12
فطرت ہم آہنگی کے ساتھ کیسے کام کرتی ہے
(How Nature Works in Harmony)
جانچیں اور غور کریں
- جنگلات کے رقبے میں کمی اور بارش کے نمونوں میں تبدیلی ہاتھیوں کے انسانوں کے کھیتوں اور دیہاتوں میں کیسے داخل ہونے کا باعث بن سکتی ہیں؟
- تصور کریں کہ آپ گھنے جنگل کا ایک درخت ہیں۔ پانی، سورج کی روشنی، دوسرے جانوروں اور جنگل کے دیگر اجزا کے ساتھ آپ کے کس قسم کے تعلقات ہوں گے؟
- کیا آپ کو لگتا ہے کہ زمین انسانوں کے بغیر پھل پھول سکتی ہے؟ کیا انسان زمین کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟
- اگر دو قسم کے پرندے ایک ہی پھل کے لیے مقابلہ کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ان کا طرز زندگی کیسے بدل سکتا ہے؟
- کیا انسانی اعمال قدرتی آفات کا سبب بن سکتے ہیں؟
- اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے
![]()
؟
ہندوستان کے کئی حصوں میں، خاص طور پر اڈیشہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، آسام اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں، ہاتھی اکثر کھیتوں اور دیہاتوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جب چارے کی کمی ہو جاتی ہے اور ان کے قدرتی مسکن میں پانی کے ذرائع خشک ہوجاتے ہیں تو ہاتھی کیلے اور گنے جیسی خوراک کی تلاش میں قریبی کھیتوں یا باغات میں بھٹک سکتے ہیں۔ اس سے فصلوں اور بعض اوقات لوگوں اور گھریلو جانوروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بارش اور درجۂ حرارت میں تبدیلیاں پودوں کو متاثر کرتی ہیں۔ سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے درختوں کو کاٹنا صورت حال کو بدتر کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے جانوروں کے قدرتی مسکن، یعنی جنگلات، سکڑنے اور خشک ہونے لگتے ہیں۔ جب جنگلات جنگلی حیات کی مدد نہیں کرسکتے تو جانور انسانی مسکنوں میں چلے آتے ہیں۔ ہاتھی جنگل کی زندگی کے مطابق ڈھلے ہوتے ہیں، لیکن اچانک تبدیلیوں کی وجہ سے ان کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین ِ ماحولیات نے جانوروں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے ملک کے بہت سے حصوں میں راہداریوں کی شناخت کی ہے اور انھیں نشان زد کیا ہے۔ یہ راہداریاں جنگلاتی مسکنوں کو درست کرتی ہیں، جس سے جنگلی حیات جیسے ہاتھی انسانی بستیوں کے ساتھ ٹکراؤ کے بغیر بڑے جنگلاتی علاقوں کے درمیان ضرورت کے مطابق سفر کر سکتے ہیں۔
یہ سلسلے وار واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ فطرت کے عناصر کتنے قریب سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے باہمی رابطوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے ماحول کے اجزا کا لازماً مطالعہ کرنا چاہیے۔

آپ نے تجسس، گریڈ 6 باب ’جانداروں کی دنیا میں تنوع‘ میں پڑھا ہے کہ مختلف مسکنوں میں مختلف قسم کے پودے اور جانور ہوتے ہیں۔ مسکن (Habitat) وہ جگہ ہے جہاں کوئی جاندار رہتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ ایک درخت کی چھال بھی ہوسکتا ہے۔ پودے اور جانور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور آس پاس کے ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے خود کو ڈھال لیتے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ اپنے دو قریبی مسکنوں کو دریافت کریں اور ہر ایک میں جاندار اور غیر جاندار اجزا دونوں کی شناخت کریں۔
سرگرمی 12.1: آئیے دریافت کریں
احتیاط: اپنے استاد کے ساتھ گروپوں میں مسکن کو تلاش کریں۔
- اپنے گرد و پیش کے دو مسکنوں کی شناخت کریں۔
- یہ مندرجہ ذیل میں سے کوئی دو ہو سکتے ہیں: تالاب، جنگل، زرعی فارم یا کوئی بڑا درخت جیسے برگد، آم یا پِلکھن (سفید انجیر)کا درخت۔
- ان جاندار اور غیر جاندار چیزوں کی فہرست بنائیں جن کا آپ ان مسکنوں میں مشاہدہ کرتے ہیں۔
- جدول 12.1 میں اپنے مشاہدات کو درج کریں۔
جدول 12.1: دو مسکنوں کے مختلف اجزا
|
تالاب |
جنگل |
||
|
جاندار چیزیں |
غیر جاندار چیزیں |
جاندار چیزیں |
غیر جاندار چیزیں |
|
مچھلی |
پانی |
پودے |
مٹی |
|
گھاس |
|||
|
درخت |
|||
|
پرندے |
|||
سرگرمی 12.1 میں دونوں مسکنوں میں آپ کون سی مشترکہ خصوصیات کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ مماثلتیں یہ ہیں کہ دونوں مسکنوں میں جاندار بھی ہیں اور غیر جاندار بھی۔ تاہم، جانداروں کی اقسام مختلف ہیں اور غیر جاندار چیزیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ آپ نے جدول 12.1 میں جن جاندارچیزوں کو درج کیا ہے ان کو حیاتی (Biotic) اجزا اور غیر جاندار چیزوں کو مسکن کے غیر حیاتی (Abiotic) اجزا کہتے ہیں۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ عضویے زمین پر کیوں رہتے ہیں جب کہ دیگر پانی میں رہتے ہیں؟ ہر عضویے کو زندہ رہنے کے لیے مخصوص حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سرگرمی سے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مختلف مسکن مختلف زندگی کے حالات پیش کرتے ہیں۔
سرگرمی 12.1 میں، آپ نے مچھلی کو تالاب کے حیاتی جزو کے طور پر درج کیا۔ تالاب میں مچھلی کیسے زندہ رہتی ہے؟ ایک تالاب خوراک، آکسیجن، پناہ گاہ اور جانداروں کی بقا اور نشوونماکے لیے ضروری حالات فراہم کرتا ہے۔ مچھلیاں اپنی حیاتی ضروریات، جیسے خوراک، چھوٹے پودوں اور جانوروں سے،نیزغیر حیاتی ضروریات، جیسے آکسیجن، پانی سے حاصل کرتی ہیں۔
دیگر جاندار بھی تالاب میں رہتے ہیں، جیسے مینڈک، میٹھے پانی کے کچھوے، سانپ، ڈریگن فلائی، مچھر، گھونگھے اور بطخیں،ایلجی، ڈائی ایٹموں، سبزاب (Duckweed) اور کمل جیسے پودے۔ وہ سب ان جگہوں پر موجود دیگر جاندار اور غیر جاندار چیزوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں جہاں وہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔
ہر مسکن کے اپنے حیاتی اجزا اور طبیعی حالات ہوتے ہیں، جیسے ہوا، سورج کی روشنی، پانی، درجۂ حرارت اور مٹی۔ ایک ہی مسکن میں رہنے والے مختلف عضویے وسائل کو مختلف طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں۔ جنگل دن کے وقت گرم اور رات کو ٹھنڈا ہوسکتا ہے۔ رات کو باہر آنے والا سانپ اور دن کے وقت سرگرم رہنے والا چوہا دونوں ایک ہی مسکن میں رہتے ہیں، لیکن انھیں مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح زندہ عضویے ایک ہی مسکن میں ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔

آپ نے سرگرمی 12.1 کے تحت تالاب میں مچھلی کا مشاہدہ کیا ہے۔ کیا آپ نے صرف ایک ہی مچھلی دیکھی؟ زیادہ امکان ہے کہ آپ نے ایک ہی قسم کی بہت سی مچھلیاں دیکھی ہوں گی۔ تالاب مسکن میں ایک ساتھ رہنے والی ایک ہی قسم کی مچھلیوں کے گروپ کو اس مخصوص مچھلی کی آبادی (Population) کہا جاتا ہے۔ اس طرح، ہم ایک ہی مسکن میں مختلف قسم کے عضویوں کی آبادیوں کا مشاہدہ اور ریکارڈ کرسکتے ہیں۔
سرگرمی 12.2: آئیے درج کریں
ہم کسی خاص قسم کے پودوں کی آبادی کو ایک مخصوص جگہ اور وقت پر شمار کرکے سمجھ سکتے ہیں۔
- طلباکو چار سے پانچ گروپوں میں تقسیم کریں۔
- گروپ کسی بھی دو جانداروں، پودوں یا جانوروں کی شناخت کر سکتا ہے۔
- اپنے اسکول کے باغ میں 1m x1m کے رقبے کو نشان زد کریں۔
- اس علاقے میں چار جانداروں کی شناخت کریں اور ان کی تعداد گنیں۔
- جدول 12.2 میں جانداروں کی تعداد درج کریں۔
- تمام گروپوں سے اعداد و شمار مرتب کریں۔
جدول 12.2: دی ہوئی کسی جگہ اور وقت میں مخصوص جانداروں کی تعداد
|
جاندار عضویے کا نام |
آبادی (انفرادی عضویوں کی تعداد) |
|
پودا 1: |
20 |
|
پودا 2 : |
05 |
|
جانور 1 : |
|
|
جانور 2 : |
دی گئی مثال میں، __________________ پودوں کی آبادی 20ہے اور اسی1×1m2کے رقبے میں__________________ پودوں کی تعداد صرف 5 ہے۔
سرگرمی 12.2 سے، ہم وضاحت کرسکتے ہیں کہ آبادی ایک مقررہ وقت میں کسی مسکن میں ایک ہی قسم کے جانداروں کا گروپ ہے۔
کیا کسی مسکن میں صرف ایک ہی قسم کےجاندار ہوسکتے ہیں؟ اگر ایسا ہو تو کیا ہو سکتا ہے؟ اگر تمام جاندارعضویے ایک جیسے ہوں توخوراک ،پانی ، جگہ سے متعلق ان کی ضروریات بھی ایک جیسی ہوں گی اور اس کے لیے ہونے والی مسابقت وسائل کی ممکنہ قلت کا باعث بنتی ہے۔ آپ کے خیال میں اور کیا ہوسکتا ہے؟
سرگرمیوں 12.1 اور 12.2 میں، آپ نے مشاہدہ کیا کہ جانداروں کے مختلف گروہ ایک مسکن میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ایک کمیونٹی ایک ہی مسکن کا اشتراک کرنے والی مختلف آبادیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مسکن کے حیاتی اجزا، جیسے پودے، جانور اور خورد عضویے مل کر کمیونٹی بناتے ہیں۔ یہ جاندار ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔
کیاکبھی سنا ہے…
آپ نے اپنے گرد و پیش میں شوخ رنگ کے پھولوں کو کھلتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ کیا آپ نے کبھی ان کے حصوں کو قریب سے دیکھا ہے؟ پھول میں ڈنٹھل اور سبز پتوں والی ساختیں ہوتی ہیں جنھیں پھول پات(Sepal) کہا جاتا ہے، رنگین پنکھڑیاں (Petals) اور دو تولیدی حصے ہوتے ہیں۔ مادگین(Carpel) (مادہ ) اور زر ریشہ (Stamen) (نر)۔زر ریشہ پھٹتے ہیں تو یہ گرد جیسے زیرہ دانے (Pollen Grains) چھوڑتے ہیں۔ ہوا، پانی، کیڑے مکوڑے، چمگادڑیں اور پرندے ایک ہی اور مختلف پھولوں کے مادگین تک زیرہ لے جانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس عمل کو زیرگی (Pollination) کہا جاتا ہے (شکل 12.2)۔ یہ پھلوں اور بیجوں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
شکل 12.2: حشرات کے ذریعے زیرگی
شکل 12.3 حشرات کے ذریعے زیرگی
آئیے ہم ایک کمیونٹی میں مختلف جانداروں کے کردار کا پتہ لگائیں۔
سرگرمی 12.3: آئیے پڑھیں
- محققین نے یہ دیکھنے کے لیے ایک مطالعہ کیا کہ تالابوں میں مچھلیاں قریبی پودوں میں بیج کی پیداوار کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ انھوں نے دو تالابوں کا مشاہدہ کیا ۔ A جس میں مچھلی اور اس کے گرد و پیش میں بڑی تعداد میں پھول دار پودے تھے اور B جس میں مچھلی نہیں تھی اور اس کے آس پاس کم تعداد میں پھول دار پودے تھے
(شکل 12.3)۔اس مشاہدے کے لیے ایک وجہ سوچیں۔ - دونوں تالابوں میں ڈریگن فلائی، شہد کی مکھیوں اور تتلیوں کی تعداد کا موازنہ کریں۔ کیا آپ کو ڈریگن فلائی اور شہد کی
مکھیوں/تتلیوں کی تعداد کے درمیان کوئی تعلق ملتا ہے؟ ہم نے مشاہدہ کیا کہ تالاب A میں (مچھلی کے ساتھ) ڈریگن فلائی کی تعداد تالاب B کے مقابلے میں کم تھی۔ کیوں؟ - مچھلی ڈریگن فلائی کے لاروا کھاتی ہے، لہذا مچھلی والے تالابوں میں ڈریگن فلائی کم ہوتی ہے۔ ڈریگن فلائی عام طور پر مکھیاں، شہد کی مکھیاں اور تتلیاں کھاتی ہیں۔ ڈریگن فلائی کم ہونے کی بنا پر، زیادہ شہد کی مکھیاں، مکھیاں اور تتلیاں پائی گئیں۔ یہ کیڑے قریبی علاقوں سے زیرگی میں مدد کرتے ہیں یعنی زیرے کو ایک پھول سے دوسرے پھول میں منتقل کرتے ہیں، جس سے پودوں کو بیج پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لہذا، مچھلی والے تالابوں کے قریب اگنے والے پھول ،مچھلی کے بغیر تالابوں کے قریب اگنے والے پھول کے مقابلے زیادہ بیج پیدا کرسکتے ہیں۔
- یہ مطالعہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ تالاب میں مچھلی کی آبادی قریبی پودوں میں بیج کی پیداوار کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟
- اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح حیاتی اجزا (مچھلی، ڈریگن فلائی، زیرگی کنندگان، پودے) اور
غیر حیاتی اجزا (درجہ ٔحرارت ،پانی، مغذّیات) ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور ان پر اثر انداز ہوتے ہیں (شکل 12.4)۔ اسی طرح، کیا انسانوں کی طرف سے زیادہ ماہی گیری اس توازن کو تبدیل کر سکتی ہے؟ آپ کے خیال میں یہ مسکن کے جاندار اور غیر جاندار حصوں کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے؟
12.4 عضویوں اور ان کے گرد و پیش کے مابین مختلف قسم کے تعاملات کیا ہیں؟
تجسس، گریڈ 7 میں، آپ نے پڑھا ہےکہ پودوں اور جانوروں کو بڑھنے کے لیے کس طرح ہوا، پانی، مٹی اور سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جانداروں یا حیاتیاتی کمیونٹی غیر جاندار چیزوں پر منحصر ہے، جو ان کی بقا کے لیے غیر حیاتی اجزا ہیں۔ پودے اور جانور بھی تغذیہ، تنفس اور تولید کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ یہ حیاتی اجزا کے مابین تعامل ہیں۔ حیاتی اجزا کے مابین اور حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کے مابین باہمی عمل کسی بھی مسکن میں بقا کے لیے اہم ہیں۔
شکل 12.5 کو دیکھیں اور اب تک کی آموزش کی بنیاد پر حیاتی اجزا کے مابین اور حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کے مابین تعامل کی نشان دہی کرنے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 12.4: آئیے ربط پیدا کریں اور شناخت کریں
- دیے گئے معیار کی بنیاد پر، شکل 12.5 میں دکھائے گئے حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کے مابین تعامل کی
شناخت اور وضاحت کریں۔
معیار 1
غیر حیاتی اور حیاتی اجزا کے مابین تعامل۔ یہ حیاتی اجزا میں تغذیہ، تنفس اور تولید جیسے زندگی کے عمل کو متاثر
کر سکتے ہیں۔
معیار 2
دو غیر حیاتی اجزا کے مابین تعامل یہ مسکن طبیعی خصوصیات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
معیار 3
حیاتی اجزا کے مابین تعامل۔ یہ زندگی کے عمل جیسے غذائیت، تنفس اور تولید کے لیے درکار وسائل کی دستیابی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
- اپنی آموزش کو اپنے مشاہدات سے مربوط کریں۔
- مناسب جگہوں پر جدول 12.3 میں اپنے مشاہدات کو درج کریں۔جدول 12.3 میں آپ کے حوالے کے لیے مثالیں دی گئی ہیں۔
جدول12.3: مسکن میں حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کا تعامل
|
معیار 1: حیاتی اور غیر حیاتی |
معیار 2: دو غیر حیاتی اجزا کے درمیان تعامل |
معیار 3: حیاتی اجزا کے مابین تعامل |
|
کیچوے نم مٹی میں رہتے ہیں۔ |
تیز سورج کی روشنی کی وجہ سے دن کا درجۂ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ |
مینڈک کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔ |
|
تالاب میں بہت سے جرثومے موجود ہیں۔ |
سورج کی روشنی کی وجہ سے پانی تیزی سے بخارات میں تبدیل ہو رہا ہے۔ |
آبی سانپ مچھلی کھاتا ہے۔ |
|
مچھلی پانی میں انڈے دیتی ہے۔ |
پانی سطح پر آہستہ آہستہ ہوا چلنے کی وجہ سے مکمل بہریں پیدا ہو رہی ہیں۔ |
مینڈک اور مچھلی چھوٹے کیڑوں کے لاروا کے لیے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ |
|
تالاب کے قریب کی مٹی نم ہے۔ |
ایک مچھلی پودوں کے قریب پانی میں انڈے دیتی ہے تاکہ انھیں دوسری مچھلیوں یا مینڈکوں سے بچایا جا سکے۔ |
سرگرمی 12.4 میں، آپ نے سمجھا کہ مسکن کے اندر مختلف قسم کے باہمی عمل ہوتے ہیں۔ اس سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسکن میں حیاتی اجزا (پودے، جانور اور خورد عضویے) اور غیر حیاتی اجزا (ہوا، پانی، مٹی، سورج کی روشنی اور درجہ ٔحرارت) ماحولیاتی نظام (Ecosystem)کی تشکیل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ ماحولیاتی نظام میں جاندار عضویے خوراک، پناہ گاہ اور تحفظ کے لیے غیر حیاتی اجزا کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ جانداروں کی مختلف کمیونٹی ماحولیاتی نظام میں غیر حیاتی اجزا کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ فطرت میں ماحولیاتی نظام کی دو اہم قسمیں ہیں۔
آبی ماحولیاتی نظام جس میں تالاب، دریا اور جھیلیں شامل ہیں جب کہ برّی ماحولیاتی نظام(Terrestrial Ecosystem) میں جنگلات، کھیت اور یہاں تک کہ بڑے درخت جیسے برگد، آم یا پلکھن شامل ہیں۔ لہٰذا، ماحولیاتی نظام بڑا یا چھوٹا ہو سکتا ہے۔ کیا آپ شکل 12.6 میں متراکب ماحولیاتی نظام تلاش کرسکتے ہیں؟
(شکل 12.6) میں مختلف زمینی اور آبی ماحولیاتی نظاموں کے تراکب کو دکھایا گیا ہے۔ اس شکل میں، آپ پہاڑ، جنگلات، گھاس کے میدان اور کھیتوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا دریا (ایک آبی ماحولیاتی نظام) دیکھ سکتے ہیں، جو برّی ماحولیاتی نظام کی مثالیں ہیں۔ کھیت ایک انسان کابنایاہوا ماحولیاتی نظام ہے۔ یہ ماحولیاتی نظام ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کر رہے ہیں۔
سرگرمی 12.4 میں، ہم نے ماحولیاتی نظام کے اجزا اور ان کے مابین باہمی عمل کی اہمیت کو دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر، سورج کی روشنی، کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی پودوں میں غذا پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ مٹی پودوں کی نشوونما کے لیے درمیانے اور ضروری غذائی اجزا فراہم کرتی ہے۔ ہوا پودوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو سانس لینے کے لیے آکسیجن فراہم کرتی ہے۔ پانی تمام جانداروں کے لیے ضروری ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح جاندار ماحولیاتی نظام کے غیر جاندار جزو پر منحصر ہیں۔
جس طرح حیاتی اجزا غیر حیاتی اجزا پر منحصر ہیں، اسی طرح غیر حیاتی اجزا بھی حیاتی اجزا پر منحصرہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پودے ضیائی تالیف کے دوران آکسیجن چھوڑتے ہیں، جڑیں مٹی کو تھامے رکھتی ہیں اور کٹاؤ کو روکتی ہیں اور پودے مٹی کی نمی کو برقرار رکھتے ہیں اور ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
آپ اپنے آس پاس کے کسی بھی ماحولیاتی نظام کی شناخت اور مطالعہ کرسکتے ہیں اور حیاتی اور غیر حیاتی اجزا کے مابین مختلف قسم کے تعاملات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ جب کہ حیاتی تعاملات کا مطالعہ کرتے ہوئے، غور کریں کہ کس طرح عضویے غذا کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
سرگرمی 12.5: آئیے درجہ بندی کریں
شکل 12.1bکا مشاہدہ کریں، جو جنگل کے ماحولیاتی نظام کی وضاحت کرتی ہے۔
- تصویر کا بغورمطالعہ کریں اور جدول 12.4 میں درج عضویوں کو تلاش کریں۔
- انٹرنیٹ یا اپنے اسکول کی لائبریری کا استعمال کرتے ہوئے، معلوم کریں کہ یہ عضویےکیا کھاتے ہیں۔
- جدول 12.4 میں اپنے مشاہدات کو درج کریں کہ آیا ہر عضویہ صرف پودوں اور پودوں کی مصنوعات سے غذا حاصل کرتا ہےیا صرف جانوروں سےیا دونوں سے۔
جدول 12.4: مختلف عضویوں کی غذائی عادات
|
عضویہ کا نام |
ضیائی تالیف انجام دیتا ہے: |
پودوں اور پودوں کی مصنوعات سے غذاحاصل کرتا ہے: |
جانوروں سے غذا حاصل کرتاہے: |
پودوں ،جانوروں یا دونوں سے غذا حاصل کرتا ہے: |
|
ہرن |
نہيں |
گھاس اور پتے |
نہيں |
صرف پودوں سے |
|
گھوڑا |
||||
|
گدھ |
||||
|
بنگال لومڑی |
||||
|
پرندہ (شکرا) |
||||
|
گلہری |
||||
|
چوہا |
||||
|
ککرمتا |
||||
|
پیڑ |
ہاں |
پودے اپنی غذا کیسے حاصل کرتے ہیں؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پودے ضیائی تالیف کے عمل کے ذریعے اپنی غذا خود بناتے ہیں۔ اس طرح، انھیں پروڈیوسر یا خود پرورشی (Autotrophs)کہا جاتا ہے (آٹو = خود + ٹروف = خوراک)۔
جو جاندار اپنی غذا خود پیدا نہیں کرسکتے اور اپنی غذا کے لیے دوسرے جانداروں پر منحصرہوتے ہیں انھیں صارف(Consumer) یا غیر خود کفیل جاندار(Heterotrophs) (ہیٹرو = دیگر + ٹروف = خوراک) کہا جاتا ہے۔ جدول 12.4 سے دیگر پرورشی کی فہرست بنائیے۔
وہ جاندار جو صرف پودوں کو کھاتے ہیں انھیں نباتات خور (Herbivores)کہا جاتا ہے، جیسے ہرن اور خرگوش۔ جو صرف جانوروں کو کھاتے ہیں وہ گوشت خور (Carnivores) کہلاتے ہیں، جیسے تیندوا۔ جو جاندار پودوں اور جانوروں دونوں کو کھاتے ہیں وہ ہمہ خور(Omnivores) کہلاتے ہیں، جیسے کوے، لومڑی اور چوہا۔
12.5 کون کس کو کھاتا ہے؟
سرگرمی 12.5 میں، ہم نے جانداروں کے مابین غذائی تعلقات کے بارے میں سیکھا۔ ہم کسی دیے گئے ماحولیاتی نظام میں جاندار عضویوں کے مابین غذائی تعلقات کے ساتھ کس طرح روابط بنا سکتے ہیں؟

- گھاس کے میدان کے ماحولیاتی نظام کی مثال لیں۔
- مندرجہ ذیل جانداروں پر غور کریں جو ہم گھاس کے میدان کے ماحولیاتی نظام میں دیکھ سکتے ہیں:گھاس، مینڈک، خرگوش، لومڑی، ٹڈی، سانپ اور عقاب۔
- شکل 12.8 میں، کون کس کو کھاتا ہے اس کا رشتہ کچھ جانداروں کے درمیان دکھایا گیا ہے۔
- شکل 12.8کی طرح تیروں کا استعمال کرکے باقی جانداروں کے لیے غذائی رشتے کھینچیں۔
شکل 12.8 میں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ گھاس کو خرگوش کھاتا ہے اور خرگوش کو لومڑی کھاتی ہے۔ یہ گھاس کے میدان کے ماحولیاتی نظام میں غذائی زنجیر (Food Chain) کی نمائندگی ہے۔ اس سرگرمی میں دیے گئے جانداروں کے لیے کون سی غذائی زنجیر بنائی جاسکتی ہے؟ اس کی ایک مثال مندرجہ ذیل ہوسکتی ہے:
گھاس ← ٹڈی ← مینڈک ← سانپ ← عقاب
غذائی رشتوں پر مبنی حیاتی اجزا کے مابین تعامل کو لکیری زنجیر کی شکل میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ غذائی زنجیر ایک سادہ سا سلسلہ ہے جس میں دکھایا جاتا ہے کہ ماحولیاتی نظام میں ’کون کس کو کھاتا ہے‘۔ ایسی ہی ایک مثال شکل 12.9 میں دی گئی ہے۔
سرگرمی 12.7: آئیے خاکہ بنائیں
شکل 12.10a ایک فصل کے کھیت کی نمائندگی کرتی ہے جس میں باجرا، چوہا اور عقاب ہوتا ہے۔
- شکل 12.10aمیں ہر قسم کے جانداروں کی تعداد شمار کریں۔
- ایک جدول بنائیں اور ہر جاندار کے لیے جدول میں ایک نمبر مقرر کریں۔
- بڑھتی ہوئی ترتیب میں نمبروں کو ترتیب دیں، بنیاد پر سب سے زیادہ نمبر اور سب سے اوپر سب سے کم نمبر رکھنے پر غور کریں۔
- شکل 12.10bمیں چوہا، باجرا اور عقاب کو مناسب طریقے سے رکھیں۔
- آپ کو کیسی شکل ملتی ہے؟ یہ ایک اہرام کی طرح لگتا ہے۔ شکل 12.10bمیں اہرام کو مکمل کریں۔
غذائی زنجیر میں ہر جاندار کی ایک مخصوص پوزیشن ہوتی ہے، جسےتغذئی درجہ (Trophic Level)کہا جاتا ہے (ٹروف = خوراک):
- پروڈیوسر (جیسے ہرے پودے)پہلے تغذئی درجے پر ہیں۔
- نباتات خور (جیسے خرگوش اور ہرن) دوسرے درجےپر ہیں۔
- چھوٹے گوشت خور جانور (جیسے مینڈک)تیسرےتغذئی درجے پر ہیں۔
- بڑے گوشت خور جانور (جیسے شیر یا گدھ) اگلے تغذئی درجے پر ہیں۔

- شکل 12.11کو دیکھیں۔
- شکل کو دیکھیں اور ‘کون کس کوکھاتا ہے’کے گمشدہ رشتوں کے لیے مزید تیر کا استعمال کریں۔
- ماحولیاتی نظام میں غذائی رشتے کے ذریعے کتنے دوسرے جاندار ایک جاندار سے منسلک
ہوسکتے ہیں؟
شکل 12.11کو دیکھیں اور ایک ماحولیاتی نظام میں مختلف غذائی زنجیروں کے مابین تعلقات کا مشاہدہ کریں۔ کیا یہ غذائی زنجیریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں؟ ہر جاندار عضویے کو دو یا دو سے زیادہ قسم کے جاندار کھا سکتے ہیں۔ اس طرح، ایک ماحولیاتی نظام میں، غذائی زنجیر ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو کر نیٹ ورک بناتی ہیں، جسے غذائی جال (Food Web) کہا جاتا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ جاندار بڑھتے ہیں، بہت سے کام انجام دیتے ہیں، نشوونما کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ اپنے دور حیات میں، جاندار بہت زیادہ فضلہ پیدا کرتے ہیں، جس میں مردہ مادے اور غذائی فضلہ شامل ہوتے ہیں۔
12.6 فطرت میں فضلہ کا کیا ہوتا ہے؟
آپ نے بارش کے موسم میں مردہ پودوں یا درختوں پر چھوٹے چھتری نما ساختوں یعنی مشروم کو بڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا (شکل 12.12)۔ یہ ایک قسم کی پھپھوند ہیں جو مردہ مادے پر اگتی ہیں۔ پھپھوند اور بیکٹیریا جیسے خورد عضویے مردہ پودوں اور جانوروں میں پیچیدہ اشیا کو آسان اشیامیں توڑ دیتے ہیں۔ یہ عمل مٹی میں اہم غذائی اجزا کو لوٹاتا ہے۔ آپ جانوروں کے گوبر پر، مثلاً ہاتھی کے گوبر پر، چھوٹے کیڑوں، بیٹل اور مکھیوں کو بھی دیکھا ہوگا جو اسے توڑنے اور غذائی اجزا کو ماحول میں باز تشکیل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس عمل کو تحلیل (Decomposition) کہا جاتا ہے اور اس عمل کو انجام دینے والے جانداروں کوتحلیل گر (Saprotrophs) (سیپرو = سڑئی ہوئی + ٹروفس = غذا) کہا جاتا ہے۔ پودے مٹی میں اگتے ہیں اور مٹی میں موجود بہت سے غذائی اجزا تحلیل کے عمل سے آتے ہیں۔ اس طرح تحلیل گر اجزا کی باز تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فطرت میں، کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا ۔ ہر چیز کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا فطرت واقعی کوئی شے ضائع کرتی ہے؟
کیاکبھی سنا ہے ...
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں متنوع مسکن اور موسم پائے جاتے ہیں۔ بہت سے مہاجر پرندے ہزاروں میل سے اڑ کر ہندوستان میں مختلف مسکنوں تک پہنچتے ہیں۔ وہ سخت آب و ہوا سے بچنے اور خوراک کی تلاش کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے نقل مکانی کرتے ہیں۔ پرندے نہ صرف ان مسکنوں کے حسن کو بڑھاتے ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہجرت کرنے والے راستے پر زیرگی یا بیج منتشر کرتے ہیں۔ اس طرح وہ دو مسکنوں کو جوڑتے ہیں۔ یہ پرندے کیڑوں کے شکاری ہیں اور کیڑوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے میں کسانوں کی مدد کرتے ہیں اور بالواسطہ طور پر صحت مند فصل کی نشوونما میں مدد کرتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے پرندے، ڈیموئزل کرین
(Demoiselle Crane) سردیوں کے مہینوں میں جودھ پور ضلع کے کھیچن گاؤں کے آبی ذخائر کا دورہ کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں کون سے پرندے صرف سردیوں کے دوران نظر آتے ہیں؟ ہندوستانی محکمۂ ڈاک کی طرف سے جاری کردہ مہاجر پرندوں کے مخصوص ڈاک ٹکٹ اور کور جمع کریں اور ان کے اصل مقام اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ان کی نقل مکانی کی وجوہات کے بارے میں معلومات یکجا کریں۔ مہاجر پرندوں کو مقبول بنانے کے لیے اپنی سائنس لیبارٹری / اسکول کی لائبریری میں پوسٹل ڈاک ٹکٹوں کی نمائش کریں۔
12.7 ایک تبدیلی کیسے دوسری تبدیلی کی طرف لے جاتی ہے؟
شکل 12.13کو دیکھیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی تبدیلی بہت سی دوسری چیزوں کا باعث بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، تالاب میں بہت سے پودے آلودگی کی وجہ سے مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ کم پودوں کے ساتھ پانی میں کم آکسیجن پیدا ہوگی جس کی وجہ سے اس آبی ذخیرے میں مچھلیوں کی آبادی میں کمی آئے گی۔ مچھلیوں کی آبادی میں کمی کے اپنے اثرات مرتب ہوں گے اور تالاب میں صارفین کی تعداد کم ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ یہ کیڑے قریبی کھیتوں میں پھیل جائیں گے۔ اس طرح کسان اپنی فصلیں اگانے کے لیے کیڑے مار ادویات کا استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے جو ایک بار پھر ماحول پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مزید نتائج دیگر ماحولیاتی مسائل کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔
جب ہم فطرت میں مداخلت کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
سرگرمی 12.9: آئیے پڑھیں
1980کی دہائی میں، ہندوستان مینڈک کی ٹانگوں (Frog Legs)کا ایک اہم برآمد کنندہ تھا، خاص طور پر ہندوستانی بل فراگ (Hoplobatrachus Tigerinus) کا (شکل 12.14)۔ اس بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے مینڈکوں کی آبادی میں کمی واقع ہوگئی۔ چوں کہ مینڈک کیڑے مکوڑوں کو کھاتے ہیں، لہذا ان کی کم تعداد کے نتیجے میں زرعی کیڑوں میں اضافہ ہوا۔ اس سے کسانوں کو زیادہ مصنوعی جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس سے ماحولیات، مٹی اور پانی کے معیار کو نقصان پہنچا اور مجموعی طور پر ماحولیاتی اور انسانی صحت متاثر ہوئی۔ حکومت ہند نے مزید ماحولیاتی نقصان کو روکنے کے لیے مینڈک کی ٹانگوں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔
ماحولیاتی نظام تبھی توازن میں رہتا ہے جب جاندار اور ان کے ماحول کے مابین
باہمی عمل آبادی اور وسائل کو مستحکم رکھتا ہے۔ یہ توازن متحرک ہے، متعین نہیں اور قدرتی یا انسان ساختہ تبدیلیوں سے اس میں خلل پڑ سکتا ہے۔
12.8 ماحولیاتی نظام میں باہمی عمل کس طرح توازن برقرار رکھتے ہیں؟
غذائی تعلقات کے علاوہ، جاندار مشترکہ وسائل جیسے خوراک، پانی، طبیعی مقام یا سورج کی روشنی کے لیے بھی مسابقت کرتے ہیں۔
یہ مسابقت آبادی کے حجم پر قابو رکھنے اور ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
اس کے بغیر، کوئی نوع بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی نظام میں عدم توازن پیدا ہوسکتا ہے (شکل 12.15)۔
تعلقات کی دوسری قسمیں بھی ہیں۔ شکل 12.16 میں دی گئی مثال کی بنیاد پرآپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
- ہم باشی (Mutualism): دونوں جانداروں کو فائدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، شہد کی مکھیاں اور پھول۔
- ہم لحدی (Commensalism): ایک جاندار فائدہ اٹھاتا ہے جب کہ دوسرا متاثر نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: درختوں پر آرکڈ۔
- طفیلیت(Parasitism): ایک جاندار فائدہ اٹھاتا ہے جب کہ دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر: کتوں کے جسم پر پسو۔
یہ باہمی عمل ماحولیاتی نظام میں پیچیدہ حیاتیاتی جال کا حصہ ہیں۔
سائنس داں کے بارے میں
اسیر جواہر تھامس جان سنگھ (اے جے ٹی جان سنگھ) ایک مشہور ہندوستانی ماہر جنگلی حیاتیات کے تھے جنھوں نے جانوروں کی آنکھوں سے جنگل کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں ہماری مدد کی۔ وہ جدید ٹریکنگ سسٹم کے ذریعےمطالعاتِ جنگلی حیات کے بانی تھے۔ جب وہ باندی پور نیشنل پارک، کرناٹک میں کام کر رہے تھے تو ان کی تحقیق نے دکھایا کہ کس طرح شیر اور تیندوے جیسے شکاری ہرن اور جنگلی سور پر منحصر ہوتے ہیں۔ انھوں نے ثابت کیا کہ صحت مند شکار کی آبادی شکاریوں کی بقا کی کلید ہے۔ انھوں نے بہت سے نوجوانوں کو جنگلی حیات کا مطالعہ کرنے اور ہندوستان کے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرنے کی ترغیب دی۔

ہم نے پڑھا ہے کہ ماحولیاتی نظام کے حیاتی اجزا اور غیر حیاتی اجزا ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں اور زندگی کے مختلف افعال کی حمایت کرتے ہیں۔ انسان ماحولیاتی نظام سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنگلات تازہ ہوا، زرخیز مٹی، خوراک، ریشے، لکڑی اور ادویات فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح آبی ماحولیاتی نظام پانی اور خوراک فراہم کرتا ہے۔ ماحولیاتی نظام جمالیاتی اور تفریحی قدر بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ ہماری فلاح و بہبود کے لیے ضروری اورفائدہ مند ہے۔ یہ اس کی حمایت کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ فطرت اور انسان کتنے قریب سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن، جب ہم قدرتی وسائل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں یا ان کا غلط استعمال کرتے ہیں تو ہم فطرت کےتوازن کو خراب کر دیتے ہیں۔
اب آئیے خطرے سے دوچار ماحولیاتی نظام میں حقیقی زندگی کی مثال دیکھیں — سندربن۔ سندربن میں دنیا کے سب سے بڑے مینگروو جنگلات ہیں۔ جہاں گنگا اور برہم پتر دریا ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ملتے ہیں، سندربن کے جنگلات اور دریا مختلف نباتات اور حیوانات کا مسکن ہیں، جن میں سے بہت سے خطرے سے دوچار ہیں۔ سندربن طوفانوں اور سیلاب کے دوران تیز ہواؤں اور لہروں کو کم کرکے ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ درخت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس کی اہمیت کی وجہ سے، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) نے 1987 میں سندربن کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ حالاں کہ، سندربن کو شدید خطرہ لاحق ہے(شکل 12.17)۔ ایندھن کی لکڑی اور کاشت کاری کے لیے مینگروو کے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی شکار اور جنگلاتی وسائل کا زیادہ استعمال وہاں رہنے والی جنگلی حیات کے لیے خطرہ ہے۔ دریاؤں میں صنعتی فضلہ اور غیر صاف شدہ سیوریج سے ہونے والی آلودگی بھی پانی اور مسکن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ انسانی سرگرمیاں ماحولیاتی نظام کے کام کرنے کے قدرتی طریقے میں خلل ڈالتی ہیں۔
اسی طرح ہندوستان بھر میں دیگر ماحولیاتی نظام بھی خطرے میں ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی وسائل کا زیادہ استعمال، حملہ آور انواع کا پھیلاؤ، زمین کا غیر پائیدار استعمال اور آلودگی جیسے مسائل جنگلات، دریاؤں، جھاڑیوں کی زمینوں، مربوط زمینوں (Wetlands)، گھاس کے میدانوں (Grasslands) اور ساحلی علاقوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ہم جنگلات، دریاؤں اور گیلی زمینوں کو نقصان پہنچانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ اس پر غور کریں کہ آپ اور آپ کی کمیونٹی ان اہم مقامات کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کر سکتی ہے۔
ہمارا سائنسی ورثہ
محفوظ علاقے زمین یا پانی کے وہ حصے ہیں جو جنگلی حیات اور ان کے مسکنوں کے تحفظ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ہندوستان میں بہت سے محفوظ علاقے ہیں جیسے نیشنل پارک، وائلڈ لائف سینکچوریاں، بائیو اسفیئر ریزرو اور کمیونٹی کے محفوظ علاقے۔ یہ مقامات خطرے سے دوچار جانوروں، پرندوں اور بہت سے نایاب پودوں سمیت پورے مسکنوں کی حفاظت میں مدد کرتے ہیں۔ مشہور مثالوں میں جم کاربیٹ نیشنل پارک (اتراکھنڈ)، مانس نیشنل پارک (آسام)، نیل گری بایوسفیئر ریزرو (مغربی گھاٹ)، چلکا جھیل (اوڈیشہ)، ایگل نیسٹ وائلڈ لائف سینکچوری (اروناچل پردیش)، ہیمس نیشنل پارک (لیہہ)، کیبل لامجاؤ نیشنل پارک (منی پور)، پیروتن جزیرہ میرین نیشنل پارک (گجرات) شامل ہیں۔ محفوظ علاقے آنے والی نسلوں کے لیے فطرت کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
12.9.1 انسان کا بنایا ہوا ماحولیاتی نظام
انسانوں نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مصنوعی ماحولیاتی نظام جیسے مچھلی کے تالاب، فارم اور پارک
بنائے ہیں۔ جب اچھی طرح سے ڈیزائن کیا جائے تو یہ آلودگی کو کم کرنے، حیاتیاتی تنوع کی حمایت کرنے اور لوگوں کے لیے تفریحی جگہیں فراہم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ قدرتی ماحولیاتی نظام کے برعکس، ان کو انسانی دیکھ بھال اور انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ اپنے علاقے میں کسی انسان کا بنایا ہوا ماحولیاتی نظام کا نام بتا سکتے ہیں؟
12.9.2 صحت مند ماحولیاتی نظام ہمارے کھیتوں کی مدد کیسے کرتا ہے؟
کاشت کاری، ہندوستان میں ایک اہم ذریعہ معاش، اگر ماحول دوست کاشت کاری کے طریقوں کو لاگو کرکے اچھی طرح سے منظم نہ کیا جائے تو غیر پائیدار ہو سکتی ہے۔
انسان ہزاروں برسوں سے خوراک اگانے کے لیےکاشت کاری کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی، زراعت پر ہمارا انحصار بڑھتا گیا۔ 1950 اور 1965 کے درمیان، فصلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے ہندوستان کو خوراک کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ 20 ویں صدی کے وسط میں، ٹریکٹروں، مشینوں، مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے استعمال نے خوراک کی پیداوار بڑھانے میں مدد کی۔ اس دور کو سبز انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم، مصنوعی کیمیکلوں کے زیادہ استعمال، زیر زمین پانی نکالنے اور تجارتی فائدے کے لیے صرف ایک قسم کی فصل اگانے کی وجہ سے کاشت کاری کے ان طریقوں کو اب غیر پائیدار سمجھا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل ماحول اور انسانی صحت دونوں کو کس طرح نقصان پہنچاتے ہیں؟
بہت سے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ جراثیم کش ادویات کا زیادہ استعمال کرنا اور ایک ہی زمین پر ایک ہی قسم کی فصل کو بار بار اگانا مٹی کے انحطاط کا باعث بنتا ہے۔ ماحولیاتی نظام کو سمجھنے سے ہمیں بہتر اور زیادہ پائیدار
کاشت کاری کے طریقوں کو اپنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سرگرمی 12.10: آئیے سروے کریں
اپنے والدین یا استاد کے ساتھ قریبی فارم کا دورہ کریں / اپنی کمیونٹی کے کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں تاکہ وہ جن کاشت کاری کے طریقوں کو اپناتے ہیں ان کے بارے میں جان سکیں۔
- کسانوں کے لیے سوالات کی ایک فہرست تیار کریں تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ وہ کیڑے مار ادویات اور کھیت میں ڈالنے والی دیگر اشیا جنھیں وہ استعمال کرتے ہیں اور آیا وہ اپنی فصلوں کو بہتر بنانے کے لیے مواد کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں یا ری سائیکل کرتے ہیں۔ یہاں کچھ نمونے کے سوالات دیے گئے ہیں:
- وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی کھیتی کے طریقے کیسے بدل گئے ہیں؟ اور کیوں؟
- مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کرتے وقت آپ کو کیا اثرات نظر آتے ہیں؟
- کیا آپ نے ان مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار دواؤں کے استعمال کے بعد مٹی کی صحت میں کوئی تبدیلی دیکھی ہے؟
- ان سوالات کی بنیاد پر کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں۔ اپنے نتائج کی بنیاد پر، ایک رپورٹ تیار کریں۔
کسانوں کے ساتھ اپنی بات چیت سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار ادویات نے فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہندوستان جیسے ممالک کو خوراک کے تحفظ میں مدد کی ہے۔ تاہم، ان کا طویل مدتی استعمال ماحول اور مٹی کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ مصنوعی کھادوں کا زیادہ استعمال مٹی میں دوستانہ خورد عضویوں کو کم کرکے اور نامیاتی مادے (Humus) کو کم کرکے مٹی کی زرخیزی کو کم کرسکتا ہے، جو مٹی کے ذرات کو باندھنے میں مدد کرتا ہے۔
کافی ہیومس کے بغیر، مٹی کٹاؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔ نیز، اس سے قدرتی شکاریوں کی آبادی کم ہوتی ہے جس کی بنا پر بالآخر کیڑوں کی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے (شکل 12.18)۔ زیادہ آب پاشی اور بار بار ہل چلانے سے مٹی کے جاندار جیسے کیچوے اور گھونگھے بھی پریشان ہوسکتے ہیں جو ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔
کچھ کیڑوں میں کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے، جس سے ان پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک ہی فصل کو بار بار اگانا، جسے مونوکلچر کہا جاتا ہے، فصلوں کے تنوع کو کم کرسکتا ہے اور زیرگی کرنے والوں کو متاثر کرسکتا ہے جو خوراک کی پیداوار کے لیے اہم ہیں۔
کاشت کاری کو مزید پائیدار بنانے کے لیے، کچھ کسان نامیاتی اور قدرتی کاشت کاری کے طریقوں کو کھوج رہے ہیں۔ ان کا مقصد مصنوعی کھادوں کے استعمال کو کم کرنا اور قدرتی ماحولیاتی نظام میں کم سے کم مداخلت کے ساتھ پائیدار کاشت کاری کی حمایت کرنا ہے۔ اپنی آموزش کی بنیاد پر، آپ کے خیال میں کون سے طریقوں سے کسانوں کو مستقبل کے لیے مٹی، ماحول اور ہماری خوراک کی حفاظت میں مدد مل سکتی ہے؟
ہمارا سائنسی ورثہ
قدیم متن ورکش آیوروید مٹی کی صحت اور پرورش پر زور دیتا ہے۔ یہ متن نامیاتی کھاد جیسے کُنپ جل (ابال کے عمل کے ذریعے جانوروں اور پودوں کے فضلے سے بنی ایک مائع کھاد؛ جو پیچیدہ مادوں کو آسان مادوں میں توڑ دیتا ہے) اور دیگر کھاد کے مواد کے ذریعے مٹی کی مسلسل پرورش کی سختی سے وکالت کرتا ہے۔
خلاصہ
- مسکن ایک ایسی جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کی رہائش اور نشوونما کے لیے صحیح حالات فراہم کرتی ہے۔
- مسکنوں میں حیاتی اجزا (پودے، جانور، خورد عضویے) اور غیر حیاتی اجزا (ہوا، پانی، مٹی، درجہ ٔحرارت) ہوتے ہیں۔
- کسی علاقے میں حیاتی اجزا اور غیر حیاتی اجزا کے درمیان باہمی عمل ایک ماحولیاتی نظام بناتا ہے۔
- ماحولیاتی نظام زمینی (جنگلات، گھاس کے میدان، ریگستان) یا آبی (تالاب، جھیلیں، بحیرے، سمندر) ہو سکتے ہیں۔
- جانداروں کو اکثر پیدا کار (پودے)، صارف (نباتات خور، گوشت خور، ہمہ خور )اور ڈی کمپوزر (بیکٹیریا، فنگس) کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔
- پیدا کار اپنا کھانا خود بناتے ہیں، جب کہ صارف پودوں یا جانوروں کو کھاتے ہیں۔ ڈی کمپوزر مردہ مادے کو توڑتے ہیں اور غذائی اجزا کو ری سائیکل کرتے ہیں۔
- غذائی زنجیریں دکھاتی ہیں کہ ماحولیاتی نظام میں کون کس کو کھاتا ہےاور غذائی جال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زنجیریں کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔غذائی زنجیر میں مختلف جاندار جن مقامات پر ہوتے ہیں انھیں غذائی سطح یا ٹروفک لیول کہا جاتا ہے۔
- کچھ جاندار تعلقات کی بنیاد پر رہتے ہیں، جیسے ہم باشی (دونوں کو فائدہ)، ہم لحدی (ایک کو فائدہ ہوتا ہے، دوسرا متاثر نہیں ہوتا) اور طفیلیت (ایک کو فائدہ ہوتا ہے، دوسرے کو نقصان پہنچتا ہے)۔
- ماحولیاتی نظام جو فوائد پیش کرتے ہیں وہ انسانی بقا اور بہبود کے لیے اہم ہیں۔ ان سے صاف ہوا، پانی، خوراک، ادویات اور آب و ہوا کا انضباط فراہم ہوتا ہے۔
- انسانی سرگرمیاں جیسے آلودگی، جنگلات کی کٹائی، مسکن کا نقصان، موسمیاتی تبدیلی، حملہ آور انواع اور قدرتی وسائل کا استحصال ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے۔ قومی پارکوں اور پناہ گاہوں جیسیتحفظی کوششوں کے ذریعے ان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔
تجسس کو برقرار رکھیں
- دیے گئے ڈائی گرام (شکل 12.19)کو دیکھیں اور غلط بیان منتخب کریں۔
- کمیونٹی آبادی سے بڑی ہوتی ہے۔
- کمیونٹی ماحولیاتی نظام سے چھوٹی ہوتی ہے۔
- ماحولیاتی نظام کمیونٹی کا حصہ ہوتا ہے۔
- آبادی ایک کمیونٹی کا حصہ ہے۔ اگر تمام تحلیل گراچانک جنگل کے ماحولیاتی نظام سے غائب ہوجائیں تو آپ کے خیال میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ وضاحت کریں کہ تحلیل گر کیوں ضروری ہیں۔
- تمل ناڈو کے کڈالور ضلع کے سیلوم نے بتایا کہ مینگروو کے جنگلات کی موجودگی کی وجہ سے آس پاس کے گاؤں کے مقابلے میں ان کا گاؤں 2004 کے سونامی سے کم متاثر ہوا تھا۔ اس پر سریتا، شبنم اور شیجو کو حیرت ہوئی۔ وہ حیران تھے کہ کیا مینگروو گاؤں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ کیا آپ ان کی اس بات کو سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں؟
- اس غذائی زنجیر کو دیکھیں:
گھاس ← ٹڈی ← مینڈک ← سانپ
اگر مینڈک اس ماحولیاتی نظام سے غائب ہوجاتے ہیں تو ٹڈیوں اور سانپوں کی آبادی کا کیا بنے گا؟ کیوں؟
- اسکول کے باغ میں، طلبا نے پچھلے سیزن میں کم تتلیاں دیکھیں۔ اس کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ کیمپس میں مزید تتلیوں کے لیے طلبا کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں؟
- کسی ماحولیاتی نظام کا صرف پرڈیوسر اور صارف یا تحلیل گرکا حامل ہونا کیوں ممکن نہیں ہے؟
- اپنے گھر یا اسکول کے قریب دو مختلف مقامات کا مشاہدہ کریں (مثال کے طور پر، کوئی پارک اور سڑک کا کنارہ)۔ آپ کو نظر آنے والے زندہ اور غیر جاندار اجزا کی فہرست بنائیں۔ دونوں ماحولیاتی نظام کس طرح مختلف ہیں؟
- ‘‘انسان کابنایاہوا ماحولیاتی نظام جیسے زرعی فارم ضروری ہیں، لیکن انھیں پائیدار بنایا جانا چاہیے۔’ اس بیان پر تبصرہ کریں۔
- اگر ہندوستانی خرگوش کی آبادی (شکل 12.20) کسی بیماری کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے تو اس سے دوسرے جانداروں کی تعداد پر کیا اثر پڑے گا؟

- اسکول یا قریبی پارک میں صفائی کے دن کی منصوبہ بندی کریں۔ دستانے پہن کر اور بیگ کا استعمال کرتے ہوئے، آپ کو ملنے والا فضلہ جمع کریں۔ آپ کو جو فضلہ ملا ہے اس کی اقسام پر تبادلۂ خیال کریں۔ کون سا فضلہ سب سے زیادہ عام تھا؟ ہم اس طرح کے فضلے کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟
- اروناچل پردیش میں، نیشی اور مِشمی قبائل شیر کو مقدس سمجھتے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں، بیگا قبیلہ باگیشور یا باگیشور دیو کی پوجا کرتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ شیر جنگل کا محافظ ہے۔ کسی اور ہندوستانی قبیلے کے بارے میں معلوم کریں جس کا کسی بھی جانور کے ساتھ خاص رشتہ ہے۔
- اپنے گھر یا اسکول کے قریب ایک درخت چنیں۔ ہفتے میں ایک بار،4 ہفتوں تک اس کا مشاہدہ کریں۔ کسی بھی نئے پتے، پھول، پھل یا پرندوں اور کیڑوں کے آنے کو نوٹ کریں۔ اپنے مشاہدات کو درج کریں۔ آپ اپنے نتائج کو www.seasonwatch.in پر اپ لوڈ بھی کرسکتے ہیں اور ایک نوجوان شہری سائنس داں بن سکتے ہیں۔
- کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں اور پائیدار کاشت کاری کے لیے ان کے ذریعے اپنائے جانے والے دیسی طریقوں کو درج کریں۔ گھر یا اسکول میں ایک پائیدار جڑی بوٹیوں کا باغ /قدرتی فارم بنائیں۔ یہ مختلف درجات کے طلبا کے ساتھ ایک گروپ سرگرمی ہوسکتی ہے۔
...اب تک کی اپنی معلومات کی بنیاد پر کچھ سوالات تیار کریں
...............................................
...............................................
...............................................
...............................................
...............................................
- کسانوں کی طرف سے اپنائے گئے کاشت کاری کے مختلف طریقوں کو سمجھنے کے لیے شکل 12.21کو دیکھیں یا آپ اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے کسی بزرگ شخص کے ساتھ قریبی فارم پر بھی جا سکتے ہیں۔ ماحول دوست اور پائیدار تکنیکوں کو اپنا کر کاشت کاری کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنی نوٹ بک میں کچھ تجاویز درج کریں۔ آپ اسکول کی تقریبوں، سائنس میلوں یا کرشی میلے میں حصہ لیتے ہوئے پوسٹر یا ماڈل بھی بنا سکتے ہیں اور ڈسپلے بھی کر سکتے ہیں۔ اسکول طلبا کے ساتھ کاشت کاری کے مروجہ طریقوں پر
تبادلہ ٔخیال کرنے کے لیے زرعی سائنس دانوں، کسانوں اور ماہرین کو بھی مدعو کر سکتا ہے۔
اپنے دوستوں کے تیار کردہ سوالات پر غور کریں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کریں...
...............................................
...............................................
...............................................
...............................................
...............................................