Skip to content
Qr






باب 5

عام حق رائے دہی اور ہندوستان کا انتخابی نظام
(Universal Franchise and India’s Electoral Systems)



[ہندوستان] نے بالغ رائے دہی کے اصول کو قبول کرتے ہوئے عام آدمی اور جمہوری نظام کی یقینی کامیابی پر بے پناہ اعتماد کا مظاہرہ کیا... دنیا کی تاریخ میں اس قدر جرأت مندانہ تجربہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔‘‘

— الّادی کرشن سوامی ا یّر

دستور ساز اسمبلی میں بحث، نومبر 1949

news

شکل5.1: 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بڑے اخبارات کی نمایاں سرخیاں . . . .


اہم سوالات

  1. عام بالغ رائے دہی کیا ہے؟
  2. انتخابی نظام کیا ہوتا ہے؟
  3. ہندوستان کا انتخابی نظام کس طرح کام کرتا ہے؟
Screenshot 2026-03-13 at 09-30-53 Chapter 5.pdf

شکل 5.2

عا م بالغ حق ِ رائے دہی
(Universal Adult Franchis)

آئین سازوں نے طے کیا تھا کہ عام بالغ حق رائے دہی ابتدا سے ہی ہندوستانی جمہوریت کی بنیادی خصوصیت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بالغ شہری کو ایک ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے اور ہر ووٹ کی قدر یکساں ہے۔ اس طرح، 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہر ہندوستانی شہری ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے، خواہ اس کی ذات، نسل، مذہب، جنس، تعلیم یا آمدنی کچھ بھی ہو۔لفظ عام(Universal) یہی مطلب رکھتاہے۔

آئیے معلوم کریں

ہندوستان نے 1988 میں ووٹ دینے کی عمر کو 21 سال سے گھٹا کر 18سال کر دیا۔ آپ کے خیال میں کیا یہ ایک اچھا فیصلہ تھا؟ اس پر بحث کیجیے۔

عام حق رائے دہی ہندوستانی جمہوریت کا سنگِ بنیاد ہے۔ لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور دیہات و شہروں کےبلدیاتی اداروں کے انتخابات اسی عام حقِ رائے دہی کے اصول پر مبنی ہیں ( آئینِ ہند کی دفعہ 326)۔یاد رکھیں کوئی بھی شخص دوسرے کا ووٹ نہیں ڈال سکتا۔

کیا آپ حساب لگا سکتے ہیں کہ پہلی بار ووٹ ڈالنے کے لیے آپ کوکتنا انتظار کرنا ہوگا؟

اپنے ووٹ کے حق کے استعمال کے لیے ضروری ہےکہ آپ اپنے حلقے میں رائے دہندہ کے طورپر درج ہوں البتہ اگر کوئی کسی سنگین جرم کا مرتکب پایا گیا تو اسے ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔

کیا آپ کو یاد ہے کہ ہندوستان میں 2024 کے موگرما میں عام انتخابات ہوئے تھے؟ لوک سبھا کے 543 حلقوں میں تقریباً 98 کروڑ رائے دہند گان ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔

انتخابی حلقہ (Constituency): ایک ایسا علاقہ جس کے رائے دہندگان کسی قانون ساز ادارے کے لیے نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہندوستان میں 2,50,000 سے زیادہ بلدیاتی ادارے ہیں جن میں 31 لاکھ منتخب نمائندے موجود ہیں۔ (ان میں سے 13 لاکھ نمائندے خواتین ہیں)۔یہ سبھی نمائندے عام بالغ حق رائے دہی کے اصول کے تحت جمہوری طورپر منتخب کیے گئے ہیں۔

اس وسیع عمل کومنعقد کرانے اور اس کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ایک جامع اور منظم انتخابی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس باب میں ہم یہ جانیں گے کہ ووٹ ڈالنے کا حق کس کو حاصل ہے، انتخابات کی کتنی اقسام ہیں، انتخابی نظام کیا ہے، اورکس طرح منعقد کیا جاتا ہے۔

نظام (System) :

ایک دوسرے سے جڑے ہوئے یا ایک دوسرے پر منحصر عناصر کا ایک مجموعہ جو مشترکہ مقصد یا عمل کو حاصل کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

  • آز ادی سے پہلے صرف 13فیصد ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کی اجازت تھی اور اُس وقت عام حق رائے دہی نافذ نہیں تھی۔ اس بارے میں ہم کتاب کے دوسرے حصے میں پڑھیں گے۔
  • ہندوستان دنیا کے اُن اولین ممالک میں شامل ہے جنھوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا۔ مثال کے طور پر، سوئٹزرلینڈ میں خواتین کو یہ حق 1971 میں حاصل ہوا۔ بہت سے ممالک میں خواتین نے اس بنیادی جمہوری حق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کی۔اس کے برعکس ہندوستان نے اپنے ترقی پسند آئینی بصیرت اور قدیم جمہوری روایات کی بنیاد پر شروع ہی سے خواتین کو حق رائے دہی فراہم کیا۔
  • The_Just_Government_League

    شکل 5.3: ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں خواتین کی حقِ رائے دہی پریڈ1913 میں

آئیے معلوم کریں

1947 میں ہندوستان کی شرح خواندگی 14 فیصد تھی اور خواتین میں تویہ صرف 8 فیصد کے قریب تھی۔ اُس وقت کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ووٹ دینے کا حق صرف پڑھے لکھے افراد کو ہونا چاہیے۔ اپنے گروپ میں اس بات پر گفتگو کریں کہ آئین سازوں نے آزادی کے فوراً بعدعام حق رائے دہی کا فیصلہ کیوں کیا۔

عام حق رائے دہی کی اہمیت کے کئی اسباب ہیں۔ ان میں سے چند وجوہات ذہنی نقشے (Mind Map)کی صورت میں ذیل میں پیش کی گئی ہیں۔ کیا آپ چند کا اضافہ کرسکتے ہیں؟

Screenshot 2026-03-13 at 14-31-42 Chapter 5.pdf

شکل 5.4: کسی جمہوریت میں عام حقِ رائے دہی کی اہمیت–خالی خانے میں آپ دواسباب کا ذکر اپنی طرف سے کریں۔

رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے شرکت کو ممکن کرنا : عام حق رائے دہی کو یقینی بنانا

جمہوریت اس وقت پروان چڑھتی ہے جب ہر شہری کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انتخابی عمل میں شریک ہو۔ رائے دہندگی عوام کے لیے اپنی رائے اور اپنی مرضی کا اظہار کرنے کا ایک
طاقت ور ذریعہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں یہ سب کس طرح کیا جاتا ہے؟

ہندوستان ایک وسیع، متنوع اور پیچیدہ ملک ہے۔ مثال کے طورپر یہاں ووٹروں کی تعداد برطانیہ کے مقابلے میں پندرہ گنا زیادہ ہے اور رقبے کے لحاظ سے ہندوستان فرانس سے چھ گنا بڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا جغرافیائی تنوع بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے ہندوستان کے انتخابی نظام کو ان تمام پیچیدگیوں کو پیشِ نظر رکھ کر منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہندوستان میں انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی ہے۔ (اس باب میں ہم ای سی آئی کے کردار کے بارے میں تفصیل سے جانیں گے۔) الیکشن کمیشن نے ووٹ کے حق کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ہر رائے دہندہ کی شمولیت کویقینی بنانے کے لیے متعدد اختراعی اقدامات کیے ہیں۔

انتخابی اہل کار یہ یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی شہری اپنے جمہوری حق رائے دہی سے محروم نہ رہے، دور دراز کے علاقوں تک کا سفر کرتے ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ بزرگوں اور معذور افراد کے لیے گھر سے ووٹ ڈالنے کا انتظام کیا گیا۔ اسی طرح، مخصوص زمرے کے ووٹروں کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ مزید برآں، سہولت کے لیے معاون ٹیکنالوجی جیسے بریل والے ووٹرکارڈ اوروہیل چیزیا ریمپ جیسی سہولتوں کی درخواست کے لیے ایپ پرمبنی نظام بھی متعارف کرایاگیا۔

آئیے معلوم کریں

گروپوں میں یہ بحث کریں کہ ایسے اقدامات جمہوریت میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے رسائی کو بہتربنانے کی ان سہولتوں سے فائدہ اٹھایا ہو؟یہ اقدامات آپ کے علاقے میں ووٹروں کی شمولیت کو کس طرح بڑھا سکتے ہیں؟ٹیکنالوجی اس میں کیسے مددگار ہوسکتی ہے؟

اگر آپ کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے توای سی آئی کی ویب سائٹ پر جائیں: https://www.eci.gov.in/
persons-with-disabilities )
۔وہاں آپ معذور افراد کی انتخابی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات کے بارے میں پڑھیں اور ان کی شناخت کریں۔

disabilitiesScreenshot

شکل 5.5

Screenshot 2026-03-13 at 14-36-58 Chapter 5.pdf

شکل5.6: ہندوستان کا انتخابی نظام ہر شہری کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کرتاہے جس میں ایک تنہا خاتون ووٹر کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن کا اہتمام کرنا، پوسٹل ووٹنگ کا انعقاد اور وہیل چیئر کی مدد کا اہتمام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

آئیے معلوم کریں

2024 کے انتخابات میں تقریباً 34 فیصد اہل ووٹروں نے اپنا ووٹ نہیں ڈالا۔آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوا ہوگا؟ لوگوں کو اپنےحق رائے دہی کے استعمال میں کن مسائل یا رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے آپ اپنے خاندان اور محلے کے بزرگ افراد کے ساتھ ایک چھوٹا سا سروے کریں۔ پھر نتائج کا تجزیہ کریں اور تجاویز کے ساتھ ایک رپورٹ لکھیں کہ کس طرح ہر شہری کے ذریعے ووٹ ڈالنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

دسویں صدی کے اُترمیرور کے مخطوطات میں نمائندوں کے انتخاب کے لیے ایک نہایت شفاف طریقہ کار درج ہے۔ اس کے مطابق اہل امیدواروں کے نام کھجور کے پتوں کے چھوٹے ٹکڑوں پر لکھے جاتے اور پھران ٹکڑوں کو ایک برتن میں ڈال کر مہربندکر دیا جاتا۔ انتخاب کے دن یہ برتن سب کے سامنے کھولا جاتا۔ اس کے بعد ایک کم عمر بچہ کسی خاص ترتیب کے بغیر ایک ایک پتا نکالتا اور ایک معزز شخص اپنا خالی ہاتھ دکھا کرمنتخب امیدواروں کے ناموں کو سب کے سامنے پڑھ کر سناتا۔


classroom_guitar

شکل 5.7

کلاس کے نمائندے کاانتخاب — گریڈ 8، سرو ودیہ ودیالیہ

کلاس کے نمائندے کے سالانہ انتخاب کا وقت آ گیا۔ کلاس کا نمائندہ اساتذہ سے ملاقاتوں میں پوری کلاس کی نمائندگی کرے گا، تقریبات کا انعقاد کرے گا اور طلبا اوراسکول انتظامیہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنےگا۔ اس بار تین طلبا—احمد، گرمت اور روی — نے اس عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ کلاس ٹیچر محترمہ اوشا کو انتخابی افسر نامزد کیا گیا تاکہ وہ یہ یقینی بنا سکیں کہ انتخابی عمل منصفانہ، شفاف اور تمام ضابطوں کے مطابق منعقد ہو۔

یہاں ہر امیدوار کا مختصرتعارف پیش ہے:

احمد نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کلاس روم اور کھیل کے میدان کی صفائی ستھرائی کو بہتر بنائے گا۔

گرمت نے اپنے تمام ہم جماعت کی بہتر تعلیم میں دل چسپی ظاہر کی۔ اس نے مشترکہ مطالعے اور باہمی تعاون پر مبنی ایک نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

روی نے خواہش ظاہر کی کہ کلاس کے ٹائم ٹیبل میں نئے نصاب کے مطابق پر آرٹ کے نصاب جیسے موسیقی، تھئیٹر اور بصری آرٹ کو زیادہ اہمیت دی جائے۔

Screenshot 2026-03-13 at 15-24-56 Chapter 5.pdf

شکل 5.8

انتخابی مہم

احمد نے اپنی مہم کے دوران پوسٹر آویزاں کیے، گرمت نے نوٹس بورڈکا استعمال کیا اور ہم جماعتوں سے گفتگو کی، جب کہ روی نے کھانے کے وقفہ کے دوران اپنے خیال کو فروغ دینے کے لیے ایک موسیقی پر مبنی پروگرام کا اہتمام کیا۔انتخابی افسر کی حیثیت سے محترمہ اوشا کو انتخابات کا انعقاد کرنا تھا اور اس بات کو یقینی بنانا تھاکہ یہ پورے طور پر منصفانہ انداز میں منعقد ہوں۔انھوں نے تمام طلباکو خفیہ رائے دہی کے اصول سمجھائے تاکہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کس نے کس کو ووٹ دیا اور اس عمل کو شخص اور منصفانہ بنایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے کلاس روم کے ایک کونے میں پولنگ بوتھ قائم کیا گیا۔

رائے دہی کا دن

انتخابات کے دن ہر طالب علم کو ایک پر چہ رائے دہی (Ballot paper) دیا گیا جس پر تینوں امیدواروں کے نام درج تھے۔ طلبا سے کہا گیا کہ وہ اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے ’X‘ کا نشان لگائیں۔محترمہ اوشا نے یہ بھی یقینی بنایا کہ نیہا کے لیے بریل میں بیلٹ پیپر دستیاب ہو۔ جب تمام طلبا اپنے ووٹ ڈال چکے تو محترمہ اوشا نے بیلٹ پیپر ایک باکس میں جمع کیے اور گنتی کے وقت تک کے لیےاسے مہربندکردیا۔

نتائج

تمام 33 ووٹ ڈالے جانے کے بعدمحترمہ اوشا نے گنتی کے عمل کا مشاہدہ کرنے کے لیےبرابر کی کلاس سے محترمہ شیبا کو بلایا۔ ایک بیلٹ پیپر پر نشان نہیں لگا تھا اس لیے اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔ انتخابی نتائج کا اعلان کیا گیا، احمد کو 8، گرمت کو 12 اور روی کو 10 ووٹ ملے۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی گرمت کو کلاس کا نیا نمائندہ قرار دیا گیا۔ اس نے اپنے ہم جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اوراس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گی۔ احمد اور روی نے گرمت کو مبارک باد دی اور تعاون کی پیش کش کی۔

آئیے معلوم کریں

  • اس نظیرمیں انتخابی عمل کے سب سے اہم پہلو کیا ہیں؟
  • خفیہ رائے دہی کاہونا کیوں ضروری تھا؟
  • طلبانے اپنی پسند کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں پر غور کیا ہوگا ؟
  • کیا آپ کے خیال میں گرمت کے کلاس کی نمائندہ کے طور پر منتخب ہونے کے بعد طلبا کی کوئی ذمہ داری ہے؟ اگر ہاں، تو وہ کیا ہیں؟
  • محترمہ اوشا نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ کیوں اہم تھا؟
  • محترمہ اوشا کے لیے نیہا کی خاطر بریل بیلٹ کا بندوبست کرنا کیوں ضروری تھا؟
  • کیا ہوتا اگر کلاس میں بہت سے طلبا نے اپنی پسند کو نشان زد نہ کیا ہوتا؟

اسے دیکھنا نہ بھولیں

تصور کریں کہ اگر کوئی طالب علم احمد، گرمت یا روی میں سے کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینا نہ چاہے ہو تو اس کے پاس کیا متبادل ہو گا؟ ہندوستان سمیت کچھ ممالک اضافی متبادل کے طور پر NOTA (اوپر میں سے کوئی نہیں) فراہم کرتے ہیں۔ اگر ووٹر کسی بھی امیدوار سے مطمئن نہیں ہے تو اسے تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا ایک اضافی متبادل دیا جاتا ہے۔ اس سے نتائج تبدیل نہیں ہوتے لیکن یہ پیغام جاتا ہے کہ رائے دہندگان ایک بہتر متبادل چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں نوٹا (NOTA)ایک خاموش لیکن طاقت ور ہتھیار ہے۔


الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کا کردار

ہمارے ملک کے بڑے حجم اور اس کی زبردست تنوع کو مدِنظر رکھتے ہوئے انتخابی عمل کو منظم کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس حصے میں ہم ان مختلف قسم کے انتخابات پر نظر ڈالیں گے جن کا انعقاد اور نگرانی الیکشن کمیشن آف انڈیا کرتا ہے۔

یاد رکھیں

ہندوستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہے، جہاں شہری قومی سطح پر لوک سبھا (پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں) کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ لوک سبھا میں ملک کو درپیش بڑے مسائل پر غور کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ووٹر اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں جہاں ان کا اندراج ہےریاستوں اور مرکز کے زیرِانتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے بھی نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ ان اسمبلیوں کے ارکان بنیادی طور پر مقامی اور علاقائی مسائل پر توجہ دیتے ہیں۔

یہ صرف دو بڑی مثالیں ہیں جن کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن آف انڈیا کرتا ہے۔ آنے والے حصوں میں ہم انتخابات کی دیگر اقسام پر بھی نظر ڈالیں گے۔ انتخابی عمل کو سمجھنے سے پہلے آئیے ہم الیکشن کمیشن آف انڈیا سے واقفیت حاصل کریں، یہ ادارہ اس پورے انتخابی عمل کو سنبھالتا ہے۔

یاد رکھیں

گریڈ چھ میں آپ نے گرام پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں کے براہِ راست انتخابات کے بارے میں پڑھا تھا۔ یہ انتخابات ریاستی الیکشن کمیشن کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا— ایک مختصر تعارف

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) ایک آزاد آئینی ادارہ ہے جو ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس کا قیام 1950 میں عمل میں آیا۔ یہ کمیشن لوک سبھا، راجیہ سبھا، ریاستی قانون ساز اسمبلیوں اور صدر و نائب صدر کے انتخابات منعقد کراتا ہے۔آزاد ہندوستان کے پہلے عام انتخابات 1951-1952 میں منعقد ہوئے تھے۔

Screenshot 2026-03-13 at 14-42-08 Chapter 5.pdf

الیکشن کمیشن آف انڈیا انتہائی اہم کام انجام دیتا ہے، مثلاً:

سیاسی جماعتوں کا رجسٹریشن کرنا

انتخابات کی تاریخوں کا تعین

پورے انتخابی عمل کی نگرانی کرنا

مثالی ضابطۂ اخلاق کا نفاذ

شکل5.9: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے انجام دیے جانے والے کام

شکل 5.10: دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کا دفتر

شکل5.11: الیکشن کمیشن آف انڈیا کا ڈھانچہ

انتخابی عمل کا بندوبست

ہندوستان میں انتخابی بندوبست ایک بہت بڑا کام ہے۔ ہندوستان کا الیکشن کمیشن آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے جدید ہندوستان کی ضروریات کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے۔ انتخابی نظام بہت بڑا ہے اور اسے مؤثرطورپر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے مثال کے طور پر لوک سبھا انتخابات کو لیتے ہیں۔غورکریں کہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ تمام انتخابات مختلف اوقات میں باقاعدگی سے ہوتے ہیں۔ اس لیے ملک کے مختلف حصوں میں ہر سال کئی انتخابات مقررہ مدت پر کرائے جاتےہیں۔

Screenshot 2026-03-13 at 14-44-31 Chapter 5.pdf

شکل 5.12: کچھ اعداد و شمار جو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے پیمانے کو ظاہر کرتے ہیں۔

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تعداد بہت بڑی ہے۔ اس سارے عمل میں معاونت کے لیے اساتذہ سمیت بہت سے لوگ حسب ضرورت مل جل کر کام کرتے ہیں۔

آئیے معلوم کریں

اپنے اسکول یا محلے کے ان اساتذہ کی شناخت کریں جنھوں نے الیکشن ڈیوٹی کی ہو ۔ ایسے اساتذہ کو اپنی کلاس میں ان کے تجربات بتانے کے لیے مدعو کریں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

84 لوک سبھا حلقے درج فہرست ذاتوں کے لیے اور 47 حلقے درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہیں۔

لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات
میں
ووٹنگ کا طریقۂ کار

Screenshot 2026-03-13 at 14-45-31 Chapter 5.pdf

پہلا پولنگ آفیسر: ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں دیکھتا ہے اور اس کی شناختی کارڈ کی تصدیق کرتا ہے۔

دوسرا پولنگ آفیسر: ووٹر کی انگلی پر سیاہی لگاتا ہے، پرچی جاری کرتا ہے اور دستخط یا انگوٹھے کا نشان لیتا ہے۔

تیسرا پولنگ آفیسر: ووٹر سے پرچی واپس لیتا ہے اور انگلی پر سیاہی کی موجودگی کو چیک کرتا ہے۔ اس پرچی میں NOTA (اوپر میں سے کوئی نہیں) کا انتخاب بھی درج ہوتا ہے۔

چوتھا مرحلہ اس کے بعد ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) پر اپنی پسند کے امیدوار کے سامنے بٹن دباتا ہے۔ مشین سے بیپ کی آواز آتی ہے اور ساتھ ہی وی وی پی اے ٹی (VVPAT) پر ووٹر کو ایک پرچی دکھائی دیتی ہے جس میں اس کا انتخاب درج ہوتا ہے۔

شکل. 5.14 : انتخابات کا بندوبست — ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال

شکل 5.15 میں دکھایا گیا ہے کہ ہماچل پردیش کے ایک اسکول ٹیچر، شیام شرن نیگی، جنھوں نے 1951 میں ہندوستان کے پہلے عام انتخابات میں سب سے پہلے ووٹ ڈالا تھا، 2017 میں 100 سال کی عمر میں بھی ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچے۔

آئیے معلوم کریں

  • ہندوستان کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (EVMs) اور ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (VVPAT) نظام نہ صرف ملک میں کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں بلکہ نامبیا اور بھوٹان جیسے ممالک میں بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تعاون سے استعمال کیا جارہا ہے۔ کئی دیگر ممالک نے بھی اس ٹیکنالوجی کا مطالعہ کیا ہے اور اپنے یہاں انتخابات کے لیے اسے اپنانے کی غرض سے ہندوستان سے تربیت حاصل کی ہے۔
  • EVM_VVPAT

    شکل5.16 الیکٹرانک ووٹنگ مشین

  • ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (VVPAT)ایک ایسا نظام ہے جو ووٹر کے انتخاب کی ایک پرچی تیار کرتا ہے۔ اس پرچی سے ووٹر کو یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ اس کا ووٹ صحیح امیدوار کے حق میں درج ہوا ہے۔ یہ پرچی کسی تنازعے یا شکایت کی صورت میں تصدیق اور دوبارہ گنتی کے لیے بیک اپ فراہم کرتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب الیکٹرانک نظام میں کوئی تکنیکی خرابی پیش آ جائے۔

مثالی ضابطۂ اخلاق (MCC)

انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لیے ایک مثالی ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جاتا ہے۔ اس میں سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور رہنماؤں کے لیے واضح ہدایات درج ہوتی ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران کیا کیا جا سکتا ہے اور کن باتوں سے اجتناب ضروری ہے۔ اس ضابطے کی پابندی لازم ہے۔

ضابطۂ اخلاق کے چنداہم نکات:

i. حکومت میں رہتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کچھ بنیادی اصولوں کی پاس داری کرے۔ مقصد یہ ہے کہ انتخابات کے دوران سرکاری وسائل کا استعمال کسی جماعت یا امیدوار کے حق میں نہ ہو۔ مثال کے طور پر، انتخابی مدت میں کوئی نئی اسکیم یا منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکتا جو ووٹروں کو متاثر کرے۔

ii. تمام امیدواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بردباری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ انتخابی عمل پُرامن اور شفاف طریقے سے مکمل ہو۔

iii. ووٹ کے بدلے تحائف دینا قابلِ سزا جرم ہے۔

آئیے معلوم کریں

  • ذیل میں کچھ شکایات کی اقسام ہیں ،جن کو الیکشن کمیشن آف انڈیا دور کرتاہے:
Screenshot 2026-03-13 at 14-55-14 Chapter 5.pdf

شکل5.17 ایک امیدوار نے خواتین کو ساڑیاں
اور گھریلو سامان تقسیم کیا۔

شکل5.18 ایک امیدوارنے مخالف امیدوار کے خلاف بد زبانی کی۔

شکل5.19: سرکاری اہل کار حکمران جماعت کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

شکل5.20: جانچ کے دوران امیدوار کی گاڑی سے 500 کے نوٹوں کے بنڈل برآمد ہوئے۔

آپ کے خیال میں یہ واقعات مثالی ضابطۂ اخلاق(Model Code of Conduct) کی خلاف ورزی کیوں سمجھے جا سکتے ہیں؟

اسے دیکھنا نہ بھولیں

مثالی ضابطۂ اخلاق سب سے پہلے کیرالا میں 1960 میں اختیار کیا گیا تھا۔ اس وقت کی بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اسے رضاکارانہ طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 1962 کے عام انتخابات میں اس ضابطۂ اخلاق کو تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچایا۔ 1991 سےالیکشن کمیشن اس کو یقینی بنانے کے لیے اور زیادہ فعال ہو گیا کہ تمام جماعتیں مثالی ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ٹی این شیشن 1990 میں ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر بنے۔انھوں نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کئی اصلاحی اقدامات کیے، جن میں انتخابی مہم کے واضح اصول بنانا، غیر قانونی ووٹنگ روکنے کے لیے لازمی ووٹر آئی ڈی متعارف کرانا اور امیدواروں کے اخراجات کی سخت نگرانی شامل ہے۔ ٹی این شیشن نے ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انتھک محنت کی اور انھیں اکثر ایسے افسرکے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے ہندوستانی انتخابات کو زیادہ منصفانہ ،شفاف اور خوف سے عاری بنایا۔

T.N._Seshan_in_1994

شکل 5.21: ٹی این شیشن

آئیے معلوم کریں

آپ کے علاقے میں اگلا الیکشن کب ہونے والا ہے؟ کیا وہ ریاستی اسمبلی کا ہے، شہری بلدیاتی ادارے کا یا پنچایتی سطح کا؟

ہندوستان میں انتخابی عمل کو سمجھنا — ایک بہت مختصر جائزہ

ہندوستان میں لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے انتخابات

ہندوستان میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کو اکثر ’جمہوریت کا تہوار‘ کہا جاتا ہے ۔ ایک ایسا موقع جب شہری آزادانہ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ طورپر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق کااستعمال کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ہندوستان میں پارلیمانی طرزِ حکومت ہے، جہاں عوام مختلف سطحوں پر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں— لوک سبھا (قومی سطح)، ریاستی اسمبلیاں (ریاستی سطح) اور مقامی ادارے (شہری اور دیہی سطح)۔لوک سبھا انتخابات کے لیے ملک کو 543 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لوک سبھا کے لیے منتخب نمائندوں کورکن پالیمان (ایم پی)کہا جاتا ہے، جب کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والےرکن قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے)کہلاتے ہیں۔ ہندوستان میں “فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ” انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت کسی حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امیدوار کل ووٹوں کا 50 فیصد حاصل کیے بغیربھی جیت سکتا ہے۔( مثال کے طور گرمت کو فاتح قرار دیا گیا حالاں کہ 33 میں سے صرف12ووٹ ملے)۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

قانون ساز اسمبلی کو مختلف ریاستوں اور زبانوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے، جیسے “ودھان سبھا”، ”نیم سبھا“ وغیرہ۔ آپ کی ریاست میں اسے کس نام سے پکارا جاتا ہے؟

اتحاد (Coalition):

دو یا دوسے زیادہ جماعتوں کا ایک ساتھ کام کرنا۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ لوک سبھا میں وہ سیاسی جماعت یا اتحاد، جو اکثریت حاصل کرتا ہے، قومی حکومت قائم کرتا ہے۔ عام طور پر اکثریتی جماعت کا رہنما وزیر اعظم بنتا ہے۔ اسی طرز پر ریاستی سطح پر بھی وہی جماعت یا اتحاد، جو قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کرتا ہے، حکومت تشکیل دیتا ہے اور اس کا قائد وزیر اعلیٰ بنتا ہے۔

Screenshot 2026-03-13 at 14-58-46 Chapter 5.pdf

ایم پی اور ایم ایل اے میں کیا فرق ہے؟

ایم پی قومی پارلیمنٹ میں ہماری نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ ایم ایل اے ریاستی قانون ساز اسمبلی میں ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں کا انتخاب یکساں عمل کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن یہ حکمرانی کی مختلف سطحوں پرکام کرتے ہیں۔

اگر کوئی پارٹی یا اتحاد لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرلے تو وہ مرکزی حکومت بناتا ہے اوراس کا رہنما وزیر اعظم بنتا ہے۔

ریاست میں کوئی پارٹی یا اتحاد اگر قانون ساز اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلے تو
وہ حکومت بناتا ہے اوراس کا رہنما وزیر اعلیٰ بنتا ہے۔

جیسا کہ ہم شکل 5.11 میں دیکھ چکے ہیں، ریاستی الیکشن کمیشن انتخابی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ نہ صرف لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بلکہ مقامی سطح پر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی الیکشن کمیشن، الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مشاورت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’عام بالغ رائے دہی‘ اورعوام کے ذریعے براہِ راست انتخابات سے متعلق آئینی دفعات بھی اس پر نافذہوتی ہیں۔

آئیے معلوم کریں

  • آپ کے حلقے کے ایم پی اور ایم ایل اے کون ہیں؟ ( ایک لوک سبھا حلقے میں دو یا اس سے زیادہ اسمبلی حلقے ہو سکتے ہیں۔)
  • ان میں سےکون سا نمائندہ کس سیاسی جماعت سے وابستہ ہے؟
  • ایم پی اور ایم ایل اے بالترتیب کن موضوعات اور دائرۂ کار سے متعلق ہیں؟

تحلیل :(Dissolution)

مدت کا ختم ہونا یا کسی اور آئینی وجہ سے ختم کیا جانا جیسے برطرفی۔

راجیہ سبھا کا انتخاب

راجیہ سبھا کے منتخب اراکین کو بھی ایم پی (ممبرانِ پارلیمنٹ)کہا جاتا ہے، لیکن ان کا انتخاب بالواسطہ طور پر ہوتا ہے۔

آئیے دوبارہ سروودیہ اسکول کی مثال دیکھیں۔ فرض کریں کہ اسکول کی سطح پر ایک خصوصی کونسل تشکیل دی جا رہی ہے۔ اگر اس کونسل کے اراکین کا انتخاب طلبا کے نمائندوں کے ذریعے کیا جائے، تو یہ بالواسطہ انتخاب کہلائے گا۔

راجیہ سبھا کے کل 245 اراکین میں سے 233 اراکین کا انتخاب ریاستی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کرتے ہیں، جب کہ 12 اراکین کو صدرِ جمہوریہ ہند نامزد کرتے ہیں۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کے حساب سے راجیہ سبھا میں نشستیں مختص کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اتر پردیش جیسی کثیر آبادی والی ریاست کو اروناچل پردیش جیسی کم آبادی والی ریاست کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل ہیں۔

راجیہ سبھا کو’مستقل ایوان‘ کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ کبھی تحلیل نہیں ہوتا۔ اس کے ہر رکن کی مدتِ کار چھ سال ہوتی ہے، اور ہر دو سال بعد ایک تہائی اراکین سبکدوش ہو جاتے ہیں جب کہ ان کی جگہ نئے اراکین منتخب کیے جاتے ہیں۔

راجیہ سبھا کے انتخابات میں ایک خاص طریقہ استعمال ہوتا ہے جسے ’واحد قابل منتقلی ووٹ کا نظام‘ (Single Transferable Vote System)کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹی ریاستوں کو بھی راجیہ سبھامیں مناسب نمائندگی مل سکے۔ اس نظام کے بارے میں آپ اعلیٰ جماعتوں میں تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔

Screenshot 2026-03-13 at 15-01-55 Chapter 5.pdf

راجیہ سبھا - ریاستوں کی کونسل

قانون ساز اسمبلی کے ارکان

بالواسطہ انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں

راجیہ سبھا کے 233 ارکان کا انتخاب کرتے ہیں

صدر جمہوریۂ ہند

راجیہ سبھا کے 12ارکان کو نامزد کرتا ہے

سیٹوں کی تقسیم ریاستوں کی آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
اتر پردیش جیسی زیادہ آبادی والی ریاست میں زیادہ سیٹیں ہیں۔


راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب ایم ایل اے بالواسطہ انتخاب کے ذریعے کرتے ہیں جب کہ صدرجمہوریہ 12 نامور افراد کو نامزد کرتے ہیں۔


راجیہ سبھا ایک مستقل ادارہ ہے۔ اس کے ارکان میں سے ایک تہائی ہر دو سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں، اس طرح تسلسل قائم رہتا ہے۔


ایم ایل اے واحدقابل منتقلی ووٹ کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے ووٹ دیتے ہیں جس میں وہ امیدواروں کی اپنی ترجیح کے مطابق درجہ بندی کرتے ہیں۔

ہندوستان کے صدر کا انتخاب

ہندوستان کے صدر کا انتخاب عوام کے ذریعے براہِ راست نہیں ہوتا، بلکہ یہ انتخاب ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کالج میں مندرجہ ذیل شامل ہوتے ہیں:

  • پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا (ایوانِ زیریں) اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے ارکان
  • تمام ریاستوں اور دہلی و پڈوچیری کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین

اس انتخاب میں واحد قابل منتقلی ووٹ کے نظام کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چوں کہ صدر پورے ملک کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے اس عمل میں مرکزی اور ریاستی دونوں سطحوں کی نمائندگی شامل کی جاتی ہے۔ ووٹنگ اور گنتی کے اصول خاصے تفصیلی ہیں، اور بڑی آبادی والی ریاستوں کا کردار زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔(ہمیں اس مرحلے پر تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔)

مندرجہ ذیل گروپ صدرجمہوریہ کے انتخاب میں حصہ نہیں لیتے ہیں:

  • راجیہ سبھا کے نامزد 12ارکان
  • ریاستی اسمبلیوں کے نامزد ارکان
  • دو ایوانی مقننہ والی ریاستی قانون ساز کونسلوں کے اراکین (سبھی منتخب اور نامزد)
  • مرکز کے زیرِ انتظام دہلی اورپڈوچیری کے اسمبلیوں کےنامزدارکان
  • دوایوانی مقننہ

    bicameral) :(legislaturesایک دو ایوانی مقننہ ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جہاں قانون ساز ارادہ دو الگ ایوانوں یا ہاؤس میں تقسیم ہوتا ہے۔

آئیے غوروفکر کریں

آپ کے خیال میں یہ گروپ صدر کے انتخاب میں شامل کیوں نہیں ہوتے؟ اور عوام صدرکے انتخاب کے لیے براہِ راست ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں صرف براہِ راست منتخب نمائندوں کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے۔ اس طرح جمہوری اصول برقرار رہتے ہیں اور صدر کو بالواسطہ معنوی طور پر عوام کی مرضی کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔

ہندوستان کے نائب صدر کا انتخاب

ہندوستان کے نائب صدر کا انتخاب بھی ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس کالج میں صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے منتخب اور نامزد ارکان شامل ہوتے ہیں۔ یہاں بھی انتخاب کے لیے واحدقابل منتقلی ووٹ کا نظام استعمال کیا جاتا ہے۔

ہندوستان کا نائب صدر راجیہ سبھا کا چیئرمین ہوتا ہے۔ اگر کبھی ایسا موقع آئے کہ صدر اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کر سکے، تو نائب صدر ، صدر کے فرائض انجام دیتاہے۔

چیلنج اور آگے کا راستہ

ہندوستان کا انتخابی نظام دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عمل کے طورپر جانا جاتا ہے۔ لیکن، دیگر تمام نظاموں کی طرح، اس کے بھی کئی چیلنج ہیں۔ انتخابات میں پیسے کے بڑھتے ہوئے اثرات، مجرمانہ پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی قابلِ ذکر تعداد اور ووٹروں کی بے رُخی (خاص طور پر شہری علاقوں میں)ایسے مسائل ہیں جو ہماری جمہوریت کی صحت اور مستقبل پر سوال اٹھاتے ہیں۔

آگے بڑھنے کا واحد راستہ ووٹروں کو بااختیار بنانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انھیں وہ معلومات فراہم کی جائیں جن کی بنیاد پر وہ سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ ووٹ ڈال سکیں۔ میڈیا، تعلیم اور بیداری کی مہمات کو مل کر یہ کام کرنا ہوگا تاکہ عوام، خصوصاً نوجوان، یہ جان سکیں کہ سمجھ داری سے ووٹ ڈالنا کتنا ضروری ہے۔ ایک باشعور اور ہوشیارووٹر جمہوریت کا سب سے بڑا محافظ ہوتا ہے۔ یہ عمل صحیح سوالات پوچھنے سے شروع ہوتا ہے اور ذمہ دارانہ ووٹ ڈالنے پر مکمل ہوتا ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں

  • عام بالغ رائے دہی ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
  • ووٹ دینے کا حق دراصل ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہر ووٹر کو اسے سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔ ووٹر کی بیداری، ووٹ دینے کے حق کا سب سے اہم پہلو ہے۔
  • سبھی اہل ووٹروں کی شرکت کو سہل اور یقینی بنانا ضروری ہے۔
  • الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک آئینی ادارہ ہے جو پورے ملک میں انتخابات کراتا ہے۔
  • الیکشن کمیشن، صدر اور نائب صدر کے انتخابات سمیت تمام قومی اور ریاستی انتخابات کی نگرانی کرتا ہے۔
  • ہندوستانی جمہوریت کو ایسے چیلنج درپیش ہیں جو ووٹروں کی ہوشیاری اور بیداری کا تقاضا کرتے ہیں۔

سوالات اور سرگرمیاں

1. صحت مند جمہوریت کے لیے عام بالغ رائے دہی کیوں ضروری ہے؟

2. ’خفیہ رائے دہی‘ سے کیا مراد ہے؟ جمہوریت میں یہ کیوں اہم ہے؟

3. براہِ راست اور بالواسطہ انتخابات کی مثالیں پیش کیجیے۔

4. لوک سبھا کے اراکین اور راجیہ سبھا کے اراکین کے انتخاب میں کیا فرق ہے؟

5. آپ کی رائے میں، بیلٹ پیپر کے مقابلے میں ای وی ایم (EVM) کے کیا فائدے ہیں؟

6. بھارت کے بعض شہری علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

7. لوک سبھا میں کچھ نشستیں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے کیوں مختص کی گئی ہیں؟ اس پر ایک مختصر نوٹ لکھیں۔

8. سوشل میڈیا انتخابات کے طریقۂ کار کو بدل رہا ہے —انتخابی مہم کی جھلکیوں اور براہِ راست تقاریر سے لے کر انسٹاگرام اور ٹویٹر پر سیاسی مباحثوں تک—آپ کے خیال میں کیا یہ جمہوریت کو مضبوط بنا رہا ہے یا اسے زیادہ پیچیدہ بنا رہا ہے؟ جوڑیوں میں بیٹھ کر اس کے فوائد اور چیلنج پر بات کریں اور غور کریں کہ برقی(Digital) دور میں انتخابات کا مستقبل کیسا ہو سکتا ہے؟

9. ویب سائٹ https://
www.indiavotes.com
پر جائیں،کسی بھی سال کا پارلیمانی الیکشن منتخب کریں اور اس کے نتائج کا مطالعہ کریں۔ اپنی ریاست کے کسی اسمبلی انتخاب کے نتائج کا بھی اسی طرح سے مطالعہ کریں۔