باب 3
مراٹھوں کا عروج
(The Rise of the Marathas)
تاجروں میں ٹوپی پہننے والے پرتگالی، انگریز، ڈچ، فرانسیسی اور ڈنمارکی بھی شامل ہیں ، لیکن وہ عام تاجروں کی طرح نہیں ہیں۔ ان کی ساری توجہ اس ملک میں داخل ہونے، اپنے علاقے کی توسیع اور اپنے مذہب کی تبلیغ پر مرکوز ہے۔ یہ فطرتاً ضدی ہوتے ہیں اور بحری طاقت اور بارود ان کے بڑے ہتھیار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کی نقل وحرکت کو محدود رکھا جائے اور انھیں عالی شان عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہ دی جائے۔
— رام چندر پنت اماتیہ، آدنیاپتر (1715)

شکل3.1: مہاراشٹر میں رائے گڑھ قلعہ اور محل کا عظیم دروازہ، جہاں 1674ء میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاج پوشی کے ساتھ مراٹھا سلطنت کا باضابطہ آغاز ہوا۔
اہم سوالات
- مراٹھے کون تھے؟ وہ برطانوی راج کے قیام سے پہلے کس طرح ہندوستان کی سب سے بڑی قومی طاقت بن گئے؟
- ان کے نظامِ حکومت کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں؟
- مراٹھا سلطنت نے ہندوستانی تاریخ پر کیا اثرات مرتب کیے؟
شکل: 3.2
مراٹھا کون تھے؟
مراٹھا دکن کےپٹھار پر موجودہ مہاراشٹر میں رہنے والے لوگوں کا ایک گروہ ہے، وہ مراٹھی زبان بولتے ہیں اور اسی سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ اس زبان کی 12ویں صدی کی ایک بھرپور اور رواں دواں ادبی تاریخ ہے۔ اس باب میں ہم اس بات کا مطالعہ کریں گے کہ مراٹھے کس طرح ایک طاقت ور سیاسی وجود کے طور پر ابھرے جس نے فیصلہ کن طور پر ہندوستانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
13ویں صدی میں مہاراشٹر کا زیادہ تر حصہ یادو خاندان کے زیر تسلط تھا۔ اس وقت ان کا دارالحکومت دیوگیری (موجودہ دولت آباد) تھا۔ 14ویں صدی کے آغاز میں دہلی کی خلجی سلطنت نے یادو خاندان کو شکست دی۔
ادبی تاریخ
(Literary history):
کسی خاص زبان میں
نثری یا شعری تحریروں کا تاریخی ارتقا۔
شکل 3.3 سنت رام داس
شکل 3.4 سنت تکارام پر مبنی ڈاک ٹکٹ
اس طرح کی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان، ثقافتی روایات کا سلسلہ جاری رہا، خاص طور پر وہ روایات جو بھکتی (خدا یا کسی خاص دیوتا سے عقیدت) سے متعلق تھیں۔ 7ویں اور 17ویں صدی کے درمیان، ہندوستان کے مختلف خطوں کے سنتوں اور سادھوئوں نے روحانی ترقی کے لیے ظاہری رسومات سے زیادہ بھکتی کے راستے کو اہمیت دی۔ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے ان سنتوں نے لوک زبانوں میں بھکتی گیت اور نظمیں لکھیں، جن سے ان کے خیالات دور دور تک پھیلے۔
آئیے معلوم کریں
کیا آپ نے کبھی لفظ ‘بھکتی’ سنا ہے؟آپ کے خیال میں اس کا کیا مطلب ہے؟ ہندوستان سے کسی بھکتی سنت کا انتخاب کریں اور ان کی زندگی، تعلیمات اور پیغامات کا مطالعہ کریں۔ آپ ان کی کوئی نظم یا بھجن بھی تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے ہم جماعتوں کوسنا سکتے ہیں۔
مہاراشٹر میں اس دور کے کئی سنت، جیسے گیانیشور، نام دیو، تکارام اور رام داس مشہور ہوئے۔ انھوں نے اپنشد اور بھگوت گیتا جیسی اہم تحریروں کا مراٹھی میں ترجمہ کیا اور ان کی فلسفیانہ تعلیمات کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ سکھ گروؤں کی طرح کچھ سنتوں نے بھی سماجی تنظیم اور سیاسی شعور کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک مضبوط ثقافتی بنیاد قائم ہوئی جس نے بعد میں مراٹھوں کو سیاسی طور پر منظم ہونے میں مدد دی۔
17ویں صدی تک بعض مراٹھا سرداروں نے آزاد ریاست قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ یہ کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب شیواجی نے قیادت سنبھالی اور مراٹھوں کوایک سیاسی طاقت کے طور پرمتحد کیا۔لیکن شیواجی کون تھے؟
جاگیر
(Jāgīr):
وہ زمین تھی جو بادشاہ یا حکمران کسی شخص (اکثرشرفا یا سپاہی) کو خدمت کے صلے میں عطا کرتے تھے۔ جاگیر دار کو اس زمین سے محصول (Tax)جمع کرنے کا حق حاصل ہوتا تھا وہ اس آمدنی کو اپنی ضروریات پوری کرنے یا ضرورت پڑنے بادشاہ کی مدد کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔
مراٹھا اقتدار کا قیام اور شیواجی کا عروج
شیواجی 1630 میں بھونسلے گھرانے میں شاہ جی اور جیجا بائی کے گھر پیدا ہوئے۔ اُس وقت شاہ جی سلطنتِ دکن کی خدمت میں مصروف تھے اور اکثر اپنے خاندان سے دور رہتے تھے۔ شیواجی کی پرورش پونے میں واقع ان کی جاگیر پر جیجابائی اور چند قابلِ اعتماد افسروں کی نگرانی میں ہوئی، جہاں انھیں اچھی تربیت اور تعلیم ملی۔ اُس زمانے میں پونے بار بار دکن کے اُن مختلف سلاطین کی خانہ جنگیوں سے جن کی خدمت مراٹھا کرتےتھے،متاثر ہوتا رہا۔اس کی وجہ سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شکل3.5: شیواجی کی ایک پینٹنگ جو 1680 کی دہائی میں بنائی گئی تھی(برٹش میوزیم)
شیواجی نے محض 16 سال کی عمر میں فوجی مہمات شروع کیں۔ انھوں نے سب سے پہلے متروک اور ویران قلعوں پر قبضہ کر کے اُن کے دفاع کو مضبوط بنایا اور پونے پر اپناقبضہ جمایا ۔ رفتہ رفتہ اُن کے ذہن میں ایک آزاد ریاست یا سوراجیہ کا تصور اُبھرا، جو سیاسی، معاشی اور ثقافتی پہلوؤں پر مبنی تھا جس کے بارے میں ہم اس باب میں جانیں گے۔
شکل3.6: مہاراشٹر-گوا سرحد کے قریب سندھو درگ قلعہ مراٹھوں کے ذریعہ تعمیر کردہ کئی بحری قلعوں میں سے ایک ہے۔
جلد ہی شیواجی کی سلطنت ہندوستان کے مغربی ساحل تک پھیل گئی۔ ساحلی علاقوں کے وسائل پر قابو پانے اور سمندری راستوں تک آسان رسائی حاصل کرنے کے لیے انھوں نے ایک بحریہ قائم کی۔ اُس وقت یہ ایک انقلابی قدم تھا۔ اس کے مقابلے میں بیجاپور کی عادل شاہی سلطنت کے پاس تجارتی بحری جہاز تھے لیکن ساحلی دفاع کے لیے مستقل بحریہ موجود نہیں تھی۔ مغل سلطنت میں بھی بحریہ کا استعمال بہت محدود تھا۔ اس طرح مراٹھا بحریہ نے جنم لیا جس کی بہادری کی داستانیں بعد میں تاریخ کا شان دار باب بن گئیں۔
اپنی رعایا کو طاقت ور دشمنوں سے بچانے کے لیے شیواجی نے گوریلا حکمت عملی اپنائی۔جنگ کے اس طریقۂ کار میں، چھوٹے گروہ، دشوار گذارراستوں کے بارے میں گہرے علم کی بنیاد پر، تیز ی سے اور اچانک حملہ کرتے ہیں اور دشمن کی بڑی فوج کو شکست دیتے ہیں۔ جلد ہی، بیجاپور کا سلطان ان کی کامیابیوں سے پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے تجربہ کار جنرل افضل خان کو شیواجی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ شیواجی اور اس کے مشیروں نے افضل خان کو گھنے جنگلوں میں پرتاپ گڑھ قلعے کے دامن میں ذاتی طور پر ملنے کے لیے راضی کیا۔ وہاں شیواجی نے افضل خان کو قتل کر دیا اور پہاڑوں میں چھپے مراٹھوں نے گوریلا حملوں سے افضل خان کی فوج کو شکست دی۔
آئیے غور و فکر کریں
اگر آپ ماضی میں سفر کر سکتے ہیں اور شیواجی سے مل سکتے ہیں، تو آپ ان سے کون سے تین سوال پوچھیں گے اور کیوں؟
اسے دیکھنا نہ بھولیں
باگھ نکھ شیر کے پنجے کی شکل کا ایک چھوٹا ہتھیار ہے جسے شیواجی نے قریبی لڑائی میں افضل خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
شکل3.7: با گھ نکھ یا ‘شیر کا پنجہ’
آئیے معلوم کریں
گوریلا جنگ کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کریں۔ دنیا کے کن کن ممالک میں یہ طریقہ اپنایا گیا؟ انھوں نے اس کے لیے کون سے جغرافیائی فوائد استعمال کیے؟ گروپوں میں اپنے نتائج پر تبادلہ خیال کریں۔
اس کےفوراً بعد مغل سردار شائستہ خان بڑی فوج لے کر تین سال تک شیواجی کے علاقوں پر حملہ کرتا رہا۔ آخر کار شیواجی نے صرف چند سپاہیوں کے ساتھ رات کے وقت شائستہ خان کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ شائستہ خان اس حملے میں بال بال بچ گیا لیکن اپنی کچھ انگلیاں کھو کر فوراً مہاراشٹرسے فرار ہوگیا۔ یہ جرأت مندانہ حملہ جدید سرجیکل اسٹرائیک جیسا ہے۔
تین سال کے حملوں کے طویل سلسلے کا بدلہ لینے کے لیے شیواجی نے مغل سلطنت کی ایک خوش حال بندرگاہ سورت (موجودہ گجرات) پر حملہ کیا۔ وہاں اسے تقریباً ایک کروڑ روپے کا ایک بہت بڑا خزانہ ملا جو اس وقت کے مطابق بہت بڑی رقم تھی۔ اس نے مذہبی مقامات پر حملہ نہ کرنے کا خیال رکھا اور یہاں تک کہ ایک مخیر، موہن داس پاریکھ کے گھر کی بھی حفاظت کی۔ اس نے چند سال بعد دوبارہ سورت پر حملہ کیا۔ یہ واقعات اس قدر مشہور ہوئے کہ اس وقت کے ایک انگریزی اخبار لندن گزٹ نے بتایا کہ کس طرح شیواجی نے سورت میں تمام یورپی سفارتی نمائندوں کو خط لکھ کر ‘رقم کی شکل میں فوری تحائف’کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو’شہر کو لوٹ کر تباہ کر دیا جائے گا۔‘
سورت پر حملہ مغلیہ سلطنت کی طاقت اور وقار کی شدید توہین تھی۔ اس لیے اورنگ زیب نے ایک مشہور راجپوت کمانڈر جے سنگھ کو شیواجی کو شکست دینے کے لیے بھیجا تھا۔ اس کے خلاف، شیواجی کو پورندر قلعہ (پونے کے قریب) میں ہتھیار ڈال کر ایک معاہدہ کرنا پڑا۔ اسے اپنی سلطنت کا ایک بڑا حصہ چھوڑنا پڑا اور اس کے بیٹے سنبھاجی کو مغلوں کی خدمت قبول کرنی پڑی۔
سرجیکل اسٹرائیک
(Surgical strike):
ایک فوجی کارروائی جس کا مقصد کسی مخصوص ہدف کو ہی نقصان پہنچانا ہے جس میں دوسرے لوگوں یا بنیادی سہولتوں کو کم سے کم نقصان پہنچے یا بالکل نہ پہنچے۔
جے سنگھ کی کوششوں کی وجہ سے شیواجی آگرہ میں مغل دربار میں حاضر ہونے پر راضی ہو گئے جہاں انھیں اورنگ زیب اور ایک مغل وزیر کے سامنے کھڑا کیا گیا جسے شیواجی نے پہلے شکست دی تھی۔ اس توہین سے ناراض ہو کر شیواجی دربار سے باہر نکل گئے۔ اس واقعے کے بعد اورنگ زیب نے انھیں نظر بند کر دیا۔ اس صورت حال سے چھٹکارا پانے کے لیے شیواجی نے ایک حکمت عملی تیار کی۔ انھوں نے مقدس شخصیات اور مغل سرداروں کو تحفے بھیجنا شروع کر دیے۔تحائف عام طور پر پھلوں اور مٹھائیوں پر مشتمل ہوتے تھے جنھیں بڑی ٹوکریوں میں بھرا جاتا تھا۔ محافظوں نے شروع میں تحائف کی جانچ پڑتال کی لیکن جلد ہی ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ شیواجی کو مغل محافظوں سے یہی توقع تھی۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیواجی اپنے بیٹے سمبھاجی کے ساتھ ٹوکریوں میں چھپ کر کامیابی سے فرار ہو گئے۔ اس کے بعد اورنگ زیب دوبارہ کبھی شیواجی کو پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
شکل 3.8: شاہی دربار کا ایک منظر جہاں تخت پر بیٹھے شیواجی زائرین سےملاقات کرہے ہیں۔
(ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج پارک میں واقع تختی)
کچھ برسوں کے بعد، 1674 میں، شیواجی کی تاج پوشی پوری ویدک رسومات کے ساتھ رائے گڑھ کے مضبوط پہاڑی قلعے میں کی گئی۔ تاج پوشی کے بعد ان کا رسمی لقب ‘شری راجہ شیوا چھترپتی’ مقررہوا۔ کچھ سابق حکمرانوں کی طرح، انھوں نے اپنےدور راجیہ بھیشیکا شاکا کا آغاز کیا۔
اپنی تاج پوشی کے بعد شیواجی نے جنوب کی فتح کا آغازکیا، جسے دکشن دگ وجے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔جس میں موجودہ شمالی تامل ناڈو اور کرناٹک کے کچھ اہم اور اس وقت ناقص طورپر دفاع کیے گئے علاقے شامل تھے۔ (شکل 3.9 میں نقشہ دیکھیں)۔ جنوب کی اس توسیع نے بعد میں مراٹھوں کو مغلوں کے حملے کے خلاف زبردست تزویراتی(Strategic) گہرائی فراہم کی۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
جنوب میں رہتے ہوئے شیواجی نے ڈچ(Dutch) تاجروں کے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگا دی۔ اس وقت زیادہ تر یورپی تاجر ہندوستانیوں کوپکڑتے اور غلام بنا کر بیچ رہے تھے اور ہندوستانی طاقتوں کی طرف سے اس غیر انسانی عمل کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ لیکن شیواجی کی مداخلت نے اس عمل کو چیلنج کیا۔اس غیر انسانی عمل کے خلاف ان کا موقف ان کی عوام کے تئیں گہری حساسیت اور حفاظتی جذبے کا واضح ثبوت ہے۔
شکل 3.9: شیواجی کی مملکت 1680 کے آس پاس (ایکوجی کے کردار پر بعد میں اس باب میں بحث کی جائے گی)۔
شیواجی کا پچاس سال کی عمر میں شدید بخار سے انتقال ہو گیا۔ وہ ایک منفرد حکمت عملی ساز اور دور اندیش انسان تھے۔ ان کی بہادری کی داستانیں ان کی زندگی میں ہی ہندوستان اور بیرون ملک مشہور ہو چکی تھیں۔ یورپیوں نے اس کا موازنہ سکندر جیسے قدیم جرنیلوں سے کیا۔ بنڈیلا شہزادہ چھترسال مغلوں کے خلاف شیواجی کی جدوجہد سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے بندیل کھنڈ (جو کہ موجودہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں تقسیم ہے) کے نام سے ایک آزاد ریاست قائم کی۔ ہندی کے مشہور شاعر بھوشن خاص طور پر شیواجی سے ملنے مہاراشٹر گئے اور اس کے بعد ان کی تعریف میں کئی اشعار لکھے، جن میں سے کئی آج بھی لوگوں میں مشہور ہیں۔
آئیے معلوم کریں
شیواجی کی زندگی سے کوئی ایک واقعہ منتخب کریں اور اسے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ ڈرامے کے طور پر اسٹیج کریں۔
شیواجی کے بعد مراٹھے
شیواجی کے دو بیٹے تھے — سنبھاجی اور راجارام۔ شیواجی کی موت کے بعد سنبھاجی چھترپتی بن گئے۔ اس وقت دکن پر مغلوں کے مکمل کنٹرول میں مراٹھے واحد رکاوٹ تھے۔ اورنگ زیب نے دکن پر حملہ کیا اور بیجاپور (یا عادل شاہی) اور گولکنڈہ (یا قطب شاہی )سلاطین کوشکست دی۔ پھر اس نے سمبھاجی کو قید کر لیا اور اسے ظالمانہ اور ناقابل برداشت اذیت دے کر قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس نے مراٹھوں کے دارالحکومت رائے گڑھ پر قبضہ کر لیا۔
سمبھاجی کے بعد، راجارام چھترپتی بن گیا اور جلد ہی جنجی(موجودہ تمل ناڈو) چلا گیا۔ اس طرح مغل– مراٹھا تنازعہ جنوبی ہندوستان تک پھیل گیا۔ مراٹھوں نے اپنے قلعوں کا مضبوطی سے دفاع کیا اور اکثر کئی جنگوں اور تنازعات میں مغلوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ نتیجے کے طور پر، اورنگ زیب دکن چھوڑنے سے قاصر رہا اور مراٹھوں کو شکست دیے بغیر مر گیا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد مراٹھے ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرے۔ اب وہ دفاعی پوزیشن میں آنے کے بجائے جارحانہ ہو گئے۔چھترپتی راجارام کی موت کے بعد ان کی ملکہ تارابائی کی قیادت میں مراٹھوں نے مغل علاقوں پر بھرپور حملے کیے اور ہندوستان کے ایک بڑے حصے کو فتح کر کے اپنا اقتدار قائم کیا۔
تیز رفتار توسیع کے اس دور میں مراٹھوں کے نظام میں کچھ بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ شیواجی کے دور کی مرکزی حکومت بتدریج لامرکزیت کی طرف بڑھتی گئی، اقتدار برائے نام چھترپتی پر مرکوز رہا لیکن اصل طاقت مختلف سرداروں کے ہاتھ میں منتقل ہونے لگی۔ اس میں سب سے زیادہ اثر ورسوخ پیشوا(وزیرِاعظم کے لیے فارسی لفظ)کا تھا۔یہاں تک کہ اس نے خود چھترپتی پر بھی غلبہ حاصل کر لیا۔ پیشوا باجی راؤ اوّل اور ان کے بیٹے ناناصاحب پیشوا نے مراٹھوں کی ہندوستان گیرتوسیع میں اہم کردار ادا کیا۔
مراٹھوں نے ہندوستان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا اور عموماً ان پر اچھی طرح حکومت کی(شکل 3.11)۔ تاہم، علاقائی سرداروں کو دی گئی زیادہ طاقت اور خودمختاری کی وجہ سے بعض اوقات بدانتظامی اور زیادتی بھی سامنے آئی، جو شیواجی کی اصول پسندی کے بالکل برعکس تھی۔ مثال کے طور پر، بنگال میں مراٹھوں کی دس سالہ مہم مقامی آبادی کے لیے نہایت تباہ کن اور ظالمانہ ثابت ہوئی۔
شکل 3.10:چھترپتی شاہو مہاراج (سمبھاجی کا بیٹا)، نانا صاحب پیشوا کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے، دائیں طرف بیٹھے ہوئے اور فالکن سے کھیلتے ہوئے
شمالی ہند کی طرف بڑھتے ہوئے مراٹھوں نے کچھ وقت کے لیے لاہور، اٹک اور حتیٰ کہ پشاور (موجودہ پاکستان) تک پر قبضہ کر لیا۔ انھوں نے افغانوں سے بھی جنگ لڑی۔ اگرچہ 1761 میں پانی پت کی تیسری جنگ میں انھیں عبرتناک شکست ہوئی، لیکن پیشوا مادھو راؤ اوّل کے دور میں وہ دوبارہ طاقت ور ہو گئے۔ مہادجی شندے (سندھیا) کی قیادت میں 1771 میں انھوں نے دہلی پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔ اگلی تین دہائیوں تک دہلی مراٹھوں کے ماتحت رہا، اس کے بعد انگریزوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔
اٹھارھویں صدی کے دوسرے نصف میں ہندوستان میں مراٹھے انگریزوں کے سب سے بڑے حریف تھے۔ 1775 سے 1818 کے درمیان تین انگلو-مراٹھا جنگیں ہوئیں۔ اندرونی اختلافات اور باہمی کشمکش کے باعث مراٹھے کمزور ہوتے گئے، جب کہ انگریز بہتر تنظیم اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے سہارے مضبوط تر ہوتے گئے۔ بالآخر یہی عوامل مراٹھا اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے۔ درحقیقت یہ کہا جاسکتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو مغلوں یا کسی اور طاقت سے زیادہ مراٹھوں سے چھینا تھا۔
(شکل 3.11: نیا ترمیم شدہ نقشہ اگلے ایڈیشن میں شامل کیا جائے گا)
اسے دیکھنا نہ بھولیں
کیا آپ جانتے ہیں؟ پیشواؤں کے زیرِ اثر ایک طاقت ور عہدےدار نانا پھڑنویس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے پہلا کل ہند انگریز مخالف اتحاد قائم کیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے پرانے مخالفین جیسے میسور کے حیدر علی اور حیدرآباد کے نظام کو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔
شکل 3.12: پہلی اینگلو-مراٹھا جنگ کے بعد نانا پھڑنویس اور مہادجی شندے کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ایک برطانوی افسر کی تصویر
مراٹھا انتظامیہ
شہری انتظامیہ
شیواجی نے اپنی سلطنت کے لیے نسبتاً مرکزی نظامِ حکومت قائم کیا۔ انھوں نے موروثی عہدے (جو سلطانوں یا مغلوں کے دور میں عام تھے) اور زمینوں کی تفویض ختم کر دی اور ہر سرکاری اہل کار کے لیے خزانے سے تنخواہ مقرر کی۔ ساتھ ہی وقتاً فوقتاً عہدےداروں کا تبادلہ بھی کیا جاتا تھا تاکہ وہ اتنے طاقت ور نہ بن سکیں کہ بادشاہ پر اپنی شرائط مسلط کر سکیں۔
شکل 3.13: شیواجی نے اپنے نام پر سونے اور تانبے کے سکے بنائے جو اُن کی خودمختاری کی علامت تھے۔ دیوناگری رسم الخط کا استعمال بھی ان کی ثقافتی شناخت کے اظہار کی ایک صورت ہے۔
شیواجی نے جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی بیواؤں کے لیے پنشن مقرر کی اور ان کے بیٹوں کو فوجی عہدے دیے۔ اس طرح انھوں نے فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا۔
آئیے غو و فکر کریں
شیواجی نے اپنے اہل کاروں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ رعایا کے ساتھ بدسلوکی نہ کریں یا زبردستی ان سے گھاس کا ایک تنکا بھی نہ چھینیں۔ اپنے عہدے داروں کو جاری کردہ ایک خط میں شیواجی کہتے ہیں:’’بحریہ کے لیے ساگوان جیسے بڑے درختوں کی لکڑی درکار ہے، اگر ضرورت ہو تو جنگل سے درخت کاٹنے کی اجازت حاصل کریں اور پھر آگے بڑھیں، آم اور کٹہل جیسے دوسرے درخت بھی کارآمد ہیں، لیکن انھیں ہاتھ مت لگائیں، کیوں کہ ایسے درختوں کو پختہ ہونے میں کئی سال لگتے ہیں، اور لوگ اپنے بچوں کی طرح ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اگر آپ انھیں کاٹتے ہیں، تو کیا ان کا دکھ جلد ختم ہو جائے گا؟ اگرآپ ظلم کرکے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ جلد ہی ختم ہوجائے گی اورساتھ میں ظالم بھی۔ ایسے درختوں کی عدم موجودگی کا بھی نقصان ہے اس لیے کسی بھی حالت میں طاقت کا استعمال نہ کریں۔ شیواجی کے خط کی بنیاد پر، بطور حکمران آپ ان کی اقدار کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں؟
شیواجی کے پاس ایک اشٹ پردھان منڈل یا آٹھ وزرا کی ایک کونسل بھی تھی (شکل 3.14)، جو انتظامیہ میں اُن کی مدد کرتی تھی۔
شکل 3.14
مراٹھوں نے اکثر ان صوبوں سے چوتھ(یعنی پیداوار کا 25 فیصد) اورسردیش مکھی (چوتھ پر اضافی 10 فیصد) کے نام سے ٹیکس وصول کیا جو ان کے براہِ راست زیرِ اقتدار نہیں تھے۔ان میں دکن اور شمالی ہندوستان کے کئی علاقے شامل تھے۔ بدلے میں مراٹھے ان صوبوں کی حفاظت کرتے اور ان کے داخلی انتظام میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ مغلوں نے بھی مختلف معاہدوں کے ذریعے اس انتظام کو تسلیم کیا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ صوبے مراٹھا سلطنت کا حصہ بن گئے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
18ویں صدی میں مراٹھوں نے اکثر مغل طرز کے سکّے ان کی مقبولیت کی بنا پراختیار کیے، لیکن ان میں اپنی ثقافتی علامتیں شامل کیں۔ مثال کے طور پر اس نایاب مراٹھا سکہ کو ’گنپتی-پنت پردھان روپیہ‘ کہاجاتا ہے، جسے 19ویں صدی کے اوائل میں پٹوردھنوں (پیشوا کے ماتحت فوجی جرنل) نے جاری کیا تھا۔ اس سکے پر دو رسم الخط— دیوناگری اور فارسی استعمال ہوئے ہیں۔ ایک جانب بھگوان گنپتی (گنیش) کی شبیہ ہے اور دوسری جانب پیشوا کے نام وفاداری کا اعلان درج ہے (جسے مراٹھی میں ’پنت پردھان‘ کہا جاتا ہے)۔
شکل 3.15
فوجی انتظامیہ (Military administration)
مراٹھا فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا— پیادہ، گھڑسوار اور بحریہ۔ گھڑسوار فوج دو قسم کے سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ بارگیر جن کے گھوڑے اور اسلحہ حکومت مہیا کرتی تھی۔ شلےدار جو اپنے گھوڑے اور سامانِ حرب خود خریدتے تھے۔18ویں صدی میں مراٹھوں نے یورپی طرز کے نظم و ضبط اور توپ خانے کی برتری کو محسوس کیا اور ان کی طرح افواج تیار کرنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر مہادجی شندے کے پاس یورپی انداز کی ایک بڑی فوج تھی۔
مراٹھوں کے پسندیدہ ہتھیار تلوار اور نیزے تھے، (شکل 3.16)تاہم وہ بڑی تعداد میں بندوقوں کا بھی استعمال کرتے تھے۔ شیواجی کے زمانے ہی سے جنگی مہمات میں راکٹ استعمال ہوتے تھے اور 1770 تک دھات کی نالی والے راکٹ بھی رائج ہو گئے تھے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا، قلعے ابتدائی دور ہی سے مراٹھا طاقت کی بنیاد تھے۔ شیواجی نے بڑی تعداد میں قلعے تعمیر کیے اور ان پر قبضہ برقرار رکھا، کیوں کہ گوریلا جنگ میں شامل ہونے کے دوران اہم راستوں پر قابو پانے اور فوج کو پناہ دینے کے لیے یہ نہایت ضروری تھے۔
شکل3.16: کچھ ہتھیار جو مراٹھوں کے زیر استعمال تھے۔
شیواجی کے وزیرِ خزانہ رام چندر پنت اماتیا نے اپنی تصنیف آدنیاپتر (شاہی فرمان) میں لکھا ہے:
’’قلعے ریاست کا مرکز ہوتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو حملے کی صورت میں زمین تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ اسی لیے تمام سابق بادشاہوں نے قلعے تعمیر کر کے اپنے ملک کو محفوظ بنایا۔ یہ بادشاہت (مراٹھاحکومت) ہمارے عظیم آقا [شیواجی] نے قلعوں ہی کی بنیاد پر قائم کی تھی۔ اورنگ زیب جیسے بڑے دشمن نے[اس مملکت ]پر چڑھائی کی ،بیجار پور اور بھاگ نگر جیسے عظیم سلطنتوں پر قبضہ کر لیا[...لیکن] قلعوں کی وجہ سے ہی [مراٹھا] ریاست کئی دہائیوں تک ان حملوں کے باوجود قائم رہی۔‘‘
سمندری بالادستی (Maritime supremacy)
جیسا کہ ہم نے دیکھا، شیواجی نے مغربی ساحل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بحریہ قائم کی۔ 18ویں صدی میں کنہوجی انگرے نے جغرافیہ کے صحیح استعمال اور جنگی حکمتِ عملی کی بدولت مراٹھوں کو متعدد بحری لڑائیوں میں فتح دلائی، حالاں کہ مراٹھا بیڑہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یورپی جہازوں کے برابر نہیں تھا۔
اس زمانے میں ہندوستان میں یورپی طاقت کی اصل بنیاد ان کی بحری قوت تھی۔ وہ ہندوستانی جہازوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ ان سے بحری تجارتی پروانۂ راہ داری (پرتگالی زبان میں کارتاز) خریدیں۔ بغیرپروانے کے کسی بھی جہاز کو ضبط کر لیا جاتا تھا۔ مراٹھوں نے اس روایت کو للکارا اور خود یورپیوں سے پروانہ طلب کرنا شروع کر دیا۔ یورپیوں نے اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کنہوجی انگرے کو “بحری قزاق” تک کہہ دیا!
شکل3.17: مراٹھا جہازوں کا انگریزی جہازوں پر حملہ
اسے دیکھنا نہ بھولیں
1665 میں شیواجی کے بیڑے کے چار جہاز عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے۔ وہاں کے حکمران نے ان جہازوں کو ضبط کر لیا اور ان پر سوار افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس نے شیواجی کی ساحلی زمینوں پر حملہ کرنے کے لیے چند جہاز بھی تیار کر لیے تھے۔ لیکن جب اسے خبر ملی کہ شیواجی کی بحریہ میں سو سے زیادہ جہاز ہیں تو وہ گھبرا گیا اور اپنے جہازوں کو واپس بندرگاہ کے اندر لے گیا۔
عدالتی نظام (Judicial system)
مراٹھوں کے دور میں ایک مؤثر عدالتی نظام موجود تھا، جو سزائے موت کے کم استعمال کی وجہ سے خاص طور پر قابل ذکر سمجھا جاتا ہے۔ پنچایت (یہ موجودہ دور کی دیہی پنچایت نہیں بلکہ ایک سرکاری ادارہ تھا) حکام اور معزز افراد پر مشتمل ایک مقامی مجلس تھی جو انصاف فراہم کرتی تھی۔ اگر کسی فیصلے سے اطمینان نہ ہو تو معاملہ مراٹھا سربراہ کے سامنے اپیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف عہدوں پر فائز سرکاری اہل کار بھی انصاف فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے تھے۔شہر کے اندر امن و امان قائم رکھنے کے لیے پونے، اندور وغیرہ شہروں میں کوتوال یا پولیس کو بھی تعینات کیا گیا ۔
مربوط تجارتی نظام (Trade networks)
شیواجی نے تجارت کی حوصلہ افزائی کی اور خود بھی بحری غیر ملکی تجارت میں سرگرم رہے۔ ان کے اور ان کے اہل کاروں کے پاس اپنے جہاز تھے، جنھیں وہ باقاعدگی سے یمن کے موچا، عمان کے مسقط اور ملائیشیا کے ملاکا جیسے بندرگاہی شہروں کی طرف روانہ کرتے تھے۔ ان جہازوں پر سونا، کپڑا اور دیگر سامان لادا جاتا تھا۔
سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کی گئی۔ 18ویں صدی میں اڈیشہ جیسے علاقوں میں دریاؤں پر آمد و رفت کے لیےچھوٹے جہازوں کا ایک جال موجود تھا۔ بڑی اور چھوٹی ندیوں پر پل بھی بنائے گئے تھے۔
ثقافتی احیا (Cultural Revival)
مراٹھوں نے ہندوستان کی ثقافتی نشوونما میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سوراجیہ کے بارے میں شیواجی کا نظریہ ان کی مہر پر درج عبارت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس مہر پر سنسکرت کا نوشتہ کندہ ہے، جو اس زمانے میں رائج فارسی مہروں سے ایک قابلِ غور انحراف تھا۔ نوشتہ یہ ہے:’’یہ مہر(اختیارکی علامت) شیواجی، شاہ جی کے بیٹے کی ہے، جو نئے چاند کی طرح درخشاں ہے، دنیا کی طرف سے قابلِ احترام ہے اور (رعایا کی )بھلائی کے لیے حکمرانی کرتی ہے۔‘‘
شکل 3.18: شیواجی کی مہر
شیواجی نے مراٹھی زبان کے فروغ کے مقصد سے راجیہ-ویوہار-کوش نامی ایک مقالہ بھی مرتب کرایا۔ اس میں سفارتی مکالموں میں رائج فارسی الفاظ کے متبادل سنسکرت الفاظ فراہم کیے گئے، جس کے نتیجے میں مراٹھا سفارت کاری میں غیر ملکی الفاظ کا استعمال نمایاں طور پر کم ہو گیا۔شیواجی ایک مذہبی ہندو تھے جو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کا بھی احترام کرتے تھے۔ ان کے زعفرانی رنگ کے جھنڈے کو تمام مراٹھوں نے قبول کیا۔ انھوں نے مسمار شدہ مندروں کی ازسرِنو تعمیر کرائی۔ سنسکرت اور مراٹھی ادب، مذہبی اداروں اور روایتی فنون کی سرپرستی کی۔لیکن شاید ان کی سب سے بڑی کامیابی قدیم ہندوستانی تہذیب اور اقدار کے احیا میں تھی۔ انھوں نے لوگوں کو یہ اعتماد دیا کہ طاقت ور سلطنتوں اورمملکتوں کو شکست دینا ممکن ہے اور مراٹھے اپنی ایک سلطنت قائم کر کے اسے وسعت دے سکتے ہیں اور کامیابی سے چلا بھی سکتے ہیں۔
طاقت ور مراٹھا خواتین
تارابائی ایک بے خوف، جاں بازمراٹھا ملکہ تھیں جنھوں نے 18ویں صدی کے آغاز میں اپنے شوہر راجارام کی وفات کے بعد حکومت سنبھالی۔ یہ جانتے ہوئے کہ دکن میں اورنگ زیب اور مغل فوج کی موجودگی شمالی ہند کو غیر محفوظ بناتی ہے، انھوں نے بڑی مراٹھا افواج منظم کیں اور انھیں شمالی ہند کے مغل علاقوں پر حملوں کے لیے روانہ کیا۔ اس اعتبار سے وہ شمال کی طرف مراٹھا توسیع کی معمار کہی جا سکتی ہیں۔ ان کی فوجی حکمتِ عملی اور سخت مزاجی نے مغل سلطنت کو پیچھے دھکیل دیا اور ایک نازک دور میں مراٹھا آزادی کو محفوظ رکھا۔
شکل 3.19: جنگ میں تارابائی
(ایم وی دھرندر کی پینٹنگ)
اہلیابائی ہولکر، ہولکر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جن کا شمارشمالی ہند میں مراٹھا توسیع میں اہم کردار اداکرنے والے خاندانوں میں ہوتا ہے۔ 18ویں صدی کے دوران اس خاندان نے موجودہ اندور اور اس کے اطراف کے وسطی ہندوستانی علاقوں پر اقتدار قائم کیا۔ شوہر اور بیٹے کی وفات کے باوجود اہلیابائی نے تیس سال تک ریاست کی باگ ڈور سنبھالی، رعایا کی فلاح کا خیال رکھا اور دانش مندی سے حکومت کی۔اہلیابائی ایک مذہبی خاتون تھیں جنھوں نے کیدارناتھ (شمال) سے رامیشورم (جنوب) تک پورے ہندوستان میں سینکڑوں مندر، گھاٹ، کنویں اور سڑکیں تعمیر اور بحال کرائیں۔
سب سے مشہور کارناموں میں، ان کے ذریعہ وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر (جسے اورنگ زیب نے منہدم کر دیا تھا) اور گجرات میں سومناتھ مندر (جسے غزنی کے محمود نے تباہ کیا تھا) کی دوبارہ تعمیر ہے۔ اہلیابائی ہولکر کو مدھیہ پردیش کے مہیشور میں بنا ئی کی صنعت کو فروغ دینے کا سہرا بھی جاتا ہے، جس نے روایتی دست کاری کو زندہ کیا جو آج بھی ترقی کر رہی ہے۔
شکل 3.20: اہلیابائی ہولکر کی یاد میں جاری کردہ ڈاک ٹکٹ
اسے دیکھنا نہ بھولیں
مودی رسم الخط (دیوناگری کی ایک ذیلی شکل) وہ مرکزی رسم الخط تھا جسے مراٹھے اپنی خط و کتابت کے لیے استعمال کرتے تھے۔
شکل3.21: مودی رسم الخط میں چھترپتی ساہو مہاراج کی لکھاوٹ کا نمونہ
شیواجی کی مثال ان کے جانشینوں کے لیے ہمیشہ محرک بنی رہی۔ مثلاً ناگپور کے بھونسلے مقامی ثقافت اور روایت کے پرجوش حامی کے طور پر سامنے آئے۔ اسی طرح پوری (اڈیشہ) میں دیوتا جگن ناتھ کی پوجا، جسے مغل دور حکومت میں اکثر روکا جاتا تھا، مراٹھوں کی حمایت سے دوبارہ رائج ہوئی۔ لیکن شاید سب سے نمایاں تعاون چند قابلِ ذکر مراٹھا خواتین کی جانب سے سامنے آیا۔ آئیے ان میں سے دو کے بارے میں جانتے ہیں۔ (پچھلا صفحہ دیکھیں)۔
مرکزتوجہ:تنجاور
آئیے اب ثقافتی حصے داری کی ایک اور مثال دیکھنے کے لیے جنوب کی طرف رخ کریں۔ شیواجی کے سوتیلے بھائی ایکوجی نے 17ویں صدی کے آخر میں تنجاور کے علاقے (موجودہ تامل ناڈو) کو فتح کیا، جس کے ساتھ ہی اس خطے میں مراٹھا حکمرانی کا آغاز ہوا۔ تنجاور کے مراٹھوں نے ایک متوازن اور جدت سے بھرپور ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔انھوں نے فنون لطیفہ کی سرپرستی کی اور ان میں سے کئی حکمراں خود بھی شاعر اور ڈراما نگار تھے۔
شکل3.22: ایک روایتی تنجاور طرز کی پینٹنگ، جس میں سونے کے ورق کا نفیس کام نمایاں ہے جو اسے ایک بھرپور اور تابناک شکل دیتا ہے۔ یہ طرز مراٹھوں کی سرپرستی میں پروان چڑھا۔
آئیے معلوم کریں
کیا آپ نے رقص کی صنف بھرت ناٹیم کے بارے میں سنا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رقص کا مراٹھوں سے گہرا تعلق ہے؟ اور یہ تعلق کس طرح کا تھا؟
تمام تنجاور مراٹھا حکمرانوں میں، سرفوجی دوم کی خدمات نمایاں ترین ہیں۔ وہ کئی ہندوستانی اور یورپی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انھوں نے دیویندر کوروانجی کے نام سے ایک مراٹھی ڈراما تحریر کیا جس میں اُس زمانے کے دریافت شدہ عالمی جغرافیے کی تفصیل بیان کی ۔ سرفوجی نے متعدد باصلاحیت موسیقاروں کی سرپرستی کی۔ انہی کے دور میں جدید کرناٹک موسیقی کی بنیاد مستحکم ہوئی اور مشہور کلاسیکی رقص بھرت ناٹیم کی ابتدائی صورت نے بھی واضح شکل اختیار کی۔
شکل3.23: برَہ دیشور مندر کی دیوار پر کندہ ایک مراٹھی نوشتہ، جس میں بھونسلے خاندان کی تاریخ درج ہے۔
سرفوجی کو طب میں بھی گہری دل چسپی تھی۔ انھوں نے دھنونتری محل قائم کیا، جو علاج و معالجے کا ایک مرکز تھا جہاں ہندوستانی اور مغربی طریقۂ طب دونوں کے ذریعے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ انھوں نے ایک پرنٹنگ پریس بھی قائم کیا، جو ہندوستان میں کسی مقامی حکمران کی جانب سے شروع کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا۔ اس کے علاوہ بھونسلے خاندان کی تاریخ بھی سرفوجی ہی کے حکم پر تنجاور کے برہ دیشور مندر کی دیواروں پر کندہ کرائی گئی۔ یہ ہندوستان کے سب سے بڑے انفرادی نوشتوں میں سے ایک ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔
تنجاور کا ثقافتی ماحول کثیر لسانی تھا جس میں کئی طرح کے اثرات شامل تھے۔ مقامی تمل ثقافت، سابق حکمرانوں کی تیلگو روایت، اور موجودہ حکمرانوں کی مراٹھی تہذیب آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھتی تھیں۔
مراٹھا وراثت (The Maratha legacy)
مراٹھا اقتدارنے مغلیہ غلبے کوللکارا اور انگریزوں کے قبضے سے پہلے برصغیر کی سب سے بڑی ہندوستانی سلطنت قائم کی، جو وسطی اور شمالی ہندوستان کے وسیع حصے پر پھیلی ہوئی تھی۔ انھوں نے ایک مؤثر نظامِ حکومت رائج کیا اور مذہبی امتیاز سے بالاتر ہو کر مقامی ہندو روایات کو زندہ رکھا۔ غیر ملکی طاقتوں اور جابرانہ حکمرانی کے خلاف ان کی جدوجہد سوراجیہ (خود حکمرانی) کے تصور سے جڑی ہوئی تھی۔ بعد میں اس سے بہت سے ہندوستانیوں کو سوچنے کی تحریک ملی کہ وہ خود مختار بن سکتے ہیں اوراس طرح سے ہندوستان کی تحریک آزادی کے ابتدائی بیج بھی انھوں نے بوئے۔
اس سے پہلے کہ ہم اگے بڑھیں
- چھترپتی شیواجی مہاراج نے 17ویں صدی میں مراٹھا سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مغلیہ اقتدار کے خلاف ان کی طویل مزاحمت اور اس سے حاصل ہونے والے تجربے نے 18ویں صدی میں مراٹھا سلطنت کی توسیع کی راہ ہموار کی۔
- انگریزوں نے ہندوستان پر کسی دوسری طاقت کے مقابلے میں مراٹھوں کو زیادہ مؤثر انداز میں شکست دے کر قبضہ کیا۔
- قلعے مراٹھا سلطنت کی بنیاد تھے۔ وہ سیکڑوں قلعوں پر قابض تھے، جن کے ذریعے انھوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم اور خطے پر گرفت کو مضبوط بنایا۔
- ان کی بحری طاقت نے اس دور میں جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے باوجود یورپی بحری بالادستی کو طویل عرصے تک چیلنج کیا۔
- مراٹھوں نے مختلف خطوں کے ہندوستانیوں میں ایک نئے ثقافتی اعتماد کو جنم دیا اور یوں تہذیبی احیا اور اختراع میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. تجزیہ کیجیے کہ جغرافیہ (خصوصاً پہاڑوں اور ساحلی علاقوں) نے مراٹھا فوجی حکمتِ عملی اور ریاست کی تشکیل میں کس طرح مثبت کردار ادا کیا ۔
2. فرض کریں کہ آپ چھوٹے طلبا کے لیے کسی مراٹھا رہنما کی مختصر سوانح حیات لکھ رہے ہیں۔ ایک شخصیت کا انتخاب کریں (کنہوجی انگرے، باجی راؤ اوّل، مہادجی شندے، اہلیہ بائی ہولکر یا تارابائی) اور 4–3 پیراگراف تحریر کریں جن میں یہ واضح ہو کہ ان سے کیا تحریک ملی ہے۔ کم از کم ایک چیلنج کا ذکر بھی کریں جس پر انھوں نے قابو پایا۔
3. اگر آپ آج کسی مراٹھا قلعے (جیسے رائے گڑھ، سندھو درگ، جنجی یا پرتاپ گڑھ) کا دورہ کر سکیں تو آپ کس قلعے کا انتخاب کریں گے اور کیوں؟ اس کی تاریخ، فنِ تعمیر اور جنگی اہمیت پر تحقیق کریں اور اپنی تحقیق کو کلاس میں برقی پیش کش(Digital Presentation) یا پوسٹر کی صورت میں دکھائیں۔
4. باب میں کہا گیا ہے: ’’انگریزوں نے ہندوستان کو مغلوں یا کسی دوسری طاقت سے زیادہ مراٹھوں سے چھینا۔‘‘ آپ کے خیال میں اس جملے کا کیا مطلب ہے؟ باب کے کون سے شواہد اس خیال کی تائید کرتے ہیں؟
5. موازنہ کیجیے کہ شیواجی اور بعد کے مراٹھوں نے مذہبی مقامات اور مختلف عقائد کے لوگوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا۔ باب سے کون سے شواہد ان کے مذہبی تنوع کے نقطۂ نظر کو ظاہر کرتے ہیں؟
6. باب میں بتایا گیا ہے کہ قلعے مراٹھوں کے لیے ’ریاست کا مرکز‘تھے۔ یہ اتنے اہم کیوں تھے؟ مراٹھوں کو طاقت ور دشمنوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں ان سے کس طرح کی مدد مدد ملی؟
7. فرض کریں آپ کو مراٹھا سکوں کا مرکزی ڈیزائنر مقرر کیا گیا ہے۔ ایک ایسا سکہ ڈیزائن کیجیے جو مراٹھوں کی کامیابیوں اور اقدار کی نمائندگی کرے۔ اپنے منتخب کردہ نشانات اور علامتوں کی وضاحت کریں۔
8. مراٹھا دور کے اس تعارف کے بعد آپ کے خیال میں ہندوستانی تاریخ میں ان کا اہم ترین تعاون کیا تھا ؟اپنی رائے کو باب کی مثالوں کے ساتھ ایک پیراگراف میں واضح کیجیے، پھر اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ ان خیالات کا تبادلہ کریں۔