Skip to content
Qr






13
ہمارا مسکن: زمین، زندگی کوسہارا دینے
والا ایک منفرد سیارہ
(Our Home: Earth, a Unique
Life Sustaining Planet)


جانچیں اور غور کریں

  • آپ کے خیال میں اگر زمین پر زندگی ہی نہ ہوتی تو وہ کیسی نظر آتی؟
  • زمین پر زندگی اربوں سال سے قائم ہے۔اتنی بڑی تبدیلیوں اور آفات کے باوجود یہ زندگی کیسے چلتی رہتی ہے؟
  • کتے انڈے کیوں نہیں دیتے؟ یا مرغیاں زندہ چوزوں کو کیوں جنم نہیں دیتی ہیں؟
  • اگر کوئی خلائی جہاز مریخ پر مٹی اور پانی لے جائے تو کیا وہاں پودے اگنا شروع ہو جائیں گے؟

اپنے سوالات کا اشتراک کیجیے

؟

Screenshot 2026-04-10 142241

اب ہم اس کتاب کے آخری باب تک پہنچ چکے ہیں جو درمیانی مرحلے سے گزرتے ہوئے ہمارے سائنسی سفر کا اختتامی باب ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے جو کچھ دیکھا اور سیکھا ہے اسے یکجا کیا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ہمارامسکن، سیارۂ ارضی، کائنات میں معلوم کسی اور جگہ جیسا کیوں نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ نےگریڈ 6 اور 7 کے تجسس میں سیکھا ہے ، زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد طواف کرتا ہے۔ تاہم، یہ کسی عام سیارےکی طرح نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سیارہ ہے جہاں زندگی پائی جاتی ہے - بلند و بالا پہاڑوں اور وسیع سمندروں سے لے کر لامحدود ریگستانوں اور سرسبز جنگلات تک متنوع مناظر سے بھرا ہوا ہے۔ آج، ہمارےمصنوعی سیارچے (Satellites)ہمیں اس زمین کی حیرت انگیز تصاویر لینے کی سہولت دیتے ہیں۔ ابتدائی صفحے کی تصویر انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کے مشاہداتی مصنوعی سیارچے نے لی تھی اور یہ تقریباً 3,000 چھوٹی چھوٹی تصویروں کو ملا کر بنائی گئی ہے، بالکل ایسے جیسے موزیک کے ٹکڑوں کو جوڑ کر تصویر بنائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ تصویر خوبصورت دکھائی دیتی ہے ،لیکن یہ ایک مصنوعی رنگوں والی تصویر ہے، جس میں سائنس داں مختلف قسم کی معلومات دکھانے کے لیے مختلف رنگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ تصاویر ہمیں زمین پر پودوں اور سمندر میں موجود چھوٹے جانداروں کا مطالعہ کرنے میں مدد دیتی ہیں ، اور حتی کہ سمندر کے درجۂ حرارت ، تیل کےرساؤ اور ہوا کی سمت جیسی چیزوں کا پتہ بھی لگاسکتی ہیں۔ اس باب میں، ہم ان منفرد حالات کو اُجاگر کریں گے جو زمین کو جانداروں کے رہنے کے لیے بہترین مسکن بناتے ہیں۔

کیا چیز زمین کو اتنا خاص بناتی ہے؟ جیسا کہ ہم آج جانتے ہیں ،اگرچہ کائنات میں شاید اربوں سیارےموجود ہیں، لیکن زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی اپنی تمام شکلوں میں پائی جاتی ہے اور پروان چڑھتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ زمین پر ساری زندگی دراصل کہاں پائی جاتی ہے؟ تمام پہاڑ، دریا، جنگلات، جانور اور انسان ہمارے سیارے کی صرف سطح پر نہایت پتلی تہہ میں پائے جاتے ہیں۔ سب سےبلند پہاڑ کی چوٹی سے لے کر گہری سمندر کی کھائی تک، زمین کی یہ بیرونی تہہ’قشر‘(Crust)، جس پر تمام زندگی موجود ہے، زمین کے سائز کے مقابلے میں نہایت چھوٹی ہے۔ اگر زمین ایک سیب کے مانند ہو تواس کی بیرونی تہہ سیب کی جلد کی طرح پتلی ہوگی جیسا کہ شکل 13.1 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ نازک، زندگی کو سہارا دینے والی تہہ ہی زمین کو واقعی خاص بناتی ہے۔

Screenshot 2026-04-10 at 16-33-31 Chapter 13.pdf

مجھے حیرت ہے کہ کیا چیز زمین کو جانداروں کی نشو ونما اور زندہ رہنے کے لیےمنفرد بناتی ہے!

آئیے ہم ایک سرگرمی انجام دیتے ہیں جس میں ہم زمین کی وہ خصوصیات درج کریں گے جو آپ کے نزدیک اسے منفرد بناتی ہیں۔

سرگرمی 13.1: آئیے معلوم کریں

  • زمین کی کچھ ایسی خصوصیات کی فہرست بنائیں جنھیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں ، لیکن وہ ہمارے لیے
    دل چسپ اور اہم ہیں۔ انھیں جدول 1.31 میں لکھیں۔ ہم نے آپ کے لیے چند خصوصیات پہلے سے درج کر دی ہیں ۔

جدول 13.1: زمین کی دل چسپ خصوصیات

نمبر شمار

زمین کی دل چسپ خصوصیات

.1

وہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں، خلا میں فرار نہیں ہو جاتی۔(ہم نے باب 7 میں سیکھا کہ گیس کے ذرات آزادانہ حرکت کرتے ہیں اور گیس کا کوئی معین حجم نہیں ہوتا۔)

.2

ہم کشش ِثقل (Gravity) کے ذریعے زمین پر کھڑے رہ سکتے ہیں (جیسا کہ ہم نے باب 5 میں سیکھا)، لیکن ہمارا دل خون کو ہمارے سر تک پمپ کر سکتا ہے۔

.3

.4


اپنے استاد اور دوستوں کے ساتھ ان خصوصیات پر تبادلۂ خیال کریں جوآپ نے درج کی ہیں ۔ آپ محسوس کریں گےکہ زمین ہمارے لیےکئی طرح سے دل چسپ اور اہم ہے۔ یہ ہمیں ہوا فراہم کرتی ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں، پانی دیتی ہے جسے ہم پیتے ہیں اور مٹی فراہم کرتی ہے جس میں فصلیں ا ُگتی ہیں ۔ زمین ہمیں چٹان اور لکڑی جیسی اشیا بھی فراہم کرتی ہے جن سے ہم اپنے گھروں، عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر کرتے ہیں۔ آپ کو یہ تجسس ہونا چاہیےکہ زمین کوایسا انوکھا سیارہ بناتی ہے جو نہ صرف ہماری جیسی زندگی کو وجود میں لانے میں معاون ہے بلکہ اسے برقرار بھی رکھتی ہے۔

13.2 ہمارے نظام شمسی کے سیارے کیسے نظر آتے ہیں؟

گریڈ 6 کی کتاب تجسس کے باب ’زمین کے اس پار‘ میں آپ نے نظام شمسی کا مطالعہ کیا تھا۔ آئیے ہم کچھ ان چیزوں کو یاد کرتے ہیں جن کے بارے میں آپ نے آموزش کی تھی۔ ہمارے نظام شمسی میں آٹھ سیارے ہیں جو سورج کا طوا ف تقریباًدائرہ نما مدار میں کرتے ہیں۔ سورج سے ان کے بڑھتے فاصلے کے لحاظ سے عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہیں۔ ان تمام سیاروں میں سے عطا رد، زہرہ، زمین اور مریخ نسبتاً چھوٹے اور پتھریلے سیارے ہیں جبکہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون بڑے سیارے ہیں جو زیادہ تر گیسوں سے بنے ہیں۔

آئیے ہم سرگرمی 13.2 انجام دے کر نظام شمسی میں موجود سیاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر یں۔

  • نظام شمسی میں موجود سیاروں کے درجہ ٔحرارت اور سائز کے بارے میں معلومات جمع کریں، اورجانچیں کہ ان کے پاس کر ۂ ہوا موجود ہےیا نہیں۔
  • آپ یہ معلومات اپنے اسکول کی لائبریری میں موجود کتابوں ، قابل اعتماد ویب سائٹس یا یا اپنے اساتذہ کے ساتھ تبادلہ ٔ خیال کرکے جمع کر سکتے ہیں۔
  • جدول 2.31 میں موجود خالی جگہوں کو معلومات سے پُرکریں۔

جدول 13.2: ہمارے نظام شمسی کے سیارے

نمبر شمار

سیارہ

اوسط درجۂ حرارت (°C)

زمین کے مقابلے

نصف قطر (Radius)

کیا کرۂ فضائی ہے؟

.1

عطارد

170

نہیں

.2

زہرہ

450

0.95

ہاں

.3

زمین

15

1

ہاں

.4

.5

11

.6

.7

.8

–200

4


ہم جانتے ہیں کہ نظام ِ شمسی کے تمام سیارے اپنی توانائی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح جب کوئی سیارہ سورج کے قریب ہوگا تو وہ بہت گرم ہوگا۔ جیسے جیسے ہم سورج سے دور ہوتے ہیں، سیاروں کو ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ کیا یہ وہی ہے جو آپ نے جدول 13.2 میں پایا ہے؟ یہ عام طور پر درست ہے ، حالانکہ زہرہ ، سورج سے قریب دوسرا سیارہ ہے جس کا اوسط درجۂ حرارت سب سے زیادہ ہے اور یہ گرم ترین سیارہ ہے۔ ایسا کیوں ؟

زہرہ سب سے گرم سیارہ ہے اس لیے نہیں کہ یہ سورج کے قریب ترین ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کا موٹا کرۂ ہوا گرمی کو پھنسائے رکھتا ہے۔

زہرہ پر موجود ہوا تقریباً مکمل طور پر کاربن ڈائی آکسائڈ گیس سے بنی ہے ، جو گرمی کو باہر نکلنے نہیں دیتی ہے۔ اسے گرین ہاؤس اثر کہا جاتا ہے (شکل 13.2) اور یہ زہرہ کو عطارد سے بھی زیادہ گرم بنادیتاہے، حالاں کہ عطارد سورج کے نسبتاً قریب ہے۔ زمین پر بھی کرۂ فضا ئی میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی گیسیں، زمین کے سورج سےگرم ہونے کے بعد واپس کی جانے والی تابکاری کو جذب کرکے حرارت کوروک لیتی ہیں۔ اس طرح ، گرین ہاؤس اثر زمین پر مناسب درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Screenshot 2026-04-10 at 17-03-05 Chapter 13.pdf

ایک قدم آگے

گرین ہاؤس اثر جو زہرہ اور زمین جیسے سیاروں پر حرارت کو روکنے کا سبب بنتا ہے، ٹھنڈی آب و ہوا میں پودوں کو اگانے کے لیےاستعمال ہونے والےگرین ہاؤس کی طرح کام نہیں کرتا ہے۔ زہرہ یا زمین پر کرۂ فضائی میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی گیسیں زمین کے سورج سےگرم ہونے کے بعد واپس کی جانے والی تابکاری کو جذب کرکے حرارت کوروک لیتی ہیں ۔ اس کے برعکس پودوں کا گرین ہاؤس گرم ہوا کو صرف اس وجہ سے پھنسا لیتاہے کیوں کہ یہ عام طور پر شیشے کی دیواروں کے ساتھ ایک بند جگہ ہوتا ہے (شکل 13.3)۔ دن کے دوران یہ گرم ہوجاتا ہے ، لیکن ہوا اندر رہتی ہے اور حرارت آسانی سے باہرنہیں جاسکتی ہے۔ اگرچہ دونوں ہی چیزوں کو گرم رکھتے ہیں، لیکن وہ یہ کام مختلف طریقے سے انجام دیتے ہیں!

Screenshot 2026-04-13 at 09-23-35 Chapter 13.pdf

شکل 13.3: پودوں کے لیےگرین ہاؤس

13.3 کیا چیز زمین کو زندگی کے وجود کے لیےموزوں بناتی ہے؟

13.3.1 زمین کا محل وقوع

Screenshot 2026-04-13 at 09-55-27 Chapter 13.pdf

زمین کی زندگی کو سہارا دینے کی سب سے اہم وجہ سورج سے اس کا فاصلہ ہے۔ یہ مناسب فاصلے پر ہے ، جہاں درجۂ حرارت پانی کو مائع شکل میں رکھتا ہے۔ اگر زمین سورج کے قریب ہوتی تو یہ بہت گرم ہوتی اور سارا پانی بخارات بن جاتا۔ اگر یہ زیادہ دور ہوتی، تو یہ بہت ٹھنڈی ہوتی اور سارا پانی منجمد ہو جاتا۔ ایسے انتہائی حالات میں زیادہ تر حیاتی شکلوں خاص طور پر پودوں، جانوروں اور انسانوں کے لیے زمین پر پنپنا اور پھلنا پھولنا ناممکن ہوتا۔ اگرچہ کچھ جرثومے ، جیسے کچھ بیکٹیریا ، منجمد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں ، لیکن ہم اب تک جو کچھ جانتے ہیں اس بنیاد پر، مائع پانی زندگی کے ارتقا کے لیےضروری ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ پانی کو زیادہ تر مائع شکل میں رہنے دیتا ہے ، جو کہ ہر قسم کی زندگی کی نشوونما اور بقا کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سورج (یا کسی اور ستارے) سے فاصلے کی وہ حد جس پر پانی مائع حالت میں رہتا ہے اسےقابلِ رہائش زون (Habitable Zone) کہا جاتا ہے ، یا بعض اوقات اسے گولڈی لاک زون (Goldilocks Zone)بھی کہا جاتا ہے (شکل 13.4)۔

جیسا کہ آپ نے سوشل سائنس میں بھی مطالعہ کیا ہے کہ زمین کی زیادہ تر سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے۔ لہٰذا جب خلا سے دیکھا جائے تو پانی کی کثیر مقدار کی وجہ سے زمین نیلی نظر آتی ہے، اس لیے اسے ’نیلاسیارہ ‘کے نام سےجاناجاتا ہے (شکل 13.5)۔

Screenshot 2026-04-13 at 10-59-43 Chapter 13.pdf

ایک قدم آگے

کیا مریخ پرکبھی زندگی موجود تھی؟

مریخ سورج کےقابلِ رہائش زون کے کنارے پر واقع ہے۔ مریخ پر کئی خلائی جہاز بھیجے جا چکے ہیں، روور (Rovers) اتر چکے ہیں اور اس کی سطح کی کھوج کر چکے ہیں، لیکن ابھی تک وہاں زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم، سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ماضی میں، مریخ پر مائع حالت میں پانی موجود تھا، ممکن ہے چند جھیلیں بھی تھیں، اور ایسے حالات تھے جو سادہ زندگی کے لیے موزوں تھے (شکل 13.6)۔

یہی وجہ ہے کہ مریخ سائنس دانوں کے لیے دل چسپی کا سبب بنا ہوا ہے۔یہ ہمیں اس بات کی بھی یاد دلاتا ہے کہ سائنس ہمیشہ حتمی جوابات نہیں دیتی ۔ جیسے جیسے ہم مزید چھان بین کرتے ہیں، ہمیں نئے اشارے مل سکتے ہیں، یا حتی کہ زندگی کی نئی اقسام بھی مل سکتی ہیں۔ جب ہم مزید سیکھتے ہیں تو سائنس کا دامن تبدیلی کے لیےہمیشہ کشادہ پاتے ہیں۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-06-25 Chapter 13.pdf

کیا درجۂ حرارت یا سورج سے فاصلہ، زمین کو قابلِ رہائش بنانے کی واحد وجہ ہے؟


اگر زمین کا سائز بہت چھوٹا یا بہت بڑا ہو تو کیا ہوگا؟

13.3.2 زمین کا سائز

کچھ اور اہم عوامل بھی ہیں جو زمین کو قابلِ رہائش بناتے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں زمین سمیت زیادہ تر سیاروں کے مدار تقریباً دائرہ نما ہیں۔ یہ سورج کی روشنی اور گرمی کی مقدار کو پورے سال تقریبا مستحکم رکھتا ہے جس سے زیادہ تر مقامات پر شدید گرمیاں اور سردیاں نہیں ہوتیں ۔

تاہم، سورج سےمناسب فاصلے کی وجہ سے معتدل درجۂ حرارت واحد عنصر نہیں ہے جو زمین کو قابلِ رہائش بناتا ہے۔ سیارہ کا مناسب سائزبھی کرۂ فضا ئی کو سہارا دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے سیکھا،
کرۂ فضا ئی گیسوں کی وہ تہہ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ زندگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔آپ نے باب 5 میں یہ بھی سیکھا کہ زمین کی کشش ثقل اشیاکو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اگر زمین بہت چھوٹی ہوتی (لیکن اسی اوسط کثافت کے ساتھ) تو اس کی کشش ثقل اتنی کمزور ہوتی کہ ہمارے کرۂ فضا ئی میں موجود گیسوں کو پکڑ نہ پاتی اور وہ خلا میں فرار ہو جاتیں۔ مریخ پر، کرۂ فضائی زمین کے مقابلے میں 100 گنا پتلی ہے اور عطارد کے پاس کرۂ فضائی موجودنہیں ہے۔

دوسری طرف، اگر سیارہ بہت بڑا ہوتا اور کشش ثقل بہت زیادہ طاقت ورہوتی تو شاید یہ ہمیں اتنی زبردست طاقت سے اپنی طرف کھینچتا کہ ہماری ہڈیاں تک کچل سکتی تھیں! زمین کے مناسب سائز کی وجہ سے ، یہ کرۂ فضائی کو برقرار رکھتی ہے جو زندگی کے لیےضروری ہے۔

زمین کےکرۂ فضائی میں آکسیجن کی موجودگی ہمیں سانس لینے کے قابل بناتی ہے اور زمین پر زندگی کی تقریباً تمام شکلوں کے لیےیہ ضروری ہے۔ لیکن آکسیجن کا ایک اور اہم کردار ہے۔ ہماری فضا میں موجود آکسیجن کا کچھ حصہ اوزون (سہ ذرّہ آکسیجن سالموں پر مشتمل) نامی ایک اور شکل میں تبدیل ہوجاتا ہے اور کرۂ فضا ئی کا ایک اہم جز بناتا ہے جسے اوزون پرت(Ozone Layer)کہا جاتا ہے۔ یہ پرت ایک ڈھال کی طرح کام کرتی ہےجو سورج سے آنے والی نقصان دہ بالا بنفشی شعاعوں (Ultraviolet Rays)کو روکتی ہے جو زندہ خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ہمارا سائنسی ورثہ

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کے ذریعہ 2013 میں لانچ کیا گیا ہندوستان کا منگل یان ’مریخ مدارمہم‘(Mars Orbiter Mission)، مریخ کی کھوج میں ایک بڑا قدم تھا (شکل 13.7)۔ اس میں سیارے کی فضا، سطح اور ماضی میں پانی کی علامات کا مطالعہ کرنے کے لیے آلات موجود تھے۔ ان میں سے کچھ سینسر سائنس دانوں کو اہم سوالات پوچھنے میں مدد دیتے ہیں، جیسے کہ کیا مریخ کبھی زندگی کے لیےموزوں تھا؟ منگل یان نے دنیا کو یہ ثابت کیا کہ ہندوستان بہترین(اسمارٹ)، کم لاگت والی ٹیکنالوجی کےذریعے خلائی سائنس میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اور اس نے مریخ کو ہمارے قریب کر دیا۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-07-44 Chapter 13.pdf

13.3.3 زمین کا مقناطیسی میدان

گریڈ 6کی کتاب تجسس میں، ہم نے سیکھا کہ ایک آزادانہ طور پر معطل مقناطیس ہمیشہ ایک مقررہ سمت میں ٹھہرتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین خود ایک عظیم مقناطیس کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ آپ نے باب 4 میں یہ بھی دیکھا ہے کہ مقناطیس کے ارد گرد کا علاقہ جہاں اس کا اثر محسوس ہوتا ہے ،اسے مقناطیسی میدان کہتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کے مرکز میں پگھلے ہوئے لوہے کی حرکت زمین کے مقناطیسی میدان کی ابتداہوسکتی ہے۔

زمین پرمسلسل خلا سے آنے والےچھوٹے، اعلی توانائی والے ذرات ٹکراتے رہتے ہیں۔ کچھ کائنات کے بہت دور دراز حصوں سے آتے ہیں اور انھیں کائناتی شعاعیں (Cosmic Rays)کہتے ہیں۔ دوسرے ذرات سورج سے آتے ہیں اور انھیں بادِ شمسی (Solar Wind) کہتےہیں۔ یہ ذرات نقصان دہ ہوسکتے ہیں کیوں کہ یہ کرۂ فضائی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اوزون کی تہہ کو کم کرسکتے ہیں، اور زیادہ نقصان دہ بالابنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے دےسکتے ہیں، جو زمین پر زندگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

شکر ہے کہ زمین کا مقناطیسی میدان ایک حفاظتی ڈھال کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ ان میں سے بہت سے نقصان دہ ذرات کو زمین سے دوردھکیل دیتا ہے ، ہمارےکرۂ فضائی کو برقرار رکھتا ہے اور اس طرح ہمارے سیارے پر زندگی محفوظ رہتی ہے۔

کیا زمین کا مقناطیسی میدان زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے میں کوئی کردار ادا کرتاہے؟

نظام ِشمسی میں زمین منفر دمحل وقوع رکھتی ہے۔ مائع پانی کی موجودگی ،مناسب سائز ، کرۂ ہوا ئی اور مقناطیسی میدان جیسے عوامل مل کر اسے ایسا سیارہ بناتے ہیں جہاں زندگی وجود میں آ سکے اور پھل پھول سکے ۔

لیکن زمین پر زندگی کوسہاراکیسےملتاہے اوریہ کس طرح برقرار رہتی ہے؟

13.4 زمین پر زندگی کے برقرار رہنےکا سبب کیا ہے؟

زمین پر زندگی کے لیےمناسب حالات ہی نہیں بلکہ جاندار اور غیر جاندار چیزوں کے درمیان خوبصورت تعلق ہے جو زندگی کو پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوتاہے۔ گریڈ 6 اور 7 کی کتاب تجسس میں، آپ نے اہم قدرتی وسائل، جیسے ہوا، پانی، سورج کی روشنی، مٹی اور معدنیات کے بارے میں سیکھا۔ آپ نے پودوں اور جانوروں میں اہم حیاتیاتی عمل کے بارے میں بھی سیکھا۔ اب، آئیے ہم چھان بین کرتے ہیں کہ یہ تمام عناصر زمین پر زندگی کو سہارا دینے اور اس کی بقا کے لیے کس طرح تعامل کرتے ہیں۔

13.4.1 ہوا، پانی اور سورج کی روشنی

ہم جانتے ہیں کہ کرۂ فضائی میں آکسیجن ہوتا ہے، جسے انسان، جانور اور پودےتنفس کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ سورج کی روشنی کی موجودگی میں پودے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور مٹی سے پانی لیتے ہیں تاکہ ضیائی تالیف (Photosynthesis)کے ذریعے خوراک تیار کی جا سکے۔ اس عمل میں، آکسیجن خارج ہوتی ہے، جو تنفس میں کام آتی ہے۔

ہم نے سیکھا ہے کہ سورج کی تابکاری زمین کو گرم کرتی ہے۔ حرارت کا کچھ حصہ کرۂ فضا ئی میں گرین ہاؤس اثر کی وجہ سے پھنس جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اثر ہلکا ہوتاہے لیکن درجۂ حرارت کو اس حد تک بنائے رکھتا ہے کہ پانی مائع حالت میں رہ سکے۔ گریڈ 7 کی کتاب تجسس میں، آپ نے تابکاری کے ذریعہ حرارت کی منتقلی کے بارے میں بھی سیکھا۔ کرۂ فضا ئی کے بغیر، زمین خلا میں حرارت کو خارج کر دے گی اور یہ بہت زیادہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔ لہذا گرین ہاؤس اثر زمین کو گرم رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔

پانی زندگی کے لیےضروری ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ زمین کی سطح کے تقریبا 70 فیصد حصے پر موجود ہے ۔ تالابوں، جھیلوں، دریاؤں، چشموں، سمندروں، اور زیر زمین پانی پایا جاتا ہے۔ یہ سارا پانی کرۂ آب (Hydrosphere) بناتا ہے۔ باب 7 میں، آپ نے سیکھا کہ پانی ایک اچھا محلول ہے۔ گریڈ 7 کی تجسس میں، ہم نے سیکھا کہ کس طرح پانی پودوں میں مٹی سے پتوں تک غذائی اجزا منتقل کرتا ہے۔ جانوروں میں، یہ جسم کے درجۂ حرارت کو منظم کرتا ہے ، ہاضمہ میں مدد کرتا ہے ، اورجسم میں پانی کی مناسب مقدار کو یقینی بناتا ہے ، یہ سب صحت اور زندگی کے لیےضروری ہے۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-12-04 Chapter 13.pdf

اگرچہ زمین کا زیادہ تر حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، لیکن ہم ابھی بھی سمندروں کی گہرائیوں میں رہنے والی مخلوقات کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ کرۂ آب لاکھوں انواع و اقسام کے جاندار وں کا گھرہےجہاں چھوٹے پلینکٹن (سمندری گھاس )سے لے کر وسیع وہیل تک شامل ہیں اوران میں سے بہت سی انواع اب بھی دریافت ہونا باقی ہیں۔ سمندر، جھیلیں اور دریا آبی زندگی کے لیے زرخیز ماحول فراہم کرتے ہیں (شکل 13.8)۔ میٹھا پانی فصلیں اگانے اور دنیا بھر کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیےبھی درکار ہوتا ہے۔

ہوا میں موجودپانی کے بخارات بادل بناتے ہیں اور بارش یا برف باری لاتے ہیں۔ یہ دریاؤں، جھیلوں اور زیر زمین پانی کو دوبارہ بھردیتا ہے۔  بارش کی مقدار اور نوعیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کس علاقے میں کون سے پودے اور جانور رہ سکتے ہیں۔ متحرک ہوا، موسم اور بارش کو بھی شکل دیتی ہے ، جو زراعت، پانی کی فراہمی، اور زمین پر زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

13.4.2 مٹی، چٹانیں اور معدنیات

ہمارے قدموں کے نیچے حیرت انگیز چیز زمین کی بیرونی تہہ ہے جو چٹانوں، مٹی اور معدنیات سے بنی ہے۔ یہ سخت اور بے جان محسوس ہو تی ہے لیکن زندگی کی نشوونما اور بقا کے لیے تقریباً ہر چیز فراہم کرتی ہے۔ مٹی جو پودوں کو اُگنے میں مدد دیتی ہے، سے لے کر معدنیات جو ہمیں نمک، کوئلہ، تیل اور لوہا و تانبہ جیسے دھاتیں فراہم کرتی ہیں، یہ بیرونی تہہ ماحولیاتی نظام اور انسانی زندگی دونوں کو سہارا دیتی ہے۔ زمین کے ٹھوس حصے ، مثلاً چٹانیں ، مٹی اور معدنیات جیسے مواد کو کرۂ ارض (Geosphere) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

مٹی دیکھنے میں دھول کی طرح لگتی ہے ، لیکن یہ نائٹروجن اور پوٹاشیم جیسے غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے جو پودوں کی نشوو نما میں مدد کرتی ہے ۔ یہ غذابخش اجزا چٹانوں کے آہستہ آہستہ ٹوٹنے اور پودوں اور جانوروں کی باقیات(Remains) سے آتے ہیں۔

زمین پر مختلف طرح کی زمینی شکلیں (Landforms)، چٹانیں، مٹیاں وغیرہ  پائی جاتی ہیں ۔یہ تنوع اور ان کے بننے اور تبدیل ہونے کے عملوں کو جغرافیائی تنوع (Geodiversity)کہا جاتا ہے (شکل 13.9)۔ یہ انوکھا مسکن بنانے میں مدد کرتا ہے جہاں زندگی کی مختلف اقسام پروان چڑھ سکتی ہیں۔ مٹی، چٹانوں اور پانی جیسی قدرت کی غیر جاندار چیزیں محض پس منظر نہیں ہیں بلکہ یہ خود زندگی کی کہانی کو تشکیل دینے میں مدد کرتی ہیں۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-28-34 Chapter 13.pdf

13.4.3 پودے، جانور اور جرثومے

عضویوں کے باب سے لے کر ماحولیات کے باب تک، ہم نے دیکھا ہے کہ زمین زندگی سے بھرپور ہے — درختوں، جھاڑیوں اور جڑی بوٹیوں سے لے کر جانوروں، کیڑوں اور کھلی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ننھے جانداروں تک۔ تمام جاندار، ان مسکنوں کے ساتھ جہاں وہ رہتے ہیں، مل کرحیاتیاتی نظام (Biosphere)بناتے ہیں۔ اس میں زمین، پانی اور ہوا شامل ہیں، جہاں زندگی بقا اور ارتقا کے لیےاپنے آس پاس کے ماحول کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔

جیسا کہ آپ نے باب 12 میں سیکھا، جاندار ایک دوسرے اور اپنے ماحول پر منحصرہوتے ہیں۔ پودے ضیائی تالیف کے ذریعے کھانا بناتے ہیں، جانور پودوں یا دیگر جانوروں کو کھاتے ہیں اورتحلیل کنندہ (Decomposer) مردہ چیزوں کو غذائی اجزا میں توڑ کر مٹی میں واپس کردیتے ہیں۔ قدرت زندگی کو سہارا دینے کے لیےایک نظام کے طور پر مل کر کام کرتی ہے۔

13.4.4 توازن کی اہمیت

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ زمین پر اتنی ساری چیزیں توازن میں کیسے رہتی ہیں؟ زمین ایک عظیم ٹیم ورک منصوبے کی طرح ہےجہاں فطرت، موسم اور زندگی سب مل کر کام کرتےہیں ۔ یہ ایک وسیع، حیاتی نظام ہے جہاں زمین، ہوا، پانی اور جاندار چیزیں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اورایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حتی کہ کسی ایک حصے میں آئی چھوٹی سی تبدیلی، جیسے جنگل کی کٹائی ہی بارش ، مٹی ، ہوا کے معیار اور وہاں رہنے والے جانوروں کو متاثر کر سکتی ہے۔ زمین پر زندگی صرف ایک چیز کی وجہ سےقائم نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہےکہ تمام چیزیں توازن وہم آہنگی سے کام کرتی ہیں۔ یہ وہی توازن ہے جو ہمارے سیارے کوقابلِ رہائش بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاف ہوا، پانی، مٹی اور زندگی کی تمام اقسام کوسلامت رکھنا اور ان کا تحفظ نہ صرف اہم ہے بلکہ مستقبل کے لیےزمین کو صحت مند رکھنے کے لیےضروری ہے۔

13.5 زندگی کو فنا ہونے سے کیا محفوظ رکھتی ہے؟

اگر پودے اور جانور تولید نہ کریں تو زمین سے زندگی بالآخر ختم ہو جائے گی۔ تولید یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر قسم کےجاندار موجود رہیں اور زندگی کا تسلسل برقرار رہے۔

ہم عام طور پر توقع کرتے ہیں کہ جانوراپنے ہی جیسی نسلوں کو جنم دیں گے جو اُن جیسی ہوں۔ گایوں سے بچھڑے اور بلیوں سے بلی کے بچے ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیےہوتا ہے کیوں کہ والدین سےاولاد میں ہدایات منتقل ہوتی ہیں کہ وہ ایک خلیے سے کیسے نشو و نما کریں۔ یہ ہدایات ، جنھیں جینیاتی مواد (Genetic Material)یا جین (Genes)کہا جاتا ہے ، کسی بھی جاندار کے ہر خلیے کے اندر محفوظ رہتی ہیں۔ آپ جین کو ہرخلیے کے اندر تفصیلی ہدایت نامے کے طور پر تصور کر سکتے ہیں۔ کچھ ہدایات خلیے کو خون بنانے کا طریقہ بتاتی ہیں ، جبکہ دیگر ہڈیوں ، پٹھوں یا جلد کے بننے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ ہدایات مل کر اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ بچھڑا ایک گائے میں نشوونما پائے، یا ایک بلی کا بچہ ایک بلی میں تبدیل ہو جائے۔

لیکن تولید صرف ایک ہی قسم کے جانداروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ یہ والدین سے اولاد میں منتقل ہونے والی ہدایات (جینیاتی معلومات) میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کا بھی باعث بنتی ہیں۔ بعض اوقات، یہ تبدیلیاں پودے یا جانور کو نئے ماحول میں بہتر زندہ رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، وقت کے ساتھ،  اونٹوں میں کوہان بنے تاکہ چربی ذخیرہ کر کے ریگستان میں رہ سکیں۔ حتی کہ خودعضویے بھی ارتقا پذیر ہوتے ہیں - جیسا کہ آپ نے صحت کے باب میں سیکھا ہے ، کچھ بیکٹیریا ، اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحم ہوگئے ہیں ، جو ان کی بقا میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کئی نسلوں میں، ایسی تبدیلیاں نئی خصوصیات یا یہاں تک کہ بالکل نئے اقسام کے جاندار پیدا کر سکتی ہیں۔ لہٰذا تولید نہ صرف ہر نوع کی بقا کو برقرار رکھتی ہے بلکہ زندگی کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنے اور نئی شکلوں میں جاری رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے (شکل 13.10)۔

لیکن ایک ہی عمل کیسے مماثلت (جانور اپنے ہی جیسےجانور کو جنم دیتا ہے، مثلاً گائے گائے کو جنم دیتی ہے) اور تغیر (مختلف خصوصیات کا ظاہر ہونا، جیسے کہ ایک ہی قسم کے دو جانوروں کے درمیان رنگ اور قد میں فرق) دونوں کا سبب بن سکتا ہے ؟ یہ ایک دل چسپ پہیلی ہے۔ تولیدی عمل کی دو قسمیں ہیں — ایک وہ جس میں اولاد اپنے والدین سے تقریباً ملتی جلتی ہوتی ہے اور دوسری وہ جس میں وہ اپنے والدین سے تھوڑی مختلف نظر آتی ہے ۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-37-27 Chapter 13.pdf

غیر جنسی تولید(Asexual Reproduction) میں ، ایک ہی ماں یا باپ سےجواولاد پیدا ہوتی ہے وہ ہو بہو نقل ہوتی ہے(یعنی خلیے میں موجودجینیاتی ہدایات میں کوئی فرق نہیں ہوتا)۔جبکہ جنسی تولید میں، دونوں ماں باپ کی جینیاتی ہدایات مل کرجو اولاد پیدا کرتی ہیں وہ کسی ایک ماں یا باپ کے بالکل مشابہ نہیں ہوتیں۔ وہ دونوں ماں یا باپ کی کچھ خصوصیات کا اشتراک کرتی ہیں، لیکن ان میں فرق بھی ہوتا ہے۔ یہ میلان نہ صرف مفید خصوصیات کو برقرار رکھتا ہے بلکہ نئی خصوصیات کو ظاہر کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ کئی نسلوں کے بعد یہ چھوٹے اختلافات جمع ہو کر بڑے فرق پیدا کر سکتے ہیں اور حتی کہ زندگی کی نئی اقسام تک وجود میں آ سکتی ہیں۔

آئیے چھان بین کریں کہ پودوں اور جانوروں میں تولید کیسے ہوتی ہے اور یہ کس طرح جانداروں کو نئی خصوصیات دیتی ہے اور بعض اوقات وقت کے ساتھ تبدیل ہونے میں مدد کرتی ہے۔

13.5.1 غیر جنسی تولید(Asexual Reproduction)

بہت سے پودے اس وقت افزائش کر سکتے ہیں جب ان کا کوئی بھی حصہ — پتہ، تنے یا جڑ — مٹی میں لگا دیا جائے۔ افزائش کی اس قسم کونباتاتی افزائش (Vegetative Propagation)کہا جاتا ہے۔

کیا آپ اپنے اطراف میں ایسےکچھ پودوں کا مشاہدہ کرکےان کی فہرست بنا سکتے ہیں جو اس طریقے سےبڑھتے ہیں؟

بانس اور گنے سےنئے پودے کس طرح اگتے ہیں؟ میں نے ان کے بیج کبھی نہیں دیکھے۔


سرگرمی 13.3: آئیے معلوم کریں

  • پودوں کے کچھ حصے لیجیے، جیسے منی پلانٹ کی کٹی ہوئی ڈنڈی، آلو کی اُگی ہوئی آنکھیںیا ادرک کا ایک ٹکڑا (شکلb11.31)۔
  • ان سب کو الگ الگ نم دار مٹی میں لگائیں (زیادہ گہرائی میں نہیں)۔ منی پلانٹ کے لیے آپ صرف ایک ڈنڈی کو شیشے کے برتن میں رکھ سکتے ہیں تاکہ اسے آسانی سے دیکھا جا سکے۔
  • یہ یقینی بنائیں کہ انھیں نشو و نما کے لیے تمام ضروری حالات ملیں جیسے ہوا،پانی اور سورج کی روشنی۔
  • انھیں روزانہ دیکھیں اور نوٹ کریں کہ جڑیں، تنے اور پتے نکلنے میں کتنے دن لگتے ہیں۔ یہ بھی مشاہدہ کریں کہ پہلا نیا پتہ کب نکلتا ہے۔
Screenshot 2026-04-13 at 11-41-13 Chapter 13.pdf

کیاکبھی سنا ہے ...

صرف پودے ہی نہیں — خوردبینی جاندار اور سادہ جانور بھی غیر صنفی طریقے سےتولید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر،
ایک خلوی جاندار جیسے بیکٹیریا اور امیبا دویکساں جانداروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ کچھ کثیر خلوی جاندار جیسے کائی (Algae) اپنے چھوٹے کاٹے ہوئے حصوں سے دوبارہ نمو کر سکتے ہیں ۔ ہائیڈرا، جو دوسرا سادہ جانور ہے، اپنے جسم پر ننھے ننھے ابھار (Buds) بناتا ہے جو علیحدہ ہو کر نئے جانداروں میں نموپاتے ہیں۔

پلانریا (شکل 13.12) ایک قسم کا فلیٹ ورم ہے جو اپنے جسم کے صرف ایک ٹکڑے سے دوبارہ نمو کر سکتا ہے! سائنس داں جانوروں میں باز پیدائش (Regeneration) کے عمل کو سمجھنے کے لیےان عضویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-40-52 Chapter 13.pdf

13.5.2 جنسی تولید (Sexual Reproduction)

اس قسم کی تولید میں، دو والدین شامل ہوتے ہیں جسے عام طور پر نر اور مادہ کہا جاتا ہے۔ جانوروں میں اس کا مشاہدہ کرنا آسان ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پھول دار پودوں میں بھی نر اور مادہ حصے ہوتے ہیں؟ کچھ خوردعضویوں جیسے بیکٹیریا اور خمیر میں بھی دو (جنسی قسمیں)پائی جاتی ہیں جو بالکل دو والدین کی طرح کردار اداکرتی ہیں۔

تولید کے لیےخصوصی خلیات

آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر دونوں والدین کے جینیاتی مواد کی منتقلی نئےجاندار کےبنانے کے لیے ہوتی ہے ، تو کیا بچے میں جنیاتی ہدایات کی مقدار دوگنی نہیں ہو جائےگی؟ اور کیا یہ مقداراگلے نسلوں میں بڑھتی نہیں رہے گی؟

ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ ہر والدین خصوصی تولیدی خلیات بناتے ہیں ، جنھیں گیمیٹس (Gametes)کہا جاتا ہے۔ ان میں والدین کے جینیاتی مواد کا صرف آدھا حصہ ہی ہوتا ہے۔ جب نر اور مادہ تولیدی خلیے( گیمیٹس) آپس میں ملتے ہیں تو وہ ایک نیا خلیہ بناتے ہیں جس میں مکمل ہدایات موجود ہوتی ہیں — آدھی ماں سے اور آدھی باپ سے۔

بچے اپنے ماں یا باپ کی طرح ہو بہو نظر نہیں آتے ہیں۔ حتی کہ ایک ہی خاندان کے بھائی بہن بھی ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بچہ اپنے والدین سے جینیاتی معلومات کا مجموعہ تولیدی خلیوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ ہر تولیدی خلیہ آنکھوں کے رنگ، بالوں کی قسم اور دیگر خصوصیات کے لیے ہدایات کا ایک مختلف مجموعہ رکھتا ہے۔ جب اسپرم (Sperm) اور انڈا (Egg) مل کر ایک بچہ بناتے ہیں تو یہ ہدایات مختلف انداز میں جُڑتی ہیں۔ ہر دفعہ ہدایات کا ملاپ مختلف انداز میں ہوتا ہے، اسی لیے ہر بچہ منفرد پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ایک بچے کی ناک ماں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے جبکہ دوسرے کی آنکھیں والد کی آنکھوں جیسی ہو سکتی ہیں ۔ یہ پوری طرح اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ والدین کے ‘ جینیاتی ہدایت نامے’ (Insturction Book Set)کے کون سے حصے ایک دوسرے میں مخلوط ہوئے۔

پودوں میں صنفی تولید (Sexual Reproduction in Plants)

پودے اپنے پھولوں کے مختلف حصوں کا استعمال نر اور مادہ تولیدی خلیے(Gametes) پیدا کرنے کے لیےکرتے ہیں۔ زیرہ دانے (Pollen Grains) پھول کے اینتھر کے اندر پائے جانے والے نر تولیدی خلیےہیں ، جبکہ بیضےپھول کے اندرونی حصے میں پائے جانے والے مادہ تولیدی خلیے ہوتے ہیں۔ زیرہ دانہ کو ہوا، کیڑوں یا جانوروں کے ذریعہ دوسرے پھول تک پہنچایا جاتا ہےاوراس عمل کو گردہ افشانی یا زیرگی (Pollination) کہتےہیں۔ جب نر اور مادہ تولیدی خلیات آپس میں ملتے ہیں، تو اسے تخم ریزی یا باروری (Fertilization)کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جگتہ (Zygote) بنتا ہے جو بعد میں بیج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔بیج دان کے گرد موجود پھول کانرم ورسیلا حصہ پھل کی شکل اختیار کر لیتا ہے (شکل 13:13)۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-43-02 Chapter 13.pdf

جب پرندے یا جانور پھل کھاتے ہیں تو اکثر بیج اصل پودے سے کافی دور جا کرگر جاتے ہیں ۔ یہ پودوں کےپھیلنے کا ایک مددگار طریقہ ہے۔ اسی طرح برگد کا بیج، جو کسی پرندے نے پھل کھانے کے بعد فضلے کے ساتھ خارج کیا ہو، دیوار کی دراڑ میں پہنچ کر بارش کے بعد اُگ سکتا ہے۔ جب بیجوں کو پانی ملتا ہے، تو وہ ذخیرہ شدہ غذائی اجزا استعمال کرکے جڑیں اور کونپلیں نکالتے ہیں۔ یادکریں کہ جماعت6 میں آپ نے بیجوں کی افزائش یعنی کلّے پھوٹنے (Germination) کا مطالعہ کیا تھا جہاں آپ نے چھوٹی کونپلیں اور پہلی پتیوں کو نمودار ہوتے دیکھا تھا ۔

جانوروں میں جنسی تولید (Sexual Reproduction in Animals)

جانوروں میں ، تولیدی خلیے کو نطفے (نر) اور بیضہ (مادہ) کہا جاتا ہے۔ تخم ریزی پانی میں ہوسکتی ہے ، مثال کے طور پر، نر اور مادہ مچھلیاں یا مینڈک بالترتیب نطفے اور بیضےکو پانی میں خارج کرتے ہیں جہاں وہ مل کر جگتہ (Zygote)بناتے ہیں۔ ان جانوروں میں جگتہ سے جنین (Embryo)کی نشوونما بھی پانی میں ہی ہوتی ہے (شکل 13.14)۔

انسانوں سمیت پرندوں اور ممالیہ جانوروں میں، نطفے مادہ کے جسم کے اندر جمع ہوتے ہیں اور تخم ریزی اس وقت ہوتی ہے جب نطفے تیرتے ہو ئے مادہ کے پیدا کردہ بیضے سے جا ملتے ہیں۔ اس مرحلے کے بعد، پرندوں اور ممالیہ جانور وں میں مختلف عمل وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-47-49 Chapter 13.pdf

پرندوں میں، بارآور شدہ بیضہ یا انڈہ (جگتہ)مادہ پرندہ ’دیتی ‘ہے۔ جگتہ کا جنین (Embryo) میں تبدیل ہونے کا عمل انڈا دیے جانے کے بعد، انڈے سے بچہ نکلنے (ہچنگ) کے دوران ہوتا ہے ۔ سوچیں کہ مادہ پرندے کو ہر انڈے میں کتنی’خوراک‘ شامل کرنی پڑتی ہے — یہ خوراک جنین کی نشوونما کے لیے اس وقت تک کافی رہنی چاہیے جب تک کہ وہ انڈے سے باہر نہ آجائے ۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس سے جنین کو خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے ۔

زیادہ تر ممالیہ جانوروں میں ، جگتہ کی جنین میں نشوونما مادہ کے جسم کے اندر ہوتی ہے۔ماں کا جسم بچے کو تمام خوراک اور آکسیجن مہیا کرتا ہے تاکہ وہ پیدائش تک نشوونما پاتا رہے۔ نشو نما پاتے ہوئےبچے کو غذائیت دینے کا یہ طریقہ انڈے دینے والے پرندوں جیسے جانوروں کے مقابلے میں مختلف ہے۔ بچے کو جنم دینے اور انڈے دینے کے طریقوں کے کیا فائدے اور نقصانات ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کتے، گائے یا انسان جیسے جانور پرندوں کی طرح انڈے دے سکتے ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ زمین پر زندگی ایک نازک توازن پر منحصر ہے جہاں جاندار اور بے جان چیزیں مل کر کام کرتی ہیں ۔ لیکن انسانی سرگرمیاں اس توازن کو خراب کر رہی ہیں ۔ حتی کہ عالمی درجۂ حرارت، آکسیجن کی سطح یا اوزون کی پرت میں چھوٹی تبدیلیاں بھی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

آج، سب سے بڑے ماحولیاتی چیلنج جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں وہ آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کا نقصان، اور آلودگی ہیں – جنھیں ملا کر سیارہ کے سرگانہ بحران (Triple Planetary Crisis)کے طور پر جانا جاتا ہے۔

کوئلے اور تیل جیسے رکازی ایندھن کو جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جیسی گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ یہ گیسیں کرۂ ہوا ئی میں حرارت کو مزید پھنسالیتی ہیں جس کی وجہ سے عالمی درجۂ حرارت بڑھتا ہے۔ عام طور پر، زمین توازن برقرار رکھتی ہے کیوں کہ درخت، پودے، اور حتی کہ چھوٹی سمندری گھاس (پلینکٹن)بھی بڑھتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرلیتی ہیں۔لیکن جب ہم رکازی ایندھن جلاتے ہیں تو ہم اضافی کاربن خارج کرتے ہیں جو لاکھوں سالوں سے زمین کے اندر محفوظ تھا۔ زمین اتنی تیزی سے اسے جذب نہیں کر پاتی، اس لیے گرمی بڑھتی جاتی ہے۔ درجۂ حرارت میں معمولی سا اضافہ بھی برفانی چوٹیوں کو پگھلا سکتا ہے ، سمندر کی سطح کو بڑھا سکتا ہے جس سے ساحلی شہروں میں سیلاب آسکتا ہے ، شدید موسمی حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور بہت سے پودے اور جانور ختم ہوسکتے ہیں۔ درجۂ حرارت، بارش اور موسمی نمونوں میں ان طویل مدتی تبدیلیوں کو آب و ہوا کی تبدیلی (Climate Change)کہا جاتا ہے۔

جب قدرتی مساکن تباہ ہو جائیں تو پودے اور جانور ختم ہو سکتے ہیں جس سے ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جیسا کہ ہم نے باب 12 میں دیکھا، اگر گھاس ختم ہو جائےتو وہ جانور جو اسے کھاتے ہیں، جیسے ہرن یا ٹڈیاں زندہ رہنے کے لیےجدوجہد کرتے ہیں۔ جب چرندے نہ ہوں تو شکاری جانور جیسے شیر یا لومڑی بھی اپنی خوراک سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہر قسم کے جاندار کا ایک کردار ہوتا ہے اور ان میں سے چند جانداروں کے نقصان سے بھی قدرت کی زندگی کو سہارا دینے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-48-50 Chapter 13.pdf

آلودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ کارخانوں، گاڑیوں اور ایندھن کے جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی انسانوں اور فطرت دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ سانس لینے میں دشواری ، فصلوں کو نقصان ، اسموگ اور تیزابی بارش کا سبب بن سکتی ہے (شکل 13.15)۔

آب و ہوا کی تبدیلی فصلوں کی نشوونما اور پانی کی فراہمی سے لے کر جنگلی حیات کے مساکن اور انسانی صحت تک ہر چیز کو متاثر کرتی ہے۔ زمین پر زندگی کی حفاظت کے لیےہمیں آلودگی میں کمی، صاف ستھری توانائی کے استعمال اور دانش مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ہم نے یہ بھی سیکھا ہے کہ زمین پر زندگی ایک نازک توازن کے دائرے میں پروان چڑھتی ہےجسے ایک دوسرے پر انحصار کرنے والے قدرتی نظام سہارا دیتے ہیں۔تاہم، یہ توازن انسانی اقدامات کی وجہ سے تیزی سے خطرے میں ہے۔ مثال کے طور پر، ہوا میں آکسیجن کی مقدار میں معمولی کمی یا زیادتی، زمین کے درجۂ حرارت میں ہلکا سا اتار چڑھاؤ ، یا کرۂ فضائی میں اوزون کی تھوڑی سی کمی ، زمین پر موجود زندگی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

کیا کبھی سنا ہے ...

دنیا کے مختلف ممالک نے ماحولیات کے تحفظ کے لیے عالمی معاہدے کیے ہیں۔ مونٹریال پروٹوکول (1987) نے کلوروفلورو کاربن (سی ایف سی) جیسے نقصان دہ کیمیائی مادوں کو کم کرنے میں مدد کی ، جس سے آہستہ آہستہ اوزون پرت بحال ہونے لگی۔ ارتھ سمٹ (1992)نےآب و ہوا کی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع پر بین الاقوامی کوششوں کی راہ ہموار کی۔ بعد میں ، کیوٹو پروٹوکول (2005) اور پیرس معاہدے (2015) نے ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا پابند کیا ۔ پیرس معاہدے میں عالمی درجۂ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے محدود کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ، لیکن 2025 تک ، دنیا اس ہدف کو حاصل کرنے کی راہ پر نہیں ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی کے مزید منفی اثرات سے بچنے کے لیےبہت زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

پانی اور مٹی کی آلودگی زندگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں (شکل 13.16)۔کارخانوں، کھیتوں اور پلاسٹک کے فضلے سےآبی حیات کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ پانی کو غیر محفوظ بنادیتا ہے۔ضرورت سے زیادہ کھادوں کے استعمال اور فضلے کے غلط انتظام سے مٹی آلودہ ہوتی ہے، فصلوں کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور غذائی زنجیر کے ذریعے نقصان دہ مادے پھیل جاتے ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیےبہتر فضلے کے انتظام اور پائیدار کاشت کاری کے طریقوں کی ضرورت ہے۔

ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ زمین کےتمام نظام، جیسے کرۂ آب (Hydrosphere)، کرۂ حیات (Biosphere)، کرۂ فضا ئی (Atmosphere) اور کرۂ ارض (Geosphere)آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔ لہٰذا ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچے تو دوسرے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ آب و ہوا کے تحفظ کا مطلب شمسی اور ہوا جیسی قابل تجدید توانائی کا استعمال کرکے گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرنا ، توانائی کے استعمال کو بہتر بنانا اور سفر کے لیےماحول دوست طریقوں کا انتخاب کرنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی نہایت اہم ہے کیوں کہ متنوع ماحولیاتی نظام زیادہ مضبوط اور متوازن ہوتے ہیں۔ قدرتی وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرنے میں مقامی برادریاں بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Screenshot 2026-04-13 at 11-50-50 Chapter 13.pdf

ہر کوئی مدد کر سکتا ہے۔ کپڑے اور پلاسٹک جیسی اشیاکا دوبارہ استعمال، مرمت اور ری سائیکلنگ آلودگی اور فضلے کو کم کرتی ہے۔ توانائی اور پانی کی بچت جیسے چھوٹے چھوٹے اقدامات بڑی بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ زیادہ سیکھنے، خیالات کا اشتراک کرنے اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنے سے بھی فرق پڑتا ہے۔

نتیجے کے طور پر، کہا جا سکتا ہے کہ زمین پر زندگی کی بقا کے لیے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ خواہ وہ مقامی برادریاں ہوں یا عالمی رہنما۔اگر ہم مل جل کر تعاون کریں اور اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کو اپنائیں تو اس منفرد سیارے اور اس کے مستقبل کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • زمین نظام شمسی کا واحد منفرد سیارہ ہے جہاں زندگی ہے۔

زمین سورج کا طواف ایسے فاصلے پر کرتی ہے جہاں کا درجۂ حرارت نہ تو بہت زیادہ گرم ہوتاہے اور نہ ہی بہت زیادہ سرد، جس کی وجہ سے پانی مائع شکل میں موجود رہتا ہے۔ اس خطے کوقابلِ رہائش زون یا گولڈی لاک زون کہا جاتا ہے۔

  • مزید برآں، زمین سورج کا طواف تقریبا گول مدار میں کرتی ہے ، جس کی وجہ سے سال کے کسی بھی حصے میں زمین نہ بہت زیادہ گرم ہوتی ہے یانہ بہت زیادہ سرد۔
  • زمین کی کششِ ثقل اتنی ہے کہ یہ کرۂ فضا ئی کو خلا میں فرار ہونے سے روکتی ہے۔ لیکن اتنی زیادہ نہیں ہے کہ جاندار اپنے ہی وزن کی وجہ سے سے کچل جائیں ۔
  • کرۂ فضا ئی میں اوزون کی موجودگی نقصان دہ بالا بنفشی شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے۔
  • زمین کا مقناطیسی میدان اسے اعلی توانائی والے ذرات سے بچاتا ہے، ورنہ یہ زمین سے ٹکراتے اور زندگی کو تباہ کر دیتے۔
  • کرۂ فضا ئی(جو ہوا پر مشتمل ہے)،کرۂ آب (جو پانی پر مشتمل ہے)،کرۂ ارض (جو زمین کے ٹھوس حصے پر مشتمل ہے) اور کرۂ حیات (جو زندگی پر مشتمل ہے)آپس میں تعامل کرتے ہیں اور مل کر زمین پر زندگی کو برقرار رکھتے ہیں۔
  • زمین پر زندگی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیےتولید ضروری ہے۔
  • تولید غیرجنسی یا جنسی ہوسکتی ہے۔
  • غیرجنسی تولید میں ، ایک ہی ماں باپ سے نئی اولادپیداہوتی ہے جو بالکل اسی کےمشابہ ہوتی ہے۔
  • صنفی تولید آئندہ نسلوں میں نئی خصوصیات ظاہر کرنا ممکن بناتی ہے۔
  • مختلف جانوروں میں ،جگتہ سے جنین تک کی نشوونما جسم کے اندر یا باہر ہوتی ہے۔
  • آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور آلودگی زمین پر زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان چیلنجوں کو مجموعی طور پر سیارہ کے سرگانہ بحران (Triple Planetary Crisis) کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تجسس کوبرقرارر کھیں

  1. زمین کی طرح مریخ پر اس وقت زندگی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ کیا ہے؟
  1. اس میں بہت زیادہ آتش فشاں ہیں۔
  2. یہ سورج کے بہت قریب ہے۔
  3. اس میں موٹی فضا اور مائع پانی کی کمی ہے۔
  4. اس کا مقناطیسی میدان بہت مضبوط ہے۔

2. ان میں سے کون سی جغرافیائی تنوع کی مثال ہے؟

  1. جنگل میں مختلف اقسام کے پرندوں کی چہچہاہٹ ۔
  2. مختلف زمینی شکلیں جیسے پہاڑ، وادیاں اور صحرا۔
  3. مانسون کے دوران موسم کی تبدیلی۔
  4. تالاب میں مختلف اقسام کی مچھلیوں کی تعداد ۔

3. اگر زمین اتنی ہی کثافت کے ساتھ جسامت میں قدرے چھوٹی ہوتی تو اس کےکرۂ فضا ئی کا کیا ہو تا؟

  1. یہ موٹا اور گرم ہو جاتا۔
  2. کمزور کشش ثقل کی وجہ سے یہ خلا میں فرار ہوجاتا۔
  3. یہ منجمد ہو جاتا۔
  4. یہ شدید تر ہوا چلنے کا سبب بنتا۔

4. جنسی تولید میں اولاد اپنے والدین سے مختلف کیوں ہوتی ہے؟

  1. وہ مختلف آب و ہوا میں نشونما پاتے ہیں۔
  2. وہ مختلف کھانا کھاتے ہیں۔
  3. وہ پیدائش کے بعد نئی ہدایات حاصل کرتے ہیں۔
  4. انھیں والدین کی طرف سے مخلوط جینیاتی ہدایات ملتے ہیں۔
  1. آپ نےمانسون کے بعد اپنے اسکول کی دیوار پر دراڑوں میں چھوٹے سبز پودوں کو اُگتے ہوئے دیکھا۔ آپ کے خیال میں بیج کہاں سے آئے؟ کن حالات نے ان پودوں کو وہاں بڑھنے میں مدد کی؟
  1. کسی شہر میں حال ہی میں نئی سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیےجنگل کے ایک بڑے حصے کو کاٹ دیا گیاہے۔ مقامی آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع پر اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کریں؟ علاقے میں پانی کی دستیابی یا معیار پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
Screenshot 2026-04-13 at 11-56-47 Chapter 13.pdf

اب تک کی اپنی معلومات کی بنیاد پر کچھ سوالات تیار کریں...

..........................................................

..........................................................

..........................................................

..........................................................

..........................................................

  1. ایک دوست کا کہنا ہے کہ ‘‘ماضی میں زمین پر ہمیشہ آب و ہوا کی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، لہذا آج کی گلوبل وارمنگ کوئی نئی بات نہیں ہے’’۔ آپ نےاپنی سائنس کی کتاب کے اس باب اوردیگر ابواب میں جو کچھ سیکھا ہے اس کا استعمال کرتے ہوئے اس کے جواب میں آپ کیا کہیں گے؟
  1. تصور کریں کہ زمین کا مقناطیسی میدان اچانک غائب ہو گیا۔اس سے زمین پر زندگی کے لیےکس قسم کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں؟ وضاحت کریں۔
  1. آپ کو مریخ پر انسانوں کے لیےایک نئی بستی ڈیزائن کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ انسانی زندگی وہاں قائم رکھنے کے لیے زمین جیسی کن تین چیزوں کو دوبارہ تخلیق کرنا سب سے اہم ہوگا؟ آپ کے خیال میں ان میں سے کس چیز کی تخلیق سب سے مشکل ہوگی اور کیوں؟
  1. ایک گاؤں میں پچھلے کچھ سالوں سےدرجہ ٔحرارت بڑھ رہا ہے اور بارش غیر متوقع ہو گئی ہے۔ اس
    تبدیلی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ گاؤں کو ان نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کے دو طریقے تجویز کریں۔
  1. اگر زمین پر کرۂ فضا ئی نہ ہوتی تو کیا اس سے سیارے پر زندگی، درجہ ٔحرارتاور پانی متاثر ہوتا؟ وضاحت کریں۔نباتاتی پھیلاؤ کی پانچ مثالوں پر تبادلہ ٔخیال کریں۔
  1. نباتاتی افزائش کی پانچ مثالوں پر تبادلہ ٔخیال کریں۔

دریافت، ڈیزائن اور بحث

  • ایک ‘زمین کی بقا کی کٹ’ (Earth Survival Kit) ڈیزائن کریں۔ تصور کریں کہ آپ کسی دوسرے سیارے کے لیےزمین کا ایک چھوٹا سا ماڈل بنا رہے ہیں۔ اس میں زندگی کی بقا کے لیے کیاچیزیں ہوں گی اور کیوں؟
  • ہندوستان ایک چاند کےمشکل مشن ، چندریان -4 کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، جو چاند سے مٹی کے نمونے لے کر آئےگا۔ اگر چاند پر پانی ہوتا تو کیا اس مٹی میں پودے اگ سکتے تھے؟ کوئی ایسا تجربہ سوچیں جو آپ کو یہ چھان بین کرنے میں مدد دے کہ چاند پر پودوں کی نشوونما ممکن ہے یا نہیں۔
  • پھول اکثر چمک داررنگوں کے ہوتے ہیں اور ان میں خوشبو ہوتی ہے۔ آپ کے خیال میں یہ خصوصیات پودے کی تولید میں کس طرح مدد کرتی ہیں؟
  • مچھلی اور مینڈک جیسے جانور ایک وقت میں سینکڑوں یا ہزاروں انڈے کیوں دیتے ہیں، جبکہ دوسرے جانور صرف چند ہی انڈے دیتے ہیں؟ اتنے سارے انڈے دینے کے فوائد اور نقصانات کیا ہوسکتے ہیں؟
  • پرندے جیسے گوریا گھونسلے بناتے ہیں اور اپنے انڈوں اور چوزوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جب کہ رینگنے والے جانور جیسے سانپ عام طور پر انڈے دیتے ہیں اور انھیں تحفظ کے بغیر چھوڑ دیتے ہیں۔ والدین کی دیکھ بھال میں اس فرق کا دونوں صورتوں میں ان کے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
Screenshot 2026-04-13 at 12-02-18 Chapter 13.pdf

اپنے دوستوں کے تیار کردہ سوالات پر غور کریں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کریں...

..........................................................

..........................................................

..........................................................

..........................................................

..........................................................

ابھی ختم نہیں ہوا میرے دوست!

ہم گریڈ8 کے سائنس کے سفر کے آخری صفحے پر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، یہ آپ کی کھوج کا اختتام نہیں ہے۔ پورےسال کے دوران، ہمیں امید ہےکہ آپ نے گہرے سوالات پوچھنا، تحقیقات کی منصوبہ بندی کرنا اور حقیقی سائنس دانوں کی طرح سوچنا سیکھ لیا ہے۔خواہ آپ نے یہ غور کیا ہو کہ قوتیں کیسے کام کرتی ہیں، ہمارے سیارے کے قابل ذکر توازن کی کھوج کی ہو، یا تفتیش کی ہوکہ ماحولیاتی نظام کس طرح باہم منسلک ہیں، آپ پہلے ہی سائنس کی تفتیشی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔

اگر آپ نے غور کیا ہوتوہم نے ہر باب میں آپ کے اپنے سوالات پوچھنے کے لیےجگہ چھوڑ ی ہے۔ آپ کے اردگرد کی کون سی چیزیں ہیں جو آپ کو حیرت میں ڈالتی ہیں؟ شاید آپ نے دیکھا ہو کہ پتے پر پانی کے قطرے کس طرح عدسے کی طرح کام کرتے ہیں ، یا یہ تعجب ہوا ہو کہ مختلف پرندوں کی پرواز کے اندازمختلف کیوں ہوتے ہیں۔ وہ چیزیں جنھیں آپ دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں جو سوالات آپ پوچھتے ہیں یہی اصل میں سائنسی تفتیش کی ابتدا ہے۔ یہ درسی کتاب آپ کی رہنمائی کے لیےتیار کی گئی ہے جس کی جڑیں حقیقی مشاہدات پر مبنی ہیں، جوآپ کے تخیل کو پتنگ کی طرح اونچی اڑان کے لیےطاقت دیتی ہیں۔ لیکن اصل مہم جوئی آپ کی ہے: پوچھتے رہیں، تجربات کرتے رہیں، اپنے نتائج کا تبادلہ اپنے دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ کرتے رہیں۔

جب آپ اس کتاب کو بند کریں گے تو یاد رکھیں کہ اگلے سال آپ ثانوی مرحلے میں داخل ہوں گے، جہاں ہم سائنس کی دنیا میں اور بھی گہرائی میں جائیں گے۔ کہانی مزید تفصیلی چھان بین، بڑے چیلنجوں اور زیادہ سے زیادہ دریافتوں کے ساتھ جاری رہے گی۔ لہذا کبھی بھی سوچنا بند نہ کریں ، کبھی تجربات کرنا بند نہ کریں اور کبھی یہ یقین کرنا بند نہ کریں کہ آپ کا تجسس دنیا میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ ہم آپ سے اُن صفحات پر دوبارہ ملیں گے - کیوں کہ میرے دوست سائنس میں، کبھی بھی اختتام نہیں آتا!