3
پیج سے اسٹیج تک
(FROM PAGE TO STAGE)
تھیٹر سازی
اب ہم تھیٹر سازی کی دل چسپ دنیا میں داخل ہورہے ہیں! یہ وہ جگہ ہے جہاں خیالات عمل میں بدل جاتےہیں اور کہانیاں زندہ ہو جاتی ہیں۔ اس باب میں آپ صرف تھیٹر کے بارے میں نہیں پڑھیں گے بلکہ اسے تخلیق بھی کریں گے! کسی منظر کی منصوبہ بندی سے لے کر مکالموں کی مشق کرنے اور ملبوسات کو تیار کرنے سے لے کر اسٹیج کو ترتیب دینے تک، آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر چھوٹا کردار کس طرح بہت اہم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ آپ درمیانی مرحلے کے اختتام پر ہیں، یہ وہ وقت ہے کہ آپ اب تک جو کچھ سیکھ چکے ہیں، اسے یکجا کریں گے۔
ملبوسات کی تیاری، میک اپ، کٹھ پتلی اور مائم، اسکرپٹ اور مکالمے لکھنے سےلے کر جذبات اور آواز کےساتھ اداکاری کرنے تک، سب کچھ یکجا کریں گے۔
اپنے تمام اسباق کوذہن نشین کیجیے تاکہ آپ اپنے تخیل کوپیش کش میں بدلنے کے لیے تیار ہوجائیں ۔اب تھیٹر سازی شروع ہونے دیجیے!
یہ باب آپ کواس سفرپر لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے — یعنی ایک خیال سے کامیاب پیش کش تک۔ اسے دل چسپ بنانے کے لیے اس عمل کو ڈراما اسکرپٹ کے طور پر خود لکھا جاتا ہے۔ یہ اسکرپٹ گریڈ 8 کے طلبا کے بارے میں ہے جو اپنے طور پرڈراما پیش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ ان تمام مراحل کو ضم کرتا ہے جن پر آپ نے ایک ڈراما بنانے کے لیے اب تک کام کیا ہے۔یہ باب ڈرامے میں موسیقی اور رقص کو ایک ساتھ ضم کرنے کے بارے میں بھی خیالات تجویز کرتا ہے۔
آپ سیکھیں گے
- ڈراماپیش کرنے کا عمل
اسکرپٹ کے عناصر
- تھیٹر کا جذبہ!
اس اسکرپٹ کوباب ایک ڈرامے کی قرأت میں آپ کی مشق کے لیے ایک مثال کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس باب کے آخر میں آپ کو نکات اور مشورےبھی دیے گئے ہیں کہ آپ اس کو عملی طور پر اس پیش کش سےکیسے ہم آہنگ کریں جو آپ اپنے اسکول کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یاد رکھیےکہ اس کے لیے سہولیات یا مادی وسائل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی فکر نہ کریں کہ آپ کے پاس کیا ہے یا نہیں ہے۔ آپ کے پاس جو بھی ہے اس کے ساتھ تھیٹر کہیں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم چیز جو آپ کے پاس ہونی چاہیے وہ ہے لگن اور یہ
جوش و جذبہ، کہ ہم کریں گے!
آئیے ڈراما سازی میں شریک ہوں!
تھیٹر کے تمام ڈرامے !
گریڈ 8 کے کلاس روم میں ڈراما شروع ہوتا ہے۔ کلاس کو اسکول کے پرنسپل کی جانب سے ابھی ایک سرکلر موصول ہوا ہے کہ طلبا کو ایک ڈراما کی پیش کش کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری کرنی ہوگی۔ شو کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے اور طلبا پرجوش ہیں، گھبرائے ہوئے ہیں اور انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ اس کام کو کیسے کر سکتے ہیں۔ کلاس کی نمائندہ اننیا کلاس سے خطاب کرتی ہے۔
منظر 1: غور وخوض (Brainstorming)
(ایک کلاس روم جس میں پرجوش طلبا گروپوں میں تبادلۂ خیال کرنے میں مصروف ہیں۔ بورڈ پر ’ تھیٹر پروجیکٹ‘ لکھا ہوا ہے۔)
اننیا: ٹھیک ہے، ہمیں ابھی موصول ہونے والے میمورنڈم کے مطابق ہمارے اسکول کا شو صرف چھ ہفتوں میں ہے۔ ڈراما 30 سے 40 منٹ کا ہونا چاہیے۔ آئیے ہم پوری کوشش کریں اور اسے بہترین تجربے میں ڈھال دیں!
کرن: ہاں، ہم سب سے بہترہوسکتے ہیں! لہٰذا سب سے پہلے ہمیں ایک اچھی سی کہانی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہمیں طربیہ، پُراسرار یا فنتاسی پیش کرنی چاہیے؟ اوہ... لیکن اس سے پہلے دستاویز سازی (Documentation) کون کر رہا ہے؟ تصاویر، ویڈیو؟ ہمیں اس پروگرام کا ریکارڈ رکھنا ہے — کہ ہم اپنا شو کر رہے ہیں!
اننیا: اوہ، ہاں! خوشی ہوئی آپ نے یاد رکھا! میں یہ کر سکتی ہوں۔ مجھے تصویریں کھینچنا پسند ہے!
میرا: کیا ہم پنچ تنتر یا ہِت اپدیش کہانی پر کام کر سکتے ہیں؟
ریتو: (ہچکچاتے ہوئے) کیوں نہ ہم ایک لوک کہانی کرلیں ؟ یاکوئی ایک ہندوستانی کہانی؟ ہم اس میں کچھ کلاسیکی یا لوک رقص شامل کر سکتے ہیں۔
میرا: ہاں! اور ہم اسے کٹھ پتلی یا مائم کے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ یہ دل چسپ ہوگا!
انل: (پرجوش ہو کر) اوہ! مجھے کوئی زبردست آلۂ موسیقی جیسے ڈھولک یا سرود ملے گا۔
اننیا: درست! تو یہ ایک ہندوستانی کہانی ہوگی۔ آئیے سب اپنی اپنی علاقائی کہانیوں کے بارے میں مشورہ دیں اور کسی ایک کو منتخب کریں۔
تارا: ساوتری اور ستیہ وان کی کہانی کے بارے میں کیا خیال ہے؟
سیما: یا تینالی راما؟ مزاح اور طنز سے بھرپوراور بہت کچھ۔
اننیا: ہوں... لیکن انتظار کیجیے۔ ہمارے پاس تین اچھی کہانیاں ہیں۔ ساوتری اور ستیہ وان جذباتی کہانی ہے، تینالی رام مزاحیہ ہے اور ’بندر اور مگرمچھ‘ تفریحی اور بصری ہے۔ ہم کس طرح منتخب کریں؟ کیا ہمیں ووٹ کرنا چاہیے؟
ریتو: کیا ہم عناصر کو ملا سکتے ہیں؟ شاید تینالی کی عقل کو بندر اور مگرمچھ جیسے جانوروں کے کرداروں کے ساتھ!
میرا: یہ تو الجھ جائے گی۔
انل: میرے خیال میں ہمیں کسی سادہ لیکن ڈرامائی موضوع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ لیکن یہاں بہت ساری کہانیاں ہیں۔
اننیا: آؤ پانچ منٹ غور کریں، سب سوچیں اور پھر ووٹ کریں۔
کرن: (اعتماد کے ساتھ) میں ہمالیہ کے پہاڑوں کی ایک بوڑھی عقل مند عورت کی ایک بہت ہی دل چسپ کہانی جانتا ہوں۔ میرے والد نے مجھے وہ کہانی سنائی تھی۔ کیا آپ اسے سننا چاہتے ہیں؟
سب: ہاں!
(وہ اکٹھے ہوتے ہیں، تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور بالآخر رقص، کٹھ پتلی، اور لوک موسیقی کے عناصر کے ساتھ ہمالیائی لوک کہانی کے بارے میں طے کرتے ہیں۔)
اننیا: ہو گیا! میرے خیال میں اس کہانی کا آغاز، وسط اور اختتام بہت اچھا ہے اور اس میں ایک
دل چسپ تصادم بھی ہے۔تو کیا ہم مناظر اور مکالمے لکھنا شروع کر سکتے ہیں؟ یہ کون کر سکتا ہے؟
کرن: (زور سے) میں اسکرپٹ لکھوں گا۔ لیکن مجھے مدد کی ضرورت ہوگی۔ کون میرا ساتھ دے سکتا ہے؟
(تین مزید طلبا کہانی لکھنے اور ٹیم بنانے میں کرن کا ساتھ دینے کے لیے راضی ہو جاتے ہیں)
اننیا: تو کرن اور ان کی ٹیم مل کر اس پر کام کریں گے۔ کیا آپ ہمیں تین دن میں حتمی اسکرپٹ دے سکتے ہیں؟ اس طرح ہم مشق کی منصوبہ بندی شروع کر سکتے ہیں۔
ریتو: رقص، کٹھ پتلی اور لوک موسیقی شامل کرنا نہ بھولیے۔ میں کوریوگرافی کرنا چاہتی ہوں۔
کرن: ضرور۔ ہم اسے تین دن میں دے دیں گے۔ لیکن جب ہم مشق کریں گے تومیں اسے بہتر بنانے کے لیے یہاں وہاں کچھ تبدیلیاں کرنا چاہوں گا۔
اننیا: وہ ٹھیک ہے۔ ہم اپنے کام میں ہمیشہ بہتری لا سکتے ہیں۔
میرا: (مایوس ہو کر) لیکن میں رقص کرنا بھی پسند کرتی ہوں۔ میں گانوں پر بھی کام کرنا چاہتی تھی۔میں تب سے رقص کی کلاسوں میں جا رہی ہوں، جب پانچ سال کی تھی۔ اب میں اسے نہیں کر سکتی کیوں کہ ریتو یہ کر رہی ہے۔
اننیا: ارے! نہیں… ایسا نہیں ہے! آپ یقینی طور پر مل کر کام کر سکتی ہیں۔ یہ سب
ٹیم ورک ہوگا۔ آپ اور ریتو گانوں کے انتخاب اورآگے کی منصوبہ بندی پر مل کر کام
کر سکتے ہیں۔
(ریتو اور میرا نے خوشی سے ہائی۔فائیو دیا اور وہ تبادلۂ خیال کے لیے ایک ساتھ بیٹھ گئیں۔)
اننیا: چوں کہ ہم پہلے ہی دو ٹیمیں بنا چکے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ہم دوسری ٹیموں کو بھی کام دے سکتے ہیں۔تاکہ اسکرپٹ مکمل ہونے تک ہم سب بھی پوری طرح تیارہوں۔
(اننیا بورڈ پر تمام ٹیموں کے نام لکھتی ہے اور سب کو رضاکارانہ طور پر کام کرنے کو کہتی ہے۔ کچھ تبادلۂ خیال کے بعد وہ درج ذیل فیصلہ کرتے ہیں۔)
- اسکرپٹ —کرن، نتن، شمع اور ریکھا
- سیٹ اور پراپس — نکھل
- میک اپ اور ملبوسات — ایشان، تارا اور سیما
- کٹھ پتلی — انیتا
- موسیقی — انل
- رقص — ریتو، میرا
- دستاویز سازی — اننیا
اننیا: (پریشان ہو کر) دوسروں کا کیا ہوگا؟ ہمیں کٹھ پتلیوں، موسیقی، سیٹ اور پراپس کے لیے مزید لوگوں کی ضرورت ہے! براہ کرم آدتیہ، نیتو، پریا، سری رام … اپنی ٹیم کا انتخاب کریں!
آدتیہ اور سری رام: (عدم دل چسپی سے) ہم کرداروں کا انتخاب کرنا اور اسٹیج پر اداکاری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔
(کوئی بھی یہ کام نہیں کرنا چاہتا۔ کلاس کے باقی لوگ بھی کہتے ہیں کہ وہ اسٹیج پر اداکاری کرنا چاہتے ہیں۔ بار بار درخواست کرنے کے باوجود کوئی بھی رضاکارانہ طور پر کام نہیں کرتا۔ اننیا بے بسی محسوس کرتے ہوئے استاد سے مدد کی درخواست کرتی ہے۔)
استاد: بہت اچھا آغاز ہے، سب لوگ ادھر دیکھیے۔ مجھے واقعی آپ کی کہانی پسند ہے! لیکن یاد رکھیے، پردے کے پیچھے کاکام سب سے اہم ہے! آپ نے گریڈ 7 میں سیکھا ہے کہ یہ تمام شعبے اچھی پیش کش کی بنیاد ہیں۔ کلاس میں ہر ایک کو بورڈ پر لکھے گروپ میں سے کم از کم ایک کا تو حصہ بننا چاہیے۔ اسکرپٹ دینے کے بعد آپ اداکاری بھی کر سکتے ہیں۔ آپ سب کو ایک متحد ٹیم کے طور پر کوشش کرنی ہوگی۔ (سختی سے دیکھتے ہوئے) چلیے…! اپنی اپنی ٹیم کو چننا شروع کیجیے۔
(اس بات کو سمجھتے ہوئے باقی طلبا مختلف گروپوں کا انتخاب کرتے ہیں اور کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔)
منظر 2: کام شروع ہوتا ہے
(3 دن بعد — طلبا گروپوں میں کام کر رہے ہیں۔ کرن اور اس کی ٹیم لکھ رہی ہے؛ ریتو اور انیتا کٹھ پتلیوں کے ڈیزائن بنا رہی ہیں اور کپڑے کاٹ رہی ہیں؛ انل اور میرا تھاپ اور قدموں کے ساتھ موسیقی کے نوٹس پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کبھی کبھار مدد اور مشورے کے لیے استاد کے پاس بھاگتے ہیں اورپھر کام کرنے کے لیے واپس آتے ہیں۔)
کرن: (بلند آواز سے اعلان کرتے ہوئے) ہم نے اسکرپٹ تقریباً مکمل کر لی ہے۔ کیا ہم اسے آپ کے لیے پڑھ سکتے ہیں؟ ( ہر کوئی سر ہلا کر اس کی طرف دیکھتا ہے۔)
منظر 1، ہمالیہ کی ڈھلوان پر ایک پرانا گھر۔ ایک بزرگ خاتون بیٹھی کتاب پڑھ رہی ہیں۔ ان کا نواسا پاس آتا ہے اور کہتا ہے: ’’نانی، مجھے بھوک لگی ہے‘‘۔ نانی باورچی خانے میں جاتی ہیں، اسے ناشتہ دیتی ہیں اور بعد میں وہ ایک ساتھ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔
ریتو: (آنکھیں گھماتے ہوئے) مجھے لگتا ہے آغاز بہت بورنگ ہے۔ یاد کیجیے ہم نے پچھلے سال سیکھا تھا کہ آپ کو پہلے منظر میں ہی اپنے ناظرین کی توجہ حاصل کرلینی چاہیے۔
کرن: ارے، رکو… یہ آگے آ رہا ہے! میں نے اب تک صرف ایک سطر پڑھی ہے! (جاری)
(جب وہ کھیل رہے تھے تو انھیں باہر ایک زوردار آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ کھڑکی کی طرف بھا گتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا جہاز پہاڑ پر اترا ہے اور تمام پڑوسی اسے خوف و دہشت سے دیکھ رہے ہیں۔)
نکھل: کرن، ہم یہ سب اسٹیج پر نہیں دکھا سکتے۔ ہم جہاز کو زمین پر اترتے کیسے دکھا سکتے ہیں؟ ہم پہاڑ کیسے دکھا سکتے ہیں؟ آپ کو کچھ ایسا لکھنا ہوگا جو عملی طور پر ممکن ہو۔
کرن: (اس بات پر ناراض ہو کر کہ اس کی اسکرپٹ کسی کو پسند نہیں ہے) براہ کرم انتظار کیجیے اورمیری پوری بات سنیے۔ آپ کو اسٹیج پر پہاڑ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب صرف نانی اور نواسے کے درمیان، جب وہ کھڑکی سے باہر
دیکھتے ہیں، ہونے والے مکالمے کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔کیا اب میں جاری رکھ سکتا ہوں؟
(جاری رکھتا ہے)
لڑکا خوفزدہ ہے اور کہتا ہے: ’’ نانی یہ کیا ہے؟ کیا اس سے ہمیں نقصان ہو گا‘‘؟
نانی کہتی ہیں، ’’اگر ہم مضبوط اور بہادر ہوں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ چلو باہر چل کر دیکھتے ہیں‘‘۔ لیکن لڑکا بھاگ کر چارپائی کے نیچے چھپ گیا۔
انل: یہ ایک جدید کہانی کی طرح لگتی ہے — ایک جہاز اور سب کچھ! آگے کیا؟ اس میں سے خلائی مخلوق (Aliens) نکلیں گے (زور سے ہنستا ہے)۔ یہ مستقبل کا ڈراماہے۔ لوک ڈراما نہیں!
میرا: ہاں! یہ کوئی لوک کہانی نہیں ہے۔ ہم رقص کہاں لا سکتے ہیں؟ (چھیڑنے والے لہجے میں) میں ایلین کے ساتھ لوک رقص نہیں کر سکتی!
انیتا: میں اس قسم کی کہانی کے لیے کٹھ پتلی کے بارے میں بھی نہیں سوچ سکتی۔
کرن: (غصے سے) او کے... ٹھیک ہے۔ اسکرپٹ آپ خود لکھیے۔ کوئی بھی سننا نہیں چاہتا۔ میں اس طرح لکھنا جاری نہیں رکھ سکتا (اسکرپٹ کو زور سے ڈیسک پر پٹک کر باہر نکل جاتا ہے)۔
اننیا: (جلدی سے باہر نکلتی ہے، اسے واپس لاتی ہے اور کلاس سے مخاطب ہوتی ہے) کرن اور اس کی ٹیم نے اس کے لیے بہت محنت کی ہے۔
پہلے ہم پوری اسکرپٹ سنتے ہیں۔ رائے دینا ضروری ہے کیوں کہ اس سے اسکرپٹ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ لیکن پڑھتے وقت خلل مت ڈالیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے کام کا احترام کرنا چاہیے۔ وہ بھی جانتا ہے کہ ہم اسٹیج پر کیا دکھا سکتے ہیں اور اسکول ہمیں کیا اجازت دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے لکھتے وقت رقص اور کٹھ پتلی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ اپنے ذہن میں رکھا ہوگا۔
(کرن نے اتفاق میں سر ہلایا۔) کرن آپ پڑھنا جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم نوٹ بنائیں گے اور آخر میں شیئر کریں گے۔
(وہ سب سنتے ہیں، نوٹ بناتے اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ کرن کچھ مشوروں کی بنیاد پر تبدیلیاں کرتا ہے۔ آخر میں ہر کوئی خوش اور پراعتماد نظر آتا ہے کہ ان کا ڈراما بہت اچھا ہونے والا ہے!)
منظر 3: مشق اور تیاری
(مشق کئے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔ کردار تقسیم ہو گئے ہیں، تیاری زوروں پر ہے۔ طلبا کے بحث کرنے سے فضا میں کشیدگی ہے۔)
نکھل: یہ افراتفری ہے! ہر کوئی کوڑے دان کی طرح میرے ملبوسات کی جگہ کا استعمال کر رہا ہے! جب بھی میں اسکرپٹ کے مطابق ملبوسات کے ڈیزائن ترتیب دیتا ہوں کوئی نہ کوئی اس میں خلل ڈالتا ہے۔
ریتو: مجھے مگرمچھ کے پتلے کوسکھانے کے لیے جگہ چاہیے! انیتا! (چلاتے ہوئے) براہ کرم مدد کیجیے!
کرن: میری اسکرپٹ ٹیم اس شور کے ساتھ توجہ نہیں دے سکتی۔ آپ نے تبدیلیاں تجویز کی ہیں اور اب آپ ہمیں کام نہیں کرنے دیتے! ہم منظر 3 کے لیے آپ کی تجویز کو بھی یاد نہیں رکھ سکتے۔ اتنا خلفشار!
میرا: اور رقص کی مشق کے بارے میں بھی مت پوچھو۔ کوئی دکھائی نہیں دے رہا ہے!
انل: میں نے تین گانے کمپوز کیے اور اب رقص ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ کچھ اور چاہتے ہیں! میں یہ کام جاری نہیں رکھ سکتا۔
اننیا: (زور سے چلاتے اور انھیں خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے) دوستو! ایسے نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک ٹیم بننا ہے!
استاد: یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اتنا شور کیوں ہے؟ دوسری کلاس والے شکایت کر رہے ہیں!
اننیا: کوئی کام مکمل نہیں ہوا ہے اور ہمارے پاس اساتذہ کے سامنے اسے پیش کرنے میں صرف ایک ہفتہ ہے۔
کرن: سارا کچھ تتر بتر ہے۔ ہم پھنس گئے ہیں!
استاد: (مسکراتے ہوئے) اس کا مطلب ہے کہ آپ ٹھیک راستے پر ہیں۔
سب: ہوں؟
استاد: ہر ٹیم کو کوئی نہ کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ یہ تخلیقی عمل کا حصہ ہے۔ آپ سب پرجوش اور جذبۂ شوق سے سرشار ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اب ٹھہریے ، سانس لیجیے اور ایک دوسرے کو سنیے۔
اننیا: ہم سب اپنے اپنے کام میں اس قدرکھوئے رہے کہ ہم بھول گئے— یہ ایک کہانی ہے، ایک شو ہے۔
استاد: بالکل۔ یہ ایک مشورہ ہے؛ ایک مشترکہ اسٹوری بورڈ چارٹ استعمال کیجیے تاکہ سب ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔ کام کرنے کے لیے مختلف مقامات تلاش کیجیے۔ آپ خالی کمرے تلاش کر سکتے ہیں یا کھیل کے میدان میں بھی جا سکتے ہیں۔ ہر دو دن بعدکارکردگی کا جائزہ لیجیے۔
کرن: ٹھیک ہے! یہ ایک بہت اچھا خیال ہے۔ جب ہم ملتے ہیں تو ہم ہر ایک منظر کو مختصراً انجام دے سکتے ہیں اور تمام ٹیموں کو یہ سوچنے دیتے ہیں کہ کس چیز کی ضرورت ہے!
انل: میں ریتو اور انیتا کے ساتھ تعاون کروں گا۔ مجھے رقص اور کٹھ پتلی کے لیے الگ الگ موسیقی پر کام کرنا ہے۔ (میرا اس کی طرف دیکھتے ہوئے) ٹھیک ہے… ٹھیک ہے… وعدہ کرو کہ فلمی موسیقی سے مزید کوئی ریمکس نہیں کروگے۔
(سب ہنستے ہیں۔)
استاد: اچھا! اب کام پر واپس جائیے۔ اپنی جگہیں تلاش کیجیے۔ ایک دوسرے کو پریشان نہ کیجیے۔ لیکن یاد رکھیے آپ سب ایک ٹیم ہیں۔ لہٰذا مل کر کام کیجیے۔
منظر 4: پہلی رن تھرو (Run-Through)
(اسکول کے آڈیٹوریم میں۔ صرف 4 سے 5 اساتذہ ہی دیکھ رہے ہیں۔ طلبا ایک کے بعد ایک منظر پیش کرتے ہیں۔ بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں۔ لوگ بہت زیادہ ہنستے ہیں۔ وہ پیش کش مکمل کرتے ہیں اور رائے جاننے کے لیے ایک دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں۔)
اننیا: معاف کیجیے… بہت سی غلطیاں تھیں۔ ہم نے مشق کی تھی ...لیکن…
استاد 1: دراصل اسے شروع سے آخر تک مکمل کرنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا کام ہے! آپ کو اپنی ٹیم کے لیے تالیاں بجانی ہوں گی۔ شاباش!
آپ کی بہتری کے لیے کہنا ہے کہ منظر کی منتقلی سست تھی۔ آپ کو ایک منظر سے دوسرے منظر میں جانے میں کافی وقت لگا۔ منظر کی ہموار تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اور ہاں سیٹ اور پراپس کا انچارج کون ہے؟
نکھل: میں ہوں۔ میں نے بھی محسوس کیا کہ ہم نے ہر سین کے لیے سیٹ اور پراپس کی تبدیلی میں کافی وقت لیا۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم منظر کے لحاظ سے تمام مطلوبہ سامان کا بندوبست کریں گے۔ اس سے وقت کا احاطہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ہم نے پراپس کے لیے ادھر ادھر بھاگنے میں کافی وقت ضائع کیا۔
استاد 2: اچھی سوچ ہے۔ اس کے علاوہ اپنی آواز کو مزید بلند کیجیے۔ میں آپ کی کچھ سطریں کچھ جگہوں پر واضح طور پر نہیں سن سکی۔ آپ کو اسٹیج کی آواز سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو چیخنا ہے۔ آپ کو جذبات کو سنبھالنے کے قابل ہونا چاہیے اور پھر اپنی آواز کو اس طرح بلند اور واضح کرنا چاہیے کہ وہ آخری قطار تک صاف سنائی دے سکے۔
اننیا: شکریہ میڈم۔ ہم فائنل شو سے پہلے ان سب کو ٹھیک کر دیں گے۔
استاد 3: مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ نے چھوٹے لڑکے کے خواب کو بیان کرنے کے لیے
کٹھ پتلی کا خوب استعمال کیا۔ کٹھ پتلیوں کی موسیقی اور لوک رقص کے درمیان ہم آہنگی شان دار ہےلیکن ریتو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ شو کے دوران کٹھ پتلیوں کو نہ چھوڑیں!
ریتو: (چہرہ ڈھانپتے ہوئے) معذرت خواہ ہوں! یہ میرے ہاتھ سے پھسل گئی۔ میں اب زیادہ محتاط رہوں گی۔
منظر 5: شو ٹائم
(اسٹیج کے پیچھے۔ سرگوشیاں۔ موسیقی کی آوازیں۔ ملبوسات میں اداکار۔)
ریتو: کٹھ پتلی تیار ہے؟
ثنا: چھڑی ٹوٹ گئی۔ بس اسے بدل دیا... ہو گیا!
اننیا: (پریشان ہو کر) شو کا وقت قریب ہے! آئیے اپنی ٹیم کے لیے دعا کریں!
(ہر کوئی حلقہ بناتا ہے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ استاد بھی ان کے ساتھ شامل ہوتی ہے۔)
استاد: آپ سب نے بہت سخت محنت کی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ اپنی پوری کوشش کریں گے۔ مہمان خصوصی پہلے ہی آچکی ہیں۔ ہم آپ کے شو کے بعد ان سے بات کر سکتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ آپ کو اچھی رائے ملے گی۔ اب آنکھیں بند کیجیے، گہری سانس لیجیے اور دعا شروع کیجیے۔
تجویز کردہ دعا
कायेन वाचा मनसेन्द्रियैर्वा ।
बुद्ध्यात्मना वा प्रकृतेः स्वभावात् ।
करोमि यद्यत्सकलं परस्मै ।
नारायणयेति समर्पयामि ॥
کاین واچامن سیندری یَیروا
بدھیاتمنا وا پراکرتی سوبھاوات
کرومی یدّ یتسکلم پرس مے
نارانیئتی سمپرپیامی
مفہوم: میں جو کچھ بھی اپنے جسم، گویائی، دماغ یا حسی اعضا سے کرتا / کرتی ہوں، اپنی عقل کے ذریعے، یا لاشعوری طور پر اپنے دماغ کے فطری رجحانات سے، وہ سب میں اعلیٰ ہستی کے لیے کرتا /کرتی ہوں، نتائج کے احساس کے بغیر۔ میں انھیں سری نارائن کے کمل قدموں (چرنوں) کے حوالے کرتا ہوں/کرتی ہوں۔
(استاد نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہیں اور ناظرین کے درمیان بیٹھ جاتی ہیں۔ طلبا اکٹھا
ہوتے ہیں۔)
ہر شخص: ایک ٹیم، ایک شو؛اب جادو ہونے دو!
(اداکار پوزیشن لیتے ہیں۔ اسٹیج روشن ہوتا ہے۔ شو شروع ہوتا ہے۔ ایک کے بعد ایک منظر، ایک تسلسل بنتا ہے۔ تیسرے منظر میں ادتیہ کو داخل ہونا ہے۔ دوسرے اداکار سورج اور نندنی انتظار کر رہے ہیں… ادتیہ کہیں نظر نہیں آیا۔ اگر وہ اس کی لائن نہیں بولتے تو کٹھ پتلی کا کھیل شروع نہیں ہو سکتا۔ ماحول میں تناؤ۔ اداکار نہیں جانتے کہ ایسے میں انھیں کیا کرنا ہے۔)
نندنی: (حالات کو سنبھالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ادتیہ کا مکالمہ ادا کرتی ہے) اوہ! تم دونوں یہاں ہو، میں تمھیں کچھ دل چسپ دکھانے کے لیے پہاڑ پر لے جانا چاہتی تھی۔ میرے ساتھ چلیے! (باہر نکلتے ہیں)
(کٹھ پتلیوں کا کھیل شروع ہوتا ہے۔ ناظرین جوش میں تالیاں بجاتے ہیں۔ آخری منظر۔ موسیقی تیز ہوتی ہے۔ رقص کی شروعات ہوتی ہے اور کہانی ختم ہوتی ہے۔ تمام اداکار اور اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم کے لوگ اسٹیج پر جمع ہوتے ہیں۔ پردہ گرتا ہے۔ ناظرین خاموش ہیں۔ ٹیم تناؤ کا شکار ہے۔(وہ سوچتے ہیں) کیا انھیں یہ پسند نہیں آیا؟ کیا وہ نہیں سمجھے؟ ہم نے کیا غلطی کی؟ ایک سیکنڈ بعد مہمان خصوصی کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے انھیں مبارکباد دیتی ہیں۔)
ناظرین: (سب کھڑے ہو کر) واہ واہ!شان دار!
استاد: (اشک بار آنکھوں سے) مجھے آپ سب پر بہت فخر ہے۔
اننیا: (اسٹیج پر) اس سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ۔ ہم نے ایک کہانی سے کہیں زیادہ سیکھا۔ ہم نے ٹیم ورک اور تخلیقیت سیکھی اور یہ جانا کہ ہر حصہ اور ہر لمحہ اہمیت رکھتا ہے۔
(نندنی سے سرگوشی کرتے ہوئے) شو کو بچانے کا شکریہ! ادتیہ اسٹیج کے پیچھے گر گیا اور اس کی ٹانگ میں موچ آ گئی۔
ہر شخص: زبردست شو ختم ہوا... لیکن ہمارا تھیٹر کا سفر ابھی شروع ہوا ہے!
سرگرمی 3.1: خیالات کی جھلک!
پورا ڈراما پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن میں فوری طور پر کیا خیالات آئے؟ قابل بیان؟ ایسا لگا جیسے یہ آپ کی کلاس میں ہو رہا تھا؟ کیا آپ کا کوئی سوال ہے؟ اپنے فوری خیالات یہاں لکھیے۔ آپ کے ذہن میں جو کچھ ہے آپ اس کی ڈرائنگ یا ڈوڈل بھی بنا سکتے ہیں۔
آپ ان نکات کا اشتراک اور تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں جنھیں آپ نے باقی کلاس کے ساتھ نوٹ کیا ہے اور دیکھیےکہ دوسرے اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
اب آئیے ڈرامے کی اسکرپٹ کا تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
ہر منظر میں تھیٹر سازی کے مختلف عناصر ہوتے ہیں جنھیں آپ سیکھ سکتے ہیں اور اپنی پیش کش کی تیاری کے عمل میں لا سکتے ہیں۔ ہم ایک ایک منظر پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
تھیٹر سازی کے حصوں کی نشان دہی کرنے کے لیے آپ مناظر کا بھی حوالہ دے سکتے ہیں۔
استاد کے لیے نوٹ: طلبا کے لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو ایک ساتھ رکھیں اور پیش کش کے لیے اپنی ایک اسکرپٹ بنائیں۔ اس سبق میں دی گئی اسکرپٹ یا تیار شدہ اسکرپٹ قابل ترجیح نہیں ہے۔ ایسا کرنا طلبا کو اسکرپٹ رائٹنگ میں گریڈ 6 اور 7 میں سیکھے گئے اسباق کو اپنانے سے روکے گا۔
|
شمار نمبر |
منظر |
تیاری کے لیے اقدامات |
سیکھے گئے اسباق |
|
.1 |
غور وخوض |
|
� خیالات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے تخلیقی طور پر سوچیے۔
|
|
.2 |
کام شروع ہوتا ہے |
|
� تحمل سے سنیے، کسی نتیجے پر فوراً نہ پہنچیے۔
|
|
.3 |
مشق اور تیاری |
|
|
|
.4 |
پہلی رَن تھرو |
|
|
|
.5 |
شو کا وقت |
|
|
استاد کے لیے نوٹ: جیسا کہ اسکرپٹ میں ذکر کیا گیا ہے، استاد کو صرف ایک معاون کا کردار ادا کرنا ہے اور طلبا کو اپنے طور پر کرنے دینا ہے۔
طلبا کو فیصلے کرنے اور مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انھیں غلطیاں کرنے دیجیے۔ جب انھیں مدد کی ضرورت ہو تو وقفے کے درمیان ہی تجاویز اور مشورے دیجیے۔
اس جدول میں صرف چند نکات درج کیے گئے ہیں۔ اگر آپ کو کچھ اور نکات نظر آئے ہیں تو آپ ہر منظر کے لیے مزید نکات شامل کر سکتے ہیں۔ 30 منٹ کی مکمل پیش کش بنانے سے پہلے اپنی کلاس میں ہر ایک منظر پر بحث کرنا اور مراحل کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
تدوین اور دستاویزات تیار کرنا مت بھولیے۔ یہ کسی بھی پروڈکشن کا ایک اہم حصہ ہے۔ تحریری ریکارڈ کے ساتھ تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈبھی کیجیے۔ یہ کام ڈائری میں آپ کے عمل کے باقاعدہ اندراجات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
سرگرمی 3.2: کوئز کا وقت
اس باب میں دی گئی اسکرپٹ کے انداز تحریر کا مشاہدہ کیجیے۔ یہ اسکرپٹ میں استعمال ہونے والا معیاری انداز ہے۔
- اسکرپٹ کی ہر سطر مکالمہ یا گفتگو نہیں ہے۔ غیر مکالماتی سطور کو کیا کہتے ہیں؟ وہ اسکرپٹ میں کیوں ہیں؟ وہ کتنی اہم ہیں؟


- قاری مکالمہ اور غیر مکالماتی سطور میں فرق کیسے کر سکتا ہے؟


- مختلف اداکاروں کے ذریعہ کہی گئی ہر سطر کو مختلف طریقوں سے بولا اور ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مطلب لہجے، حجم اور مکالمہ بولنے کے دیگر اسلوب کی بنیاد پر بہت کچھ ہوگا (باب 1 میں سیکھا گیا ہے)۔ اسکرپٹ لکھنے والا اس بات کو کیسے یقینی بناتا ہے کہ ہر سطر مطلوبہ جذبات یا انداز میں کہی گئی ہے؟


- اسکرپٹ کو پڑھتے وقت آپ کے ذہن میں جو دیگر نکات آئے ہوں ان کو نوٹ کیجیے۔ کیا آپ اپنے طور پر کوئی ڈراما لکھنا پسند کریں گے؟
یاد رکھیے
ہر ایک میں خوبیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ لیکن اس سے آگاہ ہونے اور اس بات کو یقینی بنانے سے کہ آپ کی ٹیم پورے عمل میں اس کا خیال رکھتی ہے، آپ کو اپنی طاقت میں اضافے اور اپنی کمزوریوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
جوابات:
1۔ انھیں اسٹیج ہدایات کہا جاتا ہے۔ یہ مناظر کی بصری نمائندگی ایکشن کے بارے میں بات چیت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
2۔ غیر مکالماتی سطور اٹیلک اور بریکٹ میں لکھی جاتی ہیں۔
3۔ وہ سطور جومکالمے کے طور پر پیش ہونی ہیں، کردار کے نام کے فوراً بعد بریکٹ کے ساتھ اٹیلک میں دی جاتی ہیں۔
اہم نکات — زندگی کے لیے اسباق
تھیٹر کا نعرہ : شو مسٹ گو آن — جو آپ کی زندگی کے لیے سپر پاور ہے!
یہ ایسی سطر ہے جسے تھیٹر کے طالب علم کی حیثیت سے آپ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی تاج گر جاتا ہے، کوئی زور سے چھینکتا ہے یا روشنی چلی جاتی ہے — اداکار رکتے نہیں (جیسے نندنی نے مذکورہ ڈرامے میں کیا)۔ آپ کے سامنے بیٹھے ناظرین نے آپ کو اپنا وقت دیا ہے (اور کبھی کبھی ٹکٹوں کے لیے پیسے بھی)۔ آپ ان کے مقروض ہیں۔ تھیٹر کے ہر فرد کی
ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ناظرین مایوس نہ ہوں۔ لہٰذا چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ مسکراتے ہیں، بہتری لاتے ہیں اور کہانی کو زندہ رکھتے ہیں! ’شو مسٹ گو آن‘ کے پیچھے یہی جادو ہے۔
آپ کے لیے یہ حقیقی زندگی میں ایک سپر پاور کی طرح ہے! جب کوئی منصوبہ غلط ہو جاتا ہے یا جب آپ غلطی کرتے ہیں تو آپ کو رکنے، گھبرانے یا اسے چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ایک گہری سانس لیجیے، جلدی سے سوچیے اور ایک اسٹار کی طرح آگے بڑھیے۔ یہ بات لچک، موافقت اور پرسکون رہنے کی ہمت سکھاتی ہے، یہاں تک کہ جب چیزیں بالکل ٹھیک نہ ہو رہی ہوں۔ تب بھی روزمرہ کی زندگی میں چیلنجز، غلطیاں اور حیرانیاں فطری ہیں۔ لیکن اسٹیج پر اداکاروں کی طرح ہم اعتماد کے ساتھ جاری رکھنا سیکھتے ہیں، اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور پریشانی میں ہمت نہیں ہارتے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ استقامت اور مثبت رویہ اکثر کمال حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ زندگی کا مقصد کامل ہونا نہیں ہے۔ یہ بہادر، ہوشیار اور نہ رکنے کے بارے میں ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو! کیوں کہ شو کی طرح زندگی چلتی رہتی ہے!
یہاں ایک اسکول میں پیش کیا جانے والا شو حقیقی زندگی کی کہانی ہے جہاں طلبا نے تھیٹر کے لازوال جذبے کا مظاہرہ کیا۔
سال 1995 میں کرناٹک کے دھارواڑ ضلع کے ایک قصبے میں اسکول کے طلبا کی ایک ٹیم ایک آڈیٹوریم میں 200 سے زیادہ ناظرین کے سامنے ڈراما پیش کر رہی تھی۔ یہ ایک پرانا آڈیٹوریم تھا جس میں مختلف مناظر جیسے جنگل، محل وغیرہ کی تصویر کشی کی جاتی تھی۔ پیش کش کے دوران کلیدی اداکار بیک ڈراپ کے بالکل نیچے کھڑی تھی جب رسیاں ٹوٹ گئیں اور بیک ڈراپ نیچے گرنے لگا۔ اس نے آواز سنی اور بیک ڈراپ کو نیچے پھسلتے ہوئے دیکھا لیکن وہ نہ وہاں سے ہٹی اور نہ ہی اپنے مکالمے روکے! اس نے اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم سے کچھ کرنے کی امیدرکھی اور اس پر بھروسہ کیا اور ڈرامے کے بہاؤ میں خلل نہ ڈالنے کا عزم کیا۔
تقریباً ایک اشارے پر بیک اسٹیج کے دو ارکان جنھوں نے یہ دیکھا، فوراً دونوں طرف بھاگے اور رسیوں کو ہاتھ سے پکڑ لیا۔ جس کی وجہ سے بیک ڈراپ اپنی جگہ پر قائم رہا۔ حالاں کہ وہ حرکت نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ اس کا مطلب تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ گر جاتا۔ لہٰذانھوں نے بھاری بیک ڈراپ کو پورے ایک گھنٹے تک ہاتھوں سے تھامے رکھا۔ یہاں تک کہ ڈراما مکمل ہو گیا! لیکن انھیں اسٹیج کے پیچھے جو کام کرنا تھا اس کا کیا بنا؟ دراصل باقی ٹیم مدد کے لیے آئی اور اس نے ان کا کام سنبھال لیا اور اس طرح انھوں نے بغیر کسی خرابی کے پورے شو کو بھی سنبھال لیا! عملے کے دونوں ارکان کے ہاتھ مکمل طور پر زخمی ہو گئے جن سے خون بہہ رہا تھا۔ ناظرین ڈرامے سے بہت خوش ہوئے اور انھوں نے ٹیم کی تعریف کی۔
اس وجہ سے ایک شو کو کامیابی سے مکمل کرنے کی خوشی اور اطمینان اتنا زیادہ تھا کہ ٹیم کو جس پریشانی سے گزرنا پڑا وہ سب بھول گئے۔ ٹیم ورک اور عزم کے ساتھ — شو جاری رہا!
حلقے کا
وقفہ
- اسکول میں کارکردگی پیش کرنے کی اپنی کوشش میں، درج ذیل فہرست بنائیں:
طاقت
کمزوری
میرے لیے
(انفرادی)
ایک کلاس کے طور پر
(ٹیم)
- آپ اپنی کمزوریوں پر کام کرنے کا منصوبہ کیسے بناتے ہیں؟
- آپ اپنی طاقت کو تخلیقی طور پر اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
جائزہ
|
باب 3: پیج سے اسٹیج تک |
||||
|
استعداد سی1.1- مختلف ڈراما سرگرمیوں کے ذریعے اپنے ذاتی اور روزمرہ کی زندگی کے تجربات کا اظہار اعتماد کے ساتھ کرتا ہے سی3.1- دیکھ بھال اور اسٹیج کے بنیادی آداب کا مظاہرہ کرتا اور ڈراما کے مواد، اوزار اور تکنیک کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے بامعنی انتخاب کرتا ہے سی4.1- تھیٹر کی مختلف مقامی اور علاقائی شکلوں سے واقفیت کو ظاہر کرتا ہے |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
1 |
1.1 |
کہانی اور اسکرپٹ میں متعلقہ تجربات لانے کے قابل ہے۔ |
||
|
1 |
1.1 |
اسکرپٹ بنانے کے لیے دوسروں کے تجربات اور کہانیوں سے ہم آہنگی رکھتا ہے۔ |
||
|
3 |
3.1 |
تیاری کے عمل میں دوسروں کے کاموں کا احترام کرتا اور ضرورت پڑنے پر مدد کرتا ہے۔ |
||
|
3 |
3.1 |
جو کچھ بھی دستیاب ہے اس کے ساتھ کام کرنے اور چیزیں کم خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ |
||
|
4 |
4.1 |
متعلقہ سیاق و سباق میں رقص، کٹھ پتلی، موسیقی جیسی آرٹ کی شکلوں کو جوڑ سکتا ہے۔ |
||
|
کلاس میں مجموعی طور پرشرکت۔ |
||||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات


