11
ہندوستانی رقص کی شکلیں
(PAN INDIAN DANCE FORMS)
رقص ہندوستان کے ثقافتی ورثے اور تاریخ کا ایک
خوب صورت حصہ ہے!
ہندوستان کے آٹھ بڑے کلاسیکی رقص یہ ہیں:
رقّاص رقص کی بڑی شکلوں کے مختلف اندازوں کو پیش کرتے ہوئے
1. بھرت نا ٹیم
2. کتھک
3. کتھاکلی
4. کوچی پوڑی
5. منی پوری
6. موہنی یٹّم
7. اڈیشی
8. ستریہ
بھرت ناٹیم جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو کا رقص ہے۔ یہ رقص اپنےجیومیٹرک اور دل کش حرکات، مضبوط قدم،تال کی تھاپ، ہاتھ کے خوب صورت اشاروں اور چہرے کے تاثرات کے لیے مشہور ہے۔ اس رقص میں رقاص جذبات، موسیقی اور تال کے ذریعے کہانیاں سناتے ہیں۔بھرت نا ٹیم کی کئی روایتیں (بانیاں) ہیں جن میں تنجاور، پنڈانلور، وزھوور اور میسورو کے انداز خاص طور پر مشہور ہیں۔ تاہم دیگر بانیاں بھی اس فن کو مالا مال کرتی ہیں۔رقاص ایک خاص ادھ بیٹھ کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں جسے ارامَنڈی یاایات مَنڈلا کہا جاتا ہے جو ہیرے کی شکل جیسی نظر آتی ہے۔ وہ رنگ برنگی ریشمی ساڑھیاں پہنتی ہیں جن کے آگے کی جانب چُنّٹ ہوتی ہیں جو رقص کے دوران خوب صورتی سے پھیل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ مندر کے روایتی زیورات بھی پہنے جاتے ہیں۔

کتھک جس کا مطلب ہے ’کہانی سنانا‘ شمالی ہندوستان کا رقص ہے جو خاص طور پر اترپردیش اور راجستھان کے علاقوں سے وابستہ ہے۔ کتھک نے کہانی سنانے کے ایک فن کی شکل اختیار کی جس میں اظہاری اشارے، قدموں کی باریک تھاپ اور دل کش حرکات شامل ہیں۔رقاص اپنی تیز گردشوں، تال میل سے بھرے قدموں کی چاپ، ہاتھوں کے نازک اشاروں اور چہرے کے باریک تاثرات کے ذریعے ناظرین کو محو کر دیتے ہیں اور کہانیوں کو زندگی بخشتے ہیں۔کتھک کے کئی گھرانے ہیں جن میں لکھنؤ، جے پور، بنارس اور رائے گڑھ کے انداز خاص طور پر مشہور ہیں۔ تاہم دیگرگھرانوں نے بھی اس فن کو نکھارا اور مالا مال کیا ہے۔کتھک رقاص عام طور پر ایک خاص سیدھ میں کھڑے ہوتے ہیں جسے سم استھان کہا جاتا ہے اس میں دونوں پاؤں جڑے ہوتے یا ہلکے ’V‘ کی شکل میں رکھے جاتے ہیں۔لباس عموماًلمبےاور گھیر والے ہوتے ہیں جیسے انارکلی یا لہنگا۔ اس کے ساتھ دوپٹے بھی جو شمالی ہند کے روایتی کپڑوں سے بنے ہوتے ہیں۔
کتھاکلی کیرلاکا ایک روایتی رقص ہے جو بنیادی طور پر مرد کرتے ہیں۔ یہ ایک رنگین ڈرامے کی طرح ہے جہاں رقاص چہرے کے انداز، ہاتھ کے اشاروں اور جسمانی حرکات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی مہاکاویوں کی کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ اس کے دو انداز ہیں۔ شمالی انداز کو وڈاکن اور جنوبی انداز کو تھیکن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کتھاکلی میں بنیادی جز اتی منڈل ہے — یہ ایک گہرا، زمینی آسن ہے جس میں گھٹنے باہر کی طرف پھیلےہوتے ہیں اور پاؤں بائیں طرف مضبوطی سے الگ الگ رہتے ہیں۔ رقاص چمک دار ملبوسات اور بڑے مکٹ پہنتے اور بھاری میک اپ کرتے ہیں۔ ان کے چہرے کے کرداروں کے اعتبار سے رنگے ہوتے ہیں۔ جیسے ہیرو کے لیے سبز اور ولن کے لیے سرخ، وغیرہ۔ جذبات کا اظہار کرنے کے لیے چہرے کے ہر حصے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ رقص طاقت ور پوز اور آنکھوں کی حرکات سے بھرپور ہوتا ہے۔
کچی پوڑی،آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا رقص ہے۔ اس رقص کا نام کچی پوڑی گاؤں سے اخذ کیا گیا ہے جو آج بھی کئی روایتی رقص گھرانوں کا مرکز ہے۔ جیسے کہ ویمپتی، ویدانتم، پسومارتھی کا بھگوتلا اور دیگر۔ انھوں نے نسل در نسل اس قیمتی ورثے کو محفوظ رکھا اورنئی نسلوں کو منتقل کیا ہے۔ یہ ڈانس ڈراما کی ایک بڑی روایت کی پیروی کرتا ہے۔ یہ اظہاری رقص کے ساتھ واچیکا ابھینے (بولے ہوئے لفظ) کے انضمام کے لیے مخصوص ہے۔ یہ اپنی فطرت میں اکثر تھیٹریکل ہوتی ہے ۔ اس میں اداکاری کے عناصربھی شامل ہوتے ہیں اور بعض اوقات رقاص پیتل کی پلیٹ قابل ذکر توازن اور مہارت کے ذریعے پیچیدہ رقص کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہ روایتی طور پر صرف مردوں کے ذریعہ پیش کیا جاتا تھا جو اکثر ڈانس ڈراموں میں مرد اور خواتین دونوں کے کرداروں کو پیش کرتے تھے۔ اس کا بنیادی عنصر بھارت ناٹیم کی ارامنڈی جیسا ہے لیکن کم گہرا ہے۔ یہ رقص اپنی تیز رفتاری، کولھے کی حرکت، چھلانگ، مجسمہ جیسا ساز پوز اور رفتار کے لیے مخصوص ہے۔ رقاص آسانی سے حرکت کرنے کے لیے ریشم کے کپڑے پہنتے ہیں جس میں ایک خوش نما لٹک ہوتی ہے جسے گوچی کٹو کہتے ہیں۔ وہ مندر کے روایتی زیورات بھی پہنتے ہیں۔
منی پوری شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست منی پور کا ایک کلاسیکی رقص ہے۔ یہ رقص نرم، ملائم اور بہاؤ والا ہوتا ہے۔ اس کی حرکات ہموار اور گولائی لیے ہوتی ہیں جیسے کہ رقاص پھسلتے ہوئے حرکت کر رہے ہوں۔ رقاص ہمیشہ پُرسکون اور مطمئن نظر آتے ہیں۔اس رقص میں راس لیلا (کرشن کی کہانیاں) اور لائی ہراوبا کی روایتی حرکات شامل ہیں۔ منی پوری رقص میں سنکیرتن بھی شامل ہے جو جھانج اور ڈھول کے ساتھ پیش کیا جانے والا روحانی موسیقی اور رقص ہے اور اکثر مندر کی رسومات کا حصہ ہوتا ہے۔ایک خاص رقص پُنگ چولم کہلاتا ہے جس میں رقاص ڈھول بجاتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔ یہ بہترین مہارت اور ہم آہنگی کا مظاہرہ ہے۔رقاص عام طور پر پاؤں ساتھ رکھ کر گولائی میں حرکت کرتے ہیں اور زمین پر زور دار تھاپ نہیں مارتے۔اس رقص کا مشہور لباس پولوئی ہے — ایک سخت، رنگین گھیر دار لباس جس کے ساتھ دوپٹہ اور خوب صورت زیورات پہنے جاتے ہیں۔ مرد حضرات خاص طور پر پنگ چولم یا راس کے دوران سفید دھوتی اور پگڑی پہنتے ہیں۔
موہنی یٹم کیرلا کا ایک دل کش رقص ہے جو ابتدا میں صرف خواتین پیش کیا کرتی تھیں۔ یہ رقص نرم، رواں اور جذبات و عقیدت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں جسم کے بالائی حصے کی نرم حرکات اور نازک قدموں کا استعمال کر کے ایک خوب صورت اور شاعرانہ انداز پیدا کیا جاتا ہے۔اس رقص کی دو بڑی روایتیں ہیں:کلامنڈلم اور کلاینی کٹی امّا۔ رقاص اپنی حرکات میں مختلف سطحوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے ارامَنڈل، چتور منڈل اور اَتِی منڈل۔وہ خوب صورت سفید یا کریم رنگ کی ساڑھیاں پہنتی ہیں جن کے کنارے پر سنہری باریک پٹی (کساوو) لگی ہوتی ہے اور ساتھ میں روایتی زیورات بھی پہنے جاتے ہیں۔
اڈیشہ مشرقی ہندوستان کی ریاست اڑیسہ کا رقص ہے۔ اس رقص میں اڑیسہ کے مندروں کے مختلف مجسماتی پوز کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کی حرکات نرم اور بہاؤ والی ہوتی ہیں جن میں آہستہ آہستہ گھومنا اور دل کش قدم تال شامل ہیں۔یہ فن دراصل مہاریوں (اڑیسہ کی دیوداسیاں) اور گوٹی پوا (لڑکوں کے گروپ جو لڑکیوں کا روپ دھار کر بھگوان وشنو کے لیے رقص کرتے تھے) سے ماخوذ ہے۔اس رقص کی ایک خاص پہچان تربھنگ پوز ہے جس میں جسم تین حصوں میں جھکتا ہے: سر، دھڑ اور کولھا۔ رقاص اکثر ایک چوکور اور آدھے بیٹھنے والے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں جسے چوکا کہا جاتا ہے۔لباس میں روایتی کپڑے شامل ہیں جنھیں پٹ ساڑی (ریشم) کہا جاتا ہے جن کے آگے پنکھے کی شکل کی چُنّٹ ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ خوب صورت چاندی کی زردوزی، زیورات اور ایک پھول نما جوڑا پہنا جاتا ہے جسے تہیا کہا جاتا ہے۔
ستریہ آسام کا کلاسیکی رقص ہے جو سب سے پہلے مٹھوں میں، جنھیں سترا کہا جاتا ہے، پیش کیا جاتا تھا۔ اس رقص میں طاقت ور اور نرم حرکات کا امتزاج ہوتا ہے۔ اس میں حقیقی حرکات جیسے کھانا کھانے، لڑنے یا محبت جتانے کے اظہار کے ذریعے کہانیاں سنائی جاتی ہے۔رقاص اپنے بالائی جسم سے اظہار کرتے اور زیریں جسم سے تال پیدا کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف مرد بیراگیوں (بھوکوتوں) کے ذریعے پیش کیا جاتا تھا لیکن بعد میں خواتین اور عام لوگ بھی کرنے لگے۔اس رقص میں گروہی پیٹرن جیسے سرپ اور مختلف پیش کش شامل ہیں جیسے سوتر دھاری رقص اور گرپیر ناچ ۔ رقاص چونسٹھ بنیادی مشقوں میں تربیت حاصل کرتے ہیں جنھیں مَتی-اکھورا کہا جاتا ہے۔لباس آسام کے ریشم سے بنتا ہے جسے پٹ کہا جاتا ہے۔ ان پر روایتی مقامی ڈیزائن اور زیورات ہوتے ہیں۔ مرد عموماً دھوتی اور عورتیں اسکرٹ نما لباس پہنتی ہیں جو پرانے بیراگیوں کے ملبوسات سے مشابہ ہوتا ہے۔ اس کے دو بنیادی آسن ہیں: پُرش (مردانہ) اور پراکرتی (زنانہ)۔
ہندوستان کے آٹھ بڑے کلاسیکی رقصوں سے وابستہ چند نامور شخصیات یہ ہیں:
جب بھی ممکن ہو براہِ راست یا ریکارڈ شدہ رقص کی پیش کش دیکھیں
سرگرمی 11.1: رقصی خاکہ
رقص کی دیگر روایتیں
آٹھ بڑے کلاسیکی رقصوں کے علاوہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں بے شمار لوک رقص بھی پائے جاتے ہیں۔ عقائد، رسومات، فنونِ لطیفہ اور برادریوں کی علامتیں مخصوص سماجی تناظر اور مقامات میں جڑ پکڑتی ہیں۔ یہ روزمرہ کی یکسانیت بھری سرگرمیوں میں رنگ بھر دیتی ہیں۔ ہر فن اپنے مخصوص سماجی و ثقافتی ماحول میں پیدا ہوتا اورپرورش پاتا ہے اور اس کی اپنی ایک کہانی اور تاریخ ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ اگرچہ لوک روایات میں تبدیلیاں آئیں لیکن ان کی بنیادی لچک نے انھیں صنعت کاری اور شہری زندگی کے مطابق ڈھلنے میں مدد دی ہے۔
دو خطوں ناگالینڈ اورچھتیس گڑھ — کے رقص اور ان کی اہم شخصیات کی تفصیل ذیل میں درج کی گئی ہیں۔
ناگالینڈ کے’آئو‘ (AO) قبیلے کا لوک رقص
ناگالینڈ کے شمال مشرقی حصے کا’آئو‘ ناگا قبیلہ فصل کاٹنے، جنگل جلانے اور بیج بونے کی سخت محنت کے بعد موتسو مونگ تہوار کو خوشی اور تفریح کے موقع کے طور پر مناتا ہے۔ اس موقع پر رنگ برنگے گیت، رقص اور میلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ایک اور اہم تہوار سنگرم مونگ فصل کی کٹائی سے قبل منایا جاتا ہے جس میں عظیم ترین طاقت کے حضور شکرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر بھی وہ خوب صورت لباس میں، گیت گاتے اور رقص کرتے ہیں۔’آئو‘ ناگا قبیلے کے لباس کی ایک زرخیز روایت ہے جس میں عام افراد اور جنگجوؤں کے ملبوسات میں فرق ہوتا ہے۔ ’آئو‘ جنگجو کو ’منگ کوٹپسو‘ کہا جاتا ہے۔ناگالینڈ کے دیگر قبائل میں سومی قبیلہ جنگ میں فتح کے جشن کے لیے جوشیلا سومی وار ڈانس پیش کرتا ہے جبکہ لوتھا خواتین ٹوکھو ایمُونے تہوار کے دوران فصل کا جشن منانے کے لیے مُنگیانتا رقص کرتی ہیں۔ناگالینڈ تقریباً 30 روایتی رقصوں کا گڑھ ہے جن میں سانگٹم وار ڈانس، ہارن بل ڈانس، چَنگ لو اور بٹر فلائی ڈانس شامل ہیں اور یہ تمام وہاں کی مقامی برادریوں کی ثقافتی رنگا رنگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کمیونٹی کے رقص میں نمایاں خدمات انجام دینے والی ایک اہم شخصیت سانگیوسانگ پونگن ہیں جو ’آئو‘ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ناگالینڈ کے ’آئو‘ قبیلہ کالوک رقص اور موسیقی
چھتیس گڑھ کے روایتی رقص
ہندوستان کا یہ خطہ ایک جان دار ثقافت رکھتا ہے جس کے متنوع رقص اس کے منفرد ورثے اور فطرت سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ رقص عام طور پر تہواروں، فصل کی کٹائی اور رسومات کے دوران پیش کیے جاتے ہیں۔ چھتیس گڑھ کی ستنامی برادری میں مشہور پنتھی رقص میں مردوں کے گروہ مندار ڈھول اور جھانجھ کی تھاپ پر قطاروں میں رقص کرتے ہیں۔گؤڑ ماریا رقص بستر کے بائسن ہارن ماریا قبیلے کا ہے جسے مرد اور عورت دونوں مل کر پیدائش اور شادی جیسے مواقع پر پیش کرتے ہیں۔دیگر مشہور رقصوں میں فصل کے وقت دیوی کرما کی تعظیم میں کیا جانے والا کرما رقص ہے ۔ فصل اور دیوالی کے مواقع پر خواتین پر سُووا ڈنڈا یا طوطا رقص پیش کرتی ہیں اور گونڈ قبیلے کا گیدی رقص بھی مشہور ہے، جس میں رقاص بانس کی اونچی پٹّیوں پر ناچتے ہیں۔یہ خطہ بہت سے پُر اثر رقص اور موسیقی کی روایات کا حامل ہے۔
بَستر بینڈ، بَستر
ممتا چندراکر ایک ممتاز شخصیت ہیں جنھوں نے چھتیس گڑھ کے مقامی رقصوں کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انھیں سنگیت ناٹک اکادمی اور پدم شری اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔
سرگرمی 11.2: رقص بہ طور علم، رقص بہ طور تجربہ
جائزہ
|
باب 11: ہندوستانی رقص کی شکلیں |
||||
|
سی جی |
سی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
2 |
2.2 |
کارکردگی میں نرتّا (خالص رقص) اور نرتیہ (اظہاری رقص) کے عناصر کو الگ الگ پہچانتا ہے نیز ان کی منفرد خصوصیات اور مقاصد کی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ |
|
|
|
4 |
4.1 |
بھارت کے آٹھ بڑے رقصوں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی اور روایتی رقصوں کے بارے میں سیکھنے کی خواہش اور جوش کا مظاہرہ کرتا ہے۔ |
||
|
4 |
4.2 |
رقص کے شعبے میں نمایاں شخصیات اور ان کے کردار و خدمات کے بارے میں سیکھنے میں تجسس اور دل چسپی ظاہر کرتا ہے۔ |
||
استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات







