6
موسیقی کےآلات
(MUSICAL INSTRUMENTS)
آواز کی سائنس
تھرتھراہٹ
آواز تھرتھراہٹ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی چیز ہلتی ہے تو اس سے آواز کی لہریں پیدا ہوتی ہیں اوروہ کئی (ہوا، پانی وغیرہ) ذرائع سے ہمارے کانوں تک پہنچتی ہیں۔
گونج
گونج کے ذریعے آواز کو بڑھایا یا تیز کیا جا تا ہے۔ مثال کے طور پرضرب یا تھاپ والے آلات میں ان کا کھوکھلے جسم یا اندر کا خالی پن ایک گونج پیدا کرتاہے جس سے آواز بڑھ جاتی ہے۔
ارتعاش
ارتعاش تھرتھراہٹ کی فی سیکنڈ تعداد کو کہتے ہیں۔ تیز تھرتھراہٹ زیادہ ارتعاش پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں آواز بلند ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پرستار کے سر والے تار کو کسنے سے اس کا تناؤ اور تھرتھراہٹ کی تعداد بڑھ جاتی ہے ، نتیجتاًآواز میں اونچی لَے پیدا ہوتی ہے۔
طنین
ٹمبر سے مراد آواز کی ’ٹون‘‘یا ‘’رنگ‘ سے متعلق ہوتا ہے۔ آلے کو بنانے کے لیے استعمال ہونے والی چیز، آلے کی بناوٹ اور ا س کے بجانے کی تکنیک کے لحاظ سے ٹمبر مختلف ہوتے ہیں۔
کیا آپ سوچتے ہیں کہ موسیقی ایک فن اور سائنس دونوں ہے؟ کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
مختلف آلات کے مختلف ٹمبر ہوتے ہیں
موسیقی کے آلات بنانا
روایتی آرٹ کی بقا کے لیے موسیقی کے آلات بنانے والے ضروری ہیں۔ موسیقی کے آلات بنانے میں سائنسی اصولوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
آلہ ساز لکڑی کےایک کندے سے ڈھول بناتا ہے۔
ڈھول کا سر بنایا جاتا ہے۔
اس کے بعد اسے لکڑی کے ڈھول پر لگایا جاتا ہے۔
سُر پیدا کرنے کے لیے رسیاں
باندھی جاتی ہیں۔
استاد کے لیےنوٹ: اپنی برادری یا علاقے میں کوئی آلہ ساز تلاش کیجیے۔ انھیں موسیقی کے آلات بنانے اوردیکھ بھال کے طریقوں کے براہ راست مظاہرے کے لیے اسکول میں مدعو کیجیے۔ اس سے طلباکو ہمارے معاشرے میں ان دست کاروں کی اہمیت کا براہِ راست علم ہو گا۔
موسیقار اور ان کےساز
موسیقار عموماً اپنے ساز کی پہچان بن جاتے ہیں۔ یہاں آپ کےعلم کے لیے کچھ عظیم موسیقاروں اور ان کے سازوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہمارے ملک کے دوسرے عظیم موسیقاروں کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں!
انّا پورنا دیوی – سُر بہار
انا پورنا دیوی (2018 - 1927)ان کا اصل نام روشن آرا خان ہے۔وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی اہم شخصیات میں سے ایک تھیں۔ وہ میہر گھرانے کی افسانوی شخصیت
بابا علاؤالدین خان کی بیٹی تھیں۔ وہ ستارکی ایک قسم سُربہار بجاتی تھیں جس سے گہری، گونج بھری آواز پیدا ہوتی ہے۔ خواتین موسیقار سُربہارکم بجاتی تھیں کیوں کہ وہ بہت وزن ساز ہوتا ہے لیکن انا پورنا دیوی نے اس میں مہارت حاصل کی۔ ان کے والد انھیں اپنی بہترین شاگردہ سمجھتے تھے۔ اگرچہ انا پورنا دیوی نے عوامی طور پر پیش نہیں کیا لیکن روایت سے ان کی گہری وابستگی اور راگوں پر ان کی مہارت مشہور تھی۔ ان کےکئی شاگرد بشمول بانسری نواز ہری پرساد چورسیا اور ستار نواز نکھل بنرجی اپنی نسل کے مشہور موسیقاروں میں گنے جاتے ہیں۔
سُر بہار کے بارے میں: سربہارتاروں والا ساز ہے جسے ’باس ستار‘ کہا جاتا ہے، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں استعمال ہوتا ہے۔ ستار کے مقابلے میں اس ٹون کی گہری اورمدھم ہوتی ہے جووسیع الاپ کے لیے بہت موزوں ہے۔
پنا لال گھوش — بانسری
پنالال گھوش 1911 میں پیدا ہوئے اور 1960 میں وفات پاگئے۔ ان کا نام ہندوستانی بانسری کی پہچان کے طور پر مشہور تھا۔ وہ بانسری نواز اور کمپوزر بھی تھے۔ وہ بابا علاؤ الدین خان کے شاگرد تھے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی پر بانسری کوبطور ایک ساز مقبول بنانے کا سہرا ان کے سرجاتا ہے۔ بچپن میں ہی انھیں بانسری کی آواز بھاگئی جسے عام طور پر گوالے بجایا کرتے تھے اور وہ چوں کہ ستار کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کر رہے تھے ،لہٰذا بانسری پر موسیقی کے پیٹرن بجانے کی کوشش کرنے لگے۔ 18 سال کی عمر میں انھوں نے بانسری پر اپنی توجہ مرکوز کرنا شروع کردی۔ گھوش کو احساس ہوا کہ کلاسیکی اور ہلکی موسیقی دونوں کے لیے ایک بڑی بانسری کی پچ اور گونج زیادہ مناسب ہوگی۔ گھوش نے دھات اور متعدد قسم کی لکڑی سمیت مختلف چیزوں کے استعمال کا تجربہ کرتےہوئے بانس کے استعمال کا فیصلہ کیا۔ آخر کار انھوں نے ایک 32 انچ لمبی بانسری بجانے کا فیصلہ کیا ۔
کولکاتا میں نیو تھیٹر کے ساتھ کام کرتے ہوئے انھوں نے موسیقی کی تیاری میں مدد کی ۔ 1940 میں وہ اپنے میوزک کیریئر کو مزید وسعت دینے کے لیے بمبئی آئے۔ ایک آزاد میوزک کمپوزر کی حیثیت سے سنیہ بندھن (1940) ان کی پہلی فلم تھی۔’ابرو کے کانوں میں‘‘‘ اور ‘’سنیہ بندھن میں بندھے ہو‘ اس فلم کے مشہور گانے تھے جنھیں خان مستان اور ببونے گایا تھا۔ پنالال گھوش نے استاد علی اکبر خان اور پنڈت روی شنکر کے ساتھ مشترکہ طور پر مل کر1952 میں بنی فلم’آندھیاں‘ کا بیک گراؤنڈمیوزک تیارکیا تھا۔ سات سوراخوں والی بانسری متعارف کروانے والے وہ پہلے شخص تھے۔
میسور دورئی سوامی ائینگر— وینا
دورئی سوامی ائینگر 1920 میں مشہور کرناٹِک موسیقاروں کے خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد وینکٹیش آئینگر نے جو بانسری اور وینا میں یکساں طور پرماہر تھے، میسور کے شاہی دربار میں موسیقار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آئینگر نے 6 سال کی کم عمری میں اپنے والد سے وینا سیکھنا شروع کیا اور پھر وینا وینکٹگری اپا کی شاگردی اختیار کی۔ بعد میں انھوں نے وینا بجانے کا ایک مخصوص انداز تیار کیا جس کو اکثر میسور بانی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال کرناٹک کے ضلع ہاسن کے گڈّاولی میں گزارے۔
انھیں میسوردربار کے استھانا ودوان ( شاہی موسیقار) کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ انھیں یہ اعزاز بہت ہی کم عمری میں مل گیا تھا۔ موسیقی بجانے کے علاوہ وہ شاہی خاندان کے افراد کو موسیقی سکھانےمیں بھی مصروف رہتے۔
انھیں بنگلور کے آل انڈیا ریڈیو میں میوزک ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ کئی انعامات اور اعزازات سے نوازے گئے۔میسور یونیورسٹی نے 1975 میں انھیں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔ انھیں 1983 میں صدر جمہوریہ کے ہاتھوں پدم بھوشن ایوارڈملا۔ وہ 1984 میں مدراس میوزک اکیڈمی کا سنگیت کلا ندھی، 1994 میں انڈین فائن آرٹس سوسائٹی چنئی کا سنگیت کلاسکھ منی ایوارڈ ، بنگلور گائن سماج کا سنگیت کلارتن اور چوڈیہ نیشنل میموریل ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔
موسیقی کے تین ماہرین— ذاکر حسین، شنکر مہادیون اور وِکّووِنایک رام ایک پروگرام میں فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے
سرگرمی 6.1 : موسیقی کے آلات کے نام تلاش کیجیے
|
I |
B |
K |
S |
L |
B |
U |
M |
M |
L |
E |
T |
U |
L |
F |
|
S |
R |
R |
A |
I |
S |
R |
A |
H |
A |
B |
R |
U |
S |
W |
|
A |
T |
U |
Z |
L |
A |
A |
G |
M |
O |
R |
S |
I |
N |
G |
|
R |
R |
V |
S |
P |
O |
L |
N |
C |
P |
Y |
J |
S |
K |
J |
|
O |
U |
I |
D |
N |
Y |
H |
A |
T |
D |
I |
I |
Y |
T |
A |
|
D |
M |
O |
G |
R |
A |
L |
D |
V |
O |
T |
A |
X |
G |
W |
|
D |
P |
L |
R |
N |
B |
B |
I |
P |
A |
O |
V |
N |
O |
A |
|
U |
E |
I |
O |
A |
A |
O |
R |
R |
C |
E |
R |
I |
O |
H |
|
R |
T |
N |
T |
G |
L |
R |
M |
L |
E |
N |
A |
A |
X |
K |
|
M |
A |
T |
A |
H |
G |
T |
A |
N |
Y |
R |
R |
N |
Y |
A |
|
G |
U |
I |
T |
A |
R |
R |
A |
S |
U |
A |
S |
H |
F |
P |
|
J |
Z |
Y |
U |
U |
I |
P |
D |
P |
T |
F |
R |
E |
A |
H |
|
R |
L |
K |
T |
N |
L |
A |
N |
K |
P |
X |
Y |
H |
B |
W |
|
G |
X |
R |
E |
Z |
F |
A |
E |
O |
Z |
M |
A |
S |
D |
N |
|
C |
B |
T |
W |
T |
T |
E |
N |
O |
H |
P |
O |
X |
A |
S |
موسیقی کے آلات ڈھول اور کانشی بجائے جارہے ہیں
نوٹ
الفاظ کسی بھی سمت میں جا سکتے ہیں۔
الفاظ اگر ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں تو حروف مشترک کیے جا سکتے ہیں
بانسری، کلیرینٹ، ڈھولک، اک تارا،فلیوٹ، گھٹم، گٹار، مورسنگ ، سرود، سیکسا فون، شہنائی، ستار۔
سرگرمی 6.2: آلات کو نقشے پر دکھائیے
یہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تھاپ سے بجنے والے ساز ہیں۔ ہندوستان کےنقشے کا خاکہ لیجیے اور اس کی نشان دہی کیجیےکہ ان میں سے کون سا ساز کہاں پایا اور بجایا جاتا ہے۔
ہلگ
(گجرات اور کرناٹک)
اُدوکّئی
(تمل ناڈو)
مدل/مندر
(بہار اور جھارکھنڈ)
تُمبک ناری
(جموں و کشمیر)
چیندا (کیرلا)
نگاڑا (راجستھان)
پُنگ
(منی پور)
خول
(مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان)
پنچ مکھ وادیہ
(ہریانہ اور جنوبی ریاستیں)
آنند لہری/گوپی
جنتر/گپچو
(آسام، مغربی بنگال، اڈیشہ)
سرگرمی 6.3: معما
موسیقی کے آلات سے متعلق معما حل کیجیے
دائیں سے بائیں
- تاروں والا ساز جو سخت لکڑی جیسے اخروٹ یا گلاب کی لکڑی سے بنا ہو،جس میں سو سے زیادہ تار ہوتے ہیں۔
- ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے دھروپدو گانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک ساز۔
- ایک ساز جو استاد ذاکر حسین (پدم وبھوشن ایوارڈ یافتہ)بجاتے تھے۔
- تاروں والا ساز پنڈت روی شنکر (بھارت رتن ایوارڈ یافتہ) بجاتے تھے۔
- چار تاروں والا ایک ساز جو کمان کے ذریعے بجایا جاتا ہے۔
- مٹی کو پکا کر گھڑے کی طرح بننے والا ایک ہندوستانی ساز / پکی مٹی سے گھڑے کی طرح بنایا جانے والا ایک ہندوستانی ساز۔
اوپر سے نیچے
- تار کا ایک ساز جس کی گردن لمبی ہوتی ہے ۔اس میں چار تار ہوتے ہیں اور انگلیوں سے بجایا جاتا ہے۔
- ہوا دارساز روایتی طور پر بانس سے بنایا جاتا ہے اور اس میں انگلیوں کے پور برابر 6 یا 7 سوراخ ہوتے ہیں۔
- کی بورڈ کے ساتھ ہوا کے دبائو سے بجنے والاساز جو سرکنڈوں کے ذریعے آواز پیدا کرتا ہے۔
- ضرب سے بجنے والا ایک ساز جس میں پانی سے بھرے چینی مٹی یا دھات کے پیالوں کا استعمال ہوتا ہے۔
- ہوا کے دبائو سے بجنے والا ساز جسے استاد بسم اللہ خان (بھارت رتن ایوارڈ یافتہ) بجاتے تھے۔
- ایک کمان دارساز جو راجستھان اور سندھ کی لوک موسیقی میں مقبول ہے۔
جائزہ
|
باب 6: موسیقی کے آلات |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
3 |
3.1 |
موسیقی کے آلات اور ان کی اصلیت کے بارے میں آگاہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ |
||
|
3 |
3.1 |
آواز اور موسیقی کے بنیادی سائنسی اصولوں کو سمجھتا ہے۔ |
||
|
4 |
4.1 |
اعلیٰ موسیقاروں کی زندگی اور ان کی خدمات سے آگاہ کرتاہے۔ |
||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات






