4 اشفاق اللہ خاں
ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایسے بے شمار نام شامل ہیں جنھوں نے وطن عزیز کے لیے اپنی جانیں تک قربان کر دی ہیں۔ قربانی دینے والے انھیں سپوتوں میں ایک نام کاکوری کیس میں شامل مجاہد آزادی اشفاق اللہ خاں کا بھی ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم محب وطن بلکہ قومی اتحاد کے بھی علم بردار تھے۔
اشفاق اللہ خاں 22 اکتوبر 1900 کو اتر پردیش کے شہر شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد شفیق اللہ خاں محکمہ پولیس سے بہ حیثیت انسپکٹر ریٹائرڈ تھے۔ اور والدہ مظہر النسا ایک نیک سیرت خاتون تھیں۔ اشفاق اللہ خاں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ وہ نہایت ذہین، خوش مزاج ، جو شیلے اور بہادر تھے۔ ان کی والدہ اکثر انھیں بہادری اور وطن دوستی کے قصے سناتی تھیں۔ ان قصوں نے انھیں حد درجہ متاثر کیا۔ وہ وطن پر انگریزوں کے ظلم وستم کے واقعات سن کر تڑپ اٹھتے تھے۔ زیادتیوں کے واقعات سن سن کر ان کے ذہن میں انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کا جذ بہ شدید ہوتا گیا۔ بڑھتی عمر کے ساتھ اشفاق اللہ خاں کے دل میں ہندوستان کو انگریزوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی خواہش زور پکڑتی گئی۔ یہی خواہش انھیں انقلابی تحریک کی طرف لے گئی۔
اس تحریک کے روح رواں اُس وقت رام پرساد بسمل تھے۔ اشفاق اللہ خاں کے بڑے بھائی ریاست اللہ خاں انھیں اکثر رام پرساد بسمل کے انقلابی کارناموں کے قصے سنایا کرتے تھے جس سے اُن کے دل میں بسمل سے ملنے کی خواہش پنپنے لگی۔ جب وہ اُن سے ملے تو ان کے انقلابی خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور ان کے ساتھ مل کر ایک انقلابی تنظیم ہندوستان ری پبلیکن ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی۔
رام پرساد بسمل کو اشفاق اللہ خاں پر اتنا بھروسہ ہو گیا کہ انھوں نے انھیں اپنار از دار بنالیا۔ دونوں کے آپسی مراسم بہت گہرے ہوتے گئے۔ دونوں قومی اتحاد اور معاشرتی و مذہبی اصلاحات کے بڑے حامی تھے۔ دونوں کو سیاست اور شاعری سے شغف تھا۔ ان کی انقلابی نظموں اور تقریروں کو بڑے شوق سے سنا جاتا تھا۔ شاعری میں اشفاق اللہ خاں کا تخلص حسرت تھا۔
انگریزی حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت تھی چنانچہ انقلابیوں نے سرمایے کی فراہمی کے لیے سرکاری خزانے پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کام کے لیے دس افراد کی جماعت بنائی گئی۔ جس میں اشفاق اللہ خاں خود شامل تھے ۔ رام پرساد بسمل نے اپنے انقلابی ساتھیوں کے سامنے ٹرین سے لے جائے جار ہے سرکاری خزانے پر قبضہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو تمام ساتھی خاموشی سے ٹن رہے تھے۔ اشفاق اللہ نے خاموشی توڑی اور پچھلے معاملات میں اپنائے گئے طریقوں کی کمزوریوں کا ذکر کیا اور اس منصوبے کو ان کمزورویوں سے بچانے کا مشورہ دیا۔ ان کے مشوروں کو انقلابی جماعت کے لوگ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ تجویز اتفاق رائے سے منظور ہو گئی۔ پھر اشفاق اللہ خاں نے کہا، ” کہنا میرا کام تھا کہہ دیا۔ کام ہم سب مل کر کریں گے۔ ضرورت پڑی تو میں جان بھی دے دوں گا لیکن منصوبے ناکام نہیں ہونے دوں گا۔“
انقلابیوں کی جماعت نے طے کیا تھا کہ سرکاری خزانہ لے جارہی ٹرین کو لکھنو سے کچھ فاصلہ پر عالم نگر اور کاکوری اسٹیشن کے درمیان روکیں گے اور خزانہ اپنی تحویل میں لے لیں گے۔ چنانچہ انھوں نے یہی کیا۔ سرکاری خزانہ ان کے قبضے میں آگیا۔ اس دشوار ترین کام میں اشفاق اللہ خاں نے بڑی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔
کاکوری کا یہ واقعہ تاریخ آزادی ہند میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ انگریزوں کی طاقت، ان کے غرور و گھمنڈ پر ایک ضرب کاری تھا۔ اس سے برطانوی حکومت بوکھلا اُٹھی۔ ہندوستان میں موجود برطانوی وائسرائے لارڈ ریڈنگ نے فوراً اسکاٹ لینڈ یارڈ پولس محکمے کو تفتیش کے لیے نام زد کیا۔ انقلابیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ کئی انقلابی گرفتار کر لیے گئے۔ مگر اشفاق اللہ خاں کسی طرح بچ نکلے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ پہلے بنارس چلے گئے۔ پھر مسلسل مقامات بدلتے رہے۔ جن میں لکھنو ، بھوپال، اجین اور جھا بو او غیرہ کے مقام شامل ہیں۔ اس کے بعد بہار کے ضلع پلاموں میں ڈالٹن گنج (موجودہ جھارکھنڈ میں) ہوتے ہوئے دہلی آئے جہاں وہ گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتاری کے بعد انھیں کچھ دنوں تک لکھنو جیل میں رکھا گیا اور پھر فیض آباد جیل منتقل کر دیا گیا۔
کاکوری مقدمے میں برطانوی حکومت نے اشفاق اللہ خاں، رام پرساد بسمل ، راجندر لاہری اور ٹھاکر روشن سنگھ کو موت کی سزاسنائی۔ اشفاق اللہ خاں نے جیل سے ایک خط لکھ کر اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی تھی ” آپ کا مذہب، آپ کی روایات چاہے ہے کچھ بھی ہوں ، آپ ان سے اوپر اٹھ کر ملک کی خدمت میں ایک دوسرے کا تعاون کیجیے ... حکومت برطانیہ سے لوہا لیجیے اور ملک کو آزاد کرائیے۔“
لکھنو میں اشفاق اللہ خاں کا مقدمہ ڈپٹی کلکٹر عین الدین کی عدالت میں پیش ہوا۔ اس کے بعد یہ مقدمہ سیشن جج ہملٹن کی عدالت میں زیر سماعت آیا۔ 6 اپریل 1927 کو لکھنو کے سیشن جج ہملٹن نے اشفاق اللہ خاں کو پھانسی کی سزاسنائی۔ ان پر پانچ دفعات لگائی گئی تھیں۔ جن میں دو دفعات کے تحت تا عمر کالا پانی کی سزا اور تین دفعات کے تحت سزائے موت دی گئی تھی۔ اشفاق اللہ خاں سزائے موت کا اعلان سن کر جب عدالت سے باہر نکلے تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے کہا ” آپ کو فخر کرنا چاہیے کہ خاندان کا ایک شخص ظلم و جبر سے ٹکر لیتا ہوا تختہ دار پر چڑھ گیا۔ “ مقدمہ کے دوران انگریزوں نے اشفاق اللہ خاں کو سرکاری گواہ بنانے اور رام پرساد بسمل کے خلاف گواہی دینے کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے انگریزوں کی اس کوشش کو حقارت سے ٹھکرادیا ۔ 19 دسمبر 1927 کو انھیں پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی کے تختے کی طرف جاتے ہوئے ان کی زبان پر یہ جملہ تھا۔ ”اگر مجھے ہزار بار پھانسی دی جائے اور میں ایک ہزار دفعہ مرمر کے دوبارہ پیدا ہوں تو بھی وطن عزیز کے لیے مر مٹنے کا میرا جذ بہ اسی طرح ترو تازہ رہے گا۔ “ جیلر نے ان سے جب آخری خواہش دریافت کی تو انھوں نے شعر پڑھا
کچھ آرزو نہیں ہے، بس آرزو تو یہ ہے
رکھ دے کوئی ذرا سی خاک وطن کفن میں
اشفاق اللہ خاں ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے یہ خوشی تختہ دار پر چڑھ گئے۔ اُن کے آبائی شہر شاہ جہاں پور میں نصب کیا گیا ان کا مجسمہ آج بھی ہمیں ان کی عظیم قربانی اور وطن سے گہری محبت کی یاد دلاتا ہے۔
-اداره
لفظ و معنی
غور کیجیے
سوچیے اور بتائیے
- اشفاق اللہ خاں کی کردار سازی میں ان کی والدہ کا کیا رول تھا؟ تھا ؟
- اشفاق اللہ خاں کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں کیا تھیں؟
- اشفاق اللہ خاں کے علاوہ ان کے ساتھ کن مجاہدین آزادی کو پھانسی دی گئی؟
- اشفاق اللہ خاں اور ان کے ساتھیوں کی انقلابی تنظیم کے کیا مقاصد تھے؟
- پھانسی کے تختے پر اشفاق اللہ خاں کے آخری الفاظ کیا تھے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●سبق میں مجاہد آزادی اور محب وطن الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ جو مرکب الفاظ ہیں۔ ان میں اضافت کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح کے پانچ مرکب الفاظ سبق سے تلاش کر کے لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے:
- ___________
- ___________
- ___________
- ___________
- ___________
●نیچے دیے گئے لفظوں کے متضاد لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
- پخته__________
- جال باز_________
- متحرک__________
- دائمی__________
- حقیقت__________
●کچھ اسم ایسے ہوتے ہیں جن میں ذراسی تبدیلی کر کے اسم فاعل بنائی جاتی ہے یعنی فعل کی نسبت سے کام کرنے والے کو اسم فاعل کہتے ہیں جیسے کھیل سے کھلاڑی یعنی کھیلنے والا۔ نیچے دیے گئے اسم سے اسم فاعل بنائیے اور ان کے معنی بھی لکھیے :
- عدل ____ ___________
- سکونت ____ ___________
- رقعه ____ ___________
- مشقت ____ ___________
●ذیل میں بہادری سے متعلق محاورے دیے گئے ہیں۔ ان محاوروں پر غور کیجیے اور ان کے آگے معنی لکھ کر انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :
- دانت کھٹے کرنا__________
- منہ توڑ جواب دینا_________
- چھٹی کا دودھ یاد دلانا__________
- ناکوں چنے چبوانا__________
- ہوش اڑا دینا__________
- دن میں تارے دکھانا__________
●آپ پچھلی جماعت میں فعل ، فاعل اور مفعول کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ نیچے دیے گئے جملوں پر غور کیجیے اور مثال کے مطابق ان میں فعل ، فاعل اور مفعول کے الفاظ ان کے آگے لکھیے اور ان کی وضاحت بھی کیجیے :
مثال :بچے نے بلی کو دودھ پلایا۔ پلانا بچہ بلی
- کسان نے کھیت میں ہل چلایا-
- طالب علم نے یوم آزادی پر مضمون لکھا۔
- سعد یہ کتاب پڑھ رہی ہے۔
- موہن لال قلعہ دیکھنے گیا۔
تخلیقی اظهار
●ملک کی جدو جہد آزادی کے دوران انگریزوں نے آزادی کے متوالوں پر ظلم وستم کی انتہا کر دی۔ ایسے کئی دل دہلا دینے والے واقعات پیش آئے جن میں سے ایک روح فرسا واقعہ جلیان والا باغ کا سانحہ تھا۔ اس سانحے کی تفصیلات لائبریری سے تلاش کیجیے اور ایک مضمون لکھیے۔
عملی کام
●اشفاق اللہ خاں کی طرح آزادی کے کچھ اور متوالے نوجوان تھے جنھوں نے حکومت برطانیہ کے خلاف آواز اٹھائی اور تختہ دار پر چڑھا دیے گئے۔ اپنے علاقے کے مجاہدین آزادی کے نام اور کارناموں کی فہرست بنا کر چارٹ پر لگائیے۔ آپ نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے ان کے متعلق معلومات اور ان کی تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔
https://www.indiaculture.gov.in https://amritmahotsav.nic.in
●برطانوی حکومت میں تحریک آزادی کے متوالوں کو مختلف قسم کی سخت سزائیں دی جاتی تھیں جیسے عمر قید ، جلا وطنی اور پھانسی وغیرہ۔ ان میں کالا پانی بھیجنے کی سزا بھی شامل تھی۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے انڈمان اور نکوبار میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل سیلولر جیل جہاں کالا پانی کی سزا پائے جانے والے قیدیوں کو رکھا جاتا تھا، کے بارے میں معلوم کیجیے اور اسے اپنی کاپی میں لکھیے۔
https://southandaman.nic.in/tourist-place/cellular/
●تحریک آزادی میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ پانچ ایسی خواتین کے نام لکھیے جو ملک کی جدو جہد آزادی میں شامل تھیں؟