Skip to content
Qr






باب 7

پیداوار کے عوامل
(Factors of Production)


’’ہندوستان جیسے ملک کی ترقی اور پیداواریت میں شاید سب سے بڑا تعاون، زمین،محنت اور سرمایے کا زیادہ مؤثر استعمال سے ہو سکتا ہے۔ اس لیے انھیں زیادہ مؤثر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔‘‘

— ببیک دیب رائے

چیئرمین،اقتصادی مشاورتی کونسل برائے وزیراعظم (2017-24)

Screenshot 2026-03-16 at 11-49-13 Chapter 7.pdf

شکل 7.1


اہم سوالات

1. پیداوار کے کون کون سے عوامل ہیں؟

2. یہ عوامل کس طرح باہم مربوط ہیں؟

3. پیداوار میں انسانی سرمایے کا کیا کردار ہے اور اس کے معاون عناصر کون سے ہیں؟

Screenshot 2026-03-16 at 11-52-01 Chapter 7.pdf

شکل7.2: کچھ اشیا/اجناس کے پیداوار کی ایک جھلک

تعارف

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے لباس، جوتے، اسکول بیگ، فرنیچر، فون اور کمپیوٹر وغیرہ کیسےوجود میں آئے؟ آپ کے ارد گرد پائی جانے والی ہرشے اپنی آخری شکل میں آپ تک پہنچنے سے پہلے پیداواری عمل سے گزرتی ہے۔ پیداوار کے اس عمل میں اشیا کو ان کے آخری شکل میں تیار کرنے کے لیے بعض وسائل یا ان پٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اشیا اور خدمات کی پیداوار میں استعمال کیے جانے والے یہ وسائل پیداوار کے عوامل کہے جاتے ہیں۔


رتنا سے ملیے، جو شہر کے باہری حصّے میں”پاژ پوائنٹ“ نامی ایک چھوٹا سا ریستوراں چلاتی ہے۔ شاہراہ سے گزرنے والے مسافروں میں مزے دار اورا علیٰ معیارکے کھانے کے لیے مشہور یہ ریستوراں ترقی کر رہا ہے۔ رتنا کے پاس سات ملازمین ہیں جو ریستوراں کو آسانی سے چلانے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ پانچ سال قبل جب رتنا نے اسے شروع کیا تھا تب اسے صحیح جگہ کا انتخاب، کرایہ اور سامان کے لیے پیسے کا بندوبست کرنا، ملازمین کی تقرری، سامان خریدنا اور اپنے خواب کو سچ کرنے کا منصوبہ بنانا تھا۔

اشیا اور خدمات کی پیداوار کے لیے کاروبار وں میں مختلف اِن پٹ یا پیداوار کے عوامل کا امتزاج ہوتا ہے جس سے لوگوں کومعاشی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔

کاروبار

(Businesses):

ایک فرم، دکان، فیکٹری وغیرہ جو اشیا تیار کرتی یا فروخت کرتی ہے، یا کوئی خدمت فراہم کرتی ہے۔

آئیے معلوم کریں


  • چھوٹے چھوٹے گروپ میں اپنے مقامی علاقے کی معاشی سرگرمیوں کا مطالعہ کریں۔ معلوم کریں کہ وہاں کس قسم کی اشیا اور خدمات تیار کی جا رہی ہیں یا فراہم کی جا رہی ہیں؟
  • یہاں لتا، آشا، موہن اور کرن کی تیار کی گئی ایک مختصر سی رپورٹ دی گئی ہے۔ آپ بھی اپنی منتخب دکانوں کے لیے اس طرح کی ایک رپورٹ بنا سکتے ہیں۔

    دکانوں کی اقسام

    علاقے میں اس کی تعداد

    تیار کردہ اشیایا فراہم کی جانے والی خدمات

    مطلوبہ ان پٹ
    کی اقسام

    پرچون کی دکان

    13

    غذائی اجناس، دودھ، بریڈ

    ڈبہ بند اشیا، جلد خراب ہونے والی اشیا،ذخیرہ کرنے کی جگہ

    ریستوراں/فوڈ اسٹال

    8

    پکا ہوا کھانا، مختصر ناشتہ، مشروبات

    خام اجزا جیسے سبزیاں ،پھل، گیس، برتن؛ باورچی /مددگار

    سبزی فروش

    15

    تازی سبزیاں اور پھل

    تازہ مصنوعات، ٹوکریاں، ترازو، ٹھیلا یا اسٹال

    موبائل مرمت کی دکان

    4

    موبائل کی مرمت اور متعلقہ سامان

    آلات ،پرزے،موبائل کے اجزا اور ان کےکام کا علم و ہنر

    سیلون/پارلر

    3

    بال کاٹنا، سنگار،آرائشی خدمات

    قینچی ،کریم، خوب صورتی کی مصنوعات،پانی ،بجلی

اپنے گروپ کی رپورٹ دیکھتے ہوئے مندرجہ ذیل جملوں کے متعلق سوچیں:

  • لوگوں کو اپنے کاروبار کے لیے درکار رقو م کہاں سے حاصل ہوتی ہیں؟
  • حجام (Hairdresser)کی تربیت کہاں ہوتی ہے؟
  • غذا فروشوں (Food vendors)کو کھانا پکانا کس نے سکھایا؟
  • کاروبارکے مالکان کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب کہاں سے ملی؟

معاشیات میں، پیداواری عمل میں استعمال کیے جانے والےمادخل(Inputs) یا پیداوار کے عوامل کو چاراقسام میں بانٹا گیا ہے— زمین،محنت، سرمایہ اور کاروباری صلاحیت۔ ٹیکنا لوجی ایک معاون اور اہم عنصر ہے جو کاروبار کو برابر یا کم ان پٹ کے ذریعے زیادہ پیداوار دینے کے قابل بناتی ہے۔ آیئے آئندہ حصہ میں مادخل کے متعلق مزید معلومات حاصل کریں!

پیداوار کے عوامل

زمین (قدرتی وسائل)

معاشیات میں لفظ زمین کا مطلب صرف جغرافیائی اراضی نہیں ہے بلکہ اس میں مٹی، جنگل، پانی، ہوا، سورج کی روشنی، معدنیات، تیل اور قدرتی گیس جیسے قدرتی وسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔قدرتی وسائل اور ان کااستعمال باب کو یاد کریں جہاں ہم نے قدرت کی طرف سے تحفہ کے طور پر دیے گئے وسائل اور ان کے استعمال پر بحث کی تھی۔ کاروباری ادارے یا تو مطلوبہ زمین خریدتے ہیں یا پھر ایک معینہ مدت کے لیے اسے کرائے پر لیتے ہیں۔

آئیے معلوم کریں

اپنی رپورٹ میں جدو ل کو دوبارہ دیکھیں ۔آپ کی فہرست میں سے کن اشیا کو ”زمین“ کے درجہ میں رکھا جا سکتا ہے؟

محنت( انسانی وسائل) (Labour (Human Resources)

محنت جس میں جسمانی اور ذہنی کوشش شامل ہے، پیداوار، کا ایک اہم عامل ہے۔ بڑھئی، کسان، تعمیراتی کا رکن، مدرس اور ڈاکٹر اپنے کام میں مختلف سطح کی جسمانی طاقت، علم اور ہنر کا استعمال کرتے ہیں۔ سماج کی ضرورتوں کے مطابق خدمات اور اشیا کی فراہمی میں ہر انسان اپنے کام کے ذریعے شراکت کرتا ہے۔

ہنر(Skill):

کسی کام یا پیشے کومشق اورتربیت کے ذریعے اچھی طرح انجام دینے کی صلاحیت۔

افراد بطور وسیلہ (People as a Resource)

انسان، معاشی سرگرمی اور پیداواری کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے علم، ہنر اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے اشیا اور خدمات کی تخلیق کرتے ہیں۔مثال کے طور پر پولس آفیسر امن و امان قائم رکھتا ہے، سائنس داں نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرتا ہے۔ باورچی نئے پکوان تیار کرتا ہے، وغیرہ۔ یہ سب اپنے کام کو اچھے طریقے سے انجام دینے کے لیے خاص علم اور مہارت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان سبھی کی اپنے اپنے کام کے تئیں لگن بھی ضروری ہے۔ لفظ’ محنت‘ سے مراد پیداواری کے عمل میں استعمال ہونے والی جسمانی اور ذہنی کوشش ہے لیکن انسانی سرمایہ سے مرادوہ خصوصی ہنر، علم، صلاحیت اور مہارتیں ہیں ،جو اس محنت کو انجام دینےکے لیےدرکار ہوتی ہیں۔ اس طرح انسانی سرمایہ صرف محنت کی بنیادی کوشش نہیں ہے بلکہ اس محنت کا معیار اور کارکردگی بھی ہے۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-16-12 Chapter 7.pdf

شکل7.3: چائے کے باغ میں کام کرتا ہوا ایک ملازم

شکل7.4: کیمیکل انجینئر

Screenshot 2026-03-16 at 15-16-20 Chapter 7.pdf

شکل7.5: (بڑھئی)

شکل7.6: سافٹ ویئر ڈیولپر

انسانی سرمایے میں مدد گار عوامل

تعلیم وتربیت

تعلیم لوگوں کو معلومات حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے جو بنیادی خواندگی سے شروع ہوکر خصوصی شعبوں میں مہارت حاصل کر نے تک جاری رہتی ہے۔آپ اسکول میں جو کچھ بھی سیکھتے ہیں وہی آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور آپ کو حقیقی زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سوِل انجینئرنگ کا طالب علم ڈیزائن اور تعمیراتی مواد کے اصول کو سیکھتا ہے، جن کا استعمال بنیادی ڈھانچہ مثلاً سڑک، پُل وغیرہ کی تعمیر میں کیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ پائیدار ،کفایتی اور ماحول دوست حل پیش کرنےکا ہوتا ہے۔ اس میں تربیت کے ذریعے کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔مثلاً تعمیراتی مقام کا مشاہدہ ،مواد کی جانچ، حفاظتی طریقہ اور تجزیاتی اطلاق۔تعلیم وتربیت سے افراد اپنے کیریئر میں بہترین کارکردگی کے لیے تیارہوتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-17-44 Chapter 7.pdf

شکل7.7: تعلیم و تربیت

تربیت

(Training):

یہ خاص کام یا سرگرمی کو انجام دینے کے لیے ضروری ہنرسیکھنے کا عمل ہے۔

علمی

(Cognitive):

اس کا مطلب سیکھنے، جاننے اور سمجھنے کے عمل سے ہے۔

نگہداشت صحت (Healthcare)

اچھی صحت علمی ترقی میں مدد گار ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے بچّے پابندی سے اسکول جاتے ہیں اور زیادہ مؤثر طریقے سے سیکھتے ہیں۔ اسی طرح جب مزدوروں کی صحت اچھی ہوتی ہے تو وہ بھی جسمانی اور ذہنی حساب سے بہترین طور پرقابل ہوتے ہیں۔ وہ کم وقت میں زیادہ کام کرتے ہیں، تخلیقی ہوتے ہیں اور صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ چھٹی نہیں لیتے ہیں۔

آئیے غور و فکر کریں

بنیادی ڈھانچہ اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق انتظامات مثلاً اسپتال، بنیادی صحت کے مراکز، ڈاکٹر، دوا خانے اور تشخیصی تجربہ گاہیں وغیرہ انسانی سرمایے کےفروغ میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں؟

سماجی اور ثقافتی اثرات

کڑی محنت، مسلسل بہتری اور کام کو اچھے طریقے سے انجام دینے کی روایت نے مختلف ممالک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ایک جاپانی تصور ہے کا یجین(Kaizen)،جس کا مطلب ہے ’مسلسل بہتری‘۔ اس تصور کو جاپان میں 1940 کی دہائی کے درمیان سے عمل میں لایا جا رہا ہےاور اس نے جاپانی عوام کے معیارِزندگی کو بلند کرنے میں مدد کی ہے۔ اسی طرح دوسری مثال جرمنی کی کام کی اخلاقیات (German work ethic)کا ہے جس کی جڑیں اس کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ جرمنی اپنی معیاری مصنوعات کے لیے مشہور ہے۔ وہ وقت کی پابندی، باریکیوں پر نظر اور معیار کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے انسانی سرمائے کی ان خوبیوں نے تکنیکی و تعمیری میدان میں عالمی قائد بننے میں ان کی مدد کی ہے۔

آیئے معلوم کریں

  • آئیے ایک چھوٹا ساتجربہ کرتے ہیں۔ اپنے خاندان اور محلے کے 10کام کرنے والے بالغ افراد کی فہرست بنائیں۔ ان سے ان کے کام کی جگہ کے ماحول یا ثقافت کے بارے میں پوچھیں۔ اپنے ہم جماعت کو یہ تفصیلات بتائیں۔ آپ نے کیا دریافت کیا؟ صفت بیان کرنے والے وہ کون الفاظ ہیں جو بار بار استعمال کیے گئے ہیں؟
  • ماضی کے نقوش والے ابواب میں آپ نے ہندوستان میں کئی صدیوں سے چلے آ رہے آرٹ اور آثار قدیمہ کی مثال دیکھی۔ آپ کی نظر میں ایسے کون کون سے عوامل رہے ہوں گے جنھوں نے تعمیری کام کرنے والوں کو اپنے کام میں اعلیٰ سطحی کارکردگی حاصل کرنے کے قابل بنایا ہوگا۔ گروپ بناکرتبادلہ خیال کریں اور کلاس میں گفتگو کریں۔

انسانی سرمایے کو درپیش مسائل

(Challenges to Human Capital)

آزادی کے بعد ہمارے ملک نے انسانی سرمایے کے مختلف پہلوؤں میں کافی ترقی کی ہے۔ خواندگی آبادی کی ایک اہم خوبی ہے اور انسانی سرمایے کی ہنر مندی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے میں معاون ہے۔ عالمی بینک کے ذریعہ 2023 میں لگائے گئے اندازے کے مطابق ہندوستان میں بالغ شرح خواندگی مردوں میں 85 فیصد اور عورتوں میں 70 فیصد ہے۔ کئی شعبوں میں پیش رفت کےباوجود ہندوستان کو انسانی سرمایے کے فروغ میں چیلنج کا سامنا ہے۔

پیداواریت

(Productivity):

معینہ مدت میں زیادہ کام انجام دینےکی صلاحیت۔

بالغ شرح خواندگی

(Adult literacy rate): سال اور اس سے زیادہ عمر کے ایسے افراد جو پڑھ لکھ سکتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی سے کوئی سادہ بیان سمجھ کر پڑھ اور لکھ سکتے ہیں

آیئے غور و فکر کریں

سرسوتی اسکول کے درجہ 8 کے طالب علم شیوائے کو دو سال قبل اپنا اسکول چھوڑنا پڑا تھا کیوں کہ اس کے والد کی نوکری چلی گئی تھی۔ اسکولی تعلیم کے دو سال کے نقصان نے شیوائے کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟

جب کاروبار میں مطلوبہ ہنر والے مزدور نہیں ملتے ہیں تو انھیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ہندوستان کے اقتصادی سروے 2024 کےمطابق ہندوستان میں 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کے پاس ایک نوجوان، پیداواری آبادی ہے، جو ملک کو آبادیاتی منافع (Demographic Dividend) حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ آبادیاتی منافع اس منافع کو کہتے ہیں جو ایک ملک کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے پاس بڑی تعداد میں نوجوان اور کام کرنے والے افراد ہوں۔ جب زیادہ لوگ کام کرتے ہیں اور اپنا رزق حاصل کرتے ہیں اور ان پر منحصر افراد کی تعداد کم ہوتی ہے تب اس کا کاروبار ترقی کرتا ہے اور وہاں کے باشندوں کا معیار زندگی اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔ اس صلاحیت کا فائدہ اٹھانے کے لیے انسان کے پاس معیاری تعلیم، صحت اور ہنر کی تربیت تک رسائی ضروری ہے جو ملک کی ترقی میں معاون ہے۔ آئندہ سال آپ آبادیاتی (Demographics) والے باب میں اس موضوع میں مزید معلومات حاصل کریں گے۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-19-26 Chapter 7.pdf

شکل 7.8: امتحان دیتے ہوئے طالب علم

آیئے غور و فکر کریں

کیا کچھ کام ،دیگر کاموں سے زیادہ اہم ہیں؟ کیا ہوگا جب کوئی راستے کی صفائی نہ کرے، کوڑا نہ اٹھائے، کسان فصل پیدا کرنا بند کردیں، ڈاکٹر بیماریوں کےعلاج کے لیےدستیاب نہ ہوں اور اسی طرح کے دوسرے حالات پیدا ہو جائیں؟

آج کئی طرح کے کام دستیاب ہیں جن کے لیے مختلف طرح کی ہنر مندیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ہندوستان میں ہنر اور مہارت پر مبنی علم کے نظام کی ایک مؤثرروایت رہی ہے۔


ہندوستان کی ہنرمندی کی قدیم وراثت

قدیم ہندوستانیوں کے لیے کام اپنی فطرت کا اظہار اوردرجۂ کمال کے لیے کوشش کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ یا تو دیوتا کے لیے ایک نذرانہ سمجھا جاتا تھا یا وصول کنندہ کے لیے ایک مقدس پیش کش، صورت حال کے مطابق ۔ اس لیے یہ پوری لگن کے ساتھ انجام دیا جاتا تھا۔ کام کو انجام دینے کے لیے استعمال میں لائے گئےاوزار (ٹیکنالوجی کی ایک قسم) کی عبادت کی جاتی تھی۔ یہ روایت آج بھی وشوکرما پوجا یا آیودھ پوجا کی شکل میں مسلسل جاری ہے۔ یوں اشیا کی تخلیق کلا (آرٹ) اوروِدیا (علم) کے حسین امتزاج سے ہوتی تھی۔ علم نسل در نسل منتقل ہوتارہا اور ہر دور میں اس میں مزید ترقی ہوتی ر ہی ۔شلپ شاشتروہ قدیم متون ہیں جن میں مجسمہ سازی، پینٹنگ، عمارتیں، لکڑی کی اشیا اور زیورات کے تفصیلی ڈیزائن کے متعلق ہدایت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پہ مجسمہ سازی سے متعلق متون میں جسمانی اوضاع، رنگ، پیمائشوں اور شکلوں کے تناسبات کے بارے میں حتمی تخصیصات مقرر کی گئی ہیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

صدیوں سے مجسمہ ساز خاندانوں کی کئی نسلیں ہندوستان کے مندروں کی تعمیر پر کام کرتی رہی ہیں۔ وہ اپنے ہنر کا استعمال بغیر اس امید کے کیا کرتے تھے کہ آیا وہ اس کا نتیجہ دیکھ پائیں گے۔ کام کو عبادت مان کر، باقاعدہ مشق اور نئی تکنیکوں کو سیکھتے ہوئے وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے تھے۔


سلائی شدہ جہازسازی

ہندوستانیوں نے دو ہزار سال سے بھی پرانی ایک منفرد سلائی کی تکنیک استعمال کی جس سے وہ جہاز اور کشتیاں بناتے تھے۔ جہازوں اور کشتیوں کا استعمال وہ بحر ہند کے نزدیک ممالک میں بحری تجارت اور ثقافتی تبادلہ کے لیے کرتے تھے۔ اس تکنیک میں لکڑی کے تختوں کو ایک ساتھ کیلوں کے بجائے رسیوں سے سی کر جوڑا جاتا تھا، جس سے جہاز لچک دار بن جاتے اور بحرِ ہند کی لہروں پر آسانی سے سفر کر سکتے تھے۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-20-59 Chapter 7.pdf

شکل7.9: پانچویں صدی کے سِلے ہوئے جہاز کی باز تشکیل

آئیے معلوم کریں

  • پیداوار کی بہت سی روایتی تکنیکیںیا تو معدوم ہوگئی ہیں یا زوال پذیر ہیں۔مثال کے طور پرسولھویں صدی میں بحرِ ہند میں یوروپیوں کی آمد کے بعد جہازوں کی سلائی کی تکنیک پر زوال آیا۔اب یہ تکنیک صرف چھوٹی ماہی گیر کشتیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • آپ کے خیال میں مقامی یا دیسی تکنیکوں کے استعمال میں کمی کیوں آئی ہے؟اس پر کلاس میں گفتگو کیجیے ۔
  • اپنے علاقے کی کچھ ایسی تکنیکوں اور پیداوار کی تلاش کریں جس میں انسانی محنت اور ہنر کا استعمال ہوا ہو۔ کلاس میں ڈرائنگ اورمتن کا استعمال کرتے ہوئے مختصر طورپر وضاحت کریں۔

سرمایہ(Capital):

معاشیات میں،کوئی بھی اثاثہ خواہ وہ مادی ہو یا مالی،جو اشیا اور خدمات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، سرمایہ کہلاتا ہے۔

سرمایہ (Capital)

کاروبار کے لیے سرمایہ بھی ضروری ہوتا ہے، جو مالی وسائل اور پائیدار اثاثوں پر مشتمل ہوتا ہے، جیسے مشینری، اوزار، سامان، گاڑیاں، ریڑھیاں، کمپیوٹر، دکانیں، کارخانے، دفتری عمارتیں وغیرہ جو روزمرہ کے کاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔بالکل اسی طرح جیسے رتنا کو زمین لیز پر لینے، فرنیچر اور کچن کا سامان خریدنے کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی ہوگی۔ان سب کو ’سرمایہ‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ رقم اور انسان کے بنائے ہوئے وسائل جو اشیا اور خدمات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-21-56 Chapter 7.pdf

شکل7.10: صنعتی آلات (Machinery)

شکل7.11: قرض

سرمایہ ،مصنوعات سازی یونٹ یا خدماتی شعبے(Services sector) کے ادارے (Enterprise) کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔لیکن کاروبار کو سرمایہ کہاں سے ملتا ہے؟عام طور پر جب کوئی شخص کاروبار شروع کرتا ہے تو سرمایے کا سب سے پہلا ذریعہ ذاتی بچت، خاندان اور دوست ہوتے ہیں — بالکل ویسے ہی جیسے رتنا نے اپنا کاروبار شروع کرتے وقت کیا تھا۔تاہم، رتنا کے پاس کاروبار شروع کرنے کے لیے کافی رقم نہیں تھی، اس لیے اس نے کمی پوری کرنے کے لیے بینک سے قرض لیا۔اس نے وقت کے ساتھ قرض کی رقم کا کچھ حصہ اور اس پر سود بھی ادا کیا۔اسی طرح، بڑی کمپنیاں جب اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی ہیں تو انھیں بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس مقصد کے لیے وہ عوام سے سرمایہ اکٹھا کرتی ہیں، جو اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔اسٹاک مارکیٹ ایک خاص قسم کی منڈی ہوتی ہے جہاں حصص (Shares) خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔بڑی کمپنیاں عوام سے پیسے اکٹھے کرنے کے لیے انھیں منافع کا حصہ پیش کرتی ہیں،جسے منافع (Dividend) کہا جاتاہے۔دوسرے الفاظ میں، بڑے کاروبار اس طرح کی منڈیوں کے ذریعے سرمایہ یا مالی وسائل حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی کمپنی کے حصص فروخت کر کے پیسہ جمع کر سکتے ہیں۔ آپ اس نظام کے طریقۂ کار پر مزید معلومات اگلے گریڈ میں حاصل کریں گے۔

سود(Interest):

وہ رقم جو قرض لینے والا (مقروض) ایک مقررہ مدت کے لیے قرض دینے والے (قرض دہندہ) کو اس کے پیسے کے استعمال کے بدلے ادا کرتا ہے۔

منافع(Dividend):
وہ رقم جوکوئی کمپنی اپنے حصص یافتگان (Shares holders) کو اپنے منافع میں سے باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتی ہے۔

آیئے معلوم کریں

اپنے علاقے میں کسی ایک کارخانہ کی نشان دہی کریں۔پتہ لگائیں کہ کارخانہ کی تعمیر میں تقریباً کتنا سرمایہ لگا ہوگا۔ (آپ ایک تخمینہ پیش کرسکتے ہیں )کارخانہ اپنے تیار شدہ مصنوعات بنانے کے لیے کس قسم کے آلات یا مشینری استعمال کرتا ہے۔

کاروباری مہم جوئی (Entrepreneurship)

کاروباری مہم جوئی کا مطلب ہے اپنا کاروبار شروع کرنا یا کوئی نئی چیز تخلیق کرنا تاکہ کسی مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ کاروباری(Entrepreneur) وہ شخص ہوتا ہے جو کسی خیال یا تصور کے ساتھ سامنے آتا ہے، جوکھم اُٹھاتا ہے، پیداوار کے دیگر عوامل کو جمع کرتا ہے، اور اپنی ابتدائی کاروباری تجویزکو کامیاب بنانے کےلیے کڑی محنت کرتا ہے۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-25-04 Chapter 7.pdf

شکل7.12: بانس و بینت کے مصنوعات،اروناچل پردیش

شکل7.13: فوڈ پروسینگ

Screenshot 2026-03-16 at 15-25-53 Chapter 7.pdf

شکل7.14: مٹی کے برتن، دہلی

شکل7.15: پٹروکمیکل پلانٹ

کسی مسئلے کو حل کرنےکے لیےکاروباری کی گہری نظر مصنوعات اور خدمات کو بازار میں لانے میں مدد دیتی ہے، جو معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔اس کے ساتھ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو ذریعۂ معاش کی فراہمی میں معاون ہوتے ہیں۔نتیجتاًاپنے خواب کو حقیقت بنتے دیکھنے اور لوگوں کی خدمت کرنے سے گہرا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اس طرح کوئی کاروباری وہ انسان ہوتا ہے،جو:

ابتدائی کاروباری تجویز(Startup):

اسٹارٹ اپ ایک کاروباری منصوبہ ہے جس کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور یہ تیز رفتار ترقی اور توسیع کے لیے کام کرتا ہے، ساتھ ہی ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-33-04 Chapter 7.pdf

شکل 7.16: کسی کاروباری کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کام


وہ انسان جس نے ہندوستان کے لیے بڑا خواب دیکھا

جے.آر.ڈی ٹاٹا — کاروباری،

صنعت کار اور انسان دوست

جہا نگیر رتن جی دادا بھائی ٹاٹا، ہندوستان کے بڑے کاروباریوں میں سے ایک تھے اور جدید ہندوستان کی تعمیر میں ان کا بڑا کردار ہے۔ ان کی پیدائش 1904 میں ہوئی تھی اور وہ ملک کے ایک بڑے تجارتی ادارے ”ٹاٹا گروپ“ کے مالک بنے۔ ان کایہ ماننا تھا کہ کاروبار سے صرف منافع ہی نہیں حاصل کرنا چاہیے بلکہ معاشرے کی خدمت بھی کرنی چاہیے۔ 1932 میں انھوں نے ہندوستان کی پہلی فضائی سروس، ٹاٹا ایئر لائنس، شروع کی جو بعد میں ایئر انڈیا بنی۔ ان کی رہنمائی میں ٹاٹا گروپ نے کئی شعبوں میں توسیع کی جیسے اسٹیل ،کار ، بجلی اور کیمکلزوغیرہ۔ جے آر ڈی ٹاٹا اپنے ملازمین کی دیکھ بھال کرنے اور انھیں کام کرنے کے اچھے حالات مہیا کرانے میں یقین کرنے والے انسان کے طور پہ مشہور تھے۔ ایک بابصیرت، محنتی اور ایمان دار انسان تھے۔ 1992 میں ملک کی اعلیٰ خدمات کے لیے انھیں حکومت ہند کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ”بھارت رتن“ سے نوازا گیا۔

شکل7.17: جے.آر.ڈی ٹاٹا

آیئےغوروفکرکریں

  • نوجوان کاروباری مذکورہ معاملے سے کیا سبق حاصل کرسکتے ہیں؟
  • کیا کاروباری کا موجودہ علم درپیش مسائل کے حل تلاش کرنے میں معاون ہے یا اس کے لیے انھیں دیگر ذرائع کی ضرورت پڑتی ہے؟
  • کیا کسی کاروباری کامقصد محض منافع کمانا ہونا چاہیے ؟کیوں یا کیوں نہیں؟
  • ایک کامیاب کاروباری بننے کے لیے اور کون کون سے انفرادی اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے؟

ٹیکنالوجی: پیداوار میں معاون

(Technology: An Enabler of Production)

ٹیکنالوجی کے معنی ہے سائنسی علم کو استعمال میں لانا۔ مثلاً ایک کیمرہ روشنی کو برقی اشاروں میں تبدیل کرکے ایک ڈیجیٹل تصویر بناتا ہے۔پیداوار سےمتعلق سرگرمی میں کسی نہ کسی طرح تکنیک کا استعمال ہوتاہے۔ کچھ بنیادی قسم کی تکنیک دور قدیم سے موجود ہیں اورآج بھی استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔

دور حاضر میں ہماری زندگی کو مزید آسان بنانے کے لیےنئی اور اعلیٰ درجے کی تکنیکوں کا استعمال مختلف شعبوں میں ہو رہا ہے۔ مثا ل کے طور پر یوپی آئی کے ذریعہ صرف ایک بٹن دبا کر رقم کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔
کسان موسم کی معلومات پہلے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ جی پی ایس (Global Positioning Systems) سامان لانے ،لے جانے کے لیے مختصر ترین راستہ تلاش کر سکتا ہے وغیرہ ۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-37-36 Chapter 7.pdf

شکل7.18: فصلوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے ڈرون سے کھاد کا چھڑکاؤ

شکل7.19: روبوٹس کی مدد سے جراحت کاعمل

کیا آپ نے دیکھا ہے کہ پرانی ٹیکنالوجی ایک نئی اور بہتر ٹیکنالوجی میں کس طرح تبدیل ہو جاتی ہے؟

یہ عمل لوگوں اور ان کے کاروبارکے لیے کام کروانے کے طریقے کو آسان بناتا ہے اور ان کے کام کرنےکے طریقوں کو بہتر بناتا ہے۔ مثلاً ڈاک سے خط بھیجنے کی جگہ پر اب ہم ای-میل کا استعمال کرتے ہیں جس سے ہم لوگوں سے جلدی اور کم قیمت میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ تکنیکی ترقی کا مطلب ہمیشہ ہی پرانی ٹیکنالوجی کا بدلنا نہیں ہوتا ہے— کچھ تکنیک مثلاً چرخی (پلی) اور ٹھیلا گاڑی آج بھی استعمال میں ہیں۔

آئیے اب اس بات کی مثالیں دیکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح طالب علموں کو سیکھنے، نئی مہارتیں حاصل کرنے اور ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد کر رہی ہیں۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-38-10 Chapter 7.pdf

شکل7.20: ایک تعمیراتی جگہ پر ایک ٹھیلا گاڑی

شکل7.21: کشتیوں میں استعمال ہونے والی چرخی


علم، ہنر اور ملازمت کے مواقع تک رسائی کی راہ ہموار کرتی ٹیکنالوجی

مختلف قسم کے آن لائن کورسز طلبا کے لیے سرکاری پلیٹ فارم جیسے SWAYAM یعنی (Study Webs of Active Learning for young Aspiring minds) کے ذریعے دستیاب ہیں جو درجہ 9 اور اس کے بعد کے کورسز پیش کرتا ہے اور بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز (MOOCS) پرکام کرتا ہے جس کے ذریعہ آموزگار، روبوٹکس، ایکواکلچر، ٹیکسٹائل پرنٹنگ جیسے مضامین کو مفت میں سیکھ سکتے ہیں۔ طلبا ملازمت کرتے ہوئے یا دیگر کورسز پڑھتے ہوئے بھی ان آن لائن کورسز کو کسی بھی جگہ سے اپنی سہولت سے سیکھ سکتے ہیں۔ حکومت کے آن لائن پورٹل جیسے نیشنل کیریرسروس، نل سازی (Plumbing) سے اکاؤنٹنگ تک مختلف شعبوں میں ملازمت کے مواقع تلاش کرنے میں مدد کرتےہیں ۔ اس طرح ٹیکنالوجی نے جغرافیائی رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے، جس سے لوگوں کو علم، ہنر کی ترقی ،ہندوستان اور بیرون ملک میں ملازمتوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ ان آن لائن پورٹل کی خدمات کو درج ذیل لنک کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

dreamstime_xxl_187372100

شکل7.22: آن لائن سیکھیں

آیئے معلوم کریں

کیا آپ کچھ ایسی تکنیکی ترقی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جس نے اپنے ارد گرد کے لوگوں اور معاشروں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے؟ اپنے گھر اور ارد گرد کے بزرگوں سے اس سلسلے میں بات کریں۔

کسی ایسی ایجاد کے بارے میں سوچیں جس سے آپ کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کرنا چاہیں گے۔ اس سے متعلقہ معلومات کو کاغذ کے ٹکڑے پر لکھیں، جیسے کہ اس کا نام، یہ کیا کرتاہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے، اس کا خاکہ یا ڈرائنگ کیسا ہوگا، وغیرہ۔ اپنے ہم جماعت کے ساتھ بات چیت کریں۔

مختلف عوامل کیسے جڑے ہوئے ہیں؟

عوامل پیداوار — زمین، محنت، سرمایہ، کاروباری مہم جوئی اور ٹکنالوجی کواشیا اور خدمات کی تخلیق کے لیے یکجا کیا جاتا ہے اوراستعمال ہونے پر ہرعنصر کاتناسب مصنوعہ(Product) پرمنحصرہوتا ہے۔ مثال کے طورپر ،زراعت،تعمیرات اور ہنرمندی کے شعبوں کی پیداوار محنت پرزیادہ انحصارکرتی ہے اوراس لیے محنت مرکوز(Labour Intensive) ہوتی ہے۔ جب کہ سیمی کنڈکٹرچپس یا سیٹلائٹ کو زیادہ سرمایہ، خصوصی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے یہ سرمایہ مرکوز(Capital Intensive) ہوتے ہیں۔

یہ عوامل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ کچھ عوامل کی غیرموجودگی اور ان کے غلط استعمال کی صورت میں پیداوار بیکار ہو سکتی ہےیا بند ہو سکتی ہے۔ تاہم بعض معاملات میں نئی تکنیک، استعمال ہونے والے عناصرپیداوار کے تناسب کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر زراعت میں مشین کے استعمال میں اضافہ مزدوری پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ اسی طرح D-پرنٹنگ مارکیٹ کی خدمت کے لیے بڑے پیمانے پر ہینڈ لوم مصنوعات تیار کرکے ٹیکسٹائل میں فنا ہوتیں آرٹ کی شکلوں کو بحال کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ پیداواری خام مال (Inputs)مختلف جغرافیائی مقامات پر دستیاب ہیں۔ کاروباری انھیں ا ن مختلف مقامات سے خرید سکتے ہیں اور سامان اور خدمات تیار کرنے کے لیے ان کو یکجا کر سکتے ہیں۔ اس طرح جغرافیائی طورپر باہم مربوط ہونا کاروباریوں کو مختلف خام مال تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ تاہم پیداواری سرگرمیوں کو بعض اوقات کے سپلائی چین کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سپلائی چین (Supply Chain) افراد، تنظیموں ، وسائل، سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی کا ایک نیٹ ورک ہے جو سامان کی پیداوار اور فروخت میں شامل ہوتے ہیں۔

جب سپلائی چین میں خلل واقع ہوتا ہے تو مقامی خام مال کے بجائے دور دراز کے ذرائع پر انحصار کرنے کے نتیجے میں پیداواری عمل رک جاتا ہے، جیساکہ کورونا وبا (Covid-19) کے دوران ہوا تھا۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہندوستان 2025 میں چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہوگیا ہے۔ آئیے موبائل فون تیارکرنےکو ظاہر کرنے والے تسلسلی خاکے کے ذریعے ان خیالات کو سمجھتے ہیں۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-49-03 Chapter 7.pdf

مصنوعات کی پیداوار کے لیے ڈیزائن، نگرانی اور بہتر بنانے کے ہر مرحلے پر انسانی کوششیں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر سافٹ ویئر، الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئر کی ٹیم، پروجیکٹ منیجر کے ساتھ مصنوعات تیار کرنے کے لیے اپنی مہارت کااستعمال کرتی ہیں۔ کاروباری رہنما رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ وسائل کو کس طرح استعمال کیا جانا چاہیے۔ پھر زمین، فیکٹری کی جگہ، مشینری اور ہنر مند کارکنوں جیسے وسائل کے حصول کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ تمام مادخل (Inputs) ضروری ہیں اور ایک ساتھ مل کر ایسے کام کرتے ہیں جیسے پہیلی(Puzzle) کے ٹکڑےاور انھیں کے ذریعے وہ اشیا اور خدمات بنتی ہیں جن پر ہم انحصار کرتے ہیں!

پیداوار کے عوامل کے حوالے سے ذمہ داریاں

جب ہم سامان تیار کرتے ہیں تو ہم قدرتی وسائل جیسے زمین، پانی اور معدنیات کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم یہ وسائل محدود ہیں اور اگر ہم محتاط نہ رہیں تو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تمل ناڈو میں بہت سے لوگ چمڑے کےکارخانوں میں کام کرکے پیسے کماتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت میں مدد ملتی ہے، لیکن ان فیکٹریوں کا فضلہ دریاؤں اور مٹی کو آلودہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح جب پرانے اسمارٹ فون کو صحیح طریقے سے ری سائیکل (Recycle)نہیں کیا جاتا ہے، تو سیسہ اور پارا جیسے نقصان دہ مادے زمین اور پانی میں رس سکتے ہیں۔ یہ آلودگی انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس لیےسامان تیار کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدرتی وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کریں تاکہ ہم اپنی آج کی ضروریات کو پورا کر سکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل نہ ہو۔ انھیں مصنوعات بناتے وقت فضلہ کم کرنے ، آلودگی سے بچنے اور ماحول کی حفاظت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آیئے غور و فکر کریں

اس طرح کی سرگرمیوں سے مقامی معاشرے اور حیاتیاتی تنوع کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ کیا آپ اپنے ارد گرد کچھ ایسی جگہوں کو بھی جانتے ہیں جس نے وقت کے ساتھ ساتھ پانی اور زمین کی تنزلی دیکھی ہے؟ کلاس میں بحث کریں۔

اس طرح سامان تیار کرنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مستقبل کے استعمال کی خاطر قدرتی وسائل کی بحالی کے لیے پائیدار طریقے اختیار کریں۔

Screenshot 2026-03-16 at 15-59-13 Chapter 7.pdf

شکل7.24: صنعتی گندے پانی کو آبی ذخائر میں چھوڑنے سے پہلے اسے ری سائیکل کرنا

شکل7.25: ری سائیکل شدہ مصنوعات کا مادخل(Inputs)کےطورپراستعمال

زمین اور قدرتی وسائل کے علاوہ کاروباری اداروں کی اپنے کارکنوں اور ملازمین کے تئیں بھی ذمہ داریاں ہیں جن کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

  • مناسب اجرت اور کام کے حالات :آجر کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کارکنوں کو ان کی محنت کے لیے مناسب ادائیگی کی جائے اور وہ محفوظ ماحول میں کام کریں۔
  • ہنر کا فروغ اور تربیت: تربیت اور تعلیم میں سرمایہ کار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کارکن لیبر مارکیٹ میں مسابقتی رہنے کے لیے ضروری مہارتیں حاصل کرے۔
  • کام کی جگہ کے حقوق اور حفاظت: منصفانہ سلوک، امتیازکو روکنے اور صحت کی دیکھ بھال یا بااجرت چھٹی جیسے فوائد فراہم کرنے سے متعلق کارکنوں کے حقوق کےلیے قوانین اور ضوابط کی پابندی کی جانی چاہیے۔

کاروبار یوں کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کے ذریعے معاشرے اور حیاتیاتی تنوع کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے کاموں میں سماجی اور ماحولیاتی خدشات کو دور کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس میں آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو کم کرنا، مقامی معاشروں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا، ملازمین اور صارفین کے ساتھ احترام کے ساتھ برتائو کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

اسے دیکھنا نہ بھولیں

ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2014 میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا قانون نافذکیا جس میں کمپنیوں کو پابند کیا گیاہے کہ وہ گذشتہ تین سالوں کے اوسط منافع کا 2 فیصد’کارپوریٹ سماجی ذمہ داری‘(CSR) سرگرمیوں پر خرچ کریں۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں

  • زمین، مزدور، سرمایہ اور کاروبار پیداوار کے عوامل ہیں جو سامان اور خدمات کی پیداوار کے لیے ایک خاص تناسب میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ عوامل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
  • انسانی سرمایہ ،افراد کا علم، ہنر، تجربہ اور قابلیت ہے جو ان کے کام انجام دینے اور معاشی قدر پیدا کرنے کی صلاحیت میں حصہ ڈالتی ہے۔ یہ تعلیم، تربیت، صحت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سماجی ماحول جیسے عوامل سے متاثر ہوتا ہے جو افرادی قوت میں لوگوں کو زیادہ پیداواری بناتے ہیں۔
  • وسائل ایسی اشیا اور خدمات کی پیداوار میں مدد کرتے ہیں جو معاشرے کی خدمت کرتے ہیں اور انھیں محفوظ کرنے اور دانش مندانہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

سوالات اور سرگرمیاں

1. پیداوار کے عوامل ایک دوسرے سےکس طرح مختلف ہیں؟ متن میں دی گئی مشق میں پیداوار کے عوامل کی درجہ بندی کرنے میں آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

2. انسانی سرمایہ مادّی سرمایے سے کیسے مختلف ہے؟

3. آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی لوگوں کے ہنر اور علم میں کس طرح تبدیلیاں لا رہی ہے؟

4. ہنر ایک ایسی چیز ہے جو آپ سیکھتے ہیں اور مہارت حاصل کرنے کے لیے مشق کرتے ہیں۔ یہ آپ کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد کرتا ہے، جیسے کھیلنا، تخلیقی تحریر، ریاضی کے مسائل حل کرنا، کھانا پکانا یا لوگوں سے موزوں گفتگو کرنا۔ اگر آپ ایک ہنر سیکھ سکتے ہیں تو وہ کیا ہوگا اور کیوں؟

5. کیا آپ کے خیال میں کاروبار پیداوارکی ”محرک قوت“ ہے؟ کیوں اور کیوں نہیں؟

6. کیا ٹیکنالوجی دوسرے عوامل جیسے محنت کی جگہ لے سکتی ہے؟ اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو مثال کے ساتھ واضح کریں۔

7. تعلیم اور ہنر کی تربیت انسانی سرمایے کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ کیا یہ ایک دوسرے کے متبادل ہوسکتے ہیں یا کیا یہ ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں؟

8. تصور کریں کہ آپ ایک ایسا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں جس میں اسٹیل کی پانی کی بوتلیں تیار کی جائیں ۔اس کےلیےکن اشیا کی ضرورت ہوگی؟ آپ انھیں کیسے حاصل کریں گے؟ فرض کریں کہ عوامل میں سے ایک غائب ہے؛ آپ کے کاروبار پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

9. کسی کاروباری کا انٹرویو یہ سمجھنے کے لیے کریں کہ انھیں کاروبار شروع کرنے کے لیے کس چیز نے متاثر کیا، انھیں کون سے مواقع ملے اور انھیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ۔آپ معلومات یکجاکرنے کے لیے سوال نامہ تیارکرنے اوررپورٹ سے جوکچھ آپ نے سیکھا ہے اس کا تبادلہ کرنے کے لیے جوڑیوں میں کام کرسکتے ہیں۔

10. ایک ماہر معاشیات کی طرح سوچیں۔ آئیے معلوم کریں کہ جب چیزیں بدل جاتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ اگر آپ رتنا ہوتے تو درج ذیل حالات میں آپ کیا کرتے؟ اپنے ہم جماعت کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

I. فرض کریں کہ آپ کے کام کی جگہ کا کرایہ اچانک دوگنا ہوجاتا ہے۔

  • کیا آپ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فراہم کیے جانے والےکھانے کی قیمت میں اضافہ کریں گے؟
  • کیا آپ سستی جگہ تلاش کریں گے؟

یہ آپ کے کاروبار کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

II. تصور کریں کہ آپ کا کوئی ملازم اچانک کام چھوڑ دیتا ہے۔

  • کیا باقی ملازم اتنا ہی کام سنبھال سکتے ہیں۔
  • کیا آپ کو نئے ملازم کو راغب کرنے کے لیے زیادہ تنخواہ کی پیش کش کرنی ہوگی؟

III. آپ کو اپنے ریستوراں کے لیے بہتر ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا قرض
ملتا ہے۔

  • کیا اس سے کاروبار میں اضافہ ہوگا یا معیار بہتر ہوگا؟
  • کیا یہ آپ کو مزیدخریداروں تک پہنچنے میں مدد کرے گا؟

IV. فرض کریں کہ پڑوس میں ایک اور ریستوراں کھلتا ہے۔

  • آپ اپنے خریداروں کو کس طرح متوجہ اور برقرار رکھیں گے؟
  • کیا آپ اپنی خدمات کو بہتر بنائیں گے، قیمتیں کم کریں گے یا پھر کوئی نئی چیز فراہم کریں گے؟

V. کاروبار کی آسانی میں بہتری کے لیےکون سے سرکاری قوانین یا ضوابط کو تبدیل کیا جاناچاہیے؟