2
ایک اسٹیج ،کئی اسکرپٹ
(ONE STAGE, MANY SCRIPTS)
کسی بھی پیش کش کا بنیادی پہلو اسکرپٹ ہے۔ اپنے افکار و خیالات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انھیں کاغذ پر لکھنا ضروری ہے۔ در اصل یہ کتاب اسی لیے تیار کی گئی ہے۔ ایک استاد یا معلم کے لیے صرف ایک تصور کے بارے میں بات کرنا اور یہ فرض کرنا کافی نہیں ہوگا کہ آپ اسے سمجھ گئے ہیں اور یاد رکھیں گے۔لکھنا مختلف طریقوں سے مدد کرتا ہے:
- وضاحت لانا
- مزید تخلیقیت کے ساتھ خیالات کی تعمیر
- باہمی تعاون کے لیے دوسروں کے ساتھ اشتراک کرنا
- آپ کو یا د رکھنے اور بوقت ضرورت رجوع کرنے میں مددکرنا
- مستقبل کی نسلوں کے لیے ریکارڈ کے طور پر اداکاری کرنا
تحریر کی کئی شکلیں ہیں۔ آپ مختصر کہانیوں، مضامین، نظموں، خطوط، ای میل یابلاگ سے واقف ہوں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر فلم، ٹی وی شو، ویب سیریز، نشر ہونے والی خبر یا دستاویزی فلم کے لیے جو آپ دیکھتے ہیں، مفصل اسکرپٹ لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ تحریر مختلف شکلوں میں ایک نظر نہ آنے والی ڈور ہے جو مواصلات کے تمام طریقوں کو باہمی طور پر جوڑتی ہے ۔
آپ سیکھیں گے
- اسکرپٹ کی اقسام
- مختلف شکلوں میں اصناف
فلم ’ہیری پوٹراینڈ دی سورسرر اسٹون‘ کی اسکرپٹ کا ایک صفحہ
اسٹیج کے لیے اسکرپٹ
ڈرامے کی اسکرپٹ اسٹیج، فلم یا ٹیلی ویژن پر پیش کش کے مقصد سے تحریر کی گئی ہیں۔ انھیں پیش کش کی قسم کی بنیاد پر مختلف ڈھانچے، اسٹائل یا مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ڈرامے کی اسکرپٹ کی کچھ عام اقسام ذیل میں دی گئی ہیں۔ ہر اسکرپٹ انسانی تجربات کو انوکھے انداز میں ظاہر کرنے والے مختلف فن کارانہ مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ ان اقسام کی سمجھ ہمیں تھیٹر کہانی کو بتانے کے تنوع کی تحسین کا موقع دیتی ہے۔
قدیم ہندوستان میں ڈرامے کی اسکرپٹ
قدیم ہندوستانی مفکرین ڈرامے کے لیے روپ یا روپک اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ قدیم ہندوستانی مصنف بیشتر ’درشیہ کاویہ‘(Visible Poetry)کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اسکرپٹ میں (مرئی شاعری )عام طور پر مکالمہ اور نظم کا امتزاج ہوتاہے۔ لہٰذا سنسکرت کے تمام ڈراما نگار شاعر بھی تھے۔ ناٹیہ شاستر
ڈراما لکھنے کی مختلف اقسام کا ذکرہوا ہے۔ آئیے موجودہ عہد کی اسکرپٹ سے اس کا موازنہ کریں:
بِرچ کے درخت کے چھال پر کالی داس کے لکھے ہوئے کچھ قدیم مخطوطات
اسکرپٹ کی قسمیں
|
دشا روپک (ناٹیہ شاستر) |
اسکرپٹ میں زمرہ بندی |
|
ناٹک بادشاہوں یا عظیم صفات کے حامل افراد کی کہانیوں کی بنیاد پر پانچ یا دس ایکٹ پر مبنی ہوتاہے۔ |
یک بابی ڈرامے مختصرہوتے ہیں جو کہ دس سے تیس منٹ میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ ان میں ابتدا، عروج اور اختتام ایک ہی ایکٹ میں مکمل ہوجاتے ہیں۔ |
|
پراکرن میں دس ایکٹ ہیں۔ اس کا پلاٹ مکمل طور پر معاشرے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ |
دو ایکٹ والے ڈرامے کا بیانیہ ڈرامے کے درمیان میں عروج پر پہنچتا ہے اور تبدیلی کے بعد اگلے حصے میں مکمل ہوجاتا ہے۔ |
|
بھان یک بابی ڈراماہے جس میں نائک اور کھلنائک کی بنیاد پر پلاٹ تیار کیا گیا ہے۔ |
تین ایکٹ والا ڈراما فلموں اور ٹیلی ویژن میں استعمال ہونے والا ایک مشترکہ ڈھانچہ ہےجو کہ |
|
پرہسن مزاح اور مسرت کے تناظر کی بنیاد پر یک بابی ڈراما ہے۔ یہ اپنی فطرت میں مزاحیہ ہے۔ |
لکیری گھمائو دار اور غیرلکیری پلاٹ کی ساخت کے مختلف طریقے ہیں جن میں فلیش بیک اور |
|
دیما دیوئوں اور راکشسوں سمیت دیگر مقبول کہانیوں کی بنیاد پر چار ایکٹ ہیں۔ |
اخذ شدہ اسکرپٹ پہلے سے موجود مواد جیسے کہ ناولوں، کتابوں ، شاعری، مختصر کہانیوں یا تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ |
|
ویایوگ غیر مزاحیہ روایتی شجاعت سے بھرپور کہانیوں کی بنیاد پریک بابی ڈراما ہے۔ |
|
|
سما وکر دیوئوں اور راکشسوں کی روایتی کہانیوں کی بنیاد پر تین سے چار ایکٹ ہیں۔ |
|
|
انک (اُتسری شتنک) بنیادی طور پر کرونارس پر انحصار کرکے تیار کیا گیا یک بابی ڈراما ہے۔ |
|
|
اِیھامرگ چا رایکٹ کا ڈراما ہے جس میں پورانک کہانیوں کی بنیاد پر مقبول کہانیاں اور فکشن ہیں۔ |
|
|
ویتھی دو تین اداکاروں والایک بابی ڈراما ہے جسے کسی بھی مقام پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ |
سرگرمی 2.1: اپنے انداز کی اسکرپٹ تیار کیجیے !
مصنفین نے صدیوں سے تحریر کی مختلف شکلوں میں لکھنے کے تجربے کیے ہیں۔ آئیے ہم کلاس میں ایک آسان تجربہ کرتے ہیں!
نوٹ: اسے گروپ میں یا انفرادی طو رپر کیا جا سکتا ہے۔
ہم چار قسم کی اسکرپٹ آزمائیں گے۔ ہر گروپ (یا فرد)درج ذیل فہرست سے ایک قسم کی اسکرپٹ چنتا ہے۔
- ڈائیلاگ اسکرپٹ — کردار براہ راست بولتے ہیں۔
- بیانیہ اسکرپٹ — راوی کہانی سناتا ہے۔
- مائم اسکرپٹ — خاموش اداکاری اور اسٹیج ڈائریکشن۔
- موسیقانہ اسکرپٹ — اس میں شاعری اور نغمات شامل ہوتے ہیں۔
ہر کسی کے لیے مشترک موضوع یہ ہے — دو دوست ایک جنگل میں چہل قدمی کررہے ہیں جہاں انھیں ایک ڈبہ ملتا ہے جس میں برچ چھال اور دوسرا لکھنے کا سامان ہے جسے کالی داس نے استعمال کیا تھا۔
ایک صفحہ اپنے پسندیدہ انداز میں لکھیے اور اسکرپٹ کا موازنہ کیجیےوتبادلہ خیال کیجیے۔
- کیا اسلوب نے مواد کو متاثر کیا؟
- ناظرین کا تجربہ کیسے مختلف ہوتا ہے؟
ناٹیہ شاستر کے مطابق پہلی تحریری اسکرپٹ برہما نے سماوکر میں لکھی تھی (مذکورہ بالا جدول میں ساتویں)۔ یہ امرت منتھن پر مبنی تھی۔
مظاہراتی آرٹ کی تخلیق کے عمل کے دوران (ناٹیوتپتی گریڈ 6 میں سیکھا) دیوئوں اور راکشسوں کے درمیان بحث ہوئی۔ برہما نے سوچا اسے پہلی
پیش کش بنانا مناسب ہے۔ دیوئوں اور راکشسوں کے درمیان امرت منتھن (Churing of the ocean) ایک اہم واقعہ ہے جسے دنیا کے مختلف حصوں میں دکھایا گیا ہے۔ درج بالا تصویر تھائی لینڈ کے سورن بھومی ہوائی اڈے بینکاک کی ہے جس میں اس واقعہ کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
کیا آپ
جانتے ہیں؟
استاد کے لیےنوٹ: ا گر چہ مذکورہ بالا سرگرمی کے لیے صرف ایک صفحہ درکار ہے تاہم طلبا کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ تحریر کو وسعت دیں اوراپنی کہانی کوتخلیقی بنائیں۔ وہ امکانات کی تلاش میں متعدد اسلوب اختیار کرسکتے ہیں۔
یہ سرگرمی دیگر موضوعات جیسے زبان یا سماجی علوم کی تحریری مشق تک بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ طلبا اسے مضمون کی شکل میں لکھنے کے بجائے کہانی یا اسکرپٹ کے انداز میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
اصناف
آپ نے تبصروں کو پڑھتے یا فلموں یاڈراموں کے پوسٹروں کو دیکھتے ہوئے اس اصطلاح کو ضرور سنا یا دیکھا ہوگا۔ یہ اصطلاح ناولوں، مختصر کہانیوں اور دیگر افسانوی تحریروں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس کا اصل معنی کیا ہیں؟
تحریر میں موجود خصوصیات کی بنیاد پر، اسلوب اور مواد دونوں میں ایک خاص صنف میں اس کی
درجہ بندی کی گئی ہے۔ مقبول عام اصناف درج ذیل ہیں:
آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق صنف ’Genre‘ آرٹ، موسیقی، ادب یا فلم کی ایک مخصوص قسم یا صنف ہے۔ یہ بنیادی طور پر کسی خاص اسلوب کے ساتھ کام کے زمرے سے مراد ہےجن میں کچھ خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔
تحریر میں موجود خصوصیات کی بنیاد پر ، اسلوب اور مواد دونوں میں ایک خاص صنف میں اس کی درجہ بندی کی گئی ہے مقبول عام اصناف درج ذیل ہیں:
المیہ: سنجیدہ مواد پر توجہ مرکوز کرتا ہے جس میں مرکزی کردار کو قسمت، ذاتی غلطیوں یا معاشرتی قوتوں کی وجہ سے زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزاحیہ: اسے تفریح کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں مزاحیہ مکالمے اور مبالغہ آرائی ہوتی ہے اور اس کا اختتام مسرت آمیز
ہوتا ہے۔
میلو ڈراما: مبالغہ آمیز جذبات، اخلاقی تنازعات اور ہیرو اور ویلن کے درمیان واضح فرق پر زور دیتا ہے۔
تاریخی ڈراما: یہ ڈرامے تاریخی واقعات اور شخصیات پر مبنی ہوتے ہیں جن میں حقیقی زندگی کے واقعات کو ڈرامائی شکل دی جاتی ہے۔
میوزیکل : اس میں کہانی سنانے کے لیے رقص کے علاوہ مکالمے، تال اور قافیہ بندی شامل ہوتی ہے۔
پراسرار: یہ عام طور پر کسی جرم سے متعلق معمے کو حل کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔جس کا بھید آخر میں کھلتا ہے۔
تجرباتی: یہ غیر روایتی ڈھانچے، تجریدی موضوع اور
غیر حقیقی عناصر کا استعمال کرکے کہانی سنانے کے روایتی اسلوب سے مختلف ہوجاتا ہے۔
فنتاسی(Fantasy): خیالی دنیاؤں، کرداروں اور حالتوں میں جادوئی عناصر کو شامل کرتا ہے۔
دستاویزی ڈراما: حقیقی واقعات اور تاریخی سچائیوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کرتا ہے۔
صنف کی یہ کچھ مثالیں ہیں۔ ایسی کتابیں اور ریکارڈ دستیاب ہیں جن میں تین سو سے زائد اصناف کی دستاویزی شکلیں موجود ہیں۔ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ زیادہ رائج ہیں اور ان میں ادب کا زیادہ تر کام شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسی تحریریں بھی ہیں جن میں دو اصناف کی خصوصیات یکجا کی گئی ہیں۔ ان میں اگر چہ موضوع کو غالب سمجھا جاتا ہے، تاہم اسے دونوں زمروں کے تحت درج کیاجاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر المیاتی طربیہ میں
المیہ اور طربیہ دونوں کا امتزاج ہے۔ یہ ڈراما سنجیدہ موضوعات کو مزاح اور لطف کے ساتھ ملاتا ہے۔
کیا آپ کوتعجب ہواکہ صنف کا تصور کیوں ضروری ہے؟ ہمیں الگ الگ خانوں میں ان کی زمرہ بندی کیوں کرنی چاہیے؟ کیا خیالات کے اظہار کا آزاد اور تخلیقی طریقہ نہیں ہو سکتا؟
- صنف اس لیے ضروری ہے کہ یہ متن کی سمجھ اور اس کی تشریح کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ تحریر کا ایک ٹکڑا سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے لکھا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے قاری یا سامع مصنف کے ذہن یا ارادے کو نہ جانتا ہو۔ اس سے متن کو سمجھنے میں غلط تشریح یا پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ صنف اس مسئلے سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔
- یہ کاموں کی بہتر تنظیم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کسی
عوامی کتب خانے یا کتابوں کی دکان پر جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ کتابیں اصناف کے زمرے کی بنیاد پر رکھی گئی ہیں۔ یہ بات کتاب تک پہنچنے میں آسانی پیدا کرتی ہے کیوں کہ اس طرح آپ کو ہزاروں کتابیں نہیں دیکھنی پڑتیں۔
ڈراما لکھنے والے کو ڈراما نگار کہا جاتا ہے۔
ہمارے ملک نے گذشتہ برسوں میں سیکڑوں شان دار ڈراما نگار دیکھے ہیں۔ سنسکرت کے ڈراما نگاروں جیسے بھاس اور کالی داس سے لے کر موجودہ دور تک تمام اصناف میں بے شمار ڈرامے لکھے گئے۔ یہاں
انیسویں صدی سے دو مثالیں دی جا رہی ہیں:
بھارتیندو ہریش چندر — ان کی پیدائش1850 میں وارانسی میں ہوئی۔ انھیں جدید ہندی ادب کا بانی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے قلمی نام’ رس ‘کا استعمال کیا۔ ان کا مقبول ڈراما ’اندھیر نگری ‘آج تک تمام زبانوں میں کھیلا جاتا ہے۔
ٹی پی کیلاسم — ان کی پیدائش 1884 میں کرناٹک میں ہوئی۔ انھوں نے کنڑ اور انگریزی کے امتزاج سے متعدد انوکھے ڈرامے لکھے۔ ان کے ترجمہ شدہ ڈرامے آج بھی پورے ملک میں دکھائے جاتے ہیں۔ انھیں طنز و مزاح سے بھرپور کے لیے جانا جاتا ہے۔ انھیں پرہسن پراپیتاما (Prahasana Prapitamaha)کا خطاب دیا گیا۔
سرگرمی 2.2: اصناف سے متعلق غیر معمولی ہستیاں!
اب جب کہ مختلف اصناف کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے تو آپ اِس پڑھی گئی کتاب سے یا اپنے دیکھے گئے ڈراموں سے جوڑ سکتے ہیں۔ آئیے اب تک سیکھے گئے اصناف میں ان اقتباسات کی زمرہ بند ی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کا تعلق مخصوص اصناف یا اصناف کے امتزاج سے ہو سکتا ہے۔ سوچیے اور جواب دیجیے۔
یہاں تک کہ موسیقی، رقص اور بصری آرٹ میں بھی تھیٹر کی مانند اصناف ہیں۔
موسیقی اور رقص میں اس قسم کے اصناف ہیں:
• کلاسیکی
• لوک
• معاصر
• نیم کلاسیکی
...اور دیگر
بصری آرٹ کی اس طرح زمرہ بند ی کی گئی ہے:
• پورٹریٹ
• لینڈ اسکیپ
• اسٹل لائف
...اور دیگر
اب تک آپ نے کیا کچھ سیکھا؟
کیا آپ
جانتے ہیں؟
|
عنوان: غائب شدہ و ڈاپاؤ کا دل چسپ معاملہ جاسوس ریا نے خالی لنچ باکس کو سونگھا۔ اس نے اپنے ہم جماعتوں کی طرف منھ کرکے کہا ’’یہاں کوئی ہے جس کے منھ سے پیاز کی مہک آرہی ہے اور وہ خو دکوقصوروارسمجھ رہا ہے‘‘۔ کوشل بڑبڑا یا ’’میں صرف چیک کر رہا تھا کہ یہ تازہ ہے یا نہیں‘‘۔ اسی وقت پرنسپل ’’مزے دار ناشتہ‘‘ انھوں نے چہکتے ہوئے کہا۔ معاملہ ختم، کوشل بے ہوش۔ |
عنوان: ریپسوڈی لنچ باکس گھنٹی بج چکی تھی، بیگ کھل گئے تھے، ہاتھوں میں چمچہ لیے، تال نے زور پکڑا۔ اسمیتا نے نرم اڈلی کا گیت گایا۔ روہن نے ماہرانہ انداز میں ڈھول بجایا۔ ٹفن بہتر انداز میں گردش کرنے لگے۔ ارون نے چٹنی رقص شروع کر دیا۔ استانی آئی اور اس نے ایک تھاپ دی۔ اب لنچ اور موسیقی کی دعوت شروع۔
|
|
صنف: |
صنف: |
|
عنوان: کاغذ کی آخری ناؤ انل نے کاغذ کی آخری ناؤ بنائی اور اسے بہتے پانی میں ڈال دیا۔ وہ ڈولتے ہوئے دور چلی گئی۔ اس کی بہن بیمار پڑنے سے پہلے سیکڑوں بنا چکی تھی۔ اس نے سرگوشی کی، ’’یہ تمھارے لیے ہے‘‘۔ ناؤ غائب ہو گئی، اسی طرح اس کا بچپن بھی غائب ہو گیا۔
|
عنوان: ٹائم ٹراویلنگ طبلہ قدیم موہن جوداڑو کے کھنڈرات میں ننھی تارا کو چمکتا ہوا طبلہ ملا۔ جب اس نے اسے بجایا تو ایک جادوئی پورٹل کھل گیا۔ اچانک کالی داس نمودار ہوئے، وہ تال میں ایک نظم پڑھ رہے تھے۔ ’’اپنے وقت میں واپس جاؤ‘‘ انھوں نے خبردار کیا۔ تارا نے بجانا بند کر دیا اور اونھ کہا! وہ کلاس میں واپس آئی اور اس نے پلک جھپکائی۔ اس کے طبلے نے سرگوشی کی، ’’اگلا اسٹاپ – مراٹھا سلطنت‘‘؟ |
|
صنف: |
صنف: |
* جوابات: 1۔ پراسرار + طربیہ 2۔میوزیکل 3۔ المیہ 4۔ فنتاسی+تاریخی
بچے فنتاسی موسیقی پیش کرتے ہوئے
اب جب کہ آپ مختلف اصناف پُر اسرار باکس سے موسیقی والے گھنگھروؤں کو جان گئے ہیں، تو یہ وقت ہے کہ آپ لکھنا شروع کیجیے۔ اپنی پسندیدہ صنف منتخب کیجیے یا ان میں سے کچھ کو یکجا کیجیے۔ آگے بڑھیے اور ان سب کو آزمائیے۔ کون جانتا ہے؟ آج ہو سکتا ہے کہ آپ ایک رُلادینے والا سانحہ لکھ رہے ہوں اور کل ایک طربیہ تحریر لکھیں جو آپ کے کتے کو بھی ہنسا دے۔ آپ ایک نئی صنف بھی تخلیق کر سکتے ہیں۔ متبادل لامحدود ہیں۔
یاد رکھیے
آپ نے گریڈ6 اور 7 میں کہانی اور اسکرپٹ کی بنیادوں کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے اس کو نہ بھولیے۔
اپنے ابتدائیہ،درمیانی اور آخرسے متعلق منصوبہ بنائیے اور ایک دل چسپ تصادم تلاش کیجیے۔
آپ جو بھی صنف یا اسکرپٹ لکھتے ہیں اس کے لیے یہ اصول ضروری ہے۔
لہٰذا قلم اور کاغذاٹھایئے — آپ کی اگلی معروف کہانی کا انتظا رہے۔ اپنے والدین اور اساتذہ کو بیٹھنے کے لیے کہیں او راپنے شو سے لطف اندوز ہوں۔
حلقے کا
وقفہ
- آپ کو کون سی صنف پسند ہے اور کیوں؟
- کیا آپ ناول کی طرح طویل تحریر لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پانچ ایکٹ والے ڈرامے یا مختصر کہانی کو؟
- قدیم دور کی اسکرپٹ اور معاصر ڈراموں میں سے ایک ایک منظر پڑھیے۔ اسلوب اور خیالات میں فرق پر تبادلہ خیال کیجیے اور نوٹ کیجیے۔ آپ کو کیا زیادہ پسند ہے؟
جائزہ
|
باب 2: ایک اسٹیج ،کئی اسکرپٹ |
||||
|
سی2.1- حالتوں اور کہانیوں پر مبنی ایسا ڈراما تخلیق کرتا اور پیش کرتا ہے جو اس کے ارد گرد کے گھسے پٹے تصورات کو چیلنج کرتا ہے سی2.2- ڈرامے کے عناصر، موضوع اور علامتوں کو ذاتی تجربات، جذبات اور تخیلات سے جوڑتا ہے |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
2 |
2.1 |
خود سے وابستہ اصناف سے متعلق خیالات اورگھسے پٹے تصورات کا اشتراک کرتا ہے۔ |
||
|
2 |
2.2 |
پڑھی گئی کہانیوں یا دیکھی گئی فلموں سے اصناف کی مطابقت پیدا کرتا ہے۔ |
||
|
2 |
2.2 |
ہر صنف میں سادہ خیالات والی کہانیاں تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ |
||
|
2 |
2.2 |
صنف میں تشریح کرنے کے لیے ذاتی تجربات سے کہانیاں لا سکتا ہے۔ |
||
|
2 |
2.2 |
مختلف اقسام کی اسکرپٹ کی شناخت کے لیے ڈرامے پڑھتا ہے۔ |
||
|
کلاس میں مجموعی طور پرشرکت۔ |
||||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات


