عزم و عمل
ذہن کی تاریکیوں کو دور ہونا چاہیے
علم سے ادراک کو پر نور ہونا چاہیے
امتحاں کا خوف دل سے دور ہونا چاہیے
وقت کا ہر فیصلہ منظور ہونا چاہیے
عزم و استقلال سے انسان پہنچا چاند پر
دل کو اب تو اور بھی مسرور ہونا چاہیے
جذبہ ایثار سے ہوتی ہے تعمیر حیات
دل کو احساسات سے معمور ہونا چاہیے
بے اصولی سے نہیں ہوتا ہے کوئی سرخرو
کام کرنے کا بھی اک دستور ہونا چاہیے
حوصلوں کے سامنے ہر امتحاں اک کھیل ہے
جذبه عزم و عمل بھر پور ہونا چاہیے
نامرادی بھی اگر آئے تو کوئی غم نہ ہو
زندگی کا کچھ یہی دستور ہونا چاہیے
تنگ نظری کو زمانے سے مٹانے کے لیے
علم سے اخلاق سے معمور ہونا چاہیے
یہ مشینی دور ہے رفتار اس کی تیز ہے
آگے بڑھنا ہی تمھیں منظور ہونا چاہیے
نیک نامی کے لیے اے نو نہالان وطن
غم گسار بے کس و مجبور ہونا چاہیے
-شوکت پردیسی
(پڑھنے کے لیے)