Skip to content
Sitaar Urdu







12 ایوریسٹ کی فتح


یوریسٹ پر چڑھنے کے لیے ہماری ٹیم 7 مارچ کو دہلی سے کٹھمنڈو بذریعہ جہاز روانہ ہوئی۔ کٹھمنڈو میں چند روز قیام رہا پھر ہم زیری کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں سے ہم مزے میں پیدل سفر کرتے ہوئے آٹھ دن میں نامچی بازار پہنچے۔ نامچی بازار شیر پالینڈ کا اہم قصبہ ہے۔ یہیں میں نے پہلی بار ایوریسٹ کو دیکھا تھا۔ نیپالی لوگ اسے ساگر ماتھا، کہتے ہیں۔ ایوریسٹ پر مٹی باندھے ہوئے میں برف کے ایک بہت بڑے تو دے کو دیبا ے تو دے کو دیکھ سکتی تھی جو چوٹی سے ایک پھر یرے کی طرح لہراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ برف کا یہ پھر پر دس کلومیٹر یا اس سے بھی لمبا ہو سکتا ہے۔

ایک دن یہاں رکنے کے بعد ہم مشہور تھیا نگ بو چھے مٹھ پہنچے۔ یہاں لاما نے ہمارے لیے کامیابی اور بخیریت واپسی کے لیے دعا مانگی۔ یہاں دو روز قیام کرنے کے بعد ہم پھر نیچے پہنچے۔ 26 مارچ کو جب ہم نیچے پہنچے تو ہمیں ایک دہشت انگیز خبر ملی۔ برفانی جھکڑ میں ایک شیر پاقلی ہلاک ہو گیا تھا۔ ہماری مہم کے سر براہ کرنل کھلر نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ اس خبر نے ہم سبھی کو افسردہ کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا: ” کسی ایک حادثے سے ہمیں بے جاحد تک پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے ارادے میں کوئی کمزوری آنے دینا چاہیے۔“

صدر کیمپ پہنچنے سے پہلے ایک خراب خبر اور ملی تھی۔ کچن کے ایک ملازم کی موت ہو گئی تھی۔ اگلے دن صدر کیمپ پہنچنے پر میں نے ایوریسٹ پہاڑوں کے گٹھے ہوئے سلسلے اور

Screenshot 2025-09-10 162431

اس کے ذیلی سلسلوں کو دیکھا۔ میں مبہوت کھڑی جمی ہوئی برف کے بے ترتیب ٹھوس دریا کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ ہم کھمبو گلیشیر کو کم فاصلے یعنی ایک کلومیٹر سے تقریباً چھے سو میٹر نیچے گرتا ہواد لکھ سکتے تھے۔ گلیشیر یا بر فشار جمی ہوئی برف کے میناروں اور تو دوں کا گڈمڈ آبشار سا ہے ہمیں بتایا گیا کہ گلیشیر کی نقل و حرکت سے اکثر برف میں زلزلے بپا ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں برف کی بڑی بڑی سلیس تیزی سے نیچے گرنے لگتی ہیں۔

پہلا کیمپ چھ ہزار میٹر کی بلندی پر برفشار کے بس ذرا او پر تھا۔ میں جلد سے جلد برفشار کے قریب پہنچنا چاہتی تھی۔ اسی شام میں اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ اس مقام تک جا پہنچی۔ ماہ اپریل میں جب میں صدر کیمپ میں تھی، تین سنگھ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی و یکی کے ساتھ کیمپ میں تشریف لائے تھے۔ جب میں نے ان کو بتایا کہ میں قطعی نو مشق ہوں اور ایورسٹ پر چڑھائی کی یہ میری پہلی مہم ہے تو انھوں نے ہنس کر کہا ” ایوریسٹ میری بھی پہلی مہم تھی اور چوٹی کو میں ساتویں کوشش میں سر کر سکا تھا۔“

16/15 مئی کو بدھ پور نیما تھی۔ اس رات ہم لہو تے کی برفیلی پرتوں والی سیدھی ڈھلان پر خیمہ انداز تھے۔ اس کیمپ میں میرے علاوہ دس افراد اور تھے۔ میں گہری نیند میں تھی۔ ساڑھے بارہ بجے کا عمل ہو گا کہ اچانک کوئی بھاری شے بڑے زور سے میرے سر کے پچھلے حصے پر آکر لگی جس نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا اور اس کے ساتھ ہی بڑا بھیانک

Screenshot 2025-09-10 at 16-26-14 huky114.pdf

دھماکہ ہوا میں نے محسوس کیا کہ میں کی بھاریشے کے نیچے دبی چلی جارہی ہوں وہ شے مجھے کچلے دے رہی ہے۔ میں ۔ بہ مشکل سانس لے پارہی تھی۔

آخر ہوا کیا تھا؟ لہوتے گلیشیر کی برف کی ایک بڑی لاٹ جو ہمارے کیمپ کے عین اوپر تھی ، ٹوٹ کر نیچے آگری تھی۔ برف کے بے پناہ بڑے تو دوں نے جمی ہوئی برف کو پاش پاش کر دیا تھا اور یہ تو دے عمودی ڈھلان سے کسی ایکسپریس گاڑی کی رفتار سے اور بہرہ کرنے والی گھن گرج کے ساتھ نیچے گرنے لگے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک کو چوٹیں آئیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا۔ لوپسانگ نے اپنے سوئس چاقو کی مدد سے کسی طرح خیمے کو چاک کر دیا۔ وہ اس میں سے باہر نکل آیا اور فوراً ہی مجھے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ اگر ذراسی تاخیر ہوتی تو موت یقینی تھی۔

سارے خیمے تہس نہس ہو گئے تھے۔ کچن والا خیمہ البتہ صحیح سلامت تھا۔ میں اور اوپسانگ ہاتھ کے بل چلتے ہوئے وہاں پہنچے۔ اس وقت تک سبھی کچن والے خیمے میں یا اس کے قریب پہنچ چکے تھے۔ میں نے اپنے اولین طبی امداد والے تھیلے سے نکال کر باہر ایک کو درد دور کرنے والی گولیاں دیں۔ ان کے لیے گرما گرم چائے بنائی۔ میں نے کسی کی مدد کی تھی ، اس احساس نے حواس پر طاری افسردگی اور بے دلی کو پرے جھٹک دیا۔

Screenshot 2025-09-10 at 16-28-47 huky114.pdf

ہم نے صبح ہونے سے پہلے ہی برف کھود کھود کر اپنا سامان نکالنا شروع کر دیا۔ جلد ہی امدادی ٹیمیں آ پہنچیں اور 16 مئی کے آٹھ بجے تک ہم تقریبا سبھی دوسرے کیمپ میں پہنچ چکے تھے۔ چوٹ لگنے سے میرے سر کے پیچھے جو گومڑا سا بن گیا تھا ، اب دکھنے لگا تھا۔ لیکن میں نے اپنی تکلیف کسی کو بتائی نہیں۔ ہماری ٹیم کے سبھی نو مردوں کو صدر کیمپ بھیجا جانا تھا۔ انھیں سخت چوٹیں آئی تھیں کرنل کھلر نے مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھا: کیا تم بھی ڈر گئی تھیں؟" میں نے جواب میں دھیرے سے کہا “ہاں “۔ کیا تم بھی نیچے واپس جانا چاہتی ہو؟ انھوں نے پوچھا۔ ” ہرگز نہیں؟ میں نے بلا تامل جواب دیا۔

چوٹی کو سر کرنے کے لیے جانے والی دوسری ٹیم کی واحد خاتون رکن ہونے کا شرف میرے حصے میں آیا۔ میں صبح سویرے چار بجے اٹھ بیٹھی۔ کچھ برف پگھلائی اور چائے تیار کی اور ہلکا پھا کا ناشتہ کیا۔ ساڑھے پانچ بجتے بجتے میں خیمے سے باہر نکل آئی۔ انگ ڈور جی باہر کھڑا تھا ۔ اُس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم میرے ساتھ چلنا پسند کرو گی ؟“ مجھے ڈور جی پر بڑا اعتماد تھا۔ ایسا ہی اعتماد مجھے اپنی قوت برداشت اور کوہ پیمائی کی صلاحیت پر بھی تھا۔ ایک بات اور بھی تھی۔ اس وقت کوئی دوسرا چلنے کو تیار بھی نہیں تھا۔ اس وقت صبح کے چھ بج کر میں منٹ ہوئے تھے۔ دن پوری طرح نکل آیا تھا، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ سردی بڑی شدید تھی۔ میں کوہ پیمائی کے لباس میں اپنے آپ کو گرم اور محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ ہم رنہ باندھے بغیر چڑھ رہے تھے جمی ہوئی برف سے ڈھکی کھڑی ڈھلانیں شیشے کی چادر کی طرحٹھوس تھیں۔ ہمیں بار بار "برف کدال کا سہارا لینا پڑ رہا تھا۔ پھر بھی مجھے کوئی دشواری نہیں ہو رہی تھی۔ ہم دو گھنٹے سے کم وقت میں چوٹی کیمپ میں پہنچ گئے۔ انگ ڈور جی نے پوچھا، کیا میں تھک گئی ہوں اور جب میں نے نفی میں جواب دیا تو اُسے بڑی حیرانی ہوئی اور خوشی بھی۔

Screenshot 2025-09-10 at 16-30-34 huky114.pdf

جنوبی چوٹی پر پہنچنے کے بعد ہوا تیز ہوگئی تھی۔ شدید پریچ آندھی میں برف کے ذرات برابر شامل ہو رہے تھے اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سلسلہ کوہ چاقو کی دھار جیسا تھا۔ بال برابر چوک ہوئی اور قصہ ختم۔ کسی بھی طرف لڑھک سکتے تھے۔ جنوبی چوٹی اور اس حصے کے درمیان چڑھائی خاص طور پر خطر ناک تھی جسے عام طور پر ہلاری اسٹیپ کہتے ہیں۔ انگ ڈور جی نے ہاتھ سے چوٹی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ساتھ ہی ایک خوشی سی رگ وپے میں دوڑ گئی۔ منزل اتنی قریب تھی۔ سورج کی شعاعوں نے برف کو نرم بنادیا تھا۔ پچھلے کی نسبت اس حصے پر چڑھناز یادہ آسان تھا۔

کچھ دیر تک ہم برف کے ذرات والی تیز آندھی میں کھڑے رہے پھر ہم نے دیکھا کہ آندھی کا زور گھٹنے لگا ہے۔ چند ہی قدم چلنے کے بعد میں نے دیکھا، چڑھائی بس دو چار میٹر اور تھی۔ میرے دل کی دھڑکن رک سی گئی تھی۔ میں نے محسوس کیا، کامیابی میرے پاؤں چومنے کو ہے اور 23 مئی 1984 کو دو پہر ایک بج کر سات منٹ پر میں ایوریسٹ کی چوٹی پر کھڑی ہوئی تھی۔ میں پہلی ہندوستانی عورت تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

--بچندری پال

Screenshot 2025-09-10 at 16-45-49 huky114.pdf

لفظ و معنی

قیام : ٹھہرنا
افسرده : اداس، بجھا بجھا سا
مبہوت : حیران ہکا بکا
نو مشق : نو آموز ، ناتجر به کار
نقل و حرکت : ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا
عمودی ڈھلان : کھڑی ڈھلان
بلا تامل : سوچے سمجھے بغیر ، غور کیے بغیر
کوہ پیمائی : پہاڑ پر چڑھنا
شعاعوں : (شعاع کی جمع) کرن ، روشنی

غور کیجیے

نام دیو مالیجنرل مانکنیپال اور تبت کی سرحد پر واقع دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی کا نام ایوریسٹ ہے جس کو نیپال میں ساگر ماتھا اور تبت میں چومو لنگھا کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی سرد اور خطر ناک ہوتا ہے۔ اس چوٹی پر آکسیجن کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

بچندری پال کی پیدائش 24 مئی 1954 کو اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے بم پا گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان کی پہلی خاتون ہیں جنھوں نے ایوریسٹ سر کرنے کا کارنامہ انجام دے کر ملک کا نام روشن کیا۔ بچندری پال کو بہت سے اعزاز ملے۔ حکومت ہند نے انھیں 1984 میں پدم شری اور 2019 میں پدم بھوشن سے نوازا۔

سبق میں شامل حصہ ان کی آپ بیتی Everest My Journey to The Top سے لیا گیا ہے۔

ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھنے والی سب سے کم عمر ہندوستانی خاتون کا میا کارتی کسین ہیں ۔ جنھوں نے محض 16 سال کی عمر میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ نیپال کی پور نما شرسٹی نے ایک ہی سیزن میں تین بار ماؤنٹ ایوریسٹ پر چڑھ کر نئی تاریخ رقم کی۔ اسی طرح ماونٹ ایورسٹ پر فتح حاصل کرنے والی ایک اور ہندوستانی خاتون ارونما سنہا ہیں، جنھوں نے 21 مئی 2013 کو ایوریسٹ کی چوٹی پر پہنچنے والی پہلی مخصوص اہمیت ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

سوچیے اور بتائیے

  1. برف میں زلزلے کی اصل وجہ کیا ہوتی ہے؟
  2. بچندری پال ایوریسٹ کی چوٹی پر کب پہنچیں؟
  3. صدر کیمپ پہنچنے سے پہلے بچندری پال کو کون سی بری خبر ملی ؟
  4. شیر پاقلی کی ہلاکت کی خبر کے بعد کرنل کھلر نے ٹیم کا حوصلہ کس طرح بڑھایا؟
  5. ایوریسٹ کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد بچندری پال کی جذباتی کیفیت کیا تھی؟ بیان کیجیے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●آپ جانتے ہیں کہ وہ لفظ جو کسی شخص یا چیز کی ذاتی حالت کو ظاہر کرے اسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔ جن الفاظ سے کسی شخص یا چیز کا آپس میں تعلق ظاہر ہوا نھیں صفت نسبتی، کہتے ہیں اور جو لفظ کسی شخص یا چیز کی تعداد کو ظاہر کرے صفت عددی “ کہلاتا ہے۔ اس سبق میں صفت ذاتی ، صفت نسبتی اور صفت عددی کی چند مثالیں بیان کی گئیں ہیں۔ مثلاً مشہور تھیا نگ بو چھے مٹھ ، دس کلومیٹر ، برف کی بڑی سلیس وغیرہ۔ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کیجیے اور نیچے دی گئی عبارت سے صفت ذاتی ، صفت نسبتی اور صفت عددی تلاش کر کے لکھیے :

صدر کیمپ پہنچنے سے پہلے ایک خراب خبر اور ملی تھی۔ کچن کے ایک ملازم کی موت ہو گئی تھی۔ اگلے دن صدر کیمپ پہنچنے پر میں نے ایوریسٹ پہاڑوں کے گٹھے ہوئے سلسلے اور اس کے ذیلی سلسلوں کو دیکھا۔ میں مبہوت کھڑی جمی ہوئی برف کے بے ترتیب ٹھوس دریا کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ ہم کھمبو گلیشیر کو ایک کلومیٹر سے کم فاصلے سے تقریباً چھ سو میٹر نیچے گرتا ہواد لکھ سکتے تھے۔ گلیشیر یا برفشار جمی ہوئی برف کے میناروں اور تو دوں کا گڈ مڈ آبشار سا ہے ہمیں بتایا گیا کہ گلیشیر کی نقل و حرکت سے اکثر برف میں زلزلے بپا ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں برف کی بڑی بڑی سلیں تیزی سے نیچے گرنے لگتی ہیں۔

●سر کرنا ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہے فتح کرنا اسی طرح اس سبق میں اور بھی محاورے استعمال ہوئے ہیں ان محاوروں کو تلاش کر کے نیچے لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

محاورے    ------------- جملوں میں استعمال

  1. _________________
  2. _________________
  3. _________________
  4. _________________
  5. _________________

●آپ جانتے ہیں کسی اسم کا مذکر (نر) یا مونث (مادہ) ہونا جنس کہلاتا ہے مثلا لڑکا لڑکی۔ جنس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ جنس حقیقی اور جنس غیر حقیقی ۔ جان دار اسما کے مذکر و مونث ہونے کو جنس حقیقی کہتے ہیں جیسے باپ، ماں اور بے جان اسما کے مذکر و مونث ہونے کو جنس غیر حقیقی کہتے ہیں جیسے دن، رات سبق سے پانچ جنس حقیقی اور پانچ جنس غیر حقیقی اسما تلاش کر کے لکھیے :

جنس حقیقی    ------------- جنس غیر حقیقی

  1. _________________
  2. _________________
  3. _________________
  4. _________________
  5. _________________

دیے گئے جملوں کو غور سے پڑھیے۔

●ایوریسٹ کے لیے ہماری ٹیم 7 مارچ کو دہلی سے کٹھمنڈو کے لیے بذریعہ جہاز روانہ ہوئی، ساڑھے پانچ بجتے بجتے میں خیمے سے باہر نکل آئی۔

●ان جملوں میں ایوریسٹ، کٹھمنڈو اور خیمہ جگہ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ ایسے الفاظ جو کسی مقام کو ظاہر کرتے ہوں انھیں ظرف مکان کہتے ہیں۔ اسی طرح ان جملوں میں مارچ ، ساڑھے پانچ الفاظ وقت کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ ایسے الفاظ جو کسی وقت کو ظاہر کریں ان کو ظرف زمان کہتے ہیں۔ سبق کو پڑھ کر ظرف مکاں اور ظرف زماں کی پانچ مثالیں تلاش کر کے لکھیے:

ظرف مکال    ------------- ظرف زمان

  1. _________________
  2. _________________
  3. _________________
  4. _________________
  5. _________________

تلاش کیجیے

●ایوریسٹ فتح کرنے والے پانچ ملکی اور پانچ غیر ملکی کوہ پیماؤں کے نام اور ان کے کارناموں کے بارے میں ایک ایک پیراگراف لکھیے اور سامنے ان کی تصویریں بھی چسپاں کیجیے۔

تخلیقی اظهار

●بچندری پال نے کوہ پیمائی کے اپنے سفر کو اپنی آپ بیتی ' Everest - My Journey to the Top میں تفصیل سے لکھا ہے۔ آپ بھی اپنے کسی یاد گار سفر کے بارے میں دل چسپ انداز میں لکھیے۔

●سبق میں یہ جملہ شامل ہے ” ایوریسٹ میری بھی پہلی مہم تھی لیکن چوٹی پر پہنچنے میں اپنی ساتویں کوشش میں کامیاب ہوا کیا آپ کو ایسا کوئی واقعہ یاد ہے کہ جب کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی مرتبہ کوشش کرنی پڑی ہو۔ اس واقعے کی تفصیل لکھیے اور اپنی جماعت کے طلبا کو سنائیے۔

عملی کام

●ایوریسٹ پر پانچ مرتبہ فتح حاصل کرنے والی ارو نما سنہا کے بارے میں مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیجیے اور ان پر چند جملے تحریر کر کے کمرۂ جماعت میں سنائیے ، اور ان کی تصویر تختہ سیاہ پر چسپاں کیجیے۔

●نیچے دیے گئے نکات کی روشنی میں ان جاں باز ہندوستانی کوہ پیما کی فہرست بنائیے جنھوں نے ماؤنٹ ایوریسٹ پر فتح حاصل کر کے ملک اور قوم کا نام روشن کیا ہے۔

-کوہ پیما کا نام________________

-جائے پیدائش________________

-کس سن میں کامیابی حاصل کی_____________

یہ بھی جانیے

●لک کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھارت رتن ہے۔ یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنھوں نے فن، ادب، سائنس، سماجی خدمات اور کھیل جیسے مخصوص شعبوں میں غیر معمولی اور قابلِ ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ اب تک 53 لوگوں کو ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے مزید تفصیلات حاصل کیجیے :

Screenshot 2025-09-11 at 10-07-43 huky114.pdf https://
www.cheggindia.com/
general-knowledge/list-of-bharat-ratna-awardees/

●یدم ایوارڈ ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک ہیں۔ یہ ہیں پدم وبھوشن ، پدم بھوشن اور پدم شری۔ ان کا اعلان ہر سال یوم جمہوریہ کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ تین زمروں میں دیے جاتے ہیں۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے مزید تفصیلات حاصل کیجیے:

Screenshot 2025-09-11 at 10-07-49 huky114.pdf https://
www.padmaawards.
gov.in/