11
ستاروں اور سیاروں کی مدد سے وقت کا تعین
(Keeping Time with the Skies)
جانچیں اور غور کریں
- کیا آپ نے کبھی دن میں چاند دیکھا ہے؟آپ کو کیا لگتا ہے کہ بعض اوقات سورج نکلنے پر بھی یہ کیوں دکھائی دیتا ہے؟
- تصور کیجیےکہ آپ زمین کے بجائے چاند پر رہتے ہیں۔ایک دن، ایک ماہ یا ایک سال سے آپ کا کیا مطلب ہوگا۔
- کیا ہوگا اگر زمین کے ایک کے بجائے دو چاند ہوں؟ اس سے شب آسمان میں کیسے تبدیلی آئے گی؟
- اگر ہمارے پاس گھڑیاں اور کیلنڈر نہ ہوتے تو ہم وقت کی پیمائش اور کس طرح کرسکتے تھے؟
اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے![]()
؟
مکر سکرانتی کے موقع پر میرا بین الاقوامی پتنگ میلہ پتنگ مہوتسوکے لیے احمد آباد میں تھی۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا دیکھتے ہوئے اُسے چاند دن کے وقت چمکتا نظر آیا۔ اُسے حیرت ہوئی ۔ وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتی تھی کہ چاند رات میں ہی نکلتا ہے۔ یہ بھی کہ چاند پورے دائرے کی شکل میں نہیں ہوتا لیکن اس بارے میں اسے زیادہ تعجب نہیں ہوا۔ اسے معلوم تھا كہ اُس کی شکل ہر رات تبدیل ہوتی ہے۔ پھر بھی یہ بات اُس کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اُسے یہ جاننا یاد تھا کہ چاند کروی شکل کا ہے اور سورج کی روشنی کے انعکاس سے چمکتا ہے۔ تو پورا چاند ہر رات نظر کیوں نہیں آسکتا۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ کہیں چاند گرہن کی وجہ سے تو ایسا نہیں ہے۔ لیکن گرہن کبھی کبھار اور مختصر وقفے کے لیے لگتے ہیں۔ تو چاند کی بدلتی ہوئی شکلوں کا کیا سبب ہے؟

یہ سمجھنے کے لیے کہ چاند کی شکل مہینے بھر میں کس طرح بدلتی ہےآئیے ہم غور سے چاند کو دیکھیں۔ آپ نے ایسی ہی سرگرمی پہلے بھی انجام دی ہوگی۔ لیکن آئیے اب اسے زیادہ تفصیل سے کریں۔ اس سرگرمی کو سورج نکلنے سے پورے چاند والے دن کے بعد سے شروع کریں یعنی جب آسمان میں چاند کو دیکھنا زیادہ آسان ہو۔

- پورے چاند کے بعد پہلے دن سورج نکلنے پر مغربی سمت میں چاند کو دیکھیں۔
- اپنی نوٹ بک میں جدول 11.1جیسی جدول بنائیں۔ مندرجہ ذیل کو درج کریں۔
- تاریخ
- آپ نے چاند کب دیکھا (سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت)
- جیسا کہ شکل 11.1میں دکھایا گیا ہے سورج کا روشن حصہ دکھانے کے لیے متعلقہ دائرے کو گہرا کیجیے۔
- دوسرے دن اور اس کے بعد سے بھی مندرجہ ذیل باتوں کو درج کریں۔
- کیا چاند کے روشن حصے کا سائز گزشتہ دن کے مقابلے میں بڑھ یا گھٹ رہا ہے۔
- کیا چاند آسمان میں پچھلے دن کے مقابلے میں سورج سے قریب تر یا زیادہ دور نظر آتا ہے۔
- تقریباً 15دن کے بعد آپ شاید چاند کو سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت نہیں دیکھ پائیں گے۔اگلے 15 دن کے لیے اس سرگرمی کو سورج ڈوبتے وقت جاری رکھیں۔
11.1 چاند کی شکل میں آنے والی تبدیلیوں کو درج کرنا
|
دن |
تاریخ |
چاند دیکھے جانے کا وقت |
آسمان میں چاند |
پچھلے دن کے مقابلے میں روشن حصے کا سائز |
پچھلے دن کے مقابلے میں آسمان میں چاند اور سورج میں فاصلہ |
|
1. |
طلوع آفتاب/ غروب آفتاب |
|
— |
— |
|
|
2. |
طلوع آفتاب/ غروب آفتاب |
|
بڑھنا/گھٹنا |
قریب تر/دور تر |
|
|
3. |
طلوع آفتاب/ غروب آفتاب |
|
بڑھنا/گھٹنا |
قریب تر/دور تر |
|
جدول 11.1میں اپنی درج کی گئی معلومات کا تجزیہ کریں۔ کیا چاند ہر دن مختلف نظر آیا۔ کیا چاند ہر دن دیکھا جاسکا؟ کیا چاند آسمان میں پچھلے دن والے مقام پر ہی نظر آیا؟
11.1.1 چاند کے مراحل
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ چاند کا روشن حصہ تقریباً ایک ہفتے میں مکمل دائرے سے نصف دائرے تک گھٹتا رہتا ہے جیسا کہ شکل 11.2میں دکھایا گیا ہے۔ روشن حصہ اگلے ہفتے میں بھی سکڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ مزید نظر نہیں آتا۔ اس دو ہفتے کے عرصے کو چاند کے ڈھلنے کا وقفہ کہتے ہیں۔ اس دو ہفتے میں چاند کی نظر آسکنے والی شکلوں کو مختلف نام دیے گئے ہیں۔
(شکل 11.2)۔ وہ دن جب چاند پورے روشن دائرے جیسا نکلتا ہے۔ اُسے پورے چاند کا دن یا چودھویں کا چاند (پورنیما) کہتے ہیں اور وہ دن جب وہ نظر نہ آسکے اُسے
نئے چاند کا دن یا اماوسیہ کہتے ہیں۔
نئے چاند کے بعد اس کا روشن حصہ تقریباً ایک ہفتے میں بڑھ کر نصف دائرہ اور دوسرے ہفتے میں پورا دائرہ (پورا چاند) بن جاتاہے۔وہ وقفہ جس میں چاند کا روشن حصہ بڑھتا ہے اُسے عروج یا بڑھنے کا وقفہ کہتے ہیں۔ ہندوستان میں چاند کے زوال کے وقفے کو عموماً کرشن پکش، جبکہ عروج کے وقفے کو شُکل پکش کہتے ہیں۔ چاند زوال کے وقفے سے گزرتا ہے جس کے بعد گردشی تر تیب میں عروج کا وقفہ آتاہے جیسا کہ شکل 11.2میں دکھایا گیا ہے۔ ایک پورے چاند سے دوسرے تک کا دورانیہ تقریباً ایک ماہ کا ہوتا ہے۔
جیسا کہ زمین سے نظر آتے ہیں ایک دن سے دوسرے دن چاند کے روشن حصے کی بدلتی ہوئی شکلوں کو چاند کے مراحل کہتے ہیں۔
11.1.2 چاند کے مقام کا تعین
جب آپ نے لگاتا رکئی دنوں تک ایک ہی وقت (مثلاً طلوع آفتاب کے وقت) چاند کا مشاہدہ کیا ،كیا آپ نے اُسے آسمان کے کسی مختلف حصے میں دیکھا؟ کسی پورے چاند کے دن چاند تقریباً سورج کے مقابل ہوتا ہے۔ یعنی جب سورج مشرق میں نکلتا ہے تو چاند مغرب میں تقریباً ڈوبتا ہے۔ اس کے بعد صبحوں میں سورج نکلنے پر جوں جوں اُس کا روشن حصہ گھٹتا ہے۔ چاند آسمان میں سورج سے قریب تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جب چاند کا روشن حصہ گھٹ کر شکل میں نصف دائرے جیسا ہوجاتاہے تو چاند سورج نکلنے پر سر پر آجاتا ہے یہاں تک کہ چند روز بعد پہلے دن کا چاند سورج سے قریب تر ہوتا ہے۔ اس طرح چاند کے مرحلے کواور یہ جاننا کہ وہ گھٹ رہا ہے یا بڑھ رہا ہے یہ جاننے میں ہماری مدد کر سکتا ہے کہ کسی خاص دن پر چاند کو کہاں اور کب تلاش کیا جائے۔بڑھتے ہوئے چاند کو سب سے زیادہ آسانی سے سورج ڈوبنے کے وقت اور گھٹتے ہوئے چاند کو سورج نکلنے کے وقت دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے چاند ہمیشہ سورج کے مقابلے میں مختلف اوقات پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
ایک قدم آگے
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ چاند اس وقت نکلتا ہے جب سورج غروب ہوجاتاہے، لیکن یہ بات ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔ اپنے علاقے میں چاند نکلنے کا وقت جاننے کے لیے مقامی اخبار یاپوزیشنل آسٹرونو می سینٹر (انڈیا میٹورو لوجیکل ڈپارٹمنٹ)کی ویب سائٹ دیکھیں۔ ان اوقات کو لگاتار کئی روز جانچیں اور آپ دیکھیں گے کہ چاند ہر روز تقریباً 50 منٹ بعد نکلتا ہے۔ بعض اوقات طلوع آفتاب دوپہر بعد (تقریباً 2:00، 4:00بجے سہ پہر) واقع ہوتا ہے۔ اس طرح آپ دن کی روشنی کے دوران مشرقی مطلع پر چاند کو دیکھ سکتے ہیں۔ چاند کو دیکھنے کے لیے آپ کوطلوع چاند سے متعلق جدول میں دیئے گئے وقت سے تقریباً 03 منٹ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ وہ آسمان میں دیکھے جا سکنے کے لائق اونچائی تک اوپر آجائے۔
طلوع چاند کے وقت اور مقام میں ہردن تبدیلی ہوتی ہے۔
11.1.3 اپنے اپنے مشاہدات کو سمجھنا
چاند کی شکل تبدیل نہیں ہوتی بلکہ جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اُس میں تبدیلی آتی ہے۔ آپ کو پہلے پڑھی ہوئی یہ بات شاید یاد ہو کہ چاند خود اپنی روشنی نہیں خارج کرتا بلکہ چمکتا ہے کیونکہ چاند اس روشنی کو منعکس کرتا ہے جو اس پر پڑتی ہے۔ سورج کے سامنے رہنے والا چاند کا نصف حصہ سورج کی روشنی حاصل کرکے منور ہوجاتا ہے (شکل 11.3)۔ سورج سے دور رہنے والا نصف حصے کو سورج کی روشنی نہیں ملتی اور وہ غیر منور رہتا ہے۔
چاند زمین کے گردگھومتا ہے اور چاند کا صرف نصف حصہ ہمیشہ زمین کے سامنے رہتا ہے۔ تاہم زمین کے سامنے رہنے والا چاند کاحصہ ہمیشہ اس کا منور حصہ نہیں ہوتا۔ ہم زمین سے چاند کا صرف منور حصہ دیکھ سکتے ہیں۔ بعض اوقات چاند کا پورا غیر منور حصہ زمین کے سامنے آتا ہے اور دیگر اوقات میں اُس کا کوئی ایک حصہ۔ ایسے مواقع پر آپ کو نظر آنے والا چاند کا منور حصہ مکمل دائرہ نہیں ہوتا۔نئے چاند کے دن آپ کو چاند کا منور حصہ بالکل نظر نہیں آتا کیونکہ چاند کا صرف غیر منور حصہ زمین کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے چاند الگ الگ دنوں میں مختلف نظر آتا ہے۔
آئیے سرگرمی کو انجام دیں ۔یہ سمجھنے کے لیے کہ زمین سے دیکھے جانے پر چاند کے منور حصے میں اُس وقت کیسے تبدیلی آتی ہے جب سورج کے تعلق سے اس کی پوزیشن تبدیل ہوتی ہے۔
زمین سے دیکھنے پر چاند کا منور حصہ کیوں گھٹتا ہے جب وہ سورج سے زیادہ قریب لگتا ہے۔
سرگرمی 11.2: آئیے چھان بین کریں
- ایک چھوٹی سی نرم گیند لے کر اس میں ایک لکڑی داخل کریں (شکل 11.4a)۔ یہ گیند چاند کی شکل کو پیش کرتی ہے۔
- (رات کو)کسی تاریک کھلی جگہ پر جائیں اور کسی استاد یا سرپرست سے کہیں کہ وہ سورج سے آتی ہوئی روشنی كو دکھانے کے لیے تقریباً 3میٹر كی دوری سے آپ کی طرف ٹارچ کی روشنی چمکائیں یا کسی بجلی کے لیمپ کے قریب کھڑے ہوں۔ آپ کا سر زمین کی نمائندگی کرتا ہے۔
- اب گیند کو ایک قدم کی دوری پرایک ہاتھ میں پکڑیں ۔ اس طرح کہ وہ آپ کے سر سے ذرا اوپر ہو جیسا کہ (شکل 11.4b)میں دکھایا گیا ہے۔ گیند کو لیمپ کی سمت میں پوزیشن پر رکھیں۔ آپ کے سامنے والا حصہ منور ہوتانظر آتا ہے یا نہیں۔
- جیسا کہ شکل (11.4b)میں دکھایاگیا گھڑی کی مخالف سمت میں آہستہ آہستہ گھوم جائیں اس طرح کہ آپ کی بانھیں باہر نکلی ہوئی ہو ں اور گیند کی طرف دیکھتے رہیں۔ کیا منور حصے کی شکل تبدیل ہوتی ہے۔ کیا منور اور غیر منور حصوں کو جدا کرنے والی لکیر خمیدہ ہے۔
- کیا آپ کا مشاہدہ شکل 11.4Cمیں دکھائے گئے گیند کے منور حصے کی بدلتی ہوئی شکل جیسا ہی تھا۔گیند کے منور حصے كی شکل جو آپ نے دیکھی تھی لیمپ کے تعلق سے گیند کے مقام کے اعتبار سے بدل جاتی ہے۔
جب گیند لیمپ کی مخالف سمت میں (Aپر) پکڑی گئی ہو تو پورے چاند والے دن کی ہی طرح آپ گیند کے پورے منور حصے کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف جب گیند لیمپ کی سمت (Eپر) پکڑی گئی ہو تو آپ گیند کے غیر منور حصے کے سامنے ہیں اور گیند کے منور حصے کو قطعاً نہیں دیکھ سکتے۔ یہ صورت حال نئے چاند والے دن جیسی ہی ہے۔ اس پر غور کریں کہ کس طرح دیگر حالتوں میں گیند کے منور اور غیر منور حصوں کو جدا کرنے والی لكیر دیگر دنوں میں زمین سے دیکھے جانے پر چاند کے منور حصے کی شکل کی طرح مڑی ہوئی نظر آتی ہے(شكل 11.4C)
آئیے سرگرمی 11.2کے اپنے مشاہدے کی مدد سے اب چاند كے مراحل كو سمجھنے كی كوشش كریں۔ (شكل 11.5a) گیند کی مختلف حالتوں سے مطابقت رکھتی ہوئی چاند کی حالتوں کو دکھاتی ہے۔(شکل 11.4b) اس میں زمین اور سورج کی شعاعیں بھی دکھائی گئی ہیں۔ جیسا کہ (شکل 11.5a)میں دکھایاگیا ہے۔ زمین تقریباً ایک ماہ میں پوزیشن Aسے H واپس پوزیشن Aتک زمین کے گرد ایک بار چکر لگاتی ہے۔ چاند کا سورج کے سامنے پڑنے والا حصہ منور ہوجاتاہے۔
زمین کے سامنے پڑنے والے چاند کے حصے کو پیلی (Dashed)لکیروں اور تیروں سے نشان زد کیا گیا ہے۔ چاند کے صرف اس منور حصے کو زمین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ Bاور Hمقامات پر منور حصے کا آدھے سے زیادہ جسےگبس مرحلہ (Gibbous Phase)کہتے ہیں،دیکھا جاسکتا ہے۔D اور Fمقامات پر منور حصے کے آدھے کم جسے ہلالی مرحلہ (Crecent Phase) کہتے ہیں، دیکھا جاسکتا ہے۔ زمین سے نظر آنے والی چاند کے منور حصے کے ایک مختصر حصے میں تبدیلی چاند کے مراحل کا سبب بنتی ہے۔
چاند کے مختلف مراحل جو زمین سےاس کی مختلف وضعوں پر نظر آتے ہیں، شکل 11.5b میں دکھائی گئی ہیں۔ Aسے Cاور Cسے Eتک ہمیں ڈھلنے والا مرحلہ نظر آتا ہے اور Eسے Gاور واپس Aتک ہم بڑھنے والا مرحلہ دیکھتے ہیں۔ چونکہ زمین کاایک دن کی روٹیشن کا وقفہ چاند کےروٹیشن کے وقفے سے جو تقریباً ایک ماہ ہے بہت کم ہے دنیا کے مختلف مقامات کے لوگوں کو تقریباً ایک ہی مرحلہ نظر آتا ہے۔
جیسا کہ شکل 11.5aمیں دیکھا جاسکتا ہے، پہلی کے چاند والے دن چاند سورج سے قریب ترین اور پورنیما پر سب سے زیادہ دور نظرآتا ہے۔ کیا یہ وہی بات نہیں ہے جس کا مشاہدہ ہم نے سرگرمی 11.1میں كیا؟
سرگرمی11.1میں ہم نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ طلوع آفتاب (یا غروب آفتاب کے وقت چاند کی پوزیشن بعد کے دنوں میں بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جیسا کہ شکل 11.6میں دکھایا گیا ہے۔ جب زمین 24گھنٹے میں اپنے طور پر ایک گردش مکمل کرتی ہے، چاند اپنے مدار میں آگے بڑھ جاتاہے۔ آسمان میں چاند کے تقریباً اُسی مقام پر ظاہر ہونے کے لیے زمین کو کچھ اور گردش کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک قدم آگے
چاند کے مراحل زمین کے سائے کی وجہ سے نہیں واقع ہوتے۔ یہ چاند کے مراحل کی غلط توجیہ ہے کہ زمین کا سایہ اس پر پڑتا ہے۔ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں، چاند کے مراحل سورج ، چاند اور زمین کی تقطیب میں نسبتی تبدیلی کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں۔ کیونکہ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے۔ چاند پر زمین کا سایہ چاند گرہن کا سبب بنتا ہے نہ کہ چاند کے مراحل کا (جیسا کہ ہم نے پہلے تجسس، گریڈ7کے باب زمین، چاند اور سورج) میں پڑھا۔
چاند گرہن صرف کسی پورے چاند والے دن اور سورج گرہن صرف کسی پہلی کے چاند والے دن واقع ہوسکتے ہیں۔ لیکن وہ سورج کے ارد گرد زمین کے مدار کے تعلق سے چاند کے مدار میں ذرا سے جھکائو کی وجہ سے ہر ماہ واقع نہیں ہوتے۔
اس طرح چاند کے مراحل كی تبدیلی ایک قدرتی دوری وقوعہ (Natural Periodic Event)ہے جس کا دو رانیہ تقریباً ایک ماہ کا ہوتا ہے جس كااستعمال وقت درج کرنے کے لیے بھی کیاجاسکتا ہے۔
ہاں، دن، رات اور بدلتے ہوئے موسموں کے قدرتی دوری وقوعوں کے ساتھ ساتھ جن کےبارے میں ہم پہلے پڑھ چکے ہیں لیکن ان دوری وقوعات کو وقت درج کرنے کے لیےکیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ زمین سے دیکھے جانے پر سورج روزانہ مشرق کی سمت میں نکلتا، مغرب میں ڈوبتااور اگلے دن دوبارہ نکلتا ہوانظر آتا ہے۔ بظاہر ہمیں نظر آنے والے سورج کی دوری حرکت کی اصل وجہ خود اپنے محور کے گرد زمین كی گردش ہے۔ زمین کی گردش کی وجہ سے سورج کایہ قدرتی دورانیہ دن کی اساس ہے یعنی وقت کی پیمائش کی ایک اکائی۔
وہ اوسط وقت جو ایک دن سورج کے آسمان میں اونچی ترین حالت سے دوسرے دن آسمان میں اونچی ترین حالت پر پہنچنے میں لگتاہے، اسے اوسط شمسی دن کہتے ہیں۔ آسمان میں سورج کی اونچی ترین حالت کا پتہ دن کے دوران کس شے کی پڑنے والی پرچھائیوں سے لگایا جاسکتاہے۔ جب سورج آسمان میں اونچے ترین نقطے پر ہوتا ہے تو سایہ سب سے چھوٹا ہوتاہے۔
سرگرمی 11.3 : آئیے دن کی پیمائش کریں!
- زمین پر کوئی مسطح جگہ تلاش کریں جہاں دن کے دوران سورج کی روشنی پڑتی ہو۔ 1میٹر کی چھڑی عمودی حالت میں گاڑ دیں۔ جیسا کہ شکل 11.7میں دکھایا گیا ہے ۔
- صبح11 بجے مشاہدہ شروع کریں۔ ہر منٹ پر زمین پر چھڑی کے سائے کے سرے پر نقطے کا نشان لگا دیں۔ 1.10بجے تک نقطے کا نشان لگاتے رہیں۔
- اس کی نشان دہی کریں کہ سایہ سب سے چھوٹا کب تھا اور نقطوں کے عدد کو کاٹ کر اس کا وقت معلوم کریں۔اس وقت کو جدول 11.2میں درج کریں۔ اس مشق کواگلے چند روز دہرائیں۔
- لگاتار دو دن تک وقت میں فرق کا پتہ لگا کر شمسی دن کی مدت معلوم کریں۔ جیسا کہ جدول 11.1میں دکھایا گیا ہے۔
جدول 11.2 :شمسی دن کی مدت کا پتہ لگانا
|
تاریخ |
سب سے چھوٹے سائے کی مدت(گھنٹہ: منٹ) |
دن کی مدت(گھنٹہ: منٹ) |
|
22مارچ 2025 |
12:20 |
—— |
|
23مارچ 2025 |
12:20 |
24:00 |
|
24مارچ 2025 |
12:19 |
23:59 |
دن کی اوسط مدت کا پتہ لگائیں۔یہ تقریباً 24گھنٹے کے مساوی ہے۔
چاند کے مراحل ایک ایسی مدت والا ایک اور قدرتی دورانیہ فراہم کرتے ہیں جو ایک دن سے زیادہ طویل ہے۔ چاند اپنے تمام مراحل سے گزرنے میں تقریباً 29.5دن (تقریباً ایک مہینہ) لیتا ہے۔ چاند کے مراحل کا دورانیہ ایک ماہ کی بنیاد ہے جو وقت کی پیمائش کی ایک اور اکائی ہے (شکل 11.8)۔
وقت کی پیمائش کی نسبتاً بڑی اکائی کا تعلق موسموں کی قدرتی تبدیلی سے ہے۔ کیا آپ کو پہلے یہ پڑھنایا د ہے کہ زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے اور اسے سورج کے گرد ایک طواف مکمل کرنے میں تقریباً سوا 365 دن لگتے ہیں۔ اس مدت کے دوران زمین موسموں کی ایک تبدیلی سے گزرتی ہے جن کااستعمال کسی شمسی سال کی توضیح کے لیے کیا جا سکتا ہے (شکل 11.8)۔
11.2.1قمری کیلنڈر
قدیم وقتوں میں، لوگوں کا مشاہدہ یہ تھا کہ موسموں کے ایک چكر کے دوران چاند کے مراحل کے تقریباً 12چکر لگائے جا سکتےہیں یعنی 12قمری مہینے۔ یہی وہ طریقہ ہے جن سے قمری کیلنڈروجود میں آئے جس میں دن سب سے چھوٹی اکائی، تقریباً 29.5دنوں کا مہینہ اور 12قمری مہینوں کا ایک قمری سال ہوتا ہے۔ اس طرح چاند کے مراحل نے وقت کو پہچاننے کا ایک آسان اور مکمل طور پر مؤثر طریقہ فراہم کر دیا۔
تاہم کسی قمری کیلنڈر میں تمام موسم اگلے قمری برسوں میں یکساں قمری مہینوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم خود کو تقریباً 365دنوں میں دہراتے ہیں جب کہ قمری سال 354دنوں کا ہوتا ہے۔
11.2.2شمسی کیلنڈر
زراعت کے مقاصد کےلیے موسموں کی آمد کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا تھا۔ سال کے موسموں سے مطابقت پذیری (Synchronise)کی اس ضرورت کے نتیجے میں شمسی کیلنڈر وجود میں آئے۔ اس وقت عام طور پر استعمال ہونے والا گری گورین کیلنڈر ایک شمسی کیلنڈر ہے۔365دن پورے کرنے کے لیےشمسی کیلنڈروں میں ردوبدل کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گری گورین کیلنڈر میں بعض مہینے 30دن کے ہیں تو کچھ 31دن کے اور فروری 28دن کا ہوتا ہے۔
365 دنوں کے اوپر زمین اضافی دن کا ایک سورج کے گرد طواف میں لگاتی ہے۔ یہ اضافی گھنٹے ہر چار سال پر تقریباً ایک دن کا اضافہ کردیتے ہیں۔ اس فرق کو پُر کرنے کے لیے شمسی کیلنڈروں میں
لیپ سال(Leap Year)کے تصور کے تحت ہر چار سال پر ایک دن کا اضافہ کر دیا جاتاہے۔ گری گورین کیلنڈر میں اگر کوئی سال چار سے ضرب ہوتا ہے تو ایک اضافی لیپ ڈے بڑھا دیا جاتاہے۔ اس طرح ایک لیپ سال میں فروری کا مہینہ 29دن کاہوتا ہے جس سے کیلنڈر اچھی طرح موسموں کے مطابق رہتا ہے۔
ایک قدم آگے
زمین کو ایک اعتدال ربیعی(Spring Equinox) سے دوسرے اعتدال ربیعی تک پہنچنے میں سوا 365دن سے کم وقت لگتا ہے۔ ہر چار سال پر ایک دن کا اضافہ کرنے سے موسموں کے ساتھ مطابقت میں مدد ملتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ درحقیقت یہ ذرا زیادہ ہی اضافہ کردیتا ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے ہر 100سال پر مثلاً1700، 1800اور 1900 میں لیپ سال کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن ان سب کو چھوڑ دینے سے کیلنڈر ذرا پیچھے رہ جائے گا۔ اس لیے ہر 400سال پر ایک لیپ سال دوبارہ بڑھایا جاتا ہے جیسا کہ 1600اور 2000میں ہوا۔ یہ محتاط اصلاحیں وقت کی لمبی مدت تک کیلنڈر کو موسموں سے ہم آہنگ رکھتی ہیں۔
ایک قدم آگے
جیسا کہ ہم نے پہلے پڑھا کہ موسم سورج کے گرد زمین کے طواف اور اعتدال ربیعی سے اعتدال سرما (Spring Equinox) تک اور واپس اعتدال سرما سے اعتدال ربیعی تک حرکت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ متواتر اعتدال کے درمیان کی مدت کو ٹرا پیکی(مدارینی) سال کہا جاتا ہے۔ گریگورین کیلنڈر مدارینی سال پر مبنی ہے۔
ہم پہلے یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ غروب آفتاب کے وقت طلوع ہونے والے ستارے سورج کے گرد زمین کے طواف کی وجہ سے سال بھر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ غروب آفتاب کے وقت ان ہی ستاروں کے دوبارہ طلوع ہونے کے لیے درکار وقت کو نجمی سال (Sidereal Year) کہا جاتا ہے اور اس کا استعمال شمسی کیلنڈر کو متعین کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ نجمی سال کی مدت ٹرا پیکی سال سے 20منٹ زیادہ ہوتی ہے اور اس لیے دونوں کیلنڈروں کے درمیان فرق نمایاں ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ موجودہ وقت میں، ماہرین فلکیات سورج کے گرد زمین کے مدار میں اس کے مقام پر نظر رکھنے کے لیے نجمی سال کا استعمال کرتے ہیں۔
ہمارا سائنسی ورثہ
ہندوستان سمیت دنیا بھر کے لوگ ہزاروں سالوں سے آسمان کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں اور کیلنڈر تیار کر تے رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ زمین سورج کے گرد طواف کرتی ہے اور ان کے پاس جدید آلات کی بھی کمی تھی۔ پھر بھی کئی سالوں کے محتاط آسمانی مشاہدات کے ذریعے، انھوں نے قدرتی واقعات میں پیٹرن اور ادوار کو دیکھا۔ لہٰذا، وہ یہ متعین کر سکے کہ سال کی طوالت تقریباً 365 دن تھی جس سے انھیں کیلنڈر بنانے میں مدد ملی۔
مثال کے طور پر، محتاط مشاہدے سے یہ معلوم ہوا کہ سورج ہمیشہ ٹھیک مشرق میں طلوع نہیں ہوتا ہے۔ گرمیوں میں یہ مشرق سے تھوڑا شمال کی طرف اور سردیوں میں مشرق سے تھوڑا سا جنوب کی طرف طلوع ہوتا ہے۔ یہ انتہائیں ہر سال 21 جون اور 21 دسمبر کے آس پاس، انقلاب شمسی (Solstices) پر ہوتی ہے۔ دسمبر سے جون تک شمال کی طرف سورج کی ظاہری حرکت کو اترائن (Uttarayan) کہا جاتا ہے اور جون سے دسمبر تک جنوب کی طرف اس کی ظاہری حرکت کو دکشنائن (Dakshinayan) کہتے ہیں۔ یہ چکر ہر سال دہرایا جاتا ہے اور بدلتے موسموں سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ تیتریہ سنہتا (Taittirīya Saṁhitā) نے اسے 6.5.3 میں درج کیا گیا ہے:
तस्मादादित्य: षण्मासा दक्षिणेनैति षडुत्तरेण ।
“اس طرح سورج چھ ماہ تک جنوب کی طرف اور چھ ماہ تک شمال کی طرف حرکت کرتا ہے۔”
ماضی میں، غروب آفتاب کے وقت طلوع ہونے والے ستاروں کی شناخت کر کے نقطہ اعتدال (Equinox) اور انقلاب شمسی کو بھی ٹریک کیا جاتا تھا۔ سوریہ سدھانت جیسے قدیم ہندوستانی متون میں کہا گیا ہے کہ ستاروں کا پیٹرن برج جدّی (Capricorn)، (جسے ہندوستان میں ’مکر‘ کہا جاتا ہے) اس قدیم عہد کے دوران سرمائی انقلاب شمسی آس پاس سورج کے پس منظر میں ہوگا۔
भानोर्मकरसंस्ङ्क्रान्तेः षण्मासा उत्तरायणम् ।
कर्क्कादेस्तु तथैव स्यात् षण्मासा दक्षिणायनम् ।।9।।
ترجمہ: برج جدی کے جھرمٹ میں سورج کے داخل ہونے کے وقت سے، چھ مہینے تک اس کی شمال کی طرف پیش رفت سے اترائن کی تشکیل ہوتی ہے، اسی طرح برج سرطان کے جھرمٹ میں داخل ہونے کے وقت سے، چھ مہینے تک اس کی جنوب کی طرف پیش رفت سے دکشنائن کی تشکیل ہوتی ہے۔
برسوں سے مخصوص ضروریات کی بنیاد پر مختلف قسم کے کیلنڈر تیار ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے کئی کیلنڈر ہندوستان کے مختلف حصوں میں وقت کا پتا لگانے اور تہواروں کو منانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
11.2.3 قمری شمسی کیلنڈر(Luni-Solar Calendar)
کیلنڈر کی ایک اور قسم جس میں خاص طور سے دنوں اور مہینوں کا حساب لگانے کے لیے چاند کی ہئیتوں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن موسموں کے ادوار کے ساتھ تال میل بنائے رکھنے کے لیے کچھ ردو بدل بھی کی جاتی ہے۔
12 قمری مہینوں کی کل مدت 354 دن ہے، چنانچہ شمسی سال کے مقابلے یہ مدت تقریباً 11 دن کم ہوجاتی ہے۔ اس طرح ہر دو سے تین سال بعد مجموعی فرق تقریباً ایک مکمل مہینے کے مساوی ہو جاتا ہے۔ اس لیے بعض کیلنڈروں میں ہر چند سال بعد ایک اضافی مہینہ (جسے ادِھک ماس یا کبیسہ کہا جاتا ہے) سال میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ شمسی سال اور قمری سال کو ایک ساتھ رکھتا ہے۔ ایسے کیلنڈروں کو قمری شمسی کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ ان کیلنڈروں میں شمسی اور قمری دونوں کے عناصر یکجا ملتے ہیں اور انھیں ہندوستان کے بہت سے حصوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
کیا کبھی سنا ہے...
آپ نے مختلف ہندوستانی قمری شمسی کیلنڈروں میں چیتر،ویشاکھ، جیشٹھ، آشاڑھ، ساون، بھادوں، اشوِن، کارتک، مگھر (یا اگرہائن)، پوش، ماگھ اور پھالگن جیسے مہینوں کے نام (یا اسی طرح کی آواز والے نام) سنیں ہوں گے ۔ بعض معاشروں میں، نیا مہینہ (ماہ نو) نئے چاند کے اگلے دن شروع ہوتا ہے اور نئے چاند کے دن ختم ہوجاتا ہے۔ ایسے کیلنڈروں کو امنت (Amant) کہا جاتا ہے۔ دیگر کیلنڈروں میں، نئے مہینے کا آغاز مکمل چاند (ماہ کامل) کے بعد والے دن اور اختتام مکمل چاند والے دن ہوتا ہے۔ ایسے کیلنڈروں کو پورنیمنت (Purnimant) کہا جاتا ہے۔
11.2.4 ہندوستانی قومی کیلنڈر
حکومت ہند کے ذریعے جاری قومی کیلنڈر کا استعمال گریگورین کیلنڈر کے ساتھ متعدد سرکاری مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہ ایک شمسی کیلنڈر ہے (شکل 11.9) جو سال کے 365 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ سال 22 مارچ کو شروع ہوتا ہے، جو اعتدال ربیعی کے بعد کا دن ہے۔ گریگورین کیلنڈر کے برعکس، ہندوستانی قومی کیلنڈر کے مہینے 30 یا 31 دن کے ہوتے ہیں۔ ان مہینوں کے نام روایتی ہندوستانی کیلنڈروں سے لیے گئے تھے۔ ایک باقاعدہ سال میں، دوسرے مہینے سے لے کر چھٹے مہینے تک ہر مہینہ 31 دن کا ہوتاہے اور باقی مہینوں میں 30 دن ہوتے ہیں۔ سال کے پہلے مہینے یعنی چیتر میں ایک دن کا اضافہ کرکے لوند (لیپ) کے سال کو گریگورین کیلنڈر کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ ایسے سالوں میں، نئے سال کا آغاز گریگورین کیلنڈر کے مطابق 21 مارچ کو ہوتا ہے۔
کیاکبھی سنا ہے...
1952 میں، حکومت ہند نے ایک کیلنڈر ریفارم کمیٹی (CRC) تشکیل دی جس کا مقصد اس وقت ملک میں رائج کیلنڈروں کا جائزہ لینا اور پورے ملک (ہندوستان) کے لیے ایک درست اور یکساں کیلنڈر کی سفارش کرنا تھا۔ سی آر سی کی طرف سے تجویز کردہ ’یونیفائیڈ نیشنل کیلنڈر‘ کو 21 مارچ 1956، یعنی 1 چیتر 1878 شک سموت میں نافذ کیاگیا۔ ہندوستانی قومی کیلنڈر سوریہ سدھانت کے عمومی اصولوں کا اتباع کرتا ہے۔
سائنس داں کے بارے میں
میگھ نا د ساہا (1893–1956)
میگھ ناد ساہا ہندوستان کے ایک رہنما فلکیاتی طبیعیات داں تھے جنہوں نے ستاروں اور ان کے درجۂ حرارت کا مطالعہ کیا اور ایک ریاضیاتی مساوات وضع کی، جسے ساہا مساوات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کولکاتہ میں واقع ساہا انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس کا نام ان ہی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وہ کیلنڈر ریفارم کمیٹی کے چیئرپرسن بھی تھے۔
11.3 کیا تہواروں کا فلکیاتی مظاہر سے کوئی تعلق ہے؟
بہت سے ہندوستانی تہوار چاند کے مراحل سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی لیے قمری یا قمری شمسی تقویم پر مبنی ہیں۔ مثال کے طور پر، دیوالی کاتہوار کارتک مہینے کے نئے چاند کے دن منائی جاتی ہے۔ ہولی پھالگن مہینے کے مکمل چاند والے دن منائی جاتی ہے، بدھ پورنیما بیساکھ مہینے کے مکمل چاند کے دن اور’ عیدالفطر‘ ماہ رمضان کے آخر میں ہلالی چاند نظر آنے کے بعد منائی جاتی ہے، جب کہ دسہرہ اشون مہینے کے دسویں دن منایا جاتا ہے۔ اسی لیے، یہ تہوار ہر آنے والے سال میں گریگورین کیلنڈر کی مختلف تاریخوں پر آتے ہیں۔
قمری شمسی کیلنڈروں پر مبنی تہواروں کے لیے، گریگورین کیلنڈر کی تاریخیں آگے پیچھے ہو سکتی ہیں، لیکن یہ تبدیلی عام طور پر ایک ماہ سے کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قمری- شمسی کیلنڈر میں ہر چند سال بعد کبیسہ کا اضافہ ہوجاتاہے جو قمری اور شمسی سال کے درمیان فرق کو درست کردیتا ہے۔ اس کے برعکس، خالصتاً قمری کیلنڈر میں اس فرق کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے چاند کی ہئیتوں کے لحاظ سے منایا جانے والا کوئی بھی تہوار، جیسے عید الفطر، سال در سال گریگورین کیلنڈر کے مختلف مہینوں میں آتا ہے۔
ہندوستانی تہوار ہر سال مختلف تاریخوں پر کیوں آتے ہیں؟
ایک قدم آگے
ہندوستان میں چند تہوار، جیسے مکر سنکرانتی، پونگل، بیہو،ویساکھی، پوئلا بیساکھ اور پوتھنڈو، شمسی قمری کیلنڈر کا اتباع کرتے ہیں۔ یہ تہوار گریگورین کیلنڈر میں ہر سال تقریباً ایک ہی تاریخ کو آتے ہیں جو ٹرا پیکی (مدارینی) سال پر مبنی ہے۔
بہت سال پہلے، یہ تہوار یا تو انقلاب شمسی یا نقطۂ اعتدال سے مربوط تھے۔ نجمی اور مدارینی سالوں میں معمولی فرق کی وجہ سے، ان تہواروں کی تاریخیں انقلاب شمسی نقطۂ اعتدال سے آہستہ آہستہ دور ہوگئیں۔ یہ تبدیلی زمین کے محور کے ہلکا سا ترچھا ہونے کی وجہ سے ہے، یہ کسی لٹو کے ڈگمگاتے ہوئے محور کی حرکت کے جیسا ہے۔
اس کی وجہ سے نجمی کیلنڈروں پر مبنی تہواروں کی تاریخیں مدارینی کیلنڈر میں آگے بڑھ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، مکر سنکرانتی ہر 71 سال بعد ایک دن آگے بڑھ جاتی ہے۔
کیا کبھی سنا ہے...
بہت سے ہندوستانی تہواروں کی تاریخیں طلوع آفتاب کے وقت چاند کی ہئیت پر مبنی ہیں۔ چوں کہ طلوع آفتاب مشرقی ہندوستان میں پہلے اور مغربی ہندوستان میں بعد میں ہوتا ہے لہٰذا ایک ہی سال کے عرصے میں ان خطوں کے درمیان ان تاریخوں میں ایک دن کا فرق آسکتا ہے۔ پورے ملک میں یکسانیت کو برقرار رکھنے کے لیے، حکومت ہند کا پوزیشنل ایسٹرونومی سینٹر ہر سال راشٹریہ پنچانگ شائع کرتا ہے، جو ہندوستان کے کسی مرکزی مقام کے لیے چاند اور سورج جیسے اجرام فلکی کے مقام کی تفصیلی تحسیب کرتا ہے۔ اس تحسیب کی بنیاد پر، یہ تہواروں کی تاریخوں کے بارے میں حکومت ہند کو تعطیلات کے اعلان کے مقصد سے پیشگی اطلاع فراہم کرتا ہے۔
کیا کبھی سنا ہے...
چاند اور چاندنی نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں راگوں کو تحریک دی ہے۔ چندراکونس، چندرنندن، اور شبھ پنتوورالی (جس کا مطلب ’’مقدس چاند‘‘ بھی ہے) چند ایسے راگ ہیں جو اپنے ناموں اور مترنم تاثرات میں چاند کی شبیہ پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح، مدرائیں (ہاتھ کے اشارے)، جیسے چندرکلا اور اردھ چندرن ہندوستانی کلاسیکی رقص
بھرت ناٹیم میں مل سکتی ہیں۔
یہی بات رقص کی دیگر شکلوں جیسے کتھک، اوڈیسی اور کُچی پُڑی کے لیے بھی درست ہے۔ حتیٰ کہ مصوری کے روایتی طرز: مدھوبنی، ورلی، اور سورا، گونڈ اور دیگر قبائل کی مجسمہ سازی اور ظروف سازی جیسی آرٹ کی دوسری شکلیں بھی روزمرہ کی زندگی میں ان کی اہمیت کو نمایاں طور پر ظاہر کرتے ہوئے چاند اور سورج کی تصویر کشی کرتی ہے۔
11.4 ہم خلا میں مصنوعی سیٹلائٹ کیوں بھیجتے ہیں؟
چاند زمین کا قدرتی سیارچہ ہے، جو ہمارے سیارے کے گرد طواف کرتا ہے۔ چاند کے علاوہ مختلف ممالک کی طرف سے بھیجے گئے انسان ساختہ سیارچے بھی زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ یہ مصنوعی سیارچے رات کے وقت آسمان میں بہت چھوٹے دھبوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر مدار زمین کی سطح سے تقریباً 800 کلومیٹر کی بلندی پر ہیں اور مدار میں ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 100 منٹ لگتے ہیں۔
یہ سیارچے کئی طرح سے ہماری مدد کرتے ہیں جیسے مواصلات، جہازرانی (Navigation)، موسم کی نگرانی، انتظام برائے انسدادآفات اور سائنسی تحقیق۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے مذکورہ کاموں میں مدد کے لیے بہت سے سیارچے خلا میں بھیجے ہیں۔
ہمارا سائنسی ورثہ
اِسرو(ISRO) کے ذریعےبھیجے گئے کارٹو سیٹ (Cartosat) سلسلے کے سیارچے زمین کی اعلیٰ معیار کی تصاویر کھینچتے ہیں جن کا استعمال نقشوں کو بہتر بنانے، شہروں کی منصوبہ بندی کرنے اور ہندوستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک نقشہ سازی کا پلیٹ فارم، بھوون(Bhuvan)، ان تصاویر کا استعمال زمینی خطوں(Terrain)، مٹی، زمین کے استعمال، نباتات وغیرہ کو دکھانے کے لیے کرتا ہے۔
اِسرو(ISRO) کا ایک اور مشن ایسٹروسیٹ(AstroSat)، ستاروں اور دیگر اجرام فلکی کا سائنسی مشاہدہ کرتا ہے۔ ہندوستان کے دیگر خلائی مشنوں میں چاند پر بھیجے گئے چندریان 1، 2، اور 3 ۔ سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے آدتیہ L1 ؛ اور مریخ پر بھیجا گیا منگل یان جیسے مشن شامل ہیں۔ اسرو ہندوستانی طلبا کو آزادی سیٹ، انسپائر سیٹ1 اور جگنو جیسے چھوٹے سیٹلائٹ بنانے اور انھیں خلا میں بھیجنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
سرگرمی 11.4: آئیے شناخت کریں
- مصنوعی سیار چے کا پتہ لگانا رات کے وقت آسمان میں مشاہدہ کرنے کی سرگرمی ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ طلوع آفتاب سے ٹھیک پہلے یا غروب آفتاب کے بعد، کسی بالغ فرد کے ساتھ ایسے مقام پر جائیں ، جہاں سے آسمان صاف نظر آئے اورجہاں درختوں یا اونچی عمارتوں کی کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
- آسمان میں مصنوعی سیارچوں کی شناخت کے لیے، آسمان میں کسی بھی حرکت پذیر شے کو تلاش کریں جو مستحکم یا ٹمٹماتی چمک کے ساتھ روشنی کے دھبے کے مانند نظر آئے اور آسمان میں بہت تیزی سے حرکت کر رہی ہو۔ آپ انہیں کھلی آنکھ یا دوربین کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں۔
- آپ اب موبائل ایپ یا ویب سائٹ کا استعمال کر سکتے ہیں جو آپ کے مقام پر نظر آنے والے سیارچوں اور آسمان میں آپ کے اوپر سے ان کے گزرنے کے وقت کی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔
ایک قدم آگے
کئی ممالک بڑی تعداد میں مصنوعی سیارچے خلا میں بھیج رہے ہیں۔ ان کے کام کرنے کی مدت پوری ہوجانے کے بعد، ان میں سے بہت سے اور ان کے راکٹ والے حصے خلائی کباڑ یا خلائی ملبہ بن جاتے ہیں۔ یہ ملبہ خلا میں جمع ہوجاتا ہے، اور کارآمد سیارچوں سے ٹکرا سکتا ہے۔ حالاں کہ زمین کی طرف گرنے پر چھوٹا ملبہ فضا میں جل کر خاک ہو جاتا ہے لیکن بڑے ٹکڑے زمین پر گر سکتے ہیں۔ اس خطرناک ملبے کو ہٹانے کے لیے اب کئی ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔
سائنس داں کے بارے میں
وکرم امبالال سارا بھائی (1971–1919)
خلائی سائنس اور نیوکلیئر فزکس کے محقق وکرم سارا بھائی کو ہندوستانی خلائی پروگرام کا موجد مانا جاتا ہے۔ انھوں نے پہلے مصنوعی سیارچوں کو خلا میں بھیجنے کا بیڑہ اٹھایا۔ تروننت پورم میں واقع وکرم سارابھائی اسپیس سینٹر (VSSC) کا نام، جو راکٹ اور لانچ وہیکل ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والا اسرو مرکز ہے، ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔
خلاصہ
- چاند کا روشن حصہ دن بہ دن اپنی شکل بدلتا رہتا ہے جیسے پہلی کا چاند، ہلالی چاند اور ماہِ کامل۔
- چاند کے مختلف مراحل (ہیئتیں) اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ زمین کے گرد طواف کرتے وقت ہم چاند کے روشن حصے کو دیکھتے ہیں۔
- چاند کے مختلف مراحل کا ایک مکمل دور تقریباً ایک مہینہ کی مدت کومحیط ہے۔
- قدرت میں مشاہدہ کیے گئے مختلف ادوار کے نتیجے میں کیلنڈروں کی تخلیق ہوئی۔
- قمری کیلنڈر چاند کے دور کا اتباع کرتے ہیں، جب کہ شمسی کیلنڈر موسموں کے دور کی پیروی کرتے ہیں، جو سورج کے گرد اپنے مدار میں زمین کی پوزیشن پر منحصر ہے۔ قمری شمسی کیلنڈر دونوں ادوار کے مطابق ہوتے ہیں۔
- مصنوعی سیارچے انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں جنھیں زمین سے خلا میں داغا جاتاہے۔ وہ ہمارے فائدے اور خلائی سائنس کے مطالعے کے لیے اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

- بتائیے کہ درج ذیل بیانات درست ہیں یا غلط۔
- ہم چاند کا صرف وہی حصہ دیکھ سکتے ہیں جو سورج کی روشنی کو ہماری طرف منعکس کرتا ہے۔
- زمین کا سایہ سورج کی روشنی کو چاند تک پہنچنے سے روک دیتا ہے جس کی وجہ سے چاند کی مختلف ہئتیں (مراحل)نظر آتی ہیں۔
- کیلنڈر مختلف فلکیاتی ادوار پر مبنی ہوتے ہیں جن کی تکرار اس انداز سے ہوتی ہے کہ ان کی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔
- چاند کو صرف رات کے وقت دیکھ سکتے ہیں۔
- امول کی پیدائش 6مئی کو مکمل چاند (ماہ کامل) کے دن ہوئی تھی۔ کیا اس کی سالگرہ ہر سال مکمل چاند کے دن آتی ہے؟ اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
- (شکل 11.10) میں دو ایسی چیزوں کے نام بتائیے جو غلط ہیں۔
- (شکل 11.11) میں چاند کی تصاویر دیکھیے اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
- مذکورہ بالا تصاویر میں دکھائے گئے چاند کے مراحل کے مطابق صحیح پینل نمبر لکھیے۔
|
تصویر کا لیبل(مثلاً A،B،Cوغیرہ) |
چاند کے مراحل(ہئتیں) |
|
نئے چاند کے تین دن بعد |
|
|
مکمل چاند |
|
|
مکمل چاند کے تین دن بعد |
|
|
مکمل چاند کے ایک ہفتہ بعد |
|
|
نئے چاند کے دن |
- چاند کے ان مراحل کے تصویری لیبل کی فہرست بنائیے جو کبھی بھی زمین سے نظر نہیں آتے۔ اشارہ:سرگرمی 11.1یا شکل 11.2 سے اپنےمشاہدہ کو حوالہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
- مالنی نے غروب آفتاب کے وقت آسمان میں چاند کو سر کے اوپر دیکھا۔
- مالنی نے چاند کے جس مرحلے کو دیکھا اس کی تصویر بنائیے۔
- کیا چاند بڑھتا ہو یا گھٹتا ہوا نظر آرہا ہے؟
- روی نے کہا، “میں نے ہلالی چاند دیکھا اوریہ غروب آفتاب کے وقت مشرق میں طلوع ہو رہا تھا۔” کوشلیا نے کہا، “ایک بار میں نے مشرق میں دوپہر بعد چاند کوگِبس شکل میں دیکھا۔” دونوں میں سے کون سچ بول رہا ہے؟
- سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ چاند زمین سے دور ہوتا جا رہا ہے اور زمین کے گرد اس کے طواف کی رفتار بھی سست پڑتی جارہی ہے۔ کیا قمری- شمسی کیلنڈروں میں اضافی مہینے (کبیسہ)کی ضرورت زیادہ ہوگی یا کم؟
- ایک شمسی کیلنڈر میں 3 سال کے دوران کل 37مکمل چاند نظرآتے ہیں۔ دکھائیے کہ 37 میں سے کم از کم دو مکمل چاند شمسی کیلنڈر کے اسی مہینے میں ہونے چاہیے۔
- کسی مخصوص رات میں، ویشالی نے آسمان میں چاند کو غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک دیکھا۔ اس نے چاند کا کون سا مرحلہ دیکھا ہوگا؟
- اگر لیپ کا سال نہ ہو تو تقریباً کتنے سالوں میں ہندوستان کا یوم آزادی موسمِ سرما میں منایا جائے گا؟
- مصنوعی سیارچوں کو خلا میں بھیجنے کا مقصد کیا ہے؟
- وقت کی درج ذیل پیمائشیں کس دوری (Periodic)مظہر پر مبنی ہیں: (i) دن (ii) مہینہ (iii) سال؟
دریافت ، ڈیزائن اور بحث
- چاند کا ہلال ہمیشہ سورج کی طرف ہوتا ہے (شکل 11.12)۔ جس دن آپ کو ہلالی چاند نظر آئے ، اپنی انگلی سورج کی طرف کیجیے اور آہستہ آہستہ اسے آسمان میں چاند کی طرف جتنا ہوسکے چھوٹا راستہ بناتے ہوئے لے جائیے۔ غور کیجیے کہ آپ کی انگلی ہمیشہ چاند کے روشن حصے کو پہلے کیسے پار کرتی ہے اور ہمیں واضح طور پر دکھاتی ہے کہ ہم چاند سے منعکس ہونے والی سورج کی روشنی کو دیکھ رہے ہیں۔ ہلالی چاند کے سروں کو ملانے والی لکیر چاند کے قطر کے نمائندگی کرےگی۔

شکل11.12
- ہندوستانی قومی کیلنڈر کی زیادہ تر تاریخیں ہمیشہ گریگورین کیلنڈر کی تاریخوں سے میل کھاتی ہیں۔ کیا آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کچھ سالوں میں کون سی تاریخیں مختلف ہو سکتی ہیں؟
- ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں نیا سال ان کی مقامی ثقافتوں کے مطابق منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کی کوئی 10 ریاستوں میں منائے جانے والے نئے سال کے تہواروں کے نام معلوم کیجیے۔ یہ بھی معلوم کیجیے کہ آیا یہ قمری کیلنڈر پر مبنی ہیں یا شمسی کیلنڈر یا قمری شمسی کیلنڈر پر۔
- اپنے خاندان کے افراد یا اساتذہ یا انٹرنیٹ کی مدد سے پچھلے پانچ سالوں کے گریگورین کیلنڈر (جو باقاعدہ کیلنڈر آپ ہر روز استعمال کرتے ہیں) جمع کیجیے۔ ہر سال کے لیے، عید الفطر اور دیوالی جیسے تہواروں کی تاریخیں دیکھیے اور انھیں سال کے لحاظ سے جدول کی شکل میں درج کیجیے۔ کیا آپ نے دیکھا کہ عیدالفطر کی تاریخ ہرسال تقریباً 11 دن پیچھے ہوجاتی ہے؟ اگر آپ کے گھر یا انٹرنیٹ پر قمری کیلنڈر دستیاب ہے تو جانچ کیجیے کہ قمری کیلنڈر کے مطابق عید الفطر کا مہینہ اور دن ایک ہی رہتاہے۔ کیا دیوالیبھی اسی مستحکم طرز کی پیروی کرتی ہےیا اس میں اچانک کچھ بدلاؤ ہوتے ہیں؟ اپنے چارٹ کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانے کی کوشش
کیجیے کہ کس سال میں ایک کبیسہ (Adhika maasa) شامل ہو سکتا ہے۔ ایک قمری شمسی کیلنڈر حاصل کیجیے اور اس بات کی تصدیق کیجیے کہ آیا پچھلے سال اور اس سال دیوالی کے درمیان کوئی کبیسہ ہے۔ - ہر صبح اسکول جاتے وقت، اس سمت پر غور کیجیے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی جگہ کا تعین کیجیے اور مشرق کی طرف دیکھیے جہاں درخت، کھمبے، یا عمارتیں نشان کے طور پر کام کریں۔ اپنی نوٹ بک میں مشرقی افق کا خاکہ بنائیے۔ اگلے ایک سال تک ہر مہینے کے شروع میں اسی جگہ پر کھڑے ہوں اور اپنے خاکے پر سورج کے مقام کو نشان زد کیجیے۔ اسے مہینے کے نام سے لیبل کیجیے۔ سال کے آخر میں اپنے خاکے کا تجزیہ کیجیے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے کا مقام کسی خاص سمت کی طرف منتقل ہوگیا ہے؟ کیا آپ اسے اترائن اور دکشنائن سے پہچان سکتے ہیں جسے ہمارے اجداد نے دیکھا تھا؟ (صفحہ 181 پر ‘ایک قدم آگے’ باکس کو ملاحظہ کیجیے)۔
اب تک کی اپنی معلومات کی بنیاد پر کچھ سوالات تیار کریں ...
.................................................
.................................................
.................................................
.................................................
.................................................
ایک قدم آگے
اگر آپ سمندر کے قریب کسی جگہ کا دورہ کرتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پانی کی سطح بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ پانی کی سطح کے بڑھنے اور گھٹنے کو مدو جزر (Tides) کہتے ہیں۔ مدو جزر بھی ایک باقاعدہ پیٹرن کا اتباع کرتے ہیں۔ اگر کسی دن ایک مخصوص وقت پر مدوجزر آتا ہےتو اسی طرح کا مدو جزر اگلے دن تقریباً 50 منٹ بعد آئے گا۔ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ چاند بھی ہر روز تقریباً 50 منٹ بعد طلوع ہوتا ہے۔ محتاط مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ مدو جزر کی سطح کا چاند کے مقام اور ہئیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
اپنے دوستوں کے تیار کردہ سوالات پر غور کریں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کریں...
.................................................
.................................................
.................................................
.................................................
.................................................
