Skip to content
Sitaar Urdu







9 رات اور ریل


پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی
نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی

ڈگمگاتی، جھومتی، سیٹی بجاتی، کھیلتی
وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی

تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں
آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی

جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت
ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی

Screenshot 2025-09-10 at 10-12-43 huky111.pdf

ٹھوکریں کھا کر، لچکتی، گنگناتی، جھومتی
سرخوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئی

ناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو بیچ و خم
اک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئی

رات کی تاریکیوں میں جھلملاتی، کانپتی
پڑیوں پر دور تک سیماب چھال کاتی ہوئی

جیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی برات
شادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئی

تیز تر ہوتی ہوئی منزل به منزل دم به دم
رفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئی

Screenshot 2025-09-10 at 10-12-59 huky111.pdf

سینہ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیار
ایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئی

اک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سے
رفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئی

اک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میں
جنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئی

جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار
اپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئی

رینگتی، مڑتی، مچلتی تلملاتی، ہانپتی
اپنے دل کی آتشِ پنہاں کو بھڑکاتی ہوئی

Screenshot 2025-09-10 at 10-13-10 huky111.pdf

پل پر دریا کے دمادم کوندتی للکارتی
اپنی اس طوفان انگیزی یہ اتراتی ہوئی به

پیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماں
ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی

منہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکا یک دوڑ کر
دندناتی چیختی چنگھاڑتی، گاتی ہوئی

ڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاب
اک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئی

صفحہ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش
حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی

-اسرار الحق مجاز

Screenshot 2025-09-10 at 10-13-21 huky111.pdf

لفظ و معنی

نیم شب : آدھی رات
زیر لب : لب کے نیچے، آہستگی کے ساتھ
کہسار : پہاڑ، پہاڑی علاقہ
سرود : موسیقی کا ایک آلہ
مینه : بارش
زمزمے : دھیمے سروں کا راگ
سرخوشی : سرور ، سرستی
پیچ و خم : اتار چڑھاؤ
سیماب : پاره
وجد : ایک خاص کیفیت، حال
رفعت : عروج، ترقی
جستجو : تلاش
آتش پنہاں : چھی ہوئی آگ

غور کیجیے

ریل ہمارے ملک میں آمد و رفت اور مال برداری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ ہماری زندگی میں شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسرار الحق مجاز کی نظم ذرات اور ریل استعاراتی اور مجازی پہلوؤں سے بھر پور ہے نظم کا مرکزی موضوع وقت کی رفتار، انسانی زندگی کا سفر اور زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ ریل کے ذریعے زندگی کی تیز رفتاری کو علامتی طور پر پیش کیا گیا ہے۔

یہ نظم جس زمانے میں لکھی گئی تھی اُس وقت بھاپ یا کوئلے سے چلنے والے انجن استعمال ہوتے تھے جن کی مدد زمانے سے ریل چلتی تھی۔ زمانے نے کروٹ بدلی اور زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح آمد و رفت کے ذرائع میں بھی مثبت تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ کوئلے سے ڈیزل اور اب ڈیزل کے علاوہ بجلی سے چلنے والے انجن استعمال ہوتے ہیں۔ سفر کو آسان بنانے اور کم وقت میں لمبے سفر کے لیے وندے بھارت ایکسپریس ، جیسی ریل گاڑی بھی چلائی جارہی ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے۔

Screenshot 2025-09-10 at 11-14-59 huky111.pdf

سوچیے اور بتائیے

  1. نظم میں ریل کے سفر کو زندگی کے سفر سے کس طرح تشبیہ دی گئی ہے؟
  2. نظم میں جن قدرتی مناظر کا ذکر آیا ہے انھیں اپنے الفاظ میں لکھیے۔
  3. ریل کس طرح پٹڑیوں پر سیماب چھا گاتی ہے ؟
  4. حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھانے سے کیا مراد ہے؟
Screenshot 2025-09-10 at 11-26-47 huky111.pdf

درج ذیل اشعار کی تشریح اپنے الفاظ میں کیجیے

  1. ڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاب
    اک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئی
  2. پیش کرتی ، پیچ ندی میں چراغاں کا سماں
    ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

نظم میں لفظ 'رات استعمال ہوا ہے۔ شب ، دلیل وغیرہ رات کے مترادفات ہیں۔ درج ذیل الفاظ کے دو مترادفات لکھیے۔

  1. لب_______________
  2. کہار_______________
  3. مینه_______________
  4. صدا_______________
  5. دلہن_______________
  6. پاٹیر_______________
  7. صحرا_______________
  8. جستجو_______________

اس شعر پر غور کیجیے:

اک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میں
جنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئی

اس شعر میں ریل کو بگولے کی مانند بتایا گیا ہے۔ شعر میں جب ایک چیز کو دوسری چیز کی مانند بتایا جاتا ہے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں میں کسی نہ کسی طرح کی مشابہت ضروری ہے۔ تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری چیز جیسی بتانے کے لیے کچھ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جیسے اوپر کی مثال میں حرف کی طرح استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دسی رجیسے رنماء وغیرہ الفاظ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کو حروف تشبیہ کہا جاتا ہے۔ نظم کو دوبارہ پڑھیے اور پانچ ایسی مثالیں تلاش کیجیے جن میں ریل کو کسی اور لفظ سے تشبیہ دی گئی ہو :

  1. __________________
  2. __________________
  3. __________________
  4. __________________
  5. __________________
Screenshot 2025-09-10 at 11-28-18 huky111.pdf

درج ذیل شعر پر غور کیجیے:

ریل ایک بے جان شے ہے لیکن اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں جو انسانی صفت ہے۔ کسی غیر جان دار چیز یا خیال کو انسانی خصوصیت دینا یا اسے انسانوں کی طرح پیش کرنا تجسیم کہلاتا ہے۔ یعنی بے جان اشیا کو جان دار کی طرح پیش کرنا جیسے رینگنا، ہانپنا یا مچلنا۔ یہ سب جان دار کی حرکات ہیں لیکن ان تمام اوصاف کو ریل جیسی بے جان چیز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

نظم سے صنعت تجسیم کی پانچ مثالیں تلاش کر کے لکھیے:

  1. __________________
  2. __________________
  3. __________________
  4. __________________
  5. __________________

اس نظم میں سینہ کہسار لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہسار کا سینہ ۔ اس میں ہمزہ اضافت کا استعمال کیا گیا ہے۔ آپ ہمزہ اضافت والے پانچ مرکب الفاظ تلاش کر کے لکھیے:

  1. __________________
  2. __________________
  3. __________________
  4. __________________
  5. __________________

تلاش کیجیے

●سپر فاسٹ ایکسپریس، میل ایکسپریس اور پسنجر ٹرین کے بارے میں معلوم کر کے لکھیے اور یہ بھی بتائیے کہ ان کے درمیان کیا فرق ہے؟

●ٹوائے ٹرین کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے گفتگو کیجیے اور یہ معلوم کیجیے کہ کن جگہوں کے لیے چلائی جارہی ہیں؟

تخلیقی اظهار

●ریلوے اسٹیشن کا نظارہ ، موضوع پر ایک پیراگراف لکھیے۔

●دن میں ریل کا سفر رات میں ریل کے سفر سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟

●میراریل کا سفر ، عنوان سے سفر کی روداد لکھیے جس میں ریل ٹکٹ کی بلنگ سے لے کر سفر سے اختتام تک واقعات کا ذکر کیجیے۔

●آمد و رفت کے مختلف ذرائع کون کون سے ہیں۔ آپ کو کون سا ذریعہ زیادہ پسند ہے۔ اظہار خیال کیجیے۔

عملی کام

●ریل کے ٹکٹ کو کن کن طریقوں سے خریدا جا سکتا ہے؟ معلومات حاصل کیجیے۔

●سفر پر جانے سے قبل اس کی تیاری کرتے ہوئے ہمیں کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے ساتھ ہی سفر کے دوران احتیاطی تدابیر کی فہرست تیار کیجیے۔

●دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ریل میوزیم کی سیر کیجیے اور چند جملے اس کے بارے میں لکھیے۔

https://nationalmuseumindia.gov.in

●کسی ریلوے اسٹیشن کا منظر اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔ آپ نیچے دی گئی جگہ میں ریلوے اسٹیشن کی تصویر بنا کر اس میں اپنی پسند کے رنگ بھی بھر سکتے ہیں :

Screenshot 2025-09-10 at 11-38-14 huky111.pdf