی قوت ہے؟

کیا کوئی اور اتصالی قوت بھی ہے؟

  • ایک سپاٹ پیندے والی کوئی چیز (جیسے خالی لنچ باکس/جیومیٹری باکس/نوٹ بک)لیجیے اور اسے میز یا فرش پر رکھیے۔
  • اسے آہستہ سے دھکا دیجیے اور مشاہدہ کیجیے۔ کیا یہ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد رک جاتی ہے؟ کیا
    اس پر کوئی قوت لگ رہی ہے جو اسے حالت ِسکون میں لے آتی ہے؟
  • اب شے پر مخالف سمت سےدھکا لگاکر کراس عمل کو دہرائیے۔کیایہ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد پھررک جاتی ہے؟

شکل 5.5: قوت رگڑ دو سطحوں کے درمیان اثر اندازہوتی ہے اور شے کی حرکت کی مخالفت کرتی ہے

دھکیلنے پر، شے ایک مخصوص فاصلے تک پھسلنے کے بعد رک جاتی ہے۔ یہ پھسلتی ہوئی شے اور اس کے رابطے میں آنے والی میز یا فرش کی سطحوں کے درمیان لگنے والی قوت کی وجہ سے ہونی چاہیے ۔ یہ قوت شے پر اس کی حرکت کی مخالف سمت میں اثر انداز ہورہی ہو گی۔ یہی وہ قوت ہے جو شے کو روک دیتی ہے۔

جب کوئی شے کسی دوسری سطح پر حرکت کرتی ہے یا حرکت کرنے کی کوشش کرتی ہےتو اس وقت جو قوت اثر انداز ہوتی ہےاسے رگڑ کی قوت(Force of Friction) یا صرف رگڑ(Friction) کہتے ہیں۔ رگڑ ہمیشہ اس سمت کی مخالف سمت میں اثر انداز ہوتی ہے جس میں شے حرکت کر رہی ہے یا حرکت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رگڑکی قوت ایک اتصالی قوت ہے کیونکہ یہ دوسطحوں کے رابطے میں آنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

رگڑ ایک دوسرے کے رابطے میں آنے والی دو سطحوں کی بے قاعدگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ سطحیں جو ہموار نظرآتی ہیں، ان میں بھی بہت زیادہ مہین بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں(شکل 5.6)۔ رابطے میں آنے پر دونوں سطحوں کی بے قاعدگیاں ایک دوسرے میں اٹک(Lock) جاتی ہیں اور ایک سطح کو دوسری سطح پرلے جانے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کرتی ہیں۔

Screenshot 2026-03-18 160527

  • سرگرمی 5.3کو ایک مرتبہ پھر دہرائیے، لیکن اس مرتبہ ایک ہی شے کو مختلف سطحوں جیسے شیشہ، کپڑا، لکڑی، سیرامک ٹائل اور ریت پر رکھیے۔
  • کیا شے سرگرمی 5.3 میں بتایا گیا فاصلہ طے کرنے کے بعد رک جاتی ہے؟
  • کیا شے سبھی سطحوں پر ایک ہی فاصلے پر رکتی ہے؟

مختلف سطحوں پر شے مختلف فاصلے طے کرنے کے بعد رکتی ہے ، چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ رگڑ کی قوت رابطے میں آنے والی سطحوں کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کھردری سطحوں پر رگڑ زیادہ ہوتی ہے۔

ایک قدم آگے

کیا رگڑکی قوت صرف اسی صورت میں کام کرتی ہے جب اشیا ٹھوس سطحوں پر حرکت کر رہی ہوں؟ رقیق اور گیسوں میں حرکت کرنے والی اشیا کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہوا، پانی اور دیگر رقیق بھی ان اشیا پر رگڑکی قوت لگاتے ہیں جو ان سے ہوکر حرکت کرتی ہیں۔ اس لیے ہوائی جہازوں، بحری جہازوں، کشتیوں یا بہت تیز رفتار سے چلنے والی ریل گاڑیوں کو ان کے ارد گرد موجود ہوا یا پانی کی وجہ سے رگڑ کی قوت کو کم کرنے کے لیے مخصوص شکل کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے ۔


کیا کسی شے کے لیے دوسری شے پر قوت لگاتے وقت ہمیشہ اس کے رابطے میں ہونا ضروری ہے؟

5.4.2 غیر اتصالی قوتیں (Non-Contact Forces)

کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اثر اشیا کے رابطے میں نہ ہونے پر بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان قوتوں کو غیر اتصالی قوتیں (Non-Contact Forces) کہا جاتا ہے۔آئیے غیر اتصالی قوتوں کے بارے میں سیکھیں۔

مقناطیسی قوت(Magnetic Force)

کیا آپ کوگریڈ 6 کی درسی کتاب کے باب’مقناطیسوں کی چھان بین‘ میں مقناطیسوں کے بارے میں پڑھا ہوا یاد ہے؟ ہم نے پڑھا تھا کہ مقناطیس، مقناطیسی مواد سے بنی اشیا کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں۔ جب دو مقناطیسوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، تویکساں قطب (شمال-شمال، جنوب-جنوب) ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں جب کہ یکساں قطب (شمال-جنوب) ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس کتاب کے گزشتہ باب میں، ہم نے برقی مقناطیسوں کے بارے میں بھی سیکھا ہے جو مقناطیس کی طرح کام کرتے ہیں۔ اشیا کے درمیان کشش اوردفع کوبھی کھینچنے یا دھکا لگانے یعنی قوت سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مقناطیس دوسرے مقناطیس یا مقناطیسی مواد پر بغیر اتصال کے ہی قوت لگاتا ہے؟

  • دوحلقہ نما مقناطیس(Ring Magnets) اور ایک لکڑی کی چھڑی لیجیے۔
  • چھڑی کو لکڑی کی میز پر عمودی حالت میں رکھتے ہوئےایک حلقہ نما مقناطیس کو چھڑی میں داخل کیجیے (شکل 5.7)۔
  • اب دوسرے حلقہ نما مقناطیس کو اس کے اوپر اس طرح داخل کیجیے کہ دونوں مقناطیسوں کے یکساں قطب ایک دوسرے کے مقابل ہوں۔ کیا دوسرا مقناطیس پہلے مقناطیس کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے؟
  • دوسرے مقناطیس کو آہستہ سے نیچے دھکیلنے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ کو اس پر کوئی قوت محسوس ہوتی ہے؟
  • اب دونوں مقناطیسوں کے قطبین کو الٹ دیجیے۔ کیا دوسرا مقناطیس اب بھی تیرتا ہوا نظر آتا ہے؟

ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مقناطیس دوسرے مقناطیس پر اتصال کے بغیر بھی قوت لگا سکتا ہے۔

ایک مقناطیس کے ذریعے کسی دوسرے مقناطیس یا مقناطیسی موادپر لگائی گئی قوت مقناطیسی قوت (Magnetic Force) کہلاتی ہے۔ چوں کہ مقناطیس بغیر کسی اتصال کے، فاصلے سے قوت لگا سکتا ہے اس لیے اسے غیر اتصالی قوت (Non-Contact Force) کہتے ہیں۔

کیا ایسی اور بھی قوتیں ہیں جو فاصلے سے اثر انداز ہوتی ہیں؟

Screenshot 2026-03-18 at 16-07-50 Chapter 5.pdf

برق سکونی قوت(Electrostatic Force)

  • ایک پلاسٹک کا پیمانہ یا پلاسٹک اسٹرا، پالیتھین کا ایک ٹکڑا اور کاغذ کے چھوٹے ٹکڑے لیجیے۔
  • پلاسٹک کے پیمانےیااسٹرا کو پالیتھین کے ٹکڑے سےتیزی سے رگڑیے۔
  • رگڑے ہوئے حصے کو اپنے ہاتھ یا کسی دھاتی چیز سے نہ چھوئیں۔
  • اب اسے میز پر رکھے ہوئے کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کے قریب لائیے لیکن اس بات کا
    خیال رہے کہ یہ کاغذ کے ٹکڑوں سے مس نہ ہونے پائے (شکل 5.8)۔ کیا آپ کو کچھ ا یسا نظر آتا ہے جو حیرت انگیز ہے؟

جب پلاسٹک کے پیمانےیا اسٹرا کو کاغذ کے ٹکڑوں کے قریب لایا جاتا ہے تو کاغذکے ٹکڑےاس کی طرف کشش کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے چپک جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

جب مخصوص مواد سے بنی دو اشیا کو آپس میں رگڑ تے ہیں تو ان کی سطحوں پر برقی بار(Electrical Charges) جمع ہو جاتے ہیں۔یہ برقی بار سکونی (Static) ہوتے ہیں کیوں کہ یہ اپنے آپ حرکت نہیں کرسکتے۔ وہ شے جو سکونی بار حاصل کرتی ہے اسے بار شدہ شے (Charged Object)کہا جاتا ہے۔ ایک بار شدہ شے بعض مواد جیسے کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنی غیر بار شدہ اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے یعنی ان پر قوت لگاتی ہے۔ یہ قوت اس وقت بھی اثر انداز ہوتی ہے جب اجسام ایک دوسرے کے رابطے میں نہیں ہوتے ۔

آئیے مختلف مواد سے بنی اشیاکے ساتھ ایک اور سرگرمی انجام دیں۔

Screenshot 2026-03-18 at 16-08-39 Chapter 5.pdf

شکل 5.8: بار شدہ پلاسٹک کا پیمانہ جو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے

  • دو غبارے، ایک لمبا دھاگا ، اور ایک اونی کپڑا لیجیے۔
  • دو نوں غباروں میں ہوا بھریے اور انہیں اس طرح لٹکائیے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں نہیں جیسا کہ شکلa5.9 میں دکھایا گیا ہے۔
  • دونوں غباروں کو اونی کپڑے سے رگڑیے اور چھوڑ دیجیے۔ خیال رہے کہ رگڑے ہوئے غباروں کو اپنی انگلیوں سے نہ چھوئیں۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ غبارے ایک دوسرے سے اس طرح دور ہوجاتے ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کو دفع کر رہے ہوں (شکل b5.9)۔

  • اب غباروں کو رگڑنے کے لیے استعمال کیے گئے اونی کپڑے کو رگڑے ہوئے غباروں میں سے کسی ایک کے قریب لائیں۔ کیا ہوتا ہے؟

وہ ایک دوسرے کی طرف اس طرح حرکت کرتے ہیں جیسے وہ ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کر رہے ہوں۔ ہم ان مشاہدات سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟

Screenshot 2026-03-18 at 16-09-03 Chapter 5.pdf

شکل 5.9: (a) دو غیر بار شدہ غبارے؛ (b) دو بار شدہ غبارے جو ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ برقی بار دو قسم کے ہوتے ہیں؟

ہم نے دیکھا کہ دو یکساں بار شدہ غبارے ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں جب کہ بار شدہ غبارہ اور اونی کپڑا (جس سے غبارے کو رگڑا گیا تھا) ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غبارے پر موجود بار اونی کپڑے کے بار سے مختلف ہے؟

چوں کہ غباروں کو ایک ہی طریقے سے چارج کیا گیا تھا ،لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے یکساں چارج حاصل کیا۔ چوں کہ یکساں بارشدہ غبارے ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یکساں بار ایک دوسرے کو دفع کرتے ہیں۔ رگڑنے والی شے اور رگڑی ہوئی شے دونوں ہی بار شدہ ہوجاتی ہیں لیکن ان میں مخالف قسم کے چارج پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی کشش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مخالف قسم (غیر یکساں) کے چارج ایک دوسرے کے تئیں کشش کا اظہار کرتے ہیں۔ سکونی چارجوں کی دونوں اقسام کو ’مثبتاور’’’ منفیکہا جاتا ہے۔

ایک بارشدہ شے کے ذریعے کسی دوسری بار شدہ یا غیر بار شدہ شے پر لگائی گئی قوت کو برق سکونی قوت (Electrostatic Force) کہتے ہیں۔ یہ ایک غیر اتصالی قوت ہے۔

ایک قدم آگے

جب بار حرکت کرتے ہیں، تو یہ برقی سرکٹ میں برقی رو کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی وہ برقی رو ہے جو لیمپ کو روشن کرتی ہے یا حرارتی اثر یا مقناطیسی اثر پیدا کرتی ہے۔

کشش ثقل (Gravitational Force)

  • ایک گیند لیجیے اور اسے عمودی حالت میں اوپر کی طرف پھینکیے۔ یہ نیچے آجاتی ہے؟
  • اب اسے دوبارہ لیکن زیادہ زور سے پھینکیے۔کیا یہ اب بھی زمین پر واپس آجاتی ہے؟

اپنے گردو پیش میں ان مختلف حالات کے بارے میں غور کیجیے جہاں کسی بھی سمت میں پھینکی گئی کوئی چیز بالآخر نیچے گرجاتی ہے یا زمین یا فرش پر واپس آجاتی ہے۔

Screenshot 2026-03-18 at 16-10-54 Chapter 5.pdf

شکل 5.10: زمین کی طرف گرتی ہوئی کچھ اشیا

سبھی چیزیں زمین کی طرف کیوں
گرتی ہیں؟


کیا ان چیزوں پر کوئی قوت اثر انداز ہوتی ہے؟ یہ قوت کون لگاتا ہے؟

چوں کہ سبھی اشیا زمین کی طرف گرتی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ زمین انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جس قوت سے زمین اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسے کشش ثقل (Gravitational Force)کہا جاتا ہے۔ زمین کے ذریعے لگائی گئی قوت کشش کو قوتِ ثقل (Force of Gravity)یا صرف ثقل(Gravity) بھی کہا جاتا ہے۔

چوں کہ قوت ِثقل اس شے کے ساتھ رابطے کے بغیر اثر انداز ہوتی ہے جسے وہ اپنی طرف کھینچتی ہے، یہ ایک غیر اتصالی قوت ہے۔ مقناطیسی قوت یا برق سکونی قوت کے برعکس جو کششی یا دفعی نوعیت کی ہوتی ہیں، قوّت ِثقل ہمیشہ کشش نوعیت کی ہوتی ہے ۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کسی شے کو اونچائی سے گرایا جاتا ہے، تو وہ زمین کو چھونے سے پہلے نیچے کی طرف مستقیم عمودی راستہ اختیار کرتی ہے (شکل a11.5

جب کسی شے کو عمودی حالت میں اوپر کی طرف پھینکا جاتا ہے، تو وہ اوپر کی طرف مستقیم راستے پر سفر کرتی ہے، اس کی حرکت سست پڑجاتی ہے، اپنے بلند ترین مقام پر ایک لمحہ کے لیے رکتی ہےاور پھر نیچے کی طرف مستقیم عمودی راستہ اختیار کرتی ہے (شکل b11.5

اوپر جاتے وقت شے کی چال کم ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ رک جاتی ہے، اس کی حرکت کی سمت بدل جاتی ہے اور نیچے آتے وقت چال بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب کوئی شے کشش ثقل کے زیر اثر عمودی سمت میں حرکت کرتی ہے تووہ عمودی حرکت
(Vertical Motion) کی حالت میں ہوتی ہے۔

Screenshot 2026-03-18 at 16-12-26 Chapter 5.pdf

شکل 5.11: (a) اونچائی سے کوئی شے گرانا؛ (b) کسی شے کو عمومی طور پر اوپر کی طرف پھینکنا

کیا زمین ہر شے کو یکساں قوت سے کھینچتی ہے؟

5.5 وزن اور اس کی پیمائش (Weight and Its Measurement)

زمین جس قوت سے کسی شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسے شے کا وزن(Weight) کہتے ہیں۔ وزن یہ پیمائش کرتا ہے کہ زمین کسی شے کو کتنے زور سے کھینچتی ہے۔ چوں کہ وزن ایک قوت ہے لہٰذا اس کی پیمائش قوت کی اکائی میں ہی کی جاتی ہے ۔ چنانچہ وزن کی ایس آئی اکائی ( SI Unit) بھی نیوٹن (N) ہے۔

آئیے اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ کیا زمین ہر چیز کو مساوی قوت سے کھینچتی ہے۔

  • ایک اسپرنگ اور مختلف کمیت والی چند اشیا جیسے ایک پنسل باکس، ایک ٹفن باکس اور ایک چھوٹا پتھر لیجیے۔
  • اسپرنگ کے ایک سرے کو کیل سے لٹکائیے۔ دوسرے سرے پر کسی چیز کو لٹکائیے اور اسپرنگ کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا اسپرنگ میں کھچاؤ آتا ہے؟
  • اب یکے بعد دیگرے باقی اشیا کو لٹکا ئیے اور ہر مرتبہ اسپرنگ میں کھچاؤ کا مشاہدہ کیجیے ۔ کیا ہر شے کی وجہ سے ہونے والا کھچاؤ یکساں ہے؟

جب کسی چیز کو اسپرنگ سے لٹکایا جاتا ہے، تو زمین کے ذریعے شے پر لگائی گئی قوت کی وجہ سے اسپرنگ میں کھچاؤ آجاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسپرنگ میں ہونے والا کھچا ؤ مختلف اشیا کے لیے مختلف ہوتاہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین مختلف اشیا کو مختلف قوتوں سے کھینچتی ہے، یعنی مختلف اشیا کا وزن مختلف ہوتا ہے۔ کیا ہم کسی چیز کے وزن کی پیمائش کے لیے اسپرنگ کا استعمال کر سکتے ہیں؟

ایک قدم آگے

اسپرنگ بیلنس (کمانی دار ترازو) ایک سادہ آلہ ہے جسے وزن (قوت) کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں ایک سرے پر اسپرنگ اور دو سرے سرے پر ایک ہک لگا ہوا ہوتا ہے۔ جب ہم کسی شے کو ہک میں لٹکاتے ہیں، تو اسپرنگ میں کھنچاؤ آ جاتا ہے اور کھنچاؤ کی مقدار اس شے کے وزن کو ظاہر کرتی ہے۔ ترازو پر ایک اسکیل(پیمانہ) ہوتا ہے جس پر نیوٹن میں وزن (قوت) کوظاہر کرنےکے لیے نشان بنے ہوتے ہیں۔ عام طور پرکمیت کی نظیری قدروں کو گرام (g) میں ظاہر کرنے کے لیے ایک اور اسکیل بھی ہوتا ہے۔ ان قدروں کی نشان بندی اس مفروضے کے ساتھ کی جاتی ہے کہ اسپرنگ بیلنس کا استعمال زمین پرکیا جاتا ہے جہاں زمین کی قوت ِثقل شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

Screenshot 2026-03-18 at 16-17-39 Chapter 5.pdf

شکل 5.12: (a) ایک لٹکا ہوا اسپرنگ ؛
(b) اسپرنگ سے لٹکائی گئی دو مختلف اشیا

آئیے اسپرنگ بیلنس کی مدد سے وزن کی پیمائش کرنا سیکھیں۔ لیکن سب سے پہلے ہم اسپرنگ بیلنس سے اسی طرح واقف ہوجائیں جس طرح ہم نے پہلے تھرمامیٹر کے معاملے میں کیا تھا (تجسس، گریڈ 6 کے باب درجہ حرارت اور اس کی پیمائش‘میں) ۔

  • شکل5.13میں دکھائے گئے اسپرنگ بیلنس پر غور کیجیے۔یہ زیادہ سے زیادہ کتنے وزن کی پیمائش کرسکتا ہے؟

یہ زیادہ سے زیادہ 10N وزن کی پیمائش کرسکتا ہے۔لہٰذا اس اسکیل کی وسعت(رینج) 0تا01 Nہے۔

آئیے اب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اسپرنگ بیلنس کی مدد سے کم سے کم کتنے وزن کی پیمائش کی جاسکتی ہے؟

  • شکل 5.13 میں دکھائے گئے اسپرنگ بیلنس پر غور کیجیے اور درج ذیل کو نوٹ کیجیے:
  • دو بڑےنشانات کے درمیان وزن میں کتنا فرق ہے؟

0 اور N 10 یا N 10 اور N 20 کے درمیان ظاہر کیا گیا وزن کا فرق N 1ہے۔

  • ان دو بڑے نشانات کے درمیان چھوٹے نشانات کی تعداد کتنی ہے؟

دو بڑے نشانات کے درمیان 5 چھوٹے نشانات ہیں۔

  • ایک چھوٹا نشان کتنا وزن ظاہر کرتاہے؟

ایک چھوٹا نشان یعنی 0.2N = پڑھ سکتا ہے۔

لہٰذا، N 2.0 وہ سب سے چھوٹی قدرہے جسے اسپرنگ بیلنس پڑھ سکتا ہے۔ اب اس طریقےکی مدد سے وزن کی وہ سب سے چھوٹی قدر معلوم کیجیے جسے آپ دیے گئے اسپرنگ بیلنس سے ناپ سکتے ہیں۔ ممکن ہے آپ کے اسکول کی تجربہ گاہ میں موجود اسپرنگ بیلنس کی رینج اور سب سے چھوٹے نشان کی قدر مختلف ہو۔ لہٰذا، جس اسپرنگ بیلنس (یا کسی دوسرے آلے) کو آپ استعمال کرنے جا رہے ہیں ، اس کا بغور مشاہدہ ضروری ہے ۔

آئیے اب اسپرنگ بیلنس کی مدد سے وزن کی پیمائش کرنے کا طریقہ سیکھیں۔

  • ایک اسپرنگ بیلنس اور چند اشیا لیجیے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اشیا کا زیادہ سے زیادہ وزن سے بھاری نہ ہوں جس کی پیمائش اسپرنگ بیلنس کی مدد سے کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر یہ اسپرنگ بیلنس خراب ہو سکتا ہے۔
  • اشیا کو یکے بعد دیگرے ہک سے لٹکائیے (شکل 5.14)۔ وزن کے پیمانے کو احتیاط سے پڑھیے اور اپنے مشاہدات کو جدول 5.2 میں درج کیجیے۔
Screenshot 2026-03-18 161911Screenshot 2026-03-18 at 16-19-19 Chapter 5.pdf

جدول5.2: اسپرنگ بیلنس کی مدد سے وزن کی پیمائش کرنا

نمبر شمار

شے

وزن(N)

.1

پنسل باکس

.2

جزوی طور پر بھری ہوئی پانی کی بوتل

آپ کسی شے کی کمیت کی پیمائش کے مقصد سے اسپرنگ بیلنس (شکل 5.13) پر بائیں جانب دکھائے گئے کمیتی پیمانے کے لیے سرگرمی 5.10 تا 5.12 کو دہرا سکتے ہیں۔

ایک قدم آگے

کسی شے کی کمیت کی پیمائش بالواسطہ طور پر اس کے وزن کی پیمائش کرکے (اسپرنگ بیلنس کی مدد سے) یا اس کے وزن کا کسی معلوم کمیت (ڈنڈی دار ترازو کی مدد سے) والی شے کے وزن سے موازنہ کرکے کی جاسکتی ہے۔ چوں کہ زمین پر کسی چیز کا وزن تقریباً ایک جیسا رہتا ہے،لہٰذا تمام عملی مقاصد کے لیے اس کی کمیت معلوم کرنے کے لیے اس کا وزن کرنا قابلِ قبول ہے۔

جیسا کہ ہم پہلے (تجسس، گریڈ 6 کے باب ’ہمارے ارد گرد کی اشیا‘ میں) سیکھ چکے ہیں کہ کمیت کسی چیز میں مادے کی مقدار ہے اور اس کی پیمائش گرام (g) یا کلوگرام (kg) میں کی جاتی ہے۔ اس کی قدر ہر جگہ یکساں رہتی ہے۔ دوسری طرف، وزن وہ قوتِ ثقل ہے جس سے زمین (یا کوئی اور سیارہ) کسی چیز کو کھینچتی ہے۔ چوں کہ زمین کے مختلف مقامات پر کشش ِ ثقل کی قوت میں معمولی سا فرق ہو سکتا ہے (اور مختلف سیاروں پر بہت زیادہ مختلف ہو سکتی ہے) لہٰذا وزن تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن کمیت نہیں ۔

وزن اور کمیت کے درمیان کیا فرق ہے؟

ایک قدم آگے

کسی شے پر مختلف سیاروں کی قوتِ ثقل مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی شے کا وزن مختلف سیاروں پر مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل جدول میں دکھایا گیا ہے حالاں کہ اس کی کمیت و ہی رہتی ہے۔

زمین

زمین

چاند

مریخ

زہرہ

مشتری

شے کی کمیت

1 kg

1 kg

1 kg

1 kg

1 kg

شے کا وزن

10 N

1.6 N

3.8 N

9 N

25.4 N


ایک قدم آگے

روزمرہ زندگی میں، بالخصوص عام طور پر استعمال ہونے والی ان اشیا کےمعاملے میں ، ہماری دلچسپی کسی شے پرزمین کے ذریعے لگائی گئی قوت (اس کا وزن) کے بجائے شے میں موجود مادے کی مقدار (اس کی کمیت) میں زیادہ ہوتی ہے ۔
حالاں کہ کمیت کی اکائیوں کا استعمال کرتے وقت اصطلاح‘کمیت’ کی جگہ عام طور پر ’وزن ‘کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ گیہوں کے تھیلے کا وزن 10 کلو گرام ہے۔ لیکن سائنسی استعمال کے لحاظ سے یہ درست نہیں ہے اور یہ ضروری ہے کہ صحیح اصطلاحات کو ان کی صحیح اکائیوں کے ساتھ استعمال کیا جائےخواہ روز مرہ کی زبان بہت زیادہ غیر رسمی کیوں نہ ہو۔

پانی سے بھری بالٹی سے مگ کا استعمال کرکے پانی نکالتے وقت کیا آپ نے دیکھا ہے کہ مگ پانی کے اندر ہونے پر ہلکا محسوس ہوتا ہے۔آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔

اگر ہم کچھ چیزوں کو پانی میں رکھیں تو ان میں سے بعض پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہیں اور بعض پیندے پر بیٹھ جاتی ہیں۔ جب زمین کی کشش ثقل تمام اشیا پر کام کر رہی ہےتو سبھی اشیا نیچے کیوں نہیں بیٹھ جاتیں؟

  • ایک خالی پلاسٹک کی بوتل (اس کا ڈھکن کس کر بند کیا گیا ہو)اور پانی سے بھری بالٹی لیجیے۔
  • بوتل کو پانی میں دھکیلیں(شکل 5.15)۔ کیا آپ کو اوپر کی طرف دھکّامحسوس ہوتا ہے؟ بوتل کو چھوڑ دیجیے۔ کیا یہ اوپر اچھلتی ہے؟

آپ نے اوپر کی طرف دھکّامحسوس کیا ہوگا اور دیکھا ہوگا کہ بوتل اچھل کر پانی کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی بوتل پر اوپر کی سمت ایک قوت لگاتا ہے۔ درحقیقت تمام رقیق اشیا یکساں قوت لگاتی ہیں۔ کسی شے پر رقیق مادہ کے ذریعے اوپر کی سمت لگائی جانے والی قوت کو قوتِ اچھال (Buoyant Force)کہتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-19 at 08-44-32 Chapter 5.pdf

جب کسی شے کو رقیق مادہ میں ڈالا جاتا ہے تو زمین کی وجہ سے کشش ثقل اس پر نیچے کی طرف اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن رقیق مادہ اس پر اوپر کی سمت اچھال کی قوت لگاتا ہے۔ اگر کشش ثقل ، قوت اچھال سے زیادہ ہے تو شے ڈوب جاتی ہے۔ لیکن اگر دونوں قوتیں مساوی ہوں تو شے تیرنے لگتی ہے۔ رقیق شے کی کثافت ان عوامل میں سے ایک ہے جس پر قوت اچھال منحصر ہوتی ہے۔ آپ کثافت کے متعلق اس کتاب کے آئندہ باب میں پڑھیں گے۔

ایک قدم آگے

مشہور یونانی سائنس داں ارشمیدس نے یہ دریافت کیا کہ جب کوئی شے کسی رقیق مادہ میں مکمل یا جزوی طور پر ڈوبی ہوتی ہے تو اس پر اوپر کی سمت ایک قوت لگتی ہے جو اس کے ذریعے ہٹائے گئے رقیق مادہ کے وزن کے مساوی ہوتی ہے۔ اسے ارشمیدس کا اصول (Archimedes Principle)کہا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کے ذریعے ہٹائے گئےرقیق مادہ کا وزن شے کے وزن سے کم ہے تو شے رقیق مادہ میں ڈوب جائے گی۔ اگر ہٹائے گئےرقیق مادہ کا وزن شے کے وزن کے مساوی ہے تو شے رقیق مادہ میں تیرنےلگے گی۔

کیاکبھی سنا ہے...

کچھ چٹانیں ایسی بھی ہیں جو پانی کی سطح پر تیر سکتی ہیں۔ جھانواں (Pumice) ایسی ہی ایک چٹان ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے دوران بنتی ہے۔ جب بہت سی گیسوں اور پانی کے بخارات پر مشتمل لاوا تیزی سے ٹھنڈا ہو تا ہے، تو گیس کے چھوٹے چھوٹے بلبلےاس کے اندر پھنس جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہلکی اور مسام دار چٹان بنتی ہے جو ہوا کی تھیلیوں سے بھری ہوتی ہے اور پانی سے کم کثیف ہونے کی وجہ سے اس پر تیرتی ہے۔

خلاصہ  

  • قوت کسی شے پر لگنے والا وہ دھکا یا کھچاؤ ہے جو اس شے کی کسی دوسری شے کے ساتھ باہمی عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
  • قوت کی SI اکائی نیوٹن ہے اور اس کی علامت N ہے۔
  • قوتیں رابطے کے ساتھ یا اس کے بغیر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
  • عضلاتی قوت اور رگڑ کی قوت اتصالی قوتوں کی کچھ مثالیں ہیں۔
  • مقناطیسی قوت ثقلی قوت، اور برق سکونی قوت غیر اتصالی قوتیں ہیں۔
  • قوت کسی چیز کی چال، اس کی حرکت کی سمت یا دونوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ قوت کسی چیز کی شکل بھی بدل سکتی ہے۔
  • جب کوئی شے کسی دوسری سطح پر حرکت کرتی ہے یا حرکت کرنے کی کوشش کرتی ہےتو اس وقت جو قوت اثر انداز ہوتی ہے اسے رگڑ کی قوت(Force of Friction) یا صرف رگڑ(Friction)کہتے ہیں۔ رگڑ ہمیشہ اس سمت کی مخالف سمت میں اثر انداز ہوتی ہے جس میں شے حرکت کر رہی ہے یا حرکت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
  • ایک مقناطیس کے ذریعے کسی دوسرے مقناطیس یا مقناطیسی مواد پر لگائی جانے والی قوت کو مقناطیسی قوت کہا جاتا ہے۔
  • ایک بار شدہ جسم (Charged Body) کے ذریعے کسی دوسرے بار شدہ جسم یا غیر بار شدہ جسم پر لگائی جانے والی قوت کو برق سکونی قوت (Electrostatic Force)کہا جاتا ہے۔
  • وہ قوت جس سے زمین اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے، کشش ثقل (Gravitational Force)کہلاتی ہے۔ یہ ہمیشہ کشش کی قوت ہوتی ہے۔
  • وہ قوت جس سے زمین اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے اس چیز کا وزن کہلاتی ہے۔ وزن کی SI اکائی نیوٹن (N)ہے۔
  • کسی بھی شے کی کمیت غیر متغیر ہوتی ہے جب کہ اس کا وزن مختلف جگہوں پر مختلف ہو سکتا ہے۔
  • جب کسی شے کو رقیق مادہ میں ڈالا جاتا ہے تو شے پر رقیق مادہ کے ذریعے اوپر کی سمت لگائی جانے والی قوت کو قوتِ اچھال (Buoyant Force)کہتے ہیں ۔

  1. کالمAمیں دی گئی اشیا کو کالمBمیں دی گئی اشیا سے ملائیے۔
  2. کالم A

    کالم B

    (i)

    عضلاتی قوت

    (a)

    کرکٹ کی گیند باؤنڈری لائن کو چھونے سے ٹھیک پہلے اپنے آپ رک جاتی ہے

    (ii)

    مقناطیسی قوت

    (b)

    ایک بچہ اسکول بیگ اٹھارہا ہے

    (iii)

    رگڑ کی قوت

    (c)

    درخت سے گرتا ہوا ایک پھل

    (iv)

    کشش ِ ثقل

    (d)

    اونی کپڑے سے رگڑنے پر غبارہ بالوں کی لٹوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے

    (v)

    برق سکونی قوت

    (e)

    شمال کی سمت کی طرف اشارہ کرتی ہوئی قطب نما کی سوئی


    Screenshot 2026-03-19 at 09-33-21 Chapter 5.pdf
  3. بتائیے کہ درج ذیل بیانات درست ہیں یا غلط۔
    1. کسی شے کی چال کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیشہ ایک قوت درکار ہوتی ہے۔
    2. رگڑ کی وجہ سے سپاٹ زمین پر لڑھکتی ہوئی گیند کی چال بڑھ جاتی ہے۔
    3. مختصر فاصلے پر رکھی ہوئی دو بار شدہ اشیا کے درمیان کوئی قوت نہیں لگتی ہے۔
  4. دو غباروں کو اونی کپڑے سے رگڑنے کے بعد ایک دوسرے کے قریب لایا جاتا ہے۔ کیا واقع ہوگا
    اور کیوں؟
  5. جب آپ ایک سکے کو پانی سے بھرے گلاس میں ڈالتے ہیں تو وہ ڈوب جاتا ہے۔ لیکن جب آپ لکڑی کا ایک ٹکڑا پانی میں ڈالتے ہیں تو وہ تیرنے لگتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
  6. اگر ایک گیندکو اوپر کی طرف پھینکا جاتا ہےتو اس کی حرکت سست پڑجاتی ہے، ایک لمحہ کے لیے رکتی ہےاور پھر واپس زمین پر گرجاتی ہے۔ گیند پر اثر انداز ہونے والی قوتوں کے نام اور ان کی سمت بتائیے جب وہ:
    1. اوپر کی طرف حرکت کررہی ہے
    2. نیچے کی طرف حرکت کر رہی ہے
    3. اپنے بلند ترین مقام پرہے
  7. ایک گیندکو نقطہ Pسے چھوڑا جاتا ہے ۔ یہ گیند پہلے ایک ڈھلوان سطح اور پھر افقی سطح کے ساتھ حرکت کرتی ہے جیسا کہ شکل 5.16 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ افقی سطح پر واقع نقطہ Aپر رک جاتی ہے۔ ایک ایسا طریقہ تجویز کیجیے کہ جب گیندکو اسی نقطہ Pسے چھوڑا جائے تو یہ (i) نقطہ A پہلے (ii) نقطہ Aکو عبور کرنے کے بعد رک جائے۔
Screenshot 2026-03-19 at 09-34-42 Chapter 5.pdf

شکل5.16

  1. ہم بعض اوقات ہموار سطحوں مثلاً برف یا پالش کیے ہوئے فرش پر کیوں پھسل جاتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
  2. کیا غیر یکساں حرکت میں کسی چیز پر کوئی قوت لگ رہی ہے؟
  3. چاند پر کسی چیز کا وزن زمین پر اس کے وزن کا چھٹا حصہ رہ جاتا ہے۔ اس تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟ کیا شے کی کمیت بھی زمین پر اس کی کمیت کا چھٹا حصہ رہ جائے گی؟
  4. Screenshot 2026-03-19 at 09-35-13 Chapter 5.pdf
  5. یکساں سائز لیکن مختلف مواد سے بنی تین اشیا 1، 2، اور 3کو پانی میں رکھا گیا ہے۔ وہ مختلف گہرائی تک ڈوبتی ہیں جیسا کہ شکل 5.17 میں دکھایا گیا ہے۔ اگر تینوں اشیا 1، 2 اور 3 کے وزن بالترتیب w2 ،w1 اور w3 ہیں ، تو
    1. w1 = w2 = w3
    2. w1 > w2 > w3
    3. w2 > w3 > w1
    4. w3 > w1 > w2
Screenshot 2026-03-19 at 09-35-52 Chapter 5.pdf

  • پلاسٹک، اون، ریشم، ربڑ، پالیتھین شیٹ، کاغذ، اور دھاتیں جیسے مختلف مواد سے بنی اشیا جمع کیجیے۔ ایک مواد کو دوسرے سے رگڑیے اور جانچ کیجیےکہ آیا یہ کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے یا نہیں، یعنی یہ چارج ہوتا ہے یا نہیں۔ اپنے مشاہدات کو منظم طریقے سے درج کیجیے اور ایک تحقیقی مقالہ لکھیے۔
  • ایک ایسے منظر نامے کا تصور کیجیے جہاں کشش ثقل ختم ہو جاتی ہے۔ ایک کہانی تیار کیجیے۔ اپنی کہانی پیش کرنے کے لیے ایک کارٹون پٹی بنائیے۔
  • اپنی کلاس میں اس موضوع پر بحث کا اہتمام کیجیے: رگڑ—ایک ضرورت یا مسئلہ؟ بحث کا ایک نوٹ تیار کیجیے اور یہ بتائیے کہ رگڑکہاں ایک ضرورت ہے اور کب یہ ایک مسئلہ ہے ؟
  • Screenshot 2026-03-19 at 09-36-17 Chapter 5.pdf
  • اپنے ٹیچر کی مدد سے اپنا اسپرنگ بیلنس بنائیے اور معیاری باٹ کا استعمال کرتے ہوئے اس کی نشان بندی کیجیے ۔ اب مختلف اشیا کے وزن کی پیمائش کیجیے نیز ان اشیا کے وزن اور کمیت کے تناسب کا حساب بھی لگائیے۔ کیا آپ کو کوئی پیٹرن نظر آتا ہے؟
  • الیکٹرو اسکوپ ایک ایسا آلہ ہے جو اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا کوئی شے برقی طور پر بار شدہ ہے یا نہیں۔ آپ اپنے ٹیچر کی مدد سے اپنی کلاس میں اپنا الیکٹرو اسکوپ (شکل 5.18) بنا سکتے ہیں اور اس کی جانچ کر سکتے ہیں۔ دریافت کیجیے کہ آپ اس الیکٹرواسکوپ کو اورکون سے طریقوں سے استعمال کر سکتے ہیں۔
Screenshot 2026-03-19 at 09-37-31 Chapter 5.pdf