7
کازی رنگ نیشنل پارک
انسانی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے سبب نئی نئی بستیاں بسانے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جنگلات کاٹنے شروع کر دیے گئے۔ جنگلات کم ہوئے تو آب و ہوا اور ماحولیات کا توازن بگڑنے لگا۔ انسان کو اپنی ناسمجھی کے باعث نقصانات کا اندازہ ہوا تو جنگلوں کو محفوظ کیے جانے کی فکر ہوئی تا کہ ان میں رہنے والے جانور اور پیڑ پودوں کی بھی حفاظت کی جاسکے اور ماحولیاتی توازن بھی نہ بگڑنے دیا جائے حکومت کے ذریعے بنائے قوانین کی مدد سے جنگلوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ ان محفوظ جنگلات کو نیشنل ریز رو پارک کہا جاتا ہے۔ ان پارکوں میں پیڑ پودوں اور جانوروں کو وہاں پہلے سے موجود قدرتی ماحول میں قائم رکھا جاتا ہے۔ ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی۔ البتہ تفریحی سیاحت یا تحقیقی مقاصد کے لیے داخلہ کی اجازت ہوتی ہے۔
ہوتی۔ البتہ تفریحی سیاحت یا تحقیقی مقاصد کے لیے داخلہ کی اجازت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت سو سے زیادہ نیشنل ریز رو پارک ہیں۔ ان پارکوں میں اتراکھنڈ میں واقع جم کاربٹ پارک، راجستھان کا رتھمبور، گجرات کا گیر جنگل، مغربی بنگال کا سندر بن اور آسام کا کازی رنگا نیشنل پارک بہت مشہور ہیں۔
کازی رنگا نیشنل ریز رو پارک ہمارے ملک کے بڑے اور مشہور پارکوں میں سے ایک ہے۔ یہ پارک آسام کے گولا گھاٹ اور نو گاؤں ضلعوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ ہمالیہ کی ترائی میں مشرقی سرے کے گرم اور مرطوب آب و ہوا والے علاقہ میں واقع ہے۔ اس پارک میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کی بہت سی قسمیں پائی جاتی ہیں خصوصاً ایک سینگ والے گینڈے یہاں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر کا حسن بھی چاروں طرف بکھرا پڑا ہے۔ کازی رنگا نیشنل پارک کا قیام 1905 میں انگریز وائسرائے لارڈ کرزن کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ لارڈ کرزن نے ڈھائی سو کلومیٹر کے رقبے کو محفوظ کر کے یہاں شکار پر پابندی لگادی تھی۔ صرف سیاحوں کو اجازت نامہ جاری کر کے گھومنے کی اجازت تھی۔ 1974 میں حکومت کی جانب سے اسے نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا اور 1985 میں یونیسکو (UNESCO) نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) کا درجہ دیا۔ یہ قومی پارک برہم پتر ندی کے کنارے واقع ہے۔ برہم پتر میں تقریبا ہر سال زبر دست سیلاب آتا ہے جس سے پارک کے تین چوتھائی حصہ میں پانی بھر جاتا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں جانوروں کی جانیں تلف ہو جاتی ہیں۔ پارک کے جانوروں کی جان الحاجات بچانے کے لیے اس پارک کی سرحد پر ایک اور نیشنل پارک بنایا گیا جس کا نام مانس (Manas) ہے۔ بارش کے دنوں میں جانوروں کو اس پارک میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ پارک کازی آنگ (Kazi Aang) پہاڑ کے قریب واقع ہے۔ سیلاب کی صورت حال ختم ہونے کے بعد یہ جانور واپس نیچے آجاتے ہیں۔
اس پارک کا نام کازی رنگا کیوں پڑا ؟ اس سے متعلق یوں تو کئی دل چسپ کہانیاں مشہور ہیں۔ لیکن یہ بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ کربی زبان میں "کازی، بکری یا ہرن کو کہتے ہیں اور رنگا سرخ رنگ کو کہا جاتا ہے۔ چوں کہ اس پارک میں سرخی مائل ہرن بکثرت پائے جاتے ہیں ، اسی لیے اس کا نام ” کازی رنگا پڑ گیا۔ یہ پارک گرچہ ایک سینگ والے گینڈوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن یہاں اس کے علاوہ بھی انواع و اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ مثلا ہاتھی سفید موزوں والے بڑے اور طاقتور پانی کے بھینسے، پاڑے، سانبھر ، ہرن، بارہ سینگھے ، جنگلی سور ، تیندوے، جنگلی بلی ، سانپ جیسی پھنکار نکالنے والے خرگوش ، بڑے اور بھورے نیولے، لومڑیاں، گیدڑ، لمبی تھوتھنی والے بھالو، چھلانگ لگانے والی لومڑیاں، مکاؤ بندر ، لنگور، بن مانس جنھیں انگریزی میں Ape کہتے ہیں اور کالے سر والے بندر بلکہ پینگوئن بھی اس پارک میں مل جاتے ہیں۔ یہ پارک Project( پروجیکٹ ٹائیگر Tiger) کے تحت بھی منظور ہے ۔ یہاں بڑی تعداد میں سیاح آزاد گھومتے باگھوں کو دیکھنے کے مقصد سے آتے ہیں ۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ باگھ ، چیتا اور تیندوا جیسے سبھی جانور بلی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی شکل و صورت اور عادات و اطوار بڑی حد تک بلی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی لیے انھیں بڑی بلی (Big Cat) کہا جاتا ہے۔ کازی رنگا کی ایک اور خاصیت یہاں جنگلی بلیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی ہے۔ جنگلی بلیاں جسامت میں ہمارے شہروں میں پائے جانے والی بلیوں سے کہیں زیادہ بڑی اور بے حد خونخوار ہوتی ہیں۔ کئی بلیاں مل کر کسی بڑے جانور پر حملہ کر دیں تو اسے جان بچانی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی جنگلی بلیاں عام طور پر ہر نیشنل پارک میں نہیں پائی جاتیں۔ یہاں کے جنگلی بھینے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ سیاہ، لمبے چوڑے طاقتور ، نوکیلے سینگوں والے بھینے یہاں کثرت سے ملتے ہیں۔ اگر شیر اُن پر حملہ کرنے کی غلطی کر بیٹھے تو اسے بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے۔ پیمضبوط بھینے ، شیر
اور چیتے کو اپنے سینگوں پر اٹھا کر دور پھینک دیتے ہیں۔ جھنڈ میں یہ اور بھی خطر ناک ہو جاتے ہیں۔ بڑی بلیاں ( شیر وغیرہ) اگر انھیں اپنا شکار بنانا چاہیں تو پورا جھنڈ اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہے اور باگھ کو جان بچا کر بھاگتے ہی بن پڑتا ہے۔ یہ گہرے کالے ہوتے ہیں لیکن ان کے پاؤں کے بال نیچے سے ایک ڈیڑھ فٹ اوپر تک بالکل سفید ہوتے ہیں جیسے انھوں نے سفید موزے پہن رکھے ہوں۔ پارک میں گھومنے والے سیاحوں کی گاڑیوں کو اگر بھینسے ، ہاتھی یا گینڈوں کا جھنڈ سڑک پار کرتا نظر آجائے تو وہ کافی فاصلے پر گاڑی روک لیتے ہیں تا کہ کسی امکانی خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔
گینڈوں کی طاقت کا تو جواب ہی نہیں ہے۔ نیشنل پارک کی اصل رونق انہی سے ہے۔ ان کا سینگ کالا، بڑا اور نو کیلا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی جان ان سینگوں میں ہوتی ہے۔ یہ گینڈے عموماً تنہا گھومتے ہوئے اکثر سیاحوں کو نظر آجاتے ہیں۔
کازی رنگا نیشنل پارک مختلف قسم کے پرندوں کے لیے بھی مشہور ہے ۔ سردی کے موسم میں ٹھنڈے ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کے لیے بھی یہ ایک بہترین پناہ گاہ ہے۔ آس پاس کی جھیلوں اور ندیوں میں مچھلیاں اور مگر مچھ بھی ہیں۔ ان پانیوں میں آبی پرندے سارس اور بگلے (Sea Guls) بھی مل جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں یہاں بڑی تعداد میں گدھ بھی ہوا کرتے تھے۔
جانوروں کی حفاظت کے لیے جنگلات کے محکمے نے بڑی تعداد میں رینجرس (Rangers) مقرر کیے ہیں جو پوچروں (Poachers) سے جانوروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سیاحوں کو پارک میں گھمانے کے لیے جیپوں (Jeep) اور ہاتھیوں کا انتظام ہے۔ آبی راستوں پر کشتیاں بھی کرائے پر مل جاتی ہیں۔ اس طرح زمین اور پانی دونوں مقامات کی سیر کا عمدہ انتظام ہے۔ ریاستی حکومت کا محکمہ جنگلات جانوروں کی فلاح، درختوں کی دیکھ بھال اور نئے درختوں کی پود لگانے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔
کازی رنگا نیشنل پارک نہایت شاندار پارک ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن، نایاب جانوروں، پرندوں، آبی جانوروں اور درختوں کے لیے ساری دنیا میں شہرت رکھتا ہے۔ مخصوص موسم میں دیس بدیس کے سیاحوں کا یہاں میلہ سالگا رہتا ہے۔ یہ پارک ہمارے ملک کا ایک بیش قیمت اور نایاب قدرتی ورثہ ہے۔
--اداره
لفظ و معنی
غور کیجیے
سوچیے اور بتائیے
- کازی رنگا نیشنل پارک میں ایک سینگ والے گینڈے کے علاوہ کون کون سے جانور موجود ہیں؟
- ائلڈ لائف سنچری میں دوسرے جنگلات سے لاکر جانور کیوں چھوڑے جاتے ہیں؟
- نیشنل پارک مانس کے قیام کا مقصد کیا ہے؟
- نیشنل پارک میں رینجرس (Rangers ) کس کام کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں؟
- بڑی بلی کس کو کہا گیا ہے اور کیوں؟
●خالی جگہوں کو پر کیجیے:
- بہادر لوگ ______ سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔(مشکل مشکلات)
- سمندر کی بعض ______ ہوا میں اڑتی بھی ہیں۔ (مچھلی مچھلیاں)
- جاپان میں لکڑی کی ______ بنائی جاتی ہیں۔ (عمارت عمارتیں )
- پارک میں کئی ______ فوارے لگے ہوئے ہیں۔ (عدد/ اعداد)
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●ان جملوں کو غور سے پڑھیے:
- آسمان میں کالے کالے بادل چھا رہے ہیں۔
- آبادی میں بڑھوتری کے سبب نئی نئی بستیاں بسانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
پہلے جملے میں کالے کالے اور دوسرے جملے میں دنئی نئی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب تحریر میں کسی بات پر زور پیدا کرنا ہوتا ہے تو جملے میں ایک ہی لفظ دو مرتبہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف بات میں زور پیدا ہوتا ہے بلکہ تحریر میں خوبصورتی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ ایسے پانچ الفاظ تلاش کر کے لکھیے اور اُنھیں جملوں میں استعمال کیجیے :
- _______________
- _______________
- _______________
- _______________
- _______________
●دی گئی عبارت کو پڑھیے اور خالی جگہوں کو مناسب صفت سے پر کیجیے:
ضرورت مند، پابند، سعادت مند، شاندار، سونے کا، ذہین، نوے، پہلی
عارف بہت ___________ لڑکا ہے۔ اس نے _______بار میں ہی مقابلہ جاتی امتحان میں _____ فی صد نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی ______ کامیابی پر اسکول سے _________ کا تمغہ دیا گیا ہے۔ اس میں اور بھی کئی خوبیاں ہیں۔ وہ وقت کا _____ہے۔ وہ ایک ______بیٹا اور شاگرد ہے۔ وہ ______ لوگوں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔
●دیے گئے جملوں کو صحیح فعل زماں کی مدد سے مکمل کیجیے:
- قدرت نے انسان کو اعلیٰ درجے کا دماغ عطا ____ہے۔
- قدیم زمانے کا انسان دو پتھروں کی رگڑ سے آگ پیدا ____تھا۔
- وہ دن دور نہیں جب انسان مریخ پر بھی قدم ____گا۔
- ہمارے ملک میں مختلف قسم کے جانور پائے ____ہیں۔
- آبی راستوں کا سفر کشتیوں سے ____ہیں۔
●دیے گئے الفاظ سے لاحقے الگ کر کے لکھیے :
- سبزه زار____________
- سبزی خور____________
- مددگار____________
- پناه گاه____________
- فکرمند____________
●مثال کے مطابق نیچے دیے گئے الفاظ کی جمع اور جمع الجمع لکھیے :
واحد جملے جمع الجمع
مثال: خبر اخبار اخبارات
- رقم_____________________
- وجه_____________________
- رکن_____________________
- حکم_____________________
- عجیب_____________________
●مثال کے مطابق درج ذیل نیشنل پارکوں کا ان کے علاقوں سے جو ڑ ملائیے:
- جم کاربٹ نیشنل پارک--------کرناٹک
- کازی رنگا نیشنل پارک---------کیرلہ
- گیر نیشنل پارک---------اتراکھنڈ
- پیری یار نیشنل پارک----------گجرات
- باندی پور نیشنل پارک-------آسام
تلاش کیجیے
●مکاؤ بندر ، لنگور اور بن مانس کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور ان کے درمیان فرق کی نشان دہی کیجیے۔
●برڈ سنچری میں کس قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔
●اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ مل کر دنیا کے کم سے کم چار مشہور نیشنل پارکوں، ان میں پائے جانے والے جانوروں اور ان ملکوں و شہروں کے نام لکھیے جہاں یہ واقع ہیں۔
●نیچے دیے گئے معمے میں سے جانوروں کے نام تلاش کیجیے:
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
- ________________
تخلیقی اظهار
●اگر آپ کے گھر میں یا آس پاس کوئی پالتو جانور ہے تو اس کی عادات و اطوار کا مشاہدہ کیجیے اور اس سے متعلق اپنے خیالات کو ایک مضمون کی شکل میں لکھیے۔
●آپ اپنے دوست کو خط لکھیے جس میں جم کاربٹ ، انتھنبور یا گیر ( گر ) جنگل یا کسی نیشنل پارک کی سیر کے بارے میں بتائیے ۔
عملی کام
●اپنے استاد کے ساتھ کسی چڑیا گھر (200) کی سیر کیجیے اور وہاں موجود جانوروں کے نام لکھیے اور یہ بتائیے کہ ان کے لیے کس قسم کی سہولیات کا انتظام ہے۔
●اپنے آس پاس اور گھر یلو جانوروں کی حفاظت کے لیے آپ کیا اقدامات کرتے ہیں؟ پیراگراف لکھ کر بیان کیجیے۔
●سبق میں جن جنگلی جا نھی جانوروں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے اپنے پسندیدہ پانچ جانوروں کی تصاویر اپنی نوٹ بک میں چسپاں کیجیے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کر کے ہر جانور کے بارے میں مختصر معلومات تحریر کیجیے۔
●درج ذیل اقتباس کی روشنی میں جنگل ہماری زندگی میں بہت ضروری ہیں، موضوع پر اپنے تاثرات کا اظہار کیجیے۔
زیادہ تر جانوروں کو پودوں سے غذا ملتی ہے۔ کچھ جانور ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسرے جانوروں کا شکار کر کے ان کا گوشت کھاتے ہیں، جیسے : شیر ، چیتا وغیرہ۔ چرندوں سے یہ فائدہ ہے کہ وہ جنگل کے پیڑ پودوں کو کھاتے رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو جنگل اتنے گھنے ہو جائیں کہ ان میں روشنی ، ہوا اور پانی کی کمی ہو جائے اور پیر پودے مر جائیں۔ دوسری طرف اگر درندے نہ ہوں تو چرند اتنے ہو جائیں گے کہ سارے کا سارا جنگل کھا کر ختم کر دیں گے۔ چڑیاں جنگلوں کے لیے ضروری ہیں ، اس لیے کہ ان کی وجہ سے کیڑے مکوڑے کم ہوتے رہتے ہیں۔ وہ بیجوں کو بھی بکھیرتی ہیں اور ان کی بیٹ سے جنگل زرخیز ہوتے رہتے ہیں۔ غرض ہر جانور اور ہر پودا جنگل کی زندگی کے لیے اپنی اپنی جگہ پر ضروری ہے۔“