Skip to content
Qr






8
مادّے کی فطرت : عناصر، مرکبات اور آمیزے (Nature of Matter :Elements, Compounds and Mixtures)


جانچیں اور غور کریں

  • اوپر دی گئی تصویر میں کون سی چیزیں مادّے سے بنی ہیں اور کون سی نہیں؟
  • عناصر کو ملا کر کس طرح مرکب بنایا جا سکتا ہے؟
  • ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈجذب کرنے والے مرکب کی دریافت ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے میں کس طرح مدد گار ثابت ہو سکتی ہے؟
  • اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے

؟

Screenshot 2026-03-27 113637

کیا آپ نے کبھی غور کیاہے کہ آپ کے اردگرد کی دنیا کس چیز سے بنی ہے؟ ذرا آس پاس نظر دوڑائیں!وہ سیڑھیاں جن پر آپ چلتے ہیں، وہ ہوا جس سے آپ سانس لیتے ہیں، آپ کی بوتل میں پانی، آپ کے لنچ باکس میں کھانا، آپ کے کپڑے اور جوتے ، کتابیں جو آپ پڑھتے ہیں، باہر کے درخت، گیندجس سے آپ کھیلتے ہیں
حتی کہ وہ چھڑی جسے آپ اٹھاتے ہیں، یہ تمام چیزیں مادّے کی مثالیں ہیں،جن کے بارے میں آپ پچھلی گریڈ میں پڑھ چکے ہیں۔

آپ نےیہ بھی سیکھا ہےکہ یہ ساری چیزیں بہت چھوٹے ذرّات سے مل کر بنی ہوتی ہیں۔ ہمارے اردگرد کی زیادہ تر چیزیں صرف ایک ہی شے سے نہیں بنی ہوتیں، بلکہ دو یا زیادہ اشیا کی آمیزش سے بنی ہوتی ہیں۔آیئے اب ہم سمجھتے ہیں کہ مختلف اشیا کس طرح آپس میں مل کر آمیزے (Mixtures) بناتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیاہے کہ آپ کےپوہا (شکل 8.1) کو کیا چیز اتنالذیذ بناتی ہےیا بہترین اسپراؤٹ سلاد(Sprout Salad)کیسے بنایا جاتا ہے ؟ اگرچہ یہ دونو ں پکوان بالکل مختلف نظر آتے ہیں، لیکن ان میں کچھ چیزیں مشترک ہیں۔یہ دونوں مختلف اجزا کو ملا کر تیار کیے جاتے ہیں۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں اشیاکی آمیزش کا مشاہدہ کر تےہیں۔ پانی میں حل شدہ چینی بھی آمیزہ ہے اور اسی طرح سوپ اور لیمونیڈ بھی۔

Screenshot 2026-03-27 113951

جب دو یا دو سے زیادہ اشیا کو اس طرح ملایا جائے کہ ہر شے اپنی خصوصیات برقرار رکھے،تو اسے آمیزہ (Mixture)کہا جاتا ہے۔ وہ انفرادی اشیا جو کسی آمیزہ کوبناتی ہیں، اس کے اجزا (Components) کہلاتی ہیں۔ آمیزہ کے اجزا آپس میں کیمیائی طور پر تعامل نہیں کرتےہیں۔ کچھ آمیزوں میں ان کے اجزاآسانی سے نظر آ جاتے ہیں ، جیسے اسپراؤٹ سلاد (شکل 8.2) میں مونگ،
ہرے چنے، پیاز اور ٹماٹر وغیرہ ۔ ایسے آمیزےجن میں مختلف اجزاعموماً آنکھ سے یا کسی تکبیری آلے(Magnifying Device) کی مدد سے نظر آتے ہیں، غیریکساں
(Non-Uniform) نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کیا آپ اپنے اردگرد موجود چیزغیر یکساں آمیزوں کی نشان دہی کر سکتے ہیں؟

دوسری طرف، کچھ آمیزے ایسے ہوتے ہیں جن کے اجزاکو خوردبین کی مدد سے بھی الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا ۔ مثال کے طور پر، چینی اور پانی کے آمیزےمیں ان کے ذرات الگ الگ نظر نہیں آتے۔ اس قسم کے آمیزے، جن میں اجزا یکساں طور پر پھیلے ہوں اور جن کے درمیان فرق نہ کیا جا سکے، یکساں (Uniform) نوعیت کے ہوتے ہیں (شکل 8.3)۔ کیا آپ چند یکساں آمیزوں کی فہرست بنا سکتے ہیں؟

Screenshot 2026-03-27 at 11-41-33 Chapter 8.pdf

ایک قدم آگے

کیا آپ جانتے ہیں کہ اسٹین لیس اسٹیل بھی آمیزہ ہے؟ اسٹین لیس اسٹیل میں لوہا، نِکِل، کرومیم اور تھوڑی مقدار میں کاربن شامل ہوتا ہے۔ یہ اجزا اس قدر یکساں طور پر ملے ہوتے ہیں کہ پورا آمیزہ ہر جگہ ایک جیسا نظر آتا ہے اور انفرادی اشیا کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ ایسے آمیزے کو بھرت (Alloys)کہا جاتا ہے۔ پیتل، جو تانبے اور جستہ کا آمیزہ ہے اور کانسہ جو تانبے اور ٹن کا آمیزہ ہے، بھرت کی دیگر مثالیں ہیں (شکل 8.4

Screenshot 2026-03-27 at 15-57-05 Chapter 8.pdf

ہمارا سائنسی ورثہ

مشرلوہ وہ نام تھا جو دو یا دو سے زیادہ دھاتوں کے ایسے آمیزے کو دیا جاتا تھا جس کی خصوصیات اس کی دھاتوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ قدیم بھارتی متون، جیسے چرک سمہیتا، سشرت سمہیتا، رسارتن سموچھَیّا، رَس جل نِدھی وغیرہ میں طبی مقاصد کے لیےبھرت (Alloy) کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، کانسہ، جسے کمسیا بھی کہا جاتا ہے، ایک بھرت(Alloy) ہے جو تانبے (تامر4 حصے) اورٹن (ونگا، 1 حصہ) سے بنتی ہے۔ اس کا استعمال ہاضمہ کوبہتر بنانے اور قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے کیا جاتا تھا۔

8.1.1 کیا ہوا آمیزہ ہے؟

گریڈ 6کی کتاب تجسّس میں آپ نےباب ’’قدرت کے خزانے‘‘ میں ہوا اور اس کی ترکیب کے بارے میں
پڑھا تھا۔ کیا ہوا آمیزہ ہے؟ یہ کس قسم کا آمیزہ ہے؟

آپ نے سیکھا کہ ہوا بنیادی طور پر نائٹروجن، آکسیجن، آرگن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور آبی بخارات کا یکساں آمیزہ ہے۔ ان میں سے آکسیجن زیادہ تر جانداروں کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے اور یہ احتراق (Combustion) میں بھی مدد کرتی ہے۔ نائٹروجن، جو ہوا کا تقریباً 78 فیصد حصہ ہے، احتراق میں حصہ نہیں لیتی۔ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ ہوا میں آبی بخارات موجود ہوتے ہیں۔ جب گرم ہوا کسی ٹھنڈی سطح سے ٹکراتی ہے تو آبی بخارات مائع پانی میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے قطروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ تجربہ یاد کریں جب آپ نےباہر چھوڑی گئی سانس میں کاربن ڈائی آکسائڈکی موجودگی کی جانچ کی تھی۔ آئیے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈکی موجودگی کی تصدیق کریں۔

  • ایک شیشے کا گلاس لیں اور اس کے آدھے حصے میں پانی بھریں۔
  • اس میں آہستہ آہستہ تھوڑی مقدار میں کیلشیم آکسائڈ(کوئک لائم) ڈالیں۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
  • احتیاط پہلے

    اس مرحلہ کواحتیاط سے انجام دیں۔

  • کیلشیم آکسائڈپانی کے ساتھ بہت تیزی سےتعامل کرکے کیلشیم
    ہائڈرو آکسائڈ بناتا ہے اور حرارت خارج کرتا ہے۔
  • کیلشیم ہائڈرو آکسائڈکا محلول بنانے کے لیے اسے مسلسل ہلاتے رہیں۔ اس محلول کو چونےکاپانی (Lime Water) کہتے ہیں۔
  • اسے چھان لیں اور اس کےرنگ کا مشاہدہ کریں۔
  • اس بے رنگ محلول کو ایک پیٹری ڈش میں چند گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں(شکل8.5a)۔
  • محلول کو وقفے وقفے سے ہلاتے رہیں۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں(شکل8.5b)؟
  • کیا یہ دودھیا ہو جاتا ہے؟

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کہ محلول دودھیا کیوں ہو گیا؟

آپ کو معلوم ہے کہ جب کاربن ڈائی آکسائڈ، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈکے ساتھ تعا مل کرتی ہے تو کیلشیم کاربونیٹ (چھوٹے سفید اور غیر حل پذیر ذرات) اور پانی بنتاہے، جس سے چونے کا پانی دودھیا ہو جاتا ہے (شکل 8.5)۔ چونکہ چونے کا پانی ہوا کے رابطے میں آنے پر دودھیا ہو جاتا ہے، یہ سرگرمی ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈکی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

Screenshot 2026-03-27 at 16-34-01 Chapter 8.pdf

کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ + کاربن ڈائی آکسائڈ کیلشیم کاربونیٹ + پانی

گیسوں کے علاوہ، کیا آپ نے کبھی ہوا میں موجود کسی اور چیز کا مشاہدہ کیا ہے؟کیا آپ نے کبھی اندھیرے کمرے میں کسی چھوٹے سوراخ سے داخل ہونےوالی سورج کی روشنی کی شعاعوں میں چھوٹے چھوٹے چمکتے ذرات کو حرکت کرتے دیکھا ہے ؟یہ ذرات کیا ہیں؟

Screenshot 2026-03-30 at 09-39-13 Chapter 8.pdf

سرگرمی 8.2: آئیے چھان بین کریں

  • ایک سیاہ کاغذکا ٹکرا لیں اوردھیان رہے کہ اس پر گردکے ذرات نہ ہوں۔
  • اس سیاہ کاغذ کو بغیر ہلائےکھلی کھڑکی کے قریب (شکل8.6a) یا کسی باغ میں چند گھنٹوں کے لیے رکھ دیں۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

آپ دیکھیں گےکہ اس کی سطح پر باریک ذرات جمع ہوگئے ہیں۔ آپ ان ذرات کو مزید قریب سے دیکھنے کے لیے تکبیری شیشےکا (Magnifying Glass)بھی ا ستعمال کر سکتے ہیں (شکلb8.6)۔

اس سرگرمی سے یہ ظاہرہوتاہے کہ گرد کے ذرات ہوا میں معلق رہتےہیں۔ یہ ہوا کا لازمی حصہ نہیں ہوتے بلکہ آلودگی پیدا کرنے والے ذرات یا آلودگر (Pollutants)سمجھے جاتے ہیں۔ ہوا میں موجودگرد کے ذرات کی نوعیت اور مقدار وقت اور جگہ کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔

ایک قدم آگے

ہوا میں موجود بڑے آلودگروں میں، ذرّاتی مادہ (جیسے گرد و غبار، کالک) اور گیسیں جیسے کاربن مونو آکسائڈ، اوزون، نائٹروجن ڈائی آکسائڈ اور سلفر ڈائی آکسائڈ شامل ہیں۔ ہوا کے معیار کی وضاحت کے لیے استعمال ہونے والےآلےکوہوا کے معیار کا اشاریہ (Air Quality Index - AQI) کہا جاتاہے۔

8.1.2 آمیزوں کی اقسام

آپ جانتے ہیں کہ عام طور پر ’’آمیزہ‘‘ سے مراد دو یا دو سےزیادہ اجزا کی آمیزش ہوتا ہے۔ کسی آمیزہ کے اجزا خود بھی آمیزہ ہو سکتے ہیں، جیسے کہ پوہا اور اسپراؤٹ سلاد یا خالص اشیا، جیسے پانی میں گھلی ہوئی چینی یا عام نمک۔ تاہم، سائنس میں کسی بھی آمیزےکے تمام اجزا لازمی طور پر خالص اشیا ہی ہونے چاہئیں۔

آمیزے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں جس کا انحصار جو ان کے اجزا کی طبیعی حالت پر منحصر ہوتا ہے۔ کچھ آمیزے اور ان کی مثالیں جدول 8.1 میں دی گئی ہیں۔ تیسرے کالم کو مکمل کیجیے۔

جدول 8.1: آمیزوں کی مختلف اقسام

نمبر شمار

آمیزہ کی قسم

مثالیں

یکساں یا غیر یکساں

.1

گیس اور گیس

ہوا

یکساں

.2

گیس اور مائع

پانی میں حل شدہ ہوا (سوڈا واٹر)

پانی میں حل شدہ آکسیجن

…………………

…………………

.3

ٹھوس اور گیس

ہوا میں کاربن کے ذرّات

…………………

.4

مائع اور مائع

پانی میں ایسیٹک ایسڈ (سرکہ)

تیل اور پانی

…………………

…………………

.5

ٹھوس اور مائع

ریت اور پانی

سمندری پانی

…………………

…………………

.6

ٹھوس اور ٹھوس

بیکنگ پاؤڈر (بیکنگ سوڈا اور ٹایڈک ایسڈ)

بھرت

…………………

…………………

آپ نے پچھلی جماعتوں میں آمیزوں کی علیحدگی کے بارے میں سیکھا تھا۔یہ عمل آمیزے کے اجزا کو الگ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔جن مثالوں پر بات کی گئی تھی وہ روزمرہ کی زندگی سے تھیں، جہاں علیحدگی کا مقصد مطلوبہ جزو حاصل کرنا ہوتا ہے اور دیگر اجزا کو پھینک دیا جاتا ہے۔ تاہم، سائنس میں آمیزے کو علیحدہ کرنے کا مقصد خالص مادے حاصل کرنا ہوتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی دودھ، گھی اور مسالے(شکل 8.7)جیسی کچھ قابلِ صرف اشیا کے پیکٹ پر ‘خالص’ (Pure) لکھا ہوا دیکھا ہے؟’خالص‘کا مطلب عام استعمال میں اور سائنسی اصطلاح میں کچھ حد تک مختلف ہوتا ہے۔

عام طور پر خالص سے مراد وہ مصنوعات ہیں جن میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔ملاوٹ (Adulteration)،قابل صرف اشیا میں سستی یا کم معیار والی اشیا شامل کرنے کا غیر قانونی عمل ہے۔یہ عمل عموماًً مقدار بڑھانے یا تیاری کی لاگت کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔لیکن اس سے اشیا کا معیار خراب ہو جاتا ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے مضر بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

سائنس میں ’خالص شے‘ وہ ہوتی ہے جس میں کوئی اور دوسری شے شامل نہ کی جائے۔ایک سائنس داں کے لیے وہ مصنوعات بھی جو خالص نظر آتی ہیں غیر خالص (Impure) ہوسکتی ہیں جو بظاہر خالص نظر آئیں مگر اس میں ایک سے زیادہ شےشامل ہوں۔

خالص شے ، مادّہ کی وہ قسم ہے جسے کسی بھی طبیعی عمل کے ذریعےدوسری قسم کے مادّوں میں علیحدہ نہیں کیا
جا سکتا۔ جب کوئی سائنس داں یہ کہے کہ کوئی چیز خالص ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے ایک ہی قسم کے ذرات سے بنی ہے ۔

Screenshot 2026-03-30 at 09-46-57 Chapter 8.pdf

ایک قدم آگے

سائنس کے مطابق، آپ دودھ، ڈبہ بند پھلوں کا جوس، بیکنگ سوڈا، چینی اور مٹی کی درجہ بندی آمیزہ یا خالص شے کے طور پر کس طرح کریں گے ؟

پانی کی مختلف حالتوں کو یاد کریں جن کا مطالعہ آپ نے گریڈ 6 کی کتاب تجسّس میں کیا تھا ۔ جب پانی کو ٹھنڈا یا گرم کیا گیا تو کیا ہواتھا؟ ہم نے مشاہدہ کیا کہ پانی ٹھنڈا کرنے پر برف میں تبدیل ہو جاتا ہےاور اُبالنے پر بخارات میں بدل جاتا ہے۔ برف کو گرم کرنے یا بخارات کو ٹھنڈا کرنے پر ہم دوبارہ پانی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان عملوں کے دوران پانی کے ذرات وہی رہتے ہیں۔ اب آئیے،ہم ایک اور سرگرمی انجام دیں گے جس میں ہم پانی میں ’بجلی‘ گزاریں گے اور اس کے اثرات کا مشاہدہ کریں گے۔

سرگرمی 8.3: آئیے تجربہ کریں (مظاہراتی سرگرمی)

حفاظت پہلے

یہ سرگرمی استاد کی نگرانی میں ہی انجام دی جائے۔ سلفیورک ایسڈ کے استعمال کے دوران احتیاط برتیں۔ لیتھیم آین(Lithium-ion) بیٹری استعمال نہ کریں۔

  • دو چھوٹی ٹیسٹ ٹیوب، ایک بیکر یا شیشے کا گلاس، اور ایک 9Vکی بیٹری لیں۔
  • بیکرمیں 2/3 حصے تک پانی بھریں اور اس میں چند قطرے ڈائی لیوٹ سلفیورک ایسڈ ڈالیں۔
  • دونوں چھوٹی ٹیسٹ ٹیوبوں کو بیکر کے پانی سے مکمل طور پر بھر لیں (شکل8.8a)۔
  • ایک 9 وولٹ بیٹری کوبیکر کے اندر رکھیں (شکل8.8b)۔
  • پانی کو چھلکائےبغیر، پانی سے بھری دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کو بیٹری کےدونوں سِروں پر اُلٹ کراحتیاط سے رکھیں (شکل8.8c)۔
  • چند منٹ انتظار کریں۔
  • کیا آپ ٹیسٹ ٹیوب کے اندر دونوں سروں پر کسی گیس کے بلبلوں کے بننے کا مشاہدہ کرتے ہیں؟
  • اس عمل کو 15–10منٹ تک جاری رہنے دیں۔
  • Screenshot 2026-03-30 095349
  • ہر ٹیسٹ ٹیوب میں جمع ہونے والی گیس کے حجم کا مشاہدہ کریں (شکل8.8d)۔
  • کیا دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں جمع ہونے والی گیس کا حجم ایک جیساہے؟
  • ان ٹیسٹ ٹیوبوں کو احتیاط سے باری باری ہٹائیں۔
  • ان ٹیسٹ ٹیوبوں کے منہ کے قریب جلتی ہوئی موم بتی لے جا کر ان گیسوں کی
    جانچ کریں۔
  • ہر صورت میں کیا ہوتا ہے؟
  • ہر ٹیسٹ ٹیوب میں کون سی گیس موجود ہے؟

کیا یہ جمع شدہ گیسیں پانی کے بخارات ہو سکتی ہیں؟

یہ گیسیں پانی کے بخارات نہیں ہیں ورنہ یہ کثیف ہو کر دوبارہ پانی میں تبدیل ہو جاتیں۔ آیئے ان گیسوں کی پہچان کریں۔

Screenshot 2026-03-30 at 09-54-43 Chapter 8.pdf

حفاظت پہلے

گیسوں کی جانچ کے عمل کو احتیاط سے انجام دیں۔ تجرباتی ترتیب سے محفوظ فاصلہ قائم رکھیں۔

دو نوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں موجود گیسوں کی پہچان کرنےکے لیے ان میں ٹیسٹ ٹیوب کے منہ کے قریب جلتی ہوئی موم بتی لے جائیں۔ان میں سے ایک ٹیسٹ ٹیوب سے ‘‘ پَپ ’’ جیسی آواز سنی جا سکتی ہے، جو ہائیڈروجن گیس کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے(شکل a8.9)۔ دوسری ٹیسٹ ٹیوب میں جلتی ہوئی موم بتی کی لومزیدروشن ہو جائے گی، جو آکسیجن گیس کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہے(شکل b8.9)۔

سرگرمی 8.3 سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ پانی دو مختلف عناصر ہائیڈروجن اور آکسیجن سے بنا ہوتا ہے۔

پانی ہائڈروجن + آکسیجن

8.3.1 عناصر

سرگرمی 8.3 میں بننے والی دونوں اشیا — ہائڈروجن اور آکسیجن، خالص اشیا ہیں اور انھیں عناصر(Elements)کہا جاتا ہے۔ہر عنصر ایک جیسےذرات سےبنا ہوتا ہے جنھیں ایٹم (Atom) کہا جاتا ہے۔ یہ ذرات دوسرے عناصر کے ذرات سے مختلف ہوتے ہیں۔عناصر وہ اشیا ہیں جنھیں مزید کسی خالص شے میں تقسیم نہیں کیاجا سکتا۔ یہ تمام مادّوں کی تعمیری اکائیاں ہیں۔عناصر کی چند دیگر مثالیں سونا، چاندی، گندھک، کاربن وغیرہ ہیں۔

حفاظت پہلے

زیادہ تر عناصر کے ایٹم آزادانہ طور پر نہیں رہ سکتے۔ ایسے دو یا دو سے زیادہ ایٹم آپس میں جُڑ کر اس عنصر کا ایک مستحکم ذرہ بناتے ہیں جسے سالمہ (Molecule)کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہائیڈروجن کے دو ایٹم آپس میں جُڑ کر ہائڈروجن کا ایک سالمہ بناتے ہیں۔ اسی طرح، آکسیجن کے دو ایٹم جُڑ کر آکسیجن کا ایک سالمہ بناتے ہیں (شکل 8.10

Screenshot 2026-03-30 at 11-33-13 Chapter 8.pdf

عناصر کی درجہ بندی دھات اور غیر دھات کے تحت کی جا سکتی ہے۔آپ پہلے ہی یہ مطالعہ کر چکے ہیں کہ سونا، چاندی، میگنیشیم، لوہا اورایلومینیم دھاتیں ہیں، جب کہ کاربن، گندھک، ہائڈروجن اور آکسیجن غیر دھاتیں ہیں۔ کیا یہ جاننا دل چسپ نہیں ہے کہ کچھ عناصر جیسے سلیکون اور بورون کی خصوصیات دھاتوں اور غیر دھاتوں کے درمیان ہوتی ہیں؟ ایسے عناصر کو دھات یادھات نما(Metalloids)کہا جاتا ہے، جن کے بارے میں آپ آئندہ گریڈ میں مزید پڑھیں گے۔

ایک قدم آگے

موجودہ وقت میں معلوم شدہ عناصر کی تعداد 118 ہے، جن میں سے زیادہ تر ٹھوس حالت میں پائے جاتے ہیں۔

11عناصر کمرے کے درجۂ حرارت پر گیس کی حالت میں پائے جاتے ہیں، اور یہ تمام غیر دھاتیں ہیں، جیسے آکسیجن، ہیلیم، نائٹروجن وغیرہ۔

صرف دو عناصر کمرے کے درجۂ حرارت پر مائع کی حالت میں پائے جاتے ہیں—پارہ، جو ایک دھات ہے اور برومین، جو کہ غیر دھات ہے۔

اگرچہ گیلیم اور سیزیم ٹھوس عناصر ہیں، لیکن یہ تقریباً30°C (303 K) پر مائع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔


ایک قدم آگے

45 سے زیادہ مختلف عناصر جیسے ایلومینیم، تانبا، سلیکان، کوبالٹ، لیتھیم، سونا، چاندی وغیرہ موبائل فون بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں اسکرین، بیٹری اور دیگر پرزے جات بھی شامل ہیں۔

8.3.2 مرکّبات

Screenshot 2026-03-30 at 11-39-54 Chapter 8.pdf

ہم پانی میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن کو طبیعی طریقوں سے کیوں علیحدہ نہیں کرسکتے ؟

پانی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ذرات آپس میں اتنے مضبوطی سے جُڑے ہوتے ہیں کہ عام طبیعی طریقوں سے انہیں علیحدہ کرناممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی ایک مرکب ہے۔ مرکّبات(Compounds) تب بنتے ہیں جب مختلف عناصر ایک مقررہ نسبت میں
مل کر
بالکل نئی شے بناتے ہیں۔مرکبات کی خصوصیات ان کےترکیبی عناصر سے مختلف ہوتی ہیں ۔ کسی مرکب کے ترکیبی عناصر کو کسی بھی طبیعی طریقے سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ سرگرمی 8.3سے ہم نے سیکھا کہ پانی کے سالمے (Molecules) دو مختلف عناصر ہائیڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتے ہیں، جو ایک طے شدہ نسبت میں کیمیائی طور پر جُڑے ہوتے ہیں (شکل 8.11پانی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کی نسبت 2:1 پائی جاتی ہے۔

کیا عام نمک اور چینی عناصر ہیں یا مرکبات؟ آئیے معلوم کریں۔

واہ! یہ واقعی حیرت انگیز ہے—ہائیڈروجن ایندھن ہے، آکسیجن احتراق میں سہارا دیتی ہے، جبکہ پانی آگ بجھا تاہے۔

سوڈیم ایک نرم دھات ہےاور کلورین زہریلی گیس ہے۔یہ آپس میں جُڑ کر غیر نقصان دہ اورذائقہ بڑھانی والی شئےبناتے ہیں جو ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس شئےکو سوڈیم کلورائیڈ کہا جاتا ہے، جو سوڈیم اور کلورین کے ذرات سے بنا ہوتا ہے اور ان کی نسبت 1:1 ہوتی ہے۔ ہم نے یہ سیکھاہے کہ پانی میں تحلیل شدہ سوڈیم کلورائیڈ (یعنی عام نمک) کو طبعی عملِ تبخیر (Evaporation) کے ذریعے پانی سےعلیحدہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن کیا سوڈیم کلورائیڈ کو طبعی طریقوں سے اس کے اجزا ئی عناصر میں علیحدہ کیا جاسکتا ہے؟

آئیے اب ہم یہ چھان بین کرتے ہیں کہ کیا چینی کو ان کے اجزائی عناصرمیں الگ کیا جا سکتا ہے!

سرگرمی 8.4: آیئےتجربہ کریں

  • ایک چمچ چینی جوش نلی (Boiling Tube) میں ڈالیں۔
  • اسے شکل 8.12a میں دکھائے گئے طریقے کے مطابق آہستہ آہستہ گرم کریں۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

جب آپ چینی کو گرم کرتے ہیں تو وہ بھورے رنگ کی ہوجاتی ہے (شکل8.12b )کچھ دیر بعد یہ جل کر سیاہ ہو جاتی ہے(شکل8.12c

آپ دیکھیں گے کہ جوش نلی کے اندر کھلے سرے کے قریب چھوٹے چھوٹے پانی کے قطرے موجود ہیں۔ یہ پانی کہاں سے آیا؟ کیا یہ خشک چینی میں موجود تھا یا ہوا کے بخارات کے کثیف ہونے سےآیا؟

چونکہ ہم نلی کو گرم کر رہے ہیں اس لیے یہ پانی خشک چینی سے آیا ہوگا نہ کہ ہوا سے۔ اب آپ پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ نلی میں کیا باقی رہ گیا ہوگا؟ جوش نلی میں باقی رہا مادہ چارکول (Carbon) ہے۔ آپ اسے واچ گلاس(Watch Glass) میں نکال کر اس بات کی چھان بین کر سکتے ہیں کہ کیا یہ کوئلے کی طرح جلتا ہے ۔

چینی گرم ہونے پرتحلیل (Decompose)ہو جاتی ہے اور اس سے کاربن اور پانی حاصل ہوتا ہے ۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پانی ہائڈروجن اور آکسیجن سے بنا ہوتا ہے۔ لہٰذا چینی کوئی عنصر نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل ایک کیمیائی مرکب ہے جو تین عناصر یعنی کاربن، ہائڈروجن اور آکسیجن سے مل کر بنتی ہے۔

آئیے ،اب مرکبات کے بارے میں مزید چھان بین کریں ۔

Screenshot 2026-03-30 at 11-47-50 Chapter 8.pdf

حفاظت پہلے

یہ سرگرمی استاد کی نگرانی میں ہی کرنی چاہیے۔ اسے غبارکش (Fume Hood) یا کسی ہوا دار جگہ پر انجام دینا بہتر ہے۔ خارج ہونے والی گیسوں کو ہرگز سانس کے ذریعے اندر نہ لیں۔

  • 5.6گرام لوہے کا برادہ (شکل 8.13a)اور 3.2گرام گندھک کا سفوف (شکل 8.13b) ایک واچ گلاس میں لیں۔ ان کا غور سے مشاہدہ کریں۔
  • Screenshot 2026-03-30 at 12-17-03 Chapter 8.pdf
  • انھیں واچ گلاس میں اچھی طرح ملا لیں۔ اس آمیزہ کو نمونہAکے طور پر نشان زد کریں
    (شکل 8.14)۔
  • اس کا غور سے مشاہدہ کریں۔
  • کیا یہ یکساں آمیزہ ہے یا غیر یکساں ؟کیا آپ اب بھی لوہے اور گندھک کا الگ الگ اشیا کے طور پر مشاہدہ کر سکتے ہیں؟
  • چائنا ڈش میں نمونہAکا آدھا حصہ لیں۔ اسے ہلکی آنچ پر آہستہ آہستہ گرم کریں (شکل8.15a) اور مسلسل ہلاتے رہیں جب تک کہ کالے رنگ کی شے نہ بن جائے۔
  • چائنا ڈش کے مواد کو ٹھنڈا ہونے دیں۔
  • اس کالے ڈھیر کو ایک کھرل میں رکھیں اورموسل کی مدد
    سے پیسیں۔
  • Screenshot 2026-03-30 121737
  • اب اسے دوسرے واچ گلاس میں رکھیں اور نمونہB کے طور پرنشان زد کریں (شکل8.15b)۔
  • Screenshot 2026-03-30 121831
  • اب آپ کے پاس دو نمونے A اور Bہیں(شکل 8.16a اور8.16b)۔ دونوں نمونوں کا مرحلہ وار موازنہ کریں اور اپنے مشاہدات کو جدول 8.2 میں درج کریں۔

مرحلہ 1 — شکل و صورت

  • نمونہ A اور نمونہ Bکی ظاہری شکل و صورت، جیسے رنگ اور بناوٹ (Texture) کا موازنہ کریں۔

مرحلہ 2 — مقناطیسی جانچ

  • ایک مقناطیس لیں اور اسے یکے بعد دیگرے نمونہ A(شکل 8.17a)اور نمونہ B(شکل 8.17b)کے قریب لے جائیں۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

مرحلہ 3 — گیس کی جانچ

  • نمونہ Aکی تھوڑی سی مقدار ایک ٹیسٹ ٹیوب میں لیں اور اس میں چند قطرے ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کےڈالیں(شکل 8.18a)۔

حفاظت پہلے

ہائڈروکلورک ایسڈ کواستعمال کرتے وقت احتیاط برتیں۔

Screenshot 2026-03-30 141043
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
  • خارج ہوئی گیس کو آہستہ سے اپنی ناک کی طرف ہاتھ سے لہرا کر سونگھیں(شکل 8.19)۔
  • خارج ہوئی گیس کو جانچنے کے لیے جلتی ہوئی لکڑی کی تیلی یا جلتی ہوئی موم بتی کو ٹیسٹ ٹیوب کے منہ کے قریب لے جائیں (شکل 8.20a)۔ Screenshot 2026-03-30 at 14-25-54 Chapter 8.pdf

    شکل 8.20: گیسوں کی جانچ

  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
  • مندرجہ بالا مراحل کو نمونہ B کے ساتھ بھی دہرائیں (شکل 8.18b اور 8.20b)۔

حفاظت پہلے

کبھی بھی کسی چیز کو براہِ راست مت سونگھیں۔

جدول2.8: نمونہ A اور B کا موازنہ

نمبر شمار

تجربہ

مشاہدات

نمونہ A

نمونہ B

.1

شکل و صورت
(i) رنگ
(ii) بناوٹ

.2

مقناطیسی جانچ

.3

گیس کی جانچ
(i) بو
(ii) جلنے کی کیفیت

چند مباحثی نکات

  • کیا نمونہ A اور B ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں؟
  • کون سا نمونہ مقناطیسی خصوصیات ظاہر کرتا ہے؟
  • کیا ہم نمونہ A اور B کے اجزا کو علیحدہ کر سکتے ہیں؟
  • ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈڈالنے پر کیا دونوں نمونوں Aاور Bسے گیس خارج ہوتی ہے؟
  • کیا دونوں صورتوں میں گیسوں کی بو ایک جیسی ہے یا مختلف؟
  • اس سرگرمی میں استعمال ہونے والی اشیا کو آمیزے، مرکبات اور عناصر میں درجہ بندی کریں۔
Screenshot 2026-03-30 at 14-34-39 Chapter 8.pdf

نمونہ A: ہم کہہ سکتے ہیں کہ نمونہ A دو عناصر ، لوہا اور گندھک کا آمیزہ ہے۔ اس کے اجزا اپنی خصوصیات برقرار رکھتے ہیں اور ان کے سیاہ اور پیلے ذرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ جب مقناطیس کو نمونہAکے قریب لایا جاتا ہے تو لوہے کے ذرات مقناطیس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس طرح لوہا اور گندھک کو علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ نمونہ A میں موجود لوہا، ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ سے تعامل کر کے آئرن کلورائڈ اور ہائڈروجن گیس بناتا ہے۔ یہ گیس بے رنگ اور بے بو ہوتی ہے اور ” پَپ“کی آواز کے ساتھ جلتی ہے۔

اس تعامل کو یوں ظاہر کیا جا سکتا ہے:

آئرن + ڈا ئی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ آئرن کلورائڈ + ہائڈروجن گیس

دوسری طرف، گندھک(Sulfur) ٹیسٹ ٹیوب کے پیندے میں پیلے ٹھوس کے طورپر جمی رہتی ہے۔ جو یہ ظاہر کرتاہے کہ گندھک ،ہائڈروکلورک ایسڈکے ساتھ تعامل نہیں کرتی۔

نمونہ B: نمونہ B میں حاصل ہونے والی سیاہ رنگ کی شے دراصل آئرن سلفائڈ ہے۔ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اس کی بناوٹ (Texture) اور رنگ ہر جگہ یکساں ہیں۔یہ دو عناصر لوہا اور گندھک کو گرم کرنے سے بنتا ہے۔یہ مقناطیس کی طرف کشش نہیں رکھتا۔ یہ نئی شے مکمل طور پر مختلف خصوصیات رکھتی ہے اور اب لوہا اور گندھک اس میں سے علیحدہ نہیں کیے جا سکتے۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مرکب بن گیا ہے۔کیا آپ اب وضاحت کرسکتے ہیں کہ نمونہ B پر مقناطیس کا کوئی اثر کیوں نہیں ہوتا؟

اسی طرح، نمونہ B یعنی آئرن سلفائڈ، ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ تعامل کرتا ہے اور اس سے آئرن کلورائڈ اور ہائڈروجن سلفائڈگیس بنتی ہے۔ یہ گیس بے رنگ ہوتی ہے اور اس میں سڑے ہوئے انڈے جیسی بدبو ہوتی ہے۔ اس تعامل کو یوں ظاہر کیا جا سکتا ہے:

آئرن سلفائڈ + ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ آئرن کلورائڈ + ہائڈروجن سلفائڈ

8.4 عناصر، مرکبات، اور آمیزے ہمارے کس کام آتے ہیں؟

عناصر، مرکبات اور آمیزے ہمارے اطراف میں پائے جاتے ہیں۔ ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں وہ آکسیجن، نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی گیسوں کا آمیزہ ہے۔ پانی، جو زندگی کے لیے ناگزیر ہے، ہائڈروجن اور آکسیجن عناصر سے مل کر بنا ہوا ایک مرکب ہے۔ اسی طرح، لوہا اور ایلومینیم جیسے عناصر کا استعمال پلوں، عمارتوں اور گاڑیاں بنانے میں کیا جاتاہے۔

ان تصورات کو سمجھنا محض اپنے اردگرد موجود چیزوں کوپہچاننا ہی نہیں ہے، بلکہ یہ جدت اور اختراع
(Innovation)کی اصل کنجی ہے۔ مثال کے طور پر، کیمیا داں یہ مطالعہ کرتے ہیں کہ عناصر کس طرح آپس میں مل کر مرکبات بناتے ہیں جس سے انھیں حیات بخش ادویات اور ویکسین بنانے کا موقع ملتا ہے تاکہ بیماریوں کا علاج کیاجا سکے۔ یہی علم فرٹیلائزر(Fertilizer) تیار کرنے میں بھی کام آتا ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہےاور دنیا بھر میں بڑھتی انسانی آبادی کو خوراک ملتی ہے۔

انجینئر اور میٹریل سائنس کے ماہرین اپنے مرکبات اور آمیزوں کی تفہیم پر انحصار کرتے ہیں تاکہ منفرد خصوصیات والے مواد(Materials) تیار کیے جا سکیں ۔ مثال کے طور پر، انھوں نے اسٹینلیس اسٹیل جیسی بھرت بنائی ہے، جو خالص لوہے سے زیادہ مضبوط اور پائیدارہے۔لکڑی، اسٹیل اور کنکریٹ وغیرہ جو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، سب آمیزے ہیں۔

آپ نے سنا ہوگا کہ مختلف دھاتیں معدنیات سے حاصل کی جاتی ہیں۔ آئیے،ان معدنیات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔

ایک قدم آگے

میٹریل سائنس کے ماہرین کے ذریعے تیار کردہ ایک ‘حیرت انگیز’ مواد کی مثال گرافین ایروجیل (Graphene Aerogel)ہے۔ یہ کاربن سے بنا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ زمین پر سب سے ہلکا مواد ہے۔ یہ اتنا ہلکا ہے کہ گھاس کا ایک تنکا بھی اسے اٹھا سکتاہے (شکل 8.21)۔ یہ بہت زیادہ مسام دار (Porous)ہے اور اس لیے اس کی جذب کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سےاس کا ممکنہ استعمال ماحولیاتی صفائی کے طور پر کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر، سمندر اور زمین پر گرا ئے ہوئے تیل کی صفائی میں۔ یہ توانائی بچانے والے آلات اور عمارتوں کےلیےخاص قسم کا لیپ (Coating)بنانے میں بھی کارآمد ہے۔

شکل 8.21:

8.5 معدنیات کیا ہیں؟

اکثر چٹانیں معدنیات کے آمیزے ہیں، جنھیں آنکھوں سے یاتکبیری شیشےیا خوردبین کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ معدنیات کوخالص معدنیات(Native Minerals) کہا جاتا ہے یہ خالص عناصر ہیں مرکبات نہیں ۔ یہ سونا، چاندی، تانبہ وغیرہ جیسی دھاتیں یا گندھک، کاربن وغیرہ جیسی غیر دھاتیں بھی ہو سکتی ہیں۔

زیادہ تر معدنیات مرکبات ہوتےہیں جو ایک سے زیادہ عناصر سے بنے ہوتے ہیں۔ معدنیات کی کچھ عام مثالوں میں کوارٹز، کیلسائیٹ، میکا، پائروکسین اور اولیون شامل ہیں (شکل 8.22)۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی بہت سی چیزیں معدنیات یا معدنیات سے حاصل شدہ عناصر سے بنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پرسیمنٹ، کیلسائیٹ ، کوارٹز، ایلومینا اورآئرن آکسائڈ سے بنتا ہے، جو معدنیات ہیں یا معدنیات سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ٹیلکم پاؤڈر ،ٹیلک نامی معدنیات سے بنایا جاتا ہے۔

Screenshot 2026-03-30 at 14-47-57 Chapter 8.pdf

ہمارا سائنسی ورثہ

ہندوستانی آرٹ میں عناصر، مرکبات اور آمیزے کا استعمال

ڈھوکرا آرٹ بہار اور اڈیشہ کی ایک قدیم دستکاری ہے جس میں مختلف دھاتوں کا استعمال کر کے فطرت سے متاثرہوکر خوبصورت اشکال تخلیق کی جاتی ہیں
(شکل 8.23)۔ اس عمل کی شروعات کے موم سے ایک ڈیزائن بناکر کی جاتی ہے ۔ اس موم کے ماڈل کومٹی سے ڈھانپ کر ایک سانچہ تیار کیا جاتا ہے۔ جب مٹی سخت ہو جاتی ہے، تو موم کو پگھلا کر باہر نکال دیا جاتا ہے، جس سے ایک خالی جگہ بن جاتی ہے۔ اس جگہ کو بعد میں پھر پگھلے ہوئے پیتل یا کانسے سے بھر دیا جاتا ہے، جس سے ڈھوکا آرٹ مضبوط ہوجاتا ہے اور اسے سنہری چمک ملتی ہے۔ ان شکلوں میں اکثر جانور، انسان اورقدرتی مناظر دکھائے جاتے ہیں، جو قبائلی تخلیقی صلاحیت اور روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔

شکل 8.23: ڈھوکرا آرٹ

عناصر اور مرکبات مادّے کے تشکیلی اجزا ہیں، مادّہ ہر اس چیز کوکہتے ہیں جس میں وزن ہوتا ہے اور جو جگہ گھیرتی ہے ۔ ان سے وہ موادتیار ہوتے ہیں جنہیں ہم روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، ہمارے ارد گرد کی ہر چیز مادّہ نہیں ہے۔ روشنی، حرارت، بجلی اورحتی کہ خیالات اور جذبات بھی ہماری دنیا کے اہم حصے ہیں، لیکن یہ مادّے سے نہیں بنے ہیں۔ مادّے کی تفہیم کہ مادّہ کیا ہےاور کیا نہیں ہے—ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

خلاصہ

آمیزہ دو یا دو سے زیادہ اشیاکے ملنے سے بنتاہے۔ یہ اشیا اپنی خصوصیات برقرار رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کیمیائی طور پر تعامل نہیں کرتیں۔

آمیزہ کو بنانے والی اشیا اس کے اجزا کہلاتے ہیں۔

خالص شے صرف ایک ہی قسم کے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس شے کے تمام ذرات ایک جیسا طرز عمل ظاہر کرتے ہیں۔

خالص شے یا تو عنصر ہو سکتا ہے یا مرکب ۔

عنصر سب سے سادہ شےہے جسے مزید نئی شے میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمام مادّے کے تشکیلی اجزا ہیں۔

وہ اشیا جو دو یا دو سے زیادہ عناصر کو ایک مقررہ نسبت میں کیمیائی طور پر ملا کربنائی جائیں اور جن کی خصوصیات اُن عناصر سے مختلف ہوں جن سے وہ بنی ہیں، انھیں مرکبات کہا جاتا ہے۔

معدنیات قدرتی اور ٹھوس اشیا ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں۔ ان کی کیمیائی ترکیب متعین ہوتی ہے۔ زیادہ تر معدنیات مرکبات ہوتے ہیں، لیکن شاذ ونادر یہ خالص عناصر کی شکل میں بھی پائے جا سکتے ہیں۔

تجسّس کو برقرار رکھیں

  1. درج ذیل کیمیائی تعامل پر غور کیجیے جس میں دو اشیا A اور B مل کر ایک ماحصل C بناتی ہیں:

A + B C

فرض کیجیے کہ A اور Bکو کیمیائی تعامل کے ذریعے مزید سادہ اشیا میں نہیں توڑا جا سکتا۔ اس معلومات کی بنیاد پر، مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان درست ہے؟

(i) A، B اور C سبھی مرکبات ہیں اور صرف C کی ترکیب متعین ہے۔
(ii) C ایک مرکب ہے اور A اور B کی ترکیب متعین ہے۔
(iii) Aاور B مرکبات ہیں اور C کی ترکیب متعین ہے ۔
(iv) Aاور B عناصر ہیں، C ایک مرکب ہے اور اس کی ترکیب متعین ہے ۔

  1. دعویٰ: (Assertion) ہواآمیزہ ہے۔

دلیل :(Reason) جب دو یا زیادہ اشیا کسی کیمیائی تبدیلی سے گزرے بغیر آپس میں مل جائیں تو آمیزہ بنتا ہے۔

(i) دعویٰ اور دلیل دونوں درست ہیں اور دلیل، دعوےکی درست وضاحت ہے۔
(ii) دعویٰ اور دلیل دونوں درست ہیں لیکن دلیل میں دعوےکی درست وضاحت نہیں ہے۔
(iii) دعویٰ درست ہے لیکن دلیل غلط ہے۔
(iv) دعویٰ غلط ہے لیکن دلیل درست ہے۔

  1. پانی جو ایک مرکب ہے،اس کی خصوصیات اُن عناصر (آکسیجن اور ہائڈروجن)کی خصوصیات سے بالکل
    مختلف ہیں جن سے یہ مرکب بنتا ہے۔ اس بیان کی وضاحت کیجیے۔
  2. مندرجہ ذیل کس صورت میں تمام مثالیں درست طور پر درج کی گئی ہیں؟ اپنے جواب کے ساتھ دلائل بھی دیجیے۔

(i) عناصر — پانی، نائٹروجن، لوہا، ہوا۔
(ii) یکساں آمیزے — معدنیات، سمندرکا پانی، کانسہ، ہوا۔
(iii) خالص اشیا — کاربن ڈائی آکسائڈ، لوہا، آکسیجن، چینی۔
(iv) غیر یکساں آمیزے — ہوا، ریت، پیتل ، کیچڑ والا پانی۔

  1. لوہا نم ہوا کے ساتھ تعامل کر کے آئرن آکسائڈ بناتا ہے اور میگنیشیم آکسیجن میں جل کر میگنیشیم آکسائڈ بناتا ہے۔تمام اشیا جو اوپر دیے گئےہیں ان کیمیائی تعامل سے منسلک ہیں ان کی درجہ بندی عناصر ، مرکبات یا آمیزے کے طور پر کیجیے اور اس کاجواز بھی پیش کیجیے۔
  2. Screenshot 2026-04-08 at 09-50-00 Chapter 8.pdf
  3. جدول 3.8 میں درج ذیل کی درجہ بندی عناصر، مرکبات، یا آمیزے کے طور پر کیجیے:

کاربن ڈائی آکسائڈ، ریت، سمندرکا پانی، میگنیشیم آکسائڈ، کیچڑ والا پانی، ایلومینیم، سونا، آکسیجن، زنگ، آئرن سلفائڈ، گلوکوز، ہوا، پانی، پھلوں کا رس، نائٹروجن، سوڈیم کلورائڈ، گندھک، ہائڈروجن،
بیکنگ سوڈا۔

ان میں سے خالص اشیا کی پہچان کیجیے اور انہیں ذیل میں درج کیجیے:

  1. جب لوہے کے برادے اور گندھک کے سفوف (پاؤڈر)کا آمیزہ گرم کیا جاتا ہے تو کون سی نئی شے بنتی ہے اور یہ اصل آمیزے سے کس طرح مختلف ہوتی ہے؟ اس تعامل کے لیے لفظی مساوات (Word Equation)بھی لکھیے۔
  2. کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی مادے کو بیک وقت عنصر اور مرکب قرار دیا جائے؟ اس کی وضاحت کیجیے کہ کیوں یا کیوں نہیں۔
  3. اگر پانی مرکب نہ ہوتا بلکہ ہائڈروجن اور آکسیجن کا ایک آمیزہ ہوتا، تو ہماری روزمرہ کی زندگی کس طرح بدل جاتی؟

10.شکل 8.24 کا تجزیہ کیجیے۔ گیس Aکی شناخت کیجیےاور اس کی کیمیائی تعامل
کی لفظی مساوات کیجیے۔

11. دو ایسے مرکبات کے نام لکھیے جو صرف غیر دھاتوں سے بنے ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے
دو استعمال بھی بیان کیجیے۔

12. سونے کی درجہ بندی بیک وقت ایک معدنیات اور ایک دھات کے طور پر کس طرح کی جا سکتی ہے؟

Screenshot 2026-04-08 at 09-51-22 Chapter 8.pdf Screenshot 2026-04-08 at 09-51-51 Chapter 8.pdf

  • حقیقی زندگی کی مثالوں سے مزاحیہ خاکے (Comic Strips)تیار کریں تاکہ عناصر، مرکبات اور آمیزوں کے درمیان فرق کو تصویروں کے ساتھ واضح کیا جا سکے اور ان کی خصوصیات اور استعمال کی
    مثالیں دکھائیں۔
  • کچھ عناصر (جیسے فاسفورس، سوڈیم)، مرکبات (جیسے پینسلین) اور آمیزے (جیسے پیتل، کانسہ،
    اسٹین لیس اسٹیل) کی دریافتوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اپنی تحقیقات کو کلاس میں
    پیش کریں۔
  • آئیےتلاش کریں: ڈیٹرجنٹ یا نمکین(Snacks)جیسی اشیاکے لیبل پڑھیں اور ان میں موجود آمیزے اور مرکبات کی فہرست بنانے کی کوشش کریں۔
  • گروپ میں کام کریں: ہر گروپ فرض کرے کہ وہ یا تو ایک عنصر، یا ایک مرکب، یا ایک آمیزہ ہے۔ بحث کریں کہ ان میں سے کون سی قسم سب سے زیادہ اہم ہے۔