باب 4
ہندوستان کا نو آبادیاتی دور
(The Colonial Era in India)
تقریباً دو صدیوں پہلے بنگال اور دیگر مساوی صوبوں میں،ابتدائی انگریز زمین اورعوام کو لوٹ مار کا جائز شکارتصور کرتے تھے،بعد کے برطانوی دورمیں، بطورمنتظمین... لوٹ مار آج کسی بھی پچھلے دور کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جاری ہے۔ جدید انگلستان ہندوستانی دولت کے سہارے عظیم بنا ہے۔ دولت ہمیشہ طاقت اور طاقت ور کی ہنر مندی کے ذریعہ چھینی جاتی ہے۔
— ولیم ڈگبی (1901)
شکل4.1: ’مشرق اپنی دولت برطانیہ کو نذرکرتے ہوئے‘ کےعنوان سے 1778 میں یونانی مصور اسپریڈیون روما کی کی بنائی ہوئی ایک مصوری (Painting)۔ (مصوری کے بارے میں آگے گفتگو کی جائے گی)
اہم سوالات
1. نوآبادیاتی نظام کیا ہے؟
2. یورپی طاقتوں کو ہندوستان کی طرف کس چیز نے راغب کیا؟
3. نوآبادیاتی دور سے قبل اور اس کے دوران ہندوستان کی معاشی، جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کیا تھی؟
4. ہندوستان پر برطانوی نوآبادیاتی تسلط نے ملک کو کیسے متاثر کیا؟
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ مراٹھوں نے 19 ویں صدی میں برطانوی فوج کے آگے اپنی پسپائی سے قبل کافی حدتک مغل سلطنت کو کمزور کر دیا تھا۔ پھر بھی فوجی مہمات ہندوستان میں برطانوی حکومت کے تاج کا ہیرا بننے کا صرف ایک ذریعہ تھیں– حقیقت میں ہندوستان برطانوی حکومت کی سب سے بڑی نوآبادی تھا۔
نو آبادیاتی نظام کا دور(The Age of Colonialism)
اس سے پہلےکہ ہم موضوع پر آئیں ہمیں اس زمانے میں ذرا واپس جاناچاہیے اورنوآبادیاتی نظام کی حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔ اس کی عام تعریف یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس میں ایک ملک دوسرے خطے پر قابض ہو جاتا ہے، وہاں نئی بستیاں قائم کرتا ہے اور اپنے سیاسی، معاشی اور ثقافتی نظام کو مسلط کردیتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے: قبل عام دور کے پہلے الفیے میں عظیم سلطنتوں کے زمانے سے نوآبادیاتی نظام کا پتہ چلتا ہے۔عام دور کے پہلے الفیے میں عیسائی اور اسلام مذاہب کے پھیلنے سے وہ خطے بھی نوآبادیاتی نظام میں شامل ہوگئے جنھو ں نے نئے مذاہب کو قبول کیا۔
لیکن نو آبادیاتی دور ، عام طور سے 15 ویں صدی سے شروع ہوئے یورپ کی توسیع کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو کچھ ہی صدیوں میں دنیا کے بڑے حصوں تک پھیل گیا۔ جیسا کہ آپ کو اعلیٰ درجات میں علم ہوگا، جب یورپی اقتدار اور خاص طور سے اسپین، پرتگال، برطانیہ، فرانس اور نیدر لینڈ نے افریقہ، ایشیا، امریکہ، آسٹریلیا اور بحرالکاہل کے متعدد جزائر میں دنیا کے ان خطوں کے بڑے حصوں کو فتح کرنے کے بعد نوآبادیاں قائم کیں تو انھوں نے اکثر یہ فتوحات فوجی مہمات کے ذریعہ حاصل کیں جن میں مقامی عوام کا قتل یا انھیں غلام بنانا شامل تھا۔
ان ملکوں کو اس طرح کی مہمات کے لیے ترغیب کس نے دی؟ یورپی طاقتوں کے درمیان سیاسی مقابلہ آرائی نےجغرافیائی توسیع اور عالمی اثرورسوخ کے حصول کی دوڑ پیداکردی۔ جغرافیائی توسیع کے واضح معاشی مفاد تھے۔ نئے قدرتی ذرائع، نئے بازار اور نئے تجارتی راستوں تک رسائی اور اکثر لوٹ مار جیساکہ ہم جانیں گے۔ مقامی لوگوں کوعیسائیت میں تبدیل کرنا ایک اور قوی محرک تھا۔ایک کمزور لیکن بہر حال نمایاں محرک سائنسی تجسس بھی تھایعنی سیارہ زمین کی جغرافیائی شکل اور قدرتی تاریخ کا علم جمع کرنے کے لیے نامعلوم سرزمینوں کو دریافت کرنے کی خواہش ۔
اگرچہ نوآبادکار اکثر دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اُن استعماریت زدہ لوگوں کی ‘ترقی’کے لیےایک’ تہذیبی مشن‘لے کر آئے تھے جنھیں اکثر وحشی، غیرترقی یافتہ اور غیر مہذب آسیبی مخلوق قرار دیا جاتاتھا۔ حقیقت بہت مختلف تھی؛ آزادی سے محرومی ،آبادکاروں کے ذریعہ وسائل کا استحصال ،روایتی طرزِ زندگی کی تباہی اور غیر ملکی تہذیبی اقدار کو مسلط کرنا۔ یہ حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے دور نے دنیا کو یکجا کیا، معاشیات اور ٹیکنالوجی میں
تیزی سے ترقی آئی لیکن زیادہ تر فوائد نوآبادکاروں کو حاصل تھے۔کئی تاریخی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں لوگوں کو بہت سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔
آئیے معلوم کریں
آپ کے خیال میں کارٹون( شکل 4.3) کیا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ (یاد رہے کہ ٹیلی گراف جس کی فوری ترسیلات کے لیے اجازت دی گئی تھی، اس وقت نئی ایجاد تھی)تصویر کے مختلف عناصر کا تجزیہ کیجیے ۔
بہت سے نوآبادیاتی خطوں میں نوآبادکاروں کے خلاف مزاحمت ہونے لگی تھی۔ بیسویں صدی کے وسط میں، خاص طور سے دوسری عالمی جنگ کے بعدنوآبادیاتی نظام کا زوال شروع ہوگیا۔ پوری دنیا میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی کئی وجوہات تھیں زیادہ تر نوآبادیاتی ممالک آزاد ہوگئے۔ یہاں ہم ہندوستان پر ہی خصوصی توجہ مرکوز کریں گے۔
ہندوستان میں یورپ کے لوگ
دو ہزار سال پہلے سے ہی ہندوستان یونانیوں اور رومیوں کے ساتھ تجارت کرتا آیا تھا۔ ہندوستانی اشیا-مسالے، روئی، ہاتھی کے دانت، ہیرے ،صندل، ساگوان کی لکڑی،کھٹالی میں پگھلائی دھات سے بنی ووٹز اسٹیل (Wootz Steel)اور دیگر اشیا کی بحیرۂ روم کے خطوں میں کافی مانگ تھی،16ویں صدی تک ، جب یوروپی طاقتوں نے بر صغیر ہند کا رخ کیا، ہندوستان ایک مضبوط اور شاندارمعاشی اور ثقافتی مرکز تھا۔ تاریخی تخمینے ( خاص طور پر ماہرمعاشیات اینگس میڈیسن ) ظاہر کرتے ہیں کہ اس پورے دور میں دنیا کی جی ڈی پی کی کم از کم ایک چوتھائی کی حصہ داری ہندوستان کی تھی جو ہندوستان کو عالمی سطح پر چین کے ساتھ(جس کی حصہ داری بھی برابر تھی) سب سے بڑی معاشی حیثیت کا مالک بناتی ہے ۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 16 ویں صدی کے کئی یورپی سیاح جنھوں نے ہندوستان کا سفر کیا ہندوستان کو “خوش حال” کہا اور اس کی صنعتی صلاحیتوں،مختلف زرعی پیداوار اور وسیع اندرونی اور بیرونی تجارتی نیٹ ورک کا اعتراف کیا ہے۔تاہم اس معاشی خوش حالی نے ہندوستان کو یورپی نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ایک پرکشش ہدف بنا دیا تھا۔
آئیے ہندوستان میں یورپ کی پہلی نوآبادیاتی طاقتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
پرتگالی: تجارت اور مظالم
مئی 1498 میں پرتگالی مہم جو اور سیاح واسکو ڈی گاما کی کپّد (کیرالہ میں کوذی کوڈ کے پاس) آمد نے ہندوستان میں یورپی نوآبادیات کے آغاز کی راہ ہمور کی۔
اگرچہ واسکو ڈی گاما کا خیر مقدم کیا گیا لیکن اس کے جارحانہ طریقے مقامی حکمرانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہے۔چار سال بعد اپنے دوسرے سفر کے دوران اس نے ہندوستانی تاجروں کو پکڑا، ظلم کیا اور مارڈالا ساتھ ہی کالی کٹ پر سمندر سے بمباری کی۔ پرتگالیوں نے گوا (1510 میں) کے ساتھ ساتھ (جو کہ ان کی نوآبادی کا دارالحکومت بنا)، جنگی اہمیت کی بندرگاہوں پر اور کئی تجارتی چوکیوں پر جو کہ مالابار اور کورومنڈل کے ساحلی علاقوں پر تھیں، قبضہ کر لیا۔
پرتگالیوں نے کارتاز (پروانۂ راہداری) کے نام سے ایک نظام نافذ کیا جس کے تحت بحیرۂ عرب میں تمام بحری جہازوں کو آنے جانے کے لیے پرتگالی اجازت نامے خریدنے کی ضرورت تھی۔ ان کے بغیر بحری جہازوں کو ضبط کر لیا جاتا تھا۔ اس بحری غلبہ نے انھیں تقریبا ایک صدی تک ہندوستان اور یورپ کے درمیان مسالوں کی تجارت پر اجارہ داری قائم کرنے کا موقع دیا۔
تجارتی استحصال کے ساتھ ساتھ مغربی ہندوستان میں پرتگالیوں کی موجودگی مذہبی مظالم سے بھی عبارت تھی۔ گوا میں انھوں نے 1560 میں کلیسائی عدالت (Inquisition)قائم کی جس نے ہندؤں، مسلمانوں ،یہودیوں اور نوعیسائیوں کو اپنے اصل عقیدے پر عمل کرنے کے شک و شبہ میں سخت اذیتیں دیں۔ اس طرح کی اذیت کے ساتھ ساتھ، دباؤ ڈال کر مذہب تبدیل کرنے، ہندوؤں کے مندروں کو توڑنے اور مقامی آبادی کوطرح طرح سے ستانے کے واقعات ہوئے تھے۔(گوا کی کلیسائی عدالت 1812 میں ختم ہوگئی۔)
ڈچ : تجارت اور مسابقت
17 ویں صدی کے اوائل میں ڈچ ہندوستان آئے اور پرتگالیوں کے برعکس تجارتی غلبہ پر ہی توجہ مرکوز کی بالخصوص مسالوں کی تجارت میں۔ انھوں نے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی اور اس کے تحت ہندوستان کے مختلف حصوں میں تجارتی چوکیاں بنائیں جن میں مغربی ساحل پرسورت، بھڑوچ، کوچین (کوچی) اور مشرقی ساحل پر ناگاپٹنم اور مسولی پٹنم (موجودہ مچھلی پٹنم) شامل ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں موجودگی کیرالہ کے مالابار علاقہ میں تھی جہاں انھوں نے کئی تجارتی مراکز سے پرتگالیوں کو بے دخل کیا۔
ہندوستان میں ڈچ کی موجودگی بالآخر محدود ہوگئی ۔1741میں کولاچل کی جنگ میں فیصلہ کن شکست کے بعد ان کی تعداد تیزی کے ساتھ کم ہوگئی۔ اس جنگ میں ٹراون کور کے راجا مارتنڈ ورما کی قیادت میں افواج نے ڈچ لوگوں کو زمین اور سمندر دونوں محاذ پر شکست دی (ٹراون کور ریاست موجودہ کیرل کے جنوبی حصہ میں واقع ہے) یہ جنگ کسی ایشیائی طاقت کےہاتھوں یورپی نوآبادیاتی نظام کی طاقت کو کامیابی کے ساتھ شکست دینے کی ایک نایاب مثال تھی۔
فرانسیسی اقتدار : نوآبادیاتی عزائم
فرانسیسیوں کے قدم ہندوستان میں ذرابعد میں آئے۔ انھوں نے 1668 میں سورت میں اپنا پہلا تجارتی مرکز قائم کیا اور اس کے بعد 1674 میں پانڈیچیری (اب پڈوچیری) میں دوسرا مرکز قائم کیا جہاں انھوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی(Compagnie Des Indes Orientales)قائم کی اور ہندوستان میں فرانسیسی اقتدارکے قیام کے لیے پرعز م منصوبے تیار کیے۔
1742 سے 1754 تک ڈوپلے فرانسیسی ہندوستان کا گورنر جنرل رہا۔ ڈوپلے نے کئی ایسی نوآبادیاتی عملی حکمتیں وضع کیں جنھیں بعد میں انگریزوں نے اپنایا۔ خاص طور سے انھوں نے ہندوستانی فوجیوں کو یورپی جنگی تکنیکوں کی تربیت دی اور ایک منظم پیدل فوج تیار کی ، جنھیں ’سپاہی‘(sepoys)کہاگیا۔ ڈوپلے نے کٹھ پتلی ہندوستانی حکمرانوں کے ذریعے بالواسطہ حکمرانی کی حکمت عملی بھی تیار کی جنھیں مقامی جانشینی کے تنازعات میں مداخلت کرتے ہوئے جانشین بنایا گیا تھا۔
ہندوستان میں فرانسیسی نوآبادیاتی عزائم پر بالآخر کرناٹک (Carnatic) جنگوں (1746-1763) کے دورا ن قابو پایا گیا۔ یہ جنگیں برطانیہ اور فرانس کے درمیان تنازعات کا ایک سلسلہ تھا۔ ڈوپلے کی سربراہی میں فرانسیسی فوجوں کی ابتدائی کامیابیوں کے باوجود، جس میں اس نے مدراس (موجودہ چنئی) پر 1746 میں قبضہ کر لیا تھا۔ آخر کار فرانسیسیوں نے انگریزوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور ان کا نوآبادیاتی نظام پانڈیچیری اور کچھ چھوٹے علاقوں تک محدود ہوگیا۔
ڈچوں کی طرح اور پرتگالیوں کے برخلاف فرانسیسی نوآبادیاتی طاقتیں ہندوستان کی سماجی اور مذہبی زندگی میں زیادہ مداخلت نہیں کرتی تھیں۔ ایک نایاب استثنائی معاملہ 1748 میں پانڈیچیری کے بڑے ویداپریشورن مندر کی تباہی کا تھا جس کا حکم ڈوپلے نے پانڈیچیری کے یسوعی پادریوں اور اپنی بیوی کے اصرار پر عیسائی مذہب کی عظمت قائم کرنے کے لیے دیا تھا۔ عام طورسے فرانسیسیوں کو ہندوستا ن کے ساتھ محدود تجارت پر ہی قناعت کرنی پڑی تھی۔
انگریزوں کی آمد
تقریباً دو صدیوں تک بر صغیر پر برطانیہ کا تسلط رہا ۔یہ کیسے ہوا؟ بہت سی کتابوں میں انگریز حکمرانوں کے
طریقۂ کار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ہم ایک مکمل کہانی سنانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ہندوستان میں ان کی نوآبادیاتی موجودگی کے اہم پہلوؤں پر ضرور توجہ دیں گے۔
تاجروں سے حکمرانوں تک
ہندوستان پر برطانوی فتح تاریخ کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے کہ کس طرح ایک تجارتی کمپنی کی سامراجی طاقت میں تبدیلی ممکن ہے۔ کلاسکی فتوحات کے برعکس ہندوستان پر برطانوی قبضہ بتدریج ، منصوبہ بند اور اکثر فوجی یلغار کے بجائے تجارتی اداروں کےبھیس میں تھا۔
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام ایک تجارتی کمپنی کے طور پر ہوا تھا۔ اسے ملکۂ الیزبتھ اول نے ایک شاہی چارٹر دیا تھا جس سے اسےخصوصی اختیارات ملے۔ مثال کے طور پر نجی فوج کا قیام۔ تاہم اس کے نمائندوں نے ابتدا میں خود کو محض تاجروں کے طور پر ہی پیش کرنے کا ڈھونگ کیا جس سے انھیں 17 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحلی علاقوں جیسے سورت ، مدراس،بمبئی اور کلکتہ پر کم سے کم مزاحمت کے ساتھ قدم جمانے کا موقع ملا ۔ مقامی حکمرانوں کو ان تجارتی چوکیوں کے قیام پر اعتراض نہیں تھا کیوں کہ وہ ہر پہلو سے غیر ملکی تجارت کا استقبال کرتے تھے (جو ہمیں یاد ہے کہ ہندوستان میں ایک دیرینہ رواج تھا) ان معمولی ابتدائی معاملات نے کمپنی کے طویل مدتی عزائم کو چھپا دیا تھا ۔
آئیے معلوم کریں
اس سے قبل کہ آپ آگے پڑھیں ، اس باب کے پہلے صفحے پرموجود مصوری کو بغور دیکھیں ۔اس کا حکم خصوصی طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے مرکزی دفتر(Headquarters) لندن سے دیا گیا تھا اور اس کی لمبائی تین میٹر سے زیادہ تھی ۔ اس مصوری کے ہرپہلو کا مشاہدہ کریں یعنی اس میں موجود افراد، اشیا، علامتیں اور رویوں کا۔ چار یا پانچ طلبا کےگروپ بنائیں اور ہر گروپ کو تصویر کے مقاصد کے حوالے سے اپنے نتائج پیش کرنے دیں ۔
( آپ کو ہمارے جوابات کچھ صفحات بعد مل جائیں گے جب ہم تصویر پر واپس جائیں گے لیکن ابھی ان کو دیکھنے سے گریز کریں )
’بانٹو اور حکومت کرو‘ کی حکمت عملی
تاجروں کی ظاہری شکل کو کو برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کے ایجنٹوں نے مقامی حکمرانوں کے ساتھ سیاسی تعلقات استوار کیے۔ کچھ لوگوں کو ان کے حریفوں کے خلاف فوجی مدد کی پیش کش کی ۔ اس طرح انھوں نے ہندوستان کے سیاسی تنازعات میں مداخلت کی اور غیر ملکی حملہ آوروں کے بجائے حکمرانوں کے ثالث کے طور پرابھرے۔انھوں نے علاقائی حکمرانوں کے درمیان عداوتوں یا حکمراں خاندانوں کے جانشینی کے تنازعات میں اپنا کھیل دکھایا تاکہ ان تنازعات سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔یہ تھی ’بانٹو اور حکومت کرو‘کی حکمت عملی۔ انگریز ہندوستانی معاشرے میں انتشار کا استحصال کرنے میں بھی ماہر تھے۔ مثال کے طور پر انھوں نے مذہبی فرقوں کے درمیان تناؤکو سمجھ لیا اور اکثر اس کی حوصلہ افزائی کی۔
پلاسی کی جنگ (1757) اس ذہنیت کی مثال ہے۔ جب بنگال کے نواب سراج الدولہ اور رابرٹ کلائیوکی سربراہی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہل کار وں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تو انگریزوں نے نواب کے دربار میں ناراض عناصر کی نشان دہی کی۔ کلائیو نےنواب کے فوجی کمانڈر میر جعفر کے ساتھ ایک سازش رچی اور اس کی غداری کے بدلے میں اسےنیا نواب مقرر کرنے کا وعدہ کیا ۔ یہ جنگ پلاشی (انگریز اسے پلا سی بولتے تھے ) کے مقام پر موجود ہ کولکاتہ سے تقریباً 150 کلو میٹر شمال میں ہوئی ۔ چند فرانسیسی فوجیوں نے نواب کی مدد کی لیکن میر جعفر کی فوجیں جو کہ نو اب کی فوج کی اکثریت پر مشتمل تھیں، ایک طرف کھڑی ہو گئیں جس سے تعداد میں کم ہونے کے باوجود انگریزوں کی فتح کو انھوں نے یقینی بنا دیا ۔ آج بھی ہندوستان میں میر جعفر’ غداری ‘کامترادف ہے۔
خود کو’ شاہ ساز‘(Kingmaker) کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی نے آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے بڑے علاقوں کو اپنے قبضے میں کر لیا ۔ 19 ویں صدی میں اس نے ایک اور قدم آگے بڑھ کر مذموم نظریۂ الحاق (Doctrine of Lapse) متعارف کرایا جس کے مطابق کسی بھی شاہی ریاست کے حکمران کی موت اس صورت میں ہوتی ہے کہ اس کا فطری وارث مرد نہ ہو تو وہ ریاست ملحق کر لی جائے گی ۔ اس نے دانستہ طور پر ہندوؤں میں گود لینے کی روایت کو نظر انداز کر دیا ۔ یہ روایت ہندوستانی شاہی گھرانوں میں جانشینی کا ایک جائز طریقہ تھا۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ہندوستانی تناظر میں شاہی ریاست ایسا علاقہ تھا جو کسی ہندوستانی شہزادے ، مہا را جا یا نو اب کے زیر حکومت تو رہتا تھا لیکن جس نے اندرونی خود مختاری برقرار رکھنے کے بدلے برطانوی تحفظ اوررہنمائی کو قبول کر لیا تھا۔ ان میں بڑی ریاستیں(جیسے حیدر آباد ، میسور، ٹراون کو ریا جموں اور کشمیر ) سے لے کر چھوٹی ریاستیں بھی شامل تھیں۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت 500 سے زیادہ شاہی ریاستیں تھیں جو بر صغیر کے تقریباً 40 فیصدی حصے پر محیط تھیں۔
الحاق کا نظریہ (Doctrine of Lapse) متعدد ریاستوں کے الحاق کا باعث بنا جس نے انگریزوں کے علاقائی تسلط کی توسیع میں تعاون کیا ۔ اس سے ہندوستانی معاشرے میں کچھ جگہ خاصی ناراضگی پیدا ہو گئی جس نے 1857 کی بغاوت میں اپنا کردار ادا کیا۔(جس پر ہم آئندہ بات کریں گے)
ایک اور حکمت عملی (جسے’ ماتحتی معاہدہ‘ (subsidiary Alliance)کہا جاتا ہے) ہندوستانی حکمرانوں کی عدالتوں میں ایک برطانوی ’ریسیڈنٹ‘ کی تقرری تھی تا کہ انھیں اندرونی یا بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اس کے بدلے انھیں اپنے خرچ پر برطانوی فوجوں کی دیکھ بھال کرنی تھی اور خارجی اُمور صرف انگریزوں کے ذریعہ ہی انجام دیے جاتے تھے۔ بظاہریہ نظام شاہی ریاستوں کی خود مختاری کو برقرار رکھنے کےلیے متعارف کرایا گیا تھا لیکن اس نظام سے اصل طاقت انگریزوں کی طرف اچھی طرح منتقل ہو گئی اور ہندوستانی حکمرانوں پراپنی محکومی کے اخراجات کا بار آپڑا ۔
اس معاہدے کو سب سے پہلے حیدرآباد کے حکمران نے 1798 میں قبول کیا۔ جلد ہی دوسروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس طرح نام نہاد معاہدوں سے انگریزوں کو براہِ راست انتظامی اخراجات کےبغیر بڑےعلاقوں پر اپنا اختیار قائم کرنے کا موقع مل گیا جس سے’ کم خرچ میں حکومت‘ کا قیام ممکن ہوا ۔ ایک بار جب کوئی ریاست اس نظام کے تحت آجاتی تو اس سے باہر نکلنا نا ممکن ہوتا کیوں کہ آزاد ہونے کی کسی بھی کوشش میں اسے انگریزی فوج کا سامنا کرنا پڑتا ۔
جنت سے دوزخ کی طرف ؟
تباہ کن قحط
پلاسی کی فتح کے چند سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کوبنگال، بہار اور اڈیشہ — ہندوستان کی چند خوش حال ریاستوں میں مال گزاری وصول کا حق حاصل ہوا ۔ کلائیو نے خصوصی طور پر بنگال کو ’زمین کی جنت‘ سے تعبیر کیا ۔ کمپنی کے نمائندوں نے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کی جب کہ انتظامی یا ترقیاتی کاموں میں کم سے کم سرمایہ کاری کی ۔جس سے عام لوگوں پر تباہ کن اثرات پڑے۔
1770 سے 1772 کے دوران جب دو برس تک کی فصلیں خراب ہونے پرفصل کی پیداوار کے حالات سے قطع نظر بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے عائد کیے گئے سخت محصولات کے اہداف کےلیے کسانوں کو اپنی زمینوں کی پیداوار پر نقد ٹیکس کی اعلی شرح دا کرنا پڑا۔اس کی وجہ سے ایک تباہ کن قحط درپیش آیا جس میں تقریباً ایک تہائی آبادی ختم ہوگئی یا ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ افراد ہلاک ہو گئے۔ درحقیقت کمپنی نے محصولات جمع کرنے کے سخت اہداف مقرر کر رکھے تھے۔ یہاں تک کہ قحط کے دوران زمین کے لگان میں بھی اضافہ کر دیا ۔ اس طرح کے مظالم کی مذمت بعد میں نہ صرف ہندوستانی شخصیات نے بلکہ چند برطانوی حکام اور عوامی دانش وروں نے بھی کی( جیسے ولیم ڈگبی جن کا ہم نے اس باب کے آغاز میں حوالہ دیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک صدی بعد ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W.W. Hunter) جو ایک اہل کا رتھا ، اس نے لکھا:
اس طرح کے اندوہ ناک قحط پورے ہندوستان میں انگریزوں کے دور حکومت میں باربار آنے والے تھے۔مثال کے طور پر 1876-1878 کے عظیم قحط کے دوران 80 لاکھ ہندوستانی زیادہ تر دکن کے پٹھار میں ہلاک ہوئے ۔
بحر ان کی شدت کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ ہندوستانی تاجروں نے قیمتوں میں اضافے کی امید میں اپنے ذخیرہ شدہ مال کو روکے رکھا جس کی وجہ سے مصنوعی قلت جیسی صورت حال پیدا ہو گئی اور برطانوی انتظامیہ نے برطانیہ کو اناج کی برآمد جاری رکھی۔ قحط کے تین سال کے دوران ہر سال تقریباً 10 لاکھ ٹن چاول برآمد کیا گیا۔(شکل 4.8)
مذکورہ عوامل کے علاوہ ’آزاد بازار‘ کی برطانوی معاشی پالیسی جس نے اشیا کی قیمتوں کو اتار چڑھاؤ کے لیے آزاد چھوڑ دیا،جس سےقحط کی شدت میں اضافہ ہوا ۔اس طرح 1876-1878 کے قحط کے دوران ہندوستان کے وائسرائےلارڈ لیٹن نے حکم جاری کیا کہ ’’حکومت کی جانب سے خوراک کی قیمتوں میں کمی کے مقصد سے کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جائے گی ۔‘‘اسی وقت 1876 میں جب شدید قحط اپنے عروج پر تھا ، لیٹن نے دہلی میں ایک شاندار دربار منعقد کیا جس میں 68000 اہل کاروں ، صوبے داروں اور مہاراجاؤں کے لیےایک ہفتہ تک چلنے والی دعوت شامل تھی ۔
پورے برطانوی دور حکومت میں ہونے والے شدید قحط کی صحیح تعدادتقریباً 12 سے 20 تک مانی جاتی ہے ۔ کئی قحط سے متعلق اداروں اور دوسرے رودادوں کے مطابق یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کےنقصان (انسان، جب کہ کروڑوں مویشی اور دوسرے جانور بھی مارے گئے) کی کل تعداد 5 کروڑ سے 10 کروڑ کے درمیان رہی جو دوسری جنگ عظیم میں مارے گئے لوگوں کی تعداد کے برابر ہے۔
برطانوی انتظامیہ نے کچھ شہروں میں قحط کے امدادی کیمپ کھولے (شکل (4.9) لیکن بہت کم اور نا کافی سامان کے ساتھ۔ کچھ عہدے داروں نے اصرار کیا کہ قحط کی امداد کو دانستہ طور پرکافی کم رکھا جائے ۔ مثال کے طور پر 1878-80 کے قحط سے متعلق کمیشن نے کہا:’’ یہ نظریہ کہ قحط کے وقت غریب امداد کا مطالبہ کرنے کے حق دار ہیں... شاید اس نظریہ کی طرف انھیں لے جائے گا کہ وہ ہر بار اسی طرح کی امداد کے مستحق ہیں۔ ‘‘
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کی تاریخ میں قحط، خشک سالی ، سیلاب، فوجی مہمات اور دیگر عوامل کی وجہ سے آئے تھے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر کبھی نہیں آئے ۔ نو آبادیاتی دور کے دوران ہندوستان خاص طور پر دیہی ہندوستان بھاری غربت میں ڈوب گیا اور پھر کبھی اس سے باہر نہ آسکا۔
ہندوستانی دولت کی منتقلی
جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ، ہندوستان میں معاشی استحصال نے برطانوی نو آبادیاتی نظام کی بنیاد ڈالی ۔ 1895 میں امریکی تاریخ داں اور ماہرسیاسیات بروکس ایڈمس نے لکھا :
دوسرے لفظوں میں ایڈمس کے مطابق برطانیہ میں صنعتی انقلاب جسے کثیر سرمایہ کاری کی ضرورت تھی، جزوی طور پر ہی سہی ہند وستان سے لوٹی گئی دولت سے ممکن ہوا ( یہ جملہ امریکی مؤرخ ول ڈیور سے ماخوذ ہے)
ایڈمس اور ڈگبی جیسے اسکالروں سے متاثر دادا بھائی نو روجی نے جو ایک قابل احترام سیاسی شخصیت تھے 1901 میں ہندوستان میں غربت اور غیر برطانوی اقتدار کی تصنیف کی جس میں انھوں نے برطانوی رپورٹوں کی روشنی میں اس دولت کا اندازہ لگایا ہے جو ہندوستان سے باہر لے جائی گئی ۔ تقریباً اسی وقت تاریخ داں رومیش چندر دت نے اپنی ہندوستان کی معاشی تاریخ (Economic History of India ) میں یہی بات کہی ۔ ان تمام مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نو آباد کا ر ہندوستان سے کئی ارب پاؤنڈباہر لے گئےتھے۔ جدید تخمینہ (اتسا پٹنایک)کے مطابق 1765 سے 1938کی مدت کے دوران ہندوستان سے (آج کی قیمت میں) تقریباً 45 کروڑ کھرب امریکی ڈالر نکالی گئی جو برطانیہ کی 2023 کی جی ڈی پی کا تقریباً 13 گنا ہے! یہ نہ صرف ٹیکسوں سے حاصل کیا گیا تھا بلکہ ہندوستانیوں سے ریلوے ، ٹیلی گراف نیٹ ورک اور یہاں تک جنگوں پر ہونے والے اخراجات کے لیے وصول کیا گیا تھا!
اگر یہ دولت ہندوستان میں لگائی جاتی تو آزادی کے وقت یہ ایک مختلف ملک ہوتا ۔
آئیے معلوم کریں
آپ کے خیال میں دادا بھا ئی نوروجی کا ’ہندوستان میں غیر برطانوی حکومت‘ سے کیا مطلب تھا ؟ (اشارہ: وہ 1982 میں ہاؤس آف کامن میں ایم پی تھے)
آیئے غور و فکر کریں
آئیے اب ہم اس مصوری کی طرف لوٹتے ہیں (شکل 4.14)لیکن اس بار اس کی رمزیت کے بارے میں کچھ معلومات کے ساتھ۔ غورکریں کہ کس طرح برطانیہ(برطانوی حکومت کی علامتی شکل) نوآبادیات سے اوپر ہوکر بیٹھاہے جو اس کی برتر طاقت کی طرف اشارہ ہے برعکس کمتر حیثیت والی اور چھوٹے رقبے والی نوآبادیات کے جن کو نیچے کی سطح پر اور جھکی ہوئی حالت میں دکھایاگیا ہے ۔کیا واقعی انھوں نے اپنی دولت کی پیش کش کی تھی ؟ یا برطانیہ نے اس پر بزور طاقت یا فریب دہی سے قبضہ کیا؟ ہندوستا نیوں کی سیاہ رنگت (برطانیہ کے برعکس )پر بھی غور کریں جو سیاہ فام قدیم ’باشندوں ‘پر سفید فام لوگوں کی برتری کی عکاسی کرتا ہے۔
بدلتے ہوئے افقی مناظر
وسیع ہوتے ہوئے نو آبادیاتی اقتدار نے ہندوستانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا کیوں کہ حکمران اس بات کے قائل تھے کہ ہندوستان کو ان کے اعلی تصورات کے مطابق نئی شکل دی جانی چاہیے ۔ آئیے ان میں سے چند اثرات کو مختصراً دیکھتے ہیں۔
ہندوستان کی مقامی صنعتوں کا زوال
(Decline of India’s indigenous industries)
18ویں صدی سے پہلےہندوستان اپنی صنعتی صلاحیتوں کے لیے مشہور تھا، خاص طور پرکپڑا سازی ،کپاس، ریشم، اون، پٹ سن(Jute) ،سن اور ناریل کے ریشے(Coir) کی صنعت میں۔ ہندوستانی کاٹن ٹیکسٹائل خاص طور پر بھرپور اور پیچیدہ ڈیزائنوں ، چمک دار رنگوں اور باریک ململ سے لے کر کندہ کاری والے کپڑوں کی دنیا کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ مانگ تھی۔
آئیے معلوم کریں
کیا آپ ہندوستانی پارچہ سازی(Textiles)کی وضاحت کے لیے مندرجہ بالا تمام اصطلاحات کو سمجھتے ہیں؟ اگر نہیں تو چار یا پانچ کے گروپ بنائیں اور مزید جاننے کی کوشش کریں۔ پھر اپنے استاد کی مدد سے اپنے نتائج کا موازنہ کریں۔
برطانوی حکمت عملی نے برطانیہ میں درآمد ہونے والے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر بھاری ڈیوٹی عائد کردی۔ جب کہ ہندوستان کو مجبور کیا کہ وہ برطانوی تیار کردہ سامان کو کم سے کم ٹیرف کے ساتھ قبول کرے۔ مزیدبرآں برطانیہ اب زیادہ تر سمندری تجارت کے ساتھ زر مبادلہ کی شرحوں کو بھی کنٹرول کرنے لگا۔ اس لیے ہندوستانی تاجروں کو پہلے کی طرح بر آمدات کرنا مشکل ہو گیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت تباہ ہوگئی۔19 ویں صدی میں ہندوستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ۔ جب کہ ہندوستان میں برطانیہ کی درآمدات میں اور بھی تیزی سے اضافہ ہوا ۔ ہنر مند کا ری گروں کی برادریاں جنھوں نے نسلوں سے اپنے ہنر کی مشق کی تھی وہ غربت زدہ ہوگئے تھے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس والی زمین پر زراعت کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جیسا کہ ہندوستان کے گورنر جنرل ولیم بینٹک نے 1834 میں مشاہدہ کیا تھا ’’ سوت بننے والوں کی ہڈیاں ہندوستان کے میدانی علاقوں کو سفید فام کر رہی ہیں۔‘‘
اسی طرح کے حالات ہندوستان میں لو ہے، اسٹیل ، کاغذ اور دیگر سامان کی تیاری میں سامنے آئے۔ نوآبادیاتی دورمیں عالمی جی ڈی پی میں ہندوستان کا حصہ کم ہوتا رہا۔ آزادی کے وقت بمشکل 5 فیصد تک رہ گیا ۔ دو صدیوں سے بھی کم عرصے میں دنیا کا ایک امیر ترین ملک غریب ترین ملک بن گیا تھا۔
روایتی طرز حکمرانی کے ڈھانچے کا خاتمہ
برطانوی نو آبادیات سے پہلے ہندوستان میں مقامی خود حکمرانی کامنظم نظام موجود تھا۔ دیہی کونسل معاشرے کے مسائل کی دیکھ بھال کرتی تھی، تنازعات حل کرتی اور آب پاشی، سڑکوں جیسی عوامی سہولتوں کومنظم کرتی۔ علاقائی مملکتوں نے پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کو اپنا یا جو صدیوں میں مقامی ضروریات اور حالات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہوا تھا ۔ 1830 کی دہائی میں قائم مقام گورنر جنرل چارلس میٹکاف نے اس اہم بیان میں اس نظام اور اس کی کارکردگی کو بیان کیا ہے:
انگریزوں نے منظم طریقے سے ان مقامی طرز حکمرانی کے نظاموں کو ختم کر دیا۔ ان کی جگہ ایک مرکزی بیورو کریسی کا قیام عمل میں لایا گیا جو بنیادی طور پر عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے بجائے ٹیکس کی وصولی اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس تبدیلی نے کمیونٹی فیصلہ سازی کے صدیوں پر انے طریقہ کار کو تباہ کر دیا ۔
برطانوی مجموعۂ قوانین کے تعارف نے روایتی قوانین اور رسومات کو یکسر نظر انداز کردیا، جو نسلوں سے ہندوستانی برادریوں میں رائج تھے۔ اگرچہ جدید کاری کے طور پر پیش کیا گیا لیکن دراصل یہ ایک غیرملکی نظام تھا جو ہندوستان کے حالات کے مطابق نہیں تھا۔ اس کے نتیجے میں عام ہندوستانی عدالتی نظام سے دورہوتے گئے کیوں کہ عدالتیں مہنگی، وقت طلب اور ایک غیر ملکی زبان میں چلائی جاتی تھیں۔
ہندوستانی تعلیم کی یکسر تبدیلی: بھورے انگریز بنانا
تعلیم ہندوستانیوں کے ایسے طبقے کی تخلیق کا ایک طاقت ورذریعہ تھی جو برطانوی مفادات کو پورا کرسکے۔ پچھلی صدیوں میں ہندوستان میں متنوع تعلیمی روایات تھیں جیسے: پاٹھ شالائیں، مدارس، وہار اورہنرسیکھنے (Apprenticeship)کی بہت سی شکلیں۔ یہ ادارے نہ صرف عملی علم منتقل کرتے تھے بلکہ ثقافتی اقدار اور روایات بھی نسل در نسل پہنچاتے تھے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی رپورٹ بتاتی ہیں کہ ہندوستان میں لاکھوں دیہی اسکول موجود تھے(مثال کے طور پر 1830 تک صرف بنگال اور بہار میں 100,000 سے 150,000اسکول تھے)جہاں نوآموز طلبا کو پڑھنا، لکھنا اور حساب سکھایا جاتا تھا وہ بھی نہایت کم خرچ، نہایت سادہ اور مؤثر طریقۂ تعلیم کے تحت ...‘‘
ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں ایک بڑا اور فیصلہ کن موڑ 1835 میں برطانوی مؤرخ اور سیاست داں تھامس بی. میکالے کےبدنام زمانہ ہندوستانی تعلیم کا محضرنامہ سے آیا۔ اس میں اگر چہ اس نے اعتراف کیا کہ’’ اسے سنسکرت یا عربی کا کوئی علم نہیں ہے‘‘ لیکن اس نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ یورپی علم ہندوستان سے کہیں زیادہ برتر تھا۔’’ مجھے ان میں (مستشرقین )کوئی ایسا نہیں ملا جو اس بات سے انکار کرسکے کہ ہندوستان اورعرب کا تمام مقامی ادب ایک اچھی یورپی لائبریری کی ایک الماری کے برابر تھا۔ ‘‘ اس لیے ہندوستانیوں کو برطانوی تعلیم کی ضرورت تھی ،جس کامقصد ہندوستانیوں کا ایک طبقہ تیار کرنا ہوگا جو ’خون اور رنگ میں ہندوستانی لیکن مزاج ، خیالات، اخلاقی آداب اور ذہانت میں انگریز ہو۔‘‘
کچھ ممتاز برطانوی مستشرقین کی اس رائے کے باوجود کہ ہندوستانی طلبا کو ان کی اپنی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چھوڑ دیا جانا چاہیے، میکالے کی پالیسی کو بالا دستی حاصل ہوئی اور ہندوستان کے روایتی اسکول آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔ جب کہ انگریزی نو آبادیاتی آقاؤں سے وابستہ افراد کے لیے وقار کی زبان بن گئی جس کے نتیجے میں ہندوستانی معاشرے میں انگریزی تعلیم یافتہ خاص اشرافیہ اور عوام کے درمیان دائمی تفریق پیدا ہوگئی۔
نئے تعلیمی نظام نے کئی نو آبادیاتی مقاصد کو پورا کیا۔ اس نے ہندوستانی کلرکوں اور چھوٹے افسروں کا ایک گروہ بنایا جو نو آبادیاتی انتظامیہ کے نچلے درجوں میں برطانوی عملے کے مقابلے میں بہت کم لاگت پر خدمات انجام دے سکتے تھے۔ اس نے علم اور اقتدار کے روایتی ذرائع کو بھی پس پشت ڈال دیا اور نسلوں تک ہندوستانیوں کو اپنے ثقافتی ورثے سے کاٹ دیا۔
آیئے غور و فکر کریں
میکالے کا اصل مقصد کیا تھا جب اس نے لکھا تھا کہ”ایک اچھی یورپی لائبریری کی ایک الماری ہندوستان اور عرب کے تمام مقامی ادب کے برابر تھی۔“ اور وہ ہندوستانیوں کو’’ مزاج، خیالات ، اخلاقی آداب اور ذہانت میں انگریز“کیوں بنانا چاہتا تھا ؟ اس کا باب کے آغاز میں مذکور ’تہذیبی مشن‘ سے کیا تعلق ہے ؟ اپنے استاد سے ان سوالات پر کلاس میں بحث کی قیادت کرنے کو کہیں ۔
سامراجی ضروریات کی تکمیل کے لیے معاشی ڈھانچے کی باز تشکیل
انگریزوں نے ہندوستانی معیشت جو ایک خود کفیل زرعی نظام جس کے شانہ بشانہ دست کاری اور مصنوعات سازی تھی، کو برطانوی صنعت کے لیے خام مال فراہم کرنے والے اور برطانوی سامان خریدنے پر مجبور بازار میں تبدیل کردیا۔ اس معاشی تبدیلی کی تکنیکی تفصیلات میں جائے بغیر ہم ہندوستان کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر کی مثال لیتے ہیں جسے اکثر نو آبادیاتی نعمت کے طور پیش کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ریلوے نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب اور ہندوستان کی اندرونی بازار کو مربوط کیا۔تاہم یہ بنیادی طور پر خام مال کو برآمد کےلیے بندرگاہوں تک لے جانے اور پورے ہندوستان میں برطانوی مصنوعات کی تقسیم کے لیے وضع کیا کیا گیا تھا۔ ریلوے کے راستوں نے نوآبادیاتی معاشی مفادات کو پورا کرنے کے لیےبڑی حد تک رائج تجارتی طریقوں کو نظر اند از کر دیا ۔ایک اور مقصد یہ تھا کہ دور دراز کی بغاوت اور جنگ کا سامنا ہونے پر فوجوں کو ان کی چھاؤنیوں سے تیزی سے منتقل کیا جائے ۔
اس کے علاوہ ہندوستانی ریلوے کی تعمیر نو آبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے ہندوستا ن کو تحفہ نہیں تھی۔ اس کا زیادہ تر حصہ ہندوستانی ٹیکس سے ادا کیا گیا،یعنی یہ وہ بنیادی ڈھانچہ تھا جس کا خرچ ہندوستانیوں نےاٹھایا لیکن زیادہ تر برطانوی تزویراتی اور تجارتی مفادات کے لیے کام آتا تھا، نہ کہ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے۔ یہی بات ٹیلی گراف نیٹ ورک کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔
یہاں تک کہ نو آبادیات کے انتظامی اخراجات بھی ہندوستانی رعایا نے برداشت کیے۔ نو آبادیاتی انتظامی آ لات ، فوجی تنصیبات اور ہندوستان میں برطانوی حکام کے شاہانہ طرز زندگی کی مالی کفالت ہندوستانی ٹیکسوں سے ہوتی تھی ۔ مختصر یہ کہ ہندوستانیوں نے اپنی محکومی کے لیے مالیات بھی فراہم کی تھی۔
ابتدائی مزاحمتی تحریکیں : نو آبادیاتی اقتدار کو چیلنج
ہندوستان انگریزوں کے لیے دولت ، قدرتی اور انسانی وسائل کا اتنا بڑا ذریعہ تھا کہ انھوں نے اسے برطانوی سلطنت کے ’تاج میں ہیرا‘ کا لقب دیا اور انھوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ہمیشہ اس برطانوی سلطنت کا حصہ رہے گا ’’جس میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔ ‘‘
اس پر غور و فکر کیجیے
’’برطانوی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا‘‘سے کیا مراد ہے ؟ کیا آپ کے خیال میں یہ ایک درست بیان تھا ؟
تاہم ، ہندوستان پر برطانوی فتح کے تقریباً آغاز سے ہی مزاحمتی تحریکیں اس بن بلائے مہمان کو پسپا کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔ ہم اس طرح کی چند تحریکوں کا مختصراًجائزہ لیں گے لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہم برطانوی ہندوستانی سلطنت کے نقشے پر اچھی طرح سے نظر ڈالیں (شکل 4.16) سرخ اور گلابی علاقے وہ ہیں جو براہ راست برطانوی انتظامیہ کے ماتحت ہیں جب کہ پیلے رنگ کی وہ ریاستیں ہیں جن پر ہم گفتگو کر چکے ہیں۔(کالی لکیریں ریلوے لائنوں کو دکھاتی ہیں۔)
آئیے معلوم کریں
نقشے کی جانچ کریں۔ سرحدوں اور ناموں دونوں کے لحاظ سے آج کے ہندوستان کے نقشے میں کیا بنیادی فرق ہے ؟
سنیاسی – فقیر بغاوت
ابتدائی منظم مزاحمتی تحریکوں میں سے ایک، جسے اکثر سنیاسی (یا سنیاسی- فقیر) بغاوت کہا جاتا ہے بنگال میں 1770 کے خوف ناک قحط کے بعد شروع ہوئی ۔سنیاسیوں کا گروہ (ہندو سنیاسی) اور فقیر ( مسلم درویش ) جو روایتی طور پر یاترا اور خیرات کے لیے آزادانہ طور پر سفر کرتے تھے، ان کی نقل و حرکت پر برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسیوں، خاص طور پر زمین اور ٹیکس کی نئی پالیسیوں کی وجہ سے پابندی لگ گئی ۔ سنیاسیوں اور فقیروں کی مخصوص حرکات پر بحث ہوتی رہی ہے لیکن آئندہ تین دہائیوں میں انھوں نے برطانوی خزانوں اور ٹیکس جمع کرنے والوں پر حملہ کیا۔ انگریزوں نے انھیں ڈاکو کہا، ان میں سے کچھ کو مار ڈالا اور بالآخر انھیں شکست دینے میں اپنی برتر طاقت کا استعمال کیا ۔اس بغاوت نے بعد میں بنگالی مصنف بنکم چندر چٹوپاددھیائے کو ناول ’آنند مٹھ‘(1982) لکھنے کی ترغیب دی۔ اس میں ‘وندے ماترم ’گا نا شامل ہے ،جس نے آزادی کی جدوجہد کے دوران ہندوستانیوں کو متاثر کیا تھا اور آزادی کے بعد ہندوستان کا قومی گیت بن گیا ۔
قبائلی شورشیں
ہندوستان کی قبائلی برادریوں کو عجیب خطرات کا سامنا کرنا پڑا جب انگریزوں نے جنگلوں اور پہاڑیوں میں توسیع کی اور ان کے روایتی طرز زندگی کو متاثر کیا۔ انگریزوں نے قبائیلیوں کو’ قدیم زمانے کی مخلوق‘ قرار دے کر جنگلات اور جنگل کی پیداوار تک ان کی رسائی کو محدود کردیا۔ بعض اوقات انھوں نے قبائلی زمین پر قبضہ کر لیا یا اسے نجی ملکیت میں تبدیل کر دیا ، نقد ٹیکس لگایا ، قبائلیوں کو قرضے کے جال میں پھنسایا ، روایتی قبائلی کونسلوں کو برطانوی قانونی نظام میں تبدیل کردیا اور مشنریوں کو قبائلیوں کو ’مہذب ‘بنانے اور اُنھیں عیسائی مذہب قبول کروانے کی ترغیب دی۔ اس کے علاوہ ایک نوآبادیاتی قانون نے سیکڑوں قبائلی گروہوں کو مجرمانہ قبائل قرار دیا جس سے اُنھیں کئی دہوں تک بلا قصور ہراساں کیا گیا۔
مندرجہ بالا زیاد تیوں نے کچھ قبائل کو نو آبادیاتی طاقت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ۔ اس طرح کے ابتدائی واقعات میں چھوٹا ناگپورمیں ( موجودہ جھار کھنڈ) کول شورش (1831-1832) اس وقت شروع ہوئی جب انگریزوں نے آراضی سے متعلق پالیسیاں متعارف کروائیں جو اصل قبائلی باشندوں پر بیرونی لوگوں کو ترجیح دیتی تھیں ۔ کول قبائل (جن میں دوسروں کے ساتھ منڈا اوراورائوں شامل تھے) نے برطانوی افواج کے ہاتھوں شکست کھانے سے پہلے عارضی طور پر اہم علاقے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ سنتھال بغاوت (1855-1856) موجودہ جھارکھنڈ ،بہار اور مغربی بنگال کے کچھ حصوں میں سنتھال لوگوں کی ایک وسیع سطح کی بغاوت تھی جس کی قیادت دو بھائیوں سدھو اور کا نومر مو نے کی اور ساہوکاروں اور زمین داروں کے خلاف بغاوت کی جو برطانوی حمایت سے ان کی آبائی زمینیں چھین رہے تھے ۔سنتھال نے اپنی حکومت کا اعلان کیا اور ’خون کے آخری قطرے‘ تک لڑنے کا عزم کیا ۔ برطانوی رد عمل وحشیانہ تھا۔ کچھ ابتدائی نقصانات کے بعد انھوں نے پورے گاؤں کو جلا دیا اور ہزاروں سنتھالوں کو ہلاک کر دیا ، جن میں ظاہر ہے باغی رہنما بھی شامل تھے۔ پھر بھی بہادر سنتھالیوں کی بغاوت نے دیگر قبائیلی برادریوں کو نو آبادیاتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کرنے کی ترغیب دی۔
آیئے معلوم کریں
1856 کے اس خاکے (شکل 4.17) میں، جو ایک فن کار کے تخیل پر مبنی ہے، سنتھالوں کی جس طرح تصویر کشی کی گئی ہے اس پر غور کریں۔ ان کی رنگت ، لباس ، ہتھیاروں کا مشاہدہ کریں اور اس تصویر کے حوالے سے اپنے نتائج اخذ کریں جو یہ تصویر برطانیہ کے عوام کے ذہنوں میں پیدا کرے گئی ۔
معاشی استحصال کے خلاف کسانوں کی شورشیں
قحط کے بغیر بھی کسانوں کو برطانوی محصولات کی غیر منصفانہ ٹیکس وصولیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اکثر وہ ساہوکاروں یا جاگیر داروں کے ہاتھوں اپنی زمینوں سے محروم کر دیے جاتے تھے۔ انڈی گوبغاوت (1859-1862) اس استحصال کی تشریح کرتا ہے۔یورپی کاشت کاروں نے بنگال کے شمالی حصوں میں کسانوں کو غذائی فصلیں ترک کرنے اور اس کے بجائےنیل کی کاشت کرنے پر مجبور کیا۔کیوں کہ نیل (Indigo) رنگ کی اس وقت یو رپ میں بہت مانگ تھی ۔ کاشت کاروں سے لے کرتا جروں تک سب نےبہت زیادہ منافع کمائے ۔ سوائے کسانوں کے جنھیں ادا کی گئی رقم اتنی کم تھی کہ وہ قرض کی غلامی میں پھنس گئے۔ جب انھوں نے نیل اگانے سے انکار کر دیا تو انھیں قید ،تشدد اور اپنی املاک کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی بغاوت کا رخ زیادہ تر زمینداروں (Planters)کی طرف تھا جنھوں نے جواباً کرائے کے سپاہی رکھ کر کسانوں پر حملے کرائے۔ کسانوں کی جدوجہد کو پڑھے لکھے بنگالیوں اور بنگالی پریس کی حمایت حاصل تھی۔ برطانوی حکام کو بالاآخر کچھ بدترین زیادیتوں کو محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
آئیے معلوم کریں
نیل ایک قدرتی گہرا نیلا رنگ ہے جو کپڑوں کی رنگائی میں استعمال ہوتا ہے۔ کیا آپ دوسرے قدرتی مادوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو روایتی طور پر ہندوستان میں کپڑے کو رنگنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں؟
برصغیر میں برطانوی راج کے خلاف کئی اور قابل ذکر بغاوتیں ہوئیں، جو پہلے ذکر کردہ برطانوی راج کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ مل کر انیسویں صدی کی سب سے بڑی بغاوت کی طرف لے گئیں۔ آئیے اب اس کا رخ کریں۔
1857 کی عظیم بغاوت
انگریزوں نے اسے’سپاہیوں کی بغاوت‘ (Sepoy Mutiny)کا نام دیا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سپاہی وہ ہندوستانی فوجی تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ اس کے افسران تقریباً سبھی برطانوی تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد مورخین نے ’سپاہی بغاوت‘ کی اصطلاح کو مسترد کر دیا۔اس کی بجائے چنداور نام تجویز کیے۔ بہت سےاسکالروں کی پیروی کرتے ہوئے ہم اس واقعہ کو’ 1857 کی عظیم بغاوت ‘کہیں گے۔ لیکن حقیقت میں کیا ہوا؟
آیئے معلوم کریں
آپ کے خیال میں اصطلاح ’سپاہی بغاوت‘ (Sepoy Mutiny) ہندوستان کی آزادی کے بعد کیوں مسترد کر دی گئی؟ ایک پیراگراف میں اپنے دلائل بیان کیجیے؟
اس سے پہلے بھی سپاہیوں میں شدید بے اطمینانی کی کئی علامات موجود تھیں جن کی شروعات نام نہاد ’ویلور کی بغاوت‘ 1806 سے ہوئی تھی ۔یہ اس وقت بھڑک گئی جب انگریزوں نے نئے یکساں ضوابط متعارف کرائے جو ہندو اور مسلمان دونوں سپاہیوں کے مذہبی طور طریقوں کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ہندوئوں کو ماتھے پر مذہبی نشانات لگانے سے منع کیا گیا تھا اورمسلمانوں کے لیے داڑھی منڈوانا ضروری تھا۔ سپاہیوں نے ویلور قلعہ (موجودہ تمل ناڈو میں) پرقبضہ کر لیا اور بہت سے برطانوی افسروں اور فوجیوں کو ہلاک کر دیا ۔ پھر بھی انگریزوں نے بغاوت کو کچل دیا اور سینکڑوں سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا یا پھانسی دے دی گئی۔
ہمیں یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ زیادہ تر سپاہی زرعی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جنھیں زمین کے محصولات پر برطانوی پالیسیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کاسامناتھا۔ کئی دہائیوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد 1857 میں شمالی اور وسطی ہندوستان میں افواہیں پھیلیں کہ رائفل کے کارتوسوں کو گائے اور سور کی چربی سے چکناکیا گیا تھا جس سے ہندو اور مسلم سپاہیوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ بیرک پور (موجودہ مغربی بنگال میں) سپاہی منگل پانڈے نے برطانوی افسران پر حملہ کیا۔ اس کی پھانسی سے سپاہیوں میں اور بھی ناراضگی پھیل گئی۔ میرٹھ (موجودہ اتر پردیش)میں ان میں سے چند لوگوں نے انگریزی افسران کو قتل کر دیا اور دہلی کی جانب کوچ کیا جہاں انھوں نے بوڑھے مگر سیاسی طور سے کمزور (ان کی سلطنت دہلی کے چھوٹے علاقے تک ہی محدود رہ گئی تھی) مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اپنا قائد تسلیم کر لیا۔ حالاں کہ فوجی فیصلے کمانڈروں نے ہی لیے تھے۔ یہ بغاوت تیزی سے شمالی اور وسطی ہندوستان میں پھیل گئی۔ سپاہیوں نے کانپور، لکھنؤ اور جھانسی جیسے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا۔ کانپور میں نانا صاحب کی قیادت میں باغی فوجوں نے ابتدائی طور پر برطانوی شہریوں کو محفوظ راستہ دینے پر رضا مندی ظاہر کی لیکن پھر 200 سے زیادہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہوا، جس کی وجوہات پر اب بھی بحث جاری ہے۔
برطانوی رد عمل منظم اور انتہائی و حشیانہ تھا جس کی شروعات ستمبر 1857 میں دہلی پر دوبارہ قبضے سے ہوئی، جہاں برطانوی فوجوں نے گھر گھر قتل عام کیا۔ کانپور میں انھوں نے لوگوں میں دہشت پھیلانے کے لیے بڑی تعداد میں پھانسیاں دیں۔ سزا دینے کی ایک طویل مہم میں انھوں نے گاؤں کے گاؤں جلایا اور فصلوں کو برباد کیا جس کی وجہ سے بے شمار ہلاکتیں ہوئیں جو کہ باغیوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ تھیں۔
بعض مؤرخین کے مطابق عظیم بغاوت ناکام ہو گئی کیوں کہ سپاہیوں کے پاس چند بہادر لیڈران کے باوجود ایک متحد کمانڈ اور ایک مستقل حکمت علمی کا فقدان تھا۔
بغاوت ناکام ہو گئی لیکن یہ ایک اہم موڑ بھی ثابت ہوئی، خاص طور سے اس خیال کا بیج بونے میں کہ غیر ملکی تسلط نا قابل قبول ہے۔ یہ بیج 20ویں صدی کے اوائل میں آزادی کے لیے ایک مکمل جد و جہد کے طور پر پروان چڑھا ،اگر چہ طریقے مختلف تھے۔ اس دوران 1858 میں تاجِ برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان کا براہ راست اختیار چھین لیا جس سے برطانوی راج کا دور شروع ہو گیا۔ برطانوی پالیسیاں جا رحانہ علاقائی توسیع سے تسلط کے استحکام کی طرف منتقل ہو گئیں۔ہندوستانی فوج کو دوبارہ منظم کیا گیا تاکہ مستقبل میں متحد مزاحمت کو روکا جاسکے۔
ہندوستان میں یورپی استعماریت کی میراث
ہندوستان پر یورپی (بیشتربرطانوی) فتح اور حکمرانی کوئی تہذہبی مشن (Civilising Mission)نہیں تھی۔ہندوستان کی اپنی تہذیب یورپ کی تہذیب سے کافی قدیم تھی۔ در حقیقت یہ محکومی اور استحصال کا منظم طریقہ تھا ،جس میں ضرورت پڑنے پر وحشیانہ جبربھی شامل تھا۔ سوائے ایک چھوٹے سے اشرافیہ طبقہ کے جس نے برطانوی حکمرانی کو ناگزیر سمجھ کر قبول کیا۔ ہندوستانیوں نے دنیا کی نوآبادیاتی استحصال کے شکار عوام جیسے حالات کا سامنا کیا: یعنی بدسلوکی، استحصال، تشدد اوربیخ کنی ۔
اس کے ساتھ ہی نوآبادیاتی اقتدار کےکچھ بڑی حد تک غیر ارادی نتائج سامنے آئے۔ اس نے ہندوستان کو دنیا کے لیے اوردنیا کو ہندوستان کے لیے (یا دوبارہ )کھول دیا۔ برطانوی(اور بہت محدود حد تک فرانسیسی) جغرافیہ سے لے کر اپنی فتح کے ہر پہلو کو منظم طور پر دستاویزی شکل دے رہے تھے۔ (انھوں نے بر صغیر کا نہایت باریک بینی سے سروے کیا) تمام نسلی گروہوں کی تفصیلی فہرستیں بنائیں حالاں کہ فہرستیں غیر سائنسی اور مروجہ تصورات کی وجہ سے ناقص تھیں (جیسا کہ جینیات نے ثابت کیا ہے۔’نسلوں کا کوئی وجود نہیں ہے‘) انھوں نے ہندوستان کی یادگاروں (Monuments) کو بھی دستاویزی شکل دی۔ ان کے آرٹ اور فن تعمیر کا مطالعہ کیا، کچھ تباہ شدہ عمارتوں کو بحال کیا اور آثار قدیمہ کے نظم وضبط کا آغاز کیا۔ لیکن اس عمل میں انھوں نے (اور دیگر نوآبادیاتی طاقتوں نے) ہندوستان سے ہزاروں مجسمے، مصوری، زیورات، مخطوطات اور دیگر ثقافتی نوادرچوری کر لیے اور انھیں یورپی عجائب گھروں یا ذاتی ذخیروں میں منتقل کر دیا ۔ جہاں یہ ایک گہرے ثقافتی نقصان اور ہندوستان کے ورثے کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہےوہیں اس نے یورپی عوام میں ہندوستانی آرٹ کی قدر کو بھی فروغ دیا۔ نوآبادیاتی دنیا کے بیشتر حصوں میں اسی طرح چوریاں ہوئی تھیں ۔ آج ان ثقافتی خزانوں میں سے کچھ کو ان کے آبائی ممالک میں واپس بھیجنے کے لیے بحث و مباحثے اور کوششیں جاری ہیں۔
آیئے معلوم کریں
� اس جملے میں ‘‘اس نے ہندوستان کو دنیا کے لیے اور دنیا کو ہندوستان کے لیے(دوبارہ) کھولا۔’’ آپ کے خیال میں ‘‘دوبارہ کھولا’’ کیوں شامل کیا گیا ہے؟
- بعض کا کہنا ہے کہ چوری شدہ ثقافتی ورثے کو بیرون ملک میں اس سے بہتر طور پر محفوظ کیا گیا ہے جتنا کہ ہندوستان میں ہوتا، اس کی وطن واپسی کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟ گروپوں میں بحث کریں۔
اگرچہ برطانوی اسکالر سنسکرت زبان پر عبور حاصل کرنے والے پہلے یورپی نہیں تھے لیکن انھوں نے کچھ سنسکرت متون کے ترجمے کی اشاعت یورپی زبانوں میں شروع کی۔ جلد ہی فرانس، جرمنی اور دیگر نے ان کی پیروی کی۔ محرکات ملے جلے تھے۔ بعض اسکالر ہندوستان کی قدیم ثقافت کے سنجیدہ طالب علم یا مداح تھے جب کہ دوسروں کو یقین تھا کہ ہندوستانی زبانوں اور متون کا مطالعہ کرنے سے عیسائیت کی برتری کو واضح کرنا زیادہ آسان ہوگا۔
یورپ میں سنسکرت کے علوم اور متون کا فروغ (بعد میں دیگر ہندوستانی زبانیں) جرمن فلسفی جارج ہیگل کے مطابق ”ایک نئے بر اعظم کی دریافت“ جیسا تھا۔ ہندوستانی تحریروں کا یورپی فلسفیوں، ادیبوں، شاعروں، فن کاروں اور بعض اوقات سیاست دانوں پر گہراثر پڑا۔ یہ اثر انیسویں صدی میں ریاست ہائے امریکہ تک پھیل گیا۔یہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ اگرچہ سیاسی غلبہ ایک سمت میں بہہ سکتا ہے لیکن ثقافتی اثرات بعض اوقات مخالف سمت میں بھی بہہ سکتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں
� پرتگالی، ڈچ، فرانسیسی اور انگریز بنیای طور پر ہندوستان کی طرف اس کی بڑی دولت کی وجہ سے راغب ہوئے۔ وہ برصغیر پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے آپس میں لڑے جس میں انگریزوں کو بالادستی حاصل ہوئی۔
� برطانیہ کی بے رحمانہ ٹیکس پالیسی نے لوگوں کو بہت پریشان کیا۔ وہ خاص طور پر شدید قحط اور لاکھوں اموات کا سبب بنی۔ ہندوستان کی دانستہ عدم صنعت کاری نے ایک زمانےمیں پھلتے پھولتے ہندوستانی صنعتی سیکٹر کو تباہ کر دیا۔
� رفتہ رفتہ انگریزوں نے ہندوستانی معاشرے پر مکمل نوآبادیاتی تسلط کو یقینی بنانے کے لیے اپنے انتظامی ڈھانچے، قانونی نظام اور تعلیمی اداروں کو مسلط کیا۔
� پرتگالیوں نے گوا میں مذہبی تبدیلی اور ثقافتی تبدیلی پر توجہ مرکوز کی جو دیرپا سماجی تفریق کا سبب بنا۔ انضمام کی فرانسیسی پالیسی نے پانڈیچیری میں ثقافتی طور پر فرانسیسی ہندوستانیوں کا ایک چھوٹا اشرافیہ طبقہ پیدا کیا۔
� 18ویں صدی کے اواخر سے کئی بغاوتیں ہوئیں۔1857 کی عظیم بغاوت نے کچھ عرصے کے لیے نوآبادیاتی اقتدار کو خطرے میں ڈال دیا۔ ان میں سے زیادہ تر بغاوتوں کو بے دردی سے دبا دیا گیا۔
� 19ویں صدی میں ہندوستان کی کلاسیکی ثقافت(خاص طور پر ترجمہ شدہ سنسکرت متون کے ذریعے)مغرب تک پہنچی جس سے ایک دیرپا اثر قائم ہوا۔
سوالات اور سرگرمیاں
1 . نوآبادیات کیا ہے؟ اس باب یا اپنے علم کی بنیاد پر تین مختلف توضیحات دیں۔
2 . نوآبادیاتی حکمران اکثر دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا مشن ان لوگوں کو مہذب بنانا تھا جن پر وہ حکومت کرتے تھے۔ اس باب میں موجود شواہد کی بنیاد پر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کے معاملے میں یہ درست تھا؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
3 . ہندوستان کی نوآبادکاری کے لیے برطانوی نقطۂ نظر، پرتگالی یا فرانسیسی جیسی سابقہ یورپی طاقتوں سے کیسے مختلف تھا؟
4 . ”ہندوستانیوں نے اپنی محکومی کی مالی کفالت کی‘‘ ہندوستان میں برطانوی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے جیسے ریلوے اورٹیلی گراف نیٹ ورک کے تناظر میں اس کا کیامطلب ہے؟
5 . ’بانٹوں اور حکومت کرو‘ کا کیا مطلب ہے؟ انگریزوں نے ہندوستان میں اس کو کس طرح استعمال کیا۔ اس کی مثالیں دیں۔
6. ہندوستانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ منتخب کریں جیسے زراعت، تعلیم، تجارت، یا گاؤں کی زندگی۔ نوآبادیاتی اقتدار سے یہ کیسے متاثر ہوا؟ کیا آپ ان تبدیلیوں کے آثار آج بھی اپنے آس پاس دیکھتے ہیں؟ ایک مختصر مضمون، نظم، ڈرائنگ یا مصوری کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔
7. تصور کریں کہ آپ 1857 میں ایک رپورٹر ہیں۔ جھانسی میں رانی لکشمی بائی کی مزاحمت پر ایک مختصر رپورٹ لکھیں۔ ایک وقوعی ترتیب یا اسٹوری بورڈ شامل کریں جس میں اہم واقعات اور قائدوں کو نمایاں کرتے ہوئےدکھایا جائے کہ بغاوت کیسے شروع ہوئی، پھیلی اور ختم ہوئی؟
8. ایک متبادل تاریخ کا تصور کریں جہاں ہندوستان کو کبھی یورپی طاقتوں نے نوآبادیات نہیں بنایا تھا۔ تقریباً 300 الفاظ پر مشتمل ایک مختصر کہانی لکھیں جس میں یہ دریافت کیا جائے کہ ہندوستان اپنےطریقے سے کیسے ترقی کر سکتا تھا۔
9. ادائیگی کردار: ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی اقتدار پر ایک برطانوی عہدے دار اور داد ابھائی نوروجی جیسی ہندوستانی شخصیت کے درمیان تاریخی بحث کوڈرامائی شکل میں پیش کریں۔
10. نوآبادیاتی دور میں اپنی ریاست یا علاقے سے مقامی مزاحمتی تحریک (قبائلی، کسانوں یا شاہی) کا پتہ لگائیں ، مندرجہ ذیل وضاحتوں کے ساتھ ایک رپورٹ یا پوسٹر تیار کریں۔
� مخصوص محرک کیا تھا، اگر کوئی ہو؟
� تحریک کی قیادت کس نے کیَ؟
� ان کے مطالبات کیا تھے؟
� انگریزوں نے کیا جواب دیا؟
� اس واقعہ کو آج کس طرح یا د کیا جاتا ہے۔ (مثلاً مقامی تہوار، گیت، یادگاریں)؟