Skip to content
Sitaar Urdu


2




سورج کی گواہی


آدھی رات کا وقت تھا۔ ساری دنیا سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اچانک کسی کے رونے کی آواز آئی۔
راجہ رائے دیسل رعایا کے دکھ سکھ سے باخبر رہنے کے لیے رات کے سناٹے میں بھیس بدل کر گھوم رہے تھے۔
جہاں سے آواز آرہی تھی اُن کے قدم اسی جانب اٹھنے لگے۔ وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سنسان چوراہے پر ایک شخص بیٹھا سر پکڑ کر رو رہا ہے۔
کیا بات ہے؟ روتے کیوں ہو؟“ رائے دیسل نے پوچھا۔
کیا بتاؤں؟ اس دنیا میں دین ایمان نام کی کوئی چیز رہی ہی نہیں ۔ کس سے کہوں؟ کس کو بتاؤں؟“ اس شخص نے کہا۔
تم رائے دیسل کے پاس کیوں نہیں جاتے؟“ رائے دیسل نے کہا۔
کیسے جاؤں؟ پہرے دار مجھے باہر ہی سے ڈھکیل نہ دیں گے۔“
Screenshot 2025-09-03 at 15-01-20 huky102.pdf

نہیں ڈھکیلیں گے ؟ لو یہ انگوٹھی ! کل رائے دیسل کے سامنے جاکر دہائی دینا۔ “ رائے دیسل نے یہ کہتے ہوئے اسے اپنی انگوٹھی پکڑا دی۔
اگلے روز وہ شخص پہرے داروں کو انگوٹھی دکھا کر رائے دیسل کے دربار میں جا پہنچا اور یوں فریاد کرنے لگا۔
با پو! میں ایک کسان ہوں۔ میں نے نگر سیٹھ سے ایک ہزار کوڑیاں اُدھار لی تھیں سو د سمیت میں ساری کوڑیاں لوٹا چکا ہوں لیکن نگر سیٹھ کہتے ہیں کہ میں جوں کا توں قرض دار ہوں سو د سمیت سو ہزار کوڑیاں میں پھر کہاں سے لاؤں؟ میرے پاس تو کانی کوڑی بھی نہیں ہے ۔ “
کیا کوئی ثبوت یا گواہ ہے تمھارے پاس کہ تم اپنا قرض ادا کر چکے ہو ؟“ رائے دیسل نے سوال کیا۔
”مہاراج! میں نے نگر سیٹھ کو رقعہ لکھ کر دیا تھا۔ اور اس رقعے پر دستور کے مطابق سورج کی گواہی لکھ دی تھی۔ رقم لوٹاتے وقت میں نے اس کا مضمون خود اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا تھا! اس شخص نے جواب دیا۔
پھر نگر سیٹھ تم سے دوبارہ کیوں مانگ رہا ہے ؟‘ رائے دیسل نے پوچھا۔
باپو! نگر سیٹھ نے کوئی چالا کی کی ہے۔ کیسے کی ہے؟ میں نہیں جانتا۔ “ اس شخص نے کہا۔
رائے دیسل سوچ میں پڑ گئے۔ انھوں نے کسان کو اگلے روز آنے کو کہا۔

Screenshot 2025-09-03 at 15-08-41 huky102.pdf

کسان چلا گیا۔ رائے دیسل نے نگر سیٹھ کے نام پیغام بھجوادیا کہ کل تم کو دربار میں حاضر ہونا ہے۔ دوسرے دن نگر سیٹھ اور کسان دونوں رائے دیسل کے سامنے کھڑے تھے۔ رائے دیسل نے آنکھیں دکھاتے ہوئے نگر سیٹھ سے کہا۔
کیا چال چلی ہے تم نے؟ ایسی سزا دوں گا کہ ساری زندگی یا در کا یاد رکھو گے؟“
نگر سیٹھ نے ہاتھ جوڑ کر جواب دیا۔ ” گستاخی معاف حضور “ جھوٹا میں نہیں، یہ کسان ہے۔ میں نے اسے قرض کے طور پر ہزار کوڑیاں دی تھیں، اس نے نہ تو اب تک اصل رقم لوٹائی اور نہ ہی سود ۔ اب یہ رو رو کر اپنے بے قصور ہونے کا ناٹک کر رہا ہے اور آپ کی ہمدردی چاہتا ہے۔“
جس مضمون کو کسان نے کاٹ دیا تھا کیا تم وہ رقعہ مجھے دکھا سکتے ہو ؟‘ رائے دیسل نے پوچھا۔ آقا! میرے پاس ایسا کوئی رقعہ نہیں جس کا مضمون کسان نے کاٹا ہو ۔ البتہ وہ رقعہ ضرورم نے کاٹا ہو۔ البتہ وہ رقعہ ضرور میرے پاس ہے جس کا مضمون کٹا ہوا نہیں ہے! یہ کہتے ہی نگر سیٹھ نے رقعہ نکال کر بھرے دربار میں رائے دیسل کے سامنے رکھ دیا۔ مضمون کے کاٹے جانے کا واقعی کوئی نشان نہ تھا۔ لیکن رائے دیسل کو نہ جانے کیوں یہ یقین ہو گیا تھا کہ کسان سچا ہے ۔
اگلے دن بھی رائے دیسل کو کوئی تدبیر نہ سوجھی۔
آخر رائے دیسل نے سوچنا شروع کیا۔ کسان نے رقعے پر سورج کی گواہی کا ذکر کیوں کیا ہے؟ کسی جیتے جاگتے شخص کی گواہی رھی حالی تو وہ حص دربار میں آکر اس کی مدد کرتا ! سورج کو دربار میں سے بلایا جائے ۔ "
رائے دیسل سوچتے سوچتے تھک گئے۔ آخر کچھ سوچ کر انھوں نے رقعہ کا رخ سورج کی طرف کر دیا۔ سورج کی

Screenshot 2025-09-03 at 15-18-42 huky102.pdf

شعاعوں کو انھوں نے رقعے کے آر پار دیکھنے کی کوشش کی، شعاعیں بھلار قعے کے آر پار کیسے نکلیں ! لیکن اس وقت سورج نے گواہی دے ہی دی۔ کیسی تھی یہ گواہی !
رائے دیسل لمبے قدم بھرتے ہوئے دربار میں پہنچے ۔ حاضرین دربار اُٹھ کر آداب بجالائے۔
رائے دیسل نے نگر سیٹھ سے پوچھا۔ ”رقعے پر سورج کی گواہی کیوں لکھا ہے؟“ مہاراج آپ جانتے ہیں ایسا لکھنا محض ایک دستور ہے۔ اس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہوتا۔ “ نگر سیٹھ نے جواب دیا۔
لیکن نگر سیٹھ ! اس بار سورج نے سچ سچ گواہی دے دی ہے۔ میں تم کو پانچ سال کی قید با مشقت کی سزا دیتا ہوں۔ تم نے ایک بھولے بھالے کسان کے خون پسینے کی کمائی ہڑپ کرنی چاہی ہے ۔ “ رائے دیسل نے آنِ واحد میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کڑک کر کہا۔ ”ادھر آؤ ! رقعہ ہاتھ میں لو ، اسے سورج کی طرف کرو، رقعے کے آر پار سورج کو دیکھو۔ بتاؤ کیا نظر آرہا ہے ؟“
رائے دیسل کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی نگر سیٹھ کا رنگ اڑ گیا۔
سورج نے صاف صاف گواہی دے دی۔ کسان نے مضمون اپنے ہاتھ سے کاٹ تو دیا تھا لیکن وہ لکیریں نظر نہیں آتی تھیں۔ نظر تبھی آتیں جب رقعہ سورج کی طرف اُٹھایا جاتا۔

Screenshot 2025-09-03 at 15-40-53 huky102.pdf

رائے دیسل کا اشارہ ہوتے ہی نگر سیٹھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ رائے دیسل نے کہا۔ ”اگر تم یہ بتاؤ کہ کٹے ہوئے مضمون کی لکیریں تم نے کیسے غائب کیں تو میں تمہاری سزا کم کر سکتا ہوں ۔ “
مہاراج! ” میں نے کیا طریقہ اپنایا تھا ، میں سب بتائے دیتا ہوں لیکن میں نے ایک غریب اور بھولے بھالے کسان کو دھوکہ دیا ہے۔ اس لیے میری سزا میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ “ نگر سیٹھ نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا۔
بتاؤ! کیا تھا وہ طریقہ ؟‘ رائے دیسل نے پوچھا۔
نگر سیٹھ نے بیان کرنا شروع کیا۔
مہاراج! جب یہ کسان رقعے کا مضمون کاٹنے آیا تو میں نے روشنائی میں ملانے کے لیے بار یک شکر پیس کر تیار کر لی تھی۔ میں نے کسان سے آنکھ بچا کر اس گیلی سیاہی میں پسی ہوئی شکر ڈال دی۔ چیونٹیوں نے ساری شکر کھالی تھی شکر گیلی سیاہی کو چوس چکی تھی۔ جب شکر چیونٹیوں نے کھائی تو اس کے ساتھ ساتھ سیاہی بھی کھالی۔ اس سے مضمون پر ڈالی گئی لکیریں اڑ گئیں۔ لیکن میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ چیونٹیوں نے رقعے کا کاغذ بھی اس طرح چاٹ ڈالا ہو گا کہ سارے مضمون پر دھاریاں پڑ گئی ہوں گی۔ یہ دھاریاں مجھے بھی نظر نہیں آئیں کیوں کہ میں نے رقعے کو سورج کی کرنوں کے سامنے رکھ کر نہیں دیکھا تھا۔“
نگر سیٹھ کو سزا بھگتنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ سب نے رائے دیسل کی انصاف پروری کی بڑی تعریف کی۔ رائے دیسل نے کہا انصاف میں نے نہیں، سورج نے کیا ہے۔“

-لوک کہانی

Screenshot 2025-09-03 at 15-43-45 huky102.pdf

لفظ و معنی

رعايا : محکوم، عوام
تدبیر : ترکیب
آن واحد : لمحہ بھر میں
انصاف پروری : انصاف پسندی
قید با مشقت : ایسی سزا جس میں قید کے ساتھ سخت محنت بھی کرنی پڑے
اقبال جرم : جرم قبول کرنا
رقعه : خط، چھی

غور کیجیے

ملک، قوم اور معاشرہ کی ترقی اور فلاح کے لیے امن اور انصاف کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کہانی میں سورج کی گواہی کسان کو انصاف دلانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔
عدالتی نظام کا بنیادی مقصد ہر شہری کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ ہندوستان میں الگ الگ سطحوں پر مختلف قسم کی عدالتیں ہیں۔ عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ ہر ریاست میں عدالت عالیہ یعنی ہائی کورٹ ہے۔ ان عدالتوں کے تح ضلعی عدالتیں اور ان کے تحت بھی عدالتیں ہیں جنھیں نچلی عدالت کہتے ہیں۔
کہانی میں کوڑی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ پرانے زمانے میں لین دین کے لیے کرنسی کی شکل میں کوڑی ، آنا، ٹکا اور دھیلا وغیرہ استعمال ہوتا تھا۔ پھوٹی کوڑی ایک ٹوٹی ہوئی کوڑی ہوتی تھی جس کی قیمت بہت معمولی ہوتی تھی۔ کانی کوڑی میں سوراخ ہوتا تھا جو پھوٹی کوڑی کے مقابلے بہت کم قیمت کی ہوتی تھی۔
قدیم زمانے میں کرنسی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ لوگ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے چیزوں کے بدلے چیزوں کا لین دین کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک کسان گندم اگا تا اور اگر اسے کپڑوں کی ضرورت ہوتی تو وہ درزی کو گندم دے کر کپڑے حاصل کر لیتا تھا۔ اسے تبادلہ اشیا (Barter Trading) کا نظام کہا جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں لین دین کے لیے کرنسی کے طور پر روپے، پیسے کا استعمال عام ہے ساتھ ہی ڈیجیٹل طریقے سے بھی لین دین کی مختلف سہولتیں دستیاب ہیں جیسے RTGS،NEFT IMPSوغیرہ۔

سوچیے اور بتائیے

1. کیا کسان اپنے قرض کی ادائیگی ثابت کرنے کا کوئی اور طریقہ استعمال کر سکتا تھا؟
2. ے نگر سیٹھ نے رقعے کی لکیریں غائب کرنے کے لیے روشنائی میں شکر کیوں ملائی؟ یہ عمل کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
3. کسان نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنا قرض ادا کر دیا ہے، جب کہ نگر سیٹھ نے دوبارہ رقم کا مطالبہ کیا۔ اس تضاد کو سلجھانے کے لیے رائے دیسل نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟
4. سکوں اور روپیوں کی بہ نسبت غیر کاغذی کرنسی (Paperless Currency) استعمال کرنے کے کیا فائدے ہیں؟
5. موجودہ دور میں خریداری کے رائج طریقوں میں سے آپ کو کون سا طریقہ پسند ہے؟ وجہ بھی بتائیے۔

کس نے کہا؟ کس سے کہا؟ کیوں کہا؟
  1. کیا بات ہے روتے کیوں ہو؟
    • کس نے کہا __________________
    • کس سے کہا___________________
    • کیوں کہا____________________

    Screenshot 2025-09-03 at 16-35-36 huky102.pdf
  2. نگر سیٹھ نے کوئی چالاکی کی ہے، کیسے کی ہے، میں نہیں جانتا۔
    • کس نے کہا__________________
    • کس سے کہا__________________
    • کیوں کہا__________________

  3. آقا! میرے پاس ایسا کوئی رقعہ نہیں جس کا مضمون کسان نے کاٹا ہو۔
    • کس نے کہا__________________
    • کس سے کہا__________________
    • کیوں کہا__________________

    Screenshot 2025-09-03 at 16-41-55 huky102.pdf
  4. لیکن نگر سیٹھ اس بار سورج نے بیچ بیچ گواہی دے دی ہے۔
    • کس نے کہا__________________
    • کس سے کہا__________________
    • کیوں کہا__________________

  5. انصاف میں نے نہیں، سورج نے کیا ہے۔
    • کس نے کہا__________________
    • کس سے کہا__________________
    • کیوں کہا__________________
ذیل میں دیے گئے الفاظ کے مترادف لکھ کر انھیں جملوں میں استعمال کیجیے۔
لفظ مترادف جملوں میں استعمال
  1. عدل ____  _____________
  2. سکونت ____  _____________
  3. رقعه ____  _____________
  4. مشقت ____  _____________
متن پر گفتگو
اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کیجیے اور ان جملوں کے اصل مفہوم تک پہنچنے کی کوشش کیجیے:
Screenshot 2025-09-03 at 17-10-15 huky102.pdf
  1. "اس دنیا میں دین ایمان نام کی کوئی چیز رہی ہی نہیں۔"
  2. "سود سمیت ساری کوڑیاں لوٹا چکا ہوں۔"
  3. "حاضرین در بار اٹھ کر آداب بجالائے۔"
  4. "رقعے پر دستور کے مطابق سورج کی گواہی لکھ دی تھی۔"
درج ذیل سابقے اور لاحقے کی مدد سے نئے الفاظ بنائیے۔
با عزت دار
کم عقل مند
بے غیرت مند
ہم عمر دراز
بے ثمر دار
  1. _______     _____________________
  2. _______     _____________________
  3. _______     _____________________
  4. _______     _____________________
  5. _______     _____________________
آپس میں گفتگو

●کیا اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لیے آپ کو کبھی کسی مدد کی ضرورت پیش آئی ہے ؟ اس وقت آپ نے کیا محسوس کیا تھا؟ اپنا تجربہ ہم جماعت - جماعت ساتھیوں کو بتائیے اور یہ بھی بتائیے کہ آپ نے اس تجربے سے کیا سبق حاصل کیا؟

●کسان کی طرح اگر آپ کے ساتھ اسی طرح کا واقعہ پیش آئے تو آپ کس طرح اس مشکل کا حل تلاش کریں گے؟ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

اس جملے کو پڑھیے:

" میرے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے "

اس جملے میں ایک محاورہ پھوٹی کوڑی نہ ہونا آیا ہے۔ اسی طرح ایک اور محاورہ استعمال کیا جاتا ہے کہ ”میرے پاس کانی کوڑی بھی نہیں ہے۔ یعنی کچھ بھی پیسے نہیں ہیں۔ اپنے ساتھیوں کی مدد سے درج ذیل محاوروں اور کہاوتوں کے معنی و مفہوم کا درست جو ڑ ملائیے :

الف ب

1. کوڑی کوڑی کا محتاج ہونا i. لمحہ در لمحہ کیفیت کا تبدیل ہونا

2. چمڑی جائے دمڑی نہ جائے ii. کمائی سے زیادہ خرچ کرنا

3. دو کوڑی کا ہونا iii. بہت زیادہ غربت اور پریشانی کی حالت کا سامنا کرنا

4. کوڑیوں کے مول ہونا iv. پیسے کو صحت پر ترجیح دینا

5. آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ v. کسی حیثیت کے حامل نہ ہونا

6. گھڑی میں ماشا گھڑی میں تولا vi. بہت کم قیمت ہونا

نیچے دیے گئے جملوں میں درست متضاد الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔ جملے کی دونوں خالی جگہوں میں ایک ہی لفظ کے متضاد استعمال کیے جائیں گے :
  1. جو لوگ محنت کرتے ہیں وہ_____ ہوتے ہیں لیکن جو محنت نہیں کرتے وہ_____ ہوتے ہیں۔
  2. جہاں ____________ ہو وہاں سکون ہوتا ہے اور جہاں _____ہو وہاں بے چینی ہوتی ہے۔
  3. بعض اوقات انسان __________ حاصل کرتا ہے اور کبھی اسے ___________ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
  4. سردیوں میں موسم ____ ہوتا ہے، جبکہ گرمیوں میں ____ ہوتا ہے۔
  5. سب کے ساتھ ____ سے پیش آنا چاہیے ___________ سے نہیں۔

تلاش کیجیے

●سورج کی روشنی شمسی توانائی حاصل کرنے کے بارے میں معلومات جمع کیجیے اور ایک مضمون لکھیے۔

●لائبریری سے انصاف کے موضوع پر کہانیاں تلاش کیجیے اور انھیں پڑھیے۔

تخلیقی اظهار

●سورج کی گواہی سے کسان کو انصاف مل گیا تھا۔ اگر سورج نے گواہی نہ دی ہوتی تو کہانی کا اختتام کیا ہوتا؟ تفصیل سے لکھیے۔

●جب موبائل اور ٹیلی فون کا استعمال عام نہیں تھا تب ایک دوسرے کی خیریت کے لیے خط، رقعہ یا چھی لکھنے کارواج تھا۔ آپ گھر کے کسی فرد کے نام لکھے خط کو اس کی اجازت لے کر پڑھیے۔ خط لکھنے اور بھیجنے کا طریقہ کیا تھا۔ اسی طرز پر اپنے دوست کے نام ایک خط لکھیے جس میں امتحان میں کامیاب ہونے کی خبر دی گئی ہو۔

●سورج ایک روشن ستارہ اور روشنی کا مرکز ہے سورج کی روشنی کے بغیر زمین پر زندگی کا تصور محال ہے اگر سورج چند روز نظر نہ آئے تب کیا صورت ہو گی ؟ دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور اپنے خیالات لکھیے۔

عملی کام

●سچائی ، ایمانداری اور انصاف کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مختصر مضمون لکھیے۔

●آج کل پیسوں کے لین دین میں سائبر جرائم جیسے مسائل ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ ان خطرات سے بچنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟

●اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کہانی کو ڈرامے کی صورت میں جماعت میں پیش کیجیے۔ کہانی کے کرداروں کے جذبات و احساسات کو ظاہر کیجیے، تا کہ پوری کہانی کے مناظر واضح طور پر سامنے آسکیں۔ ہر کردار کے مطابق مکالمے اور حرکات و سکنات کا انتخاب کر کے اسے دل چسپ انداز میں پیش کیجیے۔

Screenshot 2025-09-04 at 11-06-23 huky102.pdf

یہ بھی جانیے

3 پھوٹی کوڑی : 1 کوڑی
10 کوڑی : 1 دمڑی
2 دمڑی : 1 دھیلا
1 دھیلا : 1.5 پائی
2 دھیلا : 1 پیسہ
3 پیسہ : 1 ٹکا
2 ٹکا : 1 آنه
2 آنے : 1 دوانی
4 آنے : چونی
8 آنه : اٹھنی
3 پائی : 1 پیسہ
4 پیسہ : 1 آنه
16 آنے : 1 روپیہ





سوچیے اور بتائیے

1. وادی گنگا کے شاداب نظارے ہمیں کس طرح پر کیف نظر آتے ہیں؟
2. دریا کے کنارے واقع میدانی علاقوں کے نظارے دیکھ کر دل میں کیا تمنا پیدا ہوتی ہے اور کیوں؟
3. بیدار ہوا سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
4. آپ گنگا کے نظارے کو کس طرح بیان کریں گے؟

●نظم کو دوبارہ پڑھیے اور خالی جگہوں میں صحیح لفظ بھر یئے اور مصرعے مکمل کیجیے:
1. اے وادی گنگا ترے---------------نظارے ( پر خواب / شاداب / بے تاب )
2. یہ چاندنی رات اور یہ -----------------فضائیں ( سرشار ا پر کیف اپرخواب)
3. گل زار ہیں گل ریز گہر بار---------------(فضائیں ہوائیں اصدائیں)
4. دامن میں لیے----------------ستاروں کے شبستاں (چاند سورج / خوابیدہ)
5. اختر کی تمنا ہے یہیں------------------گزارے (رات شام دن)

●نظم کا عنوان ہے وادی گنگا، یعنی گنگا کی وادی۔ آپ بھی وادی لفظ کے ساتھ اضافت کا استعمال کرتے ہوئے نئے الفاظ بنائیے اور ان کے معنی معلوم کر کے لکھیے :
Screenshot 2025-08-18 144316
کشمیر
وادی
●دی گئی مثال کے مطابق درج ذیل الفاظ کے متضاد الفاظ لکھیے :
الفاظ متضاد الفاظ
مثال: کنارا درمیان
  1. نور___________________
  2. هجوم___________________
  3. امن___________________
  4. خواب___________________
  5. شاداب___________________
●الٹی گنگا بہانا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں الٹی بات یا الٹا کام کرنا۔ دریائے گنگا سے متعلق کئی اور سے بھی ہیں۔ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کر کے کچھ اور محاورے تلاش کر کے لکھیے اور ان کے معنی محاورے بھی بتائیے:
  1. _______     _____________________
  2. _______     _____________________
  3. _______     _____________________
  4. _______     _____________________
  5. _______     _____________________

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●نظم میں لفظ پر کیف استعمال ہوا ہے۔ یہ دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ پر“ کے معنی بھر پور یا بھرا ہوا اور کیف کے معنی ہیں مستی یا سرور ۔ دو مختلف معنی والے الفاظ سے مل کر جو نیا لفظ بنتا ہے، اسے مرکب لفظ کہتے ہیں سبق سے پانچ مرکب الفاظ تلاش کر کے لکھیے :

  1. ____________________________
  2. ____________________________
  3. ____________________________
  4. ____________________________
  5. ____________________________

●اس نظم میں قدرتی مناظر جیسے شاداب نظارے، بکھرے ہوئے پھول، مہکتے ہوئے دریا کے کنارے وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ اس میں شاداب ، بکھرے ہوئے اور مہکے ہوئے الفاظ نظارے، پھول اور دریا کی خصوصیات کا بیان کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ الفاظ جن سے کسی اسم کی خصوصیات کا علم ہوتا ہے انھیں صفت کہتے ہیں۔ نظم کو دوبارہ پڑھیے اور نیچے دیے ہوئے اسم کے ساتھ صفت تلاش کر کے لکھیے:

Screenshot 2025-09-03 at 11-34-23 huky101.pdf
  1. ____________________________فضائیں
  2. ____________________________نظارے
  3. ____________________________تارے
  4. ____________________________ہوائیں
  5. ____________________________ بہاریں




●نظم میں موج طرب ، مرکب لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس میں زیر اضافت کا استعمال ہوا ہے۔ اضافت دو لفظوں کا آپس میں تعلق ظاہر کرتے ہیں جیسے موج طرب کا مطلب طرب کی موج یعنی خوشی کی لہر ۔ ایسے پانچ مرکب الفاظ تلاش کر کے لکھیے جن میں زیر اضافت کا استعمال ہوا ہو :

  1. ____________________________
  2. ____________________________
  3. ____________________________
  4. ____________________________
  5. ____________________________

تلاش کیجیے

Screenshot 2025-09-03 at 11-38-54 huky101.pdf

●جس طرح گنگا ندی روحانیت اور ثقافت کی علامت ہے اور ہندوستانی تہذیب میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی طرح کسی دوسری ندی کے بارے میں معلوم کر کے لکھیے۔

●مختلف شاعروں نے دریائے گنگا کے حوالے سے کئی نظمیں کی ہیں۔ چند میں تلاش کیجیے اور پڑھیے۔ قدیم شہر ندیوں کے کنارے ہی کیوں آباد ہیں اس پر غور کیجیے۔

●ہمارے ملک میں بہنے والی زیادہ تر ندیاں ہمالیہ سے نکلی ہیں جیسے گنگا، سندھ اور برہم پتر اوغیرہ۔ گنگا کا منبع ( نکلنے کی جگہ ) گنگوتری ہے۔ ہمارے ملک کی بڑی ندیوں کے نام اور ان کے نکلنے کی جگہوں کے بارے میں معلوم کر کے لکھیے۔

●نظم میں آئے ہوئے الفاظ تلاش کیجیے اور نیچے دی گئی جگہ پر لکھیے:
گ گ ن گ ا گ س
ہ چ ا ن د ہ ت
ر ے خ ب ہ ۱ ۱
ن ظ ۱ ر ے ں ر
ص ح ر ۱ ء ن و
ف ر د و س و ں
ن ک ہ ت گ ر ن

1.______________    2.________________

3.______________    4.________________

5.______________    6.________________

7.______________    8.________________

تخلیقی اظہار

●آپ نے ناؤ میں بیٹھ کر کسی دریا کی سیر کی ہو گی۔ اپنے سفر کی روداد لکھیے اور اپنے ساتھیوں کو سنائیے۔

●اس نظم میں شاعر نے گنگا کے کنارے کا منظر پیش کیا ہے۔ آپ کو بھی ایسے کئی مناظر بہت پسند آئے ہوں گے جو آپ کی یادوں کا حصہ ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کوئی منظر آپ کے لیے یاد گار ہو مثلاً آسمان پر منڈلاتے بادل، اُڑتے پرندے یا قوس و قزح کا منظر ۔ ایسے کسی پسندیدہ منظر کو بنیاد بنا کر ایک پیراگراف لکھیے جو پڑھنے والوں کے لیے دل چسپ ہو ۔

●اپنے گھر کے افراد یا علاقے کے لوگوں سے بات چیت کیجیے اور آپ کے آس پاس بہنے والی ندی کے بارے میں معلوم کر کے اپنی کاپی میں لکھیے۔ جیسے ندی کہاں سے نکلتی ہے؟ کہاں کہاں سے گزرتی ہے؟ ندی کے پانی کا استعمال کن کاموں میں ہوتا ہے اور اس کے تحفظ کی کیا کیا تدابیر کی جارہی ہیں؟

عملی کام

●ہندوستان میں ندیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ آپ کے علاقے سے بھی کوئی ندی بہتی ہو گی۔ ندی ہمارے لیے کس طرح مفید ہے اور اس سے کون کون سی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اس کی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

●ندیوں کو سب سے بڑا خطرہ آلودگی سے ہے۔ کل کارخانوں سے نکلنے والا فضلہ، گھروں کی گندگی، کھیتی میں ملائی جارہی کیمیائی دوائیں اور کھادیں ، زمین کا کٹاؤ اور بھی کئی ایسے عناصر ہیں جو ندی کے پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔ آلودگی کم کرنے اور گنگا کے تحفظ اور بحالی کے لیے حکومت کے ذریعے قومی مشن برائے صاف گنگا ( NMCG) اور نمامی گنگے پروگرام جاری کیا گیا ہے۔ دیے گئے لنک کے ذریعے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے اور ایک مضمون لکھیے:

https://nmcg.nic.in/NamamiGanga.aspx
●اپنے استاد اور ساتھیوں کی مدد سے درج ذیل پہیلیوں کا حل تلاش کیجیے:

1. امرت ہے، جل کی دھارا
جاتے ہیں سب اس کے درشن کو
گڑھ میں بھی ہے کنارا
موہ لیتے ہیں نظارے اس کے من کو

2.  وہ اک شے انمول بڑی ہے
خاص ہے رب کی نعمت بچو!
ساری دنیا پیچھے اس کے پڑی ہے
سنبھال کر اسے ہمیشہ رکھو

3.پہاڑ سے میں چلی گنگناتی
میداں میں آکر روپ نکھراتی
قدم قدم پر لہراتی بل کھاتی
سب ہی جگہ میں پائی جاتی