6
دباؤ، باد، طوفان اور گرد باد
(Pressure, Winds, Storms, and Cyclones)
جانچیں اور غور کریں
- بعض دنوں میں ہوائیں دوسرے دنوں کے مقابلے تیز کیوں ہوتی ہیں؟
- پانی کی ٹنکیاں عام طور سے اونچائی پر کیوں رکھی جاتی ہیں؟
- کیا ہوا کا دباؤ واقعی ہمیں کچل سکتا ہے؟
- طوفان اور گرد بادکیوں آتے ہیں ؟ اگر زمین کی گردش بند ہوجائے تو کیا پھر بھی گرد باد بنتے رہیں گے؟
- اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے
![]()
؟
آپ نے زمین پر گرے ہوئے پتوں کو ہوا میں لہراتے یا اڑتے ہوئے اور تیز ہوا چلنے پر درختوں کو ہلتےاور جھومتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گرے ہوئے پتے ہوا میں اوپر کیوں اٹھتے ہیں یا درخت کیوں ہلتے یا جھکتے ہیں؟ کیا گرے ہوئے پتوں کو اوپر اٹھانے یا درختوں کو جھکانے کے لیے ہوا قوت لگاتی ہے؟
ہوا کے ذریعے لگائی گئی قوت کے اسی قسم کے دیگر اثرات جیسے دروازو ں کا زور سے بند ہونا یا کھڑکیوں کا کھڑکھڑانا، یا کپڑوں کا اڑناوغیرہ یاد کیجیے۔ہوا کی لگائی گئی قوت سے یہ کیسےہوتا ہے؟ ہوا کے ذریعے لگنے والی قوت ہوا کا دباؤ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس باب میں، ہم قوت اور دباؤ کے درمیان تعلق کی چھان بین کریں گے اور سمجھیں گے کہ وہ طوفان اور گرد باد جیسے طاقت ور قدرتی واقعات کی کس طرح تشکیل کرتے ہیں۔
میگھا اور اس کا بھائی پون پکنک پر جا رہے ہیں۔ وہ اپنے بیگ میں ایک جیسی چیزیں لے کر پکنک کے مقام کی طرف نکل پڑتے ہیں (شکل1.6)۔ راستے میں پون اپنا بیگ درست کرتا رہتا ہے اور پریشان نظر آتا ہے۔ میگھا پوچھتی ہے، ‘‘کیاتمھارے بیگ میں کوئی مسئلہ ہے؟’’‘‘ پون جواب دیتا ہے، ’’‘‘’’ہاں، اس سے میرے کندھوں میں درد ہو رہا ہے۔‘‘’’ میگھا کہتی ہے، ’’ہم دونوں کے بیگ کا وزن تو برابر ہے۔ پھر تمھارا بیگ تکلیف کا سبب کیوں بنتا ہےجب کہ میرا نہیں؟‘‘ پون نے ایک لمحہ کے لیے سوچا اور کہا، ’’شاید ہمارے بیگ کی پٹیوں کے فرق کی وجہ سے ایسا ہے۔ میرے بیگ کی پٹیاں پتلی ہیں جب کہ تمھارے بیگ کی پٹیاں چوڑی ہیں۔‘‘
کیا پٹیوں کی شکل یا سائز کی وجہ سے واقعی کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ آئیے یہ جاننے کی
کوشش کریں۔
جب ہم بیگ کو کندھے پر لٹکاتے ہیں تو ہمیں اس کا وزن کندھوں پر لگنے والی کشش ثقل کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔ پتلی پٹیوں والے بیگ کا وزن ہمارے کندھوں کے چھوٹے سے حصے پر پڑتا ہے جب کہ چوڑی پٹیوں والے بیگ کا وزن ہمارے کندھوں کے بڑے حصے پر پھیلا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پتلی پٹیوں والے بیگ کے مقابلے چوڑی پٹیوں والے بیگ کو لٹکانے میں زیادہ آرام محسوس کرتے ہیں حالاں کہ دونوں بیگ کا وزن ایک جیسا ہوتا ہے۔ چوں کہ اس میں وہ رقبہ شامل ہے جس پر قوت اثر انداز ہو تی ہے ، لہٰذا ہم ایک ایسی مقدار کی تعریف وضع کرتے ہیں جسے دباؤ(Pressure) کہاجاتا ہے۔دباؤ فی اکائی رقبے پر لگنے والی قوت ہے۔
لہٰذا، دباؤ = 

پتلی پٹیوں کے مقابلے چوڑی پٹیاں ہمارے کندھوں پر بیگ کے دباؤ کو کم کرتی ہیں۔ اس لیے ہم چوڑی پٹیوں والا بیگ اٹھانے میں زیادہ آرام محسوس کرتے ہیں۔
کیا اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ پانی سے بھری بالٹی کو پتلے ہینڈل کے مقابلے میں چوڑے ہینڈل کی مدد سے اٹھانا آسان کیوں ہے(شکل2.6)؟ اسی طرح،ہم نے دیکھا ہے کہ جب لوگ اپنے سر پر برتن یا سبزیوں کی ٹوکری جیسا کوئی وزن اٹھاتے ہیں تو وہ اکثر وزن کے نیچے کپڑے کاگول ٹکڑا رکھ لیتے ہیں۔ دونوں معاملوں میں مقصد اس رقبے میں اضافہ کرکے دباؤ کو کم کرنا ہے جس پر وزن اثر انداز ہوتا ہے۔
دباؤ کی تعریف فی اکائی رقبے پر لگنے والی قوت کے طور پر کی جاتی ہے۔ قوت کی ایس آئی اکائی نیوٹن ہے اور رقبے کی مربع میٹر ہے۔ لہٰذا، دباؤ کی SIاکائی نیوٹن/ فی مربع میٹر (N/m2) ہے۔ اس اکائی کو پاسکل بھی کہا جاتا ہے، جسے Pa سے ظاہر کرتے ہیں۔
اگر 2 مربع میٹر رقبے کے گتے پر N 100کی قوت لگائی جائے تو گتے پر پڑنے والا دباؤ ہوگا:

روزمرہ زندگی میں ایسے بہت سےمعاملے ہیں جہاں دباؤ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جدول 1.6 میں دی گئی سرگرمیوں کو انجام دیجیے اور اپنے مشاہدات درج کیجیے ۔ وضاحت کیجیے کہ دباؤ ہر سرگرمی کے طریقۂ کار کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔
حفاظت پہلے
جدول 6.1 میں درج سرگرمیوں کو کسی بالغ فرد کی نگرانی میں انجام دیا جانا چاہیے۔
جدول 6.1: اپنے مشاہدات درج کیجیے
|
سرگرمی |
طریقۂ کار |
انجام دینا آسان ہے یا مشکل؟ وجہ بتائیے |
|
|
لوہے کی کیل ٹھونکنا |
کیل کے چپٹے سرے سے |
کیل کےنکیلے سرے سے |
|
|
چاقو سے سیب کاٹنا |
چاقو کے دھاردار کنارے کا استعمال کرکے |
چاقو کے کند کنارے کا |
|
جدول 1.6 میں اپنے مشاہدات سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟
ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جس رقبے پر قوت لگائی جاتی ہے، اگر وہ کم ہے تو دباؤ زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے سے کچھ کاموں کو انجام دینا آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیل کو اس کے نکیلے سرے سے ٹھوکناآسان ہوتا ہے اوراسی طرح چاقو کے دھار دار کنارے سے سیب کاٹنا آسان ہوتا ہے۔
آپ نے اپنے علاقے میں یا گھروں کی چھتوں پر پانی کی فراہمی کے لیے اوور ہیڈ واٹرٹینک(شکل4.6) دیکھے ہوں گے۔ ان ٹنکیوں کو ہمیشہ اونچائی پر کیوں رکھا جاتا ہے؟
کیا مائع مادّےبھی دباؤ ڈالتے ہیں؟
آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دے کر معلوم کریں۔

- ایک ہی لمبائی (تقریباً 25 سینٹی میٹر) کے لیکن مختلف قطر والے دو شفاف شیشے یا پلاسٹک کے پائپ لیجیے۔
- عمدہ کوالٹی کے دو ربڑ کے غبارے لیجیے۔ انھیں ہر پائپ کے ایک سرے پر لگادیجیے۔
- پائپوں کو اسٹینڈ کے شکنجے میں کس دیجیےجیسا کہ شکل 6.5 میں دکھایا گیا ہے۔
- اب دونوں پائپوں کے تقریباً آدھے حصے کو ایک ہی سطح تک پانی سے بھردیجیے۔
- مشاہدہ کیجیے کہ غباروں کا کیا ہوتا ہے۔
- کیا دونوں غبارے پھول جا تے ہیں؟ کیا وہ ایک ہی انداز میں پھولتے ہیں؟
آپ اس سرگرمی سے کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ دونوں غبارے یکساں انداز میں پھولے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ غور طلب ہے کہ الگ الگ قطر ہونے کی وجہ سے دونوں پائپوں میں پانی کا وزن مختلف ہے۔ تاہم دونوں غباروں کا ابھار (پھلاوٹ) ایک جیسا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پائپوں میں پانی کا وزن غباروں کے ابھار کی مقدار کے لیے ذمے دار نہیں ہوسکتا ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ آبی کالم دباؤ ڈال رہا ہو؟ جی ہاں، آبی کالم کے ذریعے ڈالا گیا دباؤ ہی ابھار کے لیے ذمے دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبی کالم کی یکساں اونچائی غباروں کے قطر مختلف ہونے کے باوجود ان میں مساوی پُھلاوٹ پیدا کرتی ہے ۔
اگر ہم آبی کالم کی اونچائی میں اضافہ کردیں تو غبارے کے ابھار پر کیا اثر پڑے گا؟
شکل 6.5 میں استعمال کیے گئے کسی ایک پائپ میں تھوڑا پانی اورڈالیے۔ غبارے کے ابھار کا مشاہدہ کیجیے۔ اس عمل کو چند مرتبہ دہرائیے ۔ ہر مرتبہ پانی کی مقدار میں اضافہ کیجیے اور ابھار کی مقدار کو نوٹ کیجیے جیسا کہ شکل 6.6میں دکھایا گیاہے۔
کیا آپ کو ربڑ کے غبارے کی پھُلاوٹ اور پائپ میں آبی کالم کی اونچائی کے درمیان کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ پائپ میں آبی کالم کی اونچائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ غبارے کی پھُلاوٹ میں بھی اضافہ ہوتا جاتاہے۔
چنانچہ جیسے جیسے پائپ میں آبی کالم کی اونچائی بڑھتی ہےپائپ کے پیندے پر دباؤ بھی بڑھتا جاتا ہےجس کی وجہ سے غبارہ زیادہ پھولتا ہے۔ لہٰذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی برتن میں رقیق مادّےکے ذریعے ڈالا گیا دباؤ اس کے کالم کی اونچائی پر منحصرہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوور ہیڈ ٹنکی کو اتنی اونچائی پر رکھا جاتا ہےکہ ٹونٹیوں میں دباؤ بڑھ جائے اور ٹونٹی سے پانی تیز دھارکے ساتھ باہر آئے۔
فرض کیجیے آپ ایک تین منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر رہتے ہیں اورسب سے اوپر کی منزل پر پانی کی ٹنکی رکھی ہوئی ہے۔ کیا آپ کو یا پہلی منزل پر رہنے والے آپ کے دوست کو نل سے پانی کی تیز دھار ملے گی؟ وجہ بتائیے۔
........................................
کیا رقیق مادّےبھی برتن کی دیواروں پر دباؤ ڈالتے ہیں؟ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کی مددسے معلوم کریں۔

- استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتل لیں اور اس کا ڈھکن ہٹا دیں۔ سوئی یا کیل کی مدد سےبوتل کے پیندے کے چاروں طرف چار چھوٹے سوراخ کریں۔ یہ یقینی بنائیں کہ سوراخ پیندے سے مساوی اونچائی پر ہوں جیسا کہ شکل 6.7میں دکھایا گیا ہے۔(اگر آپ کو سوراخ کرنے میں دشواری محسوس ہورہی ہو تو آپ سوئی کو ہلکا سا گرم کرکے بوتل میں چبھا کر سوراخ کرسکتے ہیں۔)
- سوراخوں کو ٹیپ کی مدد سے بند کردیں اور بوتل میں پانی بھردیں۔
- اب تمام سوراخوں سے ٹیپ کو ایک ساتھ ہٹائیں۔
- آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
آپ بوتل کے پیندے پر بنے سوراخوں سے پانی کو بہتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس مشاہدے سے آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی برتن کی دیواروں پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔ لہذا، ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رقیق مادّہ نہ صرف برتن کے پیندے پر بلکہ اس کی دیواروں پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔ درحقیقت رقیق اشیا سبھی سمتوں میں دباؤ ڈالتی ہیں۔
آپ نے پانی کے پائپوں کے سوراخوں یا جوڑوں میں رساؤ کی وجہ سے پانی کو فوارے کی شکل میں باہر آتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ پانی کے ذریعے پائپ کی دیوارپر لگنے والے دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے؟
کیا کبھی سنا ہے ...
کیا آپ جانتے ہیں کہ باندھ (Dam) کا اساسی حصہ اس کے بالائی حصے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وسیع اساس نہ صرف باندھ کے ڈھانچے کو سہارا دیتا ہے بلکہ پیندے کے قریب پانی کے افقی دباؤ کو بھی برداشت کرتا ہے(شکل6.8)۔ باندھ میں ذخیرہ شدہ پانی آبی سطح کی اونچائی کی وجہ سے باندھ کی دیواروں پر افقی اور فرش پر عمودی دباؤ ڈالتا ہے۔ افقی طور پر لگنے والا دباؤ اس کے پیندے کے قریب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے باندھ کے اساسی حصے کو وسیع بنایا جاتا ہے۔
آئیے اب یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا ہوا بھی دباؤ ڈالتی ہے۔

آپ کو پہلے ہی معلوم ہے کہ ہوا ہمارے چاروں طرف موجود ہے۔ زمین کے گرد ہوا کا یہ غلاف کرۂ باد (Atmosphere) کہلاتا ہے۔ فضا ئی ہوا میں نائٹروجن، آکسیجن، آرگن، کاربن ڈائی آکسائڈکے ساتھ ساتھ دیگر گیسیں بھی قلیل مقدار میں موجود ہوتی ہیں۔ کرۂ باد سطح زمین کے اوپر کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دے کر یہ معلوم کریں کہ کیا کرۂ باد بھی دباؤ ڈالتا ہے۔
سرگرمی6.3: آئیے چھان بین کریں
- ایک پیپر پلیٹ لیجیے ۔ اسے الٹا کرکے اس کے ساتھ ایک چھڑی منسلک کیجیے جیسا کہ شکل 6.9a میں دکھایا گیا ہے۔ اسے کسی سپاٹ سطح پر رکھیے۔
- تقریباً 56×70سینٹی میٹر سائز کے چارٹ پیپر کی دو یکساں شیٹ لیجیے ۔ان میں سے ایک شیٹ کی دوتہہ بنائیے اور تہہ کی ہوئی چارٹ پیپر شیٹ کے وسط میں اتنا بڑا سوراخ کیجیے کہ چھڑی اس سے باہرنکل آئے۔
تہہ کی ہوئی شیٹ کو الٹی رکھی ہوئی پیپر پلیٹ کے اوپر رکھیے جیسا کہ شکل 6.9b میں دکھایا گیا ہے۔ - اب چھڑی کی مدد سے تہہ کی ہوئی شیٹ سے ڈھکی ہوئی پیپر پلیٹ کو اٹھانے کی کوشش کیجیے۔
- مشاہدہ کیجیے کہ اسے اٹھانے کے لیے کتنی کوشش کرنی پڑتی ہے۔
- اب تہہ کی ہوئی شیٹ کی جگہ چارٹ پیپر کی بغیر تہہ والی دوسری شیٹ رکھیے۔ اس چارٹ پیپر کے وسط میں ایک سوراخ کیجیے تا کہ چھڑی اس میں داخل ہوسکے ۔ پیپر پلیٹ کو بغیر تہہ والے چارٹ پیپر سے ڈھانپ دیجیے جیسا کہ شکل6.9c میں دکھایا گیا ہے۔
- پیپر پلیٹ کو دوبارہ اٹھائیے اور ایسا کرنے کے لیے درکار کوشش کو محسوس کیجیے۔
- کس معاملے میں اٹھانا آسان ہے، تہہ والے چارٹ پیپر کے ساتھ یا پیپر پلیٹ کو ڈھانپنے والے کھلے ہوئے چارٹ پیپر کے ساتھ؟

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب پیپر پلیٹ کو کھلے ہوئے(بغیر تہہ والے) چارٹ پیپر سے ڈھانپتے ہیں تو اسے اٹھانے کے لیے تہہ والے چارٹ پیپر کے مقابلے زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب ہم پیپر پلیٹ کو کھلے ہوئے چارٹ پیپر سے ڈھانپتے ہیں تو ڈھانپنے والی شیٹ کا رقبہ بڑھ جاتا ہے۔ پیپر پلیٹ کو اٹھانے کے لیے درکار قوت بھی بڑھ جاتی ہے۔ واضح ہو کہ ڈھانپنے والی شیٹ کے وزن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ ہم ان مشاہدات سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہوا ڈھانپنے والی شیٹ پر قوت لگاتی ہے جس کی وجہ سے پیپر پلیٹ کو اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ قوت ڈھانپنے والی شیٹ کے رقبے میں اضافے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیپر پلیٹ پر ایک قوت لگا رہی ہے،جو اس کو ڈھانپنے والی شیٹ کے رقبے میں اضافے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ چوںکہ فی اکائی رقبے پر لگنے والی قوت دباؤ کہلاتی ہے، لہٰذا ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ہوا پیپر شیٹ پر دباؤ ڈالتی ہے۔ درحقیقت ہوا تمام اشیا پر دباؤ ڈالتی ہے۔ ہمارے اطراف کی ہوا کے ذریعے لگایا گیا دباؤ فضائی دباؤ (Atmospheric Pressure) کہلاتا ہے۔
آپ نے بارہا یہ تجربہ کیا ہوگا کہ جب آپ غبارے میں ہوا پھونکتے ہیں تو یہ پھول جاتا ہے۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ غبارے میں بھری ہوئی ہوا غبارے کی دیواروں پر دباؤ ڈالتی ہے (شکل01.6)۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہوا تمام سمتوں میں دباؤ ڈالتی ہے؟ جی ہاں، اسی لیے غبارہ ہر سمت میں پھیل جاتا ہے۔ جب ایک ہوا بھرے غبارے کو اس کا منہ بند کیے بغیر رکھا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ہوا غبارے سے باہر نکل جاتی ہے۔ہوا غبارے سے باہر کیوں آجا تی ہے؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فضائی دباؤ کتنا زیادہ ہوتا ہے؟ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دے کر اس کی قدر کا اندازہ لگائیں۔

- ایک عمدہ قسم کی ربڑ کی چسنی لیجیے۔ اسے کسی ہمواراور چکنی سطح پر زور سے دبائیے (شکل6.11)۔
- کیا آپ کو لگا کہ یہ سطح سے چپک جاتی ہے؟
- اب اسےسطح سے اٹھانے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ کو اسے اٹھانے میں دشواری محسوس ہوتی ہے؟
جب ہم چسنی کو دباتے ہیں تو اس کی پیالی اور سطح کے درمیان کی زیادہ تر ہوا باہرنکل جاتی ہے اور اس کے اندر ہوا کا دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ چسنی سطح سے چپک جاتی ہے کیوں کہ چسنی کے چاروں طرف ہوا کا دباؤ چسنی کے اندر ہوا کے دباؤ سے زیادہ ہوتا ہے۔ چسنی کو سطح سے کھینچ کر علاحدہ کرنے کے لیےاتنی قوت درکار ہوگی جو چسنی کے باہر اور اندرہوا کے دباؤ کے فرق پر غالب آسکے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ فضائی دباؤ کتنا زیادہ ہوتا ہے؟ 15 × 15 سینٹی میٹر رقبے پر فضائی ہوا کے کالم کے ذریعے لگائی جانے والی قوت تقریباً 225 کلوگرام (2250نیوٹن) کمیت والی شے پر لگنے والی ثقلی قوت کے مساوی ہوتی ہے۔ ہم اس وزن کےنیچے دب کر پچکتے نہیں ہیں کیوں کہ ہمارے جسم کے اندر کا دباؤ بھی فضائی دباؤ کے برابر ہے اور یہ باہر سے پڑنے والے دباؤ کو متوازن کردیتا ہے۔ ہمارے جسم کے اندر کا دباؤ جسم کے بافتوں اور اعضا میں سیال اور گیسوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ایک قدم آگے
دباؤ کی ایس آئی اکائی N/m² ہے جسے پاسکل (Pa) بھی کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ ہوا کے دباؤ کی عملی اکائی ملی بار (mb) ہے جو 100 پاسکل کے برابر ہوتی ہے۔ ہوا کے دباؤ کو ہیکٹوپاسکل (hPa) میں بھی ظاہر کیا جاتا ہے جو 100 Pa کے برابر ہوتا ہے۔
6.3 باد کی تشکیل(Formation of Wind)
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض دنوں میں ہوا بہت تیز چلتی ہے جب کہ کچھ دن پُرسکون رہتی ہے۔ بعض اوقات ہوا اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ جان و مال کا نقصان ہوجاتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کسی پھولے ہوئے غبارے کو منہ بند کیے بغیر رکھا جاتا ہے تو غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ یاد کیجیے کہ جب سائیکل کی ٹیوب میں پنکچر ہوتا ہے تو ہوا باہر نکل جاتی ہے اور ٹیوب پھٹ جاتی ہے۔ ان دونوں معاملوں میں کیا ہوا زیادہ دباؤ والے خطے سے کم دباؤ والے خطے کی طرف چلتی ہے؟ کیا ہوا کے دباؤ میں فرق کا باد کی تشکیل سے کوئی تعلق ہے؟ باد کی تشکیل کیسےہوتی ہے؟
کیا ہوا کے دباؤ میں فرق کا باد بننے سے کوئی تعلق ہے؟
باد کیسے بنتی ہے؟
آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کی مدد سے معلوم کریں۔

- پتلےربڑ سے بنے دو یکساں غبارے اور ایک اسٹرا لیجیے۔
- اسٹرا کے ایک سرے کو ایک غبارے میں داخل کیجیے اور اسے ربڑ بینڈ یا دھاگے سے
باندھ دیجیے ۔ - اب دوسرے غبارے کو پھلائیے اور اس کا منہ اپنی انگلیوں سے پکڑیے تاکہ ہوا باہر نہ نکلے۔
- اسٹرا کے آزاد سرے کو پھولے ہوئے غبارے کی گردن میں داخل کیجیے اور اسے ربڑ بینڈ یا دھاگے سے باندھ دیجیے ۔ یہ یقینی بنائیے کہ اسٹرا کو غبارے میں داخل کرتے وقت اس سے ہوا کا رساؤ نہ ہو۔ اب اسٹرا کا ایک سرا پھولے ہوئے غبارے کے اندر اور دوسرا سرا بغیر پھولے ہوئے غبارے کے اندر ہے جیسا کہ شکل 6.12 میں دکھایا گیا ہے۔
- پیشین گوئی کیجیے کہ غباروں کا کیا ہوگا۔
- مشاہدہ کیجیے کہ دونوں غباروں کا کیا ہوتا ہے۔ کیا یہ آپ کی پیشین گوئی کے مطابق ہے؟
- کیا آپ کو غبارے کے سائز میں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟ اپنے مشاہدات لکھیے۔
....................................................
غبارے کے سائز میں تبدیلی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ پھولے ہوئے غبارے میں ہوا کا دباؤ بغیر پھولے ہوئے غبارے کے مقابلے زیادہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً کچھ ہوا پھولے ہوئے غبارے سے بغیر پھولے ہوئے غبارے میں چلی جاتی ہے جس کی وجہ سے دونوں غباروں کے سائز میں تبدیلی آجاتی ہے۔
کیا آپ نے غور کیا کہ کچھ دیر کے بعد دونوں غباروں کا سائز تقریباً ایک جیساہوجاتا ہےاور ہوا کا بہاؤ رک جاتا ہے؟ ہوا کا بہاؤ کیوں رک جاتا ہے؟ ہوا کا بہاؤ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک پھولے ہوئے غبارے میں ہوا کا دباؤ بغیر پھولے ہوئے غبارے سے زیادہ ہے۔ جب دونوں غباروں میں ہوا کا دباؤ مساوی ہوجاتا ہے تو ہوا کا بہاؤ رک جاتا ہے ۔ اس حالت میں دونوں غباروں کا سائز تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ لہٰذا،ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہوا زیادہ دباؤ والے خطے سے کم دباؤ والے خطے کی طرف حرکت کرتی ہے۔
آپ اس نتیجے کو نسیم بحری اور نسیم برّی کی سمتوں سے جوڑ سکتے ہیں جس کا مطالعہ آپ گریڈ 7 کی درسی کتاب ’تجسس‘میں کر چکے ہیں۔ دن کے وقت چوں کہ زمین پانی کے مقابلے زیادہ تیزی سے گرم ہوتی ہے لہٰذا زمین کے اوپر کی ہوا گرم اور ہلکی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ یہ اوپر اٹھتی ہےاور کم دباؤ والے خطےکی تشکیل کرتی ہے۔ سمندر کے زیادہ دباؤ والے خطے سے ہوا زمین پر تشکیل پانے والے کم دباؤ والے خطے کی طرف چلنے لگتی ہے جسے نسیم بحری(Sea Breeze) کہتے ہیں۔ رات کے وقت زمین کے مقابلے پانی زیادہ گرم ہوتا ہے۔ لہٰذا، سمندر کے اوپر کم دباؤ کا خطہ بن جاتا ہے۔نتیجتاً ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلنے لگتی ہےاور یہ نسیم برّی (Land Breeze) کہلاتی ہے۔ اس طرح نسیم ِبرّی اور نسیم ِبحری جیسے مظاہر بنیادی طور پر زمین اور سمندر پرہوا کے دباؤ میں فرق کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
اگر ہم سرگرمی 5.6میں خارج ہونے والی ہوا کی رفتار کی پیمائش کر سکیں تو ہم پائیں گے کہ اگرہوا کے دباؤ میں فرق زیادہ ہے تو ہوا کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے ۔
میں نے پڑھا ہے کہ تیز رفتار باد چھتیں اڑا سکتی ہے۔
میں سوچ رہا ہوں ،کہ کیسے؟

سرگرمی 6.6: آئیے مشاہدہ کریں
- تقریباً ایک ہی سائز کے دو غبارے لیجیے۔
- دونوں غباروں میں ہوا بھریے اورہر ایک کو دھاگے سے باندھ دیجیے۔
- دو نوں غباروں کو ایک چھڑی سے اس طرح لٹکا ئیے کہ ان کے درمیان 6تا 10سینٹی میٹر کا فاصلہ ہو(شکل6.13)۔
- اب دونوں غباروں کے درمیان کی تنگ جگہ میں ہوا پھونکیے۔
- غباروں کا کیا ہوتا ہے؟ اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
- اب زور سے پھونکیے اور مشاہدہ کیجیے۔
جب آپ دونوں غباروں کے درمیان پھونک مارتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب آپ غباروں کے درمیان ہوا پھونکتے ہیں تو ان کے درمیان کم دباؤ کا علاقہ بن جاتا ہے۔ غباروں کے اطراف ہوا کا زیادہ دباؤ انھیں ایک دوسرے کی طرف دھکیلتا ہے۔ آپ نے یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ زور سے پھونکنے پر غباروں کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ آپ اس سرگرمی سے کیا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں؟ ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ تیز رفتار باد ہوا کےکم دباؤ کے ساتھ چلتی ہے۔
جب تیز رفتار باد گھروں کے اوپر سے گزرتی ہیں تو ان کے اوپر کم دباؤ کا علاقہ بن جاتا ہے، کیوں کہ تیز رفتار باد کم دباؤ کے ساتھ ہوتی ہے۔ لہٰذا، گھروں کی چھتوں کے اوپر ہوا کا دباؤ ان کے نیچے کے دباؤ سے کم ہوتاہے۔ اگر دباؤ میں فرق زیادہ ہو اور چھتیں کمزور ہوں تو وہ اڑ سکتی ہیں جیسا کہ شکل 6.14aمیں دکھایا گیا ہے۔ اسی لیے تیز رفتار ہوا کے ساتھ آنے والے طوفان کے دوران گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں کو کھلا رکھنا زیادہ محفوظ ہے۔ جب یہ ہوا چھتوں کے اوپر اور گھروں کے اندر سے گزرتی ہے تو گھروں کے اندر اور چھتوں کے اوپر دباؤ میں فرق کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس سے چھتوں کو اڑنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے جیسا کہ شکل 6.14b میں دکھایا گیا ہے۔
آپ نے تجربہ کیا ہوگا کہ طوفان آنے کے دوران جب تیز رفتار ہوائیں چلتی ہیں تو بعض ا وقات ان کے ساتھ گرج اور بجلی بھی چمکتی ہے۔ آئیے ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

کیا تم نے برسات کے موسم میں گرجنے کی آواز سنی اور بجلی چمکتے ہوئے دیکھی ہے؟
ہاں،گرجنے کی آواز بہت خوف ناک ہوتی ہے۔ عام طور پر تیز بارش بھی ہوتی ہے۔
جب زمین گرم ہوتی ہے تو گرم اور نم ہوا ہلکی ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھتی ہے جس سے کم دباؤ کا خطہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی جگہ لینے کے لیے آس پاس کے زیادہ دباؤ والے خطوں سے ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی ہے۔ نتیجتاً یہ ہوا گرم ہو جاتی ہے اور اوپر اٹھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوا مسلسل طور پر گردش کرنے لگتی ہے۔ اوپر اٹھتی ہوئی ہوا جیسے جیسے پھیلتی ہے، ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور اس میں موجود نمی تکثیف ہو کر آبی قطروں کی شکل اختیار کر لیتی ہےجس سے بادل بنتے ہیں۔ متعدد آبی قطرے مل کر بڑے قطرے بناتے ہیں جو بارش، ژالہ باری یا برف کی شکل میں نیچے گرتے ہیں۔ بارش کے ساتھ چلنے والی تیز ہواؤں کو طوفان (Storm)کہا جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے گرم، مرطوب اور گرم سیر علاقوں میں، طوفان زیادہ آتے ہیں۔ بعض حالات میں گرم ہوا اتنی اونچائی تک پہنچ جاتی ہے کہ وہاں کا کم درجۂ حرارت پانی کے قطروں کو برف کے ذرات میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اوپر اور نیچے کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں (شکل6.15)آبی قطروں اور برف کے ذرات کے درمیان رگڑمیں سہولت پیدا کرتی ہیں۔ آپ نے باب ’قوتوں کامطالعہ‘ میں پڑھا ہے کہ جب دو اشیا کو آپس میں رگڑتے ہیں تو وہ بار شدہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت میں اوپر اور نیچے کی طرف تیز ہوائیں چلنے اور ایک دوسرے سے رگڑ کے نتیجے میں بادلوں کے اندر سکونی برقی چارج (Static Electric Charges) پیدا ہوجاتے ہیں۔
مثبت چارج والے ہلکے برف کے ذرات اوپر کی طرف حرکت کرتے ہیں اور بادلوں کے بالائی حصے پر قابض ہوجاتے ہیں۔ منفی چارج والے بھاری آبی قطرے بادلوں کے نچلے حصے پر قابض ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ بادلوں کے اندر باروں کی علاحدگی عمل میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ جب بادل کا منفی بار والا نچلا حصہ زمین کے نزدیک آتا ہےتو اس کے نتیجے میں زمین اور آس پاس کی چیزیں جیسے درخت یا عمارتیں مثبت چارج حاصل کرلیتی ہیں(شکل6.16)۔
عام طور پرہوا برقی حاجز کے طور پر کام کرتی ہے اور مخالف باروں کو آپس میں ملنےسے روکتی ہے۔ لیکن جب بار زیادہ مقدارمیں جمع ہوجاتے ہیں تو ہوا کا حجز (Insulation)ختم ہوجاتا ہے۔ بار اچانک بہنے لگتے ہیں جس سے روشنی کی تیز چمک پیدا ہوتی ہے جسے آسمانی بجلی (Lightning) کہا جاتا ہے۔
آسمانی بجلی بادل کے اندر، بادلوں کے درمیان یا بادلوں اور زمین کے درمیان مخالف باروں کے ٹکرانے سے گرسکتی ہے۔ آسمانی بجلی اپنے آس پاس کی ہوا کوتیزی سے گرم کرتی ہے جس سے ہوا پھیلتی ہے اور ایک تیز آواز پیدا ہوتی ہے جسے گرج (Thunder)کہا جاتا ہے۔ آسمانی بجلی اور گرج کے ساتھ آنے والے طوفان کو طوفانِ برق و باد (Thunderstorm) کہا جاتا ہے۔
ایک قدم آگے
ہندوستان کے مختلف خطوں میں بعض اوقات چھٹ پٹ اور مقامی گرج والے طوفان آسکتے ہیں۔ ان گرج والے طوفانوں کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے جیسے مغربی بنگال، بہار اور جھارکھنڈ میں کلبوئی شاکھی اور آسام میں بورڈوئی سیلا۔ یہ طوفان مانسون کی آمد سے پہلے آتے ہیں، جس سے خریف کی فصلوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ کیرالہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں انھیں آم کی بارش (Mango Showers)کے طور پر جانا جاتا ہے کیوں کہ یہ آم کے پکنے میں مدد کرتے ہیں۔ کرناٹک میں مقامی گرج والے طوفان کافی کے پودوں کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔
آسمانی بجلی خطرناک ہوسکتی ہے! اس سےآگ لگ سکتی ہے، عمارتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے نیز انسان اور حیوانات شدید طور پر جل سکتے ہیں یا ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ہمیں ضروری احتیاطی تدابیر اور اپنے آپ کو آسمانی بجلی کے نقصا ن سے محفوظ رکھنے کے طریقے اختیار کرنے چاہیے۔ بجلی کوندنے اور گرج کے دوران اونچی چیزوں سے دور رہیں اورکوئی نشیبی اور کھلی جگہ تلاش کریں ۔ نیچے جھک جائیں اور زمین کے کم سے کم رابطے میں رہیں۔ سیدھے نہ لیٹیں۔ دھات کی چھڑی والی چھتری استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اگر آپ پانی کے اندر ہیں تو اس سے باہرآ جائیں۔ اگر آپ بس یا کار کے اندر ہیں توآپ نسبتًا محفوظ ہیں۔
کیاکبھی سنا ہے...
برق رُبا (Lightning Conductor)ایک دھاتی چھڑ ہوتی ہے جسے کسی عمارت کی تعمیر کے دوران اس کی دیواروں پر نصب کیا جاتا ہے۔ چھڑ کا ایک سرانکیلا ہوتا ہے۔ اس سرے کو عمارت کے بلند ترین مقام سے اونچا رکھا جاتا ہے(شکل81.6)۔ چھڑ کے دوسرے سرے کو زمین کے اندر کافی گہرائی میں دبا دیا جاتاہے۔ دھاتی چھڑ برقی بار کو زمین کی طرف منتقل ہونے کے لیے ایک آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔
شکل6.18: ایک برق ربا

گرد باد بڑے طوفان ہیں جو گرم سمندری پانی کے اوپر بنتے ہیں۔ جیسے جیسے سمندر کا پانی گرم ہوتا ہے، اس کے اوپر کی گرم اور نم ہوا اوپر اٹھتی ہے۔ جیسے جیسے نم ہوا اوپر اٹھتی ہے پانی کے بخارات تکثیف ہو کر بارش کے قطرے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تبخیر کے دوران پانی حرارت جذب کرکے بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب یہ آبی بخارات تکثیف ہوکر بارش کے قطروں کی شکل اختیار کرتے ہیں تو حرارت واپس فضا میں خارج ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً اوپر اٹھتی ہوئی ہوا اور زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے مزید اوپر اٹھ جاتی ہے، لہٰذا دباؤ اور بھی کم ہوجاتا ہے۔ آس پاس کے خطوں سے ہوا تیزی سے اند رآتی ہے اور اوپر اٹھنے لگتی ہے۔ زمین کی گردش کی وجہ سے متحرک ہوا گھومنےلگتی ہے(شکل6.19)۔ گردش کا یہ عمل دہرایا جاتا ہےجس کے نتیجے میں ایک کم دباؤ والا خطہ بن جاتا ہے جس کے چاروں طرف تیز رفتار باد چلتی ہے۔ بادل، باد اور بارش کے اس گردشی نظام کو گرد باد(Cyclone) کہا جاتا ہے۔
گرد باد میں سب سے کم دباؤ والا خطہ اس کے مرکز میں ہوتا ہے جسے گردباد کی آنکھ کہا جاتا ہے۔ سائیکلون کے مرکز میں ہوا پُرسکون ہوتی ہے لیکن آس پاس کے خطے میں تیز ہوائیں چلتی ہیں اور موسلا دھار بارش ہو تی ہے۔ جیسے ہی سائیکلون سمندر سے زمین کی طرف بڑھتا ہے تووہ عام طوفان برق و باد کے مقابلے تیز رفتاہوائیں پیدا کرتا ہےجب سائیکلون زمین پر پہنچ جاتا ہے تومرطوب ہوا کاماخذ بند ہوجاتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔
اگرچہ سائیکلون زمین پر سفر کرتے ہوئے اپنی طاقت کھو دیتا ہے لیکن اپنے پیچھے تباہی کے نشان چھوڑ جاتا ہے جس کی تلافی میں کئی مہینے یا سال تک لگ سکتے ہیں۔ سائیکلون بہت تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر2020 میں آئے امفان سائیکلون کی رفتار 270کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
سائیکلون کے دوران تیز ہوائیں سمندر کے پانی کو ساحل کی طرف دھکیلتی ہیں جس سے پانی کی ایک دیوار سی بن جاتی ہے جو 3سے12 میٹر تک اونچی ہوسکتی ہے۔یہ موجزن پانی نہ صرف ساحلی علاقوں بلکہ سمندر کے دور دراز علاقوں میں بھی سیلاب لاسکتا ہے۔ سائیکلون کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش دریاؤں میں طغیانی اور زمین کھسکنے کا سبب بن سکتی ہے۔
سمندری پانی جب ساحلی علاقوں میں گھستا ہے تو پینے کے پانی کے ذرائع کو آلودہ کرسکتا ہے اور کھیتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سمندری پانی میں موجود نمک مٹی کی زر خیزی کو کم کرسکتاہے جس سے فصلیں متاثر ہوتی ہیں۔ درختوں کے گرنے اور ملبے کی وجہ سے سڑکیں بند ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک مدد پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بجلی کی کٹوتی کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے جس سے ہنگامی خدمات اور روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
سائیکلون کے دوران ہم اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ موسم سے متعلق رپورٹوں، وقتاً فوقتاً جاری الرٹ اور محکمۂ موسمیات (IMD) کی طرف سے دی جانے والی وارننگ سے آگاہ رہنا چاہیے۔ موسم کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ کی بدولت آج ہم سائیکلون پرنظر رکھ سکتے ہیں اور ان کے راستے کا اندازہ لگا سکتے ہیں جس سے ہمیں جان و مال پر ان کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بہت سی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں سائیکلون سے متعلق آفات پر نظر رکھنے کے لیےباہم مل کر کام کرتی ہیں۔ اگر آپ سائیکلو ن زدہ علاقے میں رہتے ہیں تو ضروری سامان پر مشتمل ایک ہنگامی کِٹ تیار رکھیں۔سائیکلون کے دوران فوراًنزدیک کی کسی مقررہ سائیکلون پناہ گاہ میں چلے جائیں۔
آئیے بات سمیٹتے ہیں!
گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور ایک کم دباؤ والے خطّےکی تشکیل کرتی ہے ۔
ٹھنڈی ہوا کم دباؤ والے خطے کی طرف تیزی سے چلنے لگتی ہے۔
گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے، ٹھنڈی ہوتی ہے اور پانی کے بخارات تکثیف ہو کر بادلوں کی تشکیل کرتے ہیں۔
بادلوں میں پانی کے بڑے قطرے بارش، ژالہ باری یا برف کی شکل میں زمین پر گرتے ہیں۔
اوپر اور نیچے کی طرف چلنے والی تیز ہواؤں کی وجہ سے مثبت اور منفی بار پیدا ہوتے ہیں۔
جب مثبت اور منفی بار آپس میں ملتے ہیں تو یہ بجلی کوندنے کا سبب بنتے ہیں ۔ آسمانی بجلی بادل کے اندر، بادلوں کے درمیان یا بادلوں اور زمین کے درمیان مخالف باروں کےٹکرانے سے گرسکتی ہے۔
بعض موسمی حالات میں طوفان گرد باد(سائیکلون) میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ
- دباؤ کی تعریف فی اکائی رقبے پر لگنے والی قوت کے طور پر کی جاتی ہے۔
- دباؤ کی ایس آئی اکائی نیوٹن فی مربع میٹر (N/m²) ہے اور اسے پاسکل بھی کہا جاتا ہے، جسے Paسے ظاہر کرتے ہیں۔
- رقیق مادّےاور گیسیں برتن کی دیواروں پر دباؤ ڈالتی ہیں۔
- ہمارے اطراف میں موجود ہوا سے پڑنے والادباؤفضائی دباؤ کہلاتا ہے۔
- ہوا کے دباؤ میں فرق کی وجہ سے باد کی تشکیل ہوتی ہے۔
- گرم ہوا اوپر اٹھتی ہےجس سے کم دباؤ کا خطہ بن جاتا ہے۔ آس پاس کے زیادہ دباؤ والے خطوں سے ٹھنڈی ہوا اس کی جگہ لینے کے لیے اندر آتی ہے۔
- نمی اور تیز ہوائیں طوفان برق باد کی تشکیل کے لیے اہم شرائط ہیں۔
- اوپر اور نیچے کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں آبی قطروں اور برف کے ذرات کے درمیان رگڑمیں سہولت پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے بادلوں میں برقی بار پیدا ہوتے ہیں۔
- بادل کے اندر، بادلوں کے درمیان یا بادلوں اور زمین کے درمیان مخالف باروں کے ٹکرانے سے آسمانی بجلی گرتی ہے۔
- آسمانی بجلی گرنے سے جان و مال کا نقصان ہوسکتا ہے۔
- برق ربا عمارتوں کوآسمانی بجلی گرنے کے نقصان سے بچاتا ہے۔
- ہندوستانی محکمۂ موسمیات (IMD) ہندوستان میں سائیکلون اور طوفان برق و باد پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔
تجسس کو برقرار رکھیں
- صحیح بیان کا انتخاب کیجیے۔
(i) شکل 6.21 کو غور سے دیکھیے۔ برتن R پانی سے بھرا ہوا ہے۔ جب برتن میں پانی ڈالنا بند کردیتے ہیں تو پانی کی سطح ___________ ہو گی۔
(a) برتن P میں سب سے زیادہ
(b) برتن Q میں سب سے زیادہ
(c) برتن R میں سب سے زیادہ
(d) تینوں برتنوں میں مساوی
(ii) ایک ربڑ کی چسنی (M)کو کسی ہموار /چکنی سطح پر دبایا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح کی دوسری چسنی (N) کو کھردری سطح پر دبایا جاتا ہے:
(a) M اور N دونوں ہی اپنی سطحوں سے چپکی رہیں گی۔
(b) M اور N دونوں ہی اپنی سطحوں سے نہیں چپکیں گی۔
(c) M چپک جائے گی لیکن N نہیں ۔
(d) N چپک جائے گی لیکن M نہیں۔
(iii) ایک پانی کی ٹنکی کسی عمارت کی چھت پر ‘H’ اونچائی پر رکھی ہوئی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر زیادہ دباؤ کے ساتھ پانی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے:
(a) اس اونچائی ‘H’ میں اضافہ کرنا جس پر ٹنکی رکھی ہوئی ہے۔
(b) اس اونچائی ‘H’کو کم کرنا جس پر ٹنکی رکھی ہوئی ہے۔
(c) ٹنکی کو اسی اونچائی کی دوسری ٹنکی سے بدلنا جس میں زیادہ پانی آسکے۔
(d) ٹنکی کو ا سی اونچائی کی دوسری ٹنکی سے بدلنا جس میں کم پانی آسکے۔
(iv) دو برتن A اور B میں ایک ہی سطح تک پانی بھرا ہوا ہے جیسا کہ شکل 6.22 میں دکھایا گیا ہے۔ PA اور PB برتنوں کے پیندے پر لگنے والے دباؤ ہیں۔ FA اور FB برتن A اور B کے پیندے پر پانی کے ذریعے لگائی گئی قوت ہے۔
(a) PA = PB, FA = FB
(b) PA = PB, FA <FB
(c) PA < PB, FA = FB
(d) PA > PB, FA > FB
- بتائیےکہ درج ذیل بیانات درست ہیں [] یا غلط []۔
(i) ہوا زیادہ دباؤ والے خطے سے کم دباؤ والے خطے کی طرف چلتی ہے۔ [ ]
(ii) رقیق اشیا صرف برتن کے پیندے پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ [ ]
(iii) سائیکلو ن کے مرکز(آنکھ) میں موسم طوفانی ہوتا ہے۔ [ ]
(vi) گرج چمک کے دوران کار کے اندر رہنا زیادہ محفوظ ہے۔ [ ]
- شکل 6.23a میں ایک لڑکا افقی حالت میں لیٹا ہواہےجب کہ شکل 6.23b میں لڑکا ڈھیلی ریت پر سیدھا کھڑا ہے۔ کس حالت میں لڑکا ریت میں زیادہ دھنسے گا؟ وجوہات بتائیے۔
- ایک ہاتھی چار وں پاؤں پر کھڑا ہے۔ اگر ایک پاؤں سے ڈھکی ہوئی سطح کا رقبہ 0.25 مربع میٹر ہے تو ہاتھی کے ذریعے زمین پر ڈالا گیا دباؤ معلوم کیجیے اگر اس کا وزن 20000 N ہے۔
- A اور B دو کشتیاں ہیں ۔کشتی A کے اساس کا رقبہ 7 مربع میٹر ہے اور اس میں 5 افراد بیٹھے ہوئے ہیں۔ کشتی B کے اساس کا رقبہ 3.5 مربع میٹر ہے اور اس میں 3 افراد بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اگر ہر فرد کا وزن N 007 ہے تو معلوم کیجیے کہ کس کشتی کے اساس پر زیادہ دباؤ پڑے گا اور کتنا؟
- اگر ہوا اور بادل بجلی کے اچھے موصل ہوتے تو کیا بجلی چمکتی؟ اپنے جواب کی وجہ بتائیے۔
- شکل 6.24میں دوایک جیسے غبارے A اور B دکھائے گئے ہیں۔ جب بوتل میں ایک مخصوص اونچائی تک پانی بھرا جائے گاتو غباروں پر کیا اثر پڑے گا ۔ کیا دونوں غبارے پھول جائیں گے؟ اگر ہاں، تو کیا وہ ایک ہی سائز میں پھولیں گے؟ اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
- وضاحت کیجیے کہ ایک طوفان، سائیکلون کیسے بن جاتا ہے؟
- شکل 6.25 میں موسم گرما کی دوپہر میں سمندر کے ساحل پر درخت دکھائے گئے ہیں۔ شناخت کیجیے کہ زمین کس طرف ہے — A یا B۔ اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
شکل:6.24
- ایک سرگرمی بیان کیجیے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ہوا زیادہ دباؤ والے خطے سے کم دباؤ والے خطے کی طرف چلتی ہے۔
- طوفان گرد باد کیا ہے؟ اس کی تشکیل کے عمل کی وضاحت کیجیے۔
- بجلی گرنے کے عمل کی وضاحت کیجیے۔
- وضاحت کیجیے کہ بینر اور ہورڈنگ میں سوراخ کیوں کیے جاتے ہیں؟
دریافت ، ڈیزائن اور بحث
- 18سینٹی میٹر لمبی اور 2سینٹی میٹر چوڑی کاغذ کی پٹی کو اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان اس طرح پکڑیے کہ یہ آزادانہ طور پر لٹکی رہے ۔ پیشن گوئی کیجیے کہ اگر آپ کاغذ پر پھونک
ماریں گے تو آپ کیا دیکھیں گے۔ اب اس سرگرمی کو انجام دیجیے۔ اپنے مشاہدات کو درج کیجیے اور اپنے نتائج کی تشریح کیجیے۔ - گزشتہ 20 سالوں کے دوران ہندوستان میں آئے تین بڑے سائیکلون کی فہرست بنائیے۔ ہر ایک سائیکلون کی وجہ سے ہونے والی دو بڑی تباہ کاریوں کی فہرست بنائیے۔ جان و مال کے نقصان کو کم کرنے کے لیے مقامی حکومت اور معاشروں نے کیا اقدامات کیے؟ مقامی حکومت کوآپ کون سی دو تجاویزپیش کرنا چاہیں گے؟
- ہندوستان کے مختلف علاقوں میں طوفان برق وباد کی شدت سے متعلق اعدادوشمار جمع کیجیے۔ اپنے نتائج کا موازنہ کیجیے اور شناخت کیجیے کہ کون سے علاقے طوفان گرد باد کے زیادہ شکار ہیں۔ کیا آپ اپنے نتائج کی وجوہات بتا سکتے ہیں؟



