10
رقص کی داخلی حرکیات
(INNER DYNAMICS OF DANCE)
رقص اور حرکت
काव्यं न भावेन विना न भावेन विना रसः ।
न भावेन विना नृत्यं न भावेन विना जगत् ॥ ८॥
کاویم نا بھاوین وِنا، نا بھاوین وِنا رسہ
نا بھاوین وِنا نرتیم، نا بھاوین وِنا
جذبات کے بغیرشاعری کا وجود نہیں
اور نہ ہی اس کے بغیر جمالیاتی جوہر (رس) اس کے بغیر پیدا ہو سکتا ہے۔
جذبات کے بغیررقص کا وجود نہیں—
درحقیقت، دنیا بذاتِ خود جذبات کے بغیر نہیں رہ سکتی۔
— سنگیت دامودر سے شلوک نمبر 8
پنڈت شوبھانکر
اساتذہ کے لیےنوٹ
اساتذۂ کرام !
براہِ کرم طلبا کوحرکت اور رقص کے لیے ایک کشادہ ہال فراہم کیجیے۔ جگہ کافی ہوا دار اور روشنی مناسب ہونی چاہیے۔ ذیل میں فراہم کردہ اصولوں کو اپنانے کی صلاحیت کے مطابق طلبا کی رہنمائی کیجیے۔ گروپ بنانے اور ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے میں ان کی مدد کیجیے۔
تدریسی اصول
- طلبا کو رقص کے لیے آرام دہ جسم کی اہمیت اور سانس کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کیجیے۔
- ساکت نقطے کے تصور اور اس سے ابھرنے اور مکمل ہونے والی حرکت کو سمجھیے۔
- ہندوستان کے ثقافتی تنوع کو اس کے بڑے روایتی اور لوک رقص کی مختلف شکلوں کی مدد سے سیکھیے۔
- ہاتھ کے اشاروں کو ایک مواصلاتی آلہ کے طور پر استعمال کیجیے۔
- جذبات کا اظہار — جذبات کے اظہار میں سکون کی سطح، جذباتی مسرت کے فروغ
کے لیے طلبا کو مثبت اور منفی دونوں جذبات کے اظہار کی ترغیب دیجیے۔ - روایتی رقصوں میں کردار ادا کرتے ہوئے شمولیت اور صنفی حسّاسیت کے تصورات
کو سیکھنا۔ - عصری ہندوستانی رقص اور پاپولر کلچر میں اس کے کردار کو سمجھنا۔ نقل و حرکت کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کو تلاش کرنا۔
- رقص کی قابل ذکر ہندوستانی شخصیات کو سمجھنا اور تحقیق کرنا۔
- رقص میں مشترکہ کوشش اور ٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھیے۔
- رقص اور نقل و حرکت کی جامع تعریف اور فطرت کی اہمیت کو اپنانا۔
درسیاتی اہداف اور استعدادات اگلے صفحہ پر دیے گئے ہیں۔
سی جی1- آرٹ کی مختلف ہیئت کے ذریعے خود کوجاننے اور اظہارکرنے میں کشادگی پیدا کرتا ہے۔
سی 1-.1 مختلف قسم کے رقص اور حرکات کی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے ذاتی اور روزمرہ زندگی کے تجربات کامظاہرہ اعتماد کے ساتھ کرتا ہے۔
سی 1.2- رقص اور حرکات کی مشترکہ تخلیقی مشقوں کے عمل میں لچک کا مظاہرہ کرتا ہے۔
سی جی2- آرٹ کے ذریعے متبادل خیالات کی دریافت میں اپنے تخیل اور تخلیقیت کو بروئے کار لاتا ہے۔
سی 2.1- رقص اور حرکات کی ترتیب تشکیل دیتا ہے جو آس پاس کے عینی دقیانوسی تصورات (جیسے صنفی کرداروں) کو چیلنج کرتی ہے۔
سی 2.2- اپنے ذاتی تجربات، جذبات اور تخیلات کی مدد سے رقص اور حرکات وسکنات، مدرا، اشاروں اور کیفیات کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
سی جی3- فنی عناصر، عمل اور تکنیک کو سمجھتا اور استعمال کرتا ہے۔
سی جی3.1- اسٹیج کے آداب، اسٹیج کے سازوسامان، پراپس اور ملبوسات کی دیکھ بھال، رقص اور حرکات کی تکنیک کے استعمال میں سوچ سمجھ کر انتخاب کا مظاہر
کرتا ہے۔
سی 3.2- منصوبہ بندی کے مرحلے سے لے کر حتمی پیش کش تک رقص اور حرکات میں استعمال ہونے والے خیالات اور تاثرات پراز سر نو اثر انداز ہوتا ہے اور پورے عمل کا جائزہ لیتا ہے۔
سی جی4- علاقائی فنون اور ثقافتی روایات کی جمالیاتی حسیت کی مختلف جہتوں سے واقف ہوتا ہے۔
سی 4.1- رقص اور حرکات کی مختلف مقامی اور علاقائی صورتوں سے واقفیت کا مظاہرہ
کرتا ہے۔
سی 4.2- اپنے علاقے اور پورے ہندوستان میں چند مقامی رقاصوں اور حرکات کے فن کاروں کی زندگی اور کام کو بیان کرتا ہے۔
10
رقص میں سانس
یوگ کے فلسفے کے مطابق لفظ ’پران‘ زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو سانس کے آنے جانے پر قائم ہے۔ سانس اندر لینے اور باہر چھوڑنےکے دوران سانس کا جو بہاؤ ہوتا ہے اسے ’پرانایام‘ کہا جاتا ہے۔
رقص کو بھی اس قوت حیات یعنی پران سے تقویت ملتی ہے۔
رقص کی حرکات یکسوئی کے ساتھ یعنی ریڑھ کی ہڈی کی آرام دہ حالت سے شروع ہوتی ہیں۔سانس لینے سے جسم کو آرام ملتا ہے بالخصوص ریڑھ کی ہڈی کو جو زیادہ سے زیادہ تیزی اور استحکام کے ساتھ جسم کو حرکت کے قابل بناتا ہے۔
رقص کی حرکات اور جذبات کی ترسیل میں سانس اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سرگرمی 10.1: جمود اور حرکات میں سانس لینا
2. رقص کے عناصر
رقص جامد اور متحرک افعال کا مجموعہ ہے۔ رقص میں ایک حالت جمود کی اورایک حرکت کی
ہوتی ہے۔
کیفیات اور حرکات کو رقص کے مختلف متون میں بیان کیا گیا ہے اور ہر متن اپنی منفرد تشریح اور اصطلاحات پیش کرتا ہے۔
ناٹیہ شاسترکیفیات کو استھان اور حرکت کے طریقوں کو چاری، گتی اور منڈل کہتا ہے۔
سنگیت رتنا کار (بحر موسیقی) ہمیں اس کے مزید پہلو سے واقف کراتا ہے اور اس میں علاقائی تنوع یعنی ’دیشی‘ کو شامل کرتا ہے۔
ابھینے درپنم (حرکات وسکنات کا آئینہ ) کیفیات کو استھانک اور منڈل کہتا ہے اور چاری اور گتی کے طور پر حرکت کے طریقوں کو بیان کرتا ہے۔
تاریخی ادوار
ناٹیہ شاستر پانچویں صدی قبل مسیح میں بھرت منی نے لکھا تھا۔ یہ رقص اور رقص ڈرامے پر سب سے قدیم اور مستند متن ہے۔ یہ پہلا تحریری ریکارڈ ہے جس میں پرفارمنگ آرٹس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔ بھرت کے ناٹیہ شاستر کو 2025 میں اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کے میموری آف ورلڈ رجسٹر میں شامل کیا گیا۔
سنگیت رتنا کار 12ویں صدی عیسوی کے آس پاس شرنگا دیو نے لکھی تھی۔ سنگیت ایک جامع اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے صوتی موسیقی، آلات موسیقی اور رقص۔ یہ متن اس لیے خاص ہے کیوں کہ یہ قدیم تحریروں میں سے ایک ایسی تحریر ہے جس میں رقص پر ایک آزاد باب ہے۔ متن اپنی تمام یکساں طرزوں میں ناٹیہ شاستر کی پیروی کرتا ہے جسے مارگی کہا جاتا ہے اور مختلف علاقائی تنوع کو بھی بیان کرتا ہے جسے ’دیشی‘ کہا جاتا ہے۔
ابھینے درپنم نندی کیشور نے اسی وقت لکھا تھا جب سنگیت رتنا کار کی خصوصی طور پر رقص پر پہلی کتاب آئی تھی۔ یہاں تک کہ آج بھی رقص کے بہت سے انداز اس متن کا حوالہ دیتے ہیں۔
3. رقص میں آسن
ناٹیہ شاستر کے مطابق استھان تین قسم کے ہوتے ہیں — کھڑے، بیٹھے اور ٹیک لگائے ہوئے۔

کانسے کے ان خوب صورت مجسموں میں آسنوں پر غور کریں۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ مختلف آرٹ ایک دوسرے سے کس طرح مربوط ہیں؟
سرگرمی 10.2: آسنوں کے پوزبنائیں
اپنے آس پاس دیکھیں اورغور کریں کہ آسمان میں اڑتے پرندوں کو دیکھنا، پانی پینے، پڑھنے اور دوستوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کس طرح ہر شخص اپنے منفرد آسن یا کیفیت میں کھڑا ہوتا ہے۔
سرگرمی 10.3: کامل تصویر
4. رقص میں حرکت
رقص میں حرکت ایک بہت دل چسپ تصور ہے جہاں کوئی شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے آسن ، رفتار، توسیع، چھلانگ اور ایک پاؤں پر تیزی سے پلٹنے کی مختلف سطحوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس کا انحصار کردار کے مزاج اور احساس، کوریوگرافی کے انداز (جیسے دائروی یا سیدھی) یا دکھائے جانے والے عمل وغیرہ پر ہوسکتا ہے۔
رقص میں حرکت کے بے شمار طریقے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے ہر متن ہمیں متعددطرح کی جانکاری دیتا ہے۔
- ناٹیہ شاستر کے مطابق،
- چاری دو قسم کی ہیں — بھومی چاری جو کہ زمینی حرکتیں ہیں جہاں پاؤں زمین نہیں چھوڑتے اور آکاشی چاری جو ہوائی حرکتیں ہیں جہاں پاؤں زمین سے نکل جاتے ہیں۔ چاری کا امتزاج منڈل بناتا ہے۔
حرکت کرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں سوچیں جہاں آپ کے پاؤں زمین پر پھنس گئے ہیں جیسے پاؤں کو گھسیٹنا اور پھر ان طریقوں کے بارے میں سوچیں جہاں آپ کے پاؤں زمین چھوڑ دیتے ہیں جیسے چھلانگ لگانا، کودنا وغیرہ۔
- گتی سے مراد ڈرامے کے مختلف کرداروں کے لیے موزوں حرکت اور
چہل قدمی ہے۔
اس بارے میں سوچیں کہ مختلف کردار جیسے کہ ایک سپاہی، ایک بچہ، ایک ریچھ، ایک بندر وغیرہ کیسے چلتے ہیں۔
- ابھینے درپنم کے مطابق
- چاری سے مراد خود کو حرکت دینا یا اپنی جگہ سے ہٹانا ہے۔ یہ لفظ ‘چارا’ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے حرکت کرنا۔
- چلن — عام چال
- ویجنی — فوری قدم، تیز چال
- سرنم — وسیع چال
- کٹانم — تھاپ دیتی چال
- گتی جانور کی طرح ایک مخصوص چال ہے۔ رقاص جانور کی حرکت مجسم بناتا ہے۔ اسے یا تو جانور یا جانور کی خصوصیات کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چاری کی مثالیں (ابھینے درپنم سے)

گتی کی مثالیں (ابھینے درپنم سے)
مثال کے طور پر کیرالا کے ’کتھاکلی‘ رقص میں قدموں کے کناروں کو زور سے پٹخنے والے قدم (چاری) میں استعمال کیا جاتا ہے۔
جھارکھنڈ کے ’سر کیلا چھاؤ‘ رقص میں کئی چالیں جانوروں سے متاثر ہیں جیسے شیر، مور، بطخ، ہرن، ریچھ، بکری، مگرمچھ وغیرہ ( گتی)۔
ان حرکات کو QR کوڈ پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سرگرمی 10.4: حرکات کے انداز
استاد کے لیے نوٹ: استاد کہانی کے مطابق پس منظر میں مناسب موسیقی چلا سکتے ہیں۔
5. آسنوں اور حرکات کا امتزاج
ایک مکمل رقص آسنوں اور حرکات سے بنتا ہے جو بازوؤں کی حرکات اور ہاتھ کے اشاروں کے ساتھ مل کر ترتیب پاتا ہے۔
’ناٹیہ شاستر‘ میں ہاتھ اور پاؤں کی ہم آہنگ حرکت کو کارن کہا گیا ہے اور اس میں 108 کارنوں کا ذکر ملتا ہے۔
آپ نے ناچتے ہوئے شِو کے دھات سے بنے مجسمے دیکھے ہوں گے — یہ شبیہ دراصل ناٹیہ شاستر کے بھُجنگ تراسِت کارن نمبر 24 کی ہے۔
हस्तपादसमायोगो नृत्यस्य
करणं भवेत् ॥ ३०॥
ہست پاد سمایوگو نرتیَسیا کارنم بھوَت
رقص میں ہاتھ اور پاؤں کی مشترکہ حرکت کو
کارن کہا جاتا ہے۔
— شلوک نمبر 30، باب چہارم
از ناٹیہ شاستر
سرگرمی 10.5: سر سے پاؤں تک رقص
جائزہ
|
باب 10: رقص کی داخلی حرکیات |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
1 |
1.1 |
سانس کے کنٹرول کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے چاہے وہ جامد حالت میں ہو یا حرکت میں جو رقص میں بہائواور اظہار کو نکھارنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ |
|
|
|
1 |
1.1 |
استھان (ٹھہرائو)، چاری (ٹانگوں کی حرکت) اور گتی (چال) جیسے بنیادی تصورات کی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.1 |
روزمرہ زندگی میں دیکھی جانے والی حرکات کو تخلیقی طور پراستھان یا رقص کے آسن کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس طرح شکل اور عمل کے ربط کو سمجھتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.1 |
مختلف اقسام کی چاریوں (ٹانگوں کی حرکات) اور گتیوں (چالوں) کو پہچانتا اور ان میں امتیاز کرتا ہے اور رقص کی ترکیب (کوریاگرافی) میں ان کے استعمال کو سمجھتا ہے۔ |
||
|
1 |
1.2 |
رقص کی ترکیب میں مختلف پوز اور حرکات کے تعلق کو اچھی طرح سمجھتا ہے جس سے تخلیقی صلاحیت اور رقص کی اصطلاحات کی سمجھ کا اظہار ہوتا ہے۔ |
||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات



