باب 2
ہندوستا ن کے سیاسی نقشے کی بازتشکیل
(Reshaping India’s Political Map)
اہم سوالات
1. اس دور میں بیرونی حملوں اور نئی سلطنتوں کے عروج نے ہندوستان کی سیاسی سرحدوں کو کس طرح نئی شکل دی؟
2. ہندوستانی معاشرے نے حملوں کا کس طرح جواب دیا؟ سیاسی عدم استحکام کے زمانے میں ہندوستان کی معیشت کیسے متوازن رہی؟
3. اس دور نے لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب کیے؟
شکل 2.2
اس باب اور اگلے باب کے دور کو اکثر ہندوستانی تاریخ کے ‘قرون وسطی’ کا آخری حصہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاح ‘قرون وسطی’ (’دو ادوار کے درمیان‘) کا اطلاق اصل میں یورپی تاریخ پر ہواہے ، عام طور پر رومی سلطنت کے زوال (5ویں صدی عیسوی) سے لے کر نشاۃ ثانیہ تک (14ویں–16ویں صدی میں یورپ کا ثقافتی احیا، یونانی اور رومی ادب کی ازسرنو دریافت سے پروان چڑھا)۔ جدید سائنس کی ترقی سے پہلے اسے ایک تاریک دور کی شکل میں نشان زد کرنے کے بارے میں سوچا جاتا تھا۔ لیکن، یورپ اور ہندوستان کی تاریخیں بہت مختلف ہیں، اس لیے دونوں پر ایک ہی اصطلاح ‘قرون وسطی’ کا اطلاق مثالی نہیں ہے، اور مؤرخین ہمیشہ اس پر متفق نہیں ہوتےہیں کہ یہ ہندوستان میں کس دور کا احاطہ کرتا ہے۔ ہمیں کبھی کبھی ‘قرون وسطی’ کی اصطلاح استعمال کرنی پڑے گی لیکن ہمارے لیے اس کا مطلب صرف 11ویں سے 17ویں صدی تک کا دور ہے۔
‘ماضی کے نقوش’ کے ابواب میں، ہم نے کوشش کی ہے کہ ممکنہ حد تک چندتاریخوں کا ہی ذکرکریں–جن سے اہم حوالوں کی نشان دہی ہوتی ہے ۔ان ابواب میں دیے گئے وقوعی ترتیب (Timelines)پر نظرثانی کرتے رہنا مفید ثابت ہوگا۔ نقشوں پر بھی نظر ثانی کریں، کیوں کہ وہ آپ کو اس جغرافیہ کو تصور میں لانے میں مدد کریں گے جنھیں فوجوں، عام لوگوں، تاجروں، علما یا روحانی شخصیات نے عبورکیا۔
املا، املا...
فارسی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں نقل کرنے میں دشواریوں کی وجہ سے آپ کو قوسین میں جا بجا کچھ متبادل ہجے ملیں گے۔ مثال کے طور پر، ‘خَلجی’ یا ‘خِلجی’ ایک جیسے ہیں۔ اسی طرح ہم یہاں ‘مغل’ کےہجے کے لیے اب معیاری ہجے استعمال کرتے ہیں، لیکن ‘مُغل’ یا ‘موغل’ جیسے متبادل اب بھی کہیں کہیں استعمال ہوتے ہیں۔
ترک(Turkic):
یہ لفظ اُن قوموں، زبانوں اور ثقافتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو تاریخی طور پر وسط ایشیا کے ایک وسیع خطے سے وابستہ رہی ہیں،جو ترکی سے لے کر سائبیریا تک پھیلا ہوا ہے۔
11ویں صدی کے اوائل میں ہندوستان کے سفر میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ہندوکش پہاڑوں کے پار سے ہونے والے حملوں نے ہندوستان کے سیاسی نقشے کو نئی شکل دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان نے گذشتہ ادوار میں بہت زیادہ جنگیں دیکھی تھیں، لیکن اس عرصے میں برصغیرہندو پاک سے باہر کے لوگوں کے حملے بے مثال تھے۔ ان حملہ آوروں میں بہت سے وسط ایشیائی— ترک یا افغان تھے۔ ان کی ہندوستان آمد کا مقصدصرف یہاں کی دولت اور علاقائی عزائم نہیں تھا بلکہ ضرورت پڑنے پر تشدد کے سہارے اپنے مذہب کو پھیلانا بھی تھا۔
آئیے اب اس باب میں 13ویں صدی کے بعد سے ہندوستان کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا مطالعہ کریں۔
شکل 2.3: تغلقوں اور لودھیوں کے زیرِ قبضہ علاقے (13ویں سے 15ویں صدی تک) کا موازنہ،
اور جنوب و مشرق میں علاقائی طاقتیں
شکل 2.4: قطب مینار۔ شکل 2.5: دہلی کے قطب مینار کمپلیکس میں قوّت الاسلام مسجد کا ایک حصہ؛ اس کی تعمیر قطب الدین ایبک کے زمانے میں شروع ہوئی (13ویں صدی کے اوائل میں) اور بعد کے سلطانوں نے اسے مکمل کیا۔ ایک نوشتہ میں کہا گیا ہے کہ تعمیر میں 27 تباہ شدہ ہندو اور جین مندروں کا مواد استعمال کیا گیا تھا، جن میں سے کچھ یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔
دہلی سلطنت کا عروج و زوال
یہاں ہم دہلی سلطنت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں، جو 1192 میں راجا پرتھوی راج چوہان کی شکست کے بعد قائم ہوئی تھی، جس نے شمال مغربی ہندوستان کے کچھ حصوں پر حکومت کی۔ اس سلطنت نے ترک- افغان نسل کے مسلسل پانچ بیرونی خاندانوں کی حکمرانی دیکھی — مملوک (یا ‘غلام خاندان’)،خِلجی (یا خَلجی)، تغلق، سید، اور لودی (یا لودھی)۔ اگرچہ شمالی ہندوستان کے کچھ حصے دہلی سلطنت کے زیرِ تسلط آ گئے، پڑوسی سلطنتیں جیسے مشرق میں مشرقی گنگا اور جنوب میں ہوئے سل (Hoysalas)نے اس کی پیش قدمی کی مزاحمت کی۔ (شکل 2.3) اور آرٹ، ثقافت اور انتظامیہ کے فروغ پذیر مراکز کے طور پر بھی ابھرے۔ دہلی شہر نے شمالی ہندوستان کے سیاسی منظر نامے میں بھی بڑا کردار ادا کیا۔
سیاسی عدم استحکام اور علاقائی توسیع کی کوششیں سلطنت کے دورکی خصوصیات تھیں۔ اس کے نتیجے میں فوجی مہمات ہوئیں جن میں دیہاتوں اور شہروں پر چھاپے مارے گئے، لوٹ مار کی گئی اور مندروں و تعلیمی مراکزکو تباہ کیا گیا۔ جانشینی (نئے سلطانوں کی تقرری) اکثر پرتشدد ہوتی تھی— تین میں سے تقریباً دو سلطانوں نے اپنے سابق سلطانوں کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا۔ اس طرح ایک سلطان کی حکمرانی اوسطاً نو سال سے زیادہ نہیں رہی۔
(Sultanate):
ایک ایسا علاقہ جو “سلطان” کے زیرِ حکومت ہو — سلطان کا لقب بعض مسلم حکمرانوں نے اختیار کیا۔
شکل2.6: علاؤالدین خلجی کا بنایا ہوا سکہ جس پر فارسی میں ’سکندر ثانی‘ لکھا ہوا ہے جس کا مطلب ‘دوسرا سکندر’ہوتا ہے۔
آئیے معلو م کریں
شکل 2.6 کو دیکھیے، آپ کے خیال میں علاؤالدین خلجی نے خود کو ‘سکندرثانی’ کیوں کہا؟
14ویں صدی کے اختتام پر، علائوالدین خلجی نے شمالی اور وسطی ہندوستان کے بڑے علاقوں پر فوجی مہم چلائی، بہت سے شہروں کو لوٹا اور برباد کیا۔ ساتھ ہی، اس نے منگول افواج کے کئی حملوں کو بھی روکا، جو ہندوستان کو وسیع منگول سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں (جس میں اس وقت ایشیا کا بیشتر حصہ شامل تھا۔)
اس کے غلام جنرل ملک کافور نے سلطنت کی رسائی کو جنوب کی طرف بڑھایا، راستے میں کئی سلطنتیں فتح کیں۔ ان کی لوٹی ہوئی دولت نے سلطنت کے وسیع لاؤ لشکر کی مالی مدد کی ۔ اس نے متعدد ہندو مراکز جیسے سری رنگم، مدورائی، چدمبرم، اور غالباً رامیشورم پر بھی حملہ کیا۔
آئیے معلو م کریں
آپ کے خیال میں اس دور میں فوج کو برقرار رکھنے اور جنگ کرنے کے لیے کس قسم کے وسائل کی ضرورت تھی؟ گروپوں میں مختلف قسم کے اخراجات پر بحث کریں، جن میں فوجیوں کے لیے ہتھیار یا خوراک سے لے کر جنگ میں استعمال ہونے والے جانوراور سڑک تعمیر وغیرہ شامل ہے۔
چند دہائیوں کے بعد، محمد بن تغلق (یا ‘تغلُق’) نے دہلی پر حکومت کی اور دہلی سلطنت کے علاقوں کو مزید وسعت دی۔ موریہ سلطنت کے بعد پہلی بار، برصغیرکا زیادہ تر حصہ اب ایک حاکم کے ماتحت آگیا۔ اگرچہ یہ غلبہ نمایاں تھا لیکن یہ قلیل المدت ثابت ہوا۔ محمد بن تغلق کے پاس پرعزم اسکیمیں تھیں، لیکن اکثر ان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان میں سے ایک دارالحکومت کو دہلی سے دولت آباد(جو اس وقت’دیوگری‘ کہلاتا تھا،موجودہ سمبھاجی نگر کے قریب ہے)منتقل کر نا تھا؛ شایداس کا خیال تھا کہ یہ مرکزی مقام سلطنت کو بہتر کنٹرول کا موقع دے گا۔ اس کے لیے لوگوں کو 1,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرنےپر مجبور کیا گیا، اور چند سال بعد، جب اس کا منصوبہ غلط ثابت ہوا،تو اس نے دارالحکومت کو واپس دہلی منتقل کر دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق دونوں دارالحکومت کی منتقلی کے ان واقعات کے نتیجے میں جان ومال کا بڑا نقصان ہوا۔اس کی دوسری مثال ’ٹوکن کرنسی‘ کا آغاز تھا۔جہاں سستے تانبے کے سکوں کو ٹوکن قرار دیا گیا اور اس کی اہمیت چاندی یا سونے کے سکوں کے برابر تھی۔ اگرچہ یہ ایک ترقی پسند خیال تھا (ہماری آج کی زیادہ تر کرنسی اصل میں’ٹوکن‘ ہی ہے) لیکن اس سے تجارت میں شکوک و شبہات پیدا ہوئےاور لوگوں کو جعلی سکے بنانے کی ترغیب ملی۔جس کی وجہ سے معیشت زوال کا شکار ہوئی۔
شکل2.7: ایک انیسویں صدی کی پینٹنگ جس میں محمد بن تغلق کو اپنے دربار میں دکھایا گیا ہے
سلاطین اور ان کے درباری اشرافیہ عالیشان محلات میں رہتے تھے، شاندار لباس، زیورات اور عمدہ کھانے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ دولت زیادہ تر ان کی فوجی مہمات کی لوٹ مار، عام لوگوں اور مفتوحہ علاقوں پر عائد ٹیکسوں اور غلاموں کی تجارت سے حاصل کی گئی تھی۔ (جیسا کہ غلام بنائے گئے لوگ مفت مزدوری کرتے تھے یاانھیں بیچے جانے کے لیے دور وسط ایشیا میں بھیجا جاتا تھا)لیکن لوٹ مار کے نتیجے میں تجارتی نظام اور زرعی پیداوار پر اثرپڑا۔ اس دور میں بودھ، جین اور ہندو مندروں میں مقدس مورتیوں پر بھی حملے ہوئے۔ اس تباہی کے پیچھے لوٹ مار کا جذبہ ہی نہیں بلکہ بت شکنی کی ذہنیت بھی کارفرما تھی۔
بت شکنی
(Iconoclasm):
ایسے مجسموں یا مذہبی تصاویرکو مسترد یا تباہ کرنے کا عمل جنھیں بت پرستی سمجھا جاتا ہے۔
منکرین
(Infidel):
لفظی معنی میں وہ شخص جو کسی خاص مذہب کے عقیدے کو نہ مانے۔
قرونِ وسطیٰ کے عیسائیت میں ’’منکر‘‘ سے مراد مسلمان یا بت پرست تھے،
جب کہ قرونِ وسطیٰ کے اسلام میں “منکر” سے مراد عیسائی یا ہندوستان کے تناظر میں ہندو، بدھ مت یا جین مت کےماننے والے لوگ تھے۔
آئیے غور و فکر کریں
ہم ‘آئیڈل’ (Idol)یا ‘آئیکن’ (Icon) جیسی عام اصطلاحات کے بجائے شبیہ(Image) کی اصطلاح کیوں استعمال کرتے ہیں؟ اول الذکر دونوں اصطلاحات کو یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے تناظر میں توہین آمیز سمجھا جاتا ہے، جن کے راسخ العقیدہ فرقے ‘بت پرستی’ یا ‘بتوں’ کی پوجا کی مذمت کرتے ہیں۔
ہندوستان کی کلاسیکی تحریروں میں مورتی، وگرہ، پرتیما، روپ وغیرہ الفاظ سے شبیہ عموماً مورتیاں مراد ہیں جو مندروں یاگھروں میں عبادت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اردو میں’ شبیہ ‘ (Image) ایک غیر جانب دار اصطلاح ہے۔
بعض سلاطین نے جزیہ بھی نافذ کیا، جو کہ غیر مسلم رعایا کو تحفظ فراہم کرنے اور فوجی خدمات سے مستثنیٰ کرنے کے لیے ایک ٹیکس تھا۔ عملاً حکمراں کےمزاج کے اعتبار سے یہ امتیازی ٹیکس ایک معاشی بوجھ اور عوامی تذلیل کا سبب بنتا اوراس کی حیثیت اسلام قبول کرنے کی خاطر رعایا کے لیے مالی اور سماجی ترغیب کی تھی۔ 14ویں صدی کے آخر میں وسط ایشیا سے ایک بے رحم ترک- منگول فاتح تیمور نے شمال مغربی ہندوستان اور دہلی پر تباہ کن حملہ کیا، جو اس وقت ایک ترقی پذیر شہر تھا۔ جیسا کہ اس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے، اس کے دو مقصد تھے”منکرین ‘‘ سے جنگ کرنا اور ان کی دولت لوٹنا۔‘‘ بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے یا غلام بنائے گئے اور شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ تیمور جلد ہی ہندوستان سے بڑی لوٹ مار کرکے لوٹ گیا اور پیچھے صرف درد و غم رہ گیا۔ اس کے نتیجے میں لودھی ابھر کر سامنے آئے اور دہلی سلطنت کی آخری خاندانی حکومت قائم کی۔ تاہم، اس وقت تک ہندوستان کے اندر سے دوسری ریاستوں اور راجواڑوں کی بڑھتی ہوئی مزاحمت کے پیش نظر ان کا علاقہ کافی محدود ہو چکا تھا۔ (دیکھیں شکل 2.3)
دہلی سلطنت کے خلاف مزاحمت (Resistance to the Delhi Sultanate)
شکل2.8: ایک مجسمہ جس میں نرسمہ دیو اول کو اس کے تخت پر بٹھایا گیا تھا، جس کے چاروں طرف حاضرین اور موسیقار ہیں۔
اپنی پوری حکمرانی کے دوران، دہلی سلطنت کو کئی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔جب کہ بہت سی سلطنتیں اس کے جال میں پھنس گئیں، یہ کلینگ کی مشرقی گنگا بادشاہت (شکل 2.3 دیکھیں)کو شکست دینے میں ناکام رہی، جس میں موجودہ اڈیشہ، بنگال اور آندھرا پردیش کے کچھ حصے شامل تھے۔ 13ویں صدی کے وسط میں اس کے حکمرانوں میں سے ایک، نرسمہ دیو اول (جس کا اِملا نرسنگھ دیو اول بھی ہے)، فوجی طاقت اور ثقافتی شان و شوکت کےلیے مشہور تھے۔ سلطنت کے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کے علاوہ اس نے دہلی سلطنت کے بنگال کے گورنر کو شکست دی۔ مزید ان فتوحات کی یاد میں، اس نے کونارک (موجودہ اڈیشہ) میں مشہور سوریہ مندر تعمیر کیا۔
آئیے غور و فکر کریں
تغلقوں کے زمانے میں، مسونوری نائکوں، تیلگو سرداروں نے خطے کے مزید 75 سرداروں کو اکٹھا کیا، ایک وفاق تشکیل دیا جس نے پہلے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو فتح کیا اور پھر دہلی سلطنت کی افواج کو شکست دی اور محمد بن تغلق کی فوج کووارنگل(موجودہ تلنگانہ )سے تقریباً 1330-1336میں نکال دیا۔ کیا آپ کے خیال میں اُس وقت 75 لیڈروں کو یکجا کرنا آسان کام تھا؟
ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ علاؤالدین، جنوب کی مشہور دولت سے متاثر ہوکر اس کی طرف بڑھا۔ اس وقت، ہوئے سل حکمرانوں کی جنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں (زیادہ تر موجودہ کرناٹک، شکل 2.3 دیکھیں) پر حکومت تھی جنھوں نے دہلی سلطنت کے کئی حملوں کو روک دیا اور جنوب میں واحد آزاد مملکت کے طورپر قائم رہی۔ تاہم، ان حملوں اور اندرونی کشمکش سے کمزور ہو کر ہوئے سل سلطنت میں زوال آیا اور 14ویں صدی کے وسط میں وجے نگر سلطنت میں شامل ہو گیا۔(نیچے دیکھیں)
شکل2.9: ہوئے سل نے شاندار مندر تعمیر کیے، مثال کے طور پر بیلور (یہ تصویر) اور ہیلیبیڈو
اسے دیکھنا نہ بھولیں
شکل 2.9 میں مجسمہ ہوئے سل( Hoysalas )کے نشان کے پیچھے کی کہانی بیان کرتا ہے۔ کنڑ لوک کہانیوں کے مطابق سل، ایک نوجوان اپنے گرو کو بچانے کے لیے ایک شیر سے لڑا تھا۔جس کی وجہ سے اس خاندان کا نام ’ہوئے (حملہ) ! سل‘ رکھا گیا۔
دہلی سلطنت کو کئی آزاد علاقائی سلطنتوں کے ظہور سے بغاوتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر، بہمنی سلطنت نے 14ویں صدی کے وسط میں عروج حاصل کیا اور کچھ عرصے کے لیے دکن کے بیش تر حصے پر قبضہ کر لیا۔ گجرات، بنگال اور دیگر خطوں میں بھی طاقت ور سلطنتیں ابھریں، جس کے نتیجے میں پیچیدہ معاہدے اورمسلسل جنگیں ہوئیں۔ راجستھان کے کچھ حصے بھی دہلی سلطنت کی دسترس سے باہر رہے۔ 15ویں صدی میں اسے میواڑ سلطنت کے حکمران رانا کمبھا کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس نے بعد کے سلاطین کے حملوں کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا۔
رانا (Rana):
یہ ایک خطاب ہے جو اکثر راجپوت حکمرانوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
شکل2.10: اراولی کی پہاڑیوں میں واقع کمبھل گڑھ قلعے کا منظر
اسے دیکھنا نہ بھولیں
کمبھل گڑھ قلعہ (شکل 2.10) رانا کمبھا نے 15 ویں صدی میں اراولی کی پہاڑیوں میں تعمیر کیا تھا اور وہ ممتاز راجپوت ریاست میواڑ (موجودہ راجستھان کے وسطی اور جنوبی حصوں میں) کے حکمرانوں کےمضبوط گڑھ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جنگلات اور کھڑی ڈھلانوں سے گھرا ہوا یہ قلعہ اپنی 36 کلومیٹر لمبی دیوار کے لیے مشہور ہے، جو دنیا کی سب سے طویل مسلسل دیواروں میں سے ایک ہے۔
آئیے معلوم کریں
آپ کے خیال میں قرون وسطیٰ کے بہت سے قلعوں کے لیے ایسے مقامات کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ فوائد اور نقصانات پر تبادلۂ خیال کریں۔ (اشارہ: حکمت عملی،حفاظتی بندوبست،کمزوری وغیرہ کے مسائل پرغورکریں)
وجے نگر سلطنت
جب دہلی سلطنت سیاسی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہوئی تو جنوب میں طاقت کا ایک نیا مرکز ابھرکر سامنے آیا۔ 14ویں صدی میں، دو بھائیوں، ہری ہراور بوکا، جنھوں نے ابتدائی طور پر محمد بن تغلق کے ماتحت گورنر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں، بالآخر دہلی کے اختیارات کو مسترد کر دیا، اور ایک خود مختار سلطنت قائم کی جو جنوبی ہندوستان میں ایک اہم قوت بن گئی اور وجے نگر سلطنت کے طور پر پروان چڑھی۔
شکل2.11: وِجے نگر شہر(موجودہ ہمپی) کے کھنڈرات کا ایک حصہ۔
بڑی عمارت ویروپکش مندر ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
مشہور لوک داستانوں کے مطابق، ہری ہر اور بوکا نے ہمپی (موجودہ کرناٹک میں) میں ایک قابل ذکرنظارہ دیکھا۔ ایک خرگوش پلٹ کر شکاری کتوں کے جھنڈ کا پیچھا کر نے لگا۔ اسے غیرمتوقع ہمت کی علامت سمجھا گیا۔ جب انھوں نے یہ واقعہ اپنے گرو ودیارنیا کو سنایا تو انھوں نے اسے استقامت اور بہادری کی علامت سے تعبیر کیا اور انھیں اسی جگہ اپنا دارالحکومت قائم کرنے کا مشورہ دیا۔
وجے نگر سلطنت کے شمال میں (شکل 2.12 دیکھیں) بہمنی سلطنت ایک بڑی حریف تھی۔ یہ بالآخر پانچ آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو گئی جسے ’دکن سلاطین‘ کہا جاتا ہے —بیجاپور، گولکنڈہ، برار، احمد نگر اور بیدر— ہر ایک پر سابق گورنروں یا طرف داروں کی حکومت تھی جنھوں نے خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ وجے نگر کے حکمرانوں نے پہلے دو سلطنتوں کے ساتھ ساتھ مشرق میں اڈیشہ کے گج پتی حکمرانوں سے بھی جنگ کی۔
آئیے غور و فکر کریں
کیا آپ نے ’گج پتی‘ جیسے خطاب میں پتی کی اصطلاح کو دیکھا ہے؟ پتی کا مطلب ‘مالک’ یا ‘ماسٹر’ہے اور اسے عام طور پر اس دور کے بہت سے حکمراں خاندانوں نے طاقت اوراونچے قد کی علامت کے لیے استعمال کیا تھا۔ وجے نگر کے بادشاہوں کو ‘نر پتی’، بہمنی سلطنت کے حکمرانوں کو ‘اشوپتی’ اور مراٹھا حکمرانوں کو ’چھترپتی‘ کہا جاتا تھا — ہر خطاب بادشاہی اور طاقت کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان تینوں اصطلاحات کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
شکل2.12: دکن میں موجود مملکتیں اور وِجے نگر سلطنت
کرشن دیورائے (Krishnadevaraya)
16 ویں صدی میں وجے نگر سلطنت اپنے مشہور حکمراں، کرشن دیورائے کے دور میں عروج پر پہنچی، جس نے دکن میں سلطنت کا تسلط بڑھایا اور اُسے محفوظ کیا۔ اس کے دورِ حکومت میں سلطنت نے فوجی طاقت اور ثقافتی نشأۃثانیہ دونوں حاصل کیے۔ اس نے سنسکرت، تیلگو اور کنڑ میں شاعروں اور دانش وروں کی سرپرستی کی۔ انھوں نے خود تمل شاعر سنت اندال کی کہانی پر تیلگو میں ایک منظوم داستان، آمکت مالیہ دہ تصنیف کی۔ داستان کا ایک حصہ راج نیتی (‘شاہی پالیسی’) سے متعلق ہے جہاں اس نے‘ بہتر نظم و نسق’کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کرشن دیورائے نے بہت سے مندروں کو مالی امداد دی۔ان میں آندھرا پردیش کے تروپتی اور اس کے اپنے دارالحکومت وجے نگر میں وٹھّل مندرشامل ہیں۔ وجے نگر بہت سے عظیم الشان مندر، محلات اور دیگر عمارتوں کی وجہ سے مشہورتھا۔
شکل 2.13: وٹھل مندر کا مہامنڈپ(عظیم ایوان)؛ فن تعمیر کی عظمت اور پیچیدگی پر غور کریں، خاص طور پر باریکی سے تراشے ہوئے یک سنگی ستون؛ جب انھیں تھپکا جاتا ہے تو ان کے چھوٹے ستونوں سے موسیقی کی الگ الگ آوازیں نکلتی ہیں— اس لیے ان کا نام موسیقی ستون ہے!
اسے دیکھنا نہ بھولیں
غیر ملکی سیاحوں نے تجارت کے لیے وجے نگر کا دورہ کیا۔ خاص طور پر پرتگالی سیاحوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ وہ گھوڑے بیچنے آتے تھے اور بادشاہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ جا کر ان قیمتی گھوڑوں کو دشمن سلطنتوں کو بیچ دیں۔
ان میں سے ایک، ڈومنگو پیس نے دارالحکومت وجے نگرمیں اپنے قیام کا ایک طویل اور تفصیلی ریکارڈ چھوڑاہے۔ ایک اقتباس: ’’یہ شہر مجھے روم جیسا بڑا اور دیکھنے میں بہت خوب صورت لگا؛ اس کے اندر درختوں کے بہت سے باغات ہیں، گھروں میں باغات ہیں اور اس کے بیچوں بیچ پانی کے بہت سے چشمےہیں اور جگہ جگہ جھیلیں ہیں... اس شہر میں لوگ بے شمار ہیں... یہ دنیا کا بہترین شہر ہے ... سڑکوں اور بازاروں میں بار بردار بیل بھرے پڑے ہیں... یعنی آپ کو جو بھی چاہیے ہر چیز کی فراوانی ہے۔‘‘
شکل 2.14: وٹھل مندر کی ایک دیوار
آئیے معلوم کریں
شکل 2.14 میں آپ کن عناصر کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ وہ اس وقت کی حالات زندگی کے بارے میں آپ کو کیا بتاتے ہیں؟ (اشارہ: ہتھیاروں،جانوروں،سرگرمیوں کامشاہدہ کریں)
اپنے پڑوسیوں کے خلاف کئی جنگیں جیتنے کے بعدکرشن دیورائے کا 1529 میں بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ 1565 میں دکن سلاطین نے ایک اتحاد تشکیل دیا اور تالی کوٹ کی جنگ میں کرشن دیورائے کے داماد، رامارائے کی قیادت میں وجے نگر کی افواج کو شکست دی۔ شہر کو کئی مہینوں تک لوٹا گیا۔ مکانات، دکانیں، عمارتیں، محلات اور اس کے بیش تر مندر تباہ ہو گئے اور اس کی زیادہ تر شہری آبادی کا قتل عام ہوا۔ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں بکھر گئی جس پر نائکوں کی حکومت تھی، جو سابق فوجی گورنر تھے۔ یہ سلطنت 17ویں صدی کے وسط میں ختم ہو گئی۔
شکل2.15: پانی پت کی جنگ جیسا کہ بابرنامہ کے ایک صفحے پر دکھایا گیا ہے۔ توپوں کے استعمال پر غور کریں۔
مغل
جب دہلی سلطنت کمزور ہوئی،تو بابر، ایک ترک-منگول حکمراں اور فوجی مدبر، جسے سمرقند (جدید دور کے ازبکستان) سے نکال باہر کر دیا گیا تھا، اس کی نظر ہندوستان پر پڑی۔ تیمور ی خاندان سے تعلق رکھنےوالے بابر نے 1526 میں پانی پت میں ابراہیم لودھی کو شکست دی، جسے بعد میں ’پانی پت کی پہلی جنگ‘ کہا گیا۔ اس نے بارود، پیدل فوج اور توڑے دار بندوقوں پر بہت زیادہ انحصار کیا، جسے حال ہی میں ہندوستان میں جنگ میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس شکست نے دہلی کی آخری سلطنت کا خاتمہ کر دیااور بابرکے دہلی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے ساتھ مغل سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔
بابر اور ہندوستان
بابر نے اس عظیم تاریخی اہمیت پر ایک شان دار خودنوشت سوانح، بابرنامہ (’بابر کی یادداشتیں‘) لکھی۔ اس میں وہ مہذب اور دانش مند نظر آنے کے ساتھ فن تعمیر، شاعری، جانوروں (خاص طور پر پرندے، جن میں سے بہتوں کی تفصیل بھی درج کی ہے) اور نباتات (خاص طور پر پھل دار درخت)کے بارے میں متجسس معلوم ہوتا ہے۔ لیکن وہ ایک سفاک اور بے رحم فاتح بھی تھا، جس نے شہروں کی پوری آبادی کو قتل کیا، عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا اور لوٹے ہوئے شہروں میں قتل کیے گئے لوگوں کی ’کھوپڑیوں کے مینار‘ کھڑے کرنے میں فخر محسوس کیا۔
بابر وسط ایشیا کی پرانی یادوں کا اسیر تھا اور وہ ہندوستان کو ’بعض پر کشش چیزوں والا ملک‘ سمجھتا تھا۔ ساتھ ہی اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ’’ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اور اس میں سونے اور چاندی کے ذخائر موجود ہیں۔ برسات کے موسم میں ہوا بہت اچھی ہوتی ہے، صحت مندی اور دلکشی کے لیے اس سے آگے نہیں جانا چاہیے۔...ہندوستان میں بے شمار کاریگر اور ہر طرح کے کام کرنے والے ہیں۔‘‘ غالباً آخری وجوہات، خصوصاًہندوستان کی دولت کی وجہ سے اس نے وسط ایشیا واپس جانے کے بجائے ہندوستان میں ہی رہنے اور اپنی سلطنت بنانے کا فیصلہ کیا۔
آئیےغوروفکرکریں
ہندوستان کےبارے میں بابر کے کون سے تاثرات آپ کو اہم لگتے ہیں؟ گروپوں میں بحث کریں۔
1530 میں بابر کی موت کے بعد، اس کے بیٹے ہمایوں نے سلطنت کو متحد کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایک طاقت ور افغان رہنما، شیر شاہ سوری نے شمالی ہندوستان کے بڑے حصوں پر سوری سلطنت قائم کی اور کئی دیرپا اصلاحات متعارف کرائیں۔ تاہم، سلطنت قلیل مدتی رہی کیوں کہ ہمایوں نے جلد ہی کھوئی ہوئی زمین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
ایسا ہونے سے پہلے، ہیمو (یا ہیمو)آخری سوری حکمرانوں میں سے ایک ماہر فوجی کمانڈر اور وزیر اعلیٰ (’وزیر‘) نے دہلی پر قبضہ کر لیا اور ہیم چندر وکرمادتیہ کے شاہی نام سے مختصر مدت کے لیے اس پر حکومت کی۔ کچھ فوجی کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود وہ میدان جنگ (پانی پت کی دوسری جنگ) میں بابر کے پوتے اکبر کا سامنا کرتے ہوئےزخمی ہو گیا ۔آخرکار وہ پکڑا گیا، ہیمو کو اکبر کے پاس لایا گیا، جس نے اس کا سر قلم کر دیا۔ اکبر نے جلد ہی مغلوں کے لیے دہلی پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
اکبر
ہمایوں کی حادثاتی موت کے بعداکبر کو 13 سال کی عمر میں شہنشاہ قرار دیا گیا، اکبر پورے برصغیر کو مغلوں کے زیر تسلط لانے کے لیے نکلا۔ اس کا دور حکومت سفاکیت اور رواداری کا امتزاج تھا، جس کی تشکیل عزائم اور حکمت عملی سے ہوئی تھی۔
ابتدائی فتوحاتی مہم میں اپنے پیش روؤں کی بہت سی مثالوں کی تقلید کرتے ہوئے، اس نے قلعہ چتور (یا راجستھان میں چتور گڑھ) پر کوئی رحم نہیں کیا، جس کا اس نے راجپوت سپاہیوں کی پرعزم مزاحمت کے سامنے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیا۔ اس نے مغل فوج کو بھاری نقصان پہنچایا، لیکن، بالآخر قلعہ ٹوٹ گیا، بڑی تعداد میں لوگ لڑتے ہوئے مارے گئے، جب کہ سیکڑوں خواتین نےجوہر(باکس میں دیکھیں) کا ارتکاب کیا۔ اکبر نے تقریباً 30,000 شہریوں کے قتل عام کا حکم دیا، اور بچ جانے والی خواتین اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اکبر اس وقت 25 سال کا تھا اور اس نے فتح کا پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ ’’ہم نے منکرین کے کئی قلعوں اور قصبوں پر قبضہ کر کے وہاں اسلام قائم کر لیا ہے، اپنی خوں خوار تلوار کی مدد سے ان کے ذہنوں سے عدم اعتقاد کی نشانیاں مٹا دی ہیں اور ان جگہوں پر مندروں کو بھی مسمار کر دیا ہے۔‘‘
جوہر کیا ہے؟
جب ترک یا مغل فوجوں نے کسی علاقے کو فتح کیا تو وہ اکثر عورتوں کو غلام بنا کر لے جاتے یا ان کے ساتھ زیادتی کرتے۔ راجپوت خواتین کی گرفتاری اور غلامی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگ میں کودنے کی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔ اس جوہرکو آخری مزاحمت کا ایک بہادرانہ عمل اور کسی کی عزت بچانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح، جب بالآخر اکبر چتوڑ گڑھ کے قلعے میں داخل ہوا تو سینکڑوں راجپوت خواتین نے اپنی ملکہ اور رئیس خواتین کی قیادت میں جوہرکا اہتمام کیا۔
اکبر نے اپنے اس خیال میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کی: ’’ایک بادشاہ کو ہمیشہ فتح کا ارادہ رکھنا چاہیے، ورنہ اس کے دشمن اس کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں گے۔‘‘ جیسے جیسے اس کی سلطنت بڑھتی گئی (شکل2.16)، اس نے اسے مستحکم کرنے کے لیے سیاسی حکمت عملیوں کو تیزی سے استعمال کیا۔ اُس نے پڑوسی ریاستوں کی شہزادیوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ کیا۔ راجپوت اور علاقائی رہنماؤں کا اپنے دربار میں خیرمقدم کیا، جزیہ کو ختم کیا، اور’صلحِ کل‘ یا ‘تمام مذاہب کے ساتھ رواداری’ کے اصول کو فروغ دیا۔ بین المذاہب مکالمے، اعلیٰ عہدوں پر ہندو حکام کی تقرری اور دیگر جرأت مندانہ اصلاحات کے ذریعے، اکبر نے اپنی سلطنت کو وسعت دی اور مستحکم کیا،
یہاں تک کہ بہت سے راجپوت حکمرانوں کی حمایت حاصل کی۔ اس کے درباری مؤرخ اور سوانح نگار ابوالفضل نے اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’پہلے میں نے اپنے عقیدے کے مطابق مردوں کو ستایا اور اسے اسلام سمجھا۔جیسے جیسے میری سمجھ میں اضافہ ہوا، میں شرم سے مغلوب ہو گیا۔ خود مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کو ایسا بننے پر مجبور کرنا غیر مناسب (یعنی نازیبا)تھا۔ مجبوری میں مذہب تبدیل کرنے والوں (یعنی تبدیل شدہ لوگوں)سے کس استقامت کی توقع کی جاسکتی ہے؟‘‘
شکل 2.16: مختلف ادوار میں مغل سلطنت اور علاقائی طاقتوں کے عروج کا منظر
اس کا طویل دور حکومت تقریباً 50 سال جاری رہا (1556 سے لے کر 1605 میں اس کی موت تک)؛ جب کہ اس کا درمیانی دور نسبتاً پرامن تھا، آخری 15 سالوں میں کشمیر، سندھ، دکن اور افغانستان میں تازہ فوجی مہمات شامل تھیں۔
شکل2.17: اکبر کو اس کے دربار میں دانش وروں کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں دو جیسوئٹ (سیاہ لباس میں ملبوس) بھی شامل ہیں۔
آئیے غوروفکرکریں
آپ کے خیال میں اکبر نے اپنی سلطنت کو بڑھانے کے لیے مختلف حکمت عملی کیوں اختیار کی، جب کہ دہلی کے پہلے حکمران زیادہ تر فوجی طاقت پر انحصار کرتے تھے۔
آئیے معلوم کریں
شکل 2.3، 2.12 اور 2.16 میں نقشوں کا موازنہ کریں۔ آپ کو ان میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟ کون سی ’بازتشکیل ‘آپ کے خیال میں سامنے آئی ہیں؟
شکل2.18: فتح پور سکری میں پانج منزلہ ’پنچ محل‘ واقع ہے۔فتح پور سکری ایک شہر ہے جسے اکبر نے موجودہ آگرہ کے قریب بسایا تھا۔
اکبر ناخواندہ تھا، لیکن اس کے باوجود وہ فارسی اور ہندوستانی متون کو پڑھنے اور سمجھنے کا خواہش مند تھا۔ اس نے کلاسیکی ہندوستانی فکر و فلسفہ میں گہری دل چسپی دکھائی اور اکثر علما کو اپنے دربار میں مدعو کرتا (شکل 2.17)۔ اکبر نے فتح پور سیکری میں ایک ’’دارالترجمہ‘‘ قائم کیا، جہاں سنسکرت کی اہم کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ ان میں مہابھارت (جسے فارسی میں رزم نامہ یا رزم کی کتاب کہا گیا) ، رامائن (176 خوب صورت منی ایچرپینٹنگ سے مزین )، بھگوت گیتا اور پنچ تنتر شامل ہیں۔
اکبر کے بیٹے جہانگیر نے بھی آرٹ اور فنِ تعمیر سے گہری وابستگی ظاہر کی اور سلطنت کو دکن تک وسیع کرنے کی کوشش کی۔ اس کےبیٹے شاہ جہاں نے کئی بغاوتوں کا سامنا کیا۔آگرہ میں تاج محل کی تعمیر کی وجہ سے اسے یاد کیا جاتا ہے۔ تاج محل کا شمار دنیا کے موجودہ عظیم تعمیراتی عجائبات میں کیا جاتا ہے۔ مغل دور آرٹ اور فنِ تعمیر کے عروج کی علامت تھا، جس کی مثال دہلی میں ہمایوں کا مقبرہ اور دہلی و آگرہ میں قائم لال قلعے ہیں۔ اسی دور میں ہندوستان کے دیگر کلاسیکی فنون، خصوصاً موسیقی نے بھی ترقی کی۔ خطاطی اور منی ایچر پینٹنگ کے قابلِ ذکر نمونے بھی اسی زمانے میں سامنے آئے۔
شکل2.19: ایک منی ایچر پینٹنگ، جس میں رامائن کے فارسی ترجمے کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں رام کے اُس مشہور واقعے کو دکھایا گیا ہے، جب وہ سونے کے ہرن کا پیچھا کر رہے ہیں۔
اورنگ زیب
جیسا کہ ہم سلطنتِ دہلی کے دور میں بار بار ہونے والے خونریز جانشینی کے جھگڑوں کا ذکر کر چکے ہیں، ویسا ہی منظر شاہ جہاں کی جانشینی کے وقت بھی دیکھنے میں آیا۔ شاہ جہاں 1657میں بیمار ہوا تو اس کی خواہش تھی کہ تخت اس کے بڑے بیٹے دارا شکوہ کے حصے میں آئے، لیکن دارا شکوہ کے چھوٹے بھائی اورنگ زیب نے اس کی مخالفت کی۔اورنگ زیب نے کئی جنگوں میں اسے شکست دی اور آخر کاراس کو قتل کر کے اس کا کٹا ہوا سر اپنے والد کو پیش کیا۔ اس نے دیگردوبھائیوں کو بھی راستے سے ہٹایا۔ایک کو گرفتار کر کے قتل کرایا اور دوسرے کوجلا وطن کر دیا۔ اپنی حکومت کو مزید چیلنج سے محفوظ رکھنے کے لیے اس نے اپنے والد شاہ جہاں کو آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا، جہاں وہ اپنی موت تک قید ہی میں رہے۔ 1658 میں اورنگ زیب نے خود کو بادشاہ قرار دیا اور لقب ’عالم گیر‘یعنی ‘دنیا کو فتح کرنے والا’ اختیار کیا۔ اس کی حکومت تقریباً اننچاس (49) سال تک قائم رہی۔
آئیےغوروفکرکریں
ہم نے اوپر دیکھا کہ دہلی کے سلاطین کی حکمرانی اوسطاً نو سال رہی، جب کہ اورنگ زیب تک کے مغل بادشاہوں کی اوسط مدتِ حکومت ستائیس سال بنتی ہے۔ اگر ہم تمام مغل حکمرانوں کی مدت حکومت پر غور کریں تو یہ19ویں صدی کے خاتمےتک اوسطاً 16 سال رہی۔حکمرانی کی مختلف مدتوں سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
اورنگ زیب فوجی مہارت رکھنے والا حکمراں تھا۔ اس نے بہت سی مہمات چلائیں، خاص طور جنوبی حصے کو فتح کیا۔ اس کے دورِ حکومت میں مغل سلطنت کی سب سے زیادہ توسیع ہوئی۔(شکل 2.16 دیکھیں)، لیکن ساتھ ہی اسے بار بار بڑی بغاوتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم آگے بات کریں گے۔ اپنی زندگی کے آخری پچیس سال اس نے زیادہ تر دکن کی مسلسل جنگوں میں گذارے۔ ان مہمات کے لیے بڑی فوجوں کو برقرار رکھنے کے باعث سلطنت کا خزانہ خالی ہوتا گیا اور انتظامی ڈھانچہ کمزور پڑنے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ 1707 میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت تیزی سے زوال پذیر ہو گئی۔
اورنگ زیب ایک سخت مذہبی سنی مسلمان تھا۔ اس نے نہایت سادہ اور مذہبی زندگی گذاری اور اکبر کے برعکس تمام مذہبی رسومات اور تقریبات کی تقلیدکی ۔ رفتہ رفتہ اس نے اپنے دربار میں موسیقی اور رقص جیسی غیر اسلامی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ اسی طرح اس نے غیر مسلموں پر جزیہ ٹیکس اورہندوؤں پر تیرتھ یاترا ٹیکس دوبارہ نافذ کر دیا۔( جنھیں اکبر نے ختم کر دیا تھا۔)
شکل2.20: دربار میں اورنگ زیب، ایک باز ہاتھ میں لیے ہوئے۔ اس کے سامنے اس کا ایک بیٹا کھڑا ہے
(17ویں صدی کی ایک پینٹنگ)
بعض اسکالروں کا خیال ہے کہ اورنگ زیب کے اقدامات کے پیچھے اصل مقصد سیاسی تھا، یعنی سلطنت پر اپنی گرفت کو قائم رکھنا اور اسے مضبوط بنانا۔ وہ اس بات کی مثال دیتے ہیں کہ بعض مندروں کو مالی امداد دی گئی اور ان کے تحفظ کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں۔ تاہم اورنگ زیب کے کچھ فرامین (احکام) اس کے مذہبی رجحانات کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 1669 میں اس نے صوبوں کے گورنروں کو ہدایت دی کہ ’’منکرین کے مدرسے اور مندر منہدم کر دیے جائیں اور ان کی تعلیمات اور مذہبی رسومات ختم کر دی جائیں۔‘‘اس حکم کے نتیجے میں بنارس (وارانسی)، متھرا، سومناتھ اور دیگر کئی مقامات کے مندر، نیز جین مندروں اور سکھوں کے گرودواروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اورنگ زیب کی پالیسیوں کا یہ پہلو دوسرے فرقوں کے مسلمانوں، صوفیوں اور زرتشتوں یعنی پارسیوں کے ساتھ سخت رویّے میں بھی جھلکتا ہے۔ (ہندوستان میں پارسیوں کا مذہب اصل میں فارس سے آیا ہے۔)
آئیے معلوم کریں
اورنگ زیب نے اپنے دو بیٹوں کے نام اپنے آخری خطوط میں لکھا: ’’میں اکیلا آیا تھا اور اکیلا ہی جا رہا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم میں کون ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ میں نے ملک اور عوام کے لیے اچھا کام نہیں کیا اور آگے کے لیے کوئی امید نظر نہیں آتی۔میں (زندگی میں) بے بس رہا اور بے بسی کے عالم میں واپس جا رہا ہوں۔‘‘یہ الفاظ ہمیں اورنگ زیب کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟ آپ ان کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں؟
آئیے غور و فکر کریں
ماضی میں کئی مذکورہ بالا حملہ آوروں اور حکمرانوں نے عوام کے ساتھ بےرحمانہ سلوک کیا اوراُن پر مظالم ڈھائے۔اور بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ صفحہ 20 پر “تاریخ کے تاریک ابواب” کے نوٹ میں بتایا گیا ہے، یہ سب ماضی کے لوگوں کے بارے میں ہے، آج کے لوگوں کے بارے میں نہیں۔ ہمیں ماضی کے حقائق کو جاننا چاہیے اور مظالم کا نشانہ بننے والوں کواحترام اور یاد رکھنے کے قابل سمجھنا چاہیے۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ ہم آج کے لوگ، صدیوں پہلے کے افراد کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
مغلوں کے خلاف مزاحمت
اب ہم کچھ بڑی بغاوتوں کا ذکر کریں گے جنھوں نے مغل اقتدار کو کمزور کیا (اگلے باب میں مراٹھوں کی تحریک کو خاص طور پر شامل کیا جائے گا)۔
صدیوں سے بہت سی کاشت کار برادریوں نے شدید استحصال کے خلاف بغاوت کی۔ مثال کے طور پر، 17ویں صدی میں جاٹ کسان (موجودہ مغربی اتر پردیش، ہریانہ اور مشرقی راجستھان میں) ایک مغل افسر کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اس افسر کو مار ڈالا اور اس کے بعد کی لڑائی میں 20 ہزار آدمیوں نے مغل فوج کا مقابلہ کیا۔ اگرچہ وہ بہادری سے لڑے لیکن ان کے جاٹ سردار کے مارے جانے کے بعد بغاوت دبا دی گئی۔
اسی طرح بہت سے قبائلی گروہ جیسے بھیل، گونڈ، سنتھال اور کوچ بھی اپنے علاقوں پر قبضے یا ان پر ٹیکس لگانے کی کوششوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان میں سے کچھ کو شکست دے کر مغل سلطنت میں شامل کر لیا گیا جب کہ کچھ آہستہ آہستہ مغل مملکت میں ضم ہو گئے۔البتہ کچھ نے —خاص طور پر جنگلات، پہاڑی علاقوں یا دور درازکے علاقوں میں رہنے والوں نے — کسی حد تک اپنی آزادی برقرار رکھی۔
رانی درگاوتی کو گڑھا مملکت (جو وسطی ہندوستان کی گونڈ ریاستوں میں سے ایک تھی) کی بہادر ملکہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عقل مندی سے حکومت کی اور اپنی ریاست کو خوش حال بنایا۔ ان کے پاس 20 ہزار سپاہیوں اور ایک ہزار ہاتھیوں پر مشتمل فوج تھی۔ انھیں کے ذریعے انھوں نے کئی حملے ناکام کیے۔1564 میں جب اکبر کے بھیجے ہوئے ایک جرنیل نے ان کی ریاست پر حملہ کیا تو دشمن کی فوج کہیں زیادہ بڑی تھی۔ اس کے باوجود رانی درگاوتی نے اپنی فوج کی قیادت کی اور بہادری سے لڑیں۔ وہ زخمی ہو گئیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے میدانِ جنگ ہی میں جان دے دی۔ اس وقت ان کی عمر صرف 40 برس تھی۔ ان کی قربانی علاقائی فخر اور مزاحمت کی علامت بن گئی۔ آج بھی وہ ہندوستانی تاریخ میں ایک بہادر حکمراں کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔
شکل2.21: ایک آرٹسٹ کی رانی درگاوتی کے خاکہ کی فن کارا نہ پیش کش
راجپوتوں کا عروج
شمال مغربی ہندوستان میں اپنی جغرافیائی حیثیت اور فخریہ روایات کی وجہ سے (جو انھیں پہلے کے خاندانوں مثلاً پرتیہار سے ملی تھیں، جنھوں نے چند صدیوں قبل سندھ پر عرب حملوں کے خلاف مزاحمت کی تھی)، راجپوت اکثر بیرونی حملہ آوروں سے لڑتے تھے۔ خلجیوں کی فتوحات کے بعد بھی انھوں نے اپنی ریاستیں دوبارہ قائم کیں۔ اس عمل میں دو بڑے قبیلےمیواڑ اور مارواڑ علاقوں میں ابھرے۔راجپوت حکمرانوں کی بہادری کی کہانیاں آج بھی سنائی جاتی ہیں، خاص طور پر مشہور گیتوں کے ذریعے۔ ان قبیلوں نے کئی عظیم حکمراں پیدا کیے۔ ان میں ہم پہلے رانا کمبھا سے مل چکے ہیں۔رانا سانگا (16ویں صدی) نے کئی راجپوت گھرانوں کو متحد کیا۔ انھوں نے سلطانوں کے خلاف کئی جنگیں جیتیں، لیکن بالآخر خانوا کی جنگ میں بابر سے شکست کھائی۔
شکل 2.23: ایک آرٹسٹ کی ہلدی گھاٹی کی لڑائی کی فن کارانہ پیش کش (اودے پور محل سے)
میواڑ کے حکمراں مہارانا پرتاپ کو اپنے پیش روؤں سے ایک کمزور ریاست ملی تھی، لیکن انھوں نے مغل سلطنت کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا اور راجپوت مزاحمت کی علامت بن گئے۔ 1576 میں اراولی کی پہاڑیوں میں ہلدی گھاٹی کے مقام پر ان کی فوج کا سامنا مغلوں سے ہوا ، (شکل 2.23)۔ اگرچہ مغل فوج زیادہ طاقت ور تھی، مگر مہارانا پرتاپ بچ نکلے۔ بعد میں وہ اراولی کی پہاڑیوں سے برسوں تک مغلوں کے خلاف گوریلا جنگ کرتے رہے اوراپنی آزادی پر اٹل رہتےہوئے سخت حالات میں زندگی گذاری ۔یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ مہارانا پرتاپ کو بھیل قبیلے کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ بھیل نہ صرف تیر اندازوں کے طور پر ان کی فوج میں شامل تھے بلکہ علاقے کے بارے میں اپنا قیمتی علم بھی فراہم کرتے تھے۔ انھیں خدمات کی وجہ سے میواڑ کی فوجی روایت میں بھیل ایک معزز مقام رکھتے ہیں، جیسا کہ میواڑ کے نشان سے ظاہر ہے ۔ (شکل 2.22)
گوریلا جنگی طریقۂ کار
(Guerrill warfare):
یہ لڑائی کا ایک انداز ہے جس میں چھوٹے گروہ، جو علاقے کے دشوار جغرافیائی حالات سے واقف ہوتے ہیں، اچانک حملے اور کمین گاہوں کے ذریعے بڑی فوجوں کو شکست دیتے ہیں۔
شکل 2.22: میواڑ کی مہر ، بائیں طرف ایک بھیل جنگجو کے ساتھ
اگرچہ کچھ راجپوت ریاستوں نے آخرکار مغلوں سے اتحاد کر لیا، کبھی سفارت کاری کے ذریعے اور کبھی شادی کے رشتوں کے ذریعے — لیکن خاص طور پر میواڑ نے مغلوں کی بالادستی تسلیم نہیں کی۔ اورنگ زیب کے زمانے میں کئی راجپوت سرداروں نے بغاوت کی، جن میں مارواڑ کے دُرگا داس راٹھور بھی شامل تھے۔ انھوں نے جودھپور کی آزادی کے تحفظ کی لڑائی لڑی۔ اس طرح مغلوں کی حکومت راجستھان کے کچھ حصوں تک ہی محدود رہی۔
اہوم (Ahoms)
13ویں صدی میں اہوم قوم موجودہ میانمار سے وادیِ برہم پتر کی طرف ہجرت کر کے آئے اوراہوم سلطنت قائم کی۔
دہلی سلطنت اور مغل دونوں ادوار میں اہوم حکمرانوں نے شمال مشرقی علاقوں میں بیرونی حملہ آوروں کی توسیع کی کوششوں کے خلاف سخت مزاحمت کی۔ ان کا منفردپائیک نظام(Paik system) یہ تھا کہ ہر تندرست شخص زمین کے بدلے ریاست کو مزدوری یا فوجی خدمت فراہم کرتا تھا۔ اس نظام نے اہوم حکمرانوں کو عوامی بنیادی سہولتیں بنانے اور مستقل فوج کے بغیر بھی ایک مضبوط جنگی قوت رکھنے میں مدد دی۔
وقت کے ساتھ اہوم لوگوں نے مقامی ثقافت کو اپنایا، زراعت کو فروغ دیا، مختلف مذاہب کی حوصلہ افزائی کی اور آسام کی شاندار روایات میں اپنا تعاون دیا۔
آئیے معلوم کریں
بحث کریں کہ پائیک نظام نے اہوم ریاست کے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر کیسے اثر ڈالا؟ اس نظام کے کیا فائدے اور کیا نقصانات تھے؟ اور کس طرح اس نے بادشاہ کی فوج اور معیشت کو سہارا دیا۔
17ویں صدی میں جب اورنگ زیب نے مغل فوجیں بھیج کر عارضی طور پر اہوم کے دارالحکومت گڑھ گاؤں پر قبضہ کر لیا، تو اہوموں نے گھنے جنگلات، پہاڑیوں اور دریاؤں کے اپنے علم کو استعمال کیا۔ انھوں نے گوریلا جنگ کی حکمت عملی سے مغلوں کو بار بار روکا،حالاں کہ مغلوں کے پاس زیادہ سپاہی اور دریاؤں پر بڑا بیڑا موجود تھا۔سب سے مشہور واقعہ سرائی گھاٹ کی جنگ (1671) ہے، جو دریائے برہم پتر پر موجودہ گوہاٹی کے قریب لڑی گئی۔ اس جنگ میں اہوم جنگی کمانڈر لچیت بورفوکن اور اس کی صرف 10,000 فوج نے، 30,000 پر مشتمل مغل افواج کو شکست دی اور بالآخر اہوم اپنی آزادی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
مغل فوج کے جنرل رام سنگھ نے اہوم سپاہیوں کی ان الفاظ میں تعریف کی: ’’ہر آسامی سپاہی کشتیاں چلانے، تیراندازی کرنے، خندقیں کھودنے اور توپیں چلانے میں ماہر ہے۔ میں نے ہندوستان کے کسی اور حصے میں مہارت کےایسے نمونےنہیں دیکھے۔‘‘
آئیے معلوم کریں
اہوم نے آسام کے دریاؤں، پہاڑیوں اور جنگلات کو کس طرح اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا؟ آپ کے خیال میں جغرافیہ نے ان کی دفاعی حکمتِ عملی اور جنگی تیاریوں میں کس طرح مدد کی؟
شکل2.24: سرائی گھاٹ کی جنگ کی یاد میں نصب ایک تختی، پیش منظر میں اہوم کشتی کے ساتھ (سرائی گھاٹ وار میموریل پارک)۔
شکل2.25: سرائی گھاٹ کی جنگ کے دوران اہوم جنگجوؤں کی عکاسی کرنے والے مجسمے۔
سکھوں کا عروج
15 ویں صدی کےپنجاب میں (جو آج بھارت اور پاکستان میں منقسم ہے) گرو نانک نے مساوات، ہمدردی اور خدا کی وحدانیت (اک اومکار)کا پیغام پھیلایا۔ ان کے پیروکار “سکھ” کہلائے۔ سکھ مت کا آغاز ایک روحانی تحریک کے طور پر ہوا، لیکن بعد کے سکھ گروؤں کو کچھ مغل حکمرانوں کے تحت بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔شہنشاہ جہانگیر کے دور میں گرو ارجن کو باغی شہزادے کی حمایت کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور سخت اذیتوں کے بعد شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد، ان کے بیٹے اور جانشین گرو ہرگوبند نے سکھ برادری کو عسکری تربیت دینا شروع کی اور ایک سکھ فوج منظم کی، جس نے مغل افواج کے خلاف کئی لڑائیاں لڑیں۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
اس باب کے سیاق میں ’پنجاب‘ سے مراد وہ وسیع خطہ ہے جو اب ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم ہے۔
سکھوں کا مقدس صحیفہ گرو گرنتھ صاحب ہے، جسے سب سے پہلے گرو ارجن نے مرتب کیا۔ بعد میں گروتیغ بہادر کے بھجن بھی اس میں شامل کیے گئے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سب کے لیے ایک ہی خدا ہے، جس نے زمین کو دھرم کےگھر کے طورپر قائم کیا ہے اور یہ سکھوں کو سچائی، ہمدردی، عاجزی اورضبطِ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مشہور قول ہے:” سچائی بہت بلند ہے، لیکن اس سے بھی بلند سچی زندگی ہے۔ “
1675 میں کشمیری پنڈت مذہبی جبر سے تحفظ کے لیے گرو تیغ بہادر کے پاس آئے۔ گرو نے ان کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ گرفتار ہونے کے بعد، اورنگ زیب نے انھیں اسلام قبول کرنے کا حکم دیا، لیکن انھوں نے انکار کیا۔ سخت تشدد اور اپنے دو شاگردوں کو اذیت میں مبتلا ہوتے دیکھنے کے باوجود وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔ بالآخر اورنگ زیب کے حکم پر دہلی کے چاندنی چوک میں ان کا سر قلم کر دیا گیا۔اس کے ردعمل میں ان کے بیٹے گرو گوبند سنگھ (دسویں اور آخری گرو) نے1699 میں“خالصہ” قائم کیا۔ یہ ایک عسکری بھائی چارہ تھا جو انصاف، مساوات اور عقیدے کے دفاع کے لیے وقف تھا۔ خالصہ کے ارکان نے مغل افواج کے خلاف کئی معرکے لڑے اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
شکل2.26: گرو گوبند سنگھ کی ایک منی ایچر پینٹنگ
اسے دیکھنا نہ بھولیں
کیا آپ جانتے ہیں کہ دلّی کےمشہور بازار چاندنی چوک میں واقع گرو دوارہ سیس گنج صاحب کی کیا اہمیت ہے؟ سکھ مت میں گرودوارہ عبادت کی جگہ ہے۔یہ گرودوارہ اُس مقام کی یاددلاتا ہے جہاں سکھوں کے نویں گرو،گرو تیغ بہادر جی کا 1675 میں اورنگ زیب کےحکم پر سر قلم کیا گیا تھا۔ اس تاریخی گرودوارے کو سکھ رجمنٹ نے منفرد خراج پیش کیا ہے۔ سکھ رجمنٹ 1979 سے ہر سال صدر جمہوریۂ ہند کے سامنے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں اُسے سلامی پیش کرتی رہی ہے۔ یہ ہندوستانی تاریخ میں ایمان اور ایثار کی طاقت ور علامت کے طور پر قائم ہے۔
آئیے غوروفکرکریں
- آپ کے خیال میں گرو تیغ بہادر نے مذہب تبدیل کرنے کے بجائے ظلم و تشدد کیوں برداشت کیا؟ انھوں نے کیوں سمجھا کہ ان کی قربانی سے تبدیلی آئے گی؟
- سکھ گرو اور خالصہ نے کن اقدار کی نمائندگی کی؟
- یہ اقدار آج کی دنیا میں کیا اہمیت رکھتی ہیں؟
جب خصوصاً مراٹھوں کے حملوں کے نتیجے میں مغل سلطنت کا زوال شروع ہوا (جیسا کہ آپ اگلے باب میں پڑھیں گے) پنجاب کے علاقے میں کئی سکھ وفاق وجود میں آئے۔ یہ سب آخرکار 19ویں صدی کے اوائل میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کوششوں سے متحد ہو گئے۔ رنجیت سنگھ کی فوجی ذہانت، سفارتی بصیرت اور مذہبی رواداری نے انھیں ایک مضبوط اور
شکل 2.27: یہ نقشہ اس باب میں شامل اہم سلطنتوں کا خلاصہ پیش کرتا ہے اور ان کے جغرافیائی مقامات کی بھی کچھ نشاندہی کرتا ہے۔
مرکزی سکھ ریاست قائم کرنے کا موقع دیا۔ سکھ سلطنت نے شمال مغربی ہندوستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں کشمیر کے کچھ علاقے بھی شامل تھے۔ 19ویں صدی کے وسط تک، اس سلطنت نے ایک طرف مغل سلطنت کی باقیات اور دوسری طرف برطانوی توسیع پسندی کے خلاف مزاحمت کی۔ہندوستان کا نظم و نسق
دہلی سلطنت کے ماتحت انتظامیہ
دہلی سلطنت نے ایک ایسا سیاسی نظام متعارف کرایا جس کا مرکز سلطان تھا۔ سلطان کو سیاسی اور فوجی سربراہ کے طور پر مکمل اختیار حاصل تھا۔معاصر تاریخی حوالوں کے مطابق اس کے اہم فرائض میں’’ بیرونی حملوں کے خلاف اسلامی سلطنت کا دفاع‘‘،‘‘محصول اور ٹیکس جمع کرنا’’اور ”عوامی امور اورلوگوں کے حالات سے ذاتی رابطے کے ذریعے باخبر رہنا‘‘ شامل تھے۔ سلطان کی مدد کے لیے وزرا کی ایک کونسل موجود تھی جو مختلف محکموں کی نگرانی کرتی تھی۔
انتظامیہ کا ایک اہم حصہ اقطاع نظام تھا۔ اس میں اشرافیہ (اقطاع داروں) کو علاقے دیے جاتے تھے جہاں سے وہ ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اخراجات نکالنے کے بعد باقی محصول سلطان کے خزانے میں بھیجا جاتا تھا، خاص طور پر فوجی اخراجات پورے کرنے کے لیے۔ اس نظام نے مرکزی حکومت کے وفادار مقامی منتظمین پیدا کیے۔ تاہم یہ عہدے موروثی نہیں تھے۔ اس نظام میں تجارت پر بھی ٹیکس لگتا تھا لیکن سب سے زیادہ بوجھ کسانوں پر پڑتا تھا۔ بعض معاصر تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ زمین سے لگان وصولی کے دوران کسانوں پر سخت ظلم ہوتا تھا۔
مغل انتظامی ڈھانچہ
اکبر نے زیادہ کنٹرول اور کارکردگی پیدا کرنے کے لیے سلطنت کی انتظامیہ کو دوبارہ منظم کیا۔ اس میں دیوان مالی اُمور کا نگراں تھا، میربخشی فوجی امور دیکھتا تھا، خانِ سَاماں شاہی خاندان کے علاوہ عوامی امور، تجارت، صنعت اور زراعت کا ذمہ دارتھا،صدرانصاف اور مذہبی و تعلیمی امورکو سنبھالتا تھا۔یہ وزرا سلطنت کے بارہ صوبوں (Provinces)میں تعینات تھے۔ ہر صوبے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ سرکاری اہل کاروں کے درمیان مؤثر ضبط اور توازن قائم رہے۔گاؤں کی سطح پر خودحکمرانی کے روایتی ڈھانچےکم و بیش اپنی پرانی شکل میں ہی چلتے رہے۔
شکل2.28: ابوالفضل کی مخطوطہ پینٹنگ جس میں وہ چھت پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے ان کی مکمل شدہ تصنیف(Chornical) رکھی ہوئی ہے۔
اکبر نے منصب داری نظام قائم کیا۔ ابوالفضل نے اپنی کتاب آئینِ اکبری میں اس نظام کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس کے مطابق منصب داروں (افسران) کو ان کے منصب (Rank)کے مطابق ریاست کے لیے ایک مقررہ تعداد میں فوجی، گھوڑے، اونٹ اور ہاتھی رکھنے ہوتے تھے۔ اس نظام نے یہ ممکن بنایا کہ بغیر مستقل فوج قائم کیے، مختصر وقت میں بڑی فوج جمع کی جا سکے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ منصب دار اپنے فرائض ادا کریں، باقاعدہ معائنہ کیا جاتا تھا۔ منصب داروں کو عموماً زمین (جاگیر) تفویض کی شکل میں دی جاتی تھی، اسی لیے انھیں جاگیردار بھی کہا جاتا تھا۔
اکبر نے مختلف مذاہب کے لیے تحمل اور رواداری دکھائی، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر غیر مسلموں کی تعداد کم ہی رکھی گئی۔ مثال کے طور پر، غیرمسلم اہل کارکا تناسب شاذ و نادر ہی کل عملے کے ایک تہائی سے زیادہ ہوتا تھا، اور اکثر اس سے بھی کم رہا۔ یہاں تک کہ مسلم افسران میں بھی غیر ملکی اصل کے افراد کو عموماً مقامی ہندوستانی مسلمانوں پر ترجیح دی جاتی تھی۔
ٹوڈر مل نے، جو اکبر کے وزیرِ خزانہ تھے، محصولات کا ایک مؤثر نظام متعارف کرایا۔ انھوں نے فصلوں کی پیداوار اور قیمتوں کا تفصیلی سروے کیا اور اس معلومات کی بنیاد پر ہر فصل کی قیمت طے کی۔ ٹوڈر مل نے پوری سلطنت میں زمین کا باقاعدہ سروے بھی شروع کیا، جس سے محصولات کی وصولی میں اضافہ ہوا اور ریاستی نظام مزید مضبوط ہوا۔
اگلے باب میں ہم ایک مختلف طرز کی انتظامیہ یعنی مراٹھوں کی دیکھیں گے۔
عوامی زندگی
سیاسی طاقتوں کی تبدیلی کے باوجود، 13ویں سے 17ویں صدی کے دوران ہندوستان میں معاشی سرگرمیاں بڑی حد تک متحرک رہیں۔ اس کی وجہ مضبوط زرعی بنیادیں، ترقی یافتہ دست کاری کی صنعتیں، کمیونٹی اور مندر پر مبنی معیشتیں اور وسیع تجارتی نظام تھے۔ لامرکزی معاشی اور سماجی نظام جیسے شرینی(حرفتی انجمنیں) ،جاتیاں (پیشہ ورانہ برادریاں) اور قرض کے نظام پر تعمیر بر صغیر دنیا کے خوش حال ترین خطوں میں شمار ہوتا تھا۔
سلطنتی ادوار میں تعمیراتی کاموں میں کچھ پیش رفت ہوئی، جیسے شمالی ہندوستان میں سڑکیں، پل، نہریں اور آبپاشی کے دیگر منصوبے۔ نئے شہروں کی بنیاد بھی رکھی گئی، مگر مغل دور میں ان سب میں کافی وسعت آئی۔ اس کے علاوہ مختلف دھاتوں اور قیمتوں کے سکے رائج کیے گئے۔ مغلوں نے ایک نیا مالیاتی نظام اختیار کیا، جس میں چاندی کا روپیہ اور تانبے کا دام بطور کرنسی استعمال ہوتے تھے۔
شکل229: ایک پرشین وہیل(Persian Wheel) یعنی رہٹ، جو کھیتوں کی آب پاشی کے لیےکنوؤں یا تالاب سے پانی کھینچنےمیں استعمال ہوتا تھا۔
زراعت ہندوستانی معیشت کا بنیادی ستون تھی۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ حکمران اپنی انتظامیہ اور فوج کو قائم رکھنے کے لیے زرعی محصولات پر انحصار کرتے تھے۔ عام طور پر پیداوار کا پانچواں حصہ بطورمحصول وصول کیا جاتاتھا تھا، اگرچہ بعض سلاطین نے اسے نصف تک بڑھا دیا۔ آبپاشی کے نظام میں توسیع نے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا، جس سے غذائی اجناس (چاول، گندم، جو، دالیں، گنا، مصالحہ جات وغیرہ) اور غیر خوردنی فصلوں (کپاس، جس سے ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ ملا، ریشم، اون، رنگ، لکڑی، جوٹ وغیرہ) کی پیداوار ممکن ہوئی۔ تاہم ہر خطے اور ہر دور میں زرعی پیداوار مختلف رہی۔ اس زمانے میں کسانوں کو کئی بارشدید قحط کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب انھیں حکمرانوں کی جانب سے امداد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔
شکل2.30 میں وجے نگر کی ایک زمین کی گرانٹ دکھائی گئی ہے جو تانبے کی پلیٹ پر کندہ ہے۔ یہ جدید دور کے جائیداد کے کاغذات کے مشابہ ہے۔
ٹیکسٹائل کے علاوہ، کاریگر ہتھیاروں، برتنوں، زیورات اور دیگر اشیا بھی بڑی مقدار میں تیار کرتے تھے۔جہاز سازی کی صنعت بھی ان صدیوں میں خاصی ترقی یافتہ تھی کیوں کہ یہ دریا اور سمندر کے راستوں سے تجارت کے لیے ضروری تھی۔ ہندوستانی مصنوعات ساحلی اور دریائی شہروں مثلاً کالی کٹ، منگلور، سورت، مسولی پٹنم اور ہوگلی کے ذریعے برآمد کی جاتی تھیں۔ ہندوستان میں درآمدات کم اور برآمدات زیادہ تھیں۔ درآمدی اشیا میں ریشم، گھوڑے، دھاتیں اور طرح طرح کے پرتعیش سامان شامل تھے۔ عرب، فارس (ایران) اور وسطی ایشیا کے تاجر ہندوستانی بندرگاہوں میں آباد ہو گئے تھے، جس سے تجارتی سرگرمیاں مزید بڑھ گئیں۔
ہنڈی نظام نے تاجروں کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ نقد کولے جائےبغیر، سیاسی سرحدوں کے اندر رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکیں۔ اس طرح وہ لوٹ مار کے خطرے سے بھی محفوظ رہتے تھے۔ تاجر برادریاں، مثلاً مارواڑی، مختلف سیاسی حکومتوں میں کامیابی سے کاروبار کرنے لگیں اور قرض و اعتماد کے ایسے متوازی نظام قائم کیے جو سرکاری ڈھانچوں سے آزاد تھے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ہنڈی کسی فرد کو ادائیگی کی ایک تحریری ہدایت تھی، جسے سیاسی سرحدوں کے پار لے جایا جا سکتا تھا۔ اس کے ذریعےنقد کرنسی کو ساتھ لے جائے بغیر مالی لین دین کو ممکن بنایاجاسکا اور یہیں سے جدیدبینکنگ کی بنیاد پڑی۔یہ طریقہ حکمران طبقے کی شمولیت کے بغیر خود مختار تجارتی نیٹ ورک کے اندر کام کرتا تھا۔
معاشی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر مندر
بہت سے مندر صرف عبادت یا تعلیم کے مراکز نہیں تھے، بلکہ سماجی میل جول اور فنونِ لطیفہ کے فروغ کے مراکز بھی تھے۔ انھوں نے مصروف منڈیوں کے ساتھ مل کر ایک ماحول تشکیل دیا۔ حکمران طبقات نے مندروں کے دیوتاؤں کو زمین اور دولت (دان )بطور عطیہ دی، جسے مندر کے منتظمین امانت تصور کرتے تھے۔ان منتظمین نے کمیونٹی ڈھانچے ،(آبپاشی کے نظام، تالاب وغیرہ) اور یاتریوں کی رہائش(دھرم شالائیں اورچھترم )بنوائیں۔ مندروں نے تاجروں کو قرض بھی فراہم کیا اور اندرونی و سمندری تجارت کی مالی اعانت میں کردار ادا کیا۔
اگرچہ ابتدائی ادوار میں خوش حالی رہی، لیکن 1600کی دہائی کے آخر میں معاشی دباؤ بڑھ گیا۔ مختلف بچولیوں کو محصول اوردیگر ادائیگیوں کے بعد کسانوں کے پاس ان کی پیداوار کا بہت تھوڑا حصہ بچتا تھا۔ نتیجتاً بہت سے کسان اپنی زمین کھو بیٹھے اور بندھوا مزدور بن گئے۔
مورخین کے مطابق کاریگر اور مزدور بھی اکثر سخت معاشی حالات سے دوچار رہتے تھے۔ ہندوستان کو اس وقت بھی فراوانی کی سرزمین کہا جاتا تھا، جیسا کہ عرب اور یورپی سیاحوں نے بیان کیا۔ لیکن اس دولت کا بڑا حصہ حکمرانوں، درباریوں، اعلیٰ حکام اور تاجر طبقے کے ہاتھوں میں تھا۔ علاوہ ازیں، بار بار کی جنگوں نے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔
عام لوگوں کی سطح پر بعض اوقات جھڑپیں ہوئیں، خاص طور پر ان مقدس مقامات پر جو حکمرانوں کی اجازت سے بے حرمتی یا تباہی کے شکار ہوئے۔ لیکن مجموعی طور پر مختلف عقائد اور برادریوں کے لوگ معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرتےہوئے امن و سکون سے رہتے تھے۔
اگرچہ ہندوستان بھر کے زیادہ تر حکمران فنونِ لطیفہ کے سرپرست تھے، مقامی برادریوں نے بھی اپنی روایات کو برقرار رکھنے اور بعض صورتوں میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے بیشتر روایات بدلتے حالات کے مطابق ڈھل گئیں۔ مختلف ثقافتی روایات کے باہمی میل جول کے نتیجے میں ایک مشترکہ ورثہ وجود میں آیا۔
ان تمام عوامل کے باوجود ہندوستان عموماً معاشی طور پر خوش حال رہا، اگرچہ سیاسی اعتبار سے اکثر غیرمستحکم رہا۔ اس عرصے میں سیاسی نقشہ بار بار بدلا، جس نے سنگین مسائل کو جنم دیا، لیکن ہندوستان نے ان کا مقابلہ کیا۔ یہ تاریخ مشکلات کے ساتھ ساتھ لچک کی بھی داستان ہے کبھی تلوار کے ذریعے، تو کبھی فن، ادب، روحانیت اور لازوال اقدار کی نئی تخلیقات کے ذریعے۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں
- اس دور میں ترک، افغان اور مغل افواج کی قیادت میں متعدد غیر ملکی حملے ہوئے، جن سے بڑی تباہی پھیلی۔ پرانے خاندان زوال پذیر ہوئے جب کہ نئی سلطنتیں ابھرتی اور بکھرتی رہیں۔ مسلسل جنگوں، اتحادوں اور فتوحات نے ہندوستان کی سیاسی سرحدوں کو نئی شکل دی۔
- مذہبی عدم رواداری کے کئی واقعات بھی پیش آئے۔ بودھ، جین، ہندو، سکھ، زرتشت اور قبائلی برادریوں کو بعض اوقات سخت مظالم سہنے پڑے، اگرچہ کچھ حکمران دوسروں کی نسبت زیادہ روادار ثابت ہوئے۔
- زراعت اور تجارت کو وسعت ملی، جس نے ہندوستان کی دولت میں اضافہ کیا اور اسے دنیا کے دیگر خطوں سے مزید قریب کیا۔ اس کے باوجود عام رعایا کی معاشی حالت عموماً کمزور رہی۔
- ہندوستانی معاشرے نے شہروں، قصبوں، مندروں اور معیشت کے دیگر پہلوؤں کی تعمیر نو میں زبردست موافقت اور نرمی کا مظاہرہ کیا۔ اسی کے ساتھ اس نے ثقافتی روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے مقامی اور غیرملکی عناصر کو یکجا کرنے کے طریقے اپنائے۔ آرٹ اور ثقافت کی مختلف صورتیں جیسے فنِ تعمیر، موسیقی اور مصوری اسی دور میں پروان چڑھیں۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. دہلی سلطنت اور مغل سلطنت کی سیاسی تدابیر کا موازنہ کیجیے۔ دونوں کی مشابہتوں اور فرق پر روشنی ڈالیے۔
2. وجے نگر سلطنت اور اہوم مملکت جیسی ریاستیں دیگر ریاستوں کے مقابلے میں طویل عرصے تک فتوحاتی مہم کے خلاف مزاحمت کیوں کر سکیں؟ ان کی کامیابی میں جغرافیائی، عسکری اور سماجی عوامل کا کیا کردار تھا؟
3. فرض کریں کہ آپ اکبر یا کرشن دیو راے کے دربار سے وابستہ دانشور ہیں۔ اپنے کسی دوست کے نام ایک خط تحریر کریں جس میں دربار کی سیاست، تجارت، ثقافت اور معاشرتی حالات کی جھلک پیش کریں۔
4. اکبر نے جوانی میں سخت گیر اور بے رحم فاتح کے طور پر حکمرانی کی، لیکن بعد کے برسوں میں وہ زیادہ روادار اور رحم دل حکمراں کے طور پر سامنے آیا۔ آپ کے خیال میں اس تبدیلی کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟
5. اگر وجے نگر سلطنت تالی کوٹ کی جنگ میں فتح حاصل کر لیتی تو کیا ہوتا؟ تصور کیجیے اور وضاحت کیجیے کہ اس سے جنوبی ہندوستان کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ کس طرح بدل سکتی تھی۔
6. ابتدائی سکھ مت نے مساوات، خدمت اور انصاف جیسی اقدار کو فروغ دیا۔ ان میں سے کسی ایک قدر کا انتخاب کیجیے اور بحث کیجیے کہ یہ آج کے معاشرے میں کس طرح اہمیت رکھتی ہے۔
7. فرض کریں کہ آپ ایک بندرگاہی شہر (سورت، کالی کٹ یا ہوگلی) میں تاجر ہیں۔ وہاں کے مناظر بیان کیجیے:
کون سا سامان خریدا اور بیچا جا رہا ہے؟ کن قوموں اور تاجروں سے لین دین ہوتا ہے؟ اور جہازوں کی آمدورفت کس طرح دکھائی دیتی ہے؟