باب 6
پارلیمانی نظام: مقننہ اور عاملہ
(The Parliamentary System:
Legislature and Executive)
آئین محض ایک قانون داں کا دستاویز نہیں ہے؛ یہ زندگی کا وسیلہ ہے اور اس کی روح ہمیشہ زمانے کی روح ہوتی ہے۔
—الّادی کرشن سوامی ا یّر
نومبر 1949، آئین ساز اسمبلی میں بحث
شکل6.1: پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی خصوصیات
اہم سوالات
1. ہندوستان کا پارلیمانی نظام کیا ہے اور اس کا ڈھانچہ کیسے تیار کیا گیا ہے؟
2. پارلیمنٹ کے بنیادی کام کیاہیں؟
3. ہندوستان کی پارلیمانی جمہوریت میں مقننہ اورعاملہ کا کیا کردارہے؟
4. مرکزی اور ریاستی سطح پر مقننہ اور عاملہ کی تشکیل کیسے کی جاتی ہے؟
نالندہ ودیالیہ کے آٹھویں جماعت کے طلبا دہلی میں اسکول کے تفریحی دورہ پر تھے۔ اوشا، سکھ وندر، انجلی، جان اور فریدہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت دیکھنے کے لیے بہت پُر جوش تھے۔
یہ نہ تو چوکور ہے اور نہ ہی گول ہے۔ اس کی شکل نرم مثلث جیسی ہے۔
یہ سہ رخی ڈیزائن توازن،شمولیت اور مقصدیت کی علامت ہے۔
اِس میں ماحول دوست طریقۂ تعمیر کا استعمال کیا گیا ہے جس سے بجلی کی کھپت میں 30 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔
اس کی اندرونی دیواروں پر مور، کمل، قبائلی آرٹ، مندروں کے نمونے اور مجاہدین آزادی کے نقوش آویزاں ہیں۔
یہ ہندوستان کے عجائب گھر جیسا لگتا ہے۔
بلاشبہ، جمہوریت کے پیش نظر مستقبل ہونا چاہیے۔ لیکن اپنی جڑوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہے۔
اس نئی عمارت میں بہت ساری قدیم علامتیں ہیں۔
اشوک کا نشان!
تعارف
ہندوستان کو بہت سے لوگوں کی عظیم قربانیوں اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک طویل جد و جہد کے بعد آزادی حاصل ہوئی۔ آزاد ملک کی عوام اب اپنی حکومت کے متعلق خود فیصلہ کر سکتی تھی۔ ہمارے ملک کے اِ س نئے عہد کا اوّلین قدم آزاد ہندوستان کا آئین تیار کرنا تھا۔ اِس جامع دستاویز نے ملک کے لیے بنیادی اصول قائم کیے جس میں عام بالغ حق رائے دہی بھی شامل ہے، جو ملک کی تمام بالغ عوام کو ان کی سماجی یا معاشی پس منظر، صنف، ذات یا مذہب کے فرق کے بغیر رائے دہی کا حق دیتا ہے۔
شکل 6.2: ہماری پرانی پارلیمنٹ (جسے اب سمویدھان سدن کہا جاتا ہے) کی تعمیر 1920 کے عشرے میں ہوئی تھی۔ آئین ساز اسمبلی نے اپنے مذاکرات کے لیے یہیں میٹنگ کی تھی اور یہ سات دہائیوں سے بھی زیادہ تک پارلیمنٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔
ہندوستان کی عوام اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرتی ہے جو لوک سبھا کے رکن بنتے ہیں۔ اِن منتخب نمائندوں میں اکثریتی گروپ حکومت تشکیل کرتا ہے۔ پارلیمنٹ، حکومت کا ا علی ترین قانون ساز ادارہ ہے (یہ ملک کے لیے قانون بناتا ہے)۔ اِس میں عوام کے سبھی منتخب نمائندے شامل ہوتے ہیں اور یہ حکومتی کاموں کی نگرانی اوررہنمائی کرتا ہے۔ اِ س لیے حکومت کو عوام کی رضا مندی سے کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 1952 میں پہلی لوک سبھا کےبعد اب تک 17 لوک سبھائیں تشکیل پا چکی ہیں۔ 18ویں لوک سبھا کی تشکیل جون 2024 میں عمل میں آئی۔
شکل 6.3: نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے لیے گنجائش، تکنیک، استحکام اور حفاظت کے مدِ نظر کی گئی ہے۔
ہندوستانی پارلیمنٹ کی ساخت
ہندوستانی پارلیمنٹ صدرِ جمہوریہ اور دو ایوانوں پر مشتمل ہے: لوک سبھا (عوامی ایوان یاایوانِ زیریں) اور راجیہ سبھا (ریاستوں کی کونسل یاایوان بالا)۔ دوایوانوں والی اِس ساخت کو’دو ایوانی‘ نظام (Bicameral)کہا جاتا ہے۔ (biکا مطلب ہے دو،اور Cameral کا مطلب چیمبر یا گھر ہوتا ہے)۔
شکل6.4: نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں
لوک سبھا ہال
شکل6.5: پریس گیلری سے لیا گیا راجیہ سبھا
کا ایک منظر
یاد رکھیں
ہندوستانی عوام لوک سبھا کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب براہِ راست الیکشن (عام بالغ
رائے دہی پر مبنی) کے ذریعے کرتی ہے۔ آئین نے اِس ایوان کے اراکین کی زیادہ سے زیادہ تعداد 550 مقرر کی ہے۔ راجیہ سبھا کے اراکین (MPs)کا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعے بالواسطہ طور پر کیا جاتا ہے۔ اِس کے متعلق آپ نے گذشتہ باب میں پڑھا تھا۔ راجیہ سبھا کی متعینہ سیٹوں کی تقسیم اور لوک سبھا میں نمائندگی کرنے والے اراکین کی تعداد کا انحصار ہر صوبے کی آبادی پر ہوتا ہے۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
ہمیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ہندوستانی آئین کے کئی پہلو دوسرے ممالک کے آئین سے اخذ کیے گئے تھے۔ برطانوی نظام نے ہمارے پارلیمانی جمہوریت کے نظام کو متاثر کیا۔ تاہم ہمارے مجاہدین آزادی اور آئین سازوں کو برطانوی نوآبادیاتی طرزحکمرانی کے ڈھانچے میں شرکت کے ذریعہ حاصل ہونے والے عملی تجربے نے، اگرچہ وہ بہت ہی محدود تھا، پارلیمانی طریقہ کار سے واقفیت فراہم کی تھی؛اس کے علاوہ وہ قدیم جمہوریاؤں ( مہاجن پدوں)؛گاؤں کی پنچایتوں کی معلومات بھی تھی جن میں بزرگ اجتماعی فیصلے کرتے تھے۔یہ ہم گذشتہ باب میں پڑھ چکے ہیں۔
شکل 6.6: آئین ہند
آئین سازی کے دوران اِس پر تفصیلی مباحثہ ہوا کہ کیا ہندوستان میں دو ایوانی نظام ہونا چاہیے یا نہیں۔ ایسا محسوس کیاگیا کہ براہِ راست طور پرمحض واحد منتخب ایوان آزاد ہندوستان کے سامنے پیش آنے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ وفاقیت کے مزاج کے مطابق ریاستوں کی الگ کونسل یعنی راجیہ سبھا کی ضرورت محسوس ہوئی۔راجیہ سبھا کی ساخت اور اس کے لیے انتخاب کے طریقۂ کار کو بھی وضع کیاگیا۔ہندوستان وفاقی طرزِ حکومت کی پیروی کرتا ہے جو حکومت کی ایسی شکل کو کہتے ہیں جس میں اقتدار کو مرکزی ،ریاستی اور مقامی حکومتوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ نظام قومی اتحاد اور مقامی مفادات کے درمیان توازن براقرار رکھنے میں مددکرتا ہے۔
عمل (Function)
پارلیمنٹ کے ہر ایوان میں ایک صدر اجلاس (Presiding officer) افسر ہوتا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ بحث و مباحثہ اور مذاکرات منظم طور پر انجام دیے جائیں۔ لوک سبھا کے اراکین ایک اسپیکر منتخب کرتے ہیں جو ایوان کی کاروائی چلاتا ہے، اراکین کو بولنے کی اجازت دیتا ہے، نظم و ضبط قائم رکھتا ہے اوراصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے۔ راجیہ سبھا کی صدارت ہندوستان کے نائب صدرِ جمہوریہ کرتے ہیں جو اِس کے صدر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اسے دیکھنا نہ بھولیں
’سینگول‘ جو ایک طلائی ملمّع شدہ چاندی کا عصا ہے،علامتی طور پر 14 اگست 1947کو بھارت کی آزادی کے موقع پر بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو پیش کیا گیا۔ یہ اقتدار کی منتقلی کی ایک مؤثر علامت کے طور پر دیا گیا تھا۔ اب یہ نئی لوک سبھا میں اسپیکر کی کرسی کے قریب رکھا گیا ہے، اور یہ شفاف اور منصفانہ حکمرانی کی علامت ہے ۔چول دور سے تعلق رکھنے والا یہ سینگول نئے حکمرانوں کو یہ یاد دلانے کے لیے پیش کیا جاتا تھا کہ اقتدار کو دھرم اور راست بازی کے اصولوں کے تحت استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے اوپر نندی کی شبیہ موجود ہے، جو انصاف کی علامت ہے۔
شکل6.7: سینگول
عصا (Sceptre) : ایک سجا ہوا چھڑی نما عصا جو بادشاہ یا ملکہ تقاریب میں اقتدار کی علامت کے طور پررکھتے ہیں۔
پارلیمانی مباحث کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے، متعدد ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ پہلے، بیک وقت ترجمانی 12 زبانوں میں دستیاب تھی، جن میں ہندی، انگریزی، اسامی، بنگالی، گجراتی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڈیہ، تمل، پنجابی اور تیلگو شامل تھیں۔ حال ہی میں چھ مزید زبانیں شامل کی گئی ہیں: بوڈو، ڈوگری، میتھلی، منی پوری، اردو اور سنسکرت۔ مستقبل میں مزید زبانوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ کی عاملہ سے متعلق ذمہ داریاں (یعنی یہ یقینی بنانا کہ بنائے گئے قانون نافذ ہوں اور ان پر عمل درآمد بھی ہوں) اس کی قانون سازی(یعنی قانون بنانا) کے رول کی طرح ہی اہم ہیں۔ وفاقی عاملہ پارلیمنٹ کے اختیارات اور قانون سازی کےعوامل کو قوت عطا کرتی ہے۔ وفاقی عاملہ میں مندرجہ ذیل رکن ہوتے ہیں۔
- صدرِ جمہوریہ
- نائب صدرِ جمہوریہ
- وزیر اعظم کی صدارت میں وزرا کی کونسل
وزرا کی کونسل کا انتخاب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین میں سے کیا جاتا ہے۔ یہ وزرا اجتماعی طور پر لوک سبھا کے لیےجواب دہ ہوتے ہیں۔
آیئے، اب ہم پارلیمنٹ کے مقننہ اور عاملہ کے کاموں پر گفتگو کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ کی قانون سازی کےکام
آئین نے پارلیمنٹ کے ان بنیادی کاموں کا تعین کردیا ہے جن کی تکمیل پارلیمنٹ کو کرنی ہوتی ہے ۔ ا ن کاموں کو مجموعی طور پرمندرجہ ذیل عنوانات کے تحت ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
1. آئینی امور
2. قانون سازی
3. عاملہ کی جواب دہی
4. مالیاتی جواب دہی
ان کا مختصر مطالعہ ہم مندجہ ذیل حصّوں میں کریں گے۔
1) آئینی امور (Constitutional Functions)
یاد رکھیں
جمہوریت اور ملک گیری کے موضوع پر اپنے گذشتہ اسباق سے پارلیمنٹ کے بعض آئینی امور کے نام بتایئے۔ کیا آپ نے صدرِ جمہوریہ اور نائب صدرِ جمہوریہ کے انتخاب کا ذکر کیا؟ آئین میں ترمیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ دراصل یہ پارلیمنٹ کے نہایت اہم آئینی امور ہیں۔ اِن کے علاوہ بھی بعض دیگر اہم کام ہیں جن کا مطالعہ ہم اعلیٰ درجات میں کریں گے۔
پارلیمنٹ کو براہِ راست ہندوستانی آئین کی بنیادی اقدار کی حفاظت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے جن میں شامل ہیں:
(a) عام بالغ حق رائےدہی کےذریعے پارلیمانی جمہوریت کو برقرار رکھنا،
(b) مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی علاحدگی پر عمل ،
(c) وفاقیت کو یقینی بنانااور
(d) قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل کے ذریعے بنیادی حقوق اور ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کو قائم رکھنا۔
2) قانون سازی
مقننہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک قانون بنانا ہے۔ آئین نےقانون سازی کے لیے ایک وسیع اور سخت معیار مقرّر کیا ہے۔ عموماً کسی قانون کو ایکٹ کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ بل، اصلاً ایک مجوزہ قانون کا مسودہ ہوتا ہے۔اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے اور ایکٹ بننے سے پہلے طویل اور محنت طلب عمل سے گذرتا ہے۔ذیل میں مفت اور لازمی تعلیم کا حق برائے اطفال ایکٹ 2009 کی مثال سے ہم بل (Bill) کے ایکٹ (Act) بننے اور آخر میں قانون (Law) کی شکل لینے کے طویل اور محنت طلب سفر کوسمجھ سکتے ہیں۔
بل(Bill):
بل ایک مجوزہ قانون کا مسودہ ہوتا ہے جسے قانونی شکل دینے کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینی ہوتی ہے۔
”زیادہ تر لوگ مجھے آر ٹی ای (RTE)کہتے ہیں۔ میں اگست 2009 میں وجود میں آیاحالاں کہ یہ خیال تقریباً ایک صدی پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔
میری جڑیں ہندوستانی آئین کے ملکی پالیسی کے رہنما اصولوں میں پیوست ہیں۔ اگرچہ آئین کے معمار چاہتے تھے کہ حصولِ آزادی کی پہلی دہائی میں ہی مجھے نافذ کر دیا جائے مگر ایسا نہیں ہوسکا اور بے شمار بچے تعلیم سے محروم رہ گئے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں کسی نے عدالت میں یہ دلیل پیش کی کہ میں آئین کے بنیادی حقوق خصوصاً جینے کے حق کا لازمی حصّہ ہوں کیوں کہ بامقصد زندگی جینے کے لیے تعلیم بے حد ضروری ہے۔کچھ سالوں بعد پارلیمانی کاروائی شروع ہوئی اور سال 2002 میں 86واں آئینی ترمیمی ایکٹ پاس کیا گیا جس کے تحت آئین کی دفعہ 21 (A) میں یہ اہتمام کیا گیا کہ حکومت 6 سے 14 سال کی عمر کے تمام بچّوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرائے گی۔
چھ سال بعد مجھے راجیہ سبھا میں ایک بِل کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایک کمیٹی نے میرا عمیق مطالعہ کیا اور بعض ترامیم تجویز کیں۔
اہم بحث فنڈنگ سے متعلق تھی۔ لاکھوں بچوں کے لیے نئے اسکول، بنیادی ڈھانچہ اور اساتذہ کا انتظام بے حد مہنگا تھا۔ مگر 2008 تک پارلیمانی اراکین نے یہ طے کر لیا کہ اب وقت آ گیا ہے۔
2009 کے انتخابات کے بعد، نئی سرکار نے اِس معاملے کو آگے بڑھایا اور میں اگست 2009 میں ہی لوک سبھا میں پاس ہو گیا اور صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد ایکٹ بن گیا۔
آج میں نے بچوں کے لیے اسکول میں داخلہ پانے کے لیے قانونی طور پر راستہ ہموار کر دیا ہے۔ نئے اسکولوں کی تعمیر کو ممکن بنایا ہے اور بچوں کے لیے مفت کتابیں اور یونی فارم کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔“
بِل سے ایکٹ تک—
پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل
نوٹ: سبھی بل کمیٹیوں کو نہیں بھیجے جاتے۔
شکل6.8: قانون سازی کا عمل- اہم اقدامات کی وضاحت کے لیے آسان خاکہ
پڑھنا: اِس کا آغاز برطانوی پارلیمنٹ سے ہوا تھا۔ بہت سے اراکین ناخواندہ تھے، اس لیے ایک کلرک ایکٹ کے متن کو غور و فکر کے لیے اراکین پارلیمنٹ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ آج کل ارکان پارلیمنٹ بحث شروع ہونے سے پہلے بل کو پڑھتے ہیں۔
شق (Clause) : یہ بل کے وہ اجزا ہیں جو بل کی مخصوص تفصیل کی وضاحت کرتے ہیں؛ مثال کے طور پر آرٹی ای اس طبقے کی عمرکی وضاحت کرتا ہے جن پر یہ نافذ ہوتا ہے۔(6 سے 14 سال)
گزٹ (Gazette): یہ حکومت کی رسمی اشاعت ہے جس میں قانونی دستاویز اورسرکاری اطلاعات شائع
ہوتی ہیں۔
اسٹینڈنگ کمیٹی Standing)(Committee:
یہ پارلیمنٹ کے اراکین پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی ہے (ارکان پارلیمنٹ بدل سکتے ہیں، لیکن کمیٹی کا ڈھانچہ وہی رہتا ہے) یہ حکومت کی کار کردگی کی جانچ کرتی ہے۔ مشورہ دیتی ہے اور حکومت کے کیے گئے کاموں کے متعلق سوال پوچھتی ہے۔
آیئے معلوم کریں
آرٹی ای کس طرح ایک ایکٹ بنا اِس عمل کو دکھانے کے لیے ایک چھوٹا سا چارٹ بنائیں۔ اگر آرٹی ای لوک سبھا میں پیش کیا گیا ہوتا تو آپ کے خیال سے اس کا طریقۂ کار کیا ہوتا ہے؟
اِسے دیکھنا نہ بھولیں
بعض اقسام کے بل صرف لوک سبھا میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مالیاتی بل (Money Bill)ہے،جو مالی معاملات ( بشمول ٹیکس اور سرکاری قرض وغیرہ) سے متعلق ہے۔ در حقیقت یہ قانون کا ایک مسودہ ہوتا ہے، جسے صرف لوک سبھا میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اِس بل کو پیش کرنے سے پہلے صدرِ جمہوریہ کی سفارش لازمی ہوتی ہے۔
3) عاملہ کی جواب دہی
وزیرِ اعظم اور وزیروں کی کونسل وفاقی عاملہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ ہیں:
- بنیادی طور پر قوانین کے نفاذ اور ان پرعمل درآمد اور حکومت کی مؤثر کارکردگی کی نگرانی کےلیے ذمہ دار ہوتے ہیں؛
- آئین اور اس کے قوانین میں بتائے گئے اصولوں کی بنا پر حکومت کے روزمرہ کے کاموں سے متعلق فیصلہ لینا؛
- وقفہ سوال جیسے نظام کے ذریعے جس میں وزرا کو اپنے کاموں اور فیصلوں کی موزونیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے لوک سبھا کے تئیں جواب دہ ہونا۔ لوک سبھا میں سوالات کا وقفہ ایک مخصوص وقفہ (عام طور پر پارلیمنٹ سیشن کا پہلا گھنٹہ) ہوتا ہے جس میں اراکین پارلیمنٹ وزیروں سے سرکاری پالیسیوں اور کارکردگی سے متعلق سوالات پوچھ سکتے ہیں، یہ پارلیمنٹ کا ایسا عمل ہے جو عاملہ کو جواب دہ بناتا ہے۔ (یعنی عاملہ کو اپنے سبھی کاموں اور فیصلوں کی موزونیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے) خصوصی کمیٹیاں بھی میٹنگ کا انعقاد کرتی ہیں، جہاں وزارتوں کو اپنی پالیسیوں کے بارے میں سمجھانا اور سوالات کے جواب دینا ہوتا ہے۔ اِن کمیٹیوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے اراکین شامل ہو سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ ہمیشہ رسمی اور سنجیدہ نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی شاعری اور مزاح کے ذریعے ماحول کو خوش گوار بنایا جاتا ہے۔
مثال 1: پارلیمنٹ میں شاعری
1 فروری 2025 کو 2025-26 کا مرکزی بجٹ پیش کرتے وقت محترمہ نرملا ستیا رمن نے ’ترکّرل‘(اخلاقیات پر مبنی تمل کا ایک قدیم صحیفہ) سے مندرجہ ذیل اشلوک پڑھا۔
وانوکّی والوم اُلاکیلّم
منّون کو لنوکّی ولنگ کُڑی
یعنی : جیسے جاندار بارش کے انتظار میں جیتے ہیں
عوام بہتر حکمرانی کی اُمید میں رہتی ہے۔
یہ سنتے ہی حزبِ اقتدار کی طرف سے زور زور سے میزیں تھپ تھپائی گئیں۔
مثال 2: پارلیمنٹ میں مزاح
2011 میں لوک سبھا میں ایک پرجوش بحث کے دوران رکن پارلیمنٹ سشما سوراج نے سرکار پر طنز کرتے ہوئے مندرجہ ذیل شعر پڑھا:
”تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
ہمیں رہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے۔“
موضوع نہ بدلیں، بس یہ بتائیں کہ کارواں کیوں لٹا۔ ہمیں لیٹروں سے کوئی شکایت نہیں لیکن آپ کی قیادت پر سوال ہے۔
اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے شائستگی سے ایک دوسرے شعر کے ساتھ جواب دیا:
مانا کہ تری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو مرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
میں مانتا ہوں کہ میں آپ کی نظر کے لائق نہیں ہوں۔ آپ کو میرا حوصلہ اور صبر دیکھنا چاہیے۔
شکل 6.9: مستقل کمیٹی برائے صحت اور خاندانی بہبود کی رپورٹ سے اقتباس
1.2. بنیادی صحت مراکز (پی-ایچ-سی)، کمیونٹی ہیلتھ سنٹر
(سی-ایچ-سی) اور ضلعی اسپتالوں میں آیوش کی سہولیات کے مشترکہ مقام۔
سفارشات:
1.2.1 کمیٹی نے اِس مرحلے پر یہ دھیان دلایا کہ بعض ریاستوں اور مرکز کے ماتحت ریاستوں میں آیوش کا علاحدہ شعبہ نہیں ہے۔ کمیٹی نے آیوش طریقۂ کار کے فروغ کی حوصلہ افزائی اور آیوش صحت دیکھ بھال میں بہتر تال میل کے لیے وزارتِ صحت سے سفارش کی کہ وہ ایسی ریاستوں اور مرکز کے ماتحت ریاستوں پر زور دیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں جہاں آیوش کا علاحدہ شعبہ نہیں ہے وہ جلد از جلد ترقی اور منصوبوں کے عمل درآمد کے لیے ایسا شعبہ قائم کریں۔
(رپورٹ کا پیرا 2.13)
کی گئی کاروائی:
1.2.2 صحت عامہ ریاستی موضوع ہے۔ اِس لیے ریاستوں/ مرکزکے ماتحت ریاستوں میں آیوش کا علاحدہ شعبہ قائم کرنے کا حق متعلقہ ریاست/مرکز کے ماتحت ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اگرچہ وزارتِ آیوش نے مختلف میٹنگوں میں ریاستوں/مرکز کے ماتحت ریاستوں سے گزارش کی ہے کہ وہ علاحدہ ڈائریکٹریٹ بنائیں اور ریاستوں/مرکزکے ماتحت ریاستوں میں ریاستی انتظامیہ یونٹ (ایس پی ایم یو) اور ضلع انتظامیہ یونٹ (ڈی پی ایم یو)میں ملازموں کی تقرری کریں۔ جس سے قومی آیوش مشن (این اےایم) منصوبے کی تیز رفتار ترقی اور عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے فی الوقت 24 ریاستوں/مرکز کے ماتحت ریاستوں میں علاحدہ آیوش ڈائریکٹریٹ موجود ہیں۔
(ایس پی ایم یو=اسٹیٹ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ؛
ڈی پی ایم یو= ڈسٹرکٹ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ)
( رپورٹ کا پیرا 2.23 )
آیئے معلوم کریں
یہاں صحت اور خاندانی بہبود سے متعلق مستقل کمیٹی اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے حکاّم کے درمیان ہوئی میٹنگوں کی رپورٹ کا ایک حصّہ دیا گیا ہے۔ اوپر دی گئی تصویر کو دیکھیں اور چھوٹے چھوٹے گروپوں میں مندرجہ ذیل پر گفتگو کریں۔کون کسے رپورٹ کر رہا ہے؟ کِس موضوع کا تجزیہ کیا گیا؟ کمیٹی کی سفارشات کی شناخت کیجیے۔ حکومت کا جواب کیا ہے؟
4) مالیاتی جواب دہی
پارلیمنٹ سالانہ بجٹ کے ذریعے حکومت کےاخراجات کو منظوری دیتی ہے اور اس کی نگرانی کرتی ہے۔ ساتھ ہی مختلف وزارتوں کے فنڈ کی تقسیم کی جانچ بھی کرتی ہے۔
آیئے معلوم کریں
آپ کے خیال میں پارلیمنٹ سرکاری اخراجات پر نظر کیوں رکھتی ہے؟ (اشارہ-حکومت کس کا پیسہ خرچ کرتی ہے؟)
حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو ضروری معلومات بروقت اوردرست طور پر فراہم کرائے۔
پارلیمنٹ کا عا ملہ سے متعلق کام
گذشتہ اوراق میں ہم نے عاملہ کے کردار کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اب ہم اس پر تھوڑا اور غور کرتے ہیں۔
اِسے دیکھنا نہ بھولیں
ہندوستانی آئین کا حصّہ 5باب اوّل عاملہ سے شروع ہوتا ہے۔ اِس میں صدرِ جمہوریہ، نائب صدرِ جمہوریہ اور وزیروں کی کونسل کے کرداروں اور ذمہ داریوں کا بیان ہے۔ باب دوم میں پارلیمنٹ کے رول اور کاموں کا ذکر ہے۔ ایسا کیوں ہوسکتا ہے؟
1) صدرِ جمہوریہ (The President)
صدرِ جمہوریہ ملک کا سربراہ اورعاملہ کابرائےنام صدر ہوتاہے۔ وزیر اعظم اور کابینہ حکومت چلانے کےلیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ بشمول دیگر فرائض منصبی کے وزیرِ اعظم اور دیگر وزرا کی تقرّری بھی کرتا ہے، پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرتا ہے اور بِلوں کو منظور کرتا ہے۔ وزرا کی کونسل صدر کو مشورے اور تعاون دیتی ہے، تاہم ، مخصوص حالات میں، صدراپنی صواب دید کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے، خصوصاً سیاسی بحران کے دوران، مثلاً جب کسی بھی پارٹی کو لوک سبھا کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہ ہو۔
2) وزیر اعظم اور وزرا کی کونسل
ہندوستان کے پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم عملی طورپر عاملہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدرِ جمہوریہ لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی یا اتحاد کے لیڈر کو وزیر اعظم مقرر کرتا ہے۔ وزیرِاعظم لوک سبھا میں اراکین کی اکثریت اور حمایت سے کام کرتے ہیں۔
وزیرِ اعظم کے اہم کاموں میں شامل ہیں:
� وزراکے کونسل کی قیادت کرنا � مختلف وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی پیداکرنا
� صدر جمہوریہ کو مشورہ دینا � قومی پالیسیوں کی تشکیل کرنا
وزیرِ اعظم اور کابینہ فیصلے لیتے ہیں اور حکومت چلاتے ہیں۔وہ اجتماعی طور پر لوک سبھا کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیے جانے والے زیادہ تر بِل کو سرکار تجویز کرتی ہے۔ سرکاری پالیسیوں اور قوانین کے نفاذ کے لیے حکاّم کے ایک مستقل گروپ کا تعاون لیا جاتا ہے، جنھیں سول سرونٹ، کہا جاتاہے، یہ حکام جنھیں عام طور پر منتظم یا نوکرشاہ بھی کہا جاتا ہے، وزرا کی ہدایت پر کام کرتے ہیں اور اِس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مختلف سرکاری شعبے بہتر طور پر کام کریں۔
آیئے معلوم کریں
اگر عاملہ ،مقننہ کا حصہ ہے، توہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اختیارات کی تقسیم ہے؟
(اشارہ: اوپر دیے گئے مقننہ والے حصّے کو دوبارہ پڑھیں)
اِسے دیکھنا نہ بھولیں
- سال 1956 میں ریلوے کے وزیر لال بہادر شاستری نے ایک ریل حادثے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ اگرچہ انھیں حادثے کے لیے ملزم نہیں ٹھہرایا گیا لیکن ان کا ماننا تھا کہ ایک وزیر کو اپنی وزارت میں ہونے والے کسی بھی واقعے یا حادثے کی اخلاقی ذمہ داری لینی چاہیے۔ انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو استعفیٰ سونپ دیا ۔ شروع میں نہرو نے اِسے منظور نہیں کیا۔ لیکن لال بہادر شاستری نےاصرار کیا، بالآخر ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔
شکل 6.10: لال بہادر شاستری کی تصویر (وزیر ریلوے اور بعد میں ملک کے وزیر اعظم)
مقننہ اور عاملہ میں فرق
مقننہ اور عاملہ کے درمیان فرق کو سمجھنا اہم ہے۔ مندرجہ ذیل جدول اختصار کے ساتھ دونوں کے اختیارات کو بیان کرتا ہے۔
|
پہلو |
مقننہ |
عاملہ |
|
ساخت |
ہندوستان کا پارلیمنٹ ملک کا اعلی ترین قانون ساز ادارہ ہے جو صدرِ جمہوریہ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے مل کر بنا ہے۔ |
عاملہ صدرِ جمہوریہ، نائب صدرِ جمہوریہ اور وزیر اعظم کی صدارت والی وزرا کی کونسل پر مشتمل ہوتا ہے۔ |
|
اہم کردار |
قانون سازی اور عاملہ کے کاموں کی نگرانی ۔ |
مقننہ کے ذریعے بنائے گئے قوانین کا نفاذ۔ |
|
فرائض منصبی |
پارلیمنٹ میں بِل پیش کرسکتی ہے۔ |
زیادہ تر بِل عاملہ کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ |
|
مجلسِ عاملہ کی سرگرمیوں پر استفسار اور وضاحت طلبی کے ذریعہ نظر رکھ سکتی ہے۔ |
مقننہ کو اپنے فیصلوں اور کاموں کے متعلق معلومات اور وضاحت فراہم کرتی ہے۔ صدرِ جمہوریہ کو اہم معاملات میں تعاون اور صلاح دیتی ہے۔ جس میں پارلیمنٹ کے اجلاس کو بلانا بھی شامل ہے۔ |
|
|
سبھی سرکاری اخراجات کو منظور کرتا ہے۔ |
پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ تیار کرتی ہےاور اسے نافذ کرتی ہے۔ |
|
|
مختلف پارلیمانی کمیٹیوں سے صلاح و مشورہ کرتی ہے۔ |
روزمرّہ کے معاملات میں آزادانہ طور پر کام اور حسبِ ضرورت کمیٹیوں سے مشورہ کرتی ہے۔ |
عدلیہ— ضبط و توازن کا کردار
عدلیہ، حکومت کی وہ شاخ ہے جو تنازع کے مخصوص معلاملات سمیت ملکی قوانین کی ترجمانی اور نفاذ کے لیے ذمہ دار ہے ۔عدلیہ ایک عدالتی نظام کے ذریعہ کام کرتی ہے۔ یہ معاشرے اور حکمرانی کی جمہوری نوعیت کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔عدلیہ آئین کے محافظ کے طور پر کام کرتے ہوئے اِس بات کو یقینی بناتی ہے کہ حکومت کی تمام شاخیں آئینی اصولوں اور معیار کے مطابق کام کریں۔ یہ قوانین کی تشریح ، تنازع کا حل اور بنیادی حقوق کی حفاظت کرکے معاشرے اور سرکاری اداروں کی کار کردگی پر نظر رکھتی ہے۔
آئین نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ مقننہ اورعاملہ کو ملک پر حکومت کرنے کا اختیار کیسے حاصل ہوا بلکہ ان کے سامنے ذمہ داریوں کی فہرست بھی بیان کرتا ہے۔ اس کو یقینی بنانے کے لیے کہ مقننہ کے اختیارات کا صحیح استعمال کیا جائے اور ذمہ داریوں کو نبھایا جائے، عدلیہ کو جانچنے کی خصوصی اور نازک ذمہ داری دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین نے آئینی ڈھانچے کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔ اسی طرح اگر آئین کی خلاف ورزی ، عاملہ کے ذریعے اس کے نفاذ کے وقت ہوتی ہے تو اس صورت میں بھی عدلیہ کے پاس قدم اٹھانے کا اختیار ہوتا ہے۔ جس طرح پارلیمنٹ اپنی مقننہ اور عاملہ کے ذریعہ کام کرتی ہے ،اسی طرح عدلیہ اپنی عدالتوں کے ذریعہ کام کرتی ہے۔
اِس باب میں، ہم نے اس بات کا پتہ لگایا کہ کس طرح پارلیمنٹ کےمختلف ادارے(Organs) قانون بنانے اور اس کے نفاذ میں توازن رکھتے ہیں اور عدلیہ ان اقدامات کی کس طرح نگرانی کرتی ہے۔ یہ سب اختیارات کی تقسیم مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے درمیان ضبط و توازن (Checks and Balances)کے نظام کی مثالیں ہیں ،جو اس کو یقینی بناتی ہیں کہ کوئی بھی ادارہ زیادہ طاقت ور نہ ہو۔
آئیے معلوم کریں
� اگر تینوں اداروں (Organs) میں سے کسی ایک— مقننہ ، عاملہ یا عدلیہ کے پاس تمام طاقت آ جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟ یہ عوام کے حقوق کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے؟ اِس موضوع پر اپنے ہم جماعت کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے کہ ہرادارےکس طرح سے دوسرےادارے کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر—مقننہ کس طرح عاملہ کی کارروائی پر سوال اٹھاتی ہے۔ عدلیہ کس طرح یہ یقینی بناتی ہے کہ بنائے گئے قانون اور حکومتی اقدامات آئین کے مطابق ہوں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ کچھ ایسے طریقے بھی ہونے چاہییں جس سے خود عدلیہ کی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا جاسکے؟
- کیا آپ ایسی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں جہاں عدلیہ نے قانون سازوں سے کسی قانون پرنظر ثانی کےلیےکہا ہو؟ کیا آپ ایسی مثالیں بھی تلاش کر سکتے ہیں جہاں کسی قانون کے نفاذ پر عدلیہ نے سوال اٹھائے ہوں؟
ہم اگلے باب میں عدلیہ کے متعلق مزید جانیں گے۔
ریاستی سطح پر مقننہ اورعاملہ کے کام
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے،مرکزی حکومت کے پاس ایک پارلیمنٹ ہے جس کےفرائض منصبی میں قانون سازی اور انتظامی ذمہ داریاں ہیں۔ اسی طرح ہر ریاست کی اپنی مقننہ اور عاملہ ہوتی ہے جسے ریاستی اسمبلی کہتے ہیں۔ جس طرح پارلیمنٹ کے ارکان(ایم پی) ہوتے ہیں جو قانون سازی کا عمل انجام دیتے ہیں، اسی طرح قانون سازاسمبلی (Legislative Assembly)کے ارکان(ایم ایل اے) ہوتے ہیں جو ریاستی فہرست اور متوازی فہرست پر قانون بناتے ہیں۔
مرکزی فہرست، ریاستی فہرست اور مشترکہ فہرست
آئین میں ایسی فہرستیں ہیں جو ان موضوعات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جن پر مرکزی اور ریاستی حکومتیں انفرادی طور پر قانون سازی کر سکتی ہیں جنھیں بالترتیب مرکزی فہرست (Union List) اور ریاستی فہرست (State List) کہا جاتا ہے۔ ایک مشترکہ فہرست (Concurrent List) بھی ہے جس میں ایسے موضوعات شامل ہیں جن پر مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں قانون سازی کر سکتی ہیں۔تاہم، اگر کسی موضوع پر جو مشترکہ فہرست میں شامل ہو، مرکزی حکومت قانون بناتی ہے، تو ریاستی حکومت کو اس پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔مثلاً حق تعلیم کا قانون پورے ملک میں نافذ ہے جب کہ تعلیم مشترکہ فہرست میں بھی شامل ہے۔
مشترکہ فہرست
تعلیم اور ماحولیاتی پالیسی جیسے مخصوص معاملے مرکز اور ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کی توقع کرتے ہیں۔ یہ وفاقیت کے باہمی انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔
شکل 6.11
ہندوستان میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی متوازی ساخت
ریاستی سطح کاڈھانچہ مرکزی سطح کے ڈھانچہ کے مشابہ ہوتا ہے۔ آپ اس ڈھانچہ کو جدول میں دونوں سطحوں پر دیکھ سکتے ہیں:
|
خصوصیات |
مرکزی حکومت |
ریاستی حکومت |
|---|---|---|
|
آئینی سربراہ |
ہندوستان کے صدرِ جمہوریہ کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے۔ |
صدر جمہوریہ ریاستی گورنر کی تقرری کرتا ہے۔ |
|
صدرکے عہدے کی مدت |
5 سال |
5 سال |
|
عاملہ کا سربراہ |
مرکز میں صدرِ جمہوریہ رسمی صدر ہوتا ہے لیکن حقیقی حاکم وزیر اعظم ہوتاہے۔ |
ریاست میں گورنر رسمی صدر ہوتا ہے لیکن وزیرِ اعلی حقیقی حاکم ہوتا ہے۔ |
|
عاملہ کا انتخاب |
لوک سبھا میں اکثریتی پارٹی/اتحاد کے قائد کرتے ہیں۔ |
ریاستی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی /اتحاد کےقائد کرتے ہیں۔ |
|
وزرا کی کونسل |
وزیرِ اعظم منتخب کرتا ہے۔ |
وزیرِ اعلیٰ منتخب کرتا ہے۔ |
|
جواب دہی |
اجتماعی طورپرلوک سبھا کو جواب دہ |
اجتماعی طورپر ریاستی اسمبلی کو جواب دہ |
|
مقننہ کی ساخت |
دو ایوانی-لوک سبھا اور راجیہ سبھا |
ایک ایوانی (صرف ریاستی اسمبلی) دو ایوانی (ریاستی اسمبلی اور کونسل) ہو سکتاہے۔ |
|
ایوانِ زیریں |
لوک سبھا(عوامی ایوان) |
ودھان سبھا (ریاستی اسمبلی) |
|
ایوانِ بالا |
راجیہ سبھا (ریاستوں کی کونسل) |
ودھان پریشد(ریاستی کونسل) صرف کچھ ریاستوں میں |
|
ایوانِ زیریں کی مدت |
5 سال |
5 سال |
|
صدر اجلاس (Presiding Officer) (ایوانِ زیریں) |
اسپیکر |
اسپیکر |
|
مقننہ کے اختیارات |
مرکزی اور مشترکہ فہرست کے موضوعات پر قانون بناتی ہے۔ |
ریاستی اور مشترکہ فہرست کے موضوعات پر قانون بناتی ہے۔ |
|
مالی اختیارات |
مالی بجٹ پہلے صرف لوک سبھا میں پیش کیا جا تاہے۔ |
مالی بجٹ صرف ریاستی اسمبلی میں پیش کیا جاسکتاہے۔ |
ریاستی مقننہ کی ساخت
مرکز کے برخلاف ریاستی مقننہ ’ایک ایوانی‘ (صرف ایک ایوان والا) یا دو ایوانی (دو ایوانوں والا) ہو سکتی ہے۔ مجلس قانون ساز (Legislative Assembly)کو ودھان سبھا اور ایوانِ بالا
(Legislative Council)کوودھان پریشد کہتے ہیں۔ دو ایوانی نظام والی ریاستیں یہ ہیں۔ آندھرا پردیش، بہار، کرناٹک، مہاراشٹر، تلنگانہ اور اتر پردیش۔ بقیہ ریاستوں میں ایک ایوانی نظام ہے۔
شکل 6.12: ودھان سودھ، کرناٹک اسمبلی کی عمارت۔ یہ عمارت کینگل ہنومنتیا کے خوابوں کی تعبیر تھی جو ایک مجاہدِ آزادی، مجلسِ آئین کے رکن اور کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ تھے بعد میں رکن پارلیمنٹ بنے۔
آیئے معلوم کریں
آپ کی ریاست میں کس طرح کی مقننہ ہے؟
مقننہ کے موثرطریقۂ کار کے لیے چیلنج
جیسا کہ ہم نے پڑھا، ہندوستانی مقننہ (جس میں مرکز میں پارلیمنٹ اور ریاستوں میں اسمبلی شامل ہیں) کا رول بہت اہم ہے۔ یہ قانون بنانے، انتظامی امور کی نگرانی کرنے اور بجٹ کو منظور کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ قومی پالیسیوں، ترقی کے منصوبوں بین الا قوامی تعلقات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اسٹیج بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم اِن ذمہ داریوں کو مؤثر تکمیل میں مقننہ کو بعض چیلنج سے ہم کنار ہونا پڑتا ہے۔
اِن میں سے بعض چیلنج یہ ہو سکتے ہیں: اراکین کی مسلسل غیر حاضری، ان کا عدم تعاون کا رویہ، اہم مباحثوں کے معیار میں کمی اور سوالات کے وقفے میں رکاوٹ وغیرہ۔
پارلیمنٹ کی میٹنگ عموماً سال میں تین بار ہو تی ہے۔ اِن میٹنگوں کو اجلاس کہا جاتا ہے۔ بجٹ اجلاس،
مان سون اجلاس اور سرمائی اجلاس۔ ہر اجلاس میں کئی نشستیں ہوتی ہیں جہاں پارلیمنٹ مجوزہ بلوں پر تبالۂ خیال کرتی ہے۔ عاملہ کے اہم موضوعات پر بحث کرتی ہے اور عاملہ سے اس کے فیصلوں اور کار کردگی پر وضاحت مانگتی ہے۔ عموماً پارلیمنٹ کا اجلاس چھ گھنٹے کا ہوتاہے۔ حسبِ ضرورت، مخصوص موقعوں پر یا اہم اور ضروری کاموں کو پورا کرنے کے لیے یہ وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔ ریاستی اسمبلیوں کا طریقہ کار بھی اِسی طرح کا ہوتا ہے۔
آیئے معلوم کریں
منددرجہ ذیل جدول پر غور کیجیے۔ پارلیمنٹ کے کام کاج کے متعلق وقت کے ساتھ ساتھ آپ کیا کیا نتیجے اخذ کر سکتے ہیں؟ حال کے سالوں کا ڈاٹا بھی مرتب کیجیے۔
|
لوک سبھا کی مدت |
اجلاس کی تعداد |
نشستوں کی تعداد |
|
پہلی لوک سبھا (1952-57) |
14 |
677 |
|
دوسری لوک سبھا (1957-1962) |
16 |
567 |
|
دسویں لوک سبھا (1991-1996) |
14 |
423 |
|
تیرہویں لوک سبھا (1999-2004) |
14 |
356 |
2021 میں راجیہ سبھا کے سابق صدر ایم وینکیا نائیڈو کا یہ بیان پڑھیے:2024سے 2014 کے درمیان راجیہ سبھا کی کار کردگی تقریباً% 78 رہی لیکن اس کے بعد یہ گھٹ کر 65% رہ گئی۔ جن گیارہ اجلاس (جن کی صدارت انھوں نے کی)، ان میں سے چار اجلاس میں کارکردگی بہت کم رہی جو 6.8%، 27.30%، 28.9% اور 29.55%تھی۔2018 میں راجیہ سبھانے اب تک کی سب سے کم کارکردگی 35.75% درج کی جو مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے تھی۔ اِس بیان سے آپ کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟راجیہ سبھا سے جس کردار کی توقع کی جاتی ہے، اس سے اس پر کیا اثر پڑے گا؟
کارکردگی
:(Productivity)
پارلیمانی سیاق و سباق میں کارکردگی کو ان گھنٹوں کی تعداد سے ناپا جاتا ہے جس میں لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں کام ہو ان کے مقرر کردہ گھنٹوں کے مقابلے میں۔
پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کا تصور ایسے مقام کے طورپر کیا گیا ہے جہاں فکر انگیز مباحثے اور گفتگو ہو اور عوام کے مفاد میں قانون بنائے جائیں۔ البتہ جب ان مباحثوں میں خلل واقع ہوتاہے تو اجلاس کی مدت کم کر دی جاتی ہے۔کئی بلوں پر مباحثہ کرنے اور پاس ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں تو یہ ایک تشویش کا معاملہ بن جاتا ہے۔
آیئے معلوم کریں
ایک چھوٹا گروپ پروجیکٹ لیجیے۔اپنی ریاست یا مرکز کے زیرِانتظام علاقوں میں مقننہ کے طریقۂ کار سے متعلق ڈاٹا مرتب کیجیے۔
کسی ایم ایل اے سے ملاقات کیجیے اور ریاستی اسمبلی سے متعلق چیلنج کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔
سماج کے کچھ طبقوں نے اس حقیقت پر تشویش ظاہر کی ہے کہ لوک سبھا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد پر فوجداری کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے اجلاس غصہ اورتعصب پر مبنی مباحثوں کی نذرہوجاتے ہیں اور اس وجہ سے عوامی مسائل پر سنجیدہ گفتگو نہیں ہوتی ہے۔
میڈیا بھی رائے دہندگان (Electorate)کے تحفظات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔یہ کارٹون مزاح کے ساتھ ان کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ عمل صحت مند جمہوریت میں عام ہے۔
شکل 6.13: (A) مان سون اجلاس۔ گرج، بجلی، آندھی، طوفان وغیرہ کی امید کیجیے۔ یہ مان سون اجلاس ہے۔
شکل 6.13: (B) امیدواروں کے پرچوں کی جانچ
پھر بھی جب عوام جتنی بیدار اور فعال ہوتی ہے ہمارا جمہوری نظام اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے۔ عوام سوال پوچھ کر اپنے خیالات کے اشتراک اور عوامی مباحثوں میں حصّہ لے کر بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد کرتی ہے۔ لہٰذا ، ہندوستان کو اپنی مقننہ کے حوالے سے درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کا ایک بہترین طریقہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ شہری معاشرے کے لیے اہمیت کے حامل معاملات سے باخبر رہیں، ڈیجیٹل اسپیس پر عوامی مباحثوں میں حصہ لیں ،جومختلف سرکاری محکمے پالیسی سازی کے عمل کے دوران پیش کیے جاتے ہیں۔ مزید پالیسیوں پرسیاسی نمائندوں کے ساتھ تعمیری طور پر مشغول ہوں۔
اب بہت سےنوجوان لیڈر اور الگ الگ فکر کے لوگ بھی سیاست میں آ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مربوط رہنا اور حکمرانی میں شرکت کرنا پہلے کی نسبت آسان ہو گیا ہے۔ مستقبل کے رائے دہندگان کے طور پر آپ کی پسند اور آپ کی حصہ داری پارلیمنٹ اور آپ کی ریاستی اسمبلی کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کرے گی اور ان کے ذریعہ عوام کی حقیقی خدمت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
اِسے دیکھنا نہ بھولیں
- ہندوستان کے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے لوک سبھا میں اپنی ایک تقریر میں کہا تھا۔
”سرکاریں آئیں گی، جائیں گی۔ پارٹیاں بنیں گی، بگڑیں گی لیکن یہ دیش(دیس) رہنا چاہیے ۔ اس دیش (دیس)کا لوک تنتر امر(زندہ) رہنا چاہیے۔“
- آپ کے خیال میں یہ بیان جمہوریت میں پارلیمنٹ اور لیڈروں کے رول کے بارے میں کیا پیغام دیتا ہے؟ جب سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہوتی ہے تب بھی جمہوری اقدار کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
شکل6.14: اٹل بہاری واجپئی
اس سے پہلے کہ ہم آگےبڑھیں...
- ہندوستان کا پارلیمانی نظام یہ یقینی بناتا ہے کہ اقتدار میں اشتراک ہو، فیصلوں پر بحث ومباحثہ ہو اور رہنماؤں کو جواب دہ بنایا جائے۔
- مقننہ قانون بناتی ہے، عاملہ ان کا نفاذ کرتی ہے اور عدلیہ یہ یقینی بناتی ہے کہ سبھی آئین کی پیروی کریں ۔
- پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور ہماری جمہوریت کی وفاقی روح کی عکاسی کرتی ہے۔
- مرکز اور ریاستی دونوں سطح پر ا یسی ساخت بنائی گئی ہیں جو نمائندگی، جواب دہی اور یک جہتی میں توازن قائم کرتی ہیں۔
- اداروں کے درمیان ضبط وتوازن شہریوں کے حقوق کےتحفظ اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنےمیں مدد کرتے ہیں۔
- پارلیمنٹ کے کام کاج کو زیادہ مؤثر اور بارآور بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ملک کی ترقی میں خلل نہ پڑے۔
سوالات اور سرگرمیاں
1. معلوم کریں کہ پارلیمنٹ کے ہر ایوان میں آپ کی ریاست کےکتنے نمائندے ہیں؟
2. کیا چیز ہندوستانی پارلیمنٹ کو ’عوام کی آواز‘ بناتی ہے؟ یہ کیسے یقینی بنایا جا تا ہے کہ مختلف رائے سنی جائے۔
3. آپ کے خیال میں آئین نے عاملہ کو مقننہ کے لیے جواب دہ کیوں بنایا؟
4. آپ کے خیال میں مرکزی سطح پر دو ایوانی مقننہ کا نظام ہم نے کیوں پسند کیا؟
5. پارلیمنٹ میں منظور شدہ کسی بِل کے مکمل سفر کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ غور کیجیے کہ سب سے پہلے اِسے کس ایوان میں پیش کیا گیا؟ کیا اس پر بحث و مباحثہ ہوا یا کسی نے مخالفت کی؟ اِس بِل کو قانون بننے میں کتنا وقت صرف ہوا؟ اِس کے لیے آپ اخبارات کی پرانی خبر یں، سرکاری ویب سائٹس اور لوک سبھا کی بحثیں دیکھ سکتے ہیں یا حسبِ ضرورت اپنے استاد کی مدد لے سکتے ہیں۔
6. پارلیمنٹ کے ذریعے حال ہی میں پاس کیے گئے کسی قانون کا انتخاب کیجیے۔ جماعت کو الگ الگ گروپوں میں تقسیم کیجیے۔ بعض طلبا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن بنیں۔ بعض وزیر بنیں جو سوالوں کے جواب دیں اور کوئی صدرِ جمہوریہ کا کردار ادا کرے۔ سبھی مل کر ایک مختصر تمثیلی مظاہرہ تیار کریں جس میں ظاہر کیا جائے کہ کیسے ایک بِل پارلیمنٹ میں پیش ہوتا ہے۔ اس پرگفتگو ہوتی ہے، پاس ہوتاہے اور صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد قانون بن جاتا ہے۔ ایک مثالی پارلیمنٹ کو اسٹیج کیجیے۔
7. خواتین ریزرویشن بِل 2023 وسیع حمایت سے پاس ہوا۔ ایک طویل عرصے تک زیر بحث رہنےکےباوجود اِس بِل کو منظور ہونے میں 25 سال سے بھی زیادہ عرصہ کیوں لگا؟
8. بعض اوقات پارلیمنٹ میں خلل پڑتا ہے اور جتنے دنوں تک اسے کام کرنا چاہیے اتنے دنوں تک نہیں کر پاتی ہے۔ آپ کے خیال میں اس کا قوانین کے معیار اورلوگوں کے اپنےنمائندوں کے تئیں اعتماد پر کیا اثر پڑتا ہے؟
9. کیا آپ طلبا کےدرمیان دل چسپی کے گروپ بنا سکتے ہیں اور کسی بھی پالیسی سے متعلق سوالوں کی ایک فہرست تیار کرسکتے ہیں جو آپ اپنے ایم پی یا ایم ایل اے سے پوچھنا چاہتے ہیں؟ یہ سوالات ایم ایل اے کے بجائے ایم پی سے کیسے مختلف ہوں گے اور اسی طرح سے ایم ایل اے سے ایم پی کے بالمقابل کیسے مختلف ہوں گے۔
10. ہندوستانی جمہوریت میں عدلیہ کا کیا کردار ہے؟ اگر ہمارے پاس آزاد عدلیہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا ؟