Skip to content
Sitaar Urdu







14 ہاکی کا جادوگر


میجر دھیان چند کی پیدائش 29 اگست 1904 کو الہ آباد میں ہوئی۔ ان کا اصل نام دھیان سنگھ تھا لیکن وہ مشہور دھیان چند کے نام سے ہوئے۔ ان کے والد سمیشور سنگھ فوج میں صوبے دار کے عہدے پر فائز تھے اور فوج کی طرف سے ہاکی کھیلتے تھے۔ ان کے بھائی روپ سنگھ بھی اپنے زمانے کے مشہور ہاکی کھلاڑی تھے۔ شروع میں دھیان چند کی دل چسپی کشتی میں تھی۔

جب وہ 16 برس کی عمر میں ایک سپاہی کے طور پر فوج میں بھرتی ہوئے۔ تو وہاں صوبیدار میجر نے ان کی صلاحیتوں کو بہ خوبی پہچان لیا اور یہ محسوس کیا کہ وہ ہاکی کے اچھے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ انھوں نے دھیان چند کو ہاکی کی مشق کرتے رہنے کا مشورہ دیا۔ اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہاکی کھیلنے کی مشق کرنے لگے۔ اس طرح دھیان چند کی ہاکی سے دل چیپسی بڑھ گئی۔ رفتہ رفتہ اس دل چسپی نے جنون اور دیوانگی کا روپ اختیار کر لیا۔ وہ چاندنی رات میں بھی ہاکی کی مشق کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک عظیم کھلاڑی بن گئے۔ ایک میچ کے دوران ان کے جوتوں کی حالت خراب ہو گئی تو انھوں نے ننگے پاؤں کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، اس کے باوجود انھوں نے کئی گول کیے جس سے مخالف ٹیم حیران رہ گئی۔ 1925 میں انڈین فیڈ ریشن کا قیام عمل میں آیا ۔ 1928 کے ایمسٹر ڈم اولمپکس میں ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے جب پہلی بار اولمپک کھیلوں میں حصہ لیا تو فائنل میں ہندوستان اور ہالینڈ کا مقابلہ تھا۔ دھیان چند اور ٹیم کے دوسرے ساتھی

Screenshot 2025-09-11 at 11-50-16 huky117.pdf Screenshot 2025-09-11 at 11-54-28 huky117.pdf

اچانک بیمار ہو گئے۔ دھیان چند کو بھی تیز بخار تھا لیکن انھوں نے سوچا کہ انھیں دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے اس قدم سے پوری ہندوستانی ٹیم تمام طاقت یک جاکر کے میدان میں کود پڑی۔

اس میچ میں ہندوستان نے ہالینڈ کو تین گولوں سے شکست دی، جن میں سے دو گول دھیان چند نے کیے۔ ان کے کھیل کو دیکھ کر لوگوں کو شک ہوا کہ ان کے اسٹک میں کوئی مقناطیس ہے۔ ان کی ہاکی اسٹک کو توڑ کر دیکھا گیا مگر اس میں سے کچھ نہ نکلا۔

آسٹریا کے شہر ویانا میں دھیان چند کی شاندار کار کردگی دیکھ کر مقامی لوگ بہت متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا یہ کھلاڑی دو نہیں بلکہ چار ہاتھوں سے کھیلتا ہے۔ وہاں کے لوگوں نے ان کے اعزاز میں ایک مجسمہ بنایا جس کے چار ہاتھ تھے اور بھی ہاتھوں کو ہاکی اسٹک پکڑے دکھایا گیا ہے۔

2 میں لاس اینجلس اولمپک میں دھیان چند نے اپنی بہتر کارکردگی پیش کر کے ایک بار پھر ٹیم کو اولمپک چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دھیان چند کی صلاحیتیں اور گول کرنے کی رفتار کافی حیران کن تھی۔ ان کے جادوئی کھیل اور صلاحیت سے ملک کو ہمیشہ بلندی اور سرخ روئی حاصل ہوئی۔ امریکہ کے خلاف پول میچ میں ہندوستانی ہاکی ٹیم نے 24 گول کیے۔ ہندوستان نے امریکہ کو 24-1 سے ہرایا جواب تک اولمپکس کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے اس میچ میں دھیان چند نے اکیلے آٹھ گول کیے جو ان کی نا قابل یقین صلاحیت کا ثبوت ہے۔

1936 کے برلن اولمپک مقابلوں میں دھیان چند کو ہندستان کی ہاکی ٹیم کا کپتان منتخب کیا گیا۔ فائنل مقابلہ ہندستان اور جرمنی کی ٹیموں کے درمیان تھا۔ یہ مقابلہ بڑا سخت ثابت ہوا۔ میچ کے درمیان گیند ہر وقت دھیان چند کی ہاکی اسٹک کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔ گیند کو اپنے قابو میں رکھنے کے اس انوکھے طریقے کو دیکھ کر تماشائی حیران رہ گئے۔ مقابلے کے شائقین میں سے کچھ لوگوں کو یہ شک ہونے لگا کہ کہیں دھیان چند کی اسٹک میں کوئی ایسی چیز تو نہیں لگی ہے جو گیند کو اپنی جانب چینچی رہتی ہے۔ چنانچہ دھیان چند کو دوسری اسٹک سے کھیلنے کے لیے کہا گیا۔ دوسری اسٹک سے بھی دھیان چند نے پے در پے گولوں کا تانتا باندھ دیا۔ اب انتظامیہ کو یقین ہو گیا کہ جادو اسٹک کا نہیں، بلکہ دھیان چند کی لچک دار اور مضبوط کلائیوں کا ہے۔ لوگوں نے اسی وقت سے دھیان چند کو ہاکی کا جادوگر ، کہنا شروع کر دیا۔ اس اولمپک میں ہندستانی ٹیم نے کل 38 گول کیے جن میں سے 11 اکیلے دھیان چند ہی نے کیے تھے۔

وہ اپنی خود نوشت ”گول میں لکھتے ہیں:

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سارے گول میں ہی کرتا تھا میری تو ہمیشہ کوشش رہتی تھی کہ میں گیند کو گول کے پاس لے جا کر اپنے کسی ساتھی کھلاڑی کو دے دوں تا کہ اس کو گول کرنے کا موقع ملے اور اس کی بھی ستائش ہو۔ کھیل کے اس جذبے کی لوگوں نے بڑی قدر کی۔ دھیان چند نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ 1948 میں کھیلا جب ان کی عمر 43 سال تھی۔ اس عمر میں بھی انھوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی گول کیے۔

عالمی شہرت حاصل ہونے کے باوجود دھیان چند میں کبھی بھی غرور پیدا نہیں ہوا۔ وہ کہتے تھے: ہاکی کے میدان میں جو تھوڑی بہت خدمت مجھ سے ہو سکتی ہے اس کا سبب میرے ملک کے باشندوں کی مجھ سے محبت ہے ۔ “ نوجوان کھلاڑیوں کو یہی مشورہ دیتے تھے کہ ذاتی شہرت یا نام کے بجائے

Screenshot 2025-09-11 at 11-58-34 huky117.pdf

ملک کی ناموری کے لیے پوری ٹیم کو ایک جان ہو کر کھیلنا چاہیے۔

1956 میں جس وقت وہ فوج سے سبک دوش ہوئے اُس وقت میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی سال انھیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 3 دسمبر 1980 کو ان کی وفات ہوئی۔ حکومت نے ان کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔

ان کے نام پر ہندوستان میں کھیلوں کا سب سے بڑا اعزاز میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح پر شاندار کار کردگی اور ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔ 29 اگست کو پورے ملک میں کھیلوں کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جو میجر دھیان چند کا یوم پیدائش ہے۔ ان کے نام پر دہلی کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کا نام میجر دھیان چند نیشنل ہاکی اسٹیڈیم رکھا گیا ہے۔

-اداره

Screenshot 2025-09-11 at 12-01-36 huky117.pdf Screenshot 2025-09-11 at 12-01-46 huky117.pdf

لفظ و معنی

فائز : کامیاب، کسی بلند درجے پر پہنچنا
دلیری : بے باکی، جرات مندی
شکت : بار، نا کامی
اعزاز : عزت، مرتبه رتبه
مقناطیس : ایک ایسی دھات جو لوہے کو اپنی طرف کھینچتی ہے

غور کیجیے

عزم اور حوصلہ پختہ ہو تو کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ دھیان چند باکی کے کھیل میں ماہر تھے جنہوں نے اپنے عزم اور حوصلے سے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور ہاکی کا جادوگر “ کہلائے۔

میجر دھیان چند کھیل رتن ایوارڈ کسی کھلاڑی کو گذشتہ چار برسوں کے دوران کھیلوں میں شاندار کار کردگی کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ارجن ایوارڈ ، درونا چار یہ ایوارڈ اور مولانا ابولکلام آزاد ٹرافی وغیرہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہترین کار کردگی کے عوض دیے جاتے ہیں۔

ہا کی دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس کھیل میں 11 کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ ہر کھلاڑی کا مقصد گیند کو مخالف ٹیم کے گول پوسٹ میں داخل کرنا ہوتا ہے۔ ہاکی کھیل کے مقابلوں کے کچھ کپ اور ٹرافیاں اس طرح ہیں، آغا خان کپ، دھیان چند ٹرافی ، لیڈی رتن ٹاٹا ٹرافی، نہرو ٹرافی، رنگا سوامی ٹرافی، سندھیا ٹرافی وغیرہ ۔

سوچیے اور بتائیے

  1. کھیلوں میں ضابطے کیوں بنائے جاتے ہیں؟
  2. برلن اولمپک میں دھیان چند کی ہاکی اسٹک کو تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی ؟
  3. ہاکی سے ملتے جلتے اور کون کون سے کھیل کھیلے جاتے ہیں؟
  4. کن کن مقامات پر دھیان چند نے ملک کو کامیابی دلائی؟
  5. مشکل وقت میں آپ کس طرح فیصلہ کرتے ہیں؟

●درج ذیل دیے گئے الفاظ کی مدد سے خالی جگہوں کو پر کیجیے:

1885، برلن اولمپک، بین الاقوامی، 241، ہالینڈ، کپتان

  1. میں ملک کا پہلا ہاکی کلب کلکتہ میں قائم کیا گیا۔
  2. ہندوستان نے پہلی دفعہ 1928 کے اولمپک کھیلوں میں ___کو فائنل میں ہرا کر ہا کی طلائی تمغہ حاصل کیا۔
  3. 1932 میں لاس اینجلس اولمپک میں ہندوستان نے امریکہ کو___________سے ہرایا۔
  4. دھیان چند نے اپنا آخری ___ میچ 1948 میں کھیلا۔
  5. 6391.کے مقابلوں میں دھیان چند کو ہندوستان کی ہاکی ٹیم کا____ منتخب کیا گیا۔

●سبق میں آئے درج ذیل الفاظ کے متضاد معلوم کر کے لکھیے:

  1. انتها :__________
  2. جدید:__________
  3. غروب:__________
  4. موافق:__________
  5. آئندہ :__________

●سبق کی مناسبت سے دیے گئے جملوں کو ترتیب وار لکھیے۔

  1. وہاں کے تماشائیوں نے اُسی وقت سے دھیان چند کو ہاکی کا جادو گر کہنا شروع کے کر دیا۔
  2. ہاکی کے میدان میں جو تھوڑی بہت خدمت مجھ سے ہو سکی اس کا سبب میرے ملک کے باشندوں کی مجھ سے محبت ہے۔
  3. ہندوستان نے پہلی دفعہ 1928 کے کھیلوں میں ہالینڈ کو ہرا کر فائنل میچ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔
  4. ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے جب پہلی بار اولمپک کھیلوں میں حصہ لیا تو فائنل میں ہندوستان اور ہالینڈ کا مقابلہ تھا۔
  5. میچ کے درمیان گیند ہر وقت دھیان چند کی ہاکی اسٹک کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔

●نیچے کھلاڑیوں کے نام دیے گئے ہیں۔ پی علوم کر کے لکھیے کہ کون ساکھلاڑی کس کھیل سے تعلق رکھتا ہے :

مشتاق احمد ، محمد کیف ، محمد شاہد، اشوک کمار ، سچن تندولکر ، کے ڈی سنگھ بابو، تاج محمد ، منو بھاکر ، اسلم شیر خاں، پی۔ وی۔ سندھو، میری کوم، سائنا نہوال، کرنم ملیشوری

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●لفظوں کا وہ مجموعہ جو ایک خاص ترتیب میں کسی قدر با معنی ہونے کے باوجود مکمل نہ ہو فقرہ کہلاتا ہے۔ مثلاً ہاکی کا جادو گر ۔ اسی طرح آپ بھی اپنی روز مرہ زندگی سے وابستہ واقعات سے پانچ فقرے کے لکھیے:

  1. ___________________
  2. ___________________
  3. ___________________
  4. ___________________
  5. ___________________

●نیچے دیے گئے الفاظ کے دو دو مترادف لکھیے:

  1. سورج_________
  2. تاری_________
  3. باغ_________
  4. رات_________
  5. درخت_________

●رکب لفظ کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں، مثال کے مطابق دیے گئے الفاظ کے صحیح جوڑ تلاش کر کے مرکب الفاظ بنائیے:

اندھیری
کھلاڑی
آدمی
کھیل
زبان
مشق
دل چسپ
رات
مشہور
مشکل
ذہین
شیریں

مثال: اندھیری + رات = اندھیری رات

Screenshot 2025-09-11 at 12-30-28 huky117.pdf

تلاش کیجیے

●لائبریری سے میجر دھیان چند کی آپ بیتی گول حاصل کیجیے اور اسے پڑھیے۔

●کھیل کی دنیا میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ جن شخصیات کو دیا گیا اُن کو تلاش کیجیے اور ان کی فہرست تیار کیجیے۔ ساتھ ہی ان کی تصاویر کے خاکے بنائیے۔

●اپنے پسندیدہ کھیل کے مشہور کھلاڑیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور ان شخصیات کے کارناموں پر ایک مضمون لکھیے۔

●معلوم کیجیے کہ ہندوستان نے عالمی کھیلوں میں کہاں کہاں کامیابی حاصل کی ہے۔

تخلیقی اظهار

●اپنے روزانہ کے کاموں کی تفصیل ایک ڈائری میں تاریخ وار لکھیے۔

●اپنے اسکول میں یوم کھیل ( اسپورٹس ڈے) کے انعقاد کی ایک رپورٹ تیار کیجیے اور اسے کلاس روم میں سنائیے۔

●اپنے گھر یا علاقے کے کسی ایسے شخص سے ملے جس نے کھیلوں کے مقابلے میں تمغہ حاصل کیا ہو۔ ان کی تعلیم ، کھیل میں دل چیپسی، حالات زندگی اور کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ داری سے متعلق سوالات تیار کر کے ان سے گفتگو کیجیے یا انٹرویو لیجیے۔

عملی کام

●انفرادی اور اجتماعی کھیلوں کی فہرست بنائیے اور چارٹ پر ہر کھیل کے بارے میں تین سطر میں لکھیے اور اس کی تصویر بھی چسپاں کیجیے۔

●سبق میں آپ نے پڑھا کہ ایک مرتبہ دھیان چند نے بخار میں مبتلا ہونے کے باوجود اور دوسری بار جوتوں کی حالت خراب ہونے کے بعد بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ اگر دھیان چند کی جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے۔ اپنے تاثرات کو پیراگراف کی شکل میں لکھیے۔

●چند دنوں کے اخبارات میں کھیل سے متعلق خبروں کا مطالعہ کیجیے اور کسی ایک کھیل کے مقابلے کی رپورٹ اپنی زبان میں لکھیے۔

●کسی کھیل کے بارے میں کی جارہی کمنٹری کو سینے اور دوستوں کے ساتھ مل کر اسی طرح اپنے پسندیدہ کھیل کی کمنٹری سنانے کی مشق کیجیے۔

●خواتین ہاکی ٹیم کی مشہور کھلاڑیوں اور ان کی نمایاں خدمات کی فہرست بنائیے۔

Screenshot 2025-09-11 at 12-36-21 huky117.pdf