Skip to content
Sitaar Urdu


3




نمک کی کہانی


نمک ہماری زندگی کے لیے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ اس کا استعمال اکثر ضروری اور تاثیر لامحدود ہے۔ نمک ہماری غذا کا اہم جز ہے۔ ہمارے جسم میں بھی کئی قسم کے نمک (Salt) اور معدنیات (Minerals) پائے جاتے ہیں جن کی کمی یا زیادتی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ آنکھ سے گرنے والے آنسو ، لعاب دہن ، رگوں میں دوڑتے ہوئے خون، جسم کے پسینے اور مختلف رطوبتوں میں نمک ہوتا ہے۔ غرض کہ نمک نہ صرف غذا کے ذائقے بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہماری زبان، کردار، چہرے، جذباتی رشتوں اور وفاداریوں میں بھی نمک بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ نمک ایک ایسی چیز ہے جو مٹی ، سمندر، پہاڑ، بعض پیڑ پودوں اور دھاتوں وغیرہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کا کیمیائی نام سوڈیم کلورائیڈ (Sodium Chloride) ہے۔ یہ خالص شکل میں بھی ملتا ہے اور مختلف چیزوں سے کشید بھی کیا جاتا ہے۔ اس کی کچھ خاص قسمیں ہیں جیسے سیندھا نمک، سانبھر نمک، سمندری نمک، کالا نمک، نوشادر اور سہا گا وغیرہ۔ سیندھا نمک ، امرت سری نمک بھی کہلاتا ہے جو پہاڑوں سے نکالا جاتا ہے۔ سانبھر اور سمندری نمک کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ سانبھر نمک ، جھیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ جھیل راجستھان صوبے کی راجدھانی جے پور کے مغرب میں سانبھر نامی مقام پر واقع ہے۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی نمک کی جھیل ہے۔ اس کا رقبہ 90 مربع میل ہے۔ اس میں آس پاس کی کئی ندیاں آ کر گرتی ہیں جس کے سبب ان کا پانی

Screenshot 2025-09-04 at 16-18-47 huky103.pdf

بھی نمکین ہو جاتا ہے۔ یہاں سے ملک میں نمک کی پیداوار کا تقریباً نو فیصد حصہ ہی حاصل ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں یہ جھیل خشک ہو جاتی ہے۔ اسی زمانے میں یہاں سے نمک اکٹھا کر کے فیکٹریوں میں صفائی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ا

اس جھیل کی کہانی بھی دل چسپ ہے۔ کہتے ہیں کہ آج جہاں تھار کا ریگستان واقع ہے ، وہاں ہزاروں سال پہلے ٹیتھیس نامی اُتھلا سمندر تھا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر سمندر خشک ہو گیا لیکن اس کا نمک ریت میں گھل مل گیا۔ اسی لیے اس علاقے کی جھیل میں نمک کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ جب پانی سوکھ کر جم جاتا ہے تو نمک بن جاتا ہے۔ یہ غذائی نمک کی پیداوار کا بڑا وسیلہ ہے۔

سمندر کا پانی عام طور پر نمک کی پیداوار کا سب سے بڑا عالمی مخزن ہے۔ پانی بے حد کھارا ہونے کے باعث پینے یا زراعت کے کام کا نہیں ہوتا البتہ یہ بڑی مقدار میں نمک بنانے کے کام آتا ہے۔

سمندری پانی سے نمک بنانے کا معاملہ تو ہمارے ملک کی تحریک ستیہ گرہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ نمک پر انگریزی حکومت کے کنٹرول کے خلاف ہمارے ملک میں بہت بڑی تحریک چلائی گئی تھی جسے ”نمک ستیہ گرہ“ کہا جاتا ہے۔ ریزوں نے ہندوستانی عوام سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کی خاطر نمک کا قانون بنایا اور ملک میں نمک بنانے اور بیچنے پر ٹیکس تیس لگا دیا۔ دام

مہاتما گاندھی اور دیگر قومی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نمک پر ٹیکس لگانا ایک غیر اخلاقی اور مذموم عمل ہے کیوں کہ نمک تو ہمارے کھانے کا بہت اہم جز ہے۔ انھوں نے انگریزوں کے ذریعہ نافذ کیے گئے نمک کے قانون کو ماننے سے انکار کر دیا اور 12 مارچ 1930 کو سابرمتی آشرم سے اس کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کر دیا۔

گاندھی جی اور ان کے پیرو کاروں نے سابرمتی سے ساحلی شہر ڈانڈی تک 240 میل سے زیادہ کا مارچ کیا جہاں انھوں نے ساحل سمندر پر پائے جانے والے قدرتی نمک کو جمع کر کے اور سمندر کے پانی کو ابال کر نمک بنا کر حکومت کا قانون توڑا۔ اس ستیہ گرہ میں کسانوں، قبائلیوں اور عورتوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

Screenshot 2025-09-04 at 16-23-31 huky103.pdf

یہ تحریک تیزی سے پھیلی جس نے ملک کی آزادی کی جد و جہد کو ایک نئی راہ دکھائی۔ اس کا مقصد برطانوی حکومت کے ذریعے لگائے گئے نمک پر ٹیکس کی پرٹیکس کی مخالفت کرنا ہی نہیں بلکہ اہل وطن کو تو ان کے حقوق کا احساس دلا کر بیدار کرنا اور قومی اتحاد کو فروغ دینا بھی تھا۔ اسی تحریک کے پس منظر میں ملک میں رسول نافرمانی کی تحریک بھی شروع ہوئی۔ نمک کی اس تحریک نے جدوجہد آزادی کے مشن کو بڑی تقویت بخشی۔

نمک صرف ہماری غذاؤں کو مزے دار ہی نہیں بناتا ، ہماری جسمانی ضروریات کی تکمیل اور صحت کا بھی ضامن ہے۔

انسانی جسم میں نمک کی مقدار ایک توازن کے ساتھ موجود ہے۔ یہ توازن بگڑ جائے تو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مناسب مقدار میں نمک ہاضمہ کو درست رکھنے ، خون کے دباؤ کو نارمل رکھنے اور ہماری نسوں اور پٹھوں کو فعال رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم میں موجود رقیق ماڈوں کو متوازن رکھتا ہے۔ دوسری طرف اگر ان Minerals کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو کئی موذی امراض لاحق ہو جاتے ہیں مثلاً خون کا دباؤ بڑھنا، دل کے دورے پڑنا، رگوں پٹھوں کا درد، اعصابی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے یادداشت کی کمزوری، گردوں کا فعل متاثر ہونا اور جسم میں رقیق مادوں (Fluids) کا کم ہو جانا۔ نمک کی مقدار بڑھ جانے سے آج موٹاپا اور امراض قلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی صحت کے ادارے WHO کے ماہرین کے مطابق ایک دن میں 2300 ملی گرام یعنی ایک چائے کا چمچہ نمک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ استعمال جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ کھانے میں گھلا ہوا نمک پھلوں پر چھڑ کے ہوئے نمک کے مقابلہ میں کم نقصان دہ ہوتا ہے۔ ہمیں خالص نمک کی جگہ آیوڈین نمک ہی استعمال کرنا چاہیے۔

Screenshot 2025-09-04 at 16-25-44 huky103.pdf

آیوڈین ایک ضروری مائیکرونیوٹرینٹ ہے۔ انسانی جسم کے نشو و نما کے لیے روزانہ اوسطاً سو سے ایک سو پچاس مائیکرو گرام آیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوراک میں غذایت سے متعلق آیوڈین کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے عوارض یا خرابی میں جسمانی معذوری اور دماغی کمزوری شامل ہیں۔ ان ہی عوارض سے حفاظت کے لیے اگست 1992 میں نیشنل گوئٹر کنٹرول پروگرام کا نام تبدیل کر کے دنیشنل آیوڈین ڈیفیشینسی ڈس آرڈرز کنٹرول پروگرام رکھا گیا۔ آیوڈین کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ نے 2011 میں غیر آیوڈائزڈ نمک کے فروخت پر پابندی لگادی۔ اس ریگولیشن کے مطابق کوئی بھی شخص عام نمک کو براہ راست انسانی استعمال کے لیے فروخت یا پیش نہیں کرے گا۔

نمک صرف غذا میں ہی نہیں بلکہ مختلف صنعتوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دواسازی ، غذا اور چمڑے کے تحفظ اور سڑکوں پر برف پگھلانے کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں جب Deep Freezers نہیں ہوتے تھے تو آئس کریم جمانے کی مشینوں میں برف کے ساتھ ثابت نمک ڈال کر آئس کریم جمائی جاتی تھی۔ کپڑا رنگنے کی صنعت میں بھی نمک کا استعمال ہوتا ہے۔ نمک کی ایک قسم سہا گا ہے جو سونے چاندی کو پگھلا کر صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔

نمک کے ان تمام تاریخی ، طبی ، کیمیائی اور صنعتی فائدوں کے علاوہ زبان و ادب میں ہمارے محاوروں، کہاوتوں اور ضرب الامثال میں بھی اس کا استعمال ہوا ہے۔ چہرے پر نمک ہونا بمعنی پرکشش ہونا، گفتگو میں نمک ہونا یعنی گفتگو کا پر لطف ہونا ہے۔ زخموں پر نمک چھڑ کنا یعنی تکلیفوں کو بڑھاوادینا، نان نمک کی فکر کرنا یعنی روز گار تلاش کرناوغیرہ۔ یہ مثالیں نمک کی ہمہ جہتی اور اہمیت کا ثبوت ہیں۔

--اداره

Screenshot 2025-09-04 at 16-27-50 huky103.pdf

لفظ و معنی

تحفہ : ہدیہ، سوغات
تاثیر : اثر کرنا، نشان چھوڑنا
لا محدود : جس کی حد نہ ہو
جز : حصہ ، ٹکڑا
لعاب دہن : تھوک، رال
رطوبتوں : (رطوبت کی جمع) تری نمی
کشید کرنا : کھینچنا
خشک : سوکھا ہوا
ریگستان : ریتیلا میدان
مخزن : خزانه، گودام
زراعت : کاشتکاری، کھیتی باڑی
نافذ : جاری ہونے والا
مخالفت : اختلاف
ضامن : ذمہ دار
فعال : سر گرم، خوب کام کرنے والا
رقیق : ملائم، پانی کی طرح
موزی : ایزاد ینے والا
قلب : دل

غور کیجیے

●نمک ہماری زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ یہ صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ یہ جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ پٹھوں اور اعصاب کے درست کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔

●نمک حاصل کرنے کے مختلف قدرتی ذرائع ہیں۔ ایک ذریعہ سمندر کا پانی ہے ۔ ساحلی علاقوں میں جیسے گجرات، مہاراشٹر ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش وغیرہ میں سمندر سے نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا ذریعہ نمک کی چٹانیں ہیں جن سے نمک نکالا جاتا ہے۔ جھیلوں کے کھارے پانی سے بھی نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ راجستھان میں سانبھر جھیل کھارے پانی کی جھیل ہے۔ نمک کا استعمال چمڑ اسازی ، صابن اور کیمیکل سازی میں بھی کیا جاتا ہے۔

●نمک ہماری زبان اور ثقافت کا بھی مظہر ہے ۔ ہماری بول چال میں نمک سے جڑے کئی محاد سے جڑے کئی محاورے اور کہاوتیں ۔ استعمال کی جاتی ہیں جو اس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں مثلاً نمک حلال ایک ایسا محاورہ ہے جس کا مطلب اپنے ۔ کام اور ذمہ داری کو دیانت سے نبھانا ہے ۔

سوچیے اور بتائیے

  1. ہماری زندگی میں نمک کی کیا اہمیت ہے؟
  2. انگریزوں نے نمک کا قانون کب اور کیوں بنایا؟
  3. نمک کی مقدار کے بڑھنے اور گھٹنے سے جسم پر کون سے موذی اثرات پیدا ہوتے ہیں؟
  4. نمک کا استعمال روز مرہ زندگی کے علاوہ اور کن کن جگہوں اور شعبوں میں کیا جاتا ہے۔
نیچے دیے گئے اسم کو صفت میں تبدیل کیجیے اور خالی جگہوں میں بھریئے:

بحر   روشنی   عمارت   تحقیق   چین

  1. کھیت کی منڈیر پر بیٹھا ہوا بزرگ آدمی______حرکتیں کر رہا تھا۔
  2. جنگل سے کاٹے گئے درخت کی لکڑی ______ضرورت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  3. عام طور پر دو جزیروں کے درمیان _________سواریاں ہی کام آتی ہیں۔
  4. حادثے کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے ______کمیشن قائم کیا گیا۔
  5. سورج نکلتے ہی دنیا _____ ہو جاتی ہے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●آپ جانتے ہیں کہ جملوں میں کسی پہلو پر زور ڈالنے یا تاکید کے لیے جو حروف استعمال ہوتے ہیں اُنھیں حروف تخصیص کہتے ہیں۔ نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور غور کیجیے کہ انھیں پڑھتے یا بولتے ہوئے ہم کن لفظوں پر زور دیتے ہیں:

اس جھیل کی کہانی [بھی]دل چسپ ہے ۔ نمک صرف غذا میں [ہی ]نہیں بلکہ مختلف صنعتوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ [ہر ]اہل وطن کو اپنے حقوق سے واقف ہونا چاہیے۔ تم نے سیندھا نمک کا نام سنا ہے [نا]۔ ان جملوں کو ادا کرتے ہوئے بھی ہی، ہر اور نا ، لفظوں پر زور دیا گیا ہے۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ جملے بنائے جن میں حروف تخصیص کا استعمال کیا گیا ہو :

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________
  4. _____________
  5. _____________

●وہ لفظ جو اپنے اصل معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اسے استعارہ کہتے ہیں۔ جیسے ہارون شیر “ ہے۔ اس جملے میں ہارون کو شیر کہا گیا نہ کہ شیر جیسا۔ یہاں شیر کا استعارہ ایک ساتھ کئی معنی پیدا کرتا ہے۔ ہارون شیر کی طرحپھر تیلا ہے یا بہاد رہے یا خوفناک ہے یا بھاری بھر کم ہے یا شیر کی طرح دوسروں کا سہارا نہیں لیتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی خوبیاں ایک ساتھ سامنے آتی ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ جملے بنائیے جن میں استعارے کا لفظ استعمال کیا گیا ہو :

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________
  4. _____________
  5. _____________

●آپ کو معلوم ہے کہ ایک جملہ کو مفرد جملہ کہتے ہیں۔ جب دو یا دو سے زیادہ جملوں کو جوڑ کر جملہ بنایا جاتا ہے تو اسے مرکب جملہ کہتے ہیں جیسے سورج ڈوب گیا اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ آپ مفرد جملوں کو جوڑ کر مرکب جملے بنائیے اور نیچے لکھیے :

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________
  4. _____________
  5. _____________

●آپ پڑھ چکے ہیں کہ کہاوت وہ فقرہ ، جملہ یا قول ہے جسے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے اونچی دکان پھیکا پکوان، آٹے میں نمک۔ کہاوت کے پیچھے کوئی واقعہ یا کہانی ضرور ہوتی ہے۔ ہماری زبان میں کہاوتوں کا ایک بڑا خزانہ پایا جاتا ہے۔ اپنے استاد کی مدد سے چند کہاوتیں اور ان کے پیچھے واقعات یا کہانی کو معلوم کر کے لکھیے:

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________
  4. _____________
  5. _____________

تلاش کیجیے

●نمک میں موجود آیوڈین کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟ اپنے اساتذہ یا گھر کے بڑوں سے معلوم کیجیے اور اپنی نوٹ بک میں لکھیے۔

●ہمارے ملک میں کچھ شہر کچھ چیزوں کے لیے مشہور ہیں۔ نیچے دیے گئے شہروں کے نام کے سامنے وہاں کی مشہور چیزوں کے نام لکھیے :

  1. کولکاتا _____________
  2. بنارس_____________
  3. آگرہ_____________
  4. میتھرا_____________
  5. ملیح آباد _____________

●بعض ایسے مرکب ہوتے ہیں جن میں دو الگ الگ لفظ مل کر ایک نیا لفظ بناتے ہیں لیکن اس میں دونوں الفاظ کی صفات نہیں پائی جاتیں جیسے گلاب جامن ، اس میں نہ گلاب ہوتا ہے اور نہ ہی جامن، اسی طرح آپ بھی تین مرکب تلاش کر کے لکھیے :

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________

●نمک کے حوالے سے کچھ محاورے دیے جارہے ہیں ان کے معنی لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے :

معنی جملوں میں استعمال

  1. نمک چھڑکنا _____________
  2. نمک کا حق ادا کرنا_____________
  3. زخموں پر نمک چھڑکنا_____________
  4. نمک مرچ لگانا_____________
  5. گفتگو میں نمک ہونا _____________

●سمندر کے کنارے آباد پانچ بڑے شہروں کے نام معلوم کر کے لکھیے:

  1. _____________
  2. _____________
  3. _____________
  4. _____________
  5. _____________

تخلیقی اظهار

●آپ نے نمک کی کہانی کا مطالعہ کیا اس طرح آپ شکر پر ایک کہانی تخلیق کیجیے۔

●نمک کے فوائد و نقصانات پر اپنے مختصر خیالات کا اظہار کیجیے۔

●آپ اپنے ساتھیوں کی مدد سے نمک پر ایک نظم لکھیے۔

●ڈانڈی مارچ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔

عملی کام

●ڈانڈی مارچ سےمتعلق کچھ تصاویر جمع کیجیے اور واقعاتی تسلسل کے ساتھ اپنی نوٹ بک میں چسپاں کرتے ہوئے ہر ایک کے لیے تعارفی جملہ لکھیے۔

●ہم سمندر سے اپنا نمک خود بنائیں گے اور انگریزوں کا نمک نہیں کھائیں گے۔ اسی طرح اپنے ساتھیوں کی مدد سے نعروں کی فہرست تیار کر کے اپنی جماعت میں لگائیے۔

●سبق میں نمک کی مختلف قسموں کا ذکر ہوا ہے جن میں سانبھر اور سیندھا نمک کھانے میں استعمال ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی جو نمک ہیں ان کے نام لکھ کر بتائیے کہ وہ کہاں سے حاصل ہوتے ہیں اور ان کا استعمال کیا ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر لائبریری کی مدد سے لکھ کر کمرۂ جماعت میں سنائیے۔

●دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ڈانڈی مقام پر واقع قومی نمک ستیہ گرہ میموریل کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔

https://nssm.in https://www.india
culture.gov.in/dandi-memorial
Screenshot 2025-09-08 140844