Skip to content
Qr







14

رقص اور کوریوگرافی کی پیش کش (A PRESENTATION OF DANCE AND CHOREOGRAPHY)


dance_CIRCLE

اب آپ ناٹیہ شاستر اورابھینے درپنم سے واقف ہو چکے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب یہ لکھے گئے تھے تو اس وقت رقص کو عموماً نرت اور نرتیہ یا نرتنا کہا جاتا تھا جب کہ رقص ڈراما کوناٹیہ کہا جاتا تھا۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ رقص کی ابتدا کیسے ہوئی؟

اگر آپ کو گریڈ 6 کی آرٹس کی نصابی کتاب (تھیٹر) کا حوالہ دیں تو آپ کو پرفارمنگ آرٹس کے آغاز کے بارے میں ایک
دل چسپ کہانی یاد آئے گی۔ اسی طرح آپ ابھینے درپنم سے رقص کی ابتدا کے بارے میں بھی جانیں گے۔


192c

کہا جاتا ہے کہ برہم دیو نے چار ویدوں سے ماخوذ کرکے ناٹیہ شاستر بنایا جسے اکثر پانچواں وید کہا جاتا ہے۔


193c

برہما دیو نے ناٹیہ وید ایک رشی بھرت منی کو عطا کی جنھوں نے نرت، نرتیہ اور ناٹیہ کے تینوں پہلوؤں کا مطالعہ کیا اور مہارت حاصل کی۔


بھرت منی نے اپنے گندھروو (آسمانی موسیقاروں) اور اپسراؤں (آسمانی رقاصاؤں) کے ساتھ اپنا پہلا رقص پیش کیا۔

اس وقت عظیم رقاص مہادیو بھی ناظرین میں موجود تھے۔

197c_shiv01_-_Final

sadhu_dance

وہ اس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے بھرت منی کو اپنے بہترین گنوں (خادموں) کے ساتھ اس سخت اور پرجوش رقص کی شکل کا جسے تانڈُوکہا جاتا ہے، خصوصی درس دیا۔مہادیو کے گان تانڈُو (Tandu)نے رشیوں کو تانڈو سکھایا اور رشیوں نے اسے انسانوں کو سکھایا۔


FEMALE_DANCER_2

دوسری طرف دیوی پاروتی نے بھرت منی کو رقص کی زیادہ نفیس اور لطیف شکل جسے لاسیہ کہا جاتا ہے کی تربیت دی۔


دیوی پاروتی نے راجا بان کی بیٹی اوشا کو بھی لاسیہ رقص سکھایا۔ اور اوشا نے یہ رقص دوارکا کی گوپیوں (گوالنوں) کو سکھایا پھر انھوں نے اسے سوراشٹر کی عورتوں کو سکھایا۔

یوں آہستہ آہستہ زیادہ لوگو ں نے رقص سیکھا اور اسی طرح رقص زمین تک پہنچا۔

33

ہندوستانی رقص کی شکلوں میں کہانی سنانے کی روایات بہت مفید ذرائع ہیں۔ پرانوں، جاتک کتھاؤں اور پنچ تنتر وغیرہ کی کہانیاں ایسے بیانیے پیش کرتی ہیں جو بصری طور پر نہایت دل کش منظرنامے تخلیق کرتے ہیں اور ان میں گہرا اخلاقی پیغام بھی ہوتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مطابق اگر انھیں سمجھا اور پیش کیا جائے تو یہ کہانیاں آج کے دور میں بھی
موزوں ہیں ۔

آپ نے بصری آرٹ میں گنگا کے آسمان سے زمین پر اترنے کی کہانی پڑھی ہے۔ یہ ایک طاقت ور داستان ہے جو زمین پر زندگی کو سہارا دینے میں دریاؤں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کہانی کو مزید گہرائی سے پڑھیں تو احساس ہوگا کہ ا س میں بہت گہرا مفہوم ہے اور یہ اقدار سکھاتی ہے۔

یہ کہانی نمایاں کرتی ہے:

  • ایک عورت کی طاقت اور عزم یعنی دیوی گنگا ۔
  • کس طرح فطرت کے مختلف عناصر بشمول دیوتا مل جل کر اچھے کام کرتے ہیں جیسے مہادیو نے گنگا کو زمین پر اتر نے سے پہلے اس کو اپنی طاقت کو قابو کرنے میں مدد کی۔
  • راجا بھاگیرتھ کو غیر متزلزل ایمان اور ثابت قدمی کی شان دار مثال کے طور پر۔
  • موجودہ دور میں دریاؤں کی حالتِ زار اور اس کی آلودگی کو۔
  • یہ پیغام کہ دریاؤں کا احترام کیا جانا چاہیے اور انھیں صاف اور پاکیزہ رکھا جانا چاہیے۔

اگر آپ کو یہ کہانی ایک رقص کی شکل میں پیش کرنی ہو تو آپ کس طرح پیش کریں گے؟

کسی زمانے کا رقص… اپنا رقص پروڈکشن تخلیق کیجیے

کسی دیومالائی کہانی یا تاریخی قصے کے بارے میں سوچیے جسے آپ موجودہ زمانے میں پیش کر سکیں۔ اسے موجودہ دور کے تناظر میں بیان کیجیے اور ایک رقص کی شکل میں پیش کرنے کی منصوبہ بندی کیجیے۔

پہلا مرحلہ: منصوبہ بندی اور پروڈکشن سے پہلے کی تیاری

ان خیالات پر غور کرنے کا وقت!

1. موضوع اور کہانی

  • آپ کی پیش کش کس چیز کے بارے میں ہے؟
  • کوئی دیومالائی قصہ، افسانہ یا تاریخی کہانی منتخب کیجیے اور اسے آج کی دنیا کے مطابق نیا رنگ دیجیے۔
  • کیا آپ نئی اسکرپٹ لکھیں گے یا پہلے سے موجود اسکرپٹ کواستعمال کریں گے؟
  • کیا ہر رقص کہانی کا ایک حصہ بیان کرے گا؟
  • آپ کتنے رقص شامل کریں گے؟

2. رقص کا طرز اور گروپ

  • آپ کس طرز یا اندازکا رقص شامل کریں گے؟ اس بات کو یقینی بنایئے کہ وہ موضوع سے
    ہم آہنگ ہو۔
  • آپ کے پاس کتنے رقص کرنے والے گروپ ہوں گے اور ہر گروپ میں کتنے افراد ہوں گے؟
  • کیا آپ کوئی پراپس استعمال کرنا چاہیں گے؟

3. موسیقی کا انتخاب

  • ایسی موسیقی منتخب کیجیے جو آپ کے موضوع اور رقص کے انداز سے مطابقت رکھتی ہو۔
  • آپ ریکارڈ شدہ ٹریک استعمال کرسکتے ہیں، اپنی موسیقی تخلیق کرسکتے ہیں یا طلبا کے ذریعے براہِ راست موسیقی بھی شامل کرسکتے ہیں۔

4. کردار اور ذمہ داریاں

  • کوریوگرافر: رقص تیار کرتا ہے اور ریہرسل کی قیادت کرتا ہے۔
  • پرفارمرز: رقاص اور اداکار۔
  • ڈائریکٹر یا کوآرڈی نیٹر: سب کچھ منظم اورسلسلے وار طریقے سے چلاتا ہے۔
  • اسکرپٹ رائٹر: مکالمے اور بیانیہ لکھتا ہے۔
  • موسیقی ڈائریکٹر: موسیقی اور اثرات تخلیق کرتا ہے یا منتخب کرتا ہے۔
  • سیٹ اور اسٹیج ڈیزائنر: پس منظر اور پراپس تیار کرتا ہے۔
  • لائٹنگ اور تکنیکی عملہ: روشنی، آواز اور تکنیکی امور سنبھالتا ہے۔
  • لباس اور میک اپ ڈیزائنر: کرداروں کی ظاہری شکل تیار کرتا ہے۔
  • مارکیٹنگ ٹیم: شو کے بارے میں آگاہی پھیلاتی ہے۔

5. دوسرے مضامین سے استفادہ کیجیے۔

  • تھیٹر: اسکرپٹ لکھنے، اداکاری اور مکالموں کے لیے۔
  • بصری آرٹ: سیٹ ڈیزائن، لباس، میک اپ اور پراپس کے لیے۔
  • موسیقی: ساز، گانے اور پس منظراسکور کے لیے۔
  • ریاضی اور کمپیوٹنگ: بجٹ، وقت اور لائٹنگ کے اشاروں کی منصوبہ بندی۔

6. مقام اور تاریخیں

  • شو کہاں ہوگا؟ اسکول ہال، اسٹیج، یا کھلی جگہ پر۔
  • ریہرسل کا شیڈول اور پرفارمنس کی تاریخ مقرر کیجیے۔

مرحلہ 2: کوریوگرافی اور ریہرسل

1. کوریوگرافی کے مراحل

  • اپنی کہانی کو مناظر یا لمحات میں تقسیم کیجیے۔
  • ہرکردار یا منظر کے لیے حرکات اور جذبات متعین کیجیے۔
  • اپنے رقص کی صورتوں جیسے استھان، چاری، ہست سے عناصر شامل کیجیے اور تخلیقی رنگ بھریئے۔

سانس، تال (Rhythm) اور خاموشی کے بارے میں سوچیے؛ یہ سب کہانی کا حصہ ہیں۔

2. ر یہرسل اورکوریوگرافی کی تدریس

  • واضح مقاصد کے ساتھ باقاعدہ ریہرسل کا شیڈول بنایئے۔
  • رقص کو گروپ در گروپ سکھایئے۔
  • دل چسپ فارمیشن اور گروپ پیٹرن آزمایئے۔
  • اسٹیج پر آمد و رفت کو رواں اور مربوط رکھیے۔
  • رقص کو دیکھیے، جائزہ لیجیے اور جہاں ضرورت ہو اصلاح کیجیے۔

3. پروڈکشن ڈیزائن

  • پراپس، ملبوسات، روشنی اور ساؤنڈ کو حتمی شکل دیجیے۔
  • مکمل ملبوسات اور موسیقی کے ساتھ ڈریس ریہرسل کیجیے۔
  • تمام بیک اسٹیج عناصر کی مشق کے لیے ٹیکنیکل ریہرسل کیجیے۔

مرحلہ 2 کا زیادہ تر کام ایک ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ کسی بھی تخلیق سے پہلے منصوبہ بندی اور پیشگی پروڈکشن نہایت اہم ہیں۔ بالکل ایک تعمیراتی سائٹ کی طرح جہاں سب سے پہلے مضبوط بنیاد کھودی جاتی ہے۔ اگر آپ کی بنیاد مضبوط ہے تو پھر ڈھانچہ تعمیر کرنا آسان ہو جاتا ہے اور آپ مختلف اوقات میں خام مال پر کام کرکے بعد میں انھیں یکجا
کر سکتے ہیں۔

20250507_191817

مرحلہ 3: پرفارمنس

  • گرانڈ ریہرسل: بالکل ایک مکمل شو کی طرح جو آپ مین اسٹیج پر پیش کریں گے، یہ
    ایک نہایت اہم ریہرسل ہے ۔ چند لوگوں کو مدعو کیجیے تاکہ وہ اپنی رائے دیں اور اگر کوئی کمی یا غلطی رہ گئی ہو تو اس کے نوٹس بنائیں (گرچہ اس مرحلے تک کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے)۔

حتمی پیش کش: شو سے لطف اٹھایئے!

  • عکاسی: شو کے بعد رائے لیجیے۔

اب جب کہ آپ نے اس خوب صورت فن کے بارے میں اتنا کچھ سیکھ لیا، اپنی جادوئی پیش کش تخلیق کی اور خوشی خوشی اسے دوسروں کو بتایا بھی تو اب وقت ہے کہ جھک کر تعظیم کیجیے، مسکرایئے اور اپنے دل کو جھومنے دیجیے!

IMG_8426 Screenshot 2025-12-30 at 15-34-43 4879-Kriti - Textbook of Arts - Urdu Grade 8.pdf

جائزہ

باب 14: رقص اور کوریوگرافی کی پیش کش

سی جی

سی

آموزشی ماحصل

استاد

خود

1

1.2

پرجوش انداز میں مشترکہ کام میں حصہ لیتا ہے، خیالات کا تبادلہ کرتا ہے اور تخلیقی عمل کے دوران ساتھیوں کی بھرپور مدد کرتا ہے۔

3

3.1

رقص کی تیاری کے تمام مراحل میں سرگرم حصہ لیتا ہےمثلاً:

• منصوبہ بندی اور پروڈکشن کی پیشگی تیاری

• کوریوگرافی ترتیب اور ریہرسل

• حتمی پیش کش

3

3.2

رقص کی پیدائش سے متعلق دیومالائی اور ثقافتی کہانیوں کی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتا ہے۔

3

3.2

تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کارکردگی کے تمام عناصر — حرکت، موسیقی، لباس، جگہ اور اظہار — کو استعمال کرتا ہے تاکہ آخری پیش کش کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

استاد کے تاثرات اور طالب علم کے مشاہدات

تکمیلی جائزہ

تکمیلی جائزے کی مثالیں

تکمیلی جائزہ کا معیار

انفرادی

  • آسن (استھتی)، حرکت ( گتی) اور سانس کے انضمام کو شامل کرتے ہوئے حرکت کی ترتیب کا مظاہرہ کرتا ہے۔
  • ایک نرت (خالص رقص) ترتیب اور ایک نرتیہ (موثر انداز میں کہانی سنانے)کی ترتیب کو انجام دیتا ہے۔
  • مناسب ہستوں کا استعمال کرتے ہوئے دو جذبات (بھاو) کا اظہار کرتا اور
    ان کے پس پردہ سوچنے کے عمل کی وضاحت کرتا ہے۔
  • رقص سے متعلق پروجیکٹ کو مکمل کرتا ہے۔
  • نقل و حرکت، آسن اور سانسوں کے انضمام کے عمل میں وضاحت اور بیداری۔
  • تحریک کی ترتیب، تال، اور مؤثر انداز میں کہانی
    سنانے کی سمجھ۔
  • ہست کے درست استعمال سے جذبات کے اظہار میں راحت اور روانی۔
  • پروجیکٹ کے کام میں گہرائی، تخلیقی صلاحیت اور مواد کی مطابقت۔

3 اور 4کا گروپ

  • متعلقہ یا موجودہ سماجی مسئلے پر مرکوز کو ریوگرافی باہمی تعاون کے ساتھ ترتیب
    دیتا ہے۔
  • بہ طور ایک گروپ ،کہانی پر مبنی کارکردگی تیار اور پیش کرتا ہے۔
  • تصور، کوریوگرافی اور پیش کش میں اصلیت اور
    تخلیقی صلاحیت۔
  • موثر تعاون اور ٹیم ورک کا ثبوت۔