Skip to content
Qr






باب 1

قدرتی وسائل اور ان کا استعمال
(Natural Resources and Their Use)


سماجی علوم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے: ہمیں باز تخلیقی معیشت کی طرف بڑھنا چاہیے، ایک ایسی معیشت جو فطرت سے ہم آہنگ ہو، استعمال شدہ وسائل کو پھر سے قابل استعمال بنائے، فضلہ کو کم سے کم کرے اور ختم ہوتے ہوئے وسائل کو پھر سے مہیا کرے۔ ہمیں قدرت کی فطری دانائی کی طرف واپس لوٹنا ہوگا، جو تمام وسائل کی ازسرِنو پیدا کرنے والی اور دوبارہ استعمال کرنے والی حقیقی قوت ہے۔

کرسٹیانا فیگیورس اور ٹام ریویٹ کارنک
کی کتاب ’’دی فیوچر وی چوز‘‘ سے

dreamstime_xl_138627994

شکل.1.1: دودھ ساگر آبشار اور ریلوے پل، گوا، ہندوستان


اہم سوالات


1. ہم قدرتی وسائل کی درجہ بندی کیسے کرتے ہیں؟

2. قدرتی وسائل کی تقسیم اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے درمیان کیا تعلق ہے؟

3. قدرتی وسائل کے ناپائیدار استعمال/زیادہ استحصال کے کیا مضمرات ہیں؟

dreamstime_xxl_179019634

شکل1.2: ہماچل پردیش میں ایک مائیکرو ہائیڈل پلانٹ — بہتے ہوئے پانی کی طاقت بجلی میں تبدیل کی جا رہی ہے

dreamstime_xxl_197603723

شکل1.3: ایک آف شور آئل رِگ سمندری تہہ کے نیچے سے پیٹرولیم نکالتے ہوئے

فطرت کب ایک وسیلہ بن جاتی ہے؟

(When does Nature become a Resource?)

لفظ ‘فطرت’ کا ایک مطلب جاندار اورغیر جاندار شکلوں کا مجموعہ ہے جو ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں لیکن اس کی تخلیق انسانوں نے نہیں کی ہے۔ جب انسان ان کو اپنی زندگی گذارنے کے لیے استعمال کرنے لگے، یا ان سے استعمال کی نئی چیزیں بنائے ، تو فطرت کے یہ عناصر‘وسائل’ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر درخت ماحول کا حصہ ہیں؛ وہ انسانوں سے الگ آزادانہ طور پر موجود ہیں۔ جب ہم انھیں کاٹ کر ان کی لکڑی کو فرنیچر میں تبدیل کرتے ہیں، تو ہم درختوں کو وسیلہ سمجھتے ہیں۔

اکثر یہ عناصر باآسانی میسرنہیں ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سمندر کی گہرائیوں میں پیٹرولیم ہو سکتا ہے جہاں تک رسائی کے لیے ہمارے پاس ٹیکنالوجی موجودنہیں ہے، یا نکالنے کے اخراجات بہت زیادہ ہو سکتے ہیں یا یہ ثقافتی طور پر ناقابل قبول ہو سکتا ہے جیسے مقدس باغات میں درخت کاٹنا۔ لہٰذا کسی چیز کو وسائل کہلانے کے لیے،تکنیکی طور پر قابل رسائی ہونا، اس کا استحصال معاشی طور پر ممکن اور ثقافتی طور پر قابل قبول ہونا چاہیے۔ (عام طور پر، لفظ ‘استحصال’ کا ایک منفی مفہوم ہوتا ہے؛ جس تناظر میں ہم اسے یہاں استعمال کرتے ہیں، اس کا مطلب ہے ’قدرتی وسائل کا حصول ،استعمال اور صَرف کرنا‘)

زمین پر بے شمار قدرتی خزانے موجود ہیں — ان میں سے کئی لاکھوں سال میں تشکیل پائے ہیں، جنھیں انسانوں نےحاصل کیا اور سمجھ کر استعمال کرنا سیکھا۔ان میں واضح مثالیں پانی، ہوا، اور مٹی ہیں اور کم ظاہر ہونے والے وسائل جیسے کوئلہ، پیٹرولیم، قیمتی پتھر، کچ دھاتیں، لکڑی وغیرہ ہیں۔

dreamstime_xxl_119089697

شکل1.4: ہلکی جُتائی زمین کے نچلے ماحولیاتی نظام میں کم سے کم خلل ڈالتی ہے اور مٹی کی نمی کو برقرار رکھتی ہے

dreamstime_xxl_119274562

شکل1.5: چھتّے سے حاصلہ ہونے والا شہد

اسے دیکھنا نہ بھولیں

دنیا کی بہت سی مقامی روایات میں فطرت کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے اس کے بارے میں پڑھا ہے۔ ایسی روایات میں فطرت کو پرورش کرنے اور زندگی بخشنے والی ہستی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

کیا آپ ایسی رسموں یا رواجوں کے بارے میں جانتے ہیں جو اس خیال کی عکاسی کرتی ہیں؟

dreamstime_xxl_167270327

شکل 1.6: صحت و تندرستی کے لیے تلسی پوجا

آئیےغوروفکرکریں

ایک لمحہ رکیں۔ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کی چیزوں کو غور سے دیکھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی اصل بنیاد کیا ہے؟ کسی نہ کسی طرح وہ سب فطرت کی طرف لے جاتے ہیں؛ یہاں تک کہ آپ کی قمیض کا پلاسٹک کا بٹن بھی۔

مختصراً، ہم ‘قدرتی وسائل’ کی اصطلاح کو ان مواد اور اشیا کے لیےاستعمال کرتے ہیں جو فطرت میں پائے جاتے ہیں اور انسانوں کے لیے قیمتی ہوتے ہیں ۔

قدرتی وسائل کے زمرے

سائنس میں، ہم درجہ بندی اور نام رکھنےکی افادیت سیکھتے ہیں۔ جب ہم خیالات یا چیزوں کی درجہ بندی کرتے ہیں تو ہم کچھ مشترکہ خصوصیات (یا معیار) استعمال کرتے ہیں؛ ہم زمروں کو نام دیتے ہیں تاکہ ہم صرف ایک لفظ یا مختصر فقرے کے ساتھ ان کا حوالہ دے سکیں۔ جب یہ نام اور معنی لوگوں کے گروہوں میں مشترک ہوتے ہیں تو یہ ہمیں ہر بار تفصیل بتائے بغیر طے شدہ خیالات یا چیزوں پر بات کرنے میں مدد کرتے ہیں۔اس کی مدد سے ہم بھی زیادہ مؤثر طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ پچھلی کلاسوں میں، آپ نے جاندار اور غیر جاندار چیزوں کے بارے میں سیکھا۔ جیسے ہی ہم یہ الفاظ استعمال کریں گے، آپ سمجھ جائیں گے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ یہ درجہ بندی کی آسان سی مثال ہے۔

ہم قدرتی وسائل کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

آئیے غور و فکر کریں

قدرتی وسائل کی درجہ بندی کےلیے مختلف معیارات کیا ہو سکتے ہیں؟

قدرتی وسائل کی درجہ بندی کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم استعمال کرتے ہیں وہ کس طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً انسانی زندگی کے لازمی جزو کے طور پر، اشیا کے وسائل کے طور پر اور توانائی کے ذرائع کے طور پر۔

زندگی کے لیے لازمی وسائل

زمین پر زندگی اس ہوا کے بغیر جس میں ہم سانس لیتے ہیں، اس پانی کے بغیر جو ہم پیتے ہیں اور اس خوراک کے بغیر جو ہم کھاتے ہیں ،ممکن نہیں۔ ہم یہ وسائل ماحولیات، دریا،تالابوں اور مٹی کی کاشت یا دیگر جاندار چیزوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اس ہوا کو ہم نہیں بنا سکتے ہیں جس سے ہم سانس لیتے ہیں، اسی طرح اس پانی کو جسے ہم پیتے ہیں یا اس مٹی کو جس کے ذریعے ہمیں کھانا ملتا ہے۔

اشیا کے وسائل

انسان قدرت کے تحفوں سے دنیاوی اشیا تیار کرتا ہے۔ ہم اس سے اپنے استعمال کی چیزیں بناتے ہیں یا ایسی خوب صورت چیزیں بناتے ہیں جو ہماری اور دوسروں کی زندگیوں کو تقویت بخشتی ہیں - لکڑی کے ایک ٹکڑے کو کرسی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اسے تراش کر مجسمہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کا جغرافیائی تنوع ہمیں لکڑی سے لے کر ماربل تک اور کوئلے سے سونے تک قدرتی وسائل کی وسیع اقسام فراہم کرتا ہے۔

توانائی کے وسائل

توانائی جدید زندگی کی بنیاد ہے –جیسے بجلی ہماری عمارتوں، آمدورفت، اور پیداوار کے تمام عوامل کے لیے ضروری ہے۔ یہ توانائی مختلف قدرتی ذرائع سے حاصل ہو سکتی ہے: کوئلہ، پانی، پٹرولیم، قدرتی گیس، سورج کی روشنی، ہوا وغیرہ۔

dreamstime_xxl_213854819

شکل 1.7: دریائی پانی ایک قابل تجدید وسیلہ ہے جب تک کہ گلیشیئرز اور جنگلات موجود ہیں۔

dreamstime_xxl_2824198

شکل 1.8: ہم جنگل سے لکڑی محدود مقدار میں طویل عرصے تک حاصل کر سکتے ہیں، اگر ہم اسے دوبارہ اگنے کا موقع دیں۔

قابل تجدید اور نا قابل تجدید وسائل

(Renewable and Non-renewable Resources)

قدرتی وسائل کی درجہ بندی کا دوسرا طریقہ اس پر مبنی ہوسکتا ہے کہ وہ قابل تجدید ہیں یا نہیں۔

فطرت کا ایک عام اصول یہ ہے کہ یہ بحالی اور تخلیق نو کے طریقے پر کام کرتی ہے۔ بحالی کسی چیز کو اس کی اصل صحت مند حالت میں واپس کرنے کا عمل ہے اگر وہ کسی طرح خراب یا تباہ حال ہوجائے۔ فطرت وقت کے ساتھ خود کو ٹھیک کرتی ہے، نئی شکل میں پیش کرتی ہے اور وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہے۔ آپ کی جِلدپر لگازخم عام طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد ایک جنگل بحال ہو جاتا ہے۔ تخلیق نو بحالی سے آگے کی چیز ہے۔ یہ فطرت کی نئی زندگی پیدا کرنے کی صلاحیت اور پھلنے پھولنے کے حالات کے بارے میں ہے۔

ہم ان علاقوں میں درخت لگاتے ہیں جو انسانی مداخلت کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں جیسے کہ رہائش کے لیے جنگلات کو کاٹنا ۔ ایسے درخت جواصل میں وہاں پہلے موجود تھےان کو لگانے سےوہاں کے ماحولیاتی نظام کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ جو درخت پرندوں، گلہریوں اور دیگر مخلوقات کے لیے خوراک اور پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں، ان سے زندگی کی واپسی ممکن ہو تی ہے۔

فطرت ایک گردشی نظام کے طور پر کام کرتی ہے جہاں کوئی فضلہ نہیں ہوتا ہے۔ جنگل کو ہی لیجیے۔ مان لیجیے جنگل میں ایک درخت گر جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا، پھپھوندی اور کیڑوں کی غذا بن کرختم ہو جاتا ہے۔ درخت مٹی کا حصہ بن جاتا ہے اور اسےزرخیز بنا دیتا ہے۔ نئے درخت اور پودے بیجوں سے اگتے ہیں... آخرکار کچھ گر جائیں گے اور یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

یہ عملی طور پر بحالی اور تخلیق نو کے فطرت کے اصول کی مثالیں ہیں۔

قابل تجدید وسائل (Renewable Resources)

قابل تجدید وسائل وقت کے ساتھ یہ خصوصیات ظاہر کرتے ہیں۔ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں بہترین دھوپ میسر ہے۔ قدرتی نظام میں بارش اور پگھلتے گلیشیر سے ندیاں مسلسل آباد رہتی ہیں، جنگلات خود کو تروتازہ رکھتے ہیں، مٹی قدرتی عمل کے ذریعے خود کو بحال رکھتی ہے، وغیرہ۔

اگر ہم ان کا انتظام پائیدار طریقے سے کر سکیں تو شمسی توانائی، ہوا کی توانائی، بہتے پانی سے حاصل ہونے والی توانائی، جنگل سے حاصل ہونے والی لکڑی قابل تجدید وسائل ہیں۔

تاہم، ان کے قابل تجدید رہنے کے لیے ایک شرط ہے کہ بحالی اور تخلیق نو کا فطری آہنگ قائم رہے۔ اگر ہم لکڑی اس رفتار سے کاٹیں جو جنگل کے درخت اُگنے کی رفتار سے زیادہ ہو، تو بالآخر جنگل ختم ہو جائے گا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ غیرذمہ دارانہ انسانی اعمال کی وجہ سے بہت سی فطری گردشوں میں خلل پڑرہا ہے۔ کئی عوامل کے مجموعی اثرات جیسے کہ رکازی ایندھن پر مبنی صنعتی ترقی اور کھیتوں یا دیگر مقاصد کے لیے جنگلات کی کٹائی ان میں سے دو عوامل ہیں،جن کی وجہ سے ہم درجۂ حرارت میں اضافہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔اس کے سبب ہمالیہ میں بعض جگہوں پر گلیشیئربارش یا برف باری کے ذریعہ تلافی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ان میدانوں میں رہنے والی آبادیوں کو پانی کی فراہمی پر پڑ رہا ہے جو ’’پانی کے ذخائر‘‘(Water Tower) پر منحصر ہیں۔

dreamstime_xxl_292667929

شکل 1.9: سورج دیوتا سوریا کو شکر گزاری کے طور پر ارگھیم پیش کرتے ہوئے۔

ارگھیم(Argham):

پیش کش، عام طور پر پانی کی صورت میں، جو عزت یا شکرگزاری کے اظہار کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

  • روایتی طور پر انسانی برادریوں کے پاس مچھلیوں کی افزائش کے موسم کے دوران ماہی گیری کو منظم کرنے (یا اس سے باز رہنے)کا ایک نظام ہوتا تھا، تاکہ مچھلیوں کی آبادی برقرار رہ سکے۔تاہم، ماہی گیری کے تجارتی رواج نے زیادہ ماہی گیری(Over-fishing)کو جنم دیا۔ مثال کے طور پرمچھلی کی ایک قسم ٹونا ہے، اس کی آبادی میں وسیع پیمانے پر تیزی سے کمی ماہی گیری پر قابو پانے کے حوالے سے کچھ معاہدوں کا باعث بنی۔اس کے باوجود مچھلی کی یہ اہم قسم جو چھوٹی مچھلیوں، جھینگے وغیرہ کھا کر سمندری ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھتی ہے، زوال پذیر ہے۔
  • کیا آپ دوسرے روایتی طریقوں کے بارے میں جانتے ہیں جو ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد کرتے ہیں؟

ہمیں اپنی ضرورت کی اشیا کے لیے صنعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمل سے فضلہ بھی پیدا ہوتا ہے، جو اکثر دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ فضلات قدرتی طور پر تحلیل نہیں ہو پاتے تاکہ کسی جاندار کی خوراک بن سکیں۔ اس کے علاوہ، یہ فطری گردش کی بحالی اور تخلیق نو کے سلسلے میں خلل کا باعث بنتے ہیں، جس کی وجہ سے دریا زہریلا ہو جاتا ہے اور زندگی کو سہارا نہیں دے سکتا۔

dreamstime_xl_149004144

شکل 1.10: صنعتوں کے فضلے کو اکثر مناسب ٹریٹمنٹ کے بغیر ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔

آئیے معلوم کریں

اپنے آس پاس ان انسانی اعمال کی نشان دہی کیجیے جن کے نتیجے میں فطرت کی بحالی اور دوبارہ تخلیق کی صلاحیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ایسی کون سی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن سے فطری گردش کی بحالی کے عمل کو دوبارہ قائم کیا جا سکے؟

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ماحولیاتی نظام کے افعال اور ماحولیاتی نظام کی خدمات: فطرت کے کام کرنے کے کچھ خِلقی طریقے ہیں۔ مثلاً درخت فطری طور پر آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ جب یہ قدرتی عمل انسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو ہم انھیں ‘ماحولیاتی نظام کی خدمات’ کہتے ہیں۔ ہم اس کے بارے میں اس طرح سمجھ سکتے ہیں: ایک جنگل قدرتی طور پر پانی صاف کرتا ہے، مٹی کے کٹاؤ کو روکتا ہے، اور جانوروں کے لیے رہائش فراہم کرتا ہے — یہ ماحولیاتی نظام کے افعال ہیں۔ جب ہم اس جنگل کی وجہ سے صاف پانی، محفوظ کھیتی باڑی، اورجرگ والی (Pollinated) فصلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تو ہم فطرت سے ماحولیاتی نظام کی خدمات حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک مکمل درخت روزانہ تقریباً 275 لیٹر آکسیجن پیدا کرتا ہے (درخت کی نوعیت کے اعتبار سے کم یا زیادہ ہوسکتا ہے)۔ ایک انسان کو ہر روز تقریباً 350 لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے (یہ بھی ہر فرد کی سرگرمی کی نوعیت، اس کے قد اور وزن وغیرہ کی بنیاد پر مختلف ہو سکتا ہے)۔

آئیے معلوم کریں

اپنے علاقے میں قابل تجدید وسائل کی اقسام کا پتہ لگانے کے لیے ایک چھوٹا سا تحقیقی مطالعہ کریں۔ آپ اپنے مطالعے کے جغرافیائی علاقے اور ضروری معلومات کے ذرائع کے بارے میں اپنے استاد سے بات کر سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کے حالات میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں ؟ ایک مختصر رپورٹ تیار کریں جس میں تبدیلی کی وجوہات اور ممکنہ اقدامات کی نشان دہی کی گئی ہو۔

ناقابل تجدید وسائل (Non-renewable Resources)

ناقابل تجدید وسائل ایک طویل عرصے میں تشکیل پاتے ہیں۔ جس رفتارسے ہم ان کو استعمال کررہےہیں ان کو دوبارہ نہیں پیدا کیاجا سکتا۔ مثال کے طور پر رکازی ایندھن(کوئلہ اور پیٹرولیم)، معدنیات اور دھاتیں جیسے لوہا، تانبا اور سونا، ناقابل تجدید وسائل ہیں۔ ہندوستان میں کوئلے کے ذخائر کی کافی مقدار موجود ہے۔ ہم توانائی کی اپنی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کوئلے کی کھدائی کرتے ہیں، لیکن ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں کوئلے کے ذخائر مزید 50 سال تک ہی چل سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی کے ساتھ بجلی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب تک زیادہ پائیدار متبادل وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں ہوجاتے، ہمیں اپنے پاس موجود کوئلے کو سمجھ داری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

آئیے معلوم کریں

وہ کون سے ناقابل تجدید وسائل ہیں جو آپ روزانہ، بلاواسطہ یا بالواسطہ استعمال کرتے ہیں؟ان کے ممکنہ قابل تجدید متبادل کیا ہیں؟ قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقلی کے لیے ہم کون سا راستہ اختیار کر سکتے ہیں؟

قدرتی وسائل کی تقسیم اور اس کے مضمرات

(Distribution of Natural Resources and its Implications)

قدرتی وسائل ہماری اس زمین پر یہاں تک کہ ممالک کے اندر بھی یکساں طور پرنہیں پائے جاتے ہیں۔ یہ غیرمساوی تقسیم انسانی بستیوں، تجارتی طریقۂ کار، بین الاقوامی تعلقات اور تنازعات کو بھی جنم دیتی ہے۔ قدرتی وسائل کوقابو میں کرنے کے لیے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور لڑی جاتی رہیں گی۔

Screenshot 2026-03-11 at 10-40-49 Chapter 1.pdf

شکل 1.11: اہم معدنیات کی تقسیم

آئیے معلوم کریں

شکل1.11 میں نقشے کا مشاہدہ کیجیے۔ اہم معدنیات کی غیر مساوی تقسیم پر غور کیجیے۔ آپ کے علاقے میں کس قسم کے وسائل دستیاب ہیں؟ ان کی تقسیم کس طرح ہوئی ہے؟

قدرتی وسائل کے قریب واقع صنعتیں مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ ان کے آس پاس میں نئی بستیوں کا فروغ ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی معاشی مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے والی جدید سہولیات تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ تاہم، ان فوائد کے لیے ہمیں فوری طور پر یا طویل مدت کے بعد قیمت ضرور چکانی پڑے گی۔ ہمارے پاس دنیا بھر سے ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جو وسائل سے مالا مال علاقوں میں رہتے تھے لیکن ترقی میں سہولت فراہم کرنے کی خاطراپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے۔بعض معاملات میں تو ان کے مقدس مقامات بھی خطرے میں آنے کی وجہ سے وہاں تنازع کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔

قومی اور بین الاقوامی تجارت قدرتی وسائل کے جغرافیائی محلِ وقوع پر منحصر ہے۔ان وسائل کو انسانی علم اور مہارت کے ساتھ ملا کر منفرد مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں، مثلاً وُوٹز اسٹیل (Wootz Steel)۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں، تجارت نے ہندوستان میں بڑی سلطنتوں کے قیام میں مددکی ہے۔

bharmaputra

شکل1.12: دریائے برہم پترکا مشترکہ پانی

آئیے معلوم کریں

  • دو قدرتی وسائل منتخب کریں۔ ہندوستان کے مختلف حصوں میں ان کی دستیابی کے بارے میں معلومات جمع کریں۔ انھیں نقشے پر نشان زد کریں۔ آپ ان کی تقسیم کے بارے میں کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ ان سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کی کون کون سی اقسام ہیں؟
  • ان علاقوں میں موجودہ اور مستقبل کی نسلوں پرقدرتی وسائل کے استخراج کے اثرات کیا ہوں گے اس پر بحث کریں۔ یہ بھی تجویز کریں کہ ہم قدرت کے تحفوں کا ذمہ دارانہ استعمال کس طرح کر سکتے ہیں۔

فطرت سیاسی سرحدوں پر توجہ نہیں دیتی۔ اس سے ریاستوں کے ساتھ ساتھ ممالک میں قدرتی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔اس کی ایک مثال کرناٹک، تمل ناڈو، کیرلا اور پڈوچیری کے درمیان دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم ہے۔ امن اور منصفانہ حصے داری کو برقرار رکھنے کے لیےآپسی سمجھوتے اور بہتر انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقیناً پڑوسی ممالک کے درمیان ایسے معاہدے کرنا آسان نہیں ہے۔

آئیے معلوم کریں

بین الاقوامی تناظر میں اس طرح کے تنازعات کے بارے میں معلوم کریں۔کلاس میں اپنے نتائج پر بحث کریں۔

Mettur_dam

شکل 1.13: تمل ناڈو میں کاویری ندی پر بنا میٹور ڈیم

قدرتی وسائل کی فراوانی کے منفی اثرات

(’The ‘Natural Resource Curse)

قدرتی وسائل کی فراوانی معاشی خوش حالی کی ضمانت نہیں دیتی۔بعض علاقے جو قدرتی وسائل سےمالامال ہوتے ہیں،لیکن معاشی ترقی میں سست رفتاری کا شکار ہو سکتے ہیں — ایک ایسا رجحان جسے ماہرین معاشیات ’قدرتی وسائل کے منفی اثرات‘ یا‘فراوانی کا تضاد’ کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر قدرتی وسائل کی فراوانی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کوئی ملک امیر ہے۔زیادہ تر معیشتیں ایسی صنعتوں کو ترقی دینے سے قاصر رہتی ہیں جو وسائل کو اعلیٰ قیمت کی مصنوعات میں تبدیل کرسکیں۔ اس کتاب کے آئندہ باب ’پیداو ار کے عوامل‘ میں آپ اس کی تفصیل کوسمجھیں گے۔

ہندوستان نے ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عام طور پر ایسی صنعتوں کے فروغ میں سرمایہ کاری کرکے خود کو ان منفی اثرات سے بچا رکھا ہے۔

آئیے معلوم کریں

آپ کے خیال میں مختلف جغرافیائی علاقوں میں دستیاب قدرتی وسائل کے استعمال کو فعال بنانے کے لیے کون سے مادخل (Inputs) کی ضرورت ہے؟

تاہم، پائیداری کے ساتھ وسائل کے اخراج کو متوازن کرنے کا چیلنج اب بھی باقی ہے۔ قدرتی وسائل کو سمجھنا اور ان کا نظم و نسق ایک اہم نقطۂ آغاز ہے، لیکن یہ انسانی علم، اچھی حکمرانی اور حکمت عملی پر مبنی منصوبہ بندی ہی طے کرتی ہے کہ یہ وسائل مستقل فائدہ فراہم کریں گےیا عارضی نقصان کا سبب بنیں گے۔

قدرتی وسائل کا ذمہ دارانہ اور دانش مندانہ استعمال: نگہداری

Responsible and Wise Use of Natural Resources : Stewardship

زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کا تقاضا ہےکہ ہم فطرت کا احترام کریں اور قدرتی وسائل کو اس طرح استعمال کریں کہ قابل تجدید وسائل کی بحالی اور تخلیق نو ممکن ہوسکے۔اسی طرح ناقابل تجدید وسائل کا ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کریں۔

ان پہلوؤں کا مطالعہ کرنے والے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی وسائل کے ساتھ غیرذمہ دارانہ برتاؤ، آلودگی،زمین پر حیاتیاتی تنوع کا اتلاف اور موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے، جو حالیہ برسوں میں تیزی سے رونما ہو رہا ہے۔

حیاتیاتی تنوع کا اتلاف (Biodiversity loss):

زمین پر زندگی کی مختلف شکلوں کا زوال

قابل تجدید وسائل کی بحالی اور تخلیق نو

(Restoration and Regenerationof Renewable Resources)

یہاں اس کی دو مثالیں ہیں کہ ہم کس طرح قدرتی وسائل کا استعمال ان کی تخلیق نو کی صلاحیت سے زیادہ کررہے ہیں۔

ہمارے ملک میں بہت سے کسان سینچائی کے لیے زمین کے اندر سے پانی نکالتے ہیں۔ اکثر ریاستوں میں پانی نکالنے کی رفتار، اس رفتار سے زیادہ ہے جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح دوبارہ بھرتی ہے۔ وقت کے ساتھ، یہ کمی بڑھتی جاتی ہے، جس سے پانی نکالنے کا خرچ بڑھ جاتا ہے اور آخرکار پانی دستیاب نہیں رہتا۔ یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ہمارے بہت سے بڑے شہروں کا زمینی پانی جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ اس مصیبت سے نجات پانے اور زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے ہیں، جن میں پانی کو جمع کرنے، تالاب اور ٹینکوں کی بحالی، پانی کے فضول استعمال میں کمی لانے اور پانی کو پروسیسنگ کے ذریعے دوبارہ استعمال کرنے کی کوشش جیسی کچھ حکمت عملی استعمال میں لائی گئی ہیں۔

dreamstime_xl_321497178

شکل 1.14: کیمیائی کھادوں کے غیر محتاط استعمال سے فصل کی خرابی کا ایک منظر

اسی طرح نا مناسب کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے استعمال سے مٹی کی زرخیزی میں کمی ہوئی ہے۔ روایتی کاشت کاری میں مٹی کو ’دھرتی ماں ‘ کا درجہ دیا جاتا تھا۔ گائے کے گوبر اور دیگر قدرتی کھادوں کا استعمال، پلوار(Mulching)، کثیر فصل کی کاشت اور اسی طرح کے طریقوں نے مجموعی طور پر مٹی کو بہتر بنایا ہے۔ ہمیں ان طریقوں سے سیکھنا چاہیے اور ان کا اطلاق اس کے موجودہ زوال پذیر صورت حال پر کرنا چاہیے۔ہمیں اپنی مٹی کو پھر سے زرخیز بنانے اور اس کی تجدید کی ضرورت ہے۔

زیر زمین پانی کا زیادہ استعمال: پنجاب کی ایک نظیر کا مطالعہ

(Overexploitation of Groundwater: A Caselet from Punjab)

پنجاب کے زرخیز میدانی علاقوں میں ایک بحران نے جنم لیا ہے جہاں زیر زمین پانی کے وسائل شدید طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ پنجاب سبز انقلاب(Green Revolution) کا مرکز تھا ، جس نے ہماری آبادی کے ایک بڑے حصے کو غذائی اجناس فراہم کیں اور ہندوستان کو خوراک کے معاملے میں خود کفیل بنانے میں بہت اہم خدمات انجام دیں۔ آج اسی ریاست کو استحکام کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں قدرتی وسائل کا استعمال اُن کی باز تخلیقی صلاحیت سے زیادہ کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ تشویش صرف پنجاب تک محدود نہیں ہے۔ یہ بہت سی دوسری ریاستوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

1960کی دہائی میں، کسانوں نے گیہوں اور دھان کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی طرف رخ کیا۔ انھیں روایتی بیجوں سے زیادہ پانی کی ضرورت تھی، اور کسانوں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زمینی پانی نکالنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ، مفت بجلی کی فراہمی زمین سے کثرت سے پانی نکالنے کا باعث بنی۔ (ایسی صورت حال جو آج بھی ہندوستان کے بیشتر حصوں میں موجود ہے)۔ جدید کاشت کاری کے طریقۂ کار میں کیمیائی کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے استعمال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

ان عوامل کا مجموعی اثر یہ ہے کہ پنجاب کے ایک بڑے حصے میں زیر زمین پانی کی سطح (شکل 1.17 دیکھیں) تقریباً 30 میٹر کی گہرائی تک دستیاب نہیں ہے اور کیڑے مار دوائیں اور کیمیائی کھاد زمینی پانی میں گھل گئے ہیں جس کی وجہ سے صحت کے لیے نقصان دہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

dreamstime_xxl_248316855

شکل 1.15: زمین سے پانی کا استخراج

dreamstime_256760259

شکل 1.16: پانی سے بھرے دھان کے کھیت

پنجاب کے تقریباً 80 فیصد علاقے کو ’بیش استحصال‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہم نے زمینی پانی کو اس کی تجدید اور بازتخلیقی صلاحیت سے کہیں زیادہ پانی نکالا ہے۔

Screenshot 2026-03-11 at 10-49-28 Chapter 1.pdf

شکل1.17: پنجاب اور چنڈی گڑھ کے پانی کی سطح کی گہرائی کا نقشہ، جون 2022
(m bgl = سطح زمین سے نیچے میٹر)

dreamstime_xxl_22146163

شکل 1.18: جیسلمیر قلعہ، راجستھان۔ مٹی کا ایک ڈھانچہ جسے 12 ویں صدی میں بنایا گیا تھا اور بعد میں بلوا پتھر کی مدد سے اس کی تجدید کی گئی۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ غذائی تحفظ کو مختصر مدت کے لیے یقینی بنایا گیا ہے، لیکن طویل مدتی نتائج کو درست ہونے میں وقت اور محنت درکار ہوگی۔

سیمنٹ کی مثال (The Case of Cement)

ہم سیمنٹ کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتے۔ ہمارے گھر،ا سکول، اسپتال ، دیگر عمارتیں، پل، سڑکیں اور ہوائی اڈے سب میں سیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیمنٹ کی پیداوار کو سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی صنعتوں میں سے ایک تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری کے عمل کے دوران باریک دھول نکلتی ہے جو انسانوں اور جانوروں کے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے اور انھیں نقصان پہنچاتی ہے۔یہ پودوں کے پتوں پر جم جاتی ہے جس سے ان کی پیداوار کم ہوتی ہے ۔یہ مٹی اور پانی کو بھی آلودہ کرتی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ نے سیمنٹ فیکٹریوں کے لیےرہنما اصول تیار کیے ہیں تاکہ آلودگی کو کم یا ختم کیا جا سکے۔

Vikas-50-edit-min-2

شکل1.19: آروویل میں ایک کمیونٹی کی عمارت جسے Auroville Earth Institute نے بنایا ہے (جس میں یونیسکو (UNESCO) کی چیئر فار اردن آرکی ٹیکچر واقع ہے)۔ یہ جدید عمارت خاص تکنیک استعمال کرتے ہوئے گیلی مٹی سے بنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ آلودگی کو کم کرنے والے متبادل مواد تیار کرنے کی طرف بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان میں روایتی مواد جیسے پتھر اور گیلی مٹی، نئے پودوں سے نکلے مواد اور پلاسٹک کے فضلے سے دوبارہ استعمال ہونے والے مواد کا استعمال شامل ہے۔

روایتی مواد اور طریقوں کو جدید تکنیکی ترقی کے ساتھ ملا کر نئے پائیدار مواد تیار کیے جا رہے ہیں —پیداوار کا عمل کم آلودگی پیدا کرتا ہے، مقامی طور پر روزگار فراہم کرتا ہے، اور مقامی آب وہوا کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ورکش آیوروید(Vṛikṣhāyurveda)ایک قدیم ہندوستانی نباتاتی سائنس ہے جو پودوں اور درختوں کے مطالعہ اور دیکھ بھال پر مرکوز ہے۔ یہ اصطلاح سنسکرت سے آئی ہے، جس میں ورکش کا مطلب درخت ہے اور آیورویدکا مطلب زندگی یا صحت کی سائنس ہے۔ یہ روایتی تعلیمی رواج کئی ہزار سال پرانا ہے اور اسے تقریباً دسویں صدی میں سرپال کے ورکش آیوروید جیسے گرنتھوں میں باقاعدہ پیش کیا گیا ہے۔

اس میں مٹی کی مختلف اقسام پر اگائے جانے والے مخصوص پودوں کے بارے میں تفصیلی آرا ہیں، بیج جمع کرنے، محفوظ کرنے اور پودے لگانے سے پہلےکی تیاری کے لیے پیچیدہ طریقے دیے گئے ہیں۔ آب پاشی کی تکنیکوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، پودوں کی انواع، ترقی کے مرحلے، اور موسمی حالات کے مطابق مختلف خیالات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر کیڑوں سے نمٹنے کی حکمت عملیوں اور ایک ساتھ اگائے جانے والے پودوں کے ذریعے کیڑوں سے نپٹنے کا طریقۂ کارتجویزکرتاہے۔ پائیدار زراعت کی یہ شکل مٹی کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے فصلوں کی گردش اور مخلوط فصلوں کی کاشت جیسے طریقوں کو فروغ دیتی ہے۔ورکش آیورویدزمین میں ہل چلانے کے مناسب طریقوں کے بارے میں بھی مشورہ دیتا ہے تاکہ مٹی کی نمی کو برقرار رکھا جا سکے اور ساتھ ہی مٹی میں جاندارجیسےپھپھوند، بیکٹیریا اور کینچوےوغیرہ کی نشوونما کو آسان بنایا جا سکے۔

سکم سے ایک نظیر کا مطالعہ (A Caselet from Sikkim)

سکم میں پیما خاندان کے لوگوں کو کھیت میں مہنگے کیمیکل کے استعمال سے کم ہوتی پیداوار اور بڑھتے ہوئے قرض کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ریاستی حکومت نےپورے ریاست میں نامیاتی (Organic)کھیتی کو فروغ دینے کی پالیسی کا اعلان کیا تو پیما کے خاندان نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کوئی آسان تبدیلی نہیں تھی۔ ابتدامیں پیداوار میں کمی آئی کیوں کہ مٹی برسوں کے کیمیائی استعمال سے ٹھیک ہو رہی تھی۔

اس خاندان نے کمپوسٹ کی طرف رخ کیا، نیم اور لہسن کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی کیڑوں کو بھگانے والے مادے تیار کیے، اور سال بھر میں متعدد فصلیں اگانےلگے۔ تقریباً پانچ سال کے بعد پیما کے کھیت پھل پھول رہے تھے۔ وہ اپنی الائچی، ادرک، اور روایتی سبزیاں اچھے داموں میں فروخت کررہےتھے۔ 2016 میں، سکم ایک 100 فیصد نامیاتی ریاست بن گیا جس کے تمام کھیتوں کی زمینوں کی تصدیق نامیاتی کے طورپر کی گئی ہے۔نتائج زبردست تھے - مقامی حیاتیاتی تنوع پروان چڑھا، فائدہ مند کیڑے مکوڑے اور پرندے واپس لوٹ رہے تھے۔ سیاحت میں اضافہ ہوا کیوں کہ سیاح نامیاتی کاشت کاری کے ماڈل کو دیکھنے آتے تھے اور کسانوں کی آمدنی میں اوسطاً 20 فیصدی اضافہ ہوا۔ آج سکم ایک عالمی ماڈل کے طور پر کام کر رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پورا خطہ ماحولیاتی اورمعاشی دونوں طرح کے نتائج کو بہتر کرتے ہوئے پائیدار زرعی طریقوں کی طرف کامیابی سے بڑھ سکتاہے ۔

dreamstime_xxl_7047502

شکل 1.20: سکم میں نامیاتی کاشت کاری

وسائل کا ذمہ دارانہ اور محتاط استعمال

ناقابل تجدید ذرائع کے معاملے میں ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم وسائل کا استعمال اس طرح کریں کہ یہ اتنی دیر تک موجود رہے کہ انسانی زندگی کے لیے زیادہ پائیدار متبادل تلاش کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، ہمیں زیادہ سے زیادہ مقاصد کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع استعمال کرنے چاہئیں ۔

bhadlasolarpark_oli_202226_lrg

شکل1.21: راجستھان میں واقع دنیا کے سب سے بڑے شمسی پارکوں میں سے ایک کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر۔یہ پارک اتنی بجلی پیدا کرسکتا ہے جو راجستھان کی موجودہ بجلی کی تقریباً 15 فیصد ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

dreamstime_xxl_158722976

شکل 1.22: کرناٹک میں رائےچور کے قریب شمسی مزرعہ

بین الاقوامی شمسی توانائی قابل تجدید توانائی میں ہندوستان کی قیادت

ہندوستان اور فرانس نے 2015 میں شمسی توانائی کے لیے بین الاقوامی شمسی توانائی اتحاد (IASE) کا آغاز کیا۔ یہ روشنی سے مالا مال ممالک کا اتحاد ہے جو سورج کی توانائی کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔یہ اتحاد ان ممالک پر توجہ مرکوز کرتا ہے جہاں سال بھر سورج کی بھرپور روشنی میسر ہوتی ہے۔ ہندوستان نے ترقی پذیر ممالک میں شمسی منصوبوں میں تکنیکی مہارت کا اشتراک اورقابلِ برداشت مالیاتی متبادلات پیدا کرتے ہوئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بھادلا سولر پارک ہندوستان کے شمسی عزائم کی علامت ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح کوئی ملک توانائی کے روایتی ذرائع سے قابل تجدید متبادل کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ ہندوستانیوں کے لیے یہ اتحاد ماحولیاتی ذمہ داری اور معاشی مواقع دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

ان مسائل سے نمٹتے وقت ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پانی اور صاف ہوا جیسے بنیادی وسائل کی تقسیم اور رسائی اکثر معاشرے کے بعض طبقوں کے ساتھ غیر منصفانہ ہوتی ہے۔ شہروں میں، بہت سے علاقوں میں پینے کے پانی کی مناسب اور باقاعدہ فراہمی نہیں ہوتی ہے۔ صنعتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور رکازی ایندھن کے زیادہ استعمال سے وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو خود کو ان خطرات سے بچانے سے قاصر ہیں۔

ہمیں فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو یاد رکھنا چاہیے اور تجدید، بازتخلیق اور پائیداری کے لیے قدرتی وسائل کے محافظ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ بھگود گیتا میں لوک سنگرہ کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ہرشخص کو اپنی ذاتی خواہشات سے اوپر اٹھ کر تمام لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس پر شدت سے غور و فکر کریں۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ...

  • قدرتی وسائل’ایسی اشیا اور مادے ہیں جو فطرت میں پائے جاتے ہیں اور انسانوں کے لیے بیش قیمتی ہیں۔
  • وسائل کی درجہ بندی کے مختلف طریقے ہیں؛ قابل تجدید اور ناقابل تجدید کارآمدزمرے ہیں۔
  • ٹیکنالوجی اور ہنر کی ترقی میں سرمایہ کاری کے ذریعے وسائل کی فراوانی کے منفی اثراتپر قابو پایا جا سکتا ہے۔
  • ہمیں قابل تجدید ذرائع استعمال کرنے کی شرح کے بارے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا زیادہ استحصال نہ ہوسکے؛ نا قابل تجدید ذرائع کا معقول اور محتاط استعمال ہی ان کی موجودگی کو طویل مدت تک قائم رکھنے میں مددگار ہو گا۔

سوالات اور سرگرمیاں

1. وہ کون سی چیزیں ہیں جوآج کے قابل تجدید وسیلہ کو کل ناقابل تجدید بنا سکتی ہیں؟ کچھ ایسے اقدامات کی وضاحت کریں جو ایسا ہونے سے روک سکتے ہیں۔

2. ماحولیاتی نظام کے پانچ افعال کے نام بتائیں جو انسانوں کی خدمت کرتے ہیں۔

3. قابل تجدید وسائل کیا ہیں؟ وہ ناقابل تجدید سے کیسے مختلف ہیں؟ لوگ یہ یقینی بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں کہ قابل تجدید وسائل ہمارے اور آنے والی نسلوں کے استعمال کے لیے دستیاب رہیں؟ دو مثالیں دیں۔

4. اپنے گھر اور پڑوس میں ان ثقافتی طریقوں کی نشان دہی کریں جو قدرتی وسائل کے محتاط استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

5. ہماری موجودہ ضروریات کے لیے سامان کی تیاری میں کن پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے؟

تاریخ کے تاریک ادوار پر ایک نوٹ

تاریخ بعض اوقات جنگوں اور تباہی سے بھری نظر آتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ شاذ و نادر ہی ایسے ادوار پر توجہ مرکوز کرتی ہے جب معاشرہ مجموعی طور پر ہم آہنگ اور پرامن ہو۔ لیکن، اگرچہ ہر ملک میں ایسے پُرامن زمانے اور کچھ فیاض حکمران رہے ہوں گے، لیکن تاریخ نااہل، بدعنوان یا ظالم حکمرانوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ ہم انھیں خاص طور پر وہاں پاتے ہیں جنھیں ہم تاریخ کے تاریک ابواب یا ادوار کہہ سکتے ہیں، جب جنگ، استحصال، جنون ، خونریزی وغیرہ اچانک منظرنامے پر حاوی ہوجاتے ہیں اور پورا معاشرایا ملک مصائب کا شکار ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر میں، تاریخ دانوں کو اس کشمکش کا سامنا کرنا پڑا ہے: ہمیں ایسے تاریک ادوار کی طرف کتنی توجہ مبذول کرنی چاہیے؟ کیا ہمیں انھیں مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہیے؟ کیا ہمیں انتہائی ظالمانہ تفصیلات چھوڑ کر ان کا سرسری طورپر تذکرہ کرنا چاہیے؟ یا ہمیں ان کا سامنا کرنا چاہیے اور ان کا تجزیہ کرنا چاہیے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ایسی پیش رفت کس چیز سے ممکن ہوئی اور امید ہے کہ مستقبل میں ان کے دوبارہ وقوع سے بچنے میں مدد ملے گی؟ ہماری رائے میں، تیسرا راستہ، بہترین ہے، اگر اس پرغیرجانب داری اور حساسیت کے ساتھ عمل کیا جائے؛ اپنے ماضی کو نہ بھولیں خواہ وہ خوش گوار یا ناخوش گوار ہو کیوں کہ ماضی ہمارے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے اور حال تشکیل کرتا ہے۔

غیر جانب داری اور حساسیت‘سے ہماری کیا مراد ہے؟سادہ الفاظ میں، یہ ضروری ہے کہ ہم ان تاریک واقعات کا مطالعہ بغیر کسی الزام تراشی کے کریں اور آج کے لوگوں کو ان کا ذمہ دار نہ ٹھہرا ئیں۔ مثال کے طور پر، آپ آگے دیکھیں گے کہ دوسری جنگ عظیم (1939-1945) کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہوئیں۔ اس کے بعد جرمنی نے ایک ظالمانہ نظریہ (جسے ‘نازی ازم’ کہا جاتا ہے) اپنایا جو ‘کمتر نسلوں’ کے خاتمے پر یقین رکھتا تھا اور اس کے نتیجے میں کچھ نسلی گروہوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور مقبوضہ قوموں پر ظالمانہ حکمرانی کی گئی۔ پھر بھی یہ واضح طور پر ناقابل قبول ہو گا کہ آج کے جرمنوں کو آٹھ دہائیوں سے پہلے کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ بلکہ، اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ نازی نظریے کو کس چیز نے ممکن بنایا، تاکہ آج یا کل اسی طرح کے نظریات کو شکست دی جاسکے۔

اس نصابی کتاب میں ‘ماضی کےنقوش’ کے ابواب پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے، جس میں جنگی مہارت کے بارے میں اقتباسات اور ظلم و بربریت کے واقعات شامل ہیں۔ اگرچہ ان واقعات کو مٹایا یا جھٹلایا نہیں جا سکتا، لیکن آج کسی کو ان کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہوگا۔ ظالمانہ تشدد، استحصال پسندانہ اقتدار یا اقتدار کے غلط عزائم کی تاریخی اصلیت کو سمجھنا ماضی کے زخم کوبھرنے اور مستقبل کی تعمیر کا بہترین طریقہ ہے جہاں امید ہے کہ ان برائیوں کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔