10
حاضر جواب
بہت پرانی بات ہے، آبو نام کا ایک شخص تھا جو بہت عقل مند تھا۔ ایک دن گھومتے پھرتے وہ ملک کی راجدھانی میں واقع شاہی محل پہنچ گیا۔ وہ ملازمت کے لیے پریشان تھا۔ بادشاہ کے دربار پہنچ کر اُس نے گزارش کی : ”بادشاہ سلامت ! میں بہت پریشان ہوں، مجھے کوئی کام دے دیجیے ۔ آپ مجھے جو بھی کام دیں گے، نہایت ایمان داری اور لگن سے انجام دوں گا اور آپ کا فرماں بردار بن کر رہوں گا۔“
بادشاہ نے اس کی درخواست قبول کی اور اسے پہرہ دینے کے کام پر لگا دیا ۔ وہ اپنی حاضر جوابی اور خوش مزاجی کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہو گیا۔ بادشاہ بھی خوش ہوا اور خاص طور پر اپنے محل کی پہرہ داری اس کے سپرد کر دی۔ ترقی پاکر آبو کی شان بڑھ گئی ۔
ایک دن بادشاہ نے اُس سے راز دارانہ انداز میں کہا: ” آبو ! میں ایک ضروری کام سے باہر جارہا ہوں۔ اس راز کی کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔ خیال رہے کہ میری واپسی تک کسی کو محل میں جانے نہ دینا۔“
حضور آپ مطمئن رہیں۔ میں محل کے دروازے کی دن رات نگرانی کروں گا اور کسی کو بھی آپ کے جانے کی خبر نہ دوں گا۔“
آبو ، دن رات دروازے کی سخت نگرانی کرنے لگا۔ ایک رات ہر طرف چاندنی بکھری ہوئی تھی، پونم کا تہوار تھا۔ لوگ ناچ گارہے تھے اور خوشیاں منارہے تھے۔ آبو کا دل بھی ناچنے اور گانے کے لیے مچلنے لگا لیکن وہ بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا۔
تب اُسے ایک ترکیب سوجھی ۔ اُس نے دروازے کی تمام کیلیں اور قلابے نکال لیے۔ ان دروازوں اور اپنے ہتھیاروں کو ایسی جگہ چھپا کر رکھ دیا کہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ پھر وہ لوگوں میں آ کر ناچنے گانے لگا۔ صبح ہونے تک وہ ناچتا گاتا رہا اور پھر محل واپس آگیا۔ نکالے ہوئے دروازے کو اس نے اپنی جگہ پر لگادیا اور پہرہ دینے لگا۔ لیکن آبو اس بات سے بے خبر تھا کہ رات میں چور محل میں گھس کر تمام سامان چرا لے گئے تھے۔ اگلے دن جب بادشاہ واپس آیا اور آبو کو دروازے پر پہرہ دیتے دیکھا تو بے حد خوش ہوا۔ لیکن جب وہ محل میں داخل ہوا تو اسے بڑی حیرت ہوئی ۔ وہ نہایت غصے میں باہر نکلا اور گرج دار آواز میں بولا : کیا تم میرے جانے کے بعد برابر پہرہ دے رہے "تھے؟
جی حضور ! پھر محل میں چوری کیسے ہوئی؟“
بادشاہ نے گرج کر پوچھا۔
مجھے کچھ نہیں معلوم حضور !“
" کیا میں نے تمھیں حکم نہیں دیا تھا کہ میرے واپس آنے تک محل کا پہرہ دیتے رہنا؟“
حضور آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ “ آبو نے نہایت نرمی سے کہا۔
آبو ... بادشاہ غصے سے لال پیلا ہو گیا۔
حضور ... حضور میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے مجھے حل پر پہرہ دینے کے لیے نہیں کہا تھا۔“
پھر کیا کہا تھا ؟“
حضور آپ نے صرف دروازے پر پہرہ دینے کے لیے کہا تھا، اور میں آپ ہی کے حکم پر عمل کر رہا ہوں۔“ کیا تم رات میں ڈیوٹی چھوڑ کر کہیں گئے تھے؟“
جی حضور لیکن میں نے دروازہ نکال کر چھپا دیا تھا۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو میں گواہ حاضر کرتا ہوں۔“
بادشاہ ناراض ہو گیا ۔ اس نے سپاہیوں کو آواز دی اور ان سے کہا : ” اس بے وقوف کو یہاں سے لے جاؤ اور گاؤں سے باہر ایک گڑھا کھود کر اس میں اسے گردن تک دبا دو ۔ اس کا صبح فیصلہ کروں گا۔ “
سپاہی آبو کو لے گئے ۔ گاؤں کے باہر ایک گڑھا کھودا ۔ آبو کو اس میں اتارا۔ اس کا پورا دھڑ گردن تک مٹی میں دبا دیا گیا۔ وہ حسرت سے چاروں طرف دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ اس مصیبت سے کیسے نجات حاصل کرے۔ رات گزرتی رہی اور وہ سوچتا رہا۔ یہاں تک کہ سحر نمودار ہونے لگی۔ مرغ بانگ دینے لگے۔ صبح ہونے کو کچھ ہی وقت باقی رہ گیا تھا۔ اُس نے سوچا کہ اب اس کی جان کی خیر نہیں۔ بادشاہ اُسے ضرور موت کی سزا دے گا۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک اُسے دور سے ایک مسافر آتا ہوا دکھائی دیا جو اونٹ پر سوار تھا۔ وہ قریب آتا گیا۔ آبو نے دیکھا تو وہ ایک تاجر تھا جو اونٹ پر مال و اسباب لیے آرہا تھا۔ آبو کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا۔ اسے امید کی کرن نظر آئی۔
اونٹ سوار کی نظر آبو پر پڑی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ کر اسے تعجب ہوا۔ اس نے آبو سے اس کی وجہ دریافت کی۔ تاجر کی کمر غیر معمولی طور پر جھکی ہوئی تھی۔ آبو کو ایک ترکیب سوجھی۔
آبو نے دکھ بھرے لہجے میں کہا: ” جناب میں بھی آپ ہی کی طرح ایک خوش حال تاجر ہوں لیکن ...
پھر یہاں اس مٹی میں کیوں دھنسے ہو ؟“
کیا بتاؤں جناب ! میری کمر بھی آپ ہی کی طرح جھکی ہوئی تھی۔ یہاں رہ کر اسی کا علاج کر رہا ہوں۔“
” کیا آپ کی کمر بھی میری طرح ہی ہے؟“ تاجر نے حیرت سے پوچھا۔
تب ہی تو اتنی تکلیف برداشت کر رہا ہوں۔“
آبونے درد سے کراہتے ہوئے کہا:
مگر جناب یہ علاج آپ کو کس نے بتایا ؟ تاجر نے آبو کی بات میں دل چسپی لیتے ہوئے دریافت کیا۔
” جناب کیا بتاؤں ... اپنی بیماری کے لیے ہر طرح کا علاج کیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ... آخر کار شاہی حکیم کے پاس گیا۔ انھوں نے یہ علاج بتایا، خود اپنی نگرانی میں یہ گڑھا کھدوایا اور مجھے یہاں اس طرح دبا کر رکھا گیا کہ مجھے آرام ہو جائے۔ شاہی حکیم بھی تھوڑی دیر بعد یہاں آنے ہی والے ہیں ... جناب ! واقعی واحد علاج یہی ہے۔ اب تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں ٹھیک ہو رہا ہوں۔“
کیا واقعی؟“
ہاں جناب ... میں سچ کہہ رہا ہوں۔ شاہی حکیم کے آنے میں اب صرف دو گھنٹے رہ گئے ہیں۔ تب آپ خود ہی دیکھ لینا۔“
یہ سن کر تاجر بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا، کیوں نہ شاہی حکیم کے آنے سے پہلے میں خود بھی اپنا علاج کرالوں۔ تاجر نے ابو سے کہا : ”جناب میں بھی اپنا علاج کراتے کراتے تھک گیا ہوں۔ آپ مہربانی کریں تو مجھے بھی اس گڑھے میں رہنے کا موقع دیں۔“
جناب مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔ شاہی حکیم نے حکم دیا ہے کہ اُن کے آنے تک گڑھے سے باہر نہ نکلوں۔“
تاجر نے منت کرتے ہوئے کہا: ”میں اس کے عوض آپ کو دو اونٹ دینے کے لیے تیار ہوں۔“
ابو کچھ لمحہ سوچتا رہا۔ اُس نے تاجر سے کہا: ”جناب آپ کی خاطر میں اپنا علاج ادھورا چھوڑنے کے لیے تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ دو اونٹوں کے ساتھ کچھ مال و اسباب بھی عطا کریں۔“
تاجر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اپنا سارا مال و اسباب دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ تاجر نے آبو کو گڑھے سے باہر کھینچا۔ باہر آکر آبو نے اپنی کمر کو ادھر اُدھر گھما کر سیدھا کیا۔ تاجر نے جب آبو کی پشت پر نظر کی تو اُسے یقین ہو گیا کہ وہ بھی اسی طریقے سے ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے خوشی خوشی آبو کو سامان سے لدے ہوئے اونٹ دے دیے۔ اس کے بعد آبو نے اسے گڑھے میں اتارا اور اس کی گردن تک مٹی بھر دی۔ تاجر نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔
صبح ہونے والی تھی ، آبود ونوں اونٹ لے کر وہاں سے فوراً روانہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ کے سپاہی وہاں آپہنچے مگر یہ سپاہی وہ نہیں تھے جو گزشتہ روز آبو کو پکڑ کر یہاں لائے تھے۔ ان سپاہیوں نے اس تاجر کو آبو سمجھا اور اسے گڑھے سے باہر نکال کر بادشاہ کے دربار میں لے گئے۔
تاجر نے رو رو کر پورا احوال سنایا ۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا مگر وہ دل ہی دل میں آبو کی عقل مندی کی داد بھی دے رہا تھا۔ اس نے تاجر کو رہا کر دیا اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ آبو کو تلاش کر کے اس کے سامنے حاضر کریں۔ اس نے سپاہیوں سے یہ بھی کہا: ” آبو سے کہنا کہ تجھے ایک شرط پر معاف کیا جائے گا جب تو بادشاہ سے ملاقات کرنے آئے تو اس طرح کہ نہ تیرے جسم پر کپڑے ہوں اور نہ تو نگا دکھائی دے۔ نہ سواری پر بیٹھا ہو اور نہ پر پیدل دکھائی دے۔“
اس عجیب و غریب شرط کوئن کر سپاہی بھی حیران ہوئے مگر انھیں اس سے کیا غرض ... وہ آبو کو تلاش کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ آخر کار آبوا نھیں مل گیا اور جو کچھ بادشاہ نے کہا تھا وہ سب اس سے کہہ دیا۔ کچھ دیر تک آبو سوچتا رہا۔ پھر اس نے سپاہیوں سے کہا کہ بادشاہ سے کہنا کہ اسے شرط منظور ہے اور وہ کل دربار میں حاضر ہو جائے گا۔
سپاہیوں نے بادشاہ کو آبو کا پیغام پہنچایا۔ دوسرے دن دربار عام لگا۔ لوگ بے چینی سے آبو کا انتظار کرنے لگے ۔ خود بادشاہ بھی بے چین تھا۔ کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ لوگوں میں شور ہوا ” آبو آ گیا ... آبو آ گیا۔ بادشاہ اپنی جگہ سے تجسس میں اٹھا اور دروازے پر آکر دیکھا تو ... آبو مچھلی پکڑنے کا جال جسم پر ڈالے ہوئے ، گھوڑے پر بیٹھے بغیر ، رکاب میں ایک پاؤں ڈالے لنگڑاتے ہوئے آرہا تھا۔ واقعی اس نے بادشاہ کے حکم کی لفظ بہ لفظ تعمیل کی تھی۔ آبو کو اس طرح آتے ہوئے دیکھ کر بادشاہ سے ہنسی ضبط نہ ہو سکی لیکن اس کا غصہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
اس نے آبو سے کہا:
تجھے سو مہر میں انعام دی جاتی ہیں مگر تو یہ انعام لے کر یہاں سے چلا جا اور پھر کبھی مجھے اپنی صورت نہ دکھانا۔“
آبو نے کچھ نہ کہا۔ اپنا انعام لیا اور چلا آیا۔
اتفاقا ایک روز بادشاہ کا بازار سے گزر ہوا۔ ہر شخص بادشاہ کے سامنے آتا اور جھک کر تعظیم کرتا۔ اس مجمع میں صرف ایک ہی شخص ایسا تھا جو بادشاہ کی طرف پشت کیے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف غور سے دیکھا ... وہ آبو تھا۔ آبو کی اس بے ادبی پر اُسے بے حد غصہ آیا۔ اس نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
تم اتنے مغرور ہو کہ میری جانب پشت کیسے کھڑے رہے، تمھیں ذرا بھی شرم و حیا نہیں آئی۔“
آبو نے کہا: ”حضور معاف کیجیے۔ آپ ہی نے حکم دیا تھا کہ آپ کو کبھی اپنی صورت نہ دکھاؤں۔ میں غریب اس کے سوا کیا کرتا؟ میں نے تو آپ ہی کے حکم کی تعمیل کی ہے۔“
آبو میں تمھیں آخری بار حکم دیتا ہوں کہ میرے ملک کی مٹی پر تم قدم بھی نہ رکھنا۔ اگر تم اس ملک میں نظر آئے تو تمھیں عمر قید کی سزادی جائے گی۔“
ایک روز راجدھانی میں کوئی تہوار تھا۔ تمام لوگ خوشیاں منارہے تھے۔ پورا شہر دلھن کی طرح سجا ہوا تھا۔ سڑکوں پر لوگ خوشی سے ناچ گار ہے تھے۔ بادشاہ بھی سجے سجائے ہاتھی پر بیٹھ کر لوگوں کی سلامیاں لیتے ہوئے شہر کا گشت کر رہا تھا۔ آبوا ایک مٹھائی کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا اس نے بھی بادشاہ کو سلام کیا۔ آبو کو یہاں دیکھ کر بادشاہ کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنے سپاہیوں کو فوراً آبو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہونا شروع ہو گئی۔
بادشاہ آبو سے بولا : ” کیا میں نے تجھے حکم نہ دیا تھا کہ اس ملک میں کہیں نظر نہ آنا؟ پھر تجھ کو میری نافرمانی کی ہمت کیسے ہوئی؟“
حضور معاف کیجیے، میں نے آپ کے حکم کی کبھی بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ آپ ہی نے حکم دیا تھا کہ میرے ملک کی مٹی پر قدم نہ رکھنا۔“
بادشاہ نے کہا: ”وہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ پھر تجھے یہاں کی مٹی پر قدم رکھنے کی ہمت کیسے ہوئی؟“
حضور ، جب آپ نے حکم دیا تھا تو میں آپ کا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک چلا گیا تھا۔ وہاں سے واپسی کے وقت میں نے اپنے جوتوں میں وہاں کی مٹی بھر لی تھی اور ساتھ میں ایک تھیلی مٹی بھی لایا تھا۔ وہی جوتا یہاں آکر استعمال کر رہا ہوں۔ رات کو سوتے وقت بھی میں اپنا جوتا نہیں اتارتا۔ اس وقت بھی میں وہی جوتا پہنے ہوئے ہوں جس میں مٹی بھری ہوئی ہے۔ اسی مٹی پر میرے پاؤں ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ہے یا خلاف ورزی ۔
آبو کا جواب سن کر بادشاہ خوش ہوا۔ اس نے آبو کو معاف کر دیا اور اسے پھر سے اپنے دربار میں ملازم رکھ لیا۔ آبو ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کرنے لگا۔
-لوک کہانی
لفظ و معنی
غور کیجیے
● رسبق کا عنوان ہے ' حاضر جواب ، جس کے معنی ہیں بات سنتے ہی فوراً معقول جواب دینے والا ۔ بیربل بھی اپنی حاضر جوابی کے لیے بہت مشہور تھے۔ اکبر اور بیربل کے بہت سے قصے مشہور ہیں۔
● مہر سونے کے سکوں کو کہا جاتا تھا۔ عہد قدیم میں بادشاہ کی جانب سے مہر میں بطور انعام دی جاتی تھیں۔
● پونم کے معنی ہیں چودھویں رات کا چاند یعنی بدر کامل۔ اسے پور نیما اور پورن ماسی بھی کہتے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
- آبو نے بادشاہ سے کیا گزارش کی؟
- سوار کو دیکھ کر آبو کو کیا ترکیب سوجھی؟
- اگر تاجر آبو کی باتوں پر یقین نہ کرتا تو کیا ہوتا؟
- آبو بادشاہ کی طرف پشت کیے کیوں کھڑا رہا؟
- اگر آپ آبو کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
●نیچے دیے گئے مکالموں کو غور سے پڑھیے اور بتائیے کہ کس نے کہا، کس سے کہا اور کیوں کہا؟
- ” اس راز کی کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔“
- کس نے کہا ____________
- کس سے کہا ____________
- کیوں کہا____________
- میں نے دروازہ نکال کر چھپادیا تھا۔ آپ کو یقین نہ آئے تو میں گواہ حاضر کرتا ہوں ۔“
- کس نے کہا ۔____________
- کس سے کہا____________
- کیوں کہا____________
- ”یہاں اس مٹی میں کیوں دھنسے ہو ؟“
- کس نے کہا ۔____________
- کس سے کہا____________
- کیوں کہا____________
- تب ہی تو اتنی تکلیف برداشت کر رہا ہوں۔“
- کس نے کہا____________
- کس سے کہا____________
- کیوں کہا____________
- شاہی حکیم نے حکم دیا ہے کہ ان کے آنے تک گڑھے سے با ھے سے باہر نہ نکلوں۔“
- کس نے کہا____________
- کس سے کہا____________
- کیوں کہا____________
- "آبو تم الفاظ سے کھیل رہے ہو۔“
- کس نے کہا____________
- کس سے کہا____________
- کیوں کہا____________
●سبق میں لفظ شاہی محل استعمال ہوا ہے۔ شاہ کے معنی بادشاہ کے ہیں۔ شاہی محل یعنی بادشاہ کا محل۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور شاہی لفظ کو جوڑ کر بننے والے مرکب الفاظ نیچے لکھیے:
- شاہی +__________=________
- شاہی +__________=________
- شاہی +__________=________
- شاہی +__________=________
- شاہی +__________=________
●
| i. وہ پہاڑ جو آگ اگلتا ہے | 1. سیاح |
| ii. بیمار کی دیکھ بھال کرنے والا | 2. رصد گاه |
| iii. خفیہ باتوں کا پتہ لگانے والا | 3. آتش فشاں |
| iv. وہ جگہ جہاں سے ستاروں کی گردش دیکھی جاتی ہے | 4. تیمار دار |
| مختلف ممالک کی سیر کرنے والا | 5. جاسوس |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●آپ کو معلوم ہے کہ اسم میں ذرا سی تبدیلی لا کر صفت بنائی جاتی ہے۔ جیسے حاضر جواب سے حاضر 6 جوابی ۔ حاضر جواب اسم ہے اور حاضر جوابی صفت ہے۔ کہانی میں ایسے پانچ اسم تلاش کر کے لکھیے اور اُنھیں صفت سے تبدیل کیجیے :
●درج ذیل محاوروں کے معنی لکھیے اور اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :
محاوره معنی جملوں میں استعمال
- غصے میں لال پیلا ہونا________
- امید کی کرن نظر آنا_________
- الفاظ سے کھیلنا__________
- شان بدل جانا____________
- اپنے منہ میاں مٹھو بننا__________
●نیچے رموز اوقاف کے نام دیے گئے ہیں۔ دی گئی مثال کے مطابق ان کے انگریزی اور ہندی مترادفات لکھیے اور ان کے لیے مخصوص نشانات بھی بنائیے :
انگریزی مترادفات ہندی مترادفات نشان
●آپ جانتے ہیں کہ جملوں کو صحیح ڈھنگ سے لکھنے کے لیے کچھ خاص اصولوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ جیسے فاعل ، مفعول اور فعل کی ترتیب، تذکیر و تانیث، واحد اور جمع وغیرہ۔ نیچے دیے گئے جملوں کو صحیح کر کے لکھیے :
- آپ اتنی دیر سے بے فضول باتیں کر رہے ہو۔ ____________
- میں ابھی واپس لوٹ آؤں گا۔ ____________
- ان دونوں میں نو دس کا فرق ہے۔ ____________
- برائے مہربانی آپ میرے خط کا جواب جلد دیں۔ ____________
- بچے نے پرنسپل کو سب باتیں بتادیں جو وہ سنا تھا بتادیا۔ ____________
تلاش کیجیے
●اپنی لائبریری سے جیلانی بانو کی کہانی ایک دن کی بادشاہت اور اطہر پرویز کی کتاب ایک دن کا بادشاہ حاصل کیجیے اور ان کا مطالعہ کیجیے۔
تخلیقی اظهار
●کہانی کا عنوان حاضر جواب رکھا گیا ہے۔ آپ کوئی دوسرا عنوان تجویز کیجیے اور بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں تجویز کیا ؟
●اگر آپ اس کہانی کو آگے بڑھانا چاہیں تو کون سے واقعات کہانی میں شامل کریں گے؟
عملی کام
●اس کہانی کو ڈرامے کی شکل میں لکھیے اور اپنے ہم جماعت کے ساتھ اسٹیج پر پیش کیجیے۔