Skip to content
Sitaar Urdu







6 تین سوال


ایک بار ایک بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اُسے پہلے سے ہی معلوم ہو جایا کرے کہ کسی کام کے شروع کرنے کا صحیحوقت کیا ہے، وہ کون سے مناسب لوگ ہیں جن کی رائے پر بھروسہ کیا جائے اور وہ کہ جن سے بچا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر اُسے یہ پہلے سے معلوم ہو جائے کہ وہ کون سا کام ہے جس کا کر نا سب سے زیادہ ضروری ہے تو اسے کبھی ناکامی کا منھ نہ دیکھنا پڑے۔

Screenshot 2025-09-09 at 11-48-19 huky107.pdf

یہ خیال دل میں آتے ہی بادشاہ نے پوری سلطنت میں منادی کرادی کہ وہ اُس شخص کو ایک بڑا انعام دے گا جو اُسے یہ بتا سکے کہ ہر کام کے شروع کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟ بہت اہم لوگ کون ہیں؟ اور سب سے زیادہ ضروری کام کیا ہے جو اُسے کرنا چاہیے۔

بادشاہ کے پاس بہت سے لوگ آئے لیکن ان سب نے بادشاہ کے سوالات کے مختلف جوابات دیے۔ جوابات مختلف ہونے کی وجہ سے بادشاہ ان میں سے کسی سے اتفاق نہ کر سکا اور نہ اس نے کسی کو انعام دیا ۔ لیکن چوں کہ وہ اپنے سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے اب بھی فکر مند تھا، اس لیے اُس نے طے کیا کہ وہ ایک سادھو سے مشورہ کرے گا جو اپنی سوجھ بوجھ کی وجہ سے سلطنت کے کونے کونے میں مشہور تھا۔

وہ سادھو ایک جنگل میں رہتا تھا جس کے باہر کبھی نہیں گیا تھا۔ وہ عام آدمیوں کے علاوہ کسی سے نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ بادشاہ نے معمولی کپڑے پہنے اور سادھو کی کٹیا سے پہلے ہی وہ اپنے گھوڑے سے اُتر کر اور اپنے سپاہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سادھو سے ملنے کے لیے اکیلا چل پڑا۔

Screenshot 2025-09-09 at 11-50-30 huky107.pdf

بادشاہ قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُس وقت سادھو اپنی کٹیا کے سامنے زمین کی کھدائی کر رہا تھا۔ بادشاہ کو دیکھتے ہی اس نے اُسے سلام کیا اور گھومتارہا۔ سادھو ڈ بلا پتلا اور کمزور تھا۔ ہر بار جب وہ اپنا پھاوڑا زمین پر چلاتا، بہت تھوڑی مٹی کھود پاتا اور بری طرح ہانپنے لگتا۔

بادشاہ اس کے پاس گیا اور کہا ، سادھو مہاراج، ہم آپ کے پاس تین سوالوں کے جواب لینے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ کام کرنے کا صیح وقت کیا ہے ؟ دوم یہ کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی مجھے بہت ضرورت ہے تا کہ میں دوسروں کے مقابلے میں ان پر زیادہ توجہ دے سکوں؟ تیسرا یہ کہ وہ کون سے معاملات ہیں جو بہت ضروری ہیں اور جن پر مجھے فوراً توجہ کرنی چاہیے؟“

سادھو نے بادشاہ کی بات سنی لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ اور پھر زمین کھودنے لگا۔

” آپ تھک گئے ہیں۔“

بادشاہ نے کہا، ” مجھے پھاوڑا دیجیے، میں تھوڑی دیر آپ کا کام کروں گا۔“

شکریہ “ سادھو نے کہا اور بادشاہ کو پھاوڑا دے کر زمین پر بیٹھ گیا۔

جب بادشاہ دو چار کیاریاں کھود چکا تو وہ ٹھہر گیا اور اس نے پھر اپنے سوال دہرائے۔ سادھو نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور پھاوڑے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ، ” اب آپ دم بھر آرام کریں اور مجھے تھوڑا کام کرنے دیں۔ “ لیکن بادشاہ نے ان کو پھاوڑا نہیں دیا اور زمین گوڑ تارہا۔ ایک گھنٹہ گزرا اور دوسرا بھی۔ سورج درختوں کے پیچھے چھپنے لگا۔ بادشاہ نے آخر کار پھاوڑاز مین پر مارتے ہوئے کہا، ” عقل مند آدمی! میں آپ کے پاس اپنے سوالوں کے جواب لینے آیا تھا۔ اگر کوئی جواب نہیں دے سکتے تو کہہ دیجیے، میں اپنے گھر لوٹ جاؤں۔“

” کوئی آدمی بھا گا ہوا آرہا ہے۔ “ سادھو نے کہا، ” آؤ دیکھیں وہ کون ہے۔“

بادشاہ گھوما۔ اس نے ایک زخمی آدمی کو جنگل سے بھاگ کر آتے ہوئے دیکھا۔ آدمی اپنے ہاتھوں سے اپنا پیٹ دبائے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ درد سے کراہتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچا اور زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔ بادشاہ اور سادھو نے اس آدمی کے کپڑے کھولے۔ اس کے پیٹ میں ایک بڑ از خم تھا۔ بادشاہ نے جہاں تک ہو سکا اس کے زخم کو اچھی طرح دھویا۔ سادھو نے جڑی بوٹیوں سے بنی دوا کو زخم پر لگا کر پٹی باندھ دی۔ خون کا بہنا بند ہو گیا۔ جب آدمی کو ہوش آیا تو اس نے کچھ پینے کے لیے مانگا۔ بادشاہ تازہ پانی لے کر آیا اور اسے پلایا۔ سورج ڈوب چکا

Screenshot 2025-09-09 at 12-02-52 huky107.pdf

تھا اور ٹھنڈک بھی بڑھ چلی تھی اس لیے بادشاہ نے سادھو کی مدد سے زخمی کو جھونپڑے کے اندر پہنچایا اور اسے چار پائی پر لٹا دیا۔ چار پائی پر لیٹتے ہی اس آدمی نے آنکھیں بند کر لیں اور خاموش ہو گیا۔ بادشاہ بھی دن بھر کی دوڑ دھوپ اور کام کی وجہ سے اتنا تھک گیا تھا کہ وہ دہلیز پر ہی پڑ کر سو ر ہا۔ رات بھر اس کی آنکھ نہ کھلی ۔ صبح جب اسے ہوش آیا تو اس کو بڑی دیر تک یاد نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ آدمی جو زخمی تھا اور چار پائی پر لیٹا ہوا اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے اُسے کٹکی لگائے ہوئے دیکھ رہا ہے، کون ہے؟

مجھے معاف کر دیجیے۔ “ اس آدمی نے بادشاہ کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو کہا۔

میں تم کو جانتا نہیں اور ایسی کیا بات ہے جس کے لیے میں تم کو معاف کروں۔ “ بادشاہ نے کہا۔

آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو جانتا ہوں۔ میں آپ کا وہ دشمن ہوں جس نے آپ سے بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی۔ آپ نے میرے بھائی کو قتل کر دیا تھا اور اس کی جائداد ضبط کر لی تھی۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ سادھو سے ملنے اکیلے گئے ہیں۔ میں نے طے کیا کہ جب آپ لوٹیں گے تو میں آپ کو راستے میں قتل کر دوں گا لیکن دن گزر گیا اور آپ نہیں ئے۔ اس لیے میں آپ کا پتہ لگانے کے لیے اپنی کمین گاہ سے نکل آیا۔ اسی درمیان آپ کے حفاظتی دستے کے سپاہیوں سے میری مڈ بھیڑ ہوگئی۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا اور زخمی کر دیا۔ میں ان سے بیچ کر تو بھاگ آیا لیکن اگر آپ میرے زخم پر پٹی نہ باندھتے تو میں زیادہ خون نکل جانے کی وجہ سے مر جاتا۔ میں نے آپ کو قتل کرنا چاہا لیکن آپ نے میری جان بچالی۔ اب اگر میں زندہ رہا اور آپ نے میری درخواست قبول کی تو میں ساری زندگی آپ کی خدمت ایک وفادار غلام کی حیثیت سے کرتار ہوں گا۔ میں اپنے بچوں کو بھی نصیحت کر جاؤں گا کہ وہ ایسا ہی کریں۔ مجھے معاف کر دیجیے۔“

بادشاہ اپنے دشمن سے اتنی آسانی سے صلح کر کے اور اُسے دوست بناکر بہت خوش ہوا۔ اُس نے اس کو معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے کہا کہ وہ اپنے نوکروں اور شاہی طبیب کو اس کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے بھیجے گا اور اس کی جائداد بھی اسے واپس کر دے گا۔

زخمی آدمی سے رخصت ہو کر بادشاہ دہلیز کے سامنے گیا اور ادھر اُدھر سادھو کو دیکھنے لگا۔ جانے سے پہلے وہ ایک بار پھر اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سادھو باہر بیٹھا ہوا ان کیاریوں میں بوائی کر رہا تھا جو ایک روز پہلے کھودی اور بنائی گئی تھیں۔

بادشاہ سادھو کے پاس پہنچا اور کہنے لگا۔

عقل مند آدمی! میں آخری بار آپ سے اپنے سوالوں کے جواب کی درخواست کرتا ہوں۔“

جواب تو تم پا چکے ہو ۔ “ سادھو نے کہا جو ابھی تک اپنی دبلی پتلی ٹانگوں پر جھکا ہوا بادشاہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔

کیسا جواب؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟“

” کیا تمھاری سمجھ میں نہیں آیا؟“ سادھو نے پوچھا۔ اگر تم نے کل مجھ کمزور پر ترس کھا کر میری ان کیاریوں کو کھودا نہ ہوتا اور اپنے راستے پر چلے گئے ہوتے تو وہ آدمی تم پر حملہ کر دیتا اور تم میرے ساتھ نہ ٹھہرے رہنے پر افسوس کر رہے ہوتے۔ اس لیے وہ وقت بہت اہم تھا جب تم کیاریاں کھود رہے تھے۔ میں بھی بہت اہم تھا اور میرے ساتھ نیکی کرنا سب سے اہم کام تھا۔ بعد کو جب وہ آدمی بھاگ کر ہم لوگوں کے پاس آیا تو وہ وقت بھی بڑا اہم تھا اور تم نے اس کے لیے جو کچھ کیا وہ بھی بہت اہم کام تھا۔ اس لیے یاد رکھو کہ وقت ایک ہی بہت اہم ہے اور وہ ہے اب ! یہ وقت بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ یہی وہ وقت ہے جب ہمارے پاس طاقت ہے۔ وہ آدمی سب سے اہم ہے جس کے ساتھ تم ہو ۔ کیوں کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس سے پھر کبھی سابقہ پڑے گا بھی یا نہیں ضروری ہے کہ ایسے انسان کے ساتھ نیکی کی جائے، اس لیے کہ انسان کو یہ زندگی اسی مقصد سے عطا ہوئی ہے۔“

--لیو ٹالسٹائی

لفظ و معنی

منادی : اعلان
کٹیا : جھونپڑی
گوڑنا : بیج بونے کے لیے زمین کھودنا
جائداد : مرکان، زمین، مال و اسباب
ضبط کرنا : سرکاری قبضے میں لے لینا
کمین گاه : چھپنے کی جگہ ، وہ جگہ جہاں چھپ کر دشمن پر حملہ کیا جائے
حفاظتی دسته : سپاہیوں کا وہ دستہ جو حفاظت کے کام پر معمور ہو
طبيب : حکیم، علاج کرنے والا، معالج

غور کیجیے

ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اگر وہ کام وقت پر نہ کیا جائے تو پھر ٹھیک سے انجام نہیں پاسکتا اسی لیے کہا گیا ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔
اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں سخت محنت اور لگن سے کام کرنا چاہیے کسی بھی کام کو کرنے کے لیے صبر اور تحمل کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. آپ کو تین سوالوں میں سب سے مشکل سوال کون سالگا اور کیوں؟
  2. بادشاہ نے اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا ؟
  3. سادھو کا بادشاہ کو اپنے پاس روکنے کا سبب کیا تھا؟
  4. زخمی آدمی کون تھا اور اس کی بادشاہ سے کیا دشمنی تھی؟
  5. بادشاہ کو اپنے سوالوں کا اطمینان بخش جواب کب اور کس طرح ملا ؟
  6. اگر بادشاہ کی جگہ آپ ہوتے تو سوالوں کا حل کس طرح تلاش کرتے؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●آپ پڑھ چکے ہیں کہ تین حرفی مادے سے مختلف نئے الفاظ بنائے جاتے ہیں۔ یہ مادہ تین حرفی یا چار حرفی ہوتا ہے۔ جیسے شکر مادہ ہے، اس سے مشکور، تشکر ، شکور، شاکر اور متشکر الفاظ بنتے ہیں۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کیجیے اور نیچے دیے الفاظ سے نئے الفاظ بنائیے : ( آپ لغت کی مدد بھی لے سکتے ہیں۔ )

  1. نظر _______________
  2. نظم _______________
  3. كتب _______________
  4. کرم _______________

●ایسے الفاظ جو تلفظ یا املا کے لحاظ سے تو ایک جیسے ہوں ، مگر معنی کے اعتبار سے مختلف ہوں صنعت تجنیس کہلاتے ہیں۔ نیچے دیے گئے جنیسی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایسے جملے بنائیے، لیکن خیال رہے دونوں کے معنی مختلف ہوں:

  • مانگ _______________
  • کل _______________
  • خط _______________
  • کان _______________
  • پر _______________
  • بند _______________

●آپ جانتے ہیں کہ عام بول چال کے وہ جملے جو اپنے لفظی معنی سے ہٹ کر کچھ اور معنی ادا کرتے ہیں انھیں ضرب المثل کہتے ہیں۔ مثال کے مطابق نیچے دیے گئے جملوں کو ان سے تعلق ضرب المثل سے ملائیے :

  1. مایوسی میں ذراسی مدد بھی بہت کام دے جاتی ہے------ دور کے ڈھول سہانے
  2. ایک وقت میں دو کام انجام دینا-------- جیسا بوئے گا ویسا کاٹے گا
  3. برائی کا نتیجہ برا اور اچھائی کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے-------- ڈوبتے کو تنکے کا سہارا
  4. کسی شخص یا چیز کو بغیر جانے ہوئے اچھا سمجھ لینا-------- ایک پنتھ دو کاج
  5. جو چیز آنکھوں کے سامنے ہو اس کو کیا بیان کرنا-------- آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
  6. ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا-------- ہاتھ کنگن کو آرسی کیا

●آپ جانتے ہیں کہ جب ایک ہی لفظ کو دوبار استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے منی میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے الفاظ کو تکرارلفظی کہتے ہیں۔ ذیل میں دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے :

الفاظ جملے

  1. جلدی جلدی_______________
  2. موٹے موٹے_______________
  3. باغ باغ_______________
  4. اچھے اچھے_______________
  5. آہستہ آہستہ_______________
  6. رفته رفته_______________

●نیچے دیے گئے جملوں میں فعل کی نشان دہی کیجیے اور اس فعل کی قسم بھی بتائیے :

  1. بادشاہ سادھو سے مشورہ کرے گا۔_____
  2. سادھو اپنی کٹیا کے سامنے زمین کی کھدائی کر رہا تھا۔_____
  3. بادشاہ نے کہا کہ ” مجھے پھاوڑادو میں تمھارا کام کروں گا۔“_____
  4. وہ آدمی زمین پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔_____
  5. آپ کے حفاظتی دستوں سے میری مڈ بھیڑ ہو گئی۔_____

تلاش کیجیے

●کہانی میں آئے اس جملے پر غور کیجیے :” وہ آدمی جو زخمی تھا اور چار پائی پر لیٹا ہوا اپنی چمکتی آنکھوں سے کٹکی لگائے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ “ اس جملے میں لفظ چار پائی استعمال ہوا ہے۔ چار پائی کے مترادفات ہیں چھوٹا پلنگ، کھاٹ، پلنگڑی ، مسہری۔ آپ لائبریری سے رشید احمد صدیقی کا انشائیہ ' چار پائی اور مشتاق احمد یوسفی کا چار پائی اور کلچر حاصل کر کے پڑھیے۔

تخلیقی اظهار

●آپ نے کوئی کہانی ضرور پڑھی ہو گی۔ اپنی پسندیدہ کہانی کے مرکزی خیال کو بنیاد بنا کر اپنی زبان میں ایک کہانی لکھیے۔ آپ نیچے دیے گئے الفاظ کی مدد سے بھی کہانی لکھ سکتے ہیں :

جنگل کا ماحول __ صبح کا وقت __ سادھو کی کٹیا __ سندی کا کنارہ __ ہرنوں کا جھنڈ
۔ گھوڑے پر سوار شہزادہ __ زخمی ہرن __ مرہم پٹی کرتا ہوا سادھو__

●ہم جماعت طلبا کے ساتھ مل کر اسکول کے سالانہ جلسے کے پروگرام کا منصوبہ تیار کیجیے اور اسے اسکول انتظامیہ کے سامنے پیش کیجیے۔

●تصور کیجیے کہ آپ کو اپنے علاقے کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات کا موقع حاصل ہو ، آپ اُن سے کون سے دس سوالات پوچھنا چاہیں گے۔ دی گئی جگہ میں لکھیے :

  1. _______________________
  2. _______________________
  3. _______________________
  4. _______________________
  5. _______________________
  6. _______________________
  7. _______________________
  8. _______________________
  9. _______________________
  10. _______________________

عملی کام

●آج کل درخت بہت تیزی سے کاٹے جار ہے اور شہر بسائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ماحول کا توازن بگڑتا اور آلودگی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ آپ آس پاس کے درختوں کی حفاظت کے لیے کون سی تدابیر اختیار کریں گے اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔

●اپنے اسکول میں اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے مل کر ایک کیاری بنائیے اس کی نرائی، گڑائی کیجیے اور اس میں اپنے پسندیدہ پھولوں کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال کیجیے۔