9
مُنحَل، مُحَلَّل اور محلول کی حیرت انگیز دنیا
(The Amazing World of Solutes, Solvents, and Solutions)
جانچیں اور غور کریں
- آپ کے خیال میں اوپر کی تصویر میں کیا ہو رہا ہے؟
- کیا ہوتا ہے جب آپ اپنی چائے میں بہت زیادہ چینی شامل کردیتے ہیں اور یہ گھلنا بند ہوجاتی ہے؟ آپ اس مسئلے پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟
- چینی اور نمک پانی میں کیوں گھل جاتے ہیں جب کہ تیل میں نہیں؟ پانی کو ایک اچھا محلل کیوں سمجھا جاتا ہے؟
- پانی کی بوتلیں عام طور پر گول ہونے کے بجائے لمبی اور مخروطی شکل کی کیوں ہوتی ہیں؟
اپنے سوالات کا اشتراک کریں
![]()
؟
آپ نے زندگی میں کبھی نہ کبھی اورل ری ہائیڈریشن محلول (ORS) ضرور لیا ہوگا۔ او آر ایس کا استعمال آپ کے جسم کو ہائیڈریٹ رکھ کر پانی کی کمی کا علاج کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ آپ نے گریڈ 6 کی کتاب ’تجسس‘ میں گھر پر او آر ایس بنانا سیکھا تھا۔ آپ کو عجیب لگا ہوگا کہ گھر میں بنے او آر ایس کے ہر گھونٹ کا ذائقہ ایک جیسا کیوں ہوتا ہے، چاہے آپ کتنا ہی پی لیں۔ ایک گھونٹ میں نمکین اور دوسرے گھونٹ میں میٹھا کیوں نہیں ہوتا؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ پانی میں چینی اور نمک شامل کرتے ہیں تو، وہ ایسا آمیزہ بناتے ہیں جس کے اجزا یکساں طور پر بٹ جاتے ہیں۔
کیا آپ پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ یہ آمیزہ یکساں ہوگا یا نہیں؟ (شکل 9.1 ) جب چاک پاؤڈر کو پانی کے ساتھ ملایا جائےگا تو کیا ہوگا؟ کیا یہ ایک یکساں آمیزہ تشکیل دے گا؟
جب نمک اور چینی کو پانی میں ملایا جاتا ہے تو ایک یکساں آمیزہ (Uniform Mixture) بنتا ہے جب کہ چاک پاؤڈر، ریت یا لکڑی کے برادے کو پانی میں ملانے کی صورت میں اجزا یکساں طور پر حل نہیں ہوتے۔ اس طرح کے آمیزے کو غیر یکساں آمیزہ (Non-uniform Mixture) کہا جاتا ہے۔( شکل 9.2b، 9.2a)
آئیے چیزوں کو آپس میں ملانے کی سائنس دریافت کریں۔
9.1 منحل، محلل اور محلول کیا ہیں؟
ایک یکساں آمیزہ، جیسے نمک ،چینی اور پانی، محلول (Solution) کہلاتا ہے۔ جب بھی کسی ٹھوس شے کو رقیق شے کے ساتھ ملا کر محلول بنایا جاتا ہے تو ٹھوس جزو کو منحل (Solute) اور رقیق جزو کو محلل (Solvent) کہا جاتا ہے۔محلول بنانے کے لیے، منحل محلل میں حل ہوجاتا ہے۔(شکل 9.3)
منحل + محلل
محلول
جب دو رقیق اشیا کو ملا کر کوئی محلول تشکیل دیا جاتا ہے تو یہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا کہ کون سی شے دوسرے کو تحلیل کر رہی ہے۔ ایسے معاملات میں، کم مقدار والی شے کو منحل جب کہ زیادہ مقدار والی شے کو محلل کہا جاتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہوا ایک آمیزہ ہے۔ کیا گیسوں کے آمیزے کو بھی محلول سمجھا جائے گا؟
جس طرح پانی رقیق محلولوں میں محلل کے طور پر کام کرسکتا ہے، اسی طرح گیسیں بھی محلول تشکیل دے سکتی ہیں، ہوا اس کی ایک عام مثال ہے۔
ہوا ایک گیسی محلول ہے۔ چوں کہ نائٹروجن ہوا میں سب سے زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے، لہذا اسے محلل مانا جاتا ہے، جب کہ آکسیجن، آرگن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر گیسوں کو منحل سمجھا جاتا ہے۔
کیا کبھی سنا ہے ...
بھارتی مٹھائی گلاب جامن کی چاشنی(Sugar Syrup) بڑی مقدار میں چینی (ٹھوس) سے بنی ہوتی ہے جو کم مقدار والے پانی (رقیق) میں گھل جاتی ہے۔ تاہم پانی کو پھر بھی محلل اور چینی کو منحل مانا جاتا ہے! (شکل 9.4)

سرگرمی 9.1: آئیے تفتیش کریں
- ایک صاف ستھرا شیشے کا جگ لیں اور اسے پانی سے آدھا بھر دیں۔
- اس میں ایک چمچ نمک شامل کریں اور اچھی طرح ہلائیں تاکہ یہ مکمل طور پر گھل ہوجائے۔(شکل9.5)
- آہستہ آہستہ ایک شیشے کے گلاس میں ایک ایک چمچ نمک ڈالیں اور ہلائیں۔ مشاہدہ کریں کہ آپ اس میں کتنے چمچ نمک شامل کرسکتے ہیں یہاں تک کہ یہ مکمل طور پر گھلنا بند ہو جائے۔
- جدول 9.1 میں اپنے مشاہدات درج کریں۔
اگر پانی کی دی گئی مقدار میں نمک شامل کرتے جائیں تو کیا ہوگا؟
جدول 9.1 : پانی میں نمک کی تحلیل
|
نمک کی مقدار (چائے کا چمچ) |
مشاہدہ (نمک گھل جاتا ہے / نمک نہیں گھلتاہے) |
|
ایک |
|
|
دو |
|
|
تین |
|
|
چار |
|
|
… |
بحث کے کچھ نکات
- پانی میں آپ کتنے چمچ نمک حل کر سکے،اس سے پہلے کہ اس میں کچھ نمک غیر حل شدہ بچ گیا؟
- اس سے پانی کی نمک کو حل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کیا اشارہ ملتا ہے؟
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ، شروع میں نمک مکمل طور پر پانی میں حل ہوجاتا ہے، جس سے محلول بنتا ہے۔ نمک کے مزید چند چمچ شامل کرنے کے بعد، ایک مرحلہ آتا ہے جب اور نمک مکمل طور پر حل نہیں ہوتا اور غیر حل شدہ نمک نیچے بیٹھ جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی اب مزید نمک کو حل نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ اپنی حد تک پہنچ چکا ہے۔ وہ محلول جس میں کسی دیےگئے درجۂ حرارت پر مزید منحل حل کیا جاسکے، اسے نا سیر شدہ محلول (Unsaturated Solution) کہا جاتا ہے۔ (شکل 9.5) تاہم، جب منحل حل ہونا بند ہوجاتا ہے اور نیچے بیٹھنے لگتا ہے تو محلول کو اس خاص درجۂ حرارت پر سیر شدہ محلول (Saturated Solution) کہا جاتا ہے۔
کسی محلول (یا منحل) کی مقررہ مقدار میں موجود منحل کی مقدار کو اس کا ارتکاز (Concentration) کہا جاتا ہے۔ کسی مقررہ مقدار کے محلول میں موجود منحل کی مقدار کے اعتبار سے، اسے ڈائی لیوٹ محلول (منحل کی کم مقدار) یا ایک مرتکز محلول منحل (کی زیادہ مقدار) کہا جاسکتا ہے۔ ڈائی لیوٹ اور مرتکز نسبتی اصطلاحات ہیں۔
لہٰذا سرگرمی 9.1 میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک چمچ نمک کو حل کرکے بنایا گیا محلول دو یا اس سے زیادہ چمچ نمک کو حل کرکے بنائے گئے محلول کے مقابلے میں ڈائی لیوٹ ہوتا ہے۔
کیا اب آپ غور کر سکتے ہیں کہ کون سا محلول زیادہ مرتکز ہے: 100 ملی لیٹر پانی میں 2 چمچ نمک یا 50
ملی لیٹر پانی میں 4 چمچ نمک؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ منحل کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار جو محلول کی ایک مقررہ مقدار میں حل ہوجاتی ہے، اسے اس کی حل پذیری کہا جاتا ہے۔
کیا درجۂ حرارت منحل کی حل پذیری کو متاثر کرتا ہے؟
آئیے معلوم کریں!
9.2.1 درجۂ حرارت منحل کی حل پذیری کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
سرگرمی 9.2: آئیے تجربہ کریں (مظاہراتی سرگرمی)
- شیشے کے بیکر میں تقریباً 50 ملی لیٹر پانی لیں اور تجربہ گاہی تھرمامیٹر کا استعمال کرتے ہوئے اس کے
درجۂ حرارت کی پیمائش کریں، فرض کریں یہ 20°C ہے۔ - پانی میں ایک چمچ بیکنگ سوڈا (سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ) شامل کریں اور اس کے حل ہونے تک ہلائیں۔ ہلاتے وقت تھوڑی تھوڑی مقدار میں بیکنگ سوڈا شامل کرتے رہیں، یہاں تک کہ بیکر کے نچلے حصے میں کچھ ٹھوس بیکنگ سوڈا بغیر حل ہوئے بیٹھ جائے۔
- اب ہلاتے ہوئے ان مشمولات کو 50°C تک گرم کریں (شکل 9.7)۔
- غیر حل شدہ بیکنگ سوڈا کا کیا ہوتا ہے؟
- آپ دیکھیں گے کہ یہ حل ہو گیا ہے۔
- اسی درجۂ حرارت پر ہلاتے ہوئے مزید بیکنگ سوڈا شامل کرتے رہیں جب تک کہ کچھ غیر حل شدہ ٹھوس بیکنگ سوڈا نہ بچ جائے۔
- ایک بار پھر، ہلانا جاری رکھتے ہوئے مشمولات کو مزید 70°C تک گرم کریں۔ آپ کیا دیکھتے ہیں؟
- غیر حل شدہ بیکنگ سوڈا حل ہوجاتا ہے۔
- آپ اس تجربے سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
حفاظت پہلے
گرم کرنے والے آلات کو استعمال کرتے وقت محتاط رہیں
70°C درجۂ حرارت پر پانی 50°C درجۂ حرات کے مقابلے میں زیادہ بیکنگ سوڈا حل کرتا ہے۔ 20°C پر پانی میں حل ہونے والے بیکنگ سوڈا کی مقدار اور بھی کم ہوتی ہے۔
یہ پایا گیا ہے کہ زیادہ تر اشیا کے لیے، درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ حل پذیری میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے تو کسی خاص درجۂ حرارت پر ایک سیر شدہ محلول ایک نا سیر شدہ محلول کے طور پر برتاؤ کرتا ہے۔
ہمارا سائنسی ورثہ
ہندوستان میں آیوروید، سدھا اور دیگر روایتی طریقوں میں ادویاتی نسخوں کی تیاری کے لیے پانی کو بنیادی محلل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہاہے۔ مزید برآں، جڑی بوٹیوں کے ہائیڈرو الکحلی عرقوں کا استعمال کرتے ہوئے دواؤں کے نسخے تیار کیے گئے ہیں۔ ہندوستانی طب کے نظاموں میں بھی تیل، گھی، دودھ اور دیگر مادوں کو دوا سازی کے لیے محلل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔تاکہ دوا کے معالجاتی فوائد کو حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
سائنس داں کے بارے میں
کس چیز نے اسیما چٹرجی کو ادویاتی پودوں پر کام کرنے کی ترغیب دی؟
اسیما چٹرجی مرگی اور ملیریا کے خلاف دوائیں تیار کرنے میں اپنے کام کے لیے مشہور ہیں۔ انھوں نے ادویاتی پودوں سے اہم مرکبات کو نکالنے اور الگ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر محللوں اور محلولوں کا استعمال کیا۔ انھیں ڈاکٹریٹ آف سائنس کی ڈگری تفویض کی گئی اور جانکی امّال کے بعد یہ ڈگری پانے والی وہ دوسری ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ وہ کیمیائی سائنس کے میدان میں شانتی سوروپ بھٹناگر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انھیں پدم بھوشن سے بھی نوازا گیا۔
کیا گیسیں بھی پانی میں گھل جاتی ہیں؟

آکسیجن سمیت بہت سی گیسیں پانی میں حل ہو جاتی ہیں۔ آکسیجن ایک معمولی حد تک ہی پانی میں حل ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ پانی میں معمولی مقدار میں ہوتی ہے، پھر بھی یہی حل شدہ آکسیجن پودوں، مچھلیوں اور دیگر جانداروں سمیت تمام آبی زندگی کو برقرار رکھتی ہے۔
کیا پانی میں گیسوں کا آمیزہ یکساں ہوتا ہے یا غیر یکساں؟
یہ ایک یکساں آمیزہ ہوتا ہے کیوں کہ گیسیں پانی میں یکساں طور پر حل ہو کر محلول بناتی ہیں۔
کیا درجۂ حرارت مائع میں گیسوں کی حل پذیری کو بھی متاثر کرتا ہے؟ اگر ہاں، تو کیسے؟
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ درجۂ حرارت بڑھنے کے ساتھ گیسوں کی حل پذیری عام طور پر کم ہوجاتی ہے۔ ٹھنڈے پانی میں زیادہ آکسیجن حل ہوسکتی ہے، جس سے آبی حیات کے لیے کافی آکسیجن کو یقینی بنایا جاسکتا ہے (شکل 9.8)۔ دوسری طرف، جب پانی گرم ہوتا ہے، تو آکسیجن کی حل پذیری کم ہو جاتی ہے۔
اب مجھے سمجھ میں آیا کہ ہم جو آمیزے استعمال کرتے ہیں وہ دو قسم کے ہوسکتے ہیں: یکساں اور غیر یکساں۔ یکساں آمیزوں کو محلول کہا جاتا ہے اور ان کے اجزا الگ الگ نظر نہیں آتے ہیں۔ غیر یکساں آمیزوں میں اجزا کو کھلی آنکھ سے یا تکبیری آلے کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے۔
میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ غیر یکساں آمیزوں جیسے پانی اور لکڑی کے برادے کے آمیزے میں، برادہ پانی کے اوپر تیرتا ہے، جب کہ ریت اور پانی کے آمیزے میں، ریت ڈوب جاتی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
9.4 چیزیں پانی میں تیرتی یا ڈوبتی کیوں ہیں؟
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ کچھ اشیا پانی میں تیرتی ہیں جب کہ دیگر ڈوب جاتی ہیں (شکل 9.9)۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ چاول دھوتے وقت چاول میں موجود بھوسے کے ذرات پانی کی سطح پر تیرتے ہیں جب کہ چاول برتن کی تہہ میں ڈوب جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اگر آپ پانی میں تیل شامل کرتے ہیں تو، یہ پانی پر تیرتا ہے۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ رقیق میں تیرنے والی اشیا اس رقیق سے ہلکی ہوتی ہیں اور دیگر اشیا جو ڈوب جاتی ہیں وہ رقیق سے بھاری ہوتی ہیں۔
لکڑی کی چھڑی اور لوہے کی چھڑدونوں ایک ہی جسامت کی ہوسکتی ہیں، لیکن لوہے کی چھڑ بہت بھاری محسوس ہوتی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ لوہا لکڑی سے زیادہ بھاری ہے تو ہم ایک نمایاں خصوصیت کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جسے کثافت (Density)کہا جاتا ہے۔ کثافت کسی شے کے بھاری پن کو بیان کرتی ہے۔
شکل9.9:کچھ چیزیں پانی میں تیرتی ہیں جب کہ دیگر ڈوب جاتی ہیں
نوٹ
البتہ کسی شےکی کثافت واحد سبب نہیں ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا وہ کسی مخصوص مائع میں تیرے گا یا ڈوب جائے گا۔
آئیے مزید چھان بین کریں
کسی بھیڑ بھاڑ والی بس کا تصور کریں جس میں بہت سے لوگ ایک ساتھ بھر جائیں۔ یہ اعلیٰ کثافت کی ایک مثال ہے، جب کہ اسی بس میں اگر چند افراد ہوں تو یہ کم کثافت کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح کسی جنگل میں اگر درخت ایک دوسرے کے قریب قریب آگئےہوں تو اسے گھنا (کثیف) جنگل (شکل 9.10a)کہا جاتا ہے لیکن اگر درخت بہت دور دور ہوں
(شکل 9.10b) تو اسے کم گھنا سمجھا جاتا ہے۔
شکل 9.10a: گھنا جنگل
شکل9.10b: کم گھنا جنگل
سائنس داں کثافت کی تعریف کیسے کرتے ہیں؟
آئیے معلوم کریں۔
ہم نے پڑھا ہے کہ مادہ وہ چیز ہے جس میں کمیت ہوتی ہے اور یہ جگہ گھیرتا (حجم) ہے۔ کثافت کی تعریف اس شے کے اکائی حجم میں موجود کمیت کے طور پر کی جاتی ہے۔
فارمولے کا استعمال کرتے ہوئے کسی مادے کی کثافت کو ریاضیاتی طور پر یوں ظاہر کیا جاسکتا ہے:
کسی مادے کی کثافت اس کی شکل یا جسامت پر منحصر نہیں ہوتی۔ تاہم، یہ درجۂ حرارت اور دباؤ پر منحصر ہوتی ہے۔ دباؤ بنیادی طور پر گیسوں کی کثافت پر اثر ڈالتا ہے، جب کہ ٹھوس اور مائع اشیا پر اس کا اثر بے حد معمولی ہوتا ہے۔
جن اکائیوں میں کثافت کو ظاہر کیا جاتا ہے ان کا انحصار کمیت اور حجم کی اکائیوں پر ہوگا۔ جیسا کہ آپ نے پڑھا ہے، کمیت اور حجم کی ایس آئی اکائیاں بالترتیب کلوگرام (kg) اور مکعب میٹر (m3) ہیں۔ لہٰذا کثافت کی ایس آئی اکائی کلوگرام فی مکعب میٹر ہے، جسے مختصراً kg/m3 لکھا جاتا ہے۔ رقیق کے معاملے میں سہولت کے لیے کثافت کی دیگر اکائیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں، جیسے گرام فی ملی لیٹر، جسے مختصراً g/mL اور گرام فی مکعب سینٹی میٹر، جسے g/cm3 لکھا جاتا ہے۔
کثافت کے لیے تبدیلی کا جزو ضربی
1 kg/m3 = 1000 g/m3 = 1000 g/1000 L = 1 g/L = 1 g/1000 mL =
1 g/1000 cm3
کمرے کے درجۂ حرارت پر 1 ملی لیٹر پانی کی کمیت 1 گرام کے قریب ہوتی ہے۔ پانی کی کمیت کی پیمائش کے لیے، ہم عام طور پرحجم کو mL میں اس کی کمیت کو g میں لیتے ہیں۔ لہذا، 10 ملی لیٹر پانی تقریباً 10 گرام ہوگا۔ اسی طرح 100 ملی لیٹر پانی تقریباً 100 گرام ہوگا۔
فرض کیجیے کہ ایک ایلومینیم بلاک کی کمیت 27 گرام ہے اور اس کا حجم 10 مکعب سینٹی میٹر ہے، اس کی کثافت 2.7g/cm3 ہے۔
درج بالا کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایلومینیم پانی سے 2.7 گنا زیادہ کثیف ہوتا ہے۔ ہم اس حقیقت کو یہ کہہ کر ظاہر کرتے ہیں کہ پانی کے حوالے سے ایلومینیم کی نسبتی کثافت 2.7 ہوتی ہے۔ یہ بغیر اکائی کا عدد ہے۔
شکل9.11: بوتل بند تیل
ایک سائنس داں کی طرح سوچیں
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ گھی یا تیل کے کچھ پیکٹوں پر ایک لیٹر کے حجم کا لیبل لگایا جاتا ہے لیکن ان کا وزن صرف 910 گرام ہوتا ہے(شکل 9.11)؟ اس سے ہمیں تیل کی کثافت کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے اور کیا یہ پانی سے کم ہے یا زیادہ؟
9.5.1 کثافت کا تعین
کسی شے کی کثافت کا تعین اس کی کمیت اور حجم کی پیمائش کرکے کیا جاسکتا ہے۔
کمیت کی پیمائش کیسے کریں؟
آپ نے گریڈ 6 کی کتاب تجسس میں ’کمیت‘ کی اصطلاح پڑھی ہے۔ کمیت کسی بھی شے میں موجود مادے کی مقدار ہے۔ کسی شے کی کمیت کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والا آلہ ترازو (Balance) کہلاتا ہے۔ آپ نے دکانداروں کو مختلف قسم کے ترازو استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ یہاں ہم کمیت کی پیمائش کرنے کے لیے ڈیجیٹل ترازو (Digital Weighing Balance) کا استعمال کر رہے ہیں۔ آپ نے باب ’قوتوں کا مطالعہ‘ میں پڑھا ہے کہ زمین پر وزن اور کمیت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
آپ مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دے کر کمیت کی پیمائش کرسکتے ہیں۔
سرگرمی 9.3: آئیے پیمائش کریں
- ڈیجیٹل ترزاو کو ‘آن’کریں۔
- ڈیجیٹل ترزاو کے ڈسپلے پر ابتدائی ریڈنگ کا مشاہدہ کریں۔
- یہ ریڈنگ صفر ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے، تو ہمیں ٹیئر(Tare)یا ری سیٹ
(Reset)بٹن دبا کر اسے صفر پر لانا ہوگا جیسا کہ شکل 9.12a میں دکھایا گیا ہے۔ - ترازو کے پلڑے پر ایک خشک اور صاف واچ گلاس یا بٹر پیپر رکھیں۔
- ڈیجیٹل ترازو پر ریڈنگ نوٹ کریں۔
- ٹیئر یا ری سیٹ بٹن دبا کر ڈیجیٹل ترازو کی ریڈنگ کو صفر پر ری سیٹ کریں جیسا کہ شکل 9.12bمیں دکھایا گیا ہے۔
- اب پتھر جیسی کسی ٹھوس شےکو واچ گلاس پر احتیاط سے رکھیں(شکل9.12c)۔
- ترازو پر دکھائی دینے والی ریڈنگ کو نوٹ کریں، جو پتھر کی کمیت کو ظاہر کرتی ہے، مثلاً 16.400 گرام۔
آپ اپنے اسکول میں دستیاب کسی بھی دوسری قسم کی ترازو استعمال کرسکتے ہیں۔
نوٹ
کسی رقیق کی کمیت کی پیمائش واچ گلاس کی جگہ بیکر رکھ کر اور اس میں مطلوبہ مقدار میں رقیق شے ڈال کر کی جاسکتی ہے۔
اگلا قدم
جیسا کہ باب 5 میں ذکر کیا گیا ہے، ’کمیت‘ اور ‘’وزن‘ کے الفاظ اکثر روزمرہ کی زبان میں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن سائنس میں ان کے مختلف معنی ہیں، جو بعض اوقات الجھن کا سبب بن سکتے ہیں۔ کمیت کسی شے یا چیز میں موجود مادے کی مقدار ہے۔ اس کی اکائیاں گرام (g) اور کلوگرام (kg) ہیں۔ دوسری طرف وزن وہ قوت ہے جس کے ذریعے زمین کسی شے یا چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس کی پیمائش نیوٹن (N) میں کی جاتی ہے۔ زیادہ تر ترازو (سوائے دو پلڑوں والی ترازو کےشکل 9.13) درحقیقت وزن کی پیمائش کرتی ہیں، لیکن ان کے پیمانے کمیت کی اکائیوں میں نشان زد ہوتے ہیں، لہٰذا یہ گرام یا کلوگرام میں قدریں ظاہر کرتی ہیں۔
حجم کی پیمائش کیسے کریں؟
ایک ٹیٹرا پیک پر لکھا ہے کہ اس میں 200 ملی لیٹر چھاچھ (Buttermilk)ہے (شکل 9.14)۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
آپ نے گریڈ 6 کی کتاب ’تجسس‘ میں پڑھا تھا کہ حجم کسی شے کے ذریعے گھیری گئی جگہ ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ حجم کی ایس آئی اکائی مکعب میٹر ہے، جسے m³ لکھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے مکعب کا حجم ہے جس کے ہر ضلع کی لمبائی ایک میٹر ہے۔ چھوٹی اشیا کا حجم سہولت کے لیے مکعب ڈیسی میٹر (dm3) یا مکعب سینٹی میٹر(cm3) میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایک مکعب سینٹی میٹر کو ایک cc بھی لکھا جاتا ہے۔ رقیق شے کا حجم لیٹر (L) میں ظاہر کیا جاتا ہے، جو3md1کے برابر ہوتا ہے۔ ایک لیٹر کا عام طور پر استعمال ہونے والا ذیلی ضعف ملی لیٹر (mL) ہے، جو 1 مکعب سینٹی میٹر (1cm3) کے برابر ہوتا ہے۔
رقیق شے کے حجم کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے عام آلہ پیمائشی سلنڈر (Measuring Cylinder)ہے۔ یہ ایک تنگ اور شفاف اُسطوانی برتن ہے جس کا ایک سرا کھلا اور دوسرا بند ہوتا ہے۔ جیسا کہ(شکل 9.15) میں دکھایا گیا ہے۔ سلنڈر کے شفاف جسم پر نشانات بنے ہوتے ہیں جو پیمائشی سلنڈر میں رقیق کے حجم کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ہم اسے رقیق شے کی مطلوبہ مقدار کی پیمائش کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
حجم کی پیمائش کرنے کے لیے پیمائشی سلنڈر مختلف سائز میں دستیاب ہیں مثلاً 5 ملی لیٹر، 10 ملی لیٹر، 25 ملی لیٹر، 50 ملی لیٹر، 100 ملی لیٹر، 250 ملی لیٹر، وغیرہ۔ یہ پیمائشی سلنڈر کتنے درست طریقے سے پیمائش کرسکتے ہیں؟
آئیے معلوم کریں!
سرگرمی 9.4: آئیے مشاہدہ کریں اور حساب لگائیں
گریڈ 6 کی درسی کتاب ‘تجسس’ کے باب ’درجۂ حرارت اور اس کی پیمائش‘ میں آپ نے تھرمامیٹر کا استعمال کرنے اور اس کی سب سے چھوٹی ریڈنگ نکالنے کا طریقہ سیکھا تھا۔ آپ پیمائشی سلنڈر کے ساتھ بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔
ایک پیمائشی سلنڈر لیں اور احتیاط سے اس کا مشاہدہ کریں۔ مندرجہ ذیل کو نوٹ کریں:
- یہ زیادہ سے زیادہ کتنے حجم کی پیمائش کرسکتا ہے؟
اب پیمائشی سلنڈرکا بغور مشاہدہ کریں(شکل 9.16) ۔ سلنڈر کو 100 ملی لیٹر کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے؛ لہٰذا یہ 100 ملی لیٹر تک حجم کی پیمائش کرسکتا ہے۔
یہ کم سے کم کتنے حجم کی پیمائش کرسکتاہے؟ پیمائشی سلنڈر کو دوبارہ دیکھیں۔
- دو بڑے نشانات کے درمیان (مثال کے طور پر، 10 ملی لیٹر اور 20 ملی لیٹر کے درمیان) حجم کا فرق کتنا ہے؟
- دو بڑے نشانات کے درمیان کتنے چھوٹے نشانات ہیں؟
- ایک چھوٹا نشان کتنے حجم کی نشان دہی کرتاہے؟
پیمائشی سلنڈروں کو بیکر کی طرح چھوٹا اور چوڑا بنانے کے بجائے ہمیشہ پتلا اور لمبا کیوں بنایا جاتا ہے۔
وہ کم سے کم حجم جسے پیمائشی سلنڈرپڑھ سکتا ہے ____________ہے۔
شکل9.16 میں دکھائے گئے پیمائشی سلنڈر وں میں ، 10 ملی لیٹر اور 20 ملی لیٹر ، یا 40 ملی لیٹراور 50 ملی لیٹر کے درمیان حجم کا فرق 10 ملی لیٹر ہے۔
ان نشانات کے درمیان ذیلی(چھوٹے) نشانات کی تعداد 10 ہے۔
لہٰذا، ایک چھوٹا نشان 10 ÷ 10 =1 ملی لیٹر پڑھ سکتا ہے۔
یعنی سب سے چھوٹی قدر جو یہ پیمائشی سلنڈر پڑھ سکتا ہے وہ 1 ملی لیٹرہے۔
پیمائشی سلنڈر کے ذریعے پیمائش کیے جانے والے کمترین حجم کا انحصار پیمائشی سلنڈر کی گنجائش پر ہوتا ہے۔ عام طور پر 10 ملی لیٹر یا 25 ملی لیٹر کی گنجائش والے چھوٹے پیمائشی سلنڈروں میں یہ 0.1ملی لیٹر ہوتا ہے، 100 ملی لیٹر پیمائشی سلنڈر میں یہ 1 ملی لیٹر ، 250 ملی لیٹر پیمائشی سلنڈر میں 2 ملی لیٹر اور 500 پیمائشی سلنڈر میں 5 ملی لیٹر ہوتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ہم 70 ملی لیٹر پانی لینا چاہتے ہیں۔ اگر ہم 50 ملی لیٹر پیمائشی سلنڈرکا استعمال کرتے ہیں توایک مرتبہ میں 70 ملی لیٹر پانی کی پیمائش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پہلے ہمیں 50 ملی لیٹر پانی اور پھر 20 ملی لیٹر پانی کی پیمائش کرنی ہوگی۔ کئی مرتبہ میں حجم کی پیمائش کرنا آسان نہیں ہے۔ دوسری طرف، اگر 250 ملی لیٹر یا 500 ملی لیٹر پیمائشی سلنڈرکا استعمال کیا جاتا ہے تو پیمائش ایک مرتبہ میں کی جاسکتی ہے لیکن درستگی کم ہوجائے گی کیوں کہ یہ پیمائشی سلنڈر کم سے کم جتنے حجم کی پیمائش کرسکتے ہیں وہ 100ملی لیٹر پیمائشی سلنڈر سے زیادہ ہے ۔ لہٰذا، 100 ملی لیٹر پیمائشی سلنڈر اس پیمائش کے لیے بہترین انتخاب ہے۔
شکل9.16: 160ملی لیٹرگنجائش والا پیمائشی سلنڈر
سرگرمی 9.5: آئیے 50 ملی لیٹر پانی کی پیمائش کریں
- ایک صاف اور خشک پیمائشی سلنڈرکو کسی ہموار سطح پر رکھیں۔
- پیمائشی سلنڈر میں مطلوبہ نشان تک آہستہ آہستہ پانی ڈالیں جیسا کہ شکل 9.17میں دکھایا گیا ہے۔
- اگر ضروری ہو تو ڈراپر کی مددسے پانی کی تھوڑی سی مقدار شامل کرکے یا نکال کر پیمائشی سلنڈر میں پانی کی سطح کو درست کریں۔
- احتیاط کے ساتھ مشاہدہ کرنے پر آپ دیکھیں گے کہ پیمائشی سلنڈر کے اندر پانی ایک خمیدہ سطح بناتا ہے۔ اس خمیدہ سطح کو ہلالی سطح (Meniscus)کہا جاتا ہے(شکل9.18)۔
- پیمائشی سلنڈر پر اس نشان کو پڑھیں جو پانی یا دیگر بے رنگ رقیق اشیا کے لیے ہلالی سطح کے پیندے کے ساتھ منطبق ہے۔
- یہ یقینی بنائیں کہ ریڈنگ نوٹ کرتے وقت آپ کی آنکھیں ہلالی سطح کے پیندے کے ٹھیک سامنے ہوں جیسا کہ (شکل9.18)میں دکھایا گیا ہے۔

- جب یہ مطلوبہ سطح یعنی 50 ملی لیٹر تک پہنچ جائے تو اس پانی کو دوسرے برتن میں ڈال دیں۔
رنگین رقیق اشیا کے معاملے میں پیمائشی سلنڈر کا نشان ہلالی سطح کے بالائی حصے کے ساتھ منطبق ہونا چاہیے!
مجھے حیرت ہے کہ رنگین رقیق شے کی سطح کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟
باقاعدہ شکل والی ٹھوس اشیا کے حجم کا تعین کرنا

- نوٹ بک، جوتے کا ڈبہ، یا پانسہ جیسی مکعبی شکل والی مختلف اشیا جمع کیجیے۔
- پیمانے(اسکیل)کا استعمال کر کے اشیا کی لمبائی (l)، چوڑائی (w) اور اونچائی (h)کی پیمائش کریں۔
فرض کیجیےکہ نوٹ بک کی لمبائی 25 سینٹی میٹر، چوڑائی 18سینٹی میٹر اور اونچائی 2 سینٹی میٹر ہے۔ - مندرجہ ذیل فارمولے کی مدد سے حجم کا حساب لگائیں۔
حجم = h × w × l
حجم 900 cm3 = 2 cm × 18 cm × 25 cm =
- اپنی نوٹ بک میں درج کریں۔
بے قاعدہ شکل والی اشیا کے حجم کا تعین کرنا
تصور کیجیے کہ آپ کے پاس پتھر جیسی کوئی ایسی چیز ہے جس کی شکل باقاعدہ نہیں ہے۔ اس کی کثافت کا حساب لگانے کے لیےاہم مسئلہ اس کا حجم معلوم کرنا ہے۔ آئیے سیکھیں کہ بے قاعدہ شکل والی ٹھوس شےکا حجم کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
سرگرمی 9.7: آئیے پیمائش کریں
- اپنے آس پاس موجود مختلف اشیا جمع کریں جیسے پتھر، دھات کی چابیاں وغیرہ ۔
- ایک پیمائشی سلنڈر میں کسی بھی مطلوبہ حجم جیسے 50 ملی لیٹر تک پانی بھریں(شکل 9.19a) اور ابتدائی حجم کو جدول 9.2 میں درج کریں۔
- کسی شے مثلاً پتھر کو دھاگے سے باندھیں اور آہستہ آہستہ پیمائشی سلنڈر میں ڈالیں۔
- آپ کیا دیکھتے ہیں؟
- سطح بڑھنے کے بعد حتمی حجم درج کریں،مثلاً 55 ملی لیٹر، جیسا کہ (شکل 9.19b)میں دکھایا گیا ہے۔
- شے کو پیمائشی سلنڈر میں ڈالنے کے بعد حتمی حجم سے ابتدائی حجم کو گھٹائیں ۔ یہ شے کا حجم ہے۔
- اپنے مشاہدات کو جدول 9.2میں ریکارڈ کریں۔
شکل9.19: پیمائش سلنڈر میں پانی کی سطح (a) شے کے بغیر؛ (b) شے کے ساتھ
جدول 9.2: بے قاعدہ ٹھوس اشیا کا حجم
|
نمبر شمار |
شے |
پیمائشی سلنڈر میں پانی کا ابتدائی حجم(mL) (A) |
پیمائشی سلنڈر میں پانی کا حتمی حجم(mL) (B) |
پیمائشی سلنڈر میں ہٹائے گئے پانی کا حجم(mL) (B-A) |
شےکا حجم (cm³) |
|
1. |
پتھر |
50 mL |
55 mL |
5 mL |
5 cm3 |
|
2. |
دھات کی چابی |
||||
|
3. |
دیگر شے |
نوٹ
حجم کی قدریں ملی لیٹر(mL) اکائیوں میں حاصل کی جاتی ہیں جنھیں ٹھوس شے کے لیے استعمال کی جانے والی معادل اکائی cm³ میں لکھاجاسکتا ہے۔
ہم پہلے ہی مختلف قسم کی رقیق اور ٹھوس اشیا کی کمیت اور حجم کی پیمائش کرنا سیکھ چکے ہیں۔ ان مقداروں کا استعمال شے یا چیز کی کثافت کا حساب لگانے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔
آئیے کثافت کا حساب لگائیں
کثافت کی تحسیب مندرجہ ذیل فارمولے کی مدد سے کی جاسکتی ہے:
آئیے گہرائی سے سوچیں!
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارا سیارہ یعنی زمین کئی پرتوں پر مشتمل ہے جیسے قشر(crust)، بالائی مینٹل، زیریں مینٹل، بیرونی کور اور اندرونی کور۔ ہر ایک پرت کی کثافت اپنی مخصوص حد میں ہے؟ سب سے باہر والی پرت جسےقشر کہا جاتا ہے، سب سے ہلکی ہوتی ہے اور جیسے جیسے ہم مرکز کی طرف بڑھتے ہیں ، مختلف پرتوں کی کثافت میں اضافہ ہوتا جاتاہے(شکل9.20)۔ جیسے جیسے ہم زمین کی گہرائی میں جاتے ہیں ، دباؤ اور درجۂ حرارت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوتا جاتاہے، جس سے مواد نسبتاًبھاری اور کثیف ہوجاتا ہے۔
کیاکبھی سنا ہے ...
قدیم زمانے میں، بڑے بحری جہازوں کی ایجاد سے پہلے، لوگ دریاؤں اور سمندروں میں سفر کرنے کے لیے بانس اور لکڑی کے لٹھوں کا استعمال کرتے تھے(شکل9.21)۔ بانس کا استعمال اس لیے کیا جاتا تھا کیوں کہ یہ ہلکا اورکھوکھلا ہوتا ہے اور پانی پر آسانی سے تیرتا ہے۔ لوگ مچھلی پکڑنے، تجارت کرنے اور آبی ذخائر کو عبور کرنے کے لیے بانس کے ڈنڈوں کو آپس میں باندھ کر بیڑے اور چھوٹی کشتیاں بناتے تھے۔ خاص طور پر مضبوط درختوں سے حاصل کیے گئے لکڑی کے لٹھوں کو کھوکھلا کرکے کشتیاں بنائی جاتی تھیں یا انھیں بیڑوں کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا۔ مقامی طور پر دستیاب مواد سے بنائی گئی یہ سادہ کشتیاں آنے جانے اور مختلف مقامات کوآپس میں جوڑنے کے لیےبہت اہمیت کی حامل تھیں۔ کچھ علاقوں میں بانس یا لکڑی سے بنی اسی طرح کی روایتی کشتیاں نہ صرف نقل و حمل کے لیے بلکہ سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے آج بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔
شکل9.21: بانس سے بنا بیڑا پانی پر تیرتا ہے
کثافت پر درجۂ حرارت کا اثر
عام طور سے شے کو گرم کرنے پر اس کی کثافت کم ہوجاتی ہے اور ٹھنڈا کرنے پر بڑھتی ہے۔ اس کی وضاحت آپ باب ’مادے کی ذراتی نوعیت‘ میں کی گئی آموزش کی بنیاد پر کر سکتے ہیں ۔ جیسے جیسے درجۂ حرارت بڑھتا ہے، شے کے ذرات خواہ وہ ٹھوس، رقیق یا گیس ہو ایک دوسرے سے دور چلے جاتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں حجم میں اضافہ ہوتا ہے لیکن کمیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
چوں کہ کثافت = کمیت/حجم ہے،لہٰذاگرم ہونے پر، حجم میں اضافہ ہوتا ہے اور کثافت کم ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گرم ہوا اوپر کیوں اٹھتی ہے کیوں کہ اس کی کثافت آس پاس کی ٹھنڈی ہوا سے کم ہوتی ہے۔ گرم ہوا کا غبارہ بھی اسی اصول پر کام کرتا ہے(شکل9.22)۔
شکل9.22: گرم ہوا کے غباروں کا اوپر اٹھنا
9.5.3 کثافت پر دباؤ کا اثر
مادے کی حالت کی بنیاد پر دباؤ، کثافت کو مختلف طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ گیسوں کے معاملے میں دباؤ بڑھنے پر ذرات ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔ نتیجتاً گیس کا حجم کم ہو جاتا ہے اور اس کی کثافت بڑھ جاتی ہے۔ رقیق اشیاکے معاملے میں دباؤ کا اثرکم ہوتا ہے کیوں کہ وہ تقریباً ناداب پذیر(Incompressible)ہوتے ہیں۔ ہم نے باب ’مادّے کی ذراتی فطرت ‘ میں پڑھا ہے کہ ٹھوس اشیا میں ذرات ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ لہٰذادباؤ ڈالنے پر ٹھوس اشیا کی کثافت کیسے متاثر ہوتی ہے؟ ٹھوس اشیا، رقیق اشیا کے مقابلے دباؤ سے اوربھی کم متاثر ہوتے ہیں اور ان کی کثافت میں تبدیلیاں عام طورپر اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ انھیں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
کیاکبھی سنا ہے ...
برف ، پانی پر کیوں تیرتی ہے؟ برف پانی پر اس لیے تیرتی ہے کیوں کہ یہ رقیق پانی سے ہلکی ہوتی ہے(شکل9.23)۔ پانی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی کثافت 4 ڈگری سیلسیس پر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ 4 ڈگری سیلسیس پانی بھاری ہے۔ جیسے جیسے درجۂ حرارت کم ہوتا جاتا ہے اور پانی 0°C پر برف میں تبدیل ہوتی ہےتو اس کی ساخت بدل جاتی ہے یعنی ذرات خود کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وہ زیادہ جگہ گھیرنے لگتے ہیں۔ اس عمل کو توسیع کہا جاتا ہے۔ چوں کہ پانی کی وہی مقدار اب زیادہ جگہ گھیرتی ہے لہٰذا اس کی کثافت کم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً برف رقیق پانی سے ہلکی ہو جاتی ہے اور اس کی سطح پر تیرنے لگتی ہے۔
یہ جھیلوں اور سمندروں میں رہنے والے جانوروں کے لیے اہم ہے کیوں کہ برف تیرتی ہے اور یہ اوپر ایک پرت بنالیتی ہےجس کے نیچے پانی اتنا گرم رہتا ہے کہ مچھلیاں اور دیگر جاندار انتہائی سرد موسم میں بھی زندہ رہ سکیں۔
شکل9.23: برف پانی پر تیرتی ہے
سائنس داں کی طرح سوچیں
- ایک شیشے کا گلاس لیں اور اس میں نل کا پانی بھریں۔ ایک پورا کچا انڈا احتیاط کے ساتھ پانی میں ڈالیں اور مشاہدہ کریں کہ کیا ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ انڈا پانی میں ڈوب جاتا ہے (شکل9.24)۔
- آپ اس سیٹ اپ میں کیا تبدیلی کرسکتے ہیں جس سے انڈاڈوبنے کے بجائے پانی میں تیرنے لگے ؟
- اس باب میں آپ نے کثافت کے تصورکا مطالعہ کیا ہے اور یہ جزوی طور پر اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کچھ اشیا کیوں تیرتی ہیں جب کہ دیگر ڈوب جاتی ہیں۔
خلاصہ
- جب دو یا دو سے زیادہ اشیا مل کر ایک یکساں آمیزے کی تشکیل کرتی ہیں تو محلول بنتا ہے۔
- جب بھی کسی ٹھوس شے کو رقیق شے کے ساتھ ملا کر محلول بنایا جاتا ہے تو ٹھوس جزو کو منحل (Solute)اور رقیق جزو کو محلل (Solvent)کہا جاتا ہے ۔
- دو رقیق اشیا کو ملا نے سے بنے محلول میں کم مقدار والے جزو کو منحل اور دوسرے جزو کو محلل کہا جاتا ہے۔
- ہوا میں، نائٹروجن کو محلل مانا جاتا ہے جب کہ آکسیجن، آرگن، کاربن ڈائی آکسائڈاور دیگر گیسوں کو منحل سمجھا جاتا ہے۔
- ایسا محلول جس میں منحل کی زیادہ سے زیادہ مقدار حل ہو چکی ہو اور اس درجۂ حرارت پر مزید منحل حل نہ ہو سکے سیر شدہ محلول (Saturated Solution)کہلاتا ہے۔
- ایسا محلول جس میں کسی مخصوص درجۂ حرارت پر منحل کی مزید مقدار کو حل کیا جاسکےناسیر شدہ محلول (Unsaturated Solution)کہلاتا ہے۔
- حل پذیری منحل کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے جو کسی خاص درجۂ حرارت پرمحلول یامحلل کی مقررہ مقدار (100 ملی لیٹر) میں حل ہوسکتی ہے۔
- عام طور پر درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ رقیق اشیا میں، ٹھوس کی حل پذیری بڑھ جاتی ہے اور گیسوں کی حل پذیری کم ہو جاتی ہے۔
- کسی شے میں موجود مادے کی مقدار اس شے کی کمیت کہلاتی ہے۔
- کسی شے یا چیز کے ذریعے گھیری ہوئی جگہ کو اس کا حجم کہا جاتا ہے۔
- کمیت اور حجم کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے آلات بالترتیب ترازو اور پیمائشی سلنڈر ہیں۔
- کسی شےکے فی اکائی حجم کی کمیت کو اس کی کثافت (کثافت = کمیت/حجم)کہا جاتا ہے۔
- عام طور پر، درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ کثافت کم ہوجاتی ہے اور دباؤ مادے کی حالت کی بنیاد پر کثافت کو مختلف طریقے سے متاثر کرتا ہے۔
تجسس کو برقرار رکھیں
- بتائیے کہ ذیل میں دیےگئے بیانات صحیح (T) ہیں یا غلط (F)۔ غلط بیان کو درست کیجیے۔
- آکسیجن گیس ٹھنڈے پانی کے بجائے گرم پانی میں زیادہ تیزی سے گھلتی ہے۔
- ریت اور پانی کا آمیزہ ایک محلول ہے۔
- کسی بھی شے کے ذریعے گھیری ہوئی جگہ کی مقدار کو اس شے کی کمیت کہا جاتا ہے۔
- ایک ناسیر شدہ محلول میں سیر شدہ محلول کے مقابلے میں زیادہ منحل گھلا ہوتا ہے۔
- کرہ باد میں موجود مختلف گیسوں کا آمیزہ بھی ایک محلول ہے۔
- خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
- ٹھوس کے حجم کی پیمائش ہٹاؤ(Displacement) کے طریقے کی مدد سے کی جاسکتی ہے، جہاں ٹھوس پانی میں ______ ہے اور پانی کی سطح میں ______ کی پیمائش کی جاتی ہے۔
- کسی خاص درجۂ حرارت پر ______ میں حل ہونے والے ______ کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو اس درجۂ حرارت پر حل پذیری کہا جاتا ہے۔
- عام طور پر درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ کثافت میں ______ ہے۔
- وہ محلول جس میں گلوکوز پانی میں مکمل طور پر حل ہو جاتا ہے اور دیے ہوئے درجۂ حرارت پر مزید گلوکوز حل نہیں ہوسکتا، گلوکوز کا ______ محلول کہلاتا ہے۔
- آپ ایک گلاس میں تھوڑا سا پانی لے کر اس میں تیل ڈالتے ہیں ۔ تیل اوپر تیرنے لگتا ہے۔ اس سے آپ کو کیامعلوم ہوتا ہے؟
- تیل پانی سے زیادہ کثیف ہے
- پانی تیل سے زیادہ کثیف ہے
- تیل اور پانی دونوں کی کثافت یکساں ہے
- تیل پانی میں حل پذیرہے
- ایک پتھر کے مجسمے کا وزن 225گرام اور حجم cm³ہ90 ہے۔ اس کی کثافت کا حساب لگائیے اور پیشین گوئی کیجیے کہ آیا یہ پانی میں تیرے گا یا ڈوب جائے گا۔
- مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیان سب سے مناسب ہےاور دیگر بیانات مناسب کیوں نہیں ہیں؟
- ایک سیر شدہ محلول کسی دیے ہوئے درجۂ حرارت پراور زیادہ منحل گھول سکتا ہے۔
- ایک نا سیر شدہ محلول میں دیے گئے درجۂ حرارت پرمنحل کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ مقدارحل ہوچکی ہے۔
- اس درجۂ حرارت پر سیر شدہ محلول میں مزید منحل کو حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
- ایک سیر شدہ محلول صرف اونچے درجۂ حرارت پر ہی بنتا ہے۔
- آپ کے پاس 2 لیٹر حجم والی ایک بوتل ہے۔ آپ اس میں 500 ملی لیٹر پانی ڈالتے ہیں۔ بوتل میں کتنا پانی اور آ سکتا ہے؟
- ایک شے کی کمیت 400گرام اور حجم 40cm3ہے۔ اس کی کثافت معلوم کیجیے؟
- شکل 9.25aاور9.25bکا تجزیہ کیجیے۔ بغیر چھلکے والا سنترہ تیرتا ہے جب کہ چھلکے والا سنترہ ڈوب جاتا ہے؟ وجہ بیان کیجیے۔
- شےAکی کمیت 200 گرام اور حجم 40cm3 ہے۔ شےBکی کمیت 240گرام اور حجم 60cm³ ہے۔ کون سی شے کی کثافت زیادہ ہے؟
- ریما کے پاس ماڈلنگ کلے کا ایک ٹکڑا ہے جس کا وزن 120گرام ہے۔ وہ پہلے اسے 60cm3حجم والے ایک کثیف مکعب کی شکل میں ڈھالتی ہے ، بعد میں سپاٹ کرکے اس کی ایک پتلی چادر بنا دیتی ہے۔
پیشین گوئی کیجیے کہ اس کی کثافت پر کیا اثرپڑے گا؟ - لوہے کے ایک ٹکڑے کی کمیت 600 گرام اور کثافت 7.9g/cm3 ہے۔ اس کا حجم معلوم کیجیے؟
- آپ کو ایک تجرباتی سیٹ اپ فراہم کیا گیا ہے جیسا کہ شکل9.26a اور 9.26b میں دکھایا گیا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب (شکل9.26b)کو گرم پانی (70°C~) والے بیکر میں رکھنے پر شیشے کی نلی میں پانی کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ یہ کثافت کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
دریافت، ڈیزائن اور بحث
� بحیرہ مردار پر تحقیقی منصوبہ: بحیرہ مردار میں آبی حیات کیوں نہیں ہے؟ یہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ کیا اسی طرح کا کوئی اور آبی ذخیرہ موجود ہے۔
� جانچ کیجیے کہ عام نمک مختلف محلل جیسے پانی، سرکااور تیل میں کتنی اچھی طرح حل ہوجاتا ہے۔ ہر محلل میں نمک کی حل پذیری کا موازنہ کیجیے اور اپنے مشاہدات کو درج کیجیے۔
� کلاس میں بحث —کیا پانی واقعی ایک ہمہ گیرمحلل ہے؟
ہمارا سائنسی ورثہ
منی پور کے تھوبل ضلع کا ننگل گاؤں ایک ایسی جگہ ہے جہاں آج بھی روایتی طریقوں سے نمک تیار کیا جاتا ہے۔ گاؤں میں کچھ نمک کے کنویں ہیں جن میں سے ایک میں کھارا پانی نکالنے کے لیے زمین میں 100 سال پرانے درخت کے تنے کو رکھا گیا ہے۔ کچھ خاندان جن میں زیادہ تر عورتیں ہیں ،اس مقدس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ نمک کا محلول جمع کرکے اسے لکڑی کے بھٹوں پر بڑے دھاتی برتنوں میں ابالتی ہیں۔ جب پانی کی تبخیر ہوجاتی ہے اور نمک کے کرسٹل بن جاتے ہیں تو کیلے کے پتوں اور ہاتھ سے بنے ہوئے اوزاروں کی مدد سے’نمک کی گول ٹکیہ‘ بنائی جاتی ہے۔ اس کے بعد ان ٹکیوں کومحفوظ رکھنے کے لیےایک روایتی کپڑے (پھانیک) میں لپیٹا جاتا ہے ۔ یہ مانا جاتا ہے کہ نمک کی ٹکیوں میں کچھ ادویاتی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔
ننگل میں نمک صرف ایک غذا نہیں ہے یہ تاریخ ہے، ثقافت ہے، عقیدہ ہے اور ہندوستان کے جیتے جاگتے ورثے کی ایک خوب صورت مثال ہے۔