Skip to content
Qr







13

جدت، شمولیت اور متاثر کن تبدیلی (INNOVATION, INCLUSIVITY AND INSPIRING CHANGE)


dance_CIRCLE

1. رقص میں جدت

کسی درخت کی جڑیں جتنی گہری ہوتی ہیں اس کی شاخیں اتنی ہی بلند ہوتی ہیں۔ اسی طرح جتنا زیادہ آپ کو اپنے رقص کی روایات کا گہرا علم حاصل ہوگا اتنا ہی زیادہ آپ تخلیق اورجدت پیدا کر سکیں گے۔

آپ اگر اپنے اردگرد دیکھیں توہر جگہ آپ کو حرکت اور رِدھم (آہنگ) نظر آئے گا۔ پرندوں کا پر پھڑپھڑانا، پتوں کا کانپنا، گھاس کا جھولنا، جھاڑو کا صفائی کرنا، چائے کے پتے توڑنا — یہ سب حرکات ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی سرگرمی کو منتخب کیجیے تو آپ اپنی سیکھی ہوئی چیزوں کی بنیاد پر اس پر ایک نئی حرکت تخلیق کر سکتے ہیں۔

ہر رقاص رقص میں جدت کے امکانات لاتا ہے۔ رقص میں مضبوط بنیاد، مشاہدات، تجربات اور آپ کے اصل خیالات مل کر آپ کے رقص کو انوکھاپن بناتے ہیں۔

رقص میں دیگر متعلقہ فنون کا انضمام

جدت میں ایک قدم آگے بڑھنا یہ ہے کہ رقص میں دیگر متعلقہ فنون جیسے مارشل آرٹس کو شامل کرنا ہے ۔

ہندوستان کے کچھ ایسے روایتی کھیل اور مارشل آرٹس کی روایات ہیں جو اپنی ٹریننگ میں حرکات کا تسلسل رکھتے ہیں جنھیں متعدد فن کاروں نے تخلیقی طور پر رقص میں شامل
کیا ہے۔ آپ نے چھاؤ (Chhau) کے بارے میں سیکھا ہے جو پھاری کھنڈا کے روایتی مارشل آرٹس کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

IMG_8413

مارشل آرٹس کے ساتھ رقص میں جدت

اب آپ دو دیگر مارشل آرٹس کی صورتوں کے بارے میں جانیں گے جنھیں آج کے دور میں تخلیقی طور پر رقص کی ترقی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

1 کلاری پایتو (KALARIPAYATTU): یہ کیرلا کی مشق ہے اور دنیا کی قدیم ترین مارشل آرٹس کی شکلوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق یہ عظیم رِشی پرشورام سے منسوب ہے جنھیں کیرلا کا بانی مانا جاتا ہے۔ حالیہ تحقیق اسے سنگم دور (600 – 300 قبل مسیح) سے جوڑتی ہے۔ یہ دفاعی طریقۂ کار کے طور پر تیار ہوا۔ اس کی تربیت آیوروید کے سائنسی ’مرم‘ علم پر مبنی ہے اور اس میں جانوروں کی حرکات اور چال پر مبنی جسمانی حالتیں اور حرکات شامل ہیں۔

To_be_used_Kalari

کھلاڑی پایتو

2. تھانگ -تا (THANG-TA): یہ منی پور کی مارشل آرٹس کی مشق ہے۔ اس لفظ کا مطلب ہے ’’برچھی اور بھالے کا فن‘‘۔ یہ اندرونی توانائیوں کو بیرونی حرکات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے اور سانس کے آہنگ پر قابو رکھتے ہوئے مختلف طرح کی حرکات کو پیش کرتا ہے۔ اس کی مشق میں رسوم و رواج بھی پائی جاتی ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ میتئی قوم کی تمام حرکات کی ابتدا تھانگ -تا سے ہوئی ہے۔

Thangta_1

تھانگ-تا

رقص میں مارشل آرٹس کا استعمال: چندرلیکھا وہ پہلی مشہور رقاصہ اور کوریوگرافر تھیں جنھوں نے اپنی کوریوگرافیوں اور پروڈکشنز میں کلاری پایتو اور یوگ کو بھارت ناٹیم کے ساتھ ملایا۔

سرگرمی 13.1: دیکھو اور سیکھو

اوپر بیان کیے گئے مارشل آرٹس کی ایک یا دو حرکات کی مشق یا تو کسی فن کے ماہر کے ساتھ کیجیے یا پھر کیو آر کوڈ سے استاد کی رہنمائی اور نگرانی میں کیجیے۔

IMG_8446

استاد کے لیے نوٹ: یہ سرگرمی چھوٹے گروپوں میں کرانا بہتر ہے۔.

جدت کی مثالیں

کئی رقص کے فن کاروں نے اپنے رقص کی صورتوں کے ذریعے عصری کہانیاں سنانے اور موجودہ حالات کو پیش کرنے کے لیے تجربات کیے ہیں۔ بھارت میں جدید رقص کی ترقی کے دو پیش رو فن کاروں کے بارے میں آپ نے گریڈ 7 میں پڑھا تھا۔ اس تسلسل میں بہت سے دیگر رقاص اور ادارے بھی ہیں جنھوں نے تخلیقی حرکات کے ذریعے کوریوگرافی تیار کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی رقص کی زبان استعمال کرتے ہوئے آج کی کہانیاں رقص کے ذریعے پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اُن متعدد فن کاروں میں سے چند کے نام ذیل میں مذکور ہیں جنھوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو تخلیقی کوریوگرافی کے لیے سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔


نریندر شرما نے اپنےنظریات کو وسعت دی اور تخلیقی رقص کی ترقی میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ وہ اُدے شنکر کے سینئر ترین شاگردوں میں سے ایک تھے۔ ان کی متعدد کوریوگرافیاں اور رقص و ڈرامے سماجی طور پر اہم اور عصری حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ بچوں کے لیے صحت مند آزاد رقص کی حرکات تخلیق کرنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں جس میں ان کی کوششیں رقص کی تعلیم کے ادارہ جاتی فروغ کے ساتھ نمایاں طور پر کامیاب ثابت ہوئیں۔ انھوں نے 04 سے زائد شان دار اور طبع زاد تخلیقات پیش کیں جن میں نمایاں پروڈکشنزکامائینی (1970)، وولف بوائے (1977)، انتم ادھیائے (1985) اور گاندھی (2007) شامل ہیں ۔ ان تخلیقات کو ان کے اختراعی موضوعات اور کوریوگرافی کی اعلیٰ کارکردگی کے باعث خوب سراہا گیا۔


آچاریہ پروتی کمار ایک رہنما رقص کوریوگرافر تھے جنھوں نے ڈسکوری آف انڈیا، رِدَم آف کلچر اور دیکھ تیری بمبئی جیسے رقص ڈراموں کے لیے کوریوگرافی کی۔ انھوں نے مختلف ہندوستانی رقص اسالیب کو ان میں خوب صورتی سے یکجا کیا اور روایتی رقص کی صورتوں کے ذریعے عصری تصورات کو پیش کیا۔ مثال کے طور پر انھوں نے کتھک کے پاؤں کی ٹھک ٹھک سے ڈبہ والوں کے شہر بھر میں کھانے کی ترسیل کا منظر تخلیق کیا اور پولیس و چور کی دوڑ کو کھیل‘ ہُو-تو-تو’ کے ذریعے دکھایا۔روایتی رقص کے میدان میں وہ واحد رقص گرو تھے جنھوں نے بھوسلے خاندان کے راجا سرفوجی دوم کی مراٹھی تخلیقات پر بھرت ناٹیم میں تحقیق اور کوریوگرافی کی۔ مزید یہ کہ انھوں نے تھیوری اور پریکٹس کے درمیان فاصلے کو کم کیا اور رقص کے متن ابھینے درپنم کو ایک آڈیو-ویژول شکل میں کوریوگراف کیا۔

7_PARVATI_KUMAR

چندرلیکھا اُن اوائل رقاصاؤں میں سے ایک تھیں جنھوں نے روایتی اسالیب میں ڈرامائی تبدیلیاں کیں اور مختلف ہندوستانی رقص، یوگ اور کلاری پایتو کو فلسفے اور ادب کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ اپنی تخلیق انگیکا میں انھوں نے بھرت ناٹیم کے روایتی لغت کو ابھینے درپنم کے اصولوں کی بنیاد پر پیش کیا اور اس میں کلاری پایتو کو شامل کیا۔ لیلاوتی بھاسکراچاریہ کی ریاضیاتی تصنیف پر مبنی تھی جسے انھوں نے رقص میں اعداد، فطرت اور تخیل کے ساتھ کوریوگراف کیا۔ پرَان یوگ اور سانس پر مبنی رقص تھا۔انھوں نے مغربی جدید رقاصوں اور اداکاروں کے ساتھ بھی تجرباتی تخلیقات پر کام کیا۔ انھوں نے رقص پر فلمیں بھی بنائیں اور اس موضوع پر لکھا بھی۔ ان کی فلموں میں دی مِتھ آف وومن (1976) اور ہست (1985) شامل ہیں۔

6_CHANDRALEKHA

Kumudini_Lakhia

کمودنی لاکھیا مشہور کتھک رقاصہ اُن شخصیات میں سے تھیں جنھوں نے ایک نیا زاویہ متعارف کرایا۔ وہ ایک پیش رو کتھک رقاصہ اور کوریوگرافر تھیں جنھوں نے کتھک کے روایتی انفرادی انداز کو بدلتے ہوئے گروپ کوریوگرافی اور عصری موضوعات کو شامل کیا۔ روایتی ذخیرے سے آگے بڑھتے ہوئے انھوں نے سوال کیا: ’’اب میں یہاں سے کہاں جاؤں؟‘‘۔

اس طرح اُن کی پہلی انقلابی کوریوگرافی اتاہ کِم وجود میں آئی۔ دیگر تخلیقی رقص پروڈکشنز میں دھبکار (نبض)، دی کوٹ اور فیدرڈ کلاتھ (ہاگورومو) شامل ہیں۔ اُن کی رقص
کو ریوگرافی میں اکثر تجریدی اور بیانیہ اسالیب کا امتزاج ملتا ہے جو عموماً عصری موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔

Atah-Kim_by_Kumudini_Lakhia_(4)

سرگرمی 13.2: موجودہ وقت میں رقص

ایک تازہ موضوع جو سماجی اہمیت کے حامل جیسے ماحولیات اور صفائی یا ماحولیاتی تبدیلی کا انتخاب کیجیے اور اپنا تخلیقی رقص تیار کیجیے۔گانے کی مثال — سوچھ بھارت گیت۔

Screenshot 2025-12-29 at 16-07-18 4879-Kriti - Textbook of Arts - Urdu Grade 8.pdf

استاد کے لیے نوٹ: کوئی ایسا گانا تجویز کیجیے جو مقامی علاقے سے وابستہ ہو یا جس سے طلبا پہلے سے واقف ہوں۔

2. رقص میں شمولیت

رقص میں شمولیت آج کے معاشرے کا ایک لازمی پہلو ہے۔

بیش تر رقّاص ایسے کام تخلیق کر رہے ہیں جو سب کے لیے قابلِ رسائی ہوں بشمول ان افراد کے جو مختلف صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ رقص کے اساتذہ ہر عمر اور ہر صلاحیت کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور بغیر کسی رکاوٹ یا جھجک کے سبھی لوگوں تک رقص کی خوشی پہنچاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ قومی ٹیلی ویژن اور اہم پلیٹ فارم پر معذور افراد کی رقص پیش کش بھی دیکھتے ہیں۔

رقص کے لیے صنف کی قید نہیں ہے۔ رقص کی ان روایات نے جو زیادہ تر مرد فن کار پیش کرتے تھے، اب خواتین کے لیے بھی اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ زیادہ تر
لوک رقصوں میں مرد اور عورت دونوں ساتھ رقص کرتے ہیں۔ اس میں کوئی صنفی تفریق نہیں۔

رقص کی خوب صورتی سب کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت میں ہے ۔ یہی اس کی شمولیت ہے۔

آپ کے لیے شمولیت کا کیا مطلب ہے؟

سرگرمی 13.3: سب کے لیے رقص

اپنے رقص کو ان افراد کے لیے بھی قابل رسائی اور خوشگوار بنانے کے طریقوں کے بارے میں سوچیں جو معذور ہیں۔

26 جنوری 2025 کو ہندوستان کے 76 ویں یوم جمہوریہ پر وزارتِ ثقافت نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا — اس موقع پر ایک ہی مقام پر سب سے بڑے گروپ لوک اور قبائلی فنکاروں کے اجتماع کے لیے ہندوستان بھر سے000 , 5سے زیادہ لوک اور قبائلی فن کاروں کو اپنی پیش کش کے لیے نئی دہلی کے کرتویہ پتھ پر جمع کیا گیا۔یہ تاریخی تقریب نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا باعث بنی بلکہ شمولیت کی علامت بھی بنی۔ کیونکہ مختلف ثقافتی اور قبائلی پس منظر کے فن کار ایک ہی اسٹیج پر جمع ہوئے اور تنوع کے ذریعے اتحاد کا جشن منایا۔

60792428800

ہندوستان کا 67 واں یوم جمہوریہ

سرگرمی 13.4: متاثر کُن تبدیلی

رقص کی طاقت

ہندوستان کی تحریک آزادی کے دوران گانے اور رقص نے ہر کسی کو متاثر کیا۔ صنفی امتیاز سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی تک رقص کو پیچیدہ موضوعات کی ترسیل اور غور و فکر پیدا کرنے والی گفتگو شروع کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔

مثال کے طور پر JNMDA نے، جو امپھال میں منی پوری رقص کا ممتاز ادارہ ہے، 1985 میں اپنی کوریوگرافی Keibul Lamjao پیش کی جو ایم کے بنودینی دیوی کی اسکرپٹ کے ماحولیاتی پیغام پر مبنی تھی اور اس میں سنگائی ہرن کے تحفظ کو دکھایا گیا۔

sangai_deer

سنگائی ہرن

رقص آپ کو مختلف انداز میں سوچنے، سیاق سے باہر سوچنے اور دنیا کو زیادہ ہمدردی اور محبت کے ساتھ دیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔

آپ اپنے رقص کے ساتھ کون سی تبدیلیاں لا سکتے ہیں؟

Screenshot 2025-12-30 at 14-52-41 4879-Kriti - Textbook of Arts - Urdu Grade 8.pdf

سرگرمی 13.5: رقص میں صنف کی قید نہیں

آج کل بہت سے ٹرانس جینڈر فن کار رقص پیش کر رہے ہیں۔ ایک ٹرانس جینڈر فن کار پر تحقیق کیجیے اور اسے ایک جرنل میں پیش کیجیے۔

جائزہ

باب 13: جدت، شمولیت اور متاثرکُن تبدیلی

سی جی

سی

آموزشی ماحصل

استاد

خود

2

2.1

اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مماثلت رکھنے والی شکلوں جیسے مارشل آرٹس کو رقص میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے اور وضاحت
کرتا ہے کہ یہ رقص کے اور جسمانی پہلوؤں کو کس طرح بہتر بناتا ہے۔

2

2.1

معاصر سماجی یا ثقافتی مسائل کی تحقیق کرتا ہے اور انھیں موضوعاتی رقص کمپوزیشنز کے ذریعے بیان کرتا ہے جو ذاتی بصیرت اور تنقیدی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔

2

2.1

تجسس اور کھلے ذہن کا مظاہرہ کرتا ہے کہ کس طرح شمولیت کو مختلف شعبوں اور برادریوں میں رقص کی متنوع مشقوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

3

3.1

اختراعی کوریوگرافی کے بارے میں تجسس کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے کوریوگرافی کے کام میں نئے پن اور تخلیقی حرکتوں کے تمام اسالیب کے ساتھ فعال تجربات کرتا ہے۔

4

4.2

آزادانہ تحقیق کرتا ہے اور ایک ٹرانس جینڈر رقص فن کار پر جرنل یا کیس اسٹڈی پیش کرتا ہے جس میں اس میدان میں اس کے تعاون اور رقص میں تنوع کو فروغ دینے میں اس کی شراکت کا تنقیدی تجزیہ کیا جاتا ہے۔

استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات