Skip to content
Sitaar Urdu







8 نام دیو مالی


نام دیو مقبرہ رابعہ درانی اورنگ آباد (دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ مقبرے کا باغ میری نگرانی میں تھا۔ میرے رہنے کا مکان بھی باغ کے احاطے ہی میں تھا۔ میں نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام نام دیو کے سپرد کیا۔ میں اندر کمرے میں کام کرتا رہتا تھا۔ میری میز کے سامنے بڑی سی کھڑ کی تھی۔ اس میں سے چمن صاف نظر آتا تھا۔ لکھتے لکھتے کبھی نظر اٹھا کر دیکھتا، تو نام دیو کو ہمہ تن اپنے کام میں مصروف پاتا لبعض دفعہ اس کی حرکتیں دیکھ کر بہت تعجب ہوتا۔ مثلاً کیا دیکھتا ہوں کہ نام دیو ایک پودے کے سامنے بیٹھا اس کا تھا نولا صاف کر رہا ہے۔ تھانولا صاف کر کے حوض سے پانی لیا اور آہستہ آہستہ ڈالنا شروع کیا۔ پانی ڈال کر ڈول درست کیا اور ہر رخ سے پودے کو مڑ مڑ کر دیکھا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر اسے دیکھنے لگا۔ دیکھتا جاتا تھا اور مسکراتا اور خوش ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ کام اسی وقت ہوتا ہے جب اس میں لذت آنے لگے۔ بے مزہ کام، کام نہیں بے گار ہے۔

Screenshot 2025-09-09 at 16-32-35 huky109.pdf Screenshot 2025-09-09 at 16-33-51 huky109.pdf

اب مجھے اس سے دل چیپسی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ بعض وقت اپنا کام چھوڑ کر اسے دیکھا کرتا۔ مگر اسے خبر نہ ہوتی کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا اس کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتا۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ اپنے پودوں اور پیروں ہی کو اپنی اولاد سمجھتا تھا اور اولاد کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا۔ ان کو سبز اور شاداب دیکھ کر ایسا ہی خوش ہوتا جیسے ماں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک پودے کے پاس بیٹھتا، ان کو پیار کرتا، جھک جھک کے دیکھتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہا ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑھتے، پھولتے پھلتے اس کا دل بھی بڑھتا اور پھولتا پھلتا تھا، ان کو تواناد یکھ کر اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ کبھی کسی پودے کو اتفاق سے کیڑا لگ جاتا یا کوئی اور روگ پیدا ہو جاتا تو اسے بڑی فکر ہوتی۔ بازار سے دوائیں لاتا۔ باغ کے داروغہ یا مجھ سے کہہ کر منگواتا۔ دن بھر اسی میں لگا رہتا اور اُس پودے کی ایسی سیوا کرتا جیسے کوئی ہمدرد اور نیک دل ڈاکٹر اپنے عزیز بیمار کی کرتا ہے۔ ہزار جتن کرتا اور اسے بچالیتا اور جب تک وہ تندرست نہ ہو جاتا اسے چین نہ آتا۔ اس کے لگائے ہوئے پودے ہمیشہ پروان چڑھے اور کبھی کوئی پیڑ ضائع نہ ہوا۔ باغوں میں رہتے رہتے اسے جڑی بوٹیوں کی بھی شناخت ہو گئی تھی۔ خاص کر بچوں کے علاج میں اسے بڑی مہارت تھی۔ دور دور سے لوگ اس کے پاس بچوں کے علاج کے لیے آتے تھے۔ وہ اپنے باغ ہی میں سے جڑی بوٹیاں لاکر بڑی شفقت اور غور سے ان کا علاج کرتا۔ کبھی کبھی دوسرے گاؤں والے بھی اسے علاج کے لیے بلالے جاتے۔ بلا تامل چلا جاتا۔ مفت علاج کرتا اور کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتا۔

وہ خود بھی بہت صاف ستھرا رہتا تھا اور ایسا ہی چمن کو بھی رکھتا۔ اس قدر پاک صاف جیسے رسوئی کا چو کا۔

Screenshot 2025-09-09 at 16-33-58 huky109.pdf

کیا مجال جو کہیں گھاس پھوس یا کنکر پتھر پڑا رہے۔ روشیں با قاعدہ، تھانولے درست، سینچائی اور شاخوں کی کاٹ چھانٹ وقت پر ، جھاڑنا بہار نا صبح شام روزانہ ۔ غرض سارے چمن کو آئینہ بنارکھا تھا۔

ایک سال بارش بہت کم ہوئی۔ کنوؤں اور باولیوں میں پانی برائے نام رہ گیا۔ باغ پر آفت ٹوٹ پڑی۔ بہت سے پودے اور پیر تلف ہو گئے۔ جو بچ رہے وہ ایسے نڈھال اور مرجھائے ہوئے تھے جیسے دق کے بیمار ، لیکن نام دیو کا چمن ہرا بھرا تھا۔ وہ دور دور سے ایک ایک گھڑا پانی کا سر پر اٹھا کے لاتا اور پودوں کو سینچتا۔ یہ وہ وقت تھا کہ قحط نے لوگوں کے اوسان خطا کر رکھے تھے اور انھیں پینے کو پانی مشکل سے میسر آتا تھا۔ مگر یہ خدا کا بندہ کہیں نہ کہیں سے لے ہی آتا اور اپنے پودوں کی پیاس بجھاتا۔ جب پانی کی قلت اور بڑھی تو اس نے راتوں کو بھی پانی ڈھوڈھو کے لانا شروع کیا۔ پانی کیا تھا یوں سمجھیے کہ آدھا پانی اور آدھی کیچڑ ہوتی تھی۔ لیکن یہی گدلا پانی پودوں کے حق میں آب حیات تھا۔ میں نے اس بے مثل کارگزاری پر اسے انعام دینا چاہا تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ شاید اس کا کہنا ٹھیک تھا کہ اپنے بچوں کو پالنے پوسنے میں کوئی انعام کا مستحق نہیں ہوتا۔

جب اعلیٰ حضرت حضور نظام کو اورنگ آباد کی خوش آب و ہوا میں باغ لگانے کا خیال ہوا تو یہ کام ڈاکٹر سید سراج الحسن

Screenshot 2025-09-09 at 16-35-24 huky109.pdf

( نواب سراج یار جنگ بہادر ) ناظم تعلیمات کے سپرد ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کا ذوق باغبانی مشہور تھا مقبرہ رابعہ درانی اور اس کا باغ جو اپنی ترتیب و تعمیر کے اعتبار سے مغلیہ باغ کا بہترین نمونہ ہے مدت سے ویران اور سنسان پڑا تھا۔ وحشی جانوروں کا مسکن تھا اور جھاڑ جھنکار سے پٹا پڑا تھا۔ آج ڈاکٹر صاحب کی بدولت سرسبز ، شاداب اور آباد نظر آتا ہے۔ اب دور دور سے لوگ اسے دیکھنے آتے اور سیر و تفریح سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو آدمی پر کھنے میں بھی کمال تھا، وہ نام دیو کے بڑے قدر دان تھے، اسے مقبرے سے شاہی باغ میں لے گئے۔ شاہی باغ آخر شاہی باغ تھا۔ کئی کئی نگراں کار اور بیسیوں مالی اور مالی بھی کیسے کیسے ، ٹوکیو سے جاپانی، تہران سے ایرانی اور شام سے شامی آئے تھے۔ ان کے بڑے ٹھاٹ تھے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی ایچ تھی۔ وہ شاہی باغ کو حقیقت میں شاہی باغ بنانا چاہتے تھے۔ یہاں بھی نام دیو کا وہی رنگ تھا۔ اس نے نہ فن باغبانی کی کہیں تعلیم پائی تھی اور نہ اس کے پاس کوئی سند یاڈ پلو ماتھا۔ البتہ کام کی دھن تھی۔ کام سے سچا لگاؤ تھا اور اسی میں اس کی جیت تھی۔ شاہی باغ میں بھی اس کا کام مہا کاج رہا۔ بس یہ تھا اور اس کا کام۔

وہ بہت سادہ ، بھولا بھالا اور منکسر مزاج تھا۔ اس کے چہرے پر بشاشت اور لبوں پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی۔ چھوٹے بڑے ہر ایک سے جھک کر ملتا۔ غریب تھا اور تنخواہ بھی کم تھی اس پر بھی اپنے غریب بھائیوں کی بساط سے بڑھ کر مدد کرتا رہتا تھا۔ کام سے عشق تھا اور آخر کام کرتے کرتے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

Screenshot 2025-09-09 at 16-37-59 huky109.pdf

گرمی ہو یا جاڑا، دھوپ ہو یا سایہ، وہ دن رات برابر کام کرتا رہا لیکن اسے کبھی یہ خیال نہ آیا کہ میں بہت کام کرتا ہوں یا میرا کام دوسروں سے بہتر ہے۔ اسی لیے اسے اپنے کام پر فخر یا غرور نہ تھا۔ وہ یہ باتیں جانتا ہی نہ تھا۔ اسے کسی سے بیر تھا نہ جلاپا۔ وہ سب کو اچھا سمجھتا اور سب سے محبت کرتا تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرتا، وقت پر کام آتا، آدمیوں جانوروں، پودوں کی خدمت کرتا۔ لیکن اسے کبھی یہ احساس نہ ہوا کہ وہ کوئی نیک کام کر رہا ہے۔ نیکی اسی وقت تک نیکی ہے جب تک آدمی کو یہ نہ معلوم ہو کہ وہ کوئی نیک کام کر رہا ہے۔ جہاں اس نے یہ سمجھنا شروع کیا، نیکی نیکی نہیں رہتی۔ ۔

جب کبھی مجھے نام دیو کا خیال آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ نیکی کیا ہے اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں۔ شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجہ کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑائی ہے۔ درجہ کمال تک نہ کبھی کوئی پہنچا ہے نہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنتا ہے۔ یہ سمجھو کندن ہو جاتا ہے۔ اگر نیکی اور بڑائی کا یہ معیار ہے تو نام دیو نیک بھی تھا اور بڑا بھی۔

--مولوی عبدالحق

Screenshot 2025-09-09 at 16-39-29 huky109.pdf

لفظ و معنی

ہمہ تن : پوری توجہ کے ساتھ
تھانولا : وہ گڑھا جو درخت کے چاروں طرف پانی روکنے کے لیے بنایا جاتا ہے
توانا : صحت مند ، تندرست
نگهداشت : دیکھ بھال، نگرانی
جتن : کوشش
تامل : ہچکچاہٹ
آئینہ بنا دینا : صاف شفاف بنادینا، چمک دینا
باولی : پکا کنواں جس کے اندر سیڑھیاں ہوتی ہیں
ستائش : تعریف
اوسان خطا ہونا : بدحواس، پریشان ہو جانا
قحط : خشک سالی
کارگزاری : کار کردگی، اچھا کام کرنا
مستحق : حق دار
محظوظ : لطف اندوز ہونا
جلایا : جلنا، حسد
تلف : ضائع ، رانگاں
بشاشت : خوشی، تازگی

غور کیجیے

نام دیو مالی مولوی عبدالحق کا لکھا ہوا خاکہ ہے جو ان کے خاکوں کا مجموعہ ' چند ہم عصر میں شامل ہے۔ خاکہ ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی شخصیت کی قلمی تصویر پیش کی جاتی ہے۔

کہانی کا اختتام ، نیکی اور انسانی عظمت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتا ہے۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نیکی کی اصل روح اخلاص ہے۔ جب تک انسان بغیر کسی ذاتی مفاد، فخر ، پاستائش کی تمنا کے نیک عمل کرتا ہے، تبھی تک وہ نیکی رہتی ہے۔

نام دیو مالی کی سادہ زندگی اور مسلسل محنت اور پودوں سے اس کی محبت ہمیں قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ نام دیو مالی کا کردار ماحولیاتی مسائل جیسے گلوبل وارمنگ اور آلودگی کے خلاف شعور پیدا کرتا ہے۔

نام دیو مالی کا مسکن اورنگ آباد بتایا گیا ہے۔ اورنگ آباد کا موجودہ نام سمجھا جی نگر ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. نام دیو اپنے پودوں کی دیکھ بھال میں کیا کیا جتن کرتا تھا ؟
  2. نام دیو اپنی خدمات کے بدلے کوئی بھی انعام لینا کیوں پسند نہیں کرتا تھا ؟
  3. نام دیو کی زندگی کے کسی پہلو نے آپ کو متاثر کیا ہے اور کیوں؟
  4. ماں اور مالی میں کیا مماثلت ہے؟ سبق کی روشنی میں اظہار خیال کیجیے۔
  5. اس خاکے میں محنت کی اہمیت کو کس طرح اجاگر کیا گیا ہے؟
  6. نام دیو مالی کی پانچ خصوصیات لکھیے۔
Screenshot 2025-09-09 at 17-01-37 huky109.pdf

متن گفتگو

درج ذیل جملوں سے آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔

  1. بے مزہ کام، کام نہیں بے گار ہے۔
  2. درجہ کمال تک پہنچنے کی کوشش ہی میں انسان انسان بنا رہتا ہے۔
  3. سارے چمن کو آئینہ بنارکھا تھا۔

صحیح جوڑے ملائیے:

کالم الف کالم 'ب
اورنگ آباد جڑی بوٹی
شاہی حضور نظام
نام دیو مالی پودوں سے محبت
علاج باغ

Screenshot 2025-09-09 at 17-10-04 huky109.pdf

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●صائمہ نے مشکل حالات میں صبر کیا۔ اس جملے میں میں 'صائمہ فاعل ہے، صبر کیا فعل ماضی ہے۔ سبق سے پانچ جملے تلاش کر کے لکھیے اور ان جملوں میں فاعل اور فعل کی نشان دہی کیجیے:

جملے فاعل فعل ماضی

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________
  5. _______________

●باغ میں پھول کھل رہے ہیں۔ یہاں باغ اسم ظرف ہے جو اس جگہ کی وضاحت کر رہا ہے جہاں پھول موجود ہیں۔ وہ الفاظ جو کسی جگہ ، مقام یا علاقے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ انھیں ظرف مکان کہتے ہیں۔ ظرف مکان والے پانچ اسم لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے :

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________
  5. _______________

تلاش کیجیے

●ہمارے ملک کے کئی حصوں میں اکثر بارش بہت کم ہوتی ہے اور سوکھا پڑ جاتا ہے۔ اپنے بڑوں سے معلوم کیجیے کہ اس مسئلہ سے نمٹنے کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟

●لوگوں کی مدد کے لیے آپ کون کون سے کام کر سکتے ہیں؟ ہم جماعت ساتھیوں کی مدد سے ایسے کاموں کی فہرست تیار کیجیے۔

●لائبریری سے مولوی عبدالحق کی کتاب چند ہم عصر حاصل کیجیے اور اس میں شامل خاکے پڑھیے اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔

تخلیقی اظهار

●اگر میں نام دیو مالی ہوتا اس عنوان کو ذہن میں رکھ کر باغبانی کے موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔

●اپنے گھر یا آس پاس کام کرنے والے مالی سے ملاقات کیجیے ۔ ان پانچ نکات کو دیکھیے جو گفتگو کا موضوع ہو سکتے ہیں۔

●اپنی پسندیدہ شخصیت کا خاکہ لکھیے۔ (اشارہ: جس آدمی کا آپ خاکہ لکھ رہے ہیں، اس کا حلیہ بیان کیجیے، پھر اس کی بات چیت کا انداز ، اس کی کوئی مخصوص یا دل چسپ عادت ہو تو اس کا ذکر کیجیے اور اس کے بعد اس کی سیرت یا شخصیت بیان کیجیے۔)

عملی کام

●اپنے گھر میں اپنی پسند کے پودے لگائیے اور اُن کی دیکھ بھال خود کیجیے۔

●نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ملک کے ایک مشہور بوٹینیکل گارڈن کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور لکھیے۔

https://karnatakatourism.org/
tour-item/lalbagh-botanical-garden/

●اگر آپ کے باغیچہ میں اچانک کسی بیماری کے سبب پودے مرجھانے لگتے ہیں تو آپ اس مسئلے کو کس طرح حل کریں گے؟ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ اس پر گفتگو کیجیے۔

پہیلیوں کے حل معلوم کیجیے:

1. ہر محفل کی جان بنے یہ
سہرے کی بھی شان بنے یہ
رنگت ہر اک دل کو بھائے
دکھ سکھ کی پہچان بنے ته

2. پڑے سانس لینے میں ان کی ضرورت
کڑی دھوپ میں دیں مسافر کو راحت

3. محمل پردے، خوشبو کا گھر
صبحسویرے کھلتا ہے در

Screenshot 2025-09-10 at 09-45-52 huky109.pdf