Skip to content
Sitaar Urdu







11 سیم مانک شا


سیم مانک شا کا شمار ہمارے ملک کے ممتاز فوجی افسروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے وطن کی آزادی کے فوراً بعد نہایت سخت حالات میں دشمن ملکوں کی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ ملک کے دفاع کا حق ادا کیا اور سرحدوں کو محفوظ و مستحکم بنایا۔ ان کی قربانیاں نا قابل فراموش ہیں۔

سیم مانک شا کا پورا نام سیم ہارموس جی فریم جی جمشید جی مانک شا (Sam Hormusji Framji Jamshedji Manekshaw) تھا۔ ان کی پیدائش 3 اپریل 1914 کو امرتسر (پنجاب) میں ہوئی۔ ان کے والد ہارموس جی مانک شا پیشے سے ڈاکٹر تھے۔ والدہ ہیرا بائی ایک اسے تعلق رکھتی تھیں۔ سیم مانک شا کا خاندان تعلیم، نظم وضبط اور معزز خاندان سے یک جہتی کے اقدار پر کار بند ہونے کے باعث عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

سیم مانک شا کا تعلیمی سفر شیر ووڈ کالج نینی تال سے شروع ہوا۔ یہ ادارہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاق اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دیتا تھا۔ یہیں سے سیم مانک شا کی صلاحیتوں میں نکھار اور شخصیت میں نظم و ضبط پیدا ہونا شروع ہوا۔ اسکولی تعلیم مکمل ہونے کے بعد سیم مانک شانے انڈین ملٹری اکیڈیمی (IMA)، دہرادون میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی اور مستقبل کی راہوں کو روشن کرنے میں مددد گار ثابت ہوا۔ انڈین ملٹری اکیڈیمی نے ان کی جسمانی طاقت ، دماغی صلاحیت اور قیادت کو فروغ دیا۔

Screenshot 2025-09-10 at 14-42-47 huky113.pdf

1934 میں سیم مانک شاکو برطانوی بھارتی فوج میں کمیشن ملا، یہاں سے ان کے فوجی کیر بیئر کا آغاز ہوا اور وہ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھتے گئے۔

سیم مانک شا کی فوجی خدمات چار دہائیوں پر مشتمل ہیں۔ اس دوران انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ جنگی حکمت عملی ہو یا جرات مندانہ قیادت، انھوں نے ہر میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، انھوں نے عراق ، جاپان اور برما میں اہم خدمات انجام دیں۔ اتحادی فوجیوں اور جاپان کے درمیان برما میں خوں ریز جنگ کے دوران مانک شا کیپٹن تھے۔ ان کی کمپنی کو فتح حاصل ہوئی لیکن وہ خود ایک جاپانی فوجی کی مشین گن سے بری طرح زخمی ہو گئے۔ ان کے جسم میں نو گولیاں پیوست تھیں۔ سیم مانک شا کا اردلی شیرسنگھ انھیں اپنی پیٹھ پر لاد کر طبی امدادی پوسٹ پہنچا۔ وہ پوسٹ زخمیوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں اس نے ڈاکٹروں سے بڑی منت کی کہ وہ سیم مانک شا کا علاج شروع کریں، مگر ڈاکٹروں نے اس کی ایک نہ سنی۔

ڈاکٹروں کے اس طرز عمل سے عاجز آکر شیرسنگھ نے اپنی بندوق تان کر کہا کہ : ” جاپانیوں سے لڑنے کے باوجود ہم اپنے صاحب کو میلوں سے لاد کر لائے ہیں اب ہم انھیں مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ آپ ان کا علاج کریں ورنہ مجھے آپ پر گولی چلانی پڑے گی۔ بالآخر سیم کا علاج شروع ہوا۔ سرجری کے بعد سیم مانک شا صحت یاب ہونے کے لیے پیگو کے فوجی اسپتال میں داخل کیے گئے۔ تبھی وہاں ہوائی بمباری شروع ہو گئی۔ جاپانیوں کے ہاتھ آنے سے پہلے آخری کشتی میں دوسرے مریضوں کے ساتھ ان کو بھی وہاں سے بہ حفاظت نکال کر پہلے رنگون اور پھر ہندوستان بھیج دیا گیا۔ سیم مانک شا زندگی بھر اپنے اردلی شیرسنگھ کے

Screenshot 2025-09-10 at 14-58-05 huky113.pdf

احسان مندر ہے۔ اس خطر ناک مقابلہ کو یاد کرتے ہوئے وہ مزاحیہ لہجے میں کہتے تھے : ” میرا پیٹ تو لوہے کا بنا ہے جس میں جاپانیوں کی گولیاں بھی داخل نہ ہو پائیں۔ “

شجاعت اور بہادری کے لیے سیم مانک شاکو بے شمار انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں وہ اہم ملٹری اعزاز ملٹری کر اس بھی شامل ہے جو کہ بہ طور فوجی ان کی ناقابل تسخیر صلاحیتوں کے اعتراف میں انھیں دیا گیا تھا۔

1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد ، سیم مانک شانے ہندوستانی فوج میں خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جہاں ان کی انفرادی کار کردگی اور قائدانہ صلاحیت سے ان کو عروج حاصل ہوا۔ انھوں نے مختلف ریجمنٹ اور اکائیوں کی کمان سنبھالی اور اپنے فوجی ساتھیوں اور افسران کی نظروں میں اعتماد اور عزت و وقار حاصل کیا۔ وہ نہ صرف ایک عظیم فوجی جنرل بلکہ ایک دل کش شخصیت کے بھی مالک تھے۔

سیم مانک شا کی فوجی قیادت میں وطن عزیز نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں۔ مختلف اہم عہدوں پر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے 1969 میں انھیں چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) بنایا گیا، جو ہندوستانی فوج کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے۔ انھوں نے منظم حکمت عملی سے وطن عزیز کی سرحدوں کا تحفظ کیا جس کے سبب انھیں فیلڈ مارشل کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا۔

Screenshot 2025-09-10 at 15-02-59 huky113.pdf

سیم مانک شا نے فوج کی ملازمت کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی جنگیں لڑیں۔ 1947 کی جنگ میں انھوں نے جنگی منصوبہ بندی اور فوجی حکمت عملی کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے اور اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔ 1962 میں جنرل کری اپنا کی سر براہی میں چین کے ساتھ جاری جنگ کے دوران لفٹیننٹ جنرل مانک شا کو فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انھوں نے یہ فریضہ بہ خوبی انجام دیا، جس کے نتیجے میں چین کو جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔

Screenshot 2025-09-10 at 15-03-55 huky113.pdf

1965 کی ہند و پاک جنگ میں، سیم مانک شا کی سر براہی میں ہندوستانی فوج نے ہمارے ملک کو ایک تاریخ ساز اور فیصلہ کن فتح سے ہم کنار کیا۔ سیم مانک شانے 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں کامیابی و کامرانی کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس جنگ میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا اور دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس جنگ میں ہی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

تقریباً چار دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد مانک شا 15 جنوری 1973 کو ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ یہ دن پورے ملک میں آرمی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ فوج سے سبک دوشی کے بعد بھی جنرل سیم مانک شاہندوستانی عوام کے لیے ایک معز ز اور قابل احترام شخصیت بنے رہے۔ انھوں نے ہمہ وقت ہندوستانی فوجیوں کی فلاحو بہبود کے لیے کوششیں کیں اور اپنے قول و عمل سے اپنے ساتھی فوجیوں کے د فوجیوں کے دلوں میں جذبہ حب وطن کی ایسی قندیل روشن کی جو بے مثال تھی۔ وہ ان کے حق میں آواز اٹھاتے رہے اور یہ 500 کوشش کرتے رہے کہ ہماری افواج کی عظیم خدمات اور گراں قدر قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کیا جائے اور انھیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔

Screenshot 2025-09-10 at 15-05-01 huky113.pdf

سیم مانک شا کئی خوبیوں کے مالک تھے ۔ لذیذ کھانا پکانے کا شوق انھیں بچپن سے تھا ، حاضر جوابی اور خوش خلقی انھیں وراثت میں ملی تھی۔ باغبانی اور موسیقی سے بھی انھیں بہت رغبت تھی۔ ان کا اپنا میوزک سسٹم ان کا قیمتی سرمایہ تھا۔

جنرل سیم مانک شا پوری زندگی بہادری اور عظمت کا نشان بنے رہے۔ ان کی قیادت، تدبر و تفکر اور بہترین منصوبہ بندی ہندوستانی فوج کے لیے ایک مثال ہے۔ سیم مانک شا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 1968 میں پدم بھوشن اور 1972 میں پدم وبھوشن سے نوازا گیا۔ مانک شانیپال کے سپاہیوں میں بھی کافی مقبول تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نیپال نے انھیں 1972 میں نیپالی فوج کے اعزازی جنرل کا عہدہ پیش کیا۔ 1977 میں نیپال کے بادشاہ نے انھیں آرڈر آف کے اعزاز )Order of Three Divine Powers, First Class( تھری ڈیوائن پاورز فرسٹ کلاس سے سرفراز کیا۔

فیلڈ مارشل سیم مانک شا کی وفات 27 جون 2008 کو چورانوے سال کی عمر میں ہوئی۔ انھوں نے حُب الوطنی، جواں مردی اور شجاعت کی جو شمع جلائی تھی اس کی روشنی میں آنے والی نسلیں صحیح راہوں کا تعین کریں گی اور ملک کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رہے گا۔

-اداره

Screenshot 2025-09-10 at 15-06-33 huky113.pdf

لفظ و معنی

جارحیت : ظالمانہ حملہ ، جنگ جوئی
مستحکم : پکّا ، مضبوط
پیوست : داخل ہونا
نا قابل تسخیر : جس پر فتح حاصل نہ کی جاسکے
اقدار : قدر کی جمع، عزت، قیمت
فعال : متحرک، سرگرم
منتظم : وہ کام جو نظم وضبط کے ساتھ کیا جائے
حکمت عملی : تدبیر ، پالیسی
فلاح و بهبود : بھلائی اور فائدہ
تدبر و تفکر : غور و فکر، حکمت

غور کیجیے

نام دیو مالیجنرل مانک شا کی بے مثال فوجی خدمات، شجاعت اور بہادری کے لیے انھیں کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں ملٹری کر اس میڈل ، پدم بھوشن اور پدم وبھوشن شامل ہیں۔

کہانی کابڑی فوج میں سب سے بڑا عہدہ فیلڈ مارشل کا ہوتا ہے۔ اب تک دو فوجی عہدے داروں کو ہی فیلڈ مارشل بنایا گیا ہے۔ 1973 میں جنرل سیم مانک شا کو فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ ان کے بعد 1986 میں جنرل کے ۔ ایم ۔ کری اپنا کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر تقرری ہوئی۔

نام دیو مالیجنرل مانک شا 15 جنوری 1973 کو ملازمت سے سبک دوش ہوئے ۔ اس دن کو آرمی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

ہندوستانی افواج میں خواتین کو بھی خدمات کے وہی مواقع حاصل ہیں جو مردوں کو ہیں۔ وہ مسلح افواج کے بری، فضائی اور بحری تینوں حصوں اور مختلف اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت انھیں اگنی ویر کی حیثیت سے بھی جگہ دی جارہی ہے۔ خواتین جنگی اور غیر جنگی دونوں کرداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بیشتر تو فرنٹ لائن جنگی یو نیٹوں کا بھی حصہ ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. سیم مانک شا کے خاندان کو کس وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا؟
  2. سیم مانک شا کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کے دوران کون سا واقعہ پیش آیا؟
  3. سیم مانک شانے کن کن جنگی محاذوں پر ہندوستان کی نمائندگی کی ؟
  4. سیم مانک شانے کن اعلیٰ عہدوں پر رہتے ہوئے ہندوستانی فوج میں اپنی خدمات پیش کی؟
  5. سیم مانک شا کی زندگی کے کسی پہلو نے آپ کو زیادہ متاثر کیا ؟

مثال کے مطابق دیے گئے مخففات اور ان کی مکمل شکل کا جوڑ ملائیے:

سی ڈی ایس (CDS) چیف آف آرمی اسٹاف
سی او اے ایس (COAS) انڈین ایئر فورس
آئی ایم اے (IMA) کمبائنڈ ڈیفنس سروسز
آئی این اے (INA) انڈین نیوی
اے ایف اے (AFA) انڈین ملٹری اکیڈمی
آئی اے ایف (IAF) ایئر فورس اکیڈمی
آئی این (IN) انڈین نیشنل آرمی

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●صائمہ نے مشکل حالات میں صبر کیا۔ اس جملے میں میں 'صائمہ فاعل ہے، صبر کیا فعلانھیں نیم مردہ حالت میں علاج کے لیے اسپتال لایا گیا۔ اس جملے میں نیم سابقہ ہے جس کا معنی آدھا ہے۔ درج ذیل لفظ جوڑ کر نئے الفاظ بنائیے اور جملوں میں استعمال کیجیے :

Screenshot 2025-09-10 at 15-28-07 huky113.pdf

●سبق میں دشمن کو مزا چکھانے کے لیے دانت کھٹے کرنے کا محاورہ استعمال ہوا ہے۔ دانتوں سے متعلق کچھ محاورے ں ہوا ہے۔ دانتوں سے کسی چھ محاورے نیچے دیے گئے ہیں ان کے معنی معلوم کر کے لکھیے اور ان محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔ آپ کچھ اور محاورے بھی ان میں شامل کر سکتے ہیں:

  1. دانتوں تلے انگلی دبانا
  2. دانت پینا
  3. دانت دکھانا
  4. دانت کائی روٹی ہونا
  5. دانت بجنا

●نیچے دیے گئے جملوں پر غور کیجیے:

کالم (الف) کالم (ب)
i.سیم مانک شا کا پورا نام بار موس جی فریم جی جمشید جی مانک شا تھا۔
ii.ان کی قربانیاں نا قابل فراموش ہیں۔
iii.سیم مانک شا کا فوجی کیریئر ار دہائیوں پر مشتمل ہے۔

●ان جملوں میں پہلے کالم میں ایک ادھوری بات کا ذکر اور دوسرے کالم میں اس کے بارے میں تفصیل یا خبر دی گئی ہے۔ اس طرح پہلے حصے کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرے حصے کو خبر کہتے ہیں۔ ہر کمل جملے میں مبتدا اور خبر ضرور شامل ہوتے ہیں۔ سبق سے پانچ جملے منتخب کر کے لکھیے اور اس میں مبتدا اور خبر کی نشان دہی کیجیے :

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________
  5. _______________

●سبق میں مرکب لفظ نظم وضبط استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ہے انتظام اور قاعدہ۔ یہ دو مختلف الفاظ ہیں۔ آزادانہ طور پر دونوں کے کئی اور معانی ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ لغت کی مدد سے دونوں الفاظ کے تین معانی تلاش کیجیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

نظم______________

●ضبط_____________

●جذبہ حب وطن میں دو الگ الگ اضافتوں کا استعمال ہوا ہے۔ پہلے حصے میں ہمزہ کی اضافت ہے اور دوسرے حصے میں زیر کی اضافت ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور اسی طرح کے الفاظ تلاش کر کے نیچے لکھیے:

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________
  5. _______________

●پچھلی جماعت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ جملے کی کئی قسمیں ہیں۔ مفرد ، مرکب، انکاریہ ، فجائیہ ، سوالیہ ، حکمیہ، بیانیہ وغیرہ سبق کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے اور اس میں سے دو دو بیانیہ ، حکمیہ اور انکار یہ جملے تلاش کر کے لکھیے :

    بیانیه
  1. _______________
  2. _______________
    حکمیہ
  1. _______________
  2. _______________
    انکاریه
  1. _______________
  2. _______________

تخلیقی اظهار

●دیے گئے ویب لنک کی مدد سے نیشنل وار میموریل کی سیر کیجیے اور اپنے تاثرات لکھ کر کمرۂ جماعت میں چسپاں کیجیے۔

https://www.mygov.in/
compainings/national-war-Memorial/

عملی کام

●دیے گئے ویب لنک کی مدد سے مانک شا اور ان کے ساتھیوں کے کارناموں پر دور درشن کی ڈاکیومینٹری اکہتر کی کہانی کو دیکھیے اور اپنے تاثرات کاپی میں لکھیے۔

youtube.com/watch?v=qCM4xnz_qxoet=1159s

●نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ہندوستانی افواج میں ملازمت کے مختلف مواقع کے بارے میں معلوم کیجیے اور اہم نکات کو اپنی نوٹ بک میں لکھیے۔

https://www.india.gov.in/spotlight/
career-defence-and-paramilitary-forces

●نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے کارگل جنگ میں شہید ہوئے بہادر سپاہیوں کے بارے میں معلومات جمع کیجیے۔

https://www.incredibleindia.gov.in
/en/ladakh/kargil/kargil-war-memorial

یہ بھی جانیے

●26 جنوری 1950 کو حکومت ہند کی جانب سے تین بہادری ایوارڈ (Gallantry Awards) یعنی پرم ویر چکر، مہاویر چکر اور ویر چکر قائم کیے گئے تھے۔ 1952 میں مزید تین ایوارڈ ، اشوک چکر کلاس ۱، اشوک چکر کلاس ۱۱ ، اشوک چکر کلاس 111 شروع کیے گئے۔ جنوری 1967 میں ان کا نام بدل کر بالترتیب اشوک چکر ، کیرتی چکر اور شور یہ چکر رکھا گیا۔ اس طرح بہادری کے لیے دیے جانے والے ایوارڈ کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔ ان کے نام بالترتیب پرم و پر چکر ، اشوک چکر ، مہاویر چکر، کیرتی چکر ، ویر چکر اور شور یہ چکر ہیں۔

Screenshot 2025-09-10 at 15-55-42 huky113.pdf

●دیے گئے ویب لنک کی مدد سے بہادری کے لیے دیے جانے والے ایوارڈ کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔

https://www.gallantry
awards.gov.in