1
الفاظ کو زندگی دینا – ڈرامے کی قرأت
(BRINGING WORDS ALIVE PLAY READING)
کسی ڈرامے کی اسکرپٹ کو پڑھنا ڈرامے کی تکمیل کی تیاری کی جانب پہلا قدم ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے
ہیں کہ یہ پہلا قدم خود ہی حتمی پیش کش بن سکتا ہے؟
مشق کے طور پر پڑھنا یا اسٹیج پر پڑھنا تھیٹر کی ایک شکل ہے۔
پڑھنے کی مشق
مشقی قرأت بغیر کسی سیٹ، پراپس، ملبوسات یا میک اپ کی جاتی ہے۔ اداکار
عام لباس میں اسٹیج پر کرسی پر بیٹھتے ہیں او راپنے کردار کے مکالموں کی بلند خوانی
کرتے ہیں۔
تاہم یہ عمل بلند خوانی سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کرداروں، جذبوں اور کہانیوں کو زندگی دینے کا ایک فن ہے۔ ایسا کرتے وقت لفظ، وقفہ اور اظہار ہر چیز کو مساوی اہمیت دینی ہوگی۔ اس طرح ہر مکالمہ ایک پرکشش تجربہ بن جاتا ہے۔
یہ تجربہ نہ صرف تخیل کو تیز کرتا ہے بلکہ بصری تعاون یا ملبوسات کی ضرورت کے بغیر متن کو ناظرین سے براہ راست جوڑ دیتا ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’یہ اتنا آسان لگتا ہے کہ میں کر سکتا ہوں‘‘۔
یقیناً آپ اسے کر سکتے ہیں ! لیکن اس کے لیے سخت محنت، مشق اور کوشش کی ضرورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمام کوششیں آپ کی آواز ،کردار اور جذبات کی ترجمانی کے لیے ہیں۔ اداکار پڑھنے کے دوران اپنے کردار میں رہیں اور اپنی آواز کی اثر انگیزی کے لیے تمام تر قوت کا استعمال کریں۔
آپ سیکھیں گے
- ڈرامے کو پرفارمنگ آرٹ کے طور پر پڑھنا
- آواز کی تربیت
- مؤثر گفتگو
یہ عمل گانے کی مشق کی طرح ہے۔دونوں آپ کی آواز کے تاروں، سُر، حجم اور اس کے پیدا کردہ جذبات پر کام کرتے ہیں!
بلند خوانی کا یہ مرحلہ دل چسپ نظر آتا ہے؟ آئیے کچھ سرگرمیاں اور مشق کرتے ہیں جو آپ کو صوتی اداکار (وائس ایکٹر) بنا سکتے ہیں۔
چوں کہ اداکاری کا یہ انداز بنیادی طور پر آپ کی آواز اور مکالموں کی ادائیگی پر منحصر ہے، تاہم جن چیزوں پر ہم کام کرتے ہیں وہ ایک دوسرے سے یکساں مربوط ہیں۔ ہم درج ذیل باتوں کو بہتر بنانے پر کام کریں گے:
- مکالمے کا ہر لفظ واضح ہو
- آواز اور طرز تکلم
- مکالمے میں جذبات کا اظہار
ریڈیو ڈرامے، صوتی اداکاری اور ڈبنگ(Dubbing) ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہیں ۔ دونوں کا تصور یکساں ہے لیکن اسے اسٹیج پر نہیں کیا جاتا۔
یہ تمام پہلو مکمل طور پر آپ کی جسمانی ساخت پر منحصر ہیں۔ آپ اثر انگیزی کے لیے کسی ساز یاآلہ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ لہٰذا، پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے جسم میں آواز کیسے پیدا ہوتی ہے۔
حالاں کہ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا تعلق ہمارے گلے کی آوازوں (Vocal Cords) سے ہے لیکن یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ ووکل کورڈ ہمارے جسم کے ان مختلف حصوں میں ہیں جو ہمیں بولی کی الگ الگ شکلیں، مکالمے اور آواز پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
کیا آپ نے غور کیا
مائم
آواز کے بغیر صرف اعضا کی حرکت والی پیش کش
ڈرامے کی قرأت
اعضا کی حرکت کے بغیر صرف آواز سے پیش کش
آواز کے تین ذیلی نظام
|
ذیلی نظام |
آواز کے اعضا |
آواز پیدا کرنے میں کردار |
|
ہوا کے دباؤ کا نظام |
پردۂ شکم(Diaphragm)، سینے کے عضلات، پسلیاں، پیٹ کی رگیں یا عضلات |
ووکل کورڈ میں ارتعاش کے لیے ہوا کا دباؤ فراہم اور منضبط کرتا ہے۔ |
|
ارتعاش کا نظام |
نرخرہ (Larynx) اور |
ووکل کورڈ مرتعش ہوتے ہیں، ہوا کے دباؤ کو آواز کی لہروں میں بدلتے ہیں جس سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ |
|
گونج پیدا کرنے کا نظام |
ووکل ٹریکٹ: گلا (Pharynx) آواز کی نالی، ناک کا کھانچہ |
بہت سی آوازوں کو ایک شخص کی قابل شناخت آواز میں |
اس کو سمجھنے سے آپ آوازکو بہتر طریقے سے کنٹرول کر پائیں گے، یہ اسکرپٹ میں موجود مخصوص سطور کے لیے مطلوبہ صحیح آواز پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ پچ، حجم اور جذبات کے اظہا رکی اہلیت جسم کے انھی حصوں سے پیدا ہوتی ہے۔
ناٹیہ شاستر میں اسے واچِک ابھینئے کہتے ہیں۔ واچِک کا مطلب’ مکالمہ یا زبان‘ہے۔ کسی بھی پیش کش کو، جس میں مکالمہ یا استعمال کی جانے والی زبان ہو،( یہاں تک کہ گانوں میں بھی)، واچِک ابھینئےکہتے ہیں۔
سرگرمی 1.1: مکالمے میں صفائی
مکالمے میں صفائی کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ لفظ کا تلفظ کتنا اچھا ہے، ادائیگی کے دوران الفاظ کتنے واضح ہیں۔ یہاں تک کہ بہترین مقررین بھی بعض اوقات ہکلاتے، گڑبڑاتے اور الفاظ کو ایک دوسرے پر چڑھا دیتے ہیں۔ اس سے بچنے کا بہترین راستہ مشکل الفاظ کی مشق کرنا ہے۔ جب آپ اس میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا مکالمہ خوش گوار ہوجاتاہے۔
زبان میں لڑکھڑاہٹ پیدا کرنے والے الفاظ کے مجموعوں کو ٹنگ ٹویسٹر (Tongue Twisters) کہتے ہیں۔ یہ ایسے جملے ہیں جن کی آوازیں ملتی جلتی ہیں جو ان کے تلفظ کو مشکل بناتی ہیں۔ جب آپ مشق کرتے ہیں تو یہ آسان ہو جاتے ہیں اور تلفظ بہتر ہو جاتا ہے۔
ٹھہر کر پڑھنا شروع کیجیے۔ پڑھنے کی رفتار کو اس وقت تک دھیرے دھیرے بڑھائیں جب تک کہ آپ بغیر کسی رکاوٹ کے ایسا کر سکیں۔ اگر آپ اٹکتے ہیں تو پھر سے شروع کریں اور کوشش جاری رکھیں۔
یہا ں کچھ مشکل ٹنگ ٹویسٹر دیے جا رہے ہیں:
- وہ سمندر کے ساحل پر سیپی فروخت کرتی ہے۔
- سرخ لاری، پیلی لاری
- پیٹر پائپر (Peter Piper)نے اچار کا ایک ٹکڑا اٹھایا۔
- پیٹر پائپر نے کالی مرچ یا اچار کا
ایک ٹکڑا اٹھایا؛ اگر پیٹر پائپر نے اچار کا ایک ٹکڑا اٹھایا تو پیٹر پائپر نے اسے کہاں سے اٹھایا؟
اور اسی طرح...
اس قسم کے ٹنگ ٹویسٹر ہر زبان میں ہیں۔ کیا آپ اپنی مقامی زبان میں کوئی ٹنگ ٹویسٹر جانتے ہیں؟ انھیں اپنے دوستوں کو بتائیے اور مزیدسیکھیے!
سرگرمی 1.2: اندازِ گفتگو (Diction)
اپنے اندازِ گفتگو کو بہتر بنانے کے لیے آپ آہستہ روی سے بول سکتے ہیں اور جملوں یا خیالات کے درمیان وقفہ دے سکتے ہیں۔ اس سے آپ اپنے الفاظ کو زیادہ صاف اور واضح طور پر ادا کرسکیں گے،کلیدی نکات کو اجاگر کرسکیں گے اور جس سے آپ کے ناظرین کوسمجھنے کا وقت بھی ملے گا۔ آپ اپنے مکالمے میں دل چسپی، تجسس یا جذبات پیدا کرنے کے لیے ان وقفوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔
رفتار: وہ کون سی رفتار ہے جس پر آپ بول رہے ہیں؟ اور الفاظ جو آپ استعمال کر رہے ہیں ان کے درمیان وقفہ کی رفتار کیا ہے؟ مکالمہ کو کم رفتار میں ادا کرنے کی ضرورت ہے یا تیز رفتار میں؟ ٹنگ ٹویسٹر پڑھتے وقت مختلف رفتار کی دریافت، جذبات کی ترسیل اور اپنی آواز کےذریعے اظہار میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔
لہجہ: ہم مکالمے کی اہمیت بڑھانے کے لیے جن مخصوص الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، ہمارا لہجہ ان پر زور ڈالتا ہے۔ ہم عام طور پر ان الفاظ پر زور دیتے ہیں جن کو ہم اہم پاتے ہیں۔ آپ دوہراتے وقت ٹنگ ٹویسٹرکے مختلف الفاظ مشق میں لا سکتے ہیں اور دیکھیے کہ ان سے کیسے معنی بدل جاتے ہیں۔
لفظ کی اثر پذیری!
گرامر کے حساب سے کوئی آسان جملہ لیجیے اور ہر لفظ پر مختلف انداز میں زور دیتے ہوئے اس کی ادائیگی کیجیے۔ اس پر گفتگو کیجیے کہ اس سے جملے کا مفہوم کیسے تبدیل ہوتا ہے!
مثال: ’میں آج اسکول نہیں گیا‘۔
آپ اپنے دوستوں کے ساتھ جلی الفاظ پر زور دیجیے اور اس پر بات کیجیے کہ جملے کا معنی کیا ہوں گے۔
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...لیکن میرے دوست گئے)
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...اس لیے میں کھیل سے محروم رہا)
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...لیکن مجھے تمام اسباق مل گئے)
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...لیکن میلے کے راستے میں ادھر سے گزرا)
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...اس کے بجائے پارک گیا)
میں آج اسکول نہیں گیا۔ (...لیکن کل جاؤں گا)
حجم اور پچ
حجم اور پچ کا تصور نمایاں انداز میں موسیقی میں استعمال ہوتا ہے تاہم تھیٹر کے طلبا کو اسے سیکھنا بہت اہم ہے، کیوں کہ اچھی اداکاری کا مکمل انحصار اسی پر ہے۔ آپ مشق کے دوران موسیقی کے اپنے اسباق سے رجوع کر سکتے ہیں۔
حجم یہ ہے کہ آواز کتنی تیز یا ہلکی ہے۔ آپ کو اپنے آلات پر موسیقی بجاتے وقت اس کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ تھیٹر میں حجم پر قابو اپنے جذبات اور پیغام کوناظرین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ ہماری روز مرہ زندگی میں بھی یہ ایک حقیقت ہے۔ جب آپ غصہ ہوتے ہیں تو کیا تیز نہیں چیختے؟ جانور بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ شیر اپنی طاقت اور بالادستی دکھانے کے لیے تیز آواز میں دہاڑتا ہے جیسے کہ وہ اعلان کر رہا ہو کہ ’’یہ میرا علاقہ ہے‘‘۔ بلی اپنے لگاؤ کے اظہا رکے لیے میاؤں کرتی ہے۔ اسی طرح تھیٹر میں تیز آواز میں آپ اپنے قوی جذبات جیسے کہ غصہ اور خوشی کا اظہا رکر سکتے ہیں۔ جب کہ نرم ملائم آواز دکھ، ڈر یا رحم دلی کا اظہار کرتی ہے۔ جس طرح جانور جنگل میں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح آواز کے حجم کو منضبط یا ایڈجسٹ (Adjust)کرنے کو سیکھنا جذبات کے واضح اظہار اور ناظرین سے جڑنے میں مدد کرتا ہے۔
پچ کا مطلب ہے آواز کتنی اونچی یا ہلکی ہے۔ اونچی آواز اکثر جوش، خوف یا زندہ دلی کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے کہ جب آپ اچانک کوئی تحفہ پاتے ہیں تو کیسے چلّاتے ہیں۔ نیچی آواز سنجیدگی، سکون یا غصے کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب ایک چوہا بہت تیز آواز میں چیں چیں کرتا ہے تو وہ عام طور پر ڈرا ہوا یا مشتعل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک ریچھ گہری آواز اور ہلکی پچ میں گرجتا ہے تو دوسروں کو خبردار کرتا یا جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تھیٹر میں اداکار کرداروں کو زندہ کرنے کے لیے اپنی آواز کی پچ کو بدلتے ہیں۔ جیسے کہ ایک بچہ اداکار اونچی آواز میں بولتا ہے یا ایک عقل مند عمر رسید راجا سنجیدہ اور ہلکے لہجے میں بولتا ہے۔ پچ میں مہارت مختلف شخصیات کی تشکیل اورالگ الگ قسم کے جذبات کے اظہار میں مدد کرتی ہے۔
اب جب کہ ہم اس تصور کو سمجھنے کے لیے اور یہ جاننے کے لیے کہ یہ کیسے ربط پیدا کرتی ہے، جانوروں کی مثال پر غور کر رہے ہیں، لہٰذا یہاں ایک سادہ ساٹیبل (Table) دیا
جاتا ہے جو اسے بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد کرے گا۔ ہر جانور کی پچ اور حجم کی مختلف آمیزش پر غور کیجیے۔
|
جانور |
حجم |
پچ |
جذبات |
|
شیر – دہاڑ |
بہت تیز |
نیچی |
طاقت، بالادستی |
|
چوہا – چیں چیں |
ہلکا |
اونچی |
خوف، جوش یا اشتعال |
|
الّو – ہُو |
ہلکا |
نیچی |
دانائی، خاموشی |
|
سانپ – پھنکار |
ہلکا |
وسط- اونچی |
خطرہ، خوف |
|
گھوڑا – ہنہناہٹ |
تیز |
اونچی |
آگاہ کرنا، خوف |
|
بھالو – گرج |
تیز |
نیچی |
جارحیت، خطرہ |
سرگرمی 1.3: جانوروں کے جذبات کا انداز ہ لگانا !
یہاں آپ ایسا جانور بن سکتے ہیں، جو کہ انسانی جذبات دکھاتا ہے۔ حجم اور پچ کے استعمال سے جانور کی آواز کو جذبات سے ملائیے ۔ آپ میں سے کوئی ایک آگے آسکتا ہے اور کسی جانور کی آواز نکال سکتا ہے۔ لیکن اسے رازداری سے جذبات کو (خوش، خوف زدہ، غصہ، دکھی یا دیگر جذبات) اپنانا ہے اور اپنی آواز کو اس کے مطابق پیش کرنا ہے۔ کلاس کے باقی لوگ جانور کے بارے میں اور حجم (تیز / نرم) اور پچ (اونچی / نیچی) کی بنیاد پر جذبات کا اندازہ لگائیں۔
آپ جانوروں اور جذبات کی مختلف آمیزشوں کو آزما سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک خوش شیر نرمی سے غرائے، جب کہ ایک خوف زدہ چوہا سہمی ہوئی آواز نکال سکتا ہے۔ آپ خوش یا ناراض کتے کو یا تھکی ہوئی بکری کو آزما سکتے ہیں۔
یاد رکھیے: تاثرات یا جسمانی حرکات و سکنات کا استعمال نہ کیجیے جس سے جذبات کا اظہار ہو۔ اس سرگرمی میں صرف آپ کی آواز کی ضرورت ہے۔
سرگرمی 1.4: اگر آپ ایک اداکار ہیں...
خود کو ایک اداکار تصور کیجیے اورمان لیجیے آپ اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔ یہ کچھ سطریں ہیں جنھیں آپ کو اسٹیج پر بولنا ہے۔ اگر آپ ایک اداکار ہیں تو صحیح پچ اور حجم کو جو آپ استعمال کریں گے، بھریے...
’’مجھے آپ کو ایک راز بتانا ہے...
وہ اچھا محسوس نہیں کر رہا ہے...‘‘۔
حجم
پچ
’’اے بہادر سپاہی! آئیے اپنے ملک کے لیے لڑیئے...جے ہند‘‘۔
حجم
پچ
میں بہت کمزور اور تھکی ہوئی محسوس کرتی ہوں...اور زخم تکلیف دہ ہے۔ آہ!
حجم
پچ
سرگرمی 1.5: مکالمے کے ذریعے جذبات کا اظہار
زبان کے بغیر بولنا !
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم جو بھی لفظ بولتے ہیں وہ اپنے آپ میں با معنیٰ ہے؟ اگر ہم
بے معنی الفاظ ادھر ادھر سے لے کر بولتے ہیں تو کیا ہم دوسروں کو کچھ بتا پائیں گے؟
ترسیل کا انحصار صرف اس پر نہیں ہے کہ ہم کیا کہتے ہیں بلکہ اس پر بھی ہے کہ ہم کوئی بات کیسے کہتے ہیں۔ در حقیقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم وہ زبان نہیں سمجھتے جو کوئی شخص ہم سے بول رہا ہے لیکن وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہم اس کا خلاصہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اس لیے کہ انسانی دماغ سیکھی ہوئی زبان کے بغیر بھی مفہوم کو سمجھ سکتا ہے۔ دماغ آواز کے لہجے، حرکات و سکنات اور جس تناظر میں بولا جا رہا ہے، اس سے معلومات حاصل کرتا ہے۔
آئیے ایک ایسا تجربہ کریں اور یہ تصور کر لیں کہ آپ میں سے ہر شخص الگ الگ سیارے سے آتا ہے اور ایک ایسی انوکھی زبان بولتا ہے جو کوئی دوسرا نہیں سمجھتا۔ آپ کو بے معنی آوازوں کے ساتھ جملے بنانے ہیں۔ اس قسم کی گفتگو کوبے معنی( Gibberish) گفتگو کہا جاتا ہے۔
بنیاد
جب آپ ایک ساتھ بے معنی آوازیں نکالتے ہیں تو اس کا امکان کم ہے کہ کوئی سمجھ لے۔ اب اسے مخصوص جذبات کے ساتھ بولنے کی کوشش کیجیے۔ آپ اپنے دوست سے، جس سے آپ ناراض ہیں کیوں کہ وہ آپ کو پریشان کر رہا ہے اورپڑھنے نہیں دے رہا ہے، وہی
بے معنی جملہ کہیں۔ اس کے لیے اپنی آواز، حرکات اور تاثرات کا استعمال کیجیے۔ اب آپ کے بیش تر دوست سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ بہتر رابطے کے لیے اس میں حجم اور پچ کا استعمال کیجیے۔
اب آپ مختلف جذبات اور حالات کے ساتھ وہی کوشش کیجیے۔ کلاس میں دیگر طلبا کو اندازہ لگانے دیجیے کہ آپ کیا کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب کوبے معنی( Gibberish)
انداز میں بولنے کا موقع ملے۔ ایسے میں کتنوں کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔
پیش قدمی
اگلا مرحلہ آسان بے معنی گفتگو کرنے کی کوشش کا ہوگا۔ کسی دوست کے ساتھ بیٹھیے اور جذبے کے ساتھ ایک جملہ بولیے۔ اسے اپنا ردعمل ظاہر کرنے دیجیے۔ اسے چار پانچ بار دہرائیے۔ اب روک دیجیے اور بتائیے کہ آپ کا واقعی کیا مطلب ہے۔
آپ بات چیت کے لیے خو دکو مختلف حالات میں رکھ سکتے ہیں۔ جیسے کہ گاؤں کا میلہ، کوئی دفتر، اسکول، کھیل کا میدان وغیرہ۔
استاد کے لیے نوٹ:
ان طلبا کو تلاش کیجیے جو پیچیدہ بے معنی گفتگو کے بجائے سادہ بے معنی گفتگو کرتے ہیں۔ ایک پیچیدہ بے معنی گفتگو میں آسان بے معنی گفتگو کے مقابلے میں کئی صداؤں اور آوازوں کی آمیزش ہوتی ہے۔
سادہ Gibberish کی مثال: ’’ٹاٹا ٹاٹاٹا ٹاٹٹا، ٹاٹاٹا یا پا پاپا پاپ پاپا پآپاپا پاپاپاپ‘‘
پیچیدہ Gibberish: ’’ٹگوٹا مو لے بو انگجی کو‘‘۔
متعدد صداؤں کے استعمال کے لیے
طلبا کی حوصلہ افزائی کیجیے اور آواز کی تال کو تبدیل کیجیے۔
طلبا کو اظہار کے لیے پیچیدہ آمیزش کی ترغیب دیجیے۔
حلقے کا
وقفہ
- ڈرامے کی قرأت کی پیش کش کے لیے آپ کس قسم کا
ڈراما منتخب کریں گے؟ - کون سا عمل زیادہ آسان ہے: بغیر حرکات کے اپنی آواز کے ساتھ اداکاری کرنا یا آواز کے بغیر صرف حرکات سے اداکاری کرنا؟
- کیا اس گفتگو نے آپ کو اپنے مکالمے اور اس کی
اثر پذیری کو بہتر بنایا ہے؟ یہ آپ کے لیے کہاں سودمند ہوگا؟
قرأت کے لیے ڈراموں کی سفارش
آپ درج ذیل میں سے ایک منظر اٹھا سکتے ہیں اور اسے گروپ میں پڑھ سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اچھا کر رہے ہیں تو آپ اپنی کلاس میں ان میں سے کسی بھی ایک منظر کو پڑھ سکتے ہیں۔ آپ اس نصابی کتاب کے باب تین میں ڈرامے کی اسکرپٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
انگریزی
|
ڈراماکا نام |
ڈراما نگار |
|
کامیڈی آف ایررز |
شیکسپئیر |
|
ایلس اِن ونڈرلینڈ |
لیوس کیرول |
|
سے دی رائٹ تھنگ |
جی سی تھورنلے ( کریتی،گریڈ 7 درسی کتاب) |
سنسکرت (اسکرپٹ کیو آر کوڈ میں دستیاب ہے)
|
ڈراماکا نام |
ڈرامانگار |
|
رام تپوونابھی گمنم (रामतपोवनाभिगमनम्) |
ڈاکٹر وشواس (: डा. विश्वास) |
|
(गुरुदक्षिणा) گرو دکشنا |
شری ایم آر کمارسوامی (श्री म.रा. कुमारस्वामी) |
|
(दानस्य महिमा) دانسیہ مہیما |
(डा. विश्वास:) ڈاکٹر وشواس |
|
(बालचरितम्) بال چریتم |
(भास) بھاس |
اہم نکات — زندگی کے لیے اسباق
مکالمے کی اہمیت
वाचि यत्नस्तु कर्तव्यो 'नाट्यस्येषा तनुः स्मृता ।
'अङ्गनेपथ्यसत्त्वानि वाक्यार्थं व्यञ्जयन्ति हि।। 2 ।।
واچی یتنستو کرتویو ناٹئیسیشا تنوہ سمریتا
انگنی پتھیہ ستوانی واکیارتھم وینجینتی ہی
ہرکسی کوالفاظ کا خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ وہ ڈرامے کی روح ہیں۔ اشارے، ملبوسات، میک اپ اور ستو کی اداکاری الفاظ کے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔
— ناٹیہ شاسترباب 15، بند 2
جیسا کہ ناٹیہ شاستر کا مذکورہ بالا بند بتاتا ہے کہ مکالمہ کے ہنر پرتوجہ دینا کس قدر اہم ہے۔ ڈرامے کی قرأت پیش کش سے متعلق یہ سبق اداکاری سے کہیں زیادہ آپ کو سکھاتا ہے۔ یہ مکالمہ کی اصل قوت کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ آپ اس باب کی مشقوں کے ذریعے اس بات کو سیکھتے ہیں کہ نہ صرف اسٹیج پر بلکہ اصل زندگی میں بھی بات چیت کے دوران آپ کیسے واضح، قابل اظہار اور بامعنی رہتے ہیں۔ اپنے لہجے، پچ، حجم اور الفاظ کے انتخاب سے آگاہی آپ کی بات چیت کو قوی، موثر اور قابل احترام بناتی ہے۔ جب آپ واضح اور بامعنی انداز میں بولتے ہیں:
- لوگ آپ کو بہترطور پر سمجھتے ہیں۔
- آپ غیر ضروری تنازعات، شرمندگی کے لمحات اور غلط فہمیوں سے بچتے ہیں۔
- یہ آپ کے جذبات کو بہتر انداز میں منظم کرنا سکھاتا ہے۔ آپ کو مشکل حالات سے نمٹنے میں پرسکون، پُر اعتماد اور بالغ نظر بناتا ہے۔ اچھا مکالمہ نہ صرف تھیٹر کا
بلکہ زندگی کا بھی ہنر ہے۔
جائزہ
|
باب 1: الفاظ کو زندگی د ینا — ڈرامے کی قرأت |
||||
|
استعداد سی1.2- اجتماعی طور پر ڈراما تیار کرنے کے عمل میں لچک کا مظاہرہ کرتا ہے |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
1 |
1.2 |
اسکرپٹ کو اداکاری سے لے کر پڑھنے تک کی تبدیلی کو سمجھتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.2 |
اپنے لہجے، وضاحت اور انداز کے بارے میں کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.2 |
دیگر زبانوں پر اپنی آواز کی مہارت کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.2 |
دوستوں، اساتذہ اور والدین کےساتھ روز مرہ کی بات چیت میں اپنی مہارت کو استعمال کرتا ہے۔ |
||
|
کلاس میں مجموعی طور پرشرکت۔ |
||||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات


